وریز وجوهات
بسم الله الرحمن الرحيم اللّهم صل علي الحسن بن علي بن محمد البر التقي الصادق الوفيّ و علي آبائه الطاهرين و علي إبنه الامام الحجة صلواة الله عليهم اجمعين السلام عليکم و رحمةالله و برکاته با عرض ادب و احترام به دانشمندان و شاعران و مادحان که در...
سه شنبه: 5 / 11 / 1395 ( )

نکاح موقت (متعہ) کے کچھ احکام

باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ کی اجازت
س. کيا نکاح موقت میں باکرہ لڑکی کے باپ کی اجازت ضروری ہے؟ اور اگر لڑکی رشیدہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج.میری نطر میں احتیاط واجب کی بناء پر باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے اور چونکہ مسئلہ احتیاط کی بناء پر ہے لہذا الاعلم فالاعلم کی رعائت کرتے ہوئے کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا جائز ہے کہ جو اجازت کو لازم نہ سمجھتے ہوں.‌والله العالم

  

ولیّ کی اجازت کے بغیر نکاح موقت
س.اگر باب یا دادا کی اجازت کے بغیر نکاح موقت انجام پائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج. احتیاط یہ ہے کہ یا ولیّ اجازت دیدے یا پھر شوہر مدت بخش دے۔ اور چونکہ مسئلہ احتیاط کی بناء پر ہے لہذا اس مسئلہ میں دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا جائز ہے کہ جو اجازت کو لازم نہ سمجھتے ہوں البتہ اس میں الاعلم فالاعلم کی رعایت کی جائے.‌والله العالم

 

عدم دخول کی شرط اور باپ کی اجازت

س. اگر عقد موقت میں عدم دخول یا بکارت زائل نہ کرنے کی شرط کی جائے تو کیا پھر بھی ولی کی اجازت ضروری ہے؟

ج. میری نظر میں احتیاط واجب کی بناء پر باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے  اور سوال میں مذکورہ شرط اس حکم پر اثرانداز نہیں ہوتی.والله العالم

 

ازدواج کے علاوہ بکارت کا زائل ہونا اور ولی کی اجازت
س. اگر کھیل، ورزش یا زنا وغیرہ کی وجہ سے لڑکی کی بکارت زائل ہو جائے تو کیا ازدواج کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے؟
ج. جس لڑکی کی بکارت زنا اور شرعی ازدواج کے علاوہ کسی اور وجہ سے زائل ہو چکی ہو،احتياط واجب کی بناء پر اس کی شادی بھی باپ یا دادا کی اجازت سے ہونی چاہئے.والله العالم

 

ولی کی اجازت میں برتری
س. اگر صغیرہ یا باكرهٔ رشيده کے ازدواج میں باپ اور دادا کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کس کے قول کو مقدم کرنا چاہئے؟
ج. دادا یا باپ میں سے جو کوئی بھی صغیرہ کے ازدواج میں سبقت کرے تو اس میں دوسرے کے لئے کوئی محل باقی نہیں رہتا چونکہ دونوں میں سے ہر ایک مستقل ولایت رکھتا ہے  اور ظاہراً بالغۂ رشیدہ کے ازدواج میں اذن کے بارے میں یہی حکم ہے جو احتیاط کی بناء پر ہے . والله العالم

 

کفار سے متعہ
س. کفار سے نکاح موقت کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج. مسلمان مرد کا اہل کتاب کافر کے علاوہ کسی اور کافر عورت سے نکاح کرنا حرام اور باطل ہے۔ لیکن مسلمان مرد اہل کتاب کافر عورت جیسے یہودی، عیسائی، زرتشتی سے نکاح موقت کر سکتا ہے.والله العالم

 

اہل كتاب لڑکی سے ازدواج میں باپ کی اجازت
س.کیا اہل کتاب لڑکیوں سے نکاح موقت کرنے کے لئے ان کےباپ سے اجازت لینا شرط ہے؟
ج. اگر وہ اپنے دین میں باپ کی اجازت کو شرط نہ سمجھتے ہوں تو اس کی رعایت کرنا ضروری نہیں ہے.والله العالم

 

زانیہ سے متعه کرنا اور اس کی عدت

س. اگر کوئی کسی زانیہ سے متعہ کرنا چاہئے تو کیا زاینہ عورت کو عدت گزارنی چاہئے؟

ج. زنا کی عدت نہیں ہے اور زاینہ سے متعہ کرنا کراہت رکھتا ہے.والله العالم

 

عورت کی وکالت میں مرد کا صیغہ پڑھنا
س. کیا مرد عورت کی طرف سے وکیل بن کر اسے اپنے عقد موقت میں قرار دےسکتا ہے؟

ج. مرد عورت کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے اور اس سے دائمی یا غیر دائمی( نکاح دائم یا نکاح موقت) عقد کر سکتا ہےلیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ دو افراد عقد پڑھیں.والله العالم

 

صیغہ پڑھنے کے لئے صحیح قرائت 
س. اگر کوئی شخص قرآن پڑھ سکتا ہو لیکن اسے کے مخارج اور لہجہ صحیح نہ ہو تو کیا وہ عقد دائم یا عقد موقت کا صیغہ پڑھ کر سکتا ہے؟
ج. عقد کا صیغہ پڑھنے والے کے لئے کلمات کو صحیح طور سے ادا کرنا اور قصد انشاء کے معنی کو جاننا ضروری ہے.والله العالم

 

عقد موت میں مدت کا ذکر نہ ہونا
س. اگر عقد موقت میں مدت ذکر نہ کی جائے تو کیا کرنا چاہئے؟اور کیا  ایک دوسرے سےجدا ہونے کے لئے طلاق کی ضرورت ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے اگر مدت ذکر نہ ہو تو یہ عدق دائم کا حکم رکھتا ہے اور اگر ایک دوسرے سے جدا ہونا چاہئیں تو جدائی طلاق کے ذریعہ ہونی چاہئے.والله العالم

 

عقد موقت کو دائم میں تبدیل کرنا
س. اگر عقد موقت کو عقد دائم میں تبدیل کرنا چاہیں تو اس کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج. عقد موقت کی مدت تمام ہو جائے یا شوہر بقیہ مدت بخش دے اور پھر عقد دائم پڑھا جائے۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ عقد دائم باطل ہے.والله العالم

 

99 سالہ عقد
س. کیا ننانوے (۹۹) سال کے لئے عقد موقت پڑھنے سے اس پر عقد دائم کا حکم لاگو ہو گا یا عقد موقت کا ؟
ج. اس پر عقد موقت کا حکم لاگو ہو گا.والله العالم

 

عقد موقت میں مجہول مدت ذکر کرنا
س.اگر کوئی شخص کسی عورت سے معین مہر کے ساتھ عقد موقت کرے اور اس کی مدت اس وقت تک قرار دیں کہ جب تک شوہر کو کوئی مناسب گھر مل جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ان کے عقد کا کیا حکم ہے؟
ج. اس سوال کی رو سے مذکورہ عقد، دائمی عقد میں تبدیل ہو جائے گا کیونکہ اس میں مدت مجہول ہے اور اس پر مدت ذکر نہ کرنے کا حکم جاری ہوتا ہے.والله العالم

 

حالت حيض میں عقد موقت کا صیغہ جاری کرنا
س. اگر عورت حالت حیض میں ہو تو کیا عقد موقت کا صیغہ پڑھنا صحیح ہے؟
ج. اس میں کوئی حرج(اشكال) نہیں ہے اور صیغہ عقد پڑھتے وقت عورت کا پاک ہونا عقد کے صحیح ہونے کی شرط نہیں ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں شاہد
س. کیا عقد موقت میں شاہد اور گواہ کی ضرورت ہے؟
ج. نکاح دائم یا موقت میں شاہد اور گواہ کے حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہے.والله العالم

 

زوجہ کی رضامندی سے عدم دخول کی شرط کو نقض کرنا

س. اگر عقد موقت میں دخول نہ کرنے کی شرط کریں لیکن بعد میں عورت نزدیکی کرنے پر راضی ہو جائے تو کیا نزدیکی کرنا جائز ہے؟
ج. اگر زوجہ عقد  کے بعد نزدیکی کرنے پر راضی ہو جائے تو شوہر اس سے نزدیکی کر سکتا ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں نفقه اور ارث

س. کیا عقد موقت میں عورت نفقہ اور شوہر کی وفات کے بعد اس سے ارث کا حق رکھتی ہے؟
ج. نہ وہ نفقہ کا حق رکھتی ہے اور نہ ہی شوہر سے ارث لے سکتی ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں نفقہ کی شرط
س. کیا عقد موقت میں نفقہ کی شرط کو شرط نتیجہ کے طور پر بیان کر سکتے ہیں ؟
ج. شرط فعل کے طور پر نکاح منقطع میں نفقہ کی شرط صحیح ہے اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ اس شرط پر عمل کرے لیکن اس کی خلاف ورزی نکاح کو فسخ کرنے کے حق کا موجب نہیں بن سکتی بلکہ شوہر کو نقفہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا.والله العالم

 

عقد موات میں توارث( ایک دوسرے سے ارث لینے) کی شرط
س. کیا عقد موقت میں زوجین ایک دوسرے سے ارث لینے کی شرط کر سکتے ہیں؟
ج. اس مسئلہ میں اشکال ہے اور توارث ( ایک دوسرے سے ارث لینا)کی شرط کو ترک کرنے میں احتیاط ہے اور اسے شرط کرنے کی صورت میں باقی ورثہ کے ساتھ مصالحت کرنے میں احتیاط ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں گھر سے باہر جانے کے لئے اجازت
س. جس عورت سے نکاح موقت کیا جائے کیا اس عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز ہے ؟ 
ج. جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جا سکتی ہے لیکن اگر گھر سے باہر جانے کی وجہ سے شوہر کا حق ضائع ہو تو اس کا گھر سے باہر جانا حرام ہے. والله العالم

 

مدت بخشنے کی صورت میں حق مہر
س.میں نے ایک شخص سے نکاح موقت کیا، ابھی عقد کی مدت باقی تھی کہ شوہر نے مدت بخش دی۔ کیا اس صورت میں اسے تمام حق مہر دینا چاہئے؟
ج. اگر دخول واقع ہوا ہو تو اسے پورا حق مہر دینا چاہئے اور اگر دخول واقع نہ ہوا ہو تو اسے آدھا حق مہر دینا ہو گا.والله العالم

 

ولی اور بکارت کے نہ ہونے اور یائسہ ہونے کے بارے میں عورت کے قول کو قبول کرنا
س. اگر کوئی شخص کسی عورت سے عقد موقت کرنا چاہے اور وہ عورت کہے کہ میرا کوئی ولی( باپ یا دادا) نہیں ہے یا کہے کہ میں ثیّبہ (غیر باکرہ) یا یائسہ ہوں تو کیا اس کی بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے؟
ج. اگر وہ کہے کہ اس کا باپ یا دادا نہیں ہے تو احتیاط واجب کی بناء پر اس کا قول قابل قبول نہیں ہے اور اس کے بارے میں تحقیق و جستجو کی جائے اور اگر وہ کہے کہ میں یائسہ ہوں تو اس کی بات کو قبول نہ کیا جائے لیکن اگر وہ کہے کہ اس کا کوئی شوہر نہیں ہے اور اس  کے بارے میں صدق کا احتمال دیا جائے تو اس کا قول قابل قبول ہے اور اس بارے میں تحقیق و جستجو کرنا ضروری نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ متہم ہو تو اس صورت میں تحقیق و جستجو کرنا بہتر ہے.والله العالم

 

ولی کی اجازت کے بغیر باکرہ لڑکی کا ازدواج
س. جس لڑکی باپ فوت ہو چکا ہو اور اس کا دادا بھی نہ ہو تو کیا نکاح موقت کے لئے کسی کی ضروت ہے؟
ج. اگر لڑکی باکرہ ہو اور اس کا باپ اور دادا نہ ہو تو اس صورت میں خود بالغہ و رشیدہ لڑکی کی اجازت اور رضائیت  کے علاوہ کسی کی اجازت کی ضروت نہیں ہے.والله العالم

 

عقد دائم پڑھنے کے لئے عقد موقت کی مدت بخشنا

س. مسلمانوں میں یہ رسم ہے کہ زوج اور زوجہ میں عقد دائم پڑھنے سے پہلے محرمیت کا صیغہ پڑھا جاتا ہے۔ کیا عقد دائم پڑھتے وقت زوج کی طرف سے عقد موقت و محرمیت کی مدت کو بخشنا واجب ہے یا نہیں؟
ج. جی ہاں! اس کے لئے مدت کو بخشنا ضروری ہے اور اگر وہ مدت کو نہیں بخشے گا تو اس صورت میں عقد دائم کا صیغہ صحیح نہیں ہے.والله العالم

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
شنبه / 25 دی / 1395
احكام غير مسلمين

مصافحہ کرنا اور معاشرت
۱۔اہل کتاب کے ساتھ معاشرت اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟
ج. اهل كتاب کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار اور نجس است  اور اسے کھانا جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بناء پر وہ خود بھی نجس ہیں۔ اس بناء پر رطوبت کی حالت میں جو چیز بھی ان سے مس ہو وہ احتیاط کی بناء پر نجس ہو جائے گی. والله العالم.
۲۔ اگر عیسائیوں، یہودیوں اور ہندؤں کی اشیاء اور ان کے در و دیوار کو تر ہاتھ لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر اس جگہ کی نجاست کے بارے میں علم ہو تو ہاتھ کو پانی سے دھونا چاہئے اور اگر اس کا علم نہ ہو تو یہ ضروری نہیں ہے. والله العالم.
۳۔ اگر مسلمان کے علاوہ کسی اہل کتاب سے تر ہاتھ ملائیں تو کیا ہاتھ کو دھونا چاہئے یا نہیں؟
ج. باحتياط واجب کی بناء پر اپنے ہاتھ کو پانی سے دھوئیں. والله العالم.
۴۔ کیا زرتشتی مرد کا کسی مسلمان عورت سے نکاح موقت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. مسلمان عورت کا زرتشتی مرد سے نکاح کرنا باطل ہے چاہے وہ نکاح موقت ہی کیوں نہ ہو. والله العالم.
۵۔ کیا آپ کے فتوی کے مطابق زرتشتی تمام مسائل میں اہل کتاب سے ملحق ہیں مثلاً کیا وہ پاک ہیں اور کیا ان کی عورتوں اور لڑکیوں سے نکاح دائم اور نکاح موقت کرنا جائز ہے؟

ج. احتیاط کی بناء پر اہل کتاب کی طرح زرتشتی بھی نجس ہیں اور اس سے نکاح کے سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ اسے ترک کیا جائے چاہے یہ دائمی ہو موقت. والله العالم.

۶۔ اہل ذمہ کو دیکھنے، ان سے ازدواج اور ان کی طہارت و نجاست کا کیا حکم ہے؟
ج.کافرہ کے جسم کے ان حصوں کو لذت اور ریبہ کے بغیر دیکھنا جائز ہے جنہیں وہ اپنی عادت کے مطابق نہ چھپاتی ہوں۔ کتابیہ کے ساتھ نکاح موقت جائز ہے اور نکاح دائمی میں احتیاط کے خلاف ہے۔ اور میرے نظریہ کے مطابق اہل کتاب بھی احتیاط کی بناء پر نجس ہیں۔ والله العالم.
۷۔ کیا اهل كتاب اور كافر (جو آسمانی ادیان کا معتقد نہ ہو) سے متعہ جائز ہے؟
ج. اہل کتاب سے متعہ کرنا جائز ہے لیکن تمام کفار سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۸۔ ائمہ معصوم علیہم السلام اور امام زادوں کے حرام مقدس میں غیر مسلم اور اہلسنت حضرات کے جانے کا کیا حکم ہے؟

ج. اهلسنت کے جانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن کفار کے جانے میں اشکال ہے. والله العالم.
۹۔ خوزستان (ایران کا ایک شہر) میں صائبین کا ایک فرقہ ہے ، کیا وہ اہل کتاب ہیں؟ اور کیا وہ پاک ہیں یا نہیں؟

ج. ہمارے نزدیک صائبین کا اهل كتاب ہونا ثابت نہیں ہے. والله العالم.
صوفيه فرقہ
۱۰۔ صوفیہ اور ان کے عقائد کے بارے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
ج. صوفيوں کے مختلف فرقہ اور شاخیں ہیں اور انحراف کے لحاظ سے سب یکساں نہیں ہیں، ممکن ہے کہ ان میں سے بعض دائرہ اسلام سے خارج شمار نہ ہوں۔ مجموعی طور پر وہ منحرف ہیں اور ان کے مخصوص عقائد غیر اسلامی ہیں. والله العالم.
۱۱۔غلاة ،مجسمه، مجبره اور صوفيه (جنہیں مرحوم سید نے عروه میں بيان فرمایا ہے) کے مسئلہ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. مجھ حقير کا بھی وہی نطریہ ہے جو ہمارے استاد اعظم زعیم اکبر آیت اللہ العظمی بروجردی تھا اور جو مرحوم سيد صاحب عروه اعلي‌الله مقامه کے مطابق مطابق ہے۔اس کے علاوہ میں مؤمنين کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کفر اور کافر کے احکام کے آثار پر اسی طرح سے عمل کریں جیسا کہ عروۃ میں بیان ہوا ہے ، نیز ان کے ساتھ معاشرے ، میل جول اور اٹھنے بیٹھنے اور بالخصوص ازدواج اور رفاقت و دوستی سے پرہیز کریں کہ اس کے سنگین خطرات اور بزرگ نقصانات و مفاسد ہیں. والله العالم.
۱۲۔ بهائيت اور تصوّف سے برتاؤ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. کلی طور پر مساعدتی اور موافقت آمیز برتاؤ اور فرقہ ٔ ضالہ (گمراہ فرقہ) کی ترویج اور اس کی تقویت کا باعث بننے والا ہر ارتباط و تعلق جائز نہیں ہے اور ان سے میل جول اور اٹھنے بیٹھنے کو ترک کرنا لازم ہے. والله العالم.
۱۳۔ کیا ردویشوں اور صوفیہ کی خانقاہوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری اور مرثیہ سننے کے لئے جانا اور وہاں فاتحہ خوانی وغیرہ میں شرکت کرنا جائز ہے؟

ج. یہ باطل کی ترويج ہے اور جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۴۔ کیا درویشوں کی کانقاہوں کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان سے ہر قسم کی جنسی مدد کا کیا حکم ہے؟

ج. خانقاہ کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان کے مسلک اور عقیدہ سے منسلک ہر قسم کی جنسی مدد کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۵۔ کیا صوفیہ کی مجالس میں شریک ہونا اور ان سے کوئی جنس خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. ان کی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے اور اگر ان سے کوئی جنس خریدنا ان کی تقویت کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۶۔ میں اس مسئلہ کے شرعی حکم کو نہیں جانتا تھا اور میں نے علی اللہی فرقہ کی ایک خاتون سے شادی کر لی اور اس مدت کے دوران وہ اپنے خاص مذہب کی وجہ سے ہمار شرعی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے پابند نہیں ہیں، لہذا وہ نماز نہیں پڑھتی، روزہ نہیں رکھتی، اور تمام شرعی احکام کو انجام نہیں دیتی اور اپنے فرقہ کی پیروی کرتی ہے۔ کیا ہماری شادی صحیح ہے یا نہیں؟

اگر شادی باطل ہے تو پھر مہر اور اس کے تمام حقوق کا کیا حکم ہے؟ اور ہمارے بچوں کے لئے کیا حکم ہے؟

ج. کلی طور پر مذکورہ سوال جیسے مسائل میں اگر بیوی واقعاً امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو اللہ سمجھتی ہو تو یہ شادی باطل ہے اور شوہر کا اس سے علیحدہ ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں ہے اور چونکہ شوہر نہیں جانتا تھا اور اس نے شادی کیا لہذا اس سوال کی رو سے بچے باپ سے ملحق ہوں گے اور شرعی طور پر وہ بچہ حلال زادہ ہیں۔ اور چونکہ اس بیوی پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے لہذا اسے مہر ادا کرنے لے لزوم کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی. والله العالم.
۱۷۔ کیا خود کو اہل حق کا نام دینے والا فرقہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اگر کوئی مسلمان اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا اس مسلمان سے قصاص لینا جائز ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھتے ہیں یا ضروریات اسلام میں سے کسی ایک کے منکر ہوں ،ان پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ کسی مسلمان کو کافر کے قتل کی وجہ سے قصاص نہیں کر سکتے لیکن حاکم شرع موازین کے مطابق قاتل پر تعزیر کا حکم لگا سکتا ہے. والله العالم.
۱۸۔ «علي اللهي» فرقہ؛ جو اهل حق کے نام سے مشہور ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ملک کے مختلف شہروں جیسے ہمدان، کرمانشاہ، سنندج، کنگاور اور ان شہروں سے ملحقہ دیہاتوں میں آباد ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ نہ تو اصول دین کے معتقد ہیں اور نہ ہی فروع دین کے اور یہ لوگ نہ ہی اسلامی احکام جیسے غسل وغیرہ پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ شادی کرنے، کھانا کھانے،معاشرت اور میل جول کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر مذکورہ فرقه اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھے یا ضروریات دین جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے منکر ہوں تو وہ کافر ہیں اور واضح ہے کہ اس صورت میں ان سے شادی کرنا جائز نہیں ہے اور باطل ہے اور اگر وہ لوگ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو خدا نہ سمجھیں اور ضروریات دین کا انکار بھی نہ کریں تو پھر بھی ان میں عقیدتی و اخلاقی اور عملی لحاظ سے متعدد انحرافات پائے جاتے ہیں لہذا ان سے شادی کرنے میں اشکال ہے بلکہ اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ جی ہاں!ان میں سے جو لوگ شہادتین کے قائل ہوں نیز وہ ضروریات دین کا انکار اور باطل عقائد کا اقرار بھی نہ  کرتے ہیوں  تو وہ محقون الدم ہیں یعنی ان کی جان ،مال اور عرض محترم ہے. والله العالم.
فرقه ضالّه بهائيت

۱۹۔فرقۂ بہائی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ خرید و فروخت، لوازمات زندگی کو کرایہ پر یا عاریہ کے طور پر دینے اور ان کے تحائف قبول کرنے کے بارے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہےَ
ج. اگر مذکورہ امور ان کی تقویت کا باعث ہوں تو یہ جائز نہیں ہیں ‎‎والله العالم.
۲۰۔ بہائیت جیسے گمراہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرنے، ان سے ہاتھ ملانے اور دوستی کا اظہار کرنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟
ج. بہائی سے دوستی کا اظہار کرنا اور اس سے ہاتھ ملانا اور دیگر صورتیں جائز نہیں ہیں. والله العالم.
كتب ضالہ (گمراہ کرنے والی کتابیں)
۲۱۔ایسی کتابیں پڑھنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے جو اگر انسان ذہن کی وسعت کے لئے جاسوسی کی کتابیں پڑھے کہ جو اپنی طاقت کو دوسروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایسی کتابیں جو کسی جاسوس نے لکھی ہوں۔ نیز یہ بھی جانتے ہوں کہ اس کچھ غیر اخلاقی نکات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں آپ جناب اپنا نظریہ بیان فرمائیں۔

ج. اس بارے میں مختلف موارد ییں لہذا ہر کتاب کے بارے میں الگ سے سوال کیا جائے تا کہ اسی کے بارے میں جواب دیا جائے لیکن کلی طور پر جو کتابیں مطالعہ کرنے والے کے عقیدہ یا اخلاق میں انحراف کا باعث ہوں ان کتابوں کا مطالعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله ‎العالم.
 

۲۲۔کیا غیر اسلامی کتابیں پڑھنا جیسے بہائیت، کیمونیسم  اور دوسرے مذاہب کی کتابیں پڑھنا حرام ہے یا نہیں ہے؟
ج. کتاب ضلال کی حفاظت کرنا اور انہیں پڑھنا حرام ہے مگر یہ ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو حق کو باطل سے تشخیص دینے کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کی غرض ( مثلاً باطل نظریات کو رد کرنا) صحیح ہو. والله العالم.
۲۳۔ کتابوں کے ضلال ومضل ہونے کا معیار کیا ہے؟
ج.کتابوں کے مضل و ضلال ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ ایسے مطالب پر مشتمل ہوں کہ جو قاری کو مذہبی لحاظ سے گمراہ کرنے کا باعث ہوں۔. والله العالم.
۲۴۔ صوفيه کتب کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. صوفیہ کتب کو چھاپنا، ان کی نشر و اشاعت،  انہیں خريدنا،ان کی حفاظت اور ان کا  مطالعه كرنا حرام ہے  اور ان کی کتابیں کتب ضلال کا حکم رکھتی ہیں کہ جن کا مطالعہ صرف اہل نظر کے لئے ان کے باطل کو ابطال کرنے کی رو سے جائز ہے. والله العالم.

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
سه شنبه / 25 آبان / 1395
خمس کے احکام

س1-کیا کسی ایسی کتاب پر بھی خمس لاگو ہوتا ہے جسے خریدنے کے بعد اس کا مطالعہ نہ کیا گیا ہو؟

ج) اگر انسان کو اس کتاب کی ضرورت ہو اور وہ انسان کی شان کے مطابق ہو تو اس پر خمس لاگو نہیں ہوتا اگرچہ پورا سال اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔

 

س2-اگر کسی عورت کو کچھ مقدار میں سونا بطور تحفہ دیا  جائے اور وہ اب بھی اس سے استفادہ کرتی ہو تو کیا اسے اس کا خمس اور زکاۃ دینا چاہئے؟

ج) مذکور زینت میں زکات نہیں ہے اور یہ معمول اور متعارف حد سے زیادہ نہ ہو تو اس کا خمس بھی نہیں ہے۔

لیکن اگر یہ معمول اور انسان کی شأن سے زیادہ ہو تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

 

س3- کيا سونے کے سکہ (سکۂ بہار آزادی) پر خمس ہے؟

ج) سكه بهار آزادي بھی دوسرے تمام سرمایہ کی مانند ہے۔ چنانچہ اگر یہ خمس کے سال کے دوران باقی رہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب  ہے۔

 

س4- اگر بینک میں پیسے رکھے جائیں تو کیا اس کے منافع اور سود پر خمس لاگو ہوتا ہے جب کہ اصل سرمایہ کا پہلے سے خمس ادا کر دیا گیا ہو؟

ج) اگر سود اور منافع جائز اورشرعی ہو تو جتنی مقدار استعمال نہ ہو اور خمس کے پورا سال تک باقی رہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

 

س5- مجھے طالب علم کے عنوان سے قرض دیا گیا۔ اگر میں اسے بینک میں رکھوں تو کیا اس پر خمس ہے؟

ج) قرض پر خمس نہیں ہے مگر اتنی مقدار میں کہ جس کی اقساط ادا کر دی گئی ہوں اور وہ  سرمایہ شمار ہو۔

 

س6- جو خواتین کسی ادارہ وغیرہ میں کام کرتی ہیں، کیا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر مہینہ اپنی تنخواہ سے خمس نکال کر الگ کریں یا خمس کے لئے سال کو معین کرنا ہی کافی ہے؟

ج) ہر مہینہ خمس ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ جب وہ پہلی تنخواہ لیں تو یہ ان کے خمس کے سال کا آغاز ہو گا اور اگر یہ کمائی ان کے سالانہ اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کا خمس دینا چاہئے۔

 

س7- میں اپنے شوہر سے تدریجاً مہر لیتی ہوں، کیا اس پر خمس ہے یا نہیں؟

ج) مهر پر خمس نہیں ہے.

 

س8- میں نے عمرۂ مفردہ پر جانے کے لئے نام لکھوایا ہے۔ میں نے اس کی کچھ رقم ادا کر دی ہے جب کہ بقیہ رقم قرض لی ہے۔ کیا اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے؟

ج) آپ نے جو رقم ادا کی ہے ، اگر وہ آپ کی کمائی ہو اور اس کو ایک سال گزر چکا ہو اور اس کے بعد عمرہ کے لئے دی ہو تو اس پر خمس ہے لیکن مذکورہ قرض میں خمس نہیں ہے۔

 

س9- اگر خمس نہ دینے کی نیت سے اس طرح سے خرچ کریں کہ سالانہ اخراجات سے کوئی چیز باقی نہ بچے تو کیا اس میں اشکال ہے؟

ج) اگر حلال امور میں خرچ کیا ہو اور وہ اس کی شان سے زیادہ بھی نہ ہو تو اس میں اشکال نہیں ہے اور اس سوال کی رو سے خمس ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

 

س10- نذر کے عنوان سے دی جانے والی غذا کھانے کا کیا حکم ہے جب کہ ہم یہ نہ جانتے ہوں کہ کیا اس کے مالک نے اس کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں؟

ج) اگر آپ کو یہ یقین نہ ہو کہ آپ جو غذا کھا رہیں ہیں ،اس پر خمس تھا یا نہیں تو آپ کے لئے اسے کھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س11-کیا مرجع تقلید کی طرف رجوع کئے بغیر اپنی نظر میں مصلحت کے مطابق خرچ  کر سکتے ہیں؟

ج) نہیں! مجتهد جامعالشرائط کی اجازت کے بغیر خمس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن مجتہد یا ان کے وکیل کی اجازت سے معین شدہ شرعی امور میں خرچ کر سکتے ہیں۔

 

س12- اگر میں نے قرض لیا ہو اور اسے خرچ کرنے سے پہلے ہی خمس کے سال کا وقت ہو جائے تو کیا اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

ج) قرض کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے، مگر اس مقدار میں کہ جس کی اقساط ادا کر دی گئی ہوں۔ چونکہ اس پر سرمایہ کا حکم لاگو ہوتا ہے۔

 

س13- میں نے گھر خریدنے کے لئے تدریجاً (تھوڑے تھوڑے کر کے) پیسے جمع کئے ، کیا ان پر خمس لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟

ج) اگر ضرورت کے مطابق گھر خریدنے کے لئے تدریجی طور پر پیسے جمع کرنے کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہ ہو تو مذکور سرمایہ میں خمس نہیں ہے۔

 

س1۴-اگر اپنی کمائی سے کسی کو قرض دیا ہو اور وہ دو سال کے بعد واپس کرے تو کیا اس پر خمس ہے؟

ج) جی ہاں! فوراً اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

  

س1۵- کیا ہم اپنے فقیر ماں باپ کو خمس دے سکتے ہیں؟

ج) فقیر ماں باپ اولاد کے واجب النفقہ ہیں اور اگر اولاد مالی طور پر قدرت رکھتی ہو تو اسے ان کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں اور اگر وہ سادات ہیں تو واجب نفقہ کے لئے انہیں سہم سادات نہیں دے سکتے ، اور سہم مبارک امام علیہ السلام بھی جامع الشرائط فقیہ کی اجازت پر موقوف ہے۔

 

س1۶- کیا ہم حسینہ اور امام بارگاہ یا تمام نیک امور میں خرچ کر سکتے ہیں؟

ج) سهم سادات فقير سید کو دیا جانا چاہئے۔لیکن سہم امام علیہ السلام کے لئے مرجع تقلید یا ان کے نمائندہ کی اجازت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س1۷- اگر کوئی کسی ایسے مجتہد کی تقلید پر باقی ہو جو وفات پا چکے ہوں تو اسے اپنا خمس کسے ادا کرنا چاہئے؟

ج) ضروری ہے کہ وہ زندہ مجتہد کو خمس ادا کرے، اور فوت ہو جانے والے مجتہد کے وکیل کو خمس ادا کرنا کافی نہیں ہے۔

 

س۱۸- میں نے کچھ کتابیں خریدیں لیکن ان کا مطالعہ نہیں کر سکا ، کیا ان پر خمس لاگو ہوتا ہے؟

ج) اگر ان کی ضرورت ہو اور ان سے استفادہ کیا جائے تو ان پر خمس نہیں ہے۔

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
چهارشنبه / 19 آبان / 1395
فقه عاشورائی ( عزاداری کے احکام )

 

عزاداری کی کیفیت

س) امام حسين عليه‌السلام کی مصیبت میں گربیان چاک کرنے، سر اور چہرے پر مارنے کا کیا حکم ہے؟

ج)امام حسین علیہ السلام کی مصیبت میں سر اور چہرے پر مارنے اور گریبان چاک کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

س)بعض لوگ معصومین علیہم السلام کی عزاداری اور ماتم داری کے دوران اپنے چپرے کو نوچتے ہیں کہ جس سے ان کے چہرے سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ اس انداز سے عزاداری کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)معلوم نہیں کہ یہ عمل اہلبیت اطاہر علیہم السلام کے مصائب کی شدت اور ان کی عزاداری کے لئے توہین ہو۔ لیکن اگر یہ حد سے زیادہ ضرر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔

س)کچھ عزادار خود کو مٹی ملتے ہیں اور ننگے پاؤں چلتے ہیں ۔ایسی عزاداری کا کیا حکم ہے؟

ج) ایسے امور کہ جن کے ذریعہ کسی خاص علاقہ کے لوگ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام  سےحزن و عزا کا اظہار کریں اور اس سے ان کے جسم و جان کو نقصان نہ پہنچے تو کوئی مانع نہیں ہے۔

س)دائرہ کی صورت میں گھومتے ہوئے اور اٹھک بیٹھک کرتے ہوئے ماتم کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج) اس میں کوئی اشكال نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ عزاداری کا وقار پامال نہ ہو۔

س) کیا سید الشہداء حضرت  امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں قمیض اتار کر سینہ زنی کرنا جائز ہے ؟

ج) اگر کسی نامحرم کی نگاہ نہ پڑے توکوئی اشکال نہیں ہے۔

س)عزاداری کے دوران سينه‌زنی، زنجيرزنی و يا سر اور چہرے کا ماتم کہ جو ضرر جیسے زخمی ہونے یا جسم کے سرخ ہونے کا باعث بنے تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر حد سے زیادہ ضرر نہ ہوتو اشكال نہیں ہے.

س)اگر سینہ زنی کے دوران قمیض اتار کر ماتم کرناتحریک(گناہ کی طرف مائل ہونے)کا باعث ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر گناہ کی طرف مائل کرنے کا باعث بنے تو اس میں اشکال ہے اور بہتر ہے کہ لباس  کے ساتھ عزداری کی جائے۔

س)ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری میں ماتم کرنے اور اس طرح سے چہرے کو نوچنے کا کیا حکم ہے کہ جس سے خون جاری ہو جائے؟

ج)ان بزرگ ہستیوں کے لئے کسی بھی انداز میں عزاداری کرنا کہ جو حد سے زیادہ ضرر کا باعث نہ ہو جائز و مطلوب ہے البتہ یہ کہ وہ کسی بھی طرح سے شریعت کے برخلاف نہ ہو۔

س)مجالس عزا میں«هروله» کی کیا حکم ہے جب کہ یہ عزاداری کی بے حرمتی، توہین اور عزادروں میں حزن اور عزاداری کے آثار میں کمی کا باعث ہے ۔مہربانی فرما کر جواب بیان کرنے کے علاوہ عزاداری کے متعلق کوئی نصیحت بھی فرمائیں۔

ج) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ لوگ غم کی شدت کے باعث کھڑے ہو کر بھاگنے لگتے ہیں،خود کو مارتے ہیں اور نالہ و فریاد کرتے ہیں ؛اگر کسی میں سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے غم (جو سب سے بڑے مصائب ہیں) کے باعث ایسی حالت ایجاد ہو جائے یا رونے کی وجہ سے ایسی حالت پیدا ہو جائے تو اسے اہانت یا توہین نہیں کہہ سکتے ۔البتہ یہ لازم ہے کہ سب ان مجالس کی عظمت ،حقیقت  اور ملکوتی وقار کی حفاظت کریں اور انتہائے غم و حزن کا اہتمام کریں ۔خداوند تائید فرمائے۔

س)عزاداری اور سینہ زنی کے وقت بعض حج کے ایّام میں ہونے یا حضرت زینب علیہا السلام کی یاد میں کہ جو حالت ہرولہ میں تھیں ،ہرولہ کرتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں۔اس کے متعلق اپنا نطریہ بیان فرمائیں؟

ج) حج کے ایّام میں ہونے کی نیت سے ہرولہ کرنا صحیح نہیں ہے لیکن ان مصائب کی وجہ سے غم اور حزن کی شدت سے ایسا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ مذہبی جلسوں اور مجالس عزا  میں اہلبیت اطہار علیہم السلام کے سامنے انتہائے تذلّل اور حقیر ہونے کااظہار کرنے کے لئے کچھ حیوانات جیسے کتے کی آوازیں نکالتے ہیں ۔اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔

ج)چونکہ بعض کی نظر میں یہ توہین کا باعث ہے لہذا ضروری ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام سے اپنی عقیدت و ولایت کا اظہار قابل تحسین صورت اور پرکشش انداز میں کیا جائے۔

س)ایسی گلی کوچوں میں انجمنوں کا ماتم داری منعقد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جہاں کے لوگ دینی شعائر کےپابند نہیں  ہیں بلکہ ان کی نظر میں سینہ زنی وغیرہ عجیب و غریب عمل ہے  اور کبھی یہ مجالس عزا کی اہانت اور تمسخر کا بھی باعث بنتے ہیں؟

ج) مذکورہ مقامات میں واقع مسجد اور امام بارگاہوں میں انجمنیں مذہبی مجالس کا شائستہ انداز میں انعقاد کریں اور بافضیلت علما ءاور واعظین کو ان مجالس میں مدعو کیا جائے کہ وہ دین مبین اسلام کو اس کی حقیقی صورت میں سامعین کے سامنے بیان کریں،اس صورت میں گمان نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تمسخر کا باعث بنیں۔نیز تبلیغ دین میں کچھ جاہل اور نادان لوگوں کے تمسخر پر توجہ نہیں کرنی چاہئے ۔

 

عزاداری  کے آئین اور نشانیاں

س) عاشورا کے مراسم کے دوران علم‌برداری، چہل چراغ كشی ،نخل گردانی کا کیا حکم ہے؟

ج) کوئی مانع نہیں ہے.

س) عَلَم سے کس طرح استفادہ کیا جانا چاہئے ؟

ج) سالار شهيداں حضرت ابا عبد الله الحسين عليه‌السلام کی عزاداری میں علم(جو تعظیم شعائر میں سے شمار ہوتا ہے) سے استفاہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ یہ مطلوب ہے بشرطیکہ وہ ذی روح مجسمہ پر مشتمل نہ ہو۔

س)کیا آپ کی نظر میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے شام غریباں میں شمعیں روشن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؟ کیا یہ بدعت کے مصادیق میں سے نہیں ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

س)بعض مجالس و مراسم میں شبیہ بنائی جاتی ہے جیسے حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی قبر مطہر کی شبیہ بنانا یا حضرت رقيه سلام الله عليہا کا تابوت بنانا، ان کا حكم کیا ہے؟

ج) ان میں کوئی اشكال نہیں ہے.

 

س)تعزیہ  و مرثیہ خوانی کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)اگر تعزیہ و شبیہ خوانی آلات لہو منجملہ ڈھول ،نقارہ  اور صنج وغیرہ پر مشتمل نہ ہو اور اس میں جھوٹے اشعار اور غنا بھی نہ ہو اور مرد خواتین کا لباس نہ پہنے ہوں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ منظر کشی کے دوران امام معصوم علیہ السلام یا جلیل القدر شخصیات جیسے حضرت عباس علیہ السلام کی شبیہ کی صورت میں کردار ادا کرتے ہیں ،جبکہ یہ کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں نہیں ہوتا اور صرف اچھے انداز میں کردار نبھانے کی وجہ سے انہیں شبیہ سازی میں رکھا جاتا ہے۔اس کے متعلق اپنا نظریہ ٔ مبارک بیان فرمائیں؟

 ج)شبیہ سازی میں کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں ہونا شرط نہیں ہے لیکن اگر برے ماضی یا برے حال کی وجہ سے عرف میں توہین ہو تو ایسے افراد کو یہ کردار  ادانہیں کرنا چاہئے ۔ اصولاًمناسب یہ ہے کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری مجالس عزا کی صورت میں منعقد کی جائے کہ جس میں علماء ،واعظین،خطباء اور  ذاکرین ان ہستیوں کے مصائب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فضائل و مناقب، تاریخ ،احادیث اور احکام بیان کریں نیزمعارف اسلام کی تبلیغ کریں،شبہات کا جواب دیں اور لوگوں کو آگاہ کریں اور مکتب اہلبییت اطہار علیہم السلام کی جانب ان کی ہدایت کریں۔

 

س)آج کل یہ بیان کیا جارہا ہے کہ مجالس عزا اور بالخصوص سید الشہداءحضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا اور مصائب خوانی اصل صورت کی بجائے نمائش اور تھیٹر کی صورت میں ہونی چاہئیں اور اس بات پر بہت اصرار کیا جارہا ہے ۔آپ اپنا نظریۂ مبارک بیان فرمائیں؟

ج) ان عظیم ہستیوں کے لئے منعقدکی جانے والی مجالس عزا میں علماء و ذاکرین کے ذریعہ صحیح و معتبر کتابوں سے مصائب بیان کئے جائیں اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کا خیال رکھا جائے۔انہیں تھیٹر کی صورت میں پیش کرنا عام طور پر فاسد اور غیر شرعی امور سے خالی نہیں ہوتاہے.

س۔ایسی تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کہ جن میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے چہرے کو دکھایا گیا ہو،ان کی خرید و فروخت ،تولید اور ان سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

 ج۔ مذکورہ تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کے بارے میں کوئی صحیح سند موجودنہیں ہے،لہذا بہتر ہے کہ اس عمل سے پرہیز کیا جائے۔

 

عزاداری کے آداب و اخلاق

س)اگو کرئی شخص عزاداری کے دوران دکھاوے کے لئے بلند آواز سے گریہ کرے یا بہت زور سے زنجیر مارے یا ماتم کرے تو کیا اس نے ریاکاری کی ہے اور اس کی عزاداری باطل ہے؟ اور اگر یہ عمل دوسروں کو رلانے کی نیت سے ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج)ریا کسی عمل میں بھی صحیح نہیں ہے لیکن عزاداری اور شعائر کی تعظیم کے طور پر رلانا ریاکاری نہیں ہے۔  

س۔بعض اوقات سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں(کہ جن میں لوگوں کا بہت ہجوم بھی  ہوتا ہے)یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ  خادمين ابا عبدالله الحسین عليه‌السلام عزاداروں کے ساتھ ناشائستہ طریقے سے پیش آتے ہیں(مثلاً ان پر چیخنا اور دھکے دینا وغیرہ)شریعت کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟

ج۔عزاداروں اور سامعین کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آیا جائے۔

س) کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں شرکت کے لئے ماں باپ کی رضائیت واجب ہے ؟اور کیا ان کے رضائیت کے بغیر ان مجالس میں شرکت کر سکتے ہیں؟

ج)موارد مختلف ہیں۔

س)محرم کے مہینے اور بالخصوص عاشورا کے دن ہنسی مذاق کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)صحیح نہیں ہے۔

س)گلی کوچوں اور بازاروں میں عزاداری کے ایسے جلوس برآمد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جو ٹریفک میں خلل کا باعث ہوں؟

ج۔عزاداری سے مخصوص و متعارف ایّام کے دوران اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض اوقات گلی کوچوں میں خیمہ وغیرہ لگا کر عزاداری کا انعقاد کیا  جاتا ہے کہ جس سے کچھ پڑوسی راضی نہیں ہوتے ۔ایسی صورت میں مجالس کا انعقاد کرنے اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)ان مجالس کا اس طرح سے انعقاد کیا جائے کہ جو وہاں سے گذرنے والوں اور پڑوسیوں کے لئے زحمت کا باعث نہ بنے۔

س)عزاداری میں کم یا زیادہ شور کرنے کا کیا حکم ہے کہ جب پڑوسیوں کی رضائیت کے متعلق علم نہ ہو؟کیا پڑوسیوں میں سے ہر ایک کی رضائیت  ضروری ہے یا ان میں سے اکثر کی رضائیت کافی ہے؟

ج)ان مجالس کی عزت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ زحمت ایجاد نہ ہو۔

س)آدھی رات کے وقت عزاداری کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے کہ جو لوگوں کے آرام اور نیند میں خلل کا باعث ہو؟

ج)کلی طور پر لوگوں کو اذیت و زحمت دینا جائز نہیں ہے چاہے وہ نیند کی حالت میں ہو یا بیداری کی حالت میں۔یہ مجالس و مراسم معمول اور متعارف صورت میں انجام دی جائیں اور بعض موارد جیسے شب عاشورا میں اذیت صدق نہیں کرتی۔

س)کی ا یہ بات صحیح ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا کے  بانی یہ چاہیں  کہ اس مجلس میں زیادہ لوگ شریک ہوں ؟

ج)مجالس عزا میں لوگوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اور جس قدر زیادہ باعظمت ہوں تو ان کا دلوں میں اثر بھی زیادہ ہو گا نیز اس کے آثار و اثرات بھی زیادہ ہوں گے۔اگر اس مسئلہ کو اہمیت نہ دی جائے تو دین کے دشمن ،فریب کھائے ہوئے مسلمان اور مغرب زدہ ظاہر بین واقعۂ کربلا کا انکار کر دیتے۔البتہ سب کو متوجہ رہنا چاہئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے سے حاصل ہونے والا بے شمار اجر و ثواب ان میں محرمات داخل کرنے سے ضائع نہ ہو جائے۔لہذا مذہب اور مجالس عزا کی توہین کا باعث بننے والی ہر چیز سے اجتناب کیا جائے۔

 س) بعض اوقات حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزا کے ایّام کچھ دوسری مناسبات جیسے نوروز سے ہم زمان ہوتے  ہیں۔عزائے حسینی کے ایّام میں دوسری مناسبات کو انجام دینے کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)یہ واضح  ہے کہ مؤمنین و محبین اہلبیت علیہم السلام محرم و صفر کے ایّام میں ایسے مراسم اور ایسے اعمال انجام دینے سے گریز کرتے ہیں کہ جو محبّ اہلبیت علیہم السلام کی شان کے مناسب نہیں ہیں اور وہ مجالس اور سیرت عزا کی حفاظت کرتے ہیں۔

 

نماز اور عزاداری

س)اگر کوئی شخص رات دیر تک عزاداری کرنے یا صبح کی نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنے کے درمیان مردد ہو تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنا واجب ہے۔

س)اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے،روزہ نہ رکھے اور امام حسین علیہ السلام سے نیکی کرے اور ماتم کرے ،زنجیر زنی کرے اور گریہ و عزاداری کرے  اور نیز جو شخص اپنے مال سے خمس اور زکات ادا نہ کرے تو کیا اس مال کو امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کر سکتا ہے ؟اور کیا ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا؟

ج)نماز ار روزہ واجب ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام پر عزاداری و گریہ مستحب ہے ،انسان کو چاہئے کہ وہ نماز پڑھے،روزہ رکھے اور عزاداری بھی کرے ۔نیز جس پیسوں پر خمس ہو،پہلے واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کیا جائے اور پھر اسے امام حسین علیہ السلام کی راہ اور دوسرے کار خیر میں خرچ کیا جائے۔جس مال پر خمس واجب ہو چکا ہو اس کا خمس نکالنے سے پہلے اسے کسی بھی کام میں خرچ کرنا حرام ہے اگرچہ وہ کار خیر ہی کیوں نہ ہو۔

 س)روز عاشور ظہر کے وقت عزادار اظہار حزن کے لئے تیار ہوتے ہیں اور دوسری طرف نماز ظہر کا وقت ہو جاتا ہے ایسے میں مؤمنین کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)ایسے موارد میں اغراض اور فضائل کے حصول میں جمع کیا جائے یعنی سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری بھی کی جائے اور نماز ظہر بھی اوّل وقت بجا لائی جائے۔

 

خواتین کی عزاداری

س) کیا ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص سيد الشهداء حضرت امام حسین عليه‌السلام کی مجالس عزا میں خواتین کا بلند آواز سے گریہ کرنا جائز ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

 

س)عورتوں کا گلی کوچوں میں کھڑے ہو کر عزداری کرتے ہوئے مردوں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟اور اس سلسلہ میں ہیئت و انجمن کی ذمہ داری کس حد تک ہے؟

ج)عورتوں کا نامحرم مردوں کے جسم کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔

س) خواتین کا عزاداری کے دستوں کے پیچھے چلنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اگر اس سے معصیت کا ارتکاب لازم نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

مجلس عزا کے خطباء و ذاکرین 

س)مداحی کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟اور ایک ذاکر و مداح اہلبیت علیہم السلام میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟

ج)اگر اہلبيت عصمت و طهارت سلام الله عليهم اجمعين کی مداحی خدا کے لئے ہو تو عبادت ہے اور اس کا اجر عظیم ہے۔اس لئے ذاکر و مداح کو متقی و پرہیزگار ہونا چاہئے نیز اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جو اشعار پڑھے وہ حقیقت کے برخلاف اور جھوٹ پر مبنی نہ ہوں۔جہاں تک ہو سکے ان عبادات کو قصد قربت سے انجام دے تا کہ ان کا ثواب حاصل ہو سکے اگرچہ اس عمل کے لئے اجرت لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض مداح اس انداز میں حسین حسین کا ذکر کرتے ہیں کہ جو شور اور ہیجان کا باعث بنتا ہے اور وہ گریہ و ماتم کے ساتھ لوگوں میں اچھلنے کودنے جیسا عمل ایجاد کرتے ہیں ،کیا یہ کام صحیح ہے؟

 ج)اگر نوحہ خوانی و مداحی غنا کی صورت میں ہو تو حرام ہے۔

س)کیا موسیقی کے سر ،ساز اور غنا کی صورت میں کی جانے والی مداحی حرام ہے؟

ج)جی ہاں!حرام ہے۔

س)کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں  ذاکرین و مداح اور خطباء کا اجرت لینا جائز ہے؟

ج)جائز ہے۔

س)مداح حضرات دعائے کمیل ، دعائے ندبہ اور زیارت عاشورا کے درمیان اشعار اور مصائب پڑھتے ہیں ،اس عمل کا کیا حکم ہے؟

 ج)بہتر یہ ہے کہ وارد ہونے والی دعاؤں کو ان کے ضمن میں اشعار یا کوئی اور چیز پڑھے بغیر ہی پڑھا جائے لیکن بعض موقعوں  پر صحیح مصائب پڑھنے میں کوئی شرعی اشکال نہیں ہے کہ جو دعا سے مناسب ہو۔جی ہاں!اگر اس عمل میں اس طرح سے افراط کیا جائے کہ جو دعا پڑھنے کی صورت سے خارج ہو جائے تو معلوم نہیں کہ اس دعا کا ثواب ملے۔

 

عزاداری کے روائی منابع

س)کیا مرحوم ملّا حسین کاشفی کی کتاب روضه الشهداء اور ملّا آقا دربندی کی کتاب  اسرار الشهادة میں واقعۂ کربلا کے متعلق تحریف شدہ روایات ہیں؟

ج) ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم مذکورہ دو کتابوں کے مؤلفین کو واقعۂ کربلا میں تحریف کرنے سے متہم کریں۔ان میں جو مطالب درج ہیں کہ جو محتمل الوقوع ہیں لہذا جب تک ان کے نہ ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو ان کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ ہی مؤلفین کی طرف جھوٹ لکھنے کی نسبت دے سکتے ہیں  اور اگر دلیل کی رو سے کسی چیز کا واقع نہ ہونا قطعی ہو تو اسے نقل نہیں کرنا چاہئے۔ 

س) آپ کی نظر میں فارسی اور عربی میں معتبر مقاتل کون سے ہیں؟

ج)اس بارے میں مرحوم محدّث جناب حاج شيخ عباس قمی صاحب کی تألیفات سے استفادہ کیا جائے۔

س)مداحان و ذاکرین اور خطباء کا بے بنیاد اورمشکوک مصائب پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج)بے بنیاد مصائب پڑھنا جائز نہیں ہے اور ایسی چیز پڑھنا کہ جس کے صحیح ہونے کا احتمال ہو تو اگر یہ احتمال کی صورت میں ہو تو اشکال نہیں ہے۔

س)اگر بے بنیاد مصائب پڑھا جائے تو ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

ج)اگر ذاکرین سے جھوٹ سنیں تو شرعی ذمہ داری کے طور پر انہیں نہی از منکر کے عنوان سے تنبیہ کریں اور یہ سب مکلفین کی ذمہ داری ہے۔ 

 

عزاداری منعقد کرنے سے مخصوص اموال

س) اگرماتمداری و عزاداری کے لئے فرض کریں کہ کسی ایسے مال سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو ان مجالس کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر مال کے مالک کی رضائیت کا علم نہ ہو تو مسئلہ کا کیا حکم ہو گا؟

ج)اگر کسی ایسے عین مال (اصل مال)سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو حرام ہے اوروہ  اس کا ضمان بھی ہو گا۔

س)اگر عزاداری میں کوئی مال کسی خاص مقصد کے لئے دیا جائے تو کیا اسے عزاداری میں کسی دوسرے مورد میں خرچ کر سکتے ہیں؟(مثلاً کھانے کے لئے دئے گئے پیسوں کو کسی دوسری چیز کی خریداری میں خرچ کیا جائے)

ج)ایسے کسی خاص مورد میں خرچ کرنے کے لئے پیسے دیئے گئے ہوں تو ان کسی دوسرے مورد میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے  نیز وہ ضامن بھی ہو گا۔

اگر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری  میں استفادہ کرنے کے لئے کچھ وسائل و لوازمات صیغۂ وقف پڑھے بغیر لئے گئے ہوں تو ان وسائل و لوازمات سے ذاتی طور پر استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر کوئی شخص کئی بار مسئلہ نہ جانے کی صورت میں یہ ایسا کرے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)مذکورہ  وسائل سے ذاتی طور پر استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور جس نے ان سے ذاتی طور پر استفادہ کیا ہو وہ توبہ کرے اور بعض موارد میں یہ ضامن ہونے کا بھی باعث ہے۔

س) اگر ظہر عاشورا کے لئے کھانے اور نذر و نیاز کی منت مانگی گئی ہو تو کیا اسے محرم کے دوسرے ایّام میں انجام دے سکتے ہیں؟

ج)سوال کے فرض کی بنیاد پر مذکورہ نذار و نیاز ظہر عاشورا کے علاوہ کسی اور دن نہیں دے سکتے۔

  

عزاداری میں موسیقی کے آلات

 

س)عزداری میں موسیقی کے آلات جیسے ڈھول،صنج ،ارگ وغیرہ سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)جائز نہیں ہے۔

س)سرور شہیداں حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کی عزداری کے وقت عزاداروں میں ہماہنگی کے لئے ڈھول اور صنج سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اس میں اشکال ہے۔

آيت الله العظمی صافی کی كتاب « گفتمان عاشورايي» سے اقتباس

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
نامحرم سے رابط اور حجاب کے احکام

س) کیا عورت کے لئے نامحرم کے سامنے اپنے پاؤں کو چھپانا واجب ہے یا نہیں؟

ج ) جی ہاں!عورت کو نامحرم کے سامنے پاؤں بھی چھپانے چاہئیں۔

 

س) نا محرم کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج ) کسی مجمع عام میں سب کو سلام کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے لیکن بہتر ہے خاص طور سے سلام کرنے سے اجتناب کیا جائے کہ جو فنتہ کا باعث بنے۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں جوان عورت کو سلام نہیں کرتا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ میرے دل میں کوئی ایسی چیز نہ آئے کہ جو خدا کو مطلوب نہیں ہے۔

 

س)کیا نامحرم کے ساتھ تنہائی میں دیر تک باتیں کرنا جائز ہے؟

ج )اگر کوئی ایسی جگہ ہو کہ جہاں دوسرے نہ آ سکتے ہوں تو اس جگہ دو نامحرم کا ہونا حرام ہے اور اس جگہ کے علاوہ بھی اگر شہوت پر مبنی باتیں ہوں یا اس میں کوئی اور برائی اور مفسدہ ہو تو جائز نہیں ہے۔

 

س) کیا خالہ زاد بھائی یا چچا زاد بھائی کے سامنے حجاب کی رعائت کرنا ضروری ہے؟ اگرچہ وہ مجھ سے بہت بڑے ہوں اور میرے باپ کی جگہ ہوں؟

ج )پھوپھی زاد بھائی، خالہ زاد بھائی، ماموں زاد بھائی اور چچا زاد بھائی یہ سب نامحرم ہیں اور ان کے سامنے حجاب کی رعائت کرنا واجب ہے اور اسے ترک کرنا گناہ ہے، اگر وہ سن کے لحاظ بڑے ہوں تو اس سے حکم تبدیل نہیں ہوتا۔

 

س)کیا کسی نامحرم لڑکی کے ساتھ بہن اور بھائی کا صیغہ پڑھ سکتے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے بہن بھائی کی طرح پیش آئیں؟

ج ) جی نہیں!نامحرم کے ساتھ بہن اور بھائی کا صیغہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ جو چیز محرم ہونے کا باعث ہے وہ متعلقہ شرائط کے ساتھ نکاح دائمی یا نکاح موقت ہے۔

 

س) کالج وغیرہ میں لڑکے اور لڑکیوں کی کلاسیں ایک ساتھ ہوتی ہیں، اور کبھی قصد کے بغیر اچانک سے نامحرم کی طرح نظر چلی جاتی ہیں،اس کا حکم کیا ہے؟

ج )لذت کے قصد کے بغیر غير عمدي طور پر نگاہ کرنے میں اشکال نہیں ہے۔

 

س) میں نے سنا ہے کہ کریم کا استعمال آرائش کا جزء شمار نہیں ہوتا، کیا یہ بات درست ہے اور کیا کریم لگوانا جائز ہے؟

ج ) کریم ، اگر کسی حرام کام کے ساتھ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس بناء پر اگر مرد کو مرد اور عورت کو عورت کریم لگائے تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔

لیکن اگر عورت یا مرد کو کوئی نامحرم کریم لگائے  تو یہ جائز نہیں ہے۔ دوسرا نکتہ ہے کہ جہاں بھی کریم عورتوں کے لئے چہرے کی آرائش یا چہرے کے میک اپ کے لئے ہو تو نامحرم سے چھپانا واجب ہے لیکن اگر صرف چہرے کو بدلنے کے لئے ہو تو اسے نامحرم سے چھپانا بہتر ہے۔

 

س) شادی بیاہ کی محافل میں جب دولہا داخل ہو تو اس کی نامحرم عورتوں کے لئے کیا حکم ہے؟

ج )دولہے کے سامنے تمام نامحرم عورتوں کو مکمل طور پر حجاب کی رعائت کرنی چاہئے اور اس لحاظ سے شادی بیاہ اور دسرے موارد میں کوئی فرق نہیں ہے۔

 

س) بالغ ہونے سے پہلے بچپن میں کچھ تصاویر کھینچی گئیں کہ جو حجاب کے بغیر تھیں، اب بالغ ہونے کے بعد اگر نامحرم (جیسے خالہ زاد بھائی یا پھوپھا) ان تصاویر کو دیکھیں تو کیا اس میں شرعی طور پر اشکال ہے؟

ج ) اگر نامحرم لذت کے قصد کے بغیر ان تصاویر کو دیکھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس بارے میں آپ پر بھی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

 

س) شادی بیاہ کی محافل میں عورتیں خاص کپڑوں کے ساتھ شرکت کرتی ہیں اور اکثر اوقات کپڑوں سے بدن نظر آ رہا ہوتا ہے اور شادی کی فلم بھی بنتی ہے تو ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

ج ) اگر آپ جانتی ہیں یا یہ احتمال ہے کہ آئندہ اس فلم کو نامحرم افراد بھی دیکھیں تو فلم بنتے وقت مکمل طور پر حجاب کی رعائت کرنا ضروری ہے  اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتیں تو کیمرہ کے سامنے جانے سے اجتناب کریں۔

 

س) اگر ہاتھ اور چہرے پر چرب، مرطوب اور سن بلاک کریموں کا استعمال کیا جائے کہ جن کا مقصد جلد کی حفاظت ہو اور اگر ان میں خوشبو بھی ہو اور یہ چہرے کو نکھارنے اور سفید کرنے کا باعث ہوں تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

ج )اگر یہ آرائش اور زینت شمار نہ ہو اور اس کی خوشبو نامحرم کے لئے لذت اور اس کی نفسانی تحریک کا باعث نہ ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن احتیاط واجب کی بناء پر ہر صورت میں چہرے کو نامحرم سے چھپایا جائے.

 

س) ہمارے خاندان میں یہ رسم ہے کہ دعوت میں سب رشتہ دار ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ لذت کے قصد کے بغیر ہاتھ ملانے کا کیا حکم ہے؟

ج ) حتی لذت کے قصد کے بغیر بھی نامحرم سے ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے، چاہے وہ بہت قریبی رشتہ دار ہوں جیسے چچا زاد اور پھوپھی زاد بھائی۔ انہیں شرعی احکام سے آگاہ کرنا ضروری ہے.

 

س)کیا جوان ماموں یا چچا اپنی جوان بھانجی یا بھتیجی کو چوم سکتا ہے؟

ج )اگر اس میں شہوانی لذت کا قصد اور ریبہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س)کیا ابرو کونکالنا اور انہیں رنگ کرنا جائز ہے؟

ج )عورتوں کے لئے ابرو کی اصلاح کرنے اور انہیں رنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن انہیں نامحرم سے چھپایا جانا چاہئے۔

 

س)درس کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے استاد کی طرف دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

ج) لذت کے قصد اور ربیہ کے بغیر نامحرم مرد کے چہرے، ہاتھ اور گردن کی طرف دیکھنے (کہ جنہیں مرد عام طور پر نہیں چھپاتے)میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س) عورتوں کے لئے باریک جورابیں پہننے کا کیا حکم ہے؟

ج ) چونکہ نامحرم کے سامنے پاؤں کے بالائی حصہ کو چھپانا بھی واجب ہے۔ اس بناء پر نامحرم کے سامنے ایسی باریک جورابیں پہننا جائز نہیں ہے کہ جن سے پاؤں کی جلد نظر آئے۔

 

س)اگر انسان اپنی دوست کے ساتھ امام زادوں کی زیارت کے لئے جائے تو کیا  جس طرح عام دوست کے ساتھ جا کر زیارت کی جاتی ہے اسی طرح یہ زیارت بھی صحیح ہے؟

ج )امام زادوں کی زیارت کے لئے جانے کا مقصد ثواب کا حصول ہے لیکن اگر ثواب کے حصول کی بجائے انسان کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے تو یہ واضح ہے کہ انسان مذکور اجر و ثواب حاصل نہیں کر سکے گا۔نیز کبھی یہ گناہوں میں اضافہ کا باعث بھی بنتا ہے۔

 

س)کیا عورتوں کے لئے تنگ اور چھوٹے کپڑے پہننا جائز ہے؟

ج ) نامحرم کے سامنے عورتوں کا لباس ایسا ہونا چاہئئے کہ جو اوّلاً ان کے بدن کو چھپائے اور ثانیاً وہ لباس ایسا نہ ہو کہ جو نامحرم کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث نہ بنے اور جس میں بدن کی ساخت نمایاں ہو ۔

 

س) نامحرم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مسکرانے کا کیا حکم ہے؟

ج )نامحرم کے ساتھ گفتگو کے دوران مسکرانا اور ہر وہ عمل جو اس کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنے ،وہ جائز نہیں ہے اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ نامحرم کے ساتھ مذاق میں ہے گئے  ایک لفظ کی آخرت میں سزا ہزار سال قید ہے۔

 

س) میڈیکل میں ایسے معالجہ و معائنہ کا کیا حکم ہے کہ جس میں نامحرم کو چھونا اور اسے دیکھنا لازم آئے؟

ج ) اگر جنس کے لحاظ سے مماثل ڈاکٹر (عورت کے معالجہ کے لئے عورت اور مرد کے معالجہ  کے لئے مرد) نہ ہو تو اس میں ضرورت کی حد تک اشکال نہیں ہے۔

 

س) میں میڈیکل کی طالبہ ہوں اور ہسپتال میں کام کے دوران کبھی کبھار میرے ہاتھ میرے ساتھ کام کرنے والے نامحرم سے لگ جاتے ہیں حلانکہ اس میں کوئی قصد اور غرض نہیں ہوتی، کیا اس عمل سے میں گناہ کی مرتکب ہوتی ہوں؟جب کہ میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ میرے ہاتھ کسی نامحرم کو نہ لگیں؟

ج )اگر کام کے دوران اتفاقی طور پر ہاتھ ساتھ کام کرنے والے نامحرم شخص کو لگ جائیں تو اس میں اشکال نہیں ہے لیکن اگر آپ جانتی ہوں کہ یہ عمل کئی مرتبہ انجام پا سکتا ہے ،چاہے یہ اتفاقی طور پر ہی کیوں نہ ہو تو اس صورت میں ضروری ہے کہ آپ دستانوں یا اس جیسی کسی دوسری چیز سے استفادہ کریں۔

 

س)اگر کوئی نا بالغ بچیوں کی طرف دیکھنے اور انہیں چھونے کے ذریعہ سے لذت حاصل کرے تو اس کا کیا حکم ہےَ؟

ج ) یہ حرام ہے.

 

س)کیا سیاحوں کے لئے حجاب کو لازم قرار دینا ضروری ہے؟

ج ) حجاب کے فقہی حکم کے لحاظ سے سیاح اپنے دین کے تابع ہیں لیکن جس طرح ان پر ملک  کے دوسرے قوانین کی رعائت کرنا واجب ہے اسی طرح انہیں اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ مذہبی اور ملک کی ثقافتی اقدار کے برخلاف عمل کریں اور اخلاقی فساد کو پھیلانے کا باعث بنیں۔

 

س)کیا لڑکوں کے لئے چھوٹی آستین والے کپڑے پہننا جائز ہے؟

ج ) اگر مرد یہ جانتا ہو کہ عورت لذت کے قصد سے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی ہے تو احتیاط واجب کی بناء پر انہیں ڈھانپنا چاہئے۔

 

س) کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں کالے رنگ کے کپڑے پہننا مکروہ ہے؟

ج ) حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں کالے رنگ کا لباس پہننا تعظیم شعائر کے مصادیق میں سے ہے اور جو شرعی رجحان رکھتا ہے کہ جس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ متعدد بزرگ فقہاء اور مراجع تقلید عاشورا کے دن کالے رنگ کی قباء پہنتے تھے۔

  

س) کیا عورتوں کا لباس حتمی طور پر کالے رنگ کا ہونا چاہئے؟

ج ) کالے رنگ کا لباس پہننا واجب نہیں ہے بلکہ معیار یہ ہے کہ عورتوں کا لباس اس رنگ کا نہیں ہونا چاہے کہ متعارف لباس کے برخلاف ہو کہ جو نامحرم کی توجہ کو جلب کرنے کا باعث بنے۔

 

س) کیا عورتوں کے لئے جورابیں پہننا ضروری ہے؟

ج ) جی ہاں! نامحرم کے سامنے عورتوں کوچاہے کہ وہ اپنے پاؤں چھپائیں اور اس لحاظ سے حالت نماز اور غیر نماز میں کوئی فرق نہیں ہے۔

 

س)خواتین کا تنگ مانتو( ایران میں خواتین کا لباس) پہن کر گھر سے باہر آنے کا کیا حکم ہے؟

ج ) خواتین کا نامحرم مردوں کے سامنے ایسا لباس کے ساتھ رفت و آمد کہ جس سے بدن کی ساخت نمایاں ہو یا اس میں مفسدہ کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو یہ جائز نہیں ہے۔

 

س) کیا معالج(ڈاکٹر) مریض کا محرم ہوتا ہے؟

ج ) ڈاکٹر مريض کا محرم نہیں ہے، لیکن جب علاج معالجہ مریض کو دیکھنے یا اس چھونے پر موقوف ہو تو معالج ضرورت کے مطابق مریض کو دیکھ سکتا ہے اور اسے چھو سکتا ہے اور جب دستانوں یا کسی حائل چیز کے ذریعہ چھونا کافی ہو تو مستقیم طور پر چھونا جائز نہیں ہے۔

 

س)کیا نامحرم کا ٹخنوں تک پاؤں(کہ نماز میں اس حصہ کو چھپانا لازم نہیں ہے) کا دیکھنا حرام ہے؟

ج )جی ہاں! مرد کا نامحرم کے پاؤں کو دیکھنا حرام ہے اور نماز کی حالت میں بھی اگر عورت یہ جانتی ہو کہ اسے نامحرم دیکھ سکتے ہیں تو اسے پاؤں کو بھی چھپانا چاہئے۔

 

س)اسکول یا کالج میں لڑکے اور لڑکیوں کی کلاسیں ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے غیر ارادی طور پر نامحرم لڑکیوں پر نطر پڑ جاتی ہے،اس کا کیا حکم ہے؟

ج ) غیر ارادی طور پر لذت کے قصد کے بغیر دیکھنے میں کوئی اشكال نہیں ہے.

 

س)کیا بعض درسی کتابوں میں غیر مسلم مردوں اور عورتوں کی نیم عریان تصاویر کو دیکھنا جائز ہے؟

ج ) اگر لذت کے قصد سے نہ ہو اور اس کا کوئی مفسدہ بھی نہ ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س)کیا کافر عورتوں کے چہرے، ہاتھ اور بالوں کو دیکھنا جائز ہے؟

ج ) اگر لذت کا قصد نہ ہو اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو ان کے ہاتھ چہرے اور بدن کے ان حصوں کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جنہیں وہ عام طور پر نہیں چھپاتی۔

 

س) اپنے منگیتر کو دیکھنے کا کیا حکم ہے کہ جس کے ساتھ بعد میں شادی کرنے کا ارادہ کیا ہو؟

ج ) جب تک نکاح دائم یا نکاح موقّت کا صیغۂ عقد نہ پڑھا جائے تب تک منگیتر اور دوسرے نا محرم لوگوں میں کوئی فرق نہیں اور اسے لذت و شہوت کے قصد سے دیکھنا جائز نہیں ہے۔

 

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
عید الفطر کی نماز کے احکام

عید الفطر کی نماز کے احکام

۱۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانۂ حضور میں عید کی نماز واجب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے لیکن ہمارے زمانے میں کہ جب امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف غائب ہیں،یہ نماز مستحب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ اور فرادیٰ پڑھا جا سکتا ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ اسے جماعت کے ساتھ رجاءاً پڑھا جائے۔
۲۔عید فطر کی نماز کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب سے ظہر تک ہے۔.

۳۔عید فطر میں مستحب ہے کہ سورج چڑھ آنے کے بعد افطار کیا جائے اور فطرہ دیا جائے اور پھر عید فطر کی نماز ادا کی جائے۔
۴۔عید فطر کی نماز دو رکعت ہے جس کی پہلی رکعت میں الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھے اور پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیرکہے اور رکوع میں چلا جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد قنوت پڑھے اور پھر پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور تشہد پڑھے اور پھر سلام کہہ کر نماز تمام کر دے۔
۵۔عید الفطر کی نماز کے قنوت میں جو دعا اور ذکر پڑھے کافی ہے، لیکن بہتر ہے کہ یہ دعا پڑھی جائے:

’’اللهم اهل الكبريا والعظمة واهل الجود والجبروت واهل العفو والرحمة واهل الـتـقـوى والـمغفرة اسالك بحق هذا اليوم الذى جعلته للمسلمين عيداً ولمحمد ذخراً وشرفاً وكـرامة ومزيداً ان تصلى على محمد وآل محمد وان تدخلنى فى كل خير ادخلت فيه محمداً وآل مـحـمد وان تخرجنى من كل سوء اخرجت منه محمداً وآل محمد صلواتك عليه وعليهم. اللهم انى اسالك خير ما سألك به عبادك الصالحون واعوذ بك ممااستعاذ منه عبادك المخلصون.‘‘

۶۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے زمانے میں مستحب ہے کہ عید الفطر کی نماز کے بعد دو خطبے پڑھے جائیں اور بہتر ہے کہ عید الفطر کے خطبہ میں زکات فطرہ کے احکام بیان کئے جائیں  ۔
۷۔عید کی نماز کے لئے کوئی سورہ مخصوص نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورهٔ شمس (۹۱ واں سوره) اور دوسری رکعت میں سورهٔ غاشيه (88 واں سوره) پڑھا جائے، يا پہلی رکعت میں سورهٔ سبح اسم (87 واں سوره) اور دوسری ركعت  میں سورهٔ شمس (91 واں سوره) پڑھا جائے.
۸۔ عید کی نماز کھلے میدان میں پڑھنا مستحب ہے لیکن مکۂ مکرمہ میں مستحب ہے کہ عید کی نماز مسجد الحرام میں پڑھی جائے.

۹۔ مستحب ہے کہ نماز عید کے لئے پیدل اور پا برہنہ اور باوقار طریقہ سے جائیں اور نماز سے پہلے غسل کریں اور سفید عمامہ سر پر رکھیں۔

۱۰۔مستحب ہے کہ نماز عید میں زمین پر سجدہ کیا جائے اور تکبیریں کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کیا جائے اور جو شخص نماز پڑھ رہا ہو تو چاہے وہ امام جماعت ہو یا فرادیٰ نماز پڑھ رہا ہو ،وہ نماز بلند آواز سے پڑھے۔

۱۱۔مستحب ہے کہ عید الفطر کی رات مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد اور عید الفطر کے دن نماز صبح کے بعد اور عید فطر کی نماز کے بعد بلکہ عید الفطر کے دن ظہر و عصر کے نماز کے بعد بھی یہ تکبیریں کہے: الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد، الله اكبر على ما هدانا.
۱۲۔احتیاط مستحب یہ ہے كه عورتیں عید کی نماز پڑھنے کے لئےجانے سے گریز کریں لیکن یہ احتیاط عمر رسیدہ عورتوں کے لئے نہیں ہے۔

۱۳۔دوسری نمازوں کی طرح عید کی نماز میں بھی مقتدی کو چاہئے کہ وہ الحمد اور سورہ کے علاوہ نماز کے دوسرے اذکار خود پڑھے۔

۱۴۔اگر مقتدی اس وقت پہنچے کہ امام کچھ تکبیریں کہہ چکا ہو تو امام کے رکوع میں جانے کے بعد ضروری ہے کہ اس نے جتنی تکبیریں اور قنوت امام جماعت کے ساتھ نہیں پڑھے،انہیں خود پڑھے اور اگر ہر قنوت میں ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ اور ایک مرتبہ ’’ الحمد للہ‘‘ کہے تو کافی ہے۔

۱۵۔اگر کوئی عید کی نماز میں اس وقت پہنچے کہ امام جماعت رکوع میں ہو تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور وہ تکبیریں اور قنوت مختصر طور سے بجا لائے اگرچہ ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ ہی کہے اور رکوع کو درک کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ورنہ احتیاط یہ ہے کہ رکوع کی حالت میں اقتدا نہ کرے۔

۱۶۔اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایک سجدہ یا تشہد بھول جائے تو احتیاط یہ ہے کہ نماز کے بعد اسے بجا لائے۔ نیز اگر نمازعید کے دوران کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے کہ جس کے لئے سجدۂ سہو لازم ہو جاتا ہو تو احتیاط کی بناء پر نماز کے بعد دو سجدۂ سہو بجا لائے۔

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
حج کے بعض احکام

حج کے بعض احکام

س۔اگر حاجی نے احرام کا لباس ایسے پیسوں سے خریدا ہو کہ جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو تو کیا اس کا احرام صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔اگر خمس نہ دیئے گئے انہی پیسوں سے معاملہ نہ کیا گیا ہو کہ جن کا خمس دینا واجب تھا تو اس مال میں تصرف کرنا جائز ہے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں پِن(pin) کے ذریعہ رداء کی دونوں طرف کو ایک دوسرے دے متصل کر سکتے ہیں یا اسے گرہ باندھ سکتے ہیں؟

ج۔ اس میں اشکال ہے اور رداء کے دونوں طرٖف کو ایک دوسرے سے متصل نہیں کرنا چاہئے۔

 

س۔ اگر عورتیں اس طرح سے بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘ (یعنی لبیک کہنا)کہیں کہ جسے اجنبی سنیں تو کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟

ج۔ اگر بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘کہی جائے کہ جسے اجنبی نے سنا ہو تو احوط و اولیٰ یہ ہے کہ اسے دوبارہ بجالایا جائے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں صابن اور  مختلف قسم کے شیمپو سے استفادہ کرنے میں اشکال ہے؟

 ج۔ اگر ان پر خوشبو صدق کرے تو ان سے اجتناب کیا جائے ،ورنہ ان میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س۔ احرام کی حالت میں کچھ لوگ ڈیجیٹل کیمروں سے ایک دوسرے کی تصاویر بناتے ہیں اور تصاویر کو دیکھتے وقت اس کے مونیٹر میں دیکھتے ہیں کہ جو شفاف اور آئینہ کی مانند ہے ۔کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟
ج. اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عورتوں کے لئے ہاتھ اور چہرے کی آرائشی کریموں کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. جائز نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عقد(نکاح)کرنے کا کیا حکم ہے؟

 ج۔ عقد(نکاح) باطل ہے اور ہمیشہ کے لئے حرمت کا موجب ہے۔

 

س۔ اگر احرام کی حالت میں بسیں راستہ میں موجود پل وغیرہ کے نیچے سے گزریں اور مجبوراً محرمین کو بھی پل کے نیچے سے گزرنا پڑے یا بسیں پٹرول پمپ پر چھتوں کے نیچے رکیں تو کیا اس میں اشکال ہے؟

ج۔ احرام کی حالت میں سر پر سایہ کرنا حرام ہے۔ اس بناء پر مذکورہ سوال کی رو سے محرم کے لئے کوئی اشکال نہیں ہے اور اس کا کفّارہ بھی نہیں ہے۔

 

 س۔اگر کسی کے مصنوعی بال ہوں اور وہ محرم ہو جائے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
ج.حج و عمرہ کے لئے کوئی ضرر نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ مرد ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کفارہ دے لیکن اس کے مصنوعی بال اس کے وضو یا غسل کے صحیح  ہونے کے لئے مضر نہ ہوں(یعنی مصنوعی بال وضو یا غسل کے لئے مانع نہ ہوں)

 

س۔اگر کوئی شخص طواف کے دوران پیشاب کو نہ روک سکتا ہو تو کیا اسے نائب لینا چاہئے؟

ج۔ مسلوس (جو شخص پیشاب وغیرہ کو نہ روک سکتا ہو) کے لئے طواف کا وہی حکم ہے جو نماز کے لئے مسلوس کا حکم ہے اور مبطون نائب لے ،اور احتیاط یہ ہے کہ خود بھی بجا لائے اور نائب بھی لے۔

 

س. کيا شاذروان كعبه کا جزء شمار ہوتا ہے؟اگر طواف کرنے والے کے بدن کا کوئی عضو یا اعضاء اس کے اوپر آجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج.جی ہاں! یہ کعبۂ معظمہ کا جزء ہے۔ اس بناء پر اگر طواف کے دوران اس پر چلیں یا بدن کا کوئی عضو اس پر آجائے تو اس مقدار میں طواف دوبارہ سے صحیح طور پر انجام دیا جائے اور طواف تمام کیا جائے اور پھر طواف  اور اس کی نماز تمام کرنے کے بعد احتیاطاً طواف اور نماز  طواف دوبارہ سے بجا لایا جائے۔

 

س۔ہجوم کے موقع پر اگر عورتیں 5/26 ذراع حدود کے اندر طواف بجا لانا چاہیں یا مقام ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیں,کیونکہ نا محرم مردوں کے دھکے نہ لگیں توانہیں کیا کرنا چاہئے
ج. صرف یہی امر حدود سے باہر طواف کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

 

س.آج کے زمانے میں صفا و مروہ کے درمیان فاصلہ کو دو منزلہ ہال کی صورت میں بنا دیا گیا ہے ، اس کی دوسری منزل پر سعی انجام دینے کا کیا حکم ہے؟
ج.اگر دوسری منزل کوہ صفا و مرورہ کے درمیان ہو اور اس سے بلند نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س. اگر کوئی تقصير کی بجائے حلق کر لے تو کیا یہ کافی ہے؟
ج۔یہ عمرهٔ تمتّع میں کافی نہیں ہے لہذا اسے چاہئے کہ وہ کفارہ کے طور پر ایک بھیڑ دے۔

 

س۔ کیا آپ کی نظر میں بالائی منزلوں سے رمی جمرات کرنا کافی ہے یا نہیں؟

ج۔  جمرات کے ستون میں اضافہ شدہ حصہ پر رمی کرنا احتیاط کے برخلاف ہے لیکن اگر بالائی منزلوں سے جمرات کے سابقہ حصہ پر رمی کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔ کچھ عرصہ قبل قربانی کے مقام کو منیٰ سے تبدیل کرکے وادی محسّر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیا منیٰ کے علاوہ دوسرے مقام پر قربانی کر سکتے ہیں یا منیٰ میں ہی قربانی کرنی چاہئے؟

ج۔ جب تک منٰی میں قربانی کرنا ممکن ہو تو منٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر قربانی کرنا کافی نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر منیٰ میں قربانی کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دے دی جائے تو اقویٰ یہ ہے کہ وادی مجسّر میں بھی قربانی کرنا کافی ہے۔

 

س.کیا اہلسنت کی نماز جماعت میں شریک ہو کر ان کے ساتھ یومیہ نمازیں پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔ضرورت کی حالت میں عامہ (اہلسنت) کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ضرورت کے علاوہ دوسرے موارد میں بھی اگر ان کے ساتھ نماز ادا کرنا ان کے دلوں کو جذب کرنے ، تألیف قلوب اور شیعوں پر تہمتوں کو دور کرنے کا باعث ہو تو یہ ایک اچھا عمل ہے اور نماز اعادہ کرنا(یعنی دوبارنماز پڑھنا) ضروری نہیں ہے ، اگرچہ یہ احتیاط کے موافق ہے۔

 

س۔ کیا دو افراد کی نیابت میں ایک حج انجام دے سکتے ہیں؟
ج.کوئی بھی شخص ماہ ذی الحجہ میں اپنے لئے یا کسی اور کی نیابت میں صرف ایک ہی حج انجام دے سکتا ہے، لیکن مستحبی حج دو یا چند افراد کی نیابت میں انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔کیامسجد الحرام میں فرش پر لگے پتھروں ( جیسے سنگ مرمر) پر سجدہ کرنا جائز ہے؟
ج. جی ہاں!جائز ہے،ان معدنیات پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے کہ جنہیں عرف میں زمین نہ کہا جائے مثلاً سونا، چاندی، عقیق، تانبا اور تمام دوسری دھاتیں۔

 

س۔ کیا عورتیں احرام کی حالت میں جورابیں پہن سکتی ہیں یا ان کے پاؤں کا بالائی حصہ بھی مردوں کی طرح کھلا ہونا چاہئے؟
ج. اقویٰ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے جورابیں پہننا جائز ہے۔جی ہاں! نامحرم کے سامنے چھپانا واجب ہے۔

 

س.آج کل حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنے کے کچھ ایسی مشینیں ہیں کہ جو بعض حجاج بیت اللہ الحرام کے لئے مشکلات ایجاد کرتی ہیں۔ براہ کرم اس بارے میں مندرجہ ذیل چند سوالوں کے جواب عنائت فرمائیں:
الف) کیا حج تمتع میں حتمی طور پر حلق کرنا ضروری ہے تقصير کا امکان بھی موجود ہے؟

ب) جن موارد میں حلق کرنا معین ہوا ہے تو کیا حلق کرنے کے لئے بلیڈ کا استعمال ضروری ہے یا آج کل کے زمانے میں موجود دوسرے ذرائع سے بھی حلق کر سکتے ہیں؟
ج)اگر کسی آلہ میں بلیڈ ہو لیکن اس میں متعارف آلہ کی طرح بلیڈ نہ ہو اور عرف میں وہ کوئی دوسرا آلہ ہو لیکن اس میں بلیڈ ہو تو کیا یہ کافی ہے؟
د) اگر کوئی ایسا آلہ ہو کہ جس میں بلیڈ  نہ ہو لیکن وہ آلہ بالوں کو جڑوں سے کاٹ دے کہ جس سےبالوں کی جڑیں بھی باقی نہ رہیں تو کیا یہ کافی ہے یا نہیں؟
ج. الف. صرورة (پہلی مرتبہ حجّ تمتع انجام دینے والے) کے لئے احتیاط کی بناء پر حلق کرنا واجب ہے۔

ب. بیلڈ سے تراشنا ضروری ہے۔
ج..اگر یہ بلیڈ کے ساتھ ہو اور حقیقت میں سر کو بلیڈ کے ساتھ تراشا گیا ہو تو اشکال نہیں ہے۔
د. یہ کافی نہیں ہے.

 

س.اگر کوئی واجب حج کے طواف میں شک کرے کہ کیا طواف کے ۶ چکر لگائیں ہیں یا ۷،لیکن اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی طواف کر رہی ہو جو یہ کہے کہ طواف کے ۷ چکر لگائے ہیں تو کیا وہ شخص اپنی بیوی کے قول پر اعتماد کرسکتا ہے تا کہ پھر اپنے شک پر اعتناء نہ کرے؟
ج. اگر بیوی کے قول سے اطمینان حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س.کیااختیاری یا اضطراری حالت میں (چاہے مالی لحاظ سے اضطرار ہو یا جدید منیٰ [ جو منیٰ سے باہر ہے] میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اضطرار ہو اور بعض خیمہ وادی محسر اور مزدلفہ میں نصب ہوتے ہیں) ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کی رات منیٰ میں بیتوتہ جائز ہے یا نہیں؟
ج. بيتوته؛ منیٰ میں ہونا چاہئے۔

 

س۔مکۂ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں دیگر مساجد، ہوٹلوں اور دوسرے مقامات پر نماز پوری پڑھی جائے یا قصر؟
ج. مکہ اور مدینہ کے پوری شہر میں زائرین مخیر ہیں یعنی انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نماز قصر پڑھیں یا پوری نماز پڑھیں۔

 

س۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ حج تمتع کے لئے جائے تو کیا وہ حلق کی بجائے تقصیر کر سکتا ہے؟

ج. احتياط واجب کی بناء پر حلق کرنا ضروری ہے۔

 

س۔گذشتہ سال میں نے اپنی سات سالہ بیٹی کو عمرۂ مفردہ میں محرم کیا۔ اپنے وطن ایران واپس آنے کے بعد میں متوجہ ہوا کہ اس کا وضو غلط تھا، اب اس کا حکم کیا ہے؟کیا جتنی مدت وہ ایران میں تھی، اسے احرام کے محرمات سے پرہیز کرنا چاہئے تھا؟ اور کیا اس کا مرتب کفارہ ہے؟
ج۔اگر واپس جانا ممکن ہو تو طواف اور اس کی نماز انجام دے اور بہتر یہ ہے کہ اعمال مترتبہ کو بھی انجام دے یا کوئی نائب لے کہ جو اس کی طرف سے یہ اعمال انجام دے اور بعد میں آپ کو اس کے بارے میں خبر دے یہاں تک کہ وہ تقصیر کرے اور اس کے بعد نائب طواف النساء اور نماز طواف  بجا لائے اور ان اعمال کو انجام دینے سے پہلے تک  احرام کے محرمات سے اجتناب کرے اور اگر محرمات احرام کو جانتے ہوئے عمداً انجام دے تو کفارہ واجب ہے اور یہ کفارہ بچہ کے ولی کے ذمہ ہے۔

 

س۔اگر کسی نے سر پر مصنوعی بال لگوائے ہوں(hair transplant) اور  پہلی بار حج تمتع سے مشرف ہونے کی صورت میں کیا وہ حتمی طور پر ان مصنوعی بالوں کو تراشے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور راہ ہے ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

ج۔ چونکہ مصنوعی بال جلد میں کاشت کئے جاتے ہیں اور وہ نشوونما پاتے ہیں، لہذا وہ قدرتی بالوں کا حکم رکھتے ہیں۔ احتیاط واجب کی بناء پر مرد کو پہلی مرتبہ حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنا چاہئے  اور اس حکم میں وہ کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کر سکتا ہے کہ جس نے تقصیر پر ہی اکتفاء کرنے کے جواز کا فتویٰ دیا ہو اور دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنے میں الاعلم فالاعلم کی رعائت کرے۔ لیکن اگر منصوعی بالوں کو سر پر چپکا دیا گیا تو انہیں سر سے ہٹانا واجب ہے اور اسی طرح اگر مصنوعی بال نشوونما  نہ کریں تو بھی یہی حکم ہے۔

 

س.کیا محرم شخص احرام کی طرح کوئی ایسی چادر یا کمبل وغیرہ لپیٹ سکتا ہے کہ جس کے اردگرد سلائی ہوئی ہو،یا وہ سوتے وقت اسے اوڑھ سکتا ہے؟
ج۔اگر سوتے وقت کمبل کو اپنے اردگرد اس طرح سے نہ لپیٹے کہ جو لباس کی مانند ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر بیٹھے یا کھڑے ہوں تو اپنے اوپر سلائی شدہ کمبل وغیرہ نہ ڈالے یعنی اسے  اوڑھنے سے اجتناب کرے۔

 

س.گذشتہ سالوں کے دوران عرفات، مشعر اور منیٰ سے گذرتے ہوئے عاجز و ناتوان(مثلاً بوڑھے افراد) اور عورتوں کو منی ٰٰکی طرف لے گئے اور مشعر الحرام میں وقوف کے بغیر ان حجاج کو وہاں سے گزار دیا گیا اور پھر انہیں منیٰ کی طرف اور رمی جمرات کے لئے لے گئے۔ کیا وقوف کے بغیر مشعر الحرام سے گزر جانا ہی کافی ہے  اور کیا وقوف کے لئے چند لمحات کافی ہیں یا یہ کہ کچھ دیر لئے وقوف ضروری ہے۔
ج. وقوف کے معنی توقف اور رکنا نہیں ہیں بلكه اس سے مراد مشعر الحرام  میں ہونا ہے۔ اس بناء پر اگر مشعر سے گزرتے وقت وقوف کا قصد کریں تو کافی ہے۔

 

س۔معذورین کو نقل و حمل کے ذرائع سے عرفات سے منیٰ کی طرف لے جانے کے لئے جدید پروگراموں کے مطابق کبھی مزدلفہ میں نہیں ٹھہراتے،اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ دوسرے لفظوں میں کیا صرف مزدلفہ میں حاضر ہونا(یعنی رات کے وقت معذور یا طلوعین کے درمیان غیر معذور زائرین کا وہاں سے گزرنا ہی کافی ہے) اور وہاں سے گزرتے ہوئے وقوف کی نیت کر لینا کافی ہے یا نہیں؟
ج۔مذکورہ سوال کی رو سے وقوف کافی ہے اگرچہ یہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہو۔

 

 س۔کیا موجودہ شرائط میں حج عمرۂ مفردہ انجام دینے کے عنوان سے ایک سال پیسے ودیعہ کے طعر پر رکھے جاتے ہیں اور چند سالوں کے بعد حج کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ ودیعہ کے ان پیسوں پر خمس لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟
ج.اگر سال کے اخراجات سے نام درج کروایا گیا ہو اور بعد کے سالوں میں حج سے مشرف ہوں تو اصل پیسوں اور حج کے لئے جانے سے پہلے والے سالو ں میں ان پیسوں کے منافع پر خمس ہے، نیز اگر حج کے لئے نام درج کروانے سے پہلے پیسوں پر خمس لاگو ہو چکا ہو تو ان پیسوں کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
برخی از احکام زکات فطره

برخی از احکام زکات فطره

* كسي كه موقع مغرب شب عيد فطر بالغ و عاقل و هشيار است و فقير و بنده كس ديگري نيست، بايد براي خودش و كساني كه نان‌خور او هستند، هر نفري يك صاع كه تقريباً سه كيلو است گندم يا جو يا خرما يا كشمش يا برنج يا ذرت و مانند اين‌ها را به مستحق بدهد، و اگر پول يكي از اين‌ها را هم بدهد كافي است، و بنابر احتياط، بر كسي كه موقع مغرب ماه شوال بي‎هوش باشد نيز واجب است.

* كسي كه مخارج سال خود و عيالاتش را ندارد و كسبي هم ندارد كه بتواند مخارج سال خود و عيالاتش را بگذراند، فقير است، و دادن زكات فطره بر او واجب نيست.

* انسان بايد فطره كساني را كه موقع مغرب شب عيد فطر، نان‎خور او حساب مي‎شوند بدهد؛ كوچك باشند يا بزرگ، مسلمان باشند يا كافر، دادن خرج آنان بر او واجب باشد يا نه، در شهر خود او باشند يا در شهر ديگر.

* اگر كسي را كه نان‌خور او است و در شهر ديگر است وكيل كند كه از مال او فطره خود را بدهد، چنان‌چه اطمينان داشته باشد كه فطره را مي‎دهد، لازم نيست خودش فطره او را بدهد.

* فطره مهماني كه پيش از مغرب شب عيد فطر با رضايت صاحب‌خانه وارد شده، در صورتي كه بگويند: امشب نان او را داده، بر او واجب است هر چند نان‌خور او حساب نشود.

* فطره مهماني كه پيش از مغرب شب عيد فطر بدون رضايت صاحب‌خانه وارد مي شود و مدتي نزد او مي‎ماند، بنابر احتياط، واجب است، و هم‌چنين است فطره كسي كه انسان را مجبور كرده‎اند كه خرجي او را بدهد.

* فطره مهماني كه بعد از مغرب شب عيد فطر وارد مي‎شود، بر صاحب‎خانه واجب نيست، اگر چه پيش از مغرب او را دعوت كرده باشد و در خانه او هم افطار كند.

* اگر كسي موقع مغرب شب عيد فطر ديوانه باشد، زكات فطره بر او واجب نيست.

* اگر پيش از مغرب يا مقارن آن بچه بالغ شود يا ديوانه عاقل گردد يا فقير غني شود، در صورتي كه شرايط واجب‌شدن فطره را دارا باشد، بايد زكات فطره را بدهد.

* كسي كه موقع مغرب شب عيد فطر زكات فطره بر او واجب نيست، اگر تا پيش از ظهر روز عيد شرط‎هاي واجب‌شدن فطره در او پيدا شود، مستحب است زكات فطره را بدهد.

* كافري كه بعد از مغرب شب عيد فطر مسلمان شده، فطره بر او واجب نيست؛ ولي مسلماني كه شيعه نبوده، اگر بعد از ديدن ماه شيعه شود، بايد زكات فطره را بدهد.

* كسي كه فقط به اندازه يك صاع كه تقريباً سه كيلو است گندم و مانند آن دارد، مستحب است زكات فطره را بدهد، و چنان‌چه عيالاتي داشته باشد و بخواهد فطره آنان را هم بدهد، مي‎تواند به قصد فطره، آن يك صاع را به يكي از عيالاتش بدهد، و او هم به همين قصد به ديگري بدهد، و هم‌چنين تا به نفر آخر برسد، و بهتر است نفر آخر چيزي را كه مي‎گيرد به كسي بدهد كه از خودشان نباشد، و اگر يكي از آن‌ها صغير باشد، وليّ او به جاي او مي گيرد و احتياط آن است كه چيزي را كه براي صغير گرفته به كسي ندهد.

* اگر بعد از مغرب شب عيد فطر بچه‌دار شود، يا كسي نان‎خور او حساب شود، واجب نيست فطره او را بدهد، اگرچه مستحب است فطره كساني را كه بعد از مغرب تا پيش از ظهر روز عيد نان‌خور او حساب مي‎شوند بدهد.

* اگر انسان نان‌خور كسي باشد و پيش از مغرب يا مقارن آن نان‌خور كسی ديگر شود، فطره او بر كسي كه نان‌خور او شده واجب است، مثلاً اگر دختر پيش از مغرب به خانه شوهر رود، شوهرش بايد فطره او را بدهد.

* كسي كه ديگري بايد فطره او را بدهد، واجب نيست فطره خود را بدهد.

* اگر فطره انسان بر كسي واجب باشد و او فطره را ندهد، بر خود انسان واجب نمي‎شود مگر آن كه شخص غني نان‌خور فقير باشد كه در اين صورت احتياط لازم آن است كه غني فطره خود را بدهد.

* اگر كسي كه فطره او بر ديگري واجب است خودش فطره را بدهد، از كسي كه فطره بر او واجب شده ساقط نمي‎شود.

* زني كه شوهرش مخارج او را نمي‌دهد، چنان‌چه نان‌خور كسی ديگر باشد، فطره‎اش بر آن كس واجب است، و اگر نان‎خور كسی ديگر نيست، در صورتي كه فقير نباشد، بايد فطره خود را بدهد.

* كسي كه سيد نيست، نمي‎تواند به سيد فطره بدهد حتي اگر سيدي نان‌خور او باشد، نمي‎تواند فطره او را به سيد ديگر بدهد.

* فطره طفلي كه از مادر يا دايه شير مي‎خورد، بر كسي است كه مخارج مادر يا دايه را مي‎دهد، ولي اگر مادر يا دايه مخارج خود را از مال طفل برمي‎دارد، فطره طفل بر كسي واجب نيست.

* انسان اگر چه مخارج عيالاتش را از مال حرام بدهد، بايد فطره آنان را از مال حلال بدهد.

* اگر انسان كسي را اجير نمايد و شرط كند كه مخارج او را بدهد بايد فطره او را هم بدهد، ولي چنان‌چه شرط كند كه مقداري از مخارج او را بدهد و مثلاً پولي براي مخارجش بدهد، واجب نيست فطره او را بدهد.

* اگر كسي بعد از مغرب شب عيد فطر بميرد، بايد فطره او و عيالاتش را از مال او بدهند، ولي اگر پيش از مغرب بميرد، واجب نيست فطره او و عيالاتش را از مال او بدهند.

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
احكام زكات فطره

 

- فطره مهماني كه پيش از مغرب شب عيد فطر با رضايت صاحبخانه وارد شده در صورتي كه بگويند، امشب نان او را داده، بر او واجب است هر چند نان خور او حساب نشود.
- فطره مهماني كه پيش از مغرب شب عيد فطر بدون رضايت صاحبخانه وارد مي‌شود و مدتي نزد او مي‎ماند، بنابر احتياط، واجب است و هم چنين است فطره كسي كه انسان را مجبور كرده‎اند كه خرجي او را بدهد.
- فطره مهماني كه بعد از مغرب شب عيد فطر وارد مي‎شود، بر صاحب‎خانه واجب نيست، اگر چه پيش از مغرب او را دعوت كرده باشد و در خانه او هم افطار كند.
- اگر كسي را كه نان خور شخص است و در شهر ديگر است، وكيل كند كه از مال او فطره خود را بدهد، چنان چه اطمينان داشته باشد كه فطره را مي‎دهد، لازم نيست خودش فطره او را بدهد.
- اگر كسي موقع مغرب شب عيد فطر ديوانه باشد، زكات فطره بر او واجب نيست.
- اگر پيش از مغرب يا مقارن آن بچه بالغ شود، يا ديوانه عاقل گردد، يا فقير غني شود، در صورتي كه شرايط واجب شدن فطره را دارا باشد، بايد زكات فطره را بدهد.
- كسي كه موقع مغرب شب عيد فطر، زكات فطره بر او واجب نيست، اگر تا پيش از ظهر روز عيد شرط‎هاي واجب شدن فطره در او پيدا شود، مستحب است زكات فطره را بدهد.
- كافري كه بعد از مغرب شب عيد فطر مسلمان شده فطره بر او واجب نيست، ولي مسلماني كه شيعه نبوده، اگر بعد از ديدن ماه شيعه شود، بايد زكات فطره را بدهد.
- كسي كه فقط به اندازه يك صاع كه تقريباً سه كيلو است گندم و مانند آن دارد، مستحب است زكات فطره را بدهد و چنان چه عيالاتي داشته باشد و بخواهد فطره آنان را هم بدهد مي‎تواند به قصد فطره، آن يك صاع را به يكي از عيالاتش بدهد و او هم به همين قصد به ديگري بدهد و هم چنين تا به نفر آخر برسد و بهتر است نفر آخر چيزي را كه مي‎گيرد به كسي بدهد كه از خودشان نباشد، و اگر يكي از آنها صغير باشد، ولي او به جاي او مي گيرد و احتياط آن است كه چيزي را كه براي صغير گرفته به كسي ندهد.
- اگر بعد از مغرب شب عيد فطر بچه‌دار شود، يا كسي نان‎خور او حساب شود، واجب نيست فطره او را بدهد؛ اگرچه مستحب است فطره كساني را كه بعد از مغرب تا پيش از ظهر روز عيد نان خور او حساب مي‎شوند بدهد.
- اگر انسان نان خور كسي باشد و پيش از مغرب يا مقارن آن نان خور كس ديگر شود، فطره او بر كسي كه نان خور او شده واجب است. مثلاً اگر دختر پيش از مغرب به خانه شوهر رود، شوهرش بايد فطره او را بدهد.
- كسي كه ديگري بايد فطره او را بدهد، واجب نيست فطره خود را بدهد.
- اگر فطره انسان بر كسي واجب باشد و او فطره را ندهد، بر خود انسان واجب نمي‎شود مگر آن كه شخص غني نان خور فقير باشد كه در اين صورت احتياط لازم آن است كه غني فطره خود را بدهد.
- اگر كسي كه فطره او بر ديگري واجب است خودش فطره را بدهد، از كسي كه فطره بر او واجب شده ساقط نمي‎شود.
- زني كه شوهرش مخارج او را نمي دهد، چنان چه نان خور كس ديگر باشد، فطره‎اش بر آن كس واجب است. و اگر نان‎خور كس ديگر نيست، در صورتي كه فقير نباشد، بايد فطره خود را بدهد.
- كسي كه سيد نيست، نمي‎تواند به سيد فطره بدهد حتي اگر سيدي نان خور او باشد، نمي‎تواند فطره او را به سيد ديگر بدهد.
- فطره طفلي كه از مادر يا دايه شير مي‎خورد، بر كسي است كه مخارج مادر يا دايه را مي‎دهد. ولي اگر مادر يا دايه مخارج خود را از مال طفل برمي‎دارد، فطره طفل بر كسي واجب نيست.
- انسان اگر چه مخارج عيالاتش را از مال حرام بدهد، بايد فطره آنان را از مال حلال بدهد.
- اگر انسان كسي را اجير نمايد و شرط كند كه مخارج او را بدهد بايد فطره او را هم بدهد، ولي چنان چه شرط كند كه مقداري از مخارج او را بدهد و مثلاً پولي براي مخارجش بدهد، واجب نيست فطره او را بدهد.
- اگر كسي بعد از مغرب شب عيد فطر بميرد، بايد فطره او و عيالاتش را از مال او بدهند ولي اگر پيش از مغرب بميرد، واجب نيست فطره او و عيالاتش را از مال او بدهند.
- احتياط واجب آن است كه زكات فطره را به فقراي شيعه اثنا عشري بدهد اگر چه در شهر ديگر باشند و چون نقل اين زكات به شهر ديگر خلاف احتياط است اگر در شهر خودش فقير شيعه نباشد مال خود را به شهر ديگر ببرد و در آنجا به قصد زكات به شيعه بدهد.
- اگر طفل شيعه‎اي فقير باشد، انسان مي‎تواند فطره را با اذن ولي شرعي او به مصرف او برساند، يا به واسطه دادن به ولي طفل، ملك طفل نمايد.
- فقيري كه فطره به او مي‎دهند، لازم نيست عادل باشد ولي احتياط واجب آن است كه به شراب خوار و كسي كه آشكارا معصيت مي‎كند فطره ندهند.
- به كسي كه فطره را در معصيت مصرف مي‎كند نبايد فطره بدهند.
- احتياط واجب آن است كه به يك فقير كمتر از يك صاع كه تقريباً سه كيلو است فطره ندهند. ولي اگر بيشتر بدهند اشكال ندارد.
- اگر از جنسي كه قيمتش دو برابر قيمت معمولي آن است مثلاً از گندمي كه قيمت آن دو برابر قيمت گندم معمولي است، نصف صاع كه معناي آن در مسأله پيش گفته شد بدهد كافي نيست و اگر آن را به قصد قيمت فطره هم بدهد اشكال دارد.
- انسان نمي‎تواند نصف صاع را از يك جنس مثلاً گندم و نصف ديگر آن را از جنس ديگر مثلاً جو بدهد، و اگر آن را به قصد قيمت فطره هم بدهد اشكال دارد.
- مستحب است در دادن زكات فطره، خويشان فقير خود را بر ديگران مقدم بدارد و بعد همسايگان فقير را، بعد اهل علم فقير را ولي اگر ديگران از جهتي برتري داشته باشند، مستحب است آنها را مقدم بدارد.
- اگرانسان به خيال اين كه كسي فقير است به او فطره بدهد و بعد بفهمد فقير نبوده، چنان چه مالي را كه به او داده از بين نرفته باشد، بايد پس بگيرد و به مستحق بدهد. و اگر نتواند پس بگيرد، بايد از مال خودش فطره را بدهد، و اگر از بين رفته باشد، در صورتي كه گيرنده فطره مي‎دانسته آنچه را گرفته فطره است، بايد عوض آن را بدهد، و اگر نمي‎دانسته، دادن عوض بر او واجب نيست و انسان بايد دوباره فطره را بدهد.
- اگر كسي بگويد فقيرم، نمي‎شود به او فطره داد، مگر آن كه از گفته او اطمينان پيدا شود، يا انسان بداند كه قبلا فقير بوده است.
- انسان بايد زكات فطره را به قصد قربت ـ يعني: براي انجام فرمان خداوند عالم ـ بدهد و موقعي كه آن را مي‎دهد، نيت دادن فطره نمايد.
- اگر پيش از ماه رمضان فطره را بدهد صحيح نيست لكن جواز دادن آن در ماه رمضان بعيد نيست، و اگر پيش از رمضان يا در ماه رمضان به فقير قرض بدهد و بعد از آن كه فطره بر او واجب شد، طلب خود را بابت فطره حساب كند مانعي ندارد.
- گندم يا چيز ديگري را كه براي فطره مي‎دهد، بايد به جنس ديگر يا خاك مخلوط نباشد، و چنان چه مخلوط باشد، اگر خالص آن به يك صاع كه تقريباً سه كيلو است برسد، يا آنچه مخلوط شده به قدري كم باشد كه قابل اعتنا نباشد اشكال ندارد.
- اگر فطره را از چيز معيوب بدهد كافي نيست.
- كسي كه فطره چند نفر را مي‎دهد، لازم نيست همه را از يك جنس بدهد و اگر مثلاً فطره بعضي را گندم و فطره بعض ديگر را جو بدهد كافي است.
- كسي كه نماز عيد مي‎خواند، بنابر احتياط واجب، بايد فطره را پيش از نماز عيد بدهد و يا جدا نمايد، ولي اگر نماز عيد نمي‎خواند، مي‎تواند دادن فطره را تا ظهر تأخير بيندازد.
- اگر به نيت فطره مقداري از مال خود را كنار بگذارد و تا ظهر روز عيد به مستحق ندهد، احتياط واجب آن است كه هر وقت آن را مي‎دهد نيت فطره نمايد.
- اگر موقعي كه دادن زكات فطره واجب است، فطره را ندهد و كنار هم نگذارد، بعداً بايد بدون اين كه نيت ادا و قضا كند فطره را بدهد.
- اگر فطره را كنار بگذارد، نمي‎تواند آن را براي خودش بردارد و مال ديگري را براي فطره بگذارد.
- اگر انسان مالي داشته باشد كه قيمتش از فطره بيشتر است، چنان چه فطره را ندهد و نيت كند كه مقداري از آن مال براي فطره باشد اشكال دارد.
- اگر مالي را كه براي فطره كنار گذاشته از بين برود، چنان چه دسترسي به فقير داشته و دادن فطره را تأخير انداخته، بايد عوض آن را بدهد، و اگر دسترسي به فقير نداشته ضامن نيست.
- اگر در محل خودش مستحق پيدا شود، احتياط واجب آن است كه فطره را به جاي ديگر نبرد و اگر به جاي ديگر ببرد و تلف شود، بايد عوض آن را بدهد.


س. زمان پرداخت زكات فطره چه موقع است؟آيا مي‎توان براي رساندن به فقير خاصي پرداخت زكات را به تأخير انداخت؟
ج. زمان پرداخت زكات فطره در روز عيد فطر است و براي پرداخت به فقير خاصي مي‎توان به تأخير انداخت؛ اما نبايد در پرداخت آن مسامحه و كوتاهي گردد و مي‎توانيد به وسيله پست يا بانك براي او ارسال نماييد.

س. آيا مي‎توانيم زكات فطره را براي كمك به مدرسه و مسجد بپردازيم؟
ج. احتياط واجب آن است كه زكات فطره را به فقراي شيعه اثني عشري بدهند اگر چه در شهر ديگر باشند.

س. آيا مي‎توانم با پول زكات فطره، چيزي براي فقير خريداري نمايم؟
ج. خير، زكات فطره‎اي را كه كنار گذاشته‎ايد، بايد به همان صورت به فقير بدهيد و تبديل آن به جنس ديگر صحيح نيست.

س. حكم كساني كه سرباز هستند و شب عيد فطر در آنجا هستند، فطريه، آيا بر پدر آنها واجب است يا خودشان يا مثلاً سپاه يا ارتش يا نيروي انتظامي؟
ج. در فرض سؤال با تمكّن مالي فطره را بايد خودشان بپردازند. والله العالم

س. اگر ميهمان با اجازه صاحب خانه، فطره‌ي خودش را بدهد، آيا از عهده صاحب خانه ساقط مي‌شود؟
ج. ساقط نمي‌شود. والله العالم

س. آيا مي‌شود زكات فطره را به افرادي، مانند فرزند، زن، پدر يا مادر (اگر مستحقّ باشند) داد يا نه؟
ج. زكات فطره را نمي‌توان به واجب النفقه داد. والله العالم

س. پرداخت زكات فطره به كميته امداد، سازمان بهزيستي و بعض مؤسسات خيريه چه صورتي دارد؟
ج. بنظر اينجانب، زكات فطره بنابراحتياط واجب بايد به فقراي شيعه اثني عشري برسد و مكلّف بايد آنچه را تحت عنوان زكات فطره به اينگونه سازمان‌ها و مؤسسات مي‌دهد يقين كند كه بدون كم و زياد در مورد مصرف، (فقير شيعه اثني عشري) صرف شده و الا ذمّه‌اش برئ نمي‌شود. پس براي هر كس اين يقين حاصل شود، اشكال ندارد، مثلاً كسي كه زكات فطره مي‌دهد و سيّد نيست بايد يقين كند كه به مصرف فقير غير سيّد رسيده، نه سيّد و نه مدرسه و مسجد و حسينيه. والله العالم
 

 

 

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
سه شنبه / 15 تیر / 1395
Some Rules regarding Fasting

Rules of Fasting

Sighting moon with optical aid

Q. Is it permissible in the Shari’ah to sight moon with the help of astronomical objects (binoculars, telescopes etc.)?

A. It is objectionable to consider moon-sighting with optical eyes as sufficient. Allah knows best

 

Ascertaining the first day of Month

Q. If the radio channels and media reports inform us that moon is sighted in some city, can the Muslims in the entire country celebrate the next day as Eid or not?

A. If the news given through radio or other channels helps a person reach certainty, he must celebrate that day as Eid. Allah knows best.

 

Unity of Horizon

Q. If the crescent of the holy month of Ramadan is sighted in a city, will the beginning of Ramadan be proven for other cities having a common horizon or a time difference of two hours?

A. It is not farfetched to consider that moon-sighting in one city will be sufficient for other cities as well. Allah knows best.

 

Ascertaining the month with astronomical calculations

Q. Can the new month be proved by astronomical calculations; especially today, if compared to the past times, the facilities they possess are extremely precise and well equipped, and they lay emphasis on the point that the results of their scientific equipment are totally undeniable and accurate today?

A. The astronomical predictions themselves do not hold any value in the Shari’ah. However, for those men who attain certainty of its accuracy, it is mandatory to act upon the certainty they have reached due to the saying of the astronomers. Allah knows best.

 

Day of uncertainty

Q. A person fasts on Yawm As – Shak, i.e. uncertainty between the last day of Sha’ban and the first day of Ramadan, with the intention of last Sha’ban, then he intended to break his fast; and he came to know before Zuhr or before the time of Iftar that the month of Ramadan has begun; in this case, if he intends to fast for the month of Ramadan, will his fasting be valid?

A. In the case mentioned, he should fast with the intention of Ramadan and his fasting is valid. Allah knows best.

 

Long duration of Moon

Q. Can the long duration of crescent be considered as a proof for the second night?

A. Long duration of moon is not a proof for the second night as per the Shari’ah. Allah knows best.

 

Time of Abstention (Imsaak) in the holy month

Q. During the holy month of Ramadan, keeping in mind the extensive cities and the impossibility of allocating the exact time of dawn, we request you to explain your view regarding the time of Abstention (Imsaak) for fasting and the Morning Prayer.

A. It is obligatory to abstain from the moment when a person becomes certain about the rise of the true dawn (Fajr e Sadiq), and he can offer the Morning Prayer; it is not possible to ascertain the accurate and exact time of dawn upon which abstention can be declared mandatory as per the Shari’ah, and which can also be the time for Morning Prayer. As per precaution, one should begin the abstention for fasting slightly before the certain time of the rise of dawn.

 

Baligh (Mature) girls and lack of fasting strength.

Q. The age of maturity for a girl is mentioned as 9 years in the books whereupon the duties become obligatory on her. However the girl is so small that if she fasts, she might become sick, or she cannot fast at all; and there is no other sign of maturity, what is her duty?

A. The age of obligation for girls is nine complete lunar years, but at the same time, ability to perform a duty is kept as a condition. Whoever has the strength to perform it, must perform it, and it is not obligatory for one who lacks the strength. For example, if she doesn’t have the strength to fast, she should not fast and perform its Qadha only after she has the physical strength for doing it. At the same time, offering prayer, observing Hijab and all other duties which she has the strength to perform, she must perform them. Allah knows best.

 

Lack of strength for fasting due to the difficult nature of work and hot weather

Q. What is the ruling for a person whose work is very difficult in nature and he works in an extremely hot city, and it is practically next to impossible for him to fast in the summer?

A. If it is possible for him to cut down the working hours and keep fasting, and not be deprived of its blessings, then he should do it. And if this is not possible for him, then he should travel every morning to the extent of Shari’ah limit and break his fast. This will bring upon him only the Qadha of fasts and he will not be liable to pay its Kaffarah (penalty). Allah knows best.

 

 

Condition of Specifying the fast each day of Ramadan

Q. Is it necessary to specify the intention of the fast each day of the month of Ramadan?

A. It is not necessary to specifically make intentions for every day of the month, instead, it is sufficient if he knows that he is keeping the fasts for the month of Ramadan. Allah knows best

 

 Forgetting the intention of fast in the month of Ramadan.

Q. If a person forgets to make an intention of fasting before the rise of dawn in the month of Ramadan?

A. If he realizes it before Zuhr, he should make the intention; and if he realizes it after Zuhr, his fasting is void. Though, it is necessary for him to abstain (Imsaak) on that day and perform the Qadha of his fast later. Allah knows better.

 

Waking up after the Morning Prayer without the intention of Fasting.

Q. If a person intends to fast but does not wake up before dawn to eat anything and wakes up only for the Morning Prayer, then sleeps again. Is the fasting of such a person correct?

A. Having the intention of fasting is sufficient. Eating something at the time of Suhoor (before dawn) is not necessary. Allah knows better.

Q. Is it permissible for a person who is fasting to take injections or serums?

A. As per recommended precaution, one should refrain from the use of injections and serums. If it becomes necessary for him and he takes injections, his fast will not become void. Allah knows better.

 

Use of Asthma inhalers

Q. Will the use of inhalers and breathing sprays inside the mouth or nose, for the purpose of opening the wind pipes, invalidate a person’s fast or not?

A. In the mentioned case, there is no objection to it if a person helplessly uses it in the daytime and fasts. However, before the arrival of the month of Ramadan next year, if his problem is finished, then as per precaution, he should keep the Qadha of those fasts. If his problem continues to occur till the next Ramadan, then as per precaution, he should give three quarters (one Mudd – 750 grams) of food like wheat or barley, with the intention of Kaffarah to the non – Sayyid poor. There is no Qadha in this case. Allah knows best.

 

Use of nasal drops

Q. What is the rule regarding the use of nasal drops for opening the wind pipes and for treatment purpose, where in some cases, it certainly enters the throat?

A. If it enters the throat, his fast will become invalid. Allah knows better.

 

Brushing teeth

Q. Does brushing teeth invalidate the fast in the month of Ramadan or not?

A. If the water formed from the tooth paste or outside water doesn’t enter the throat and it is put away, there is no objection. Allah knows best.

 

Endoscopy

Q. Endoscopy is an instrument inserted inside the digestive tract to take pictures of the internal organ without inserting anything in the stomach. Does this process invalidate a fast or not?

A. As per precaution, it is objectionable for a fasting person. Allah knows best.

 

Bathroom vapors

Q. If the space of the bathroom is totally occupied by water vapors, will it cause the invalidation of fasting?

A. It will not invalidate the fast. Allah knows best.

 

Chewing gums

Q. What is the rule about chewing gums in the state of fasting?

A. If it does not have any taste that might enter the throat, the fast is valid; however, this act is not suitable for a person fasting, and showing it openly is objectionable. Allah knows best.

 

Smoking

Q. Does smoking cigarettes or Hukka invalidate fast?

As per obligatory precaution, a person who is fasting should not let the smoke of cigarettes of Hukka reach his throat. Allah knows best.

 

Injecting blood

Q. Does the process of injecting blood in the body of a fasting person invalidate his fast?

A. It does not invalidate the fast. Allah knows best.

 

Blood donation

Q. If in the month of Ramadan, 5 cc blood is extracted from our body for the purpose of examination, what is the rule regarding it?

A. There is no objection, but this act is Makrooh if it weakens one’s body. Allah knows best

 

Filling ones tooth

Q. What is the rule regarding the filling of tooth in the month of Ramadan?

A. There is no objection for dentists in filling, removal or extraction of tooth in the month of Ramadan. It is permissible for a person fasting only when he is assured that blood or water which enters the space of mouth due to the instrument, will not be swallowed. Allah knows best.

 

Use of cosmetics.

Q. What is the rule regarding the use of cosmetics, such as cream, kohl etc. in the month of Ramadan for a person who is fasting?

A. There is no objection; but if the kohl is made of a content whose taste or smell will enter the throat, then its usage is Makrooh (undesirable). Allah knows best.

 

Use of contraceptive pills

Q. Is the fasting of those women who use contraceptive pills to prevent the occurrence of menstrual periods in the month of Ramadan valid or not?

A. If the menstrual periods do not occur, their fast is valid. Allah knows best.

 

Use of Enema

Q. Does the use of medicinal enemas, opium enemas or food enemas invalidate the fast?

A. Enema does not invalidate fast. Allah knows best.

 

Sea-diving and fasting

Q. You are requested to mention the Shari’ah law regarding the fasting of those men whose profession is to dive deep under waters.

A. Going under water with diving costumes invalidates one’s fast, as per obligatory precaution. However, if a person goes under water inside a room-like place and his body doesn’t come in contact with water, his fasting will not be invalidated. Allah knows best.

 

Mud and dust in the work atmosphere

Q. My work atmosphere is such that dust particles are scattered in the surrounding and it is not possible for me to distance myself from that surrounding. Though we make use of masks etc. to every possible extent, even then, dust particles enter the throat. What is the rule regarding fasting in such atmosphere?

A. If the dust particles enter the throat, your fast is objectionable. Allah knows best.

 

Fasting of pregnant woman

Q. Is fasting obligatory on a woman who is pregnant from five months?

A. The rule differs from person to person. In general, if a woman attains certainty, by her experience or according to the suggestion of an expert doctor, that fasting can be harmful for herself or her fetus, she should not fast. Allah knows best.

 

Incorrect recitation of Quran

Q. In the month of Ramadan, if a person recites Quran incorrectly, will it harm his fast? (Wrong pronunciation of words)

A. If you intentionally do not recite the Quran incorrectly, there is no objection. Allah knows best.

 

Mistakenly ascribing the tradition of an infallible towards any other infallible.

Q. If a person mistakenly ascribes the words of an infallible towards another infallible, for example, instead of saying that the holy Prophet (peace be upon Him and His Progeny) said this, we say that Amirul Momineen (peace be upon Him) said it; does this act result in the invalidation of fast? What is the rule if this act is done knowingly?

A. There is no objection if it is done mistakenly; but if the same is done intentionally and with attention, it means ascribing a saying towards a particular noble leader even after knowing that he hasn’t said it, then it will be deemed false allegation. This will both invalidate his fast and make him liable to perform Qadha and give away Kaffarah (penalty) also. Allah knows best.

 

Travelling in the month of Ramadan

Q. Is it permissible for a person to travel in the month of Ramadan only with the intention of escaping fast?

A. There is no objection, but this act is deemed Makrooh (undesirable). Allah knows best.

 

Compliance of wife from the husband in the issue of hometown

Q. A woman gets married and goes away from her actual hometown to another city; however, she visits her actual hometown to meet her relatives several times in a year. What is the rule regarding his prayers and fastings?

A. In the questioned case, where the wife lives along with her husband in her husband’s hometown, it will be deemed as natural forsaking of her hometown. Hence, in the case of visiting her hometown to meet the relatives, she will be regarded as a traveler. Allah knows best.

 

Iftar and the limit of Tarakkhus.

Q. Can a person travelling in the month of Ramadan break his fast in his house or should he pass the limit of Tarakkhus and then break his fast?

A. He should not break his fast unless he reaches the limit of Tarakkhus. Allah knows best.

 

Unintentional ejaculation of semen

Q. If a person who is fasting, without the intention of ejaculating semen, does playful act with his wife and it results in the ejaculation of semen; how will his fast be deemed if he certainly knew that ejaculation of semen will take place?

A. In the mentioned case, where the person who is fasting knows that if he plays with his wife, ejaculation of semen will take place, if semen is ejaculated, he should observe
Qadha fast and pay Kaffarah (penalty) as well. Allah knows best.

 

Masturbation in the state of fasting

Q. If a person who was not aware that masturbation invalidates fast and that it is a major sin, performs this act, will his fast be deemed invalid? If it is invalid, should he pay penalty (Kaffarah) or not?

A. In the mentioned case, he should observe the Qadha of that fast, but he isn’t liable to pay penalty. However, if his ignorance is culpable (Muqassir), i.e. at the time of performing this act, if he gave the possibility that this act could be Haram but he didn’t inquire, or if he knew that masturbation is Haram and sinful, but didn’t know that it invalidates one’s fast also; in such a case, if this act is done in the daytime of the month of Ramadan, then he will have to pay collective penalty (Kaffarah). Allah knows best.

 

Certainty regarding ejaculation while sleeping

Q. A person sleeps one hour prior to the Morning Azan in the month of Ramadan, and he certainly knew that ejaculation will take place if he sleeps, then he doesn’t wake up before the Azan. Can he sleep or not? And if he sleeps and ejaculation takes place, and Azan is delivered, will his fast be considered valid or not?

A. In the mentioned case, if the abovementioned person certainly knows that ejaculation will take place if he sleeps before the Morning Azan, then as per obligatory precaution, he shouldn’t sleep. Allah knows best.

 

Sleep ejaculation (Ihtelaam) in the month of Ramadan.

Q. In the month of Ramadan, if a person sleeps after the Morning Azan and becomes Junub (ejaculation takes place), will his fast invalidate or not? If it does not invalidate, can he perform the Janabat Ghusl (bath) after the Zuhr Azan or the Maghrib Azan or not?

A. His fast will not become invalid, but it is mandatory for him to perform Ghusl (bath) for the Zuhr prayer. Allah knows best.

 

Arrival of the time of Azan while performing Ghusl

Q. A person wakes up before the Morning Azan in the state of Janabat, then begins to perform Ghusl (bath). In the middle of the Ghusl, Azan is delivered. Will his fast be deemed valid? Will he be liable to pay penalty (Kaffarah) or not?

A. There is no objection and his fast is valid. Allah knows best.

 

Penalty for delay

Q. If a person does not keep the Qadha fasts of the previous year’s Ramadan till the arrival of the next year’s Ramadan, what is the ruling for him?

A. In the mentioned case, apart from keeping the Qadha fasts, he should give away one Mudd (750 grams) of wheat, barley or flour with the intention of Kaffarah (penalty) to a non-Syed poor. It is not sufficient to pay its equivalent cash. The food product itself should be given. One can give away all the penalties to the same poor man. Allah knows best.

 

Giving the money of Kaffarah (penalty) to the poor.

Q. Is it permissible to give away the money of Kaffarah to the poor and say: make the intention of Kaffarah before eating the food you eat daily; or is it compulsory that the poor should buy food from the same amount of money?

A. In the mentioned case, the poor should buy food for the person paying penalty from that money itself, and on his behalf, he should regard the food as Kaffarah. Allah knows best.

 

Zakat Al – Fitrah for army personnel.

Q. What is the rule regarding a person who is an army personnel and who spends the eve of Eid Al – Fitr there itself. Is the Fitrah obligatory on his father, or upon the person himself, or for instance, on the force, army or military?

A. In the mentioned case, if they are financially capable of giving away alms, they should give their own Fitrah. Allah knows best.

 

Guest paying Fitrah and nullification of obligation for the host.

Q. With the permission of the host, if a guest pays his Fitrah himself, will its obligation be nullified for the host?

A. It will not be nullified. Allah knows best.

 

Giving Zakat Al – Fitrah to the person whose Nafaqah is obligatory.

Q. Is it permissible to give away Zakat Al – Fitrah to persons like son, wife, father or mother (if they are deserving) or not?

A. It is not permissible to give away Zakat Al – Fitrah to those whose Nafaqah is obligatory on a person. Allah knows best.

 

Giving away Zakat Al – Fitrah to institutions.

Q. What is the rule regarding the payment of Zakat Al – Fitrah to the aiding committees, welfare organizations and some charitable institutions?

A. In my view, as per obligatory precaution, Zakat Al – Fitrah should reach a Shia poor who believes in twelve Imams. The person paying Zakat Al – Fitrah to such organizations and committees should attain certainty that his money has been spent, not more or less on the appropriate person (Shia Ithna Ashari). If this is not the case, then his obligation will remain intact. Hence, there is no objection for the person who attains this certainty. For example, if the person paying Zakat Al – Fitrah is not Sayyid, he should make sure that his charity is being spent on a non – Sayyid poor; not on a Sayyid, school or Hussainiya etc. Allah knows best.

 

Zakat Al – Fitrah for the Fetus inside a mother’s womb

Q. Is it obligatory to pay Zakat Al – Fitrah for the fetus inside a mother’s womb?

A. It is not obligatory. Allah knows best.

 

 

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
چهارشنبه / 26 خرداد / 1395

صفحه‌ها

  • of 4
اشتراک در RSS - موضوعی