قيام مقدّس حضرت سيدالشهداء عليه السلام يكي از حوادث بي‎نظيري است كه هنوز پس از سيزده قرن و اندي، اسرار و عظمت و اهميت آن كاملاً آشكار نگشته، و فروغ تجلّي آن خاموش نشده، و انوارش همواره در تابش و لمعان، و راهنماي بشريت بسوي آزادي، و عزّت نفس، و...
پنجشنبه: 27/مهر/1396 (الخميس: 28/محرم/1439)

امام حسین علیہ السلام کی عزاء میں کالے کپڑے پہننے سے متعلق سوال

بسم الله الرحمن الرحيم

محترم جناب آيت الله العظمی صافی گلپايگانی ‌مدظله العالی صاحب

السلام عليكم و رحمة الله و برکاتہ ؛

ہم سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایّام عزاء کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں ۔ کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے لئے ماہ محرم میں پورا مہینہ کالے کپڑے پہننا وارد ہوا ہے یا یہ بطور مطلق کراہت رکھتا ہے ؟

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله وبرکاتہ ؛
 سرور و سالار شہیداں حضرت امام حسين عليه آلاف التحية و الثناء کی عزاء کے عنوان سے کالے کپڑے پہننا مطلوب ہے ، اگرچہ محرم الحرام میں پورا مہینہ کالے کہڑے پہنے جائیں ۔ و الله العالم
لطف الله صافی
3 محرم الحرام سنہ 1433 ہجری 

 

موضوع:

Wednesday / 4 October / 2017
مجالس عزاء میں عَلم سے استفادہ کرنے سے متعلق سوال

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمی صافی گلپايگانی ‌مدظله ‌العالی
السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ؛
سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء میں عَلم سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

سرور و سالار شہداں حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی مجالس عزاء میں عَلم سے استفادہ کرنا تعظیم شعائر شمار ہوتا ہے ، بشرطیکہ یہ کسی ذی روح مجسمہ ( کہ جو حرام ہے) پر مشتمل نہ ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ و الله العالم
لطف الله صافی
یکم  محرم الحرام سنہ ۱۴۳۳ ہجری 

موضوع:

شمشمی کیلنڈر کے حساب سے عاشورائے حسینی علیہ السلام کے انعقاد کے متعلق سوال اور آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم فقيه حضرت آيت الله العظمي صافي صاحب ادام الله ظلكم علي رؤوس المسلمين(خدا مسلمانوں کے سروں پر آپ کا سایہ قائم رکھے)

سلام عليكم؛

کچھ عرصہ سے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ عاشورا کے عظیم واقعہ کی سالانہ یاد شمسی کیلنڈر کے مطابق بھی منا سکتے ہیں اور اس دن عزاداری کر سکتے ہیں۔ نیز اس دن کے مخصوص اعمال بھی انجام دے سکتے ہیں۔میری یہ خواہش ہے کہ آپ مؤمنین سے اس شبہہ کو رفع فرمائیں اور اس بارے میں اپنا نظریہ بیان فرمائیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

کسی بھی دن ،کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب کو بیان کرنے اور عزداری برپا کرنے کا اجر و ثواب ہے لیکن عاشورا  کے دن (کہ جس کے لئے روایات میں اپنے خاص احکام ہیں) کے عنوان سے عزاداری کرنا اور شعائر حسینی کی تعظیم کرنا ہجری سال کے مطابق ۱۰ محرم الحرام کو ہی معتبر ہے ۔ جو عظیم آثار و برکات کا منشأ و منبع ہے ۔

 
لطف الله صافي

25 ذی القعده سنہ 1432 ہجری 

 

موضوع:

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایّام میں عزاداری کے متعلق ايک استفتاء

 

 

 

بسمہ تعاليٰ 

مرجع عاليقدر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني مد ظلہ العالي 
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ 
نبي مكرم اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي تنہا دختر حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا كي المناك شہادت پر تسليت پيش كرتے ہوئے ہمارا سوال يہ ہے كہ چونكہ ہميں شہادت كي صحيح تاريخ كا علم نہيں ہے تو ايسي صورت ميں كن ايام ميں آپ كي شہادت پر عزاداری كي جائے ؟ نيز آپ كي شہادت پر عزاداری کرنے كا بہترين طريقہ كيا ہے ؟

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم 

عليكم السلام و رحمۃ اللہ وبركاتہ 
حضرت صديقہ كبريٰ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا كي شہادت كے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہيں ليكن جو علماء  تاریخ كي نظر ميں زيادہ مورد توجہ رہي ہے وہ فاطميہ اوّل( یعنی۱۳ جمادي الاول) اور فاطميہ دوّم(یعنی ۳جمادي الثانی)ہے ۔ بہتر ہے كہ شيعہ حضرات ۱۳ جمادی الاوّل سے لے كر ۳جمادی الثانی تك عزاداري كريں ، مجالس برپا كريں اور اہلبيت عليہم السلام سے اپني عقيدت و محبت كا اظہار كريں ، اور ايسے امور انجام دینے سے گریز كريں جو ايام شہادت كے لئے مناسب نہ ہوں ۔ عزاداری كا بہترين طريقہ يہ ہے كہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا كے فضائل و مصائب بيان ہوں ، آپ كي اخلاقی اور عملی سيرت كو پيش كيا جائے ، اور بالخصوص ہر دور میں یہ بیان کیا جانا چاہئے کہ کس طرح سے حضرت فامہ سلام اللہ علیہا نے امام مظلوم اميرالمومنين علي عليہ السلام كے حق كا دفاع کیا۔

انشاء اللہ مومنين كرام قرآن و اہلبيت علیہم السلام سے متمسك رہ كر بہترين طريقہ سے سیدۂ زہراء سلام اللہ علیہا كي خدمت ميں عرض ادب كریں اور بالخصوص ديندار خواتين اپنے حجاب ، عفت اور پاكدامني كی حفاظت کرتے ہوئے آنحضرت كو اپنے لئے بہترين نمونہ عمل قرار دیں۔
 

موضوع:

سحر و جادو کے متعلق ایک سوال کا جواب

 

بسمه تعالي

محضر مبارک مرجع عاليقدر شيعيان عالم حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني مدظلہ العالي؛

السلام علیکم

 چند ماہ قبل میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو اس بات کا دعويدار تھا کہ اس کا جنات سے رابطہ ہے ، اس نے مجھ سے کہا کہ ميري زندگي کي تمام مشکلات اس وجہ سے ہيں کہ مجھ پر جادو کر ديا گيا ہے اور اس نے مجھے ايک دعا بھي تعلیم دی  اور مجھ سے یہ عہد کیا کہ اس سے مجھ پر ہونے والا طلسم اور جادو ختم ہو جائے گا ۔ اس نے چند اذکار و اوراد پڑھنے اور شيطان سے متوسل ہو کر اس کي مدح و ستائش کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ اب مجھ پر ہونے والا طلسم اور جادو ختم ہو گیا ہے۔ اب میرا یہ سوال ہے کہ طلسم اور جادو کی کوئي حقيقت ہے ؟ اور اگر اس کی کوئی حقيقت نہيں ہے بلکہ صرف دعویٰ  ہے تو پھر ايسے افراد کے ساتھ رابطہ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ شکريہ 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة‌الله

 اگر سحر و جادو کی کوئی حقیقت ہو بھی تو موجودہ دور میں جو لوگ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ،وہ صرف اس کے دعویدار ہی ہیں اور کسی پر طلسم اور جادو نہیں ہوتا اور مؤمن کو ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔

اس بات کی جانب توجہ رہے کہ انسان کی شخصیت کو بنانے میں معاشرت اور ہمنشینی کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے لہذا مکمل دقت اور توجہ کرتے ہوئے ایسے افراد کی صحبت اور ہمنشینی اختیار کریں  کہ جن کی صحبت سے آپ کو روحانی و معنوی فائدہ ہو۔علمائے اعلام ، اہل تقويٰ ،زاہد ، پرہيزگار، ضعیف العمر اور تجربہ کار لوگوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے سے عقل، دين اور ايمان ميں اضافہ ہوتا ہے  اور اس کے بر خلاف فکري اعتبار سے منحرف لوگوں کي صحبت بہت ہي مضر اورنقصان دہ  ہوتی ہے ، اور انسان کی روح اور معنوي امور کے لئے برے لوگوں کي صحبت کا خطرہ زہر سے بھی زيادہ ہے ۔ 

اس لئے ايسے افراد کےمحافل اور جلسات ميں شرکت  کرنے سے   سخت پرہيز کريں اور  اس کے برخلاف مذہبي مواعظ  پر مبنی محافل و مجالس ،علماء کی صحبت، دعا  وتلاوت قرآن کی محافل اور ایسی مجالس کو غنیمت شمار کریں کہ جن میں فضائل و مناقب اہلبيت علیہم السلام  بيان ہوتے ہوں ۔ مومن کو چاہئے کہ وہ  اپني دعاؤں کي قبوليت کے لئے اہلبيت عصمت و طہارت علیہم السلام کے دامن سے متوسل ہو اور خداوند سبحان سے اپني حاجت طلب کرے ۔  انشاء اللہ کامیاب و کامران رہیں۔ 

۱۵ رجب المرجب ۱۴۳۲ ہجری

موضوع:

ٹیٹو (Tattoo) بنوانے اور مصنوعی ناخن لگوانے کا شرعی حکم

 

س۔ عورتوں کے لئے مصنوعی ناخن لگوانے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ ایسے مصنوعی ناخن لگوانا شرعی طور پر جائز نہیں ہیں جنہیں وضو یا غسل کرتے وقت نکالا نہ جا سکتا ہو لیکن اگر  کوئی یہ عمل انجام دے چکا ہو( یعنی کسی نے ناخن لگوا لئے ہوں) تو  اس صورت میں اگر ممکن ہو تو انہیں نکال دے تا کہ معمول کے مطابق وضو اور غسل انجام پا سکے اور اگر انہیں نکالنا ممکن نہ ہو  تواسي حالت میں جبیرہ  کے عنوان سے وضو اور غسل انجام دے اور احتیاط کے طور پر تیمم بھی کرے۔

 

س) ہونٹوں یا بھنووں پر ٹیٹو(Tattoo) بنوانے کا کیا حکم ہے؟

ج ۔  اگر  مذکورہ عمل وضو یا غسل کے دوران پانی  كھال تك پہنچنے ميں مانع نہ ہو تو اس میں كوئي حرج نہيں ہے البتہ چونكہ يہ عمل زینت شمار ہوتا ہے لہذا اسے نامحرم سے چھپانا ضروری ہے ۔

 
 

موضوع:

عيد نوروز کے متعلق سوال اور آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا جواب

عيد نوروز کے متعلق سوال اور آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا جواب

 

بسمه تعالي

مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله العالي.
سلام عليكم؛
آپ سے گذارش ہے کہ نوروز کی شرعی حیثیت بیان فرمائیں؟اور کیا اسے عید کا عنوان دے سکتے ہیں؟

 

بسم الله الرحمن الرحيم
 

عليكم السلام ورحمة‌ الله و برکاتہ

عید الفطر، عید الضحی ،عید غدیر، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی ولادت کے ایّام اسلام کی بزرگ، مذہبی اور شرعی عیدیں ہیں۔

اگر مؤمنین عید نوروز کے دن بھی دینی و مذہبی پروگرام (جیسے مؤمن بھائیوں سے ملاقات کرنا،بیماروں کی عیادت کرنا،ضرورت مندوں کی مدد کرنا)تشکیل دیں اور برائی پھیلانے والے امورانجام نہ دیں تو یہ مناسب ہے۔

حدیث میں وارد ہوا ہے : «كُلُّ‏ يَوْمٍ‏ لَا يُعْصَى‏ اللهُ فِيهِ فَهُوَ يَوْمُ عِيدٍ»(1)؛یعنی جس دن خدا کی معصیت انجام نہ دی جائے تو وہ عید کا دن ہے۔

نوروز یعنی روز نو(نیا دن)، بہار کا پہلا دن اور یہ خود موسم بہار کی طرح واقعی و تکوینی امر ہے اور اس کا جمشید سے کوئی ربط نہیں ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کا وجود جمشید سے کتنے ہزار اور کتنے ملین سال پہلی تھا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: «اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها»(2)

نیزاحتمال کہ اس دن غسل یا کوئی بھی دوسری عبادت اسی مناسبت سے ہو۔ واللہ العالم۔

انشاء اللہ کامیاب و کامران رہیں۔

                                                                                                                                     لطف الله صافي/ 23 ربيع الثاني1433
 

 


۱۔ نهج البلاغة؛ حكمت428.
۲۔ سوره حديد؛ آيه 17.
 

 

موضوع:

حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی کے جوابات

حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی کے جوابات

اشاره: یکم تیر ماہ کے دن کو پہلوی فوج کی جانب سے حجاب کو ختم کرنے کے خلاف مشہد کے شریف لوگوں کے قیام  کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله الوارف کو حال میں ہی مشہد مقدس میں ایک جوان لڑکی نے خط لکھا کہ جس میں اس نے حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات پوچھے کہ جنہیں ہم قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

اس خط کا مضمون اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني کا جواب درجہ ذیل ہے:

 

بسم الله الرحمن الرحيم

محترم اور عالیقدر مرجع حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني!

السلام عليكم؛

میں فاطمہ ہوں اور میری عمر ۲۱ سال ہے۔ میں نے مشہد میں کئی بار آپ کو دیکھا  اور میں آپ کو ایک معنوی باپ کی نظر سے دیکھتی ہو۔ میں ایک بے حجاب لڑکی ہوں۔ اور حقیقت میں میں یہ نہیں جانتی کہ حجاب کیا ہے؟ ہم پر کیوں حجاب واجب ہے؟ کیوں حجاب کی اتنی اہمیت ہے؟ کیا چارد یعنی کپڑے کا ایک ٹکڑا اتنا مقدس اور اہمیت کا حامل ہے؟ ۹ سال کی لڑکی کو چادر کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟ چادر اور حجاب صرف ہمارے دین میں ہی کیوں ہے؟  کیا دوسرے پیغمبر یہ نہیں جانتے تھے؟!

کیا پردے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس سماج اور معاشرے میں میرا وجود نہیں ہے؟ پس میں کس طرح اس سماج کے لئے مفید ہو سکتی ہوں؟ آخر کیوں ہم عورتیں ہی بعض مردوں کے بیمار دل کا تاوان ادا کریں؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ ملک میں حجاب اختیاری ہو؟

 براہ کرم مجھے نصیحت فرمائیں اور میرے سوالات کا جواب عنائت فرمائیں کہ میں حقیقت کی جستجو میں ہو۔

میں آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

میری بیٹی! ان شاء اللہ ہمیشہ تندرست اور سعادتمند رہو اور ہمیشہ نیک اور درست افکار کو پروان چڑھاؤ ۔

میں نے آُپ کا خط پڑھا ۔ میں آپ کے باطن کی بیداری، پاک معنویت اور فطرت کی اصلیت کے بارے میں پرامید ہوں۔

اس خط میں آپ حقیقت کی جستجو میں ہیں اور نصیحت کی خواہاں ہیں۔ حقیقت ظاہر و آشکار ہے  اور جس چیز کی طرف بھی نگاہ کریں ،ذرّہ سے کہکشاں، زمین سے آسمان اور بڑے اور چھوٹے حیوانات کہ جو ظاہری آنکھ سے بہ مشکل دکھائی دیتے ہیں  ، آب و ہوا، سبز وشاداب کھیت، درخت، بری و بحری حیوانات اور یہ انسان، یہ ہم اور تم،  اور ہمارے بدن میں کام کرتی  ہوئی یہ مشینری کہ جس میں ہمارا کوئی کردار نہیں، یہ تمام پھول، یہ سب پھل اور یہ سب کچھ انسان کو نصیحت کر رہے ہیں؛ یہ سب حق و حقیقت کا پتہ بتا رہے ہیں کہ غافل نہ بنو، غفلت سے کام نہ لو، بیدار اور ہوشیار ہو جاؤ۔ اس کتاب خلقت کو پڑھو اور اس سے درس اور نصیحت لو کہ جس میں لاکھوں ،کروڑوں بلکہ بصیرت ومعرفت کے بے شمار درس ہیں۔

جان لیں کہ آپ کو ان ظریف معانی اور حکمت سے لبریز اس وجود کے مقابلہ میں آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ جس قدر ہو سکے جہالت کے پردوں کو چاک کریں اور مزید روشنی و نور کی جانب گامزن رہیں۔

حجاب،جنسی مسائل اور جنسیت کا کسی جوان لڑکے یا لڑکی کے احساسات کے تحت تجزیہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان مسائل کو غیر احساساتی نظر سے دیکھا جائے۔

ان مسائل، مرد اور عورت کے تعلقات اور حجاب؛ ان سب کا عقل اور مصلحت کی نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے۔ یہاں بہت سی اچھائیاں اور برائیاں دکھائی دیں گی۔ عورت کی کرامت و شخصیت وہ سب سے بڑی مصلحت ہے کہ جس کا خیال رکھا جانا چاہئے۔

عقل اور اسلام کی مقدس شریعت کے حکم کی رو سے حجاب،پردہ، چادر اور دو جنس مخالف کے درمیان جدائی کی رعائت کی جانی چاہئے اور یہ سب چیزیں سماج کو فساد اور خاندانوں کو تباہی سے بچاتی ہیں۔حجاب؛عورت کے لئے  مضبوط ڈھال اور محکم قلعہ ہے۔

معاشرے میں عورت اور مرد کی طبیعی صورتحال کے حساب سے عمل کیا جائے کیونکہ دونوں صاحب شرف ہیں، دونوں کی رعائت کی جائے تا کہ سماج صحیح نظام کے تحت چل سکے۔

امور خانہ داری عورت کے اشرف کاموں میں سے ہے۔ خانہ داری کے امور انجام دینے والی عورت بیکار نہیں ہے۔مرد گھر سے باہر کے سخت مشاغل اور امور انجام دیتا ہے جو جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ سخت اور زحمت والے کام مرد کے ذمہ ہیں۔

بعض افراد کم علمی کی بناء پر مغرب،یورپ اور امریکہ کی جانب ظاہری نگاہ کرتے ہیں اور ایک عورت کو دیکھتے ہیں کہ وہ مثلاً وکیل یا وزیر ہے ، لیکن وہ مختلف اقتصادی محرومیوں کی شکار ہزاروں عورتوں کو نہیں دیکھتے۔

آج مغرب میں فساد، بے حجابی اور عورت و مرد کے تعلقات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ لوگ اس کی روک تھام سے عاجز  آ چکےہیں اور  اس کے بہت مضر اور تخریب کارانہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔مغرب میں مختلف اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ہر شعبہ اور بالخصوص فوج میں مرودوں کی اذیت کی وجہ سےخواتین  غیر معمولی تکالیف اور مشکلات کا شکار ہیں۔ انہیں انسانی زندگی اور آرام و سکون میسر نہیں ہے۔شناختی کارڈ میں اڑتالیس فیصد بچوں کا اندراج باپ کے بغیر ہوتا ہے۔

ہمیں اسلام کی تعلیمات پر افتخار کرنا چاہئے۔ سب سے سالم سماج اور معاشرہ’’ اسلامی معاشرہ‘‘ ہے۔ جنسی تفکیک و جدائی اسلامی سماج کے لئے بنیادی شرط ہے ۔چادر، حجاب، محرم اور نا محرم کی رعائت کرنا، بعض کاموں کا عورتو ں سے مختص ہونا اور بعض امور کا مردوں سے مختص ہونا،یہ سب اسی ضروری جنسی تفکیک ،ترتیبات اور قواعد و ضوابط کی رو سے ہے۔

اسلامی احکام میں عورت اور مرد کے جسمانی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے  اور اسلام میں ایسا کوئی حکم یا  دستور نہیں  ہے کہ جس میں صرف ایک جنس کو دوسری جنس  پر برتری دی گئی ہو۔ سب پیغمبروں نے حجاب کا حکم دیا ہے اور یہ صرف اسلام سے مخصوص نہیں ہے اور اس  حکم میں عورت اور مرد کے درمیان تلازم ہے۔

انہی ایّام میں اٹلی کے ایک وزیر کو تجویز پیش کی گئی کی کہ مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی عائد کی جائے تو اس نے جواب دیا کہ جو عمل  حضرت مریم انجام دیتیں تھیں ،میں اس عمل سے کسی کو منع نہیں کر سکتا!یعنی حضرت مریم بھی مکمل طور پر با حجاب تھیں۔

میری بیٹی!حجاب، عورت اور مرد کی توانائیوں، عقلی اعتبار سے حجاب کا پسندیدہ ہونا، اور با کرامت سماج کی تشکیل میں ان دونوں کے کردار کے متعلق شیعہ و سنّی، مسلمانوں اور کافروں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔

میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ اپنی حقیقی سعادت چاہتی ہیں تو اپنے پورے وجود سے حجاب اور ہر قدم پر اسلام کی عالی تعلیمات کی رعائت کریں۔

خداوند متعال آپ کو حفظ و امان میں رکھے اور آپ کی تمام عاقلانہ اور جائز خواہشات پوری فرمائے۔

                                                                                                                                         والسلام

                                                                                                                               19شعبان المعظم1433

                                                                                                                              لطف الله صافي/مشهد مقدس

موضوع:

شادی کے لئے استخارہ کرنے کے متعلق سوال

 

شادی کے لئے استخارہ کرنے کے متعلق سوال

بسمه تعالي
مرجع عاليقدر حضرت آيت الله العظمي صافي‌دام ظله الشريف

السلام علیکم؛
 کچھ عرصہ سے میں نے شادی کرنے کا ارادہ کیا اور بہت بار خواستگاری کے لئے گیا لیکن ہر بار مورد نظر فرد سے بات کرنے کے بعد استخارہ برا آتا ہے۔آپ سے میری گذارش ہے کہ کیا اس  سلسلہ میں استخارہ کرنے کی کوئی شرعی حیثیت  ہے یا نہیں؟

آپ کی رہنمائی کے سلسلہ میں ہم آپ کے مشکور ہیں۔
 
 
 
 
بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

کلی طور پر استخارہ وہاں کیا جاتا ہے کہ جہاں انسان کسی کام کو انجام دینے کے سلسلہ میں تذبذب کا شکار ہو اور تحقیق، غورو فکر اور اہل فن سے مشورہ کرنے کے باوجود بھی اس کا شک و تردید برطرف نہ ہو ۔لیکن شادی کے سلسلہ میں چونکہ ابھی تک مورد نظر فرد کے متعلق بطور کامل تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس بارے میں مشورہ کیا گیا ہے لہذا یہ استخارہ کرنے کا مورد نہیں ہے۔ نیز کلی طور پر استخارہ سے کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

                                                                                                                                                                                       والله العالم                                           
                                                                                                                                                                                   لطف الله صافي

 

موضوع:

وسواس کے متعلق سوال کا جواب

وسواس کے متعلق سوال کا جواب

بسمه تعالي

مرجع عاليقدر حضرت آيت‌الله العظمي صافي گلپايگاني‌مدظله‌العالي

السلام علیکم:

مہربانی فرما کر شیطانی وسواس کو دفع کرنے کے لئے کوئی ذکر بیان فرمائیں اور بالخصوص اگر کوئی انسان فکری وسواس میں مبتلا ہو تو اسے کیا  کرنا چاہئے؟ شکریہ

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة‌الله

یہ حالت عارضی ہے اور ان شاء اللہ وسواس  کی طرف توجہ نہ کرنے کی صورت میں یہ حالت برطرف ہو جائے گی۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ خدا سے توکل اور اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے توسل کے ذریعہ وسواس کا سد باب کرے ۔یہ ذکر مبارک (لااله الَّا الله) اور (لاحول و لاقوة الاّٰ بالله العلي العظيم) کا زیادہ سے زیادہ ورد کرے اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ صلوات پڑھے،ہر دن قرآن کی تلاوت کرنے کی کوشش کرے اور ہمیشہ باوضو رہے۔ ان شاء اللہ یہ حالت زائل ہو جائے گی۔

                                                                                      4رجب المرجب1432

 

موضوع:

صفحات

Subscribe to RSS - جدیدترین