در کتاب شريف و گرانسنگ عيون اخبار الرضا عليه آلاف التحیة و الثناء، محدّث جليل و شیخ اعظم صدوق رضوان‌الله تعالي عليه از عبدالسّلام بن صالح هروي روايت مي‌کند که امام رضا علیه السلام فرمود: «رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی...
شنبه: 1399/04/14
امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات

بسم الله الرحمن ارحیم

حضرت امام صادق علیہ السلام نے دوسری صدی ہجری کے پہلے حصہ میں ایک ایسے مدرسہ کا افتتاح کیاکہ اسلام میں اس زمانے تک اس کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور اس کے بعد بھی اس جیسے مدرسہ کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ وہ امام صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ہی تھا؛ جس نے دنیا کو علوم قرآن، فقہ، کلام، کیمیا وغیرہ کے عظیم علماء سے نوازا۔

شیعہ فقہ کہ جس کے ضمن میں ہزاروں قانونی و تعلیمی شقیں ہیں نیز اس میں علمی اسلامی اخلاق کے آئین ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر یا تقریباً تمام موارد میں امام صادق علیہ السلام کے بے پایان علوم کے مقروض ہیں۔

حج جیسے احکام میں (جو اسلام کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے اور جس کے فلسفہ کے ضمن میں اعلٰی حکمتیں موجود ہیں)دنیائے اسلام امام صادق علیہ السلام کے بحر العلوم سے مسیفیض ہوئی اور ابو حنیفہ کے بقول یہ سب امام جعفر صادق علیہ السلام کے طفیل ہیں۔ اہلسنت کی کتابوں میں سے صحیح مسلم میں امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے کہ  جس سے احکام حج کی چارسوشقیں مأخوذ کی گئی ہیں  اور اہلسنت اس کی پیروی کرتے ہیں۔

جی ہاں!اس زمانے میں اسلامی ممالک کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام کو بہترین فرصت میسر آئی کہ آپ سب سے بڑی علمی نہضت کی قیادت فرمائیں اور ایک ایسے مدرسہ کا قیام عمل میں لائیں کہ جس میں اسلام کے سب سے مشہور و معروف علماء  آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے ہوئے احادیث اخذ کریں اورآپ سےتعلیم حاصل کریں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے علوم تمام ممالک اور اسلام کے تمام علمی حلقوں پر محیط تھے۔ عراق، حجاز، خراسان اور شام کے علماء نے آپ سے علم حاصل کیا۔ علمی مشکلات اور اسلامی مسائل کے حل کے لئے صرف امام صادق علیہ السلام ہی حلال مشکلات تھے۔

جو بات زیادہ قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام  کی رہبری و قیادت اسلامی علوم میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مختلف قسم کے علوم جیسے علم نجوم، علم ہیئت، ریاضی، طب، تشریح، معرفۃ النفس، کیمیا، علم نباتات اور دوسرے علوم میں بھی آپ نے شاگردوں کی تربیت کی کہ جو ان علوم میں مشہور و معروف اور اپنی مثال آپ  ہیں۔صفحۂ تاریخ میں باقی رہ جانے والی آپ کی کتابیں، مضامین و مقالات اور احادیث مسلمانوں کی کتابوں کو زینت بخشتی ہیں، جیسے کتاب ’’توحید مفضل‘‘، رسالۂ  اہلیلجہ، ملحدین کے ساتھ آپ کے مناظرہ۔یہ سب اس بات کے شاہد ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ایک یونیورسٹی کی مانند تھا کہ جس میں مختلف علوم کے شعبہ جات تأسیس ہوئے  اور ہر شعبہ نے اپنے مخصوص علوم کے متعلق درس،مباحثہ اور تحقیق پر کام کیا۔

 

مثال کے طور پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جو علوم مسلّم طور پر تدریس فرمائے ان میں سے ایک علیم کیمیا تھا اور آنحضرت کی عظیم الشأن یونیورسٹی سے جابر بن حیان جیسے غیر معمولی شاگرد فارغ التحصیل ہوئے ۔ اگر ہم جابر بن حیان کے زمانے سے اب تک صرف انہی نتائج کے بارے میں تحقیق و جستجو  اور علمی بحث کرتے اور ان سے استفادہ کرتے جو اس شخصیت نے امام صادق علیہ السلام حاصل کئے  اور اسی طرح اگر ہم نے ایسے دوسرے علوم حاصل کئے ہوتے کہ جن کی آج کے متمدن  اور ترقی یافتہ سماج کو ضرورت ہے تو ہم مادی دنیا میں بھی مغرب ،یورپ اور امریکہ کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اسلام اور اس کے عالی اصولوں اور علماء کی کوششوں کی برکات کا نتیجہ ہے۔

 

امام صادق علیہ السلام کے شاگرد اسلامی علوم، طب، تشریح، علم نجوم، علم ہیئت، علم فلکیات، ماحولیات، طبیعیات، ریاضیات، کیمیا، فلسفہ، منطق، اخلاق، تاریخ، ادب، شعر، معرفۃ الحیوان، علم نباتیات،اسلحہ سازی کی صنعت اور ان کے علاوہ دوسرے علوم کے ماہر تھے۔

جابر بن حیان وہی شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے علمی تجربات، اشیاء کی مقدار کو معین کرنے کے لئے میزان استعمال کئے اور انہوں نے ایسی چھوٹی چھوٹی مقداروں کو معین کیا کہ جنہیں ہمارے زمانے میں حساس اور دقیق میزان کے بغیر معین نہیں کر سکتے اور چھ سو سال بعد یورپ میں کیمیا کے علماء نے اپنے تجربات میں ان میزان سے استفادہ کیا۔

یہ وہی دانشور ہے جس نے  دو عناصر کے درمیان اتحاد کے متعلق برطانیہ کے مشہور ماہر طبیعیات، ماہر کیمیا اور طبیعت شناس جان ڈالٹن(Jon Dalton) کے نظریہ کو  اپنی کتاب (المعرفة بالصفة الالهیة و الحکمة الفلسفیة)دس صدیاں پہلے واضح طور پر بیان کیا ہے اور اس نظریہ کو وضع کرنے والے ’’جابر بن حیان‘‘ ہیں نہ کہ ’’جان ڈالٹن‘‘۔

 

جی ہاں! حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے وہی جابر بن حیان ہیں کہ جن کے کارناموں میں سے  ایک کارنامہ  ( جو ان کی علمی و فکری مہارت و استعداد اور صلاحیت کو ثابت کرتا ہے) (Optical pencil) کی ایجاد ہے جس کی تحریر کو تاریکی میں پڑھا جا سکتا ہے، اہمیت کی حامل کتابوں کو لکھنے کے لئے اسی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

اس مکتب کا ہر شاگر انفرادی طور پر بھی اس عظیم مکتب کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ صرف شیعہ دانشور ہی اس مدرسہ اور یونیورسٹی کی عظمت کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کی مخالفت کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں نے بھی اس مدرسہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور سب نے امام صادق علیہ السلام کے اعلم و افقہ اور برحق ہونے کو بیان کیا ہے۔ حنفیوں کے امام ’’ابوحنیفہ‘‘ کہتے ہیں: «مَا رَأَیْتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا »

نجاشی نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عیسای اشعری سے نقل کیا ہے  کہ وہ کہتے ہیں:میں علم حدیث کی طلب میں کوفہ گیا  اور وہاں حسن بن علی وشا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے کہا: مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کروں۔ انہوں نے مجھے وہ دونوں کتابیں دیں۔

 میں نے  کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

 فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ، تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ اور لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے۔

واقعاً یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی کہ جس نے موافقین اور مخالفین سبھی کو حیرت و تعجب میں مبتلا کر دیا اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بارہا فرماتے تھے:میری عترت اور میری اہلبیت  انہی مقامات اور علوم و درجات کے لئے تھی  کہ جس کے یہ اہل ہیں۔ لیکن افسوس کہ سیاست کی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنے کو ترک کر دیا گیا یہاں تک کہ بخاری جیسے شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی اور شاعر کے بقول:

قَضِیَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاریّ إمامُ الفِئَةِ

بِالصَّادِقِ الصِّدِّیقِ ما إحتجَ فی * صَحیحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة

إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبی * بِفَضْلِهِ الآی أتَت منبئة

أجَلّ مِنْ فی عَصْرِه رُتْبَة * لم یَقْتَرِفْ فی عُمْرِه سَیِّئَة

قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاری مِئَة

اس مکتب، قیمتی خزانے اور ان معارف کی قدر کریں اور سب اس مدرسہ و مکتب اور یونیورسٹی میں زانوئے ادب تہہ کریں اور مثل سابق حضرت امام جعفر و صادق علیہ السلام کی شہادت ک ے موقع پر مجالس عزاء کا انعقاد کریں اور بہترین انداز سے ان ایّام کی تجلیل و تکریم کریں ۔

چهارشنبه / 28 خرداد / 1399
بندگی کا ممتاز نمونہ
استاد اعظم آیت الله العظمی بروجردی قدس سره کی پرسی کی مناسبت سے

بسم الله الرّحمن الرّحیم

تیرہ شوال ؛ بزرگ شیعہ زعیم مرحوم استاد اعظم حضرت آيت‌الله العظمي بروجردي اعلی ‌الله‌ مقامه  کی برسی کا دن ہے ؛ جو اپنے زمانے کی اہل ایمان ، خدا پرست اور خدا خواہ ہستیوں  میں ممتاز اور آسمانی نمونہ تھے کہ جن کا وجود عقیدہ و توحید سے سرشار تھا ۔

یہ فقیہ عالی مقام ، اپنے کریمانہ اخلاق ، عظمت ، حق کی بزرگی اور  بزرگواری میں اپنے جد بزرگوار سبط اکبر (امام حسن ) علیہ السلام کی یاد گار تھے ۔

* خوف خدا

شخصیت  کی عظمت کی جہات ان کے وجود میں جمع ہو چکی تھیں ؛ جن میں سب سے نمایاں خوف خدا اور روز جزا کا حساب تھا ۔ آپ پورے وجود سے خدا پر یقین اور قیامت پر اعتقاد رکھتے تھے ۔

* دنیا طلبی سے دوری

ان مں دنیا طلبی اور ریاست خواہی نظر نہیں آتی تھی ۔ آپ خود فرماتے تھے (اور ان کی صداقت اور سچائی میں کوئی شک نہیں تھا ) : «میں نے اس مقام ؛ یعنی مرجعیت اور ریاست کے لئے ایک قدم بھی نہیں بڑھایا«

*  متقین کے صفات کی تجلّی

آپ  کے وجود میں وہی صفات محسوس کئے جا سکتے تھے کہ جو امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے ہمّام کے لئے متقين کے صفات بیان فرمائے تھے :

»فَهُمْ وَالْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ وَ‌‌هُمْ وَ‌النَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ«

* بیت‌ المال خرچ کرنے میں احتیاط

آپ بیت المال کو خرچ کرنے میں بہت زیادہ دقّت اور احتیاط سے کام لیتے تھے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حتی وہ کسی کو غیر خدا کے لئے ایک دینار بھی نہیں دیتے تھے ۔

اپنی اپنی ضروریات زندگی مثلاً لباس ، بلکہ غذا وغیرہ کے لئے بھی سہم مبارک اور بیت المال سے استفادہ نہیں کرتے تھے ۔

* ساده ‌زیستی

آپ کا گھر اور گھر میں رہن سہن نہایت سادہ تھا ؛ گھر میں پرانے قالین (جو شاید انہیں ارث میں ملے تھے ) بچھے ہوئے تھے ۔

*  بزرگوں کا احترام

آپ گزشتہ اور ہم عصر بزرگوں کا احترام کرتے تھے ۔

*  مستحبّات کا خیال

آپ حق کے اظہار اور باطل کے ابطال میں کسی طرح کی لاپرواہی ، غفلت اور خوشامد  سے کام نہیں لیتے تھے ۔ آپ مستحبات ، مکارم اخلاق اور آداب سے تعلق رکھنے والے امور کا خاص خیال رکھتے تھے ۔

*  دین کے خدّام کا احترام

راہ خدا میں ایک قدم بڑھانے والا بھی دین و مذہب کی خدمت کا مصدر بن جاتا تھا اور وہ آپ ک ے نزدیک خاص احترام رکھتا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ آپ نے میرے والد بزرگوار سے فرمایا : «میں ایک رات بھی آپ کو فراموش نہیں کرتا «

*   مکتب کا دفاع

آپ دین کی ترویج اور اسلام و مذہب کی حدود کے دفاع میں اپنی قدرت و توانائی کے مطابق ہر کام انجام دیتے تھے ۔ آپ کا تمام ہم و غم اسلامی مسائل کے بارے میں سوچ و بچار کرنا تھا ۔

*  اعلیٰ علمی مرتبہ

آپ کے علمی مقام و مرتبے کا یہ عالم تھا کہ آپ کی خدمت میں آنے والا ہر عالم ، دانشور اور استاد (آپ کے علمی مراتب کو دیکھ کر )حیرت زدہ ہو جاتا تھا ۔

* فِرَق و مذاہب  کے آراء و نظریات پر مہارت

آپ علمی مسائل اور دوسرے مذاہب اور اسلامی فرقوں کے علماء کے آراء و نظریات سے اس قدر واقف تھے کہ آپ ان میں اُن سے زیادہ مہارت رکھتے تھے ؛ مثلاً آپ شیخ کی کتاب  «خلاف» کے بارے میں گفتگو کرتے تھے کہ جیسے اس کا ہر ایک صفحہ آپ  کے سامنے موجود ہو ۔

*  علم رجال  میں مہارت

آپ علم رجال اور حدیث کے اسناد میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے ۔

*  دوسری فرقوں کے علماء کی جانب سے آپ کے احترام کا ایک نمونہ

مصر کے وزیر اوقاف اور مشہور و معروف دانشور شيخ باقوري آپ سے کی گئی ایک ملاقات کے نتیجے میں آپ کی جانب اس قدر مجذوب ہو گئے کہ انہوں نے آپ کے تمام تر تذکرات کو پوری توجہ سے سنا اور وہاں سے آپ کی خدمت میں لکھے گئے خط میں ان تمام امور کو انجام دینے کا وعدہ  کیا ۔ ان وعدوں کے بارے میں ان کی عبارت یہ تھی : «لا يَزَالُ يَخْلِدُ فِي كِيَانِي»۔

مرحوم علامه شيخ محمدتقي قمي کہتے تھے : جب حضرت آقا کا خط شيخ مجید سليم کو پیش کیا جاتا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھتے اور کھڑے  ہو کر آپ کا خط وصول  کرتے اور اسے چومتے تھے ۔

نيز وہ تاریخی فتویٰ دینے والے شيخ محمد شلتوت بھی احترام سے کھڑے ہو کر آپ کا خط وصول کرتے تھے ۔

بیشک ان کے زمانے میں فرقوں کے تمام علماء کے درمیان فقه فِرَق میں کوئی بھی ان سے اَعلم نہیں تھا ۔

*  خوشامد کے بغیر حق کا دفاع کرنا

آپ ان اشخاص کے سامنے بھی پورے احترام کے ساتھ مکتب اہل بیت علیہم السلام کی حدود کی حفاظت کرنے اور حق بیانی میں ذرّہ برابر بھی کوتاہی نہیں کرتے تھے ۔ شيخ شلتوت ایک تفسیر لکھ رہے تھے اورجب انہوں نے آيت (وَأَنْ تَسْتَقْسِمُواْ بِالْأَزْلَامِ) کی تفسیر میں نامناسب بات کی تو آپ نے ان کا ردّ لکھنے کے لئے مجھے حکم دیا اور حقیر نے رسالہ «حول الاستقسام بالازلام» میں کافی و وافی جواب لکھ  کر انہیں ارسال کیا ۔

 *  عیسائی دانشوروں کی نظر میں آپ کا احترام

دوسری جانب «الامام علي صوت العدالة الانسانيه» جیسی  کتاب لکھنے والے عیسائی دانشور جورج جرداق نے ایک نہایت ہی بلیغ اور اعلیٰ مضامین پر مبنی خط کے ساتھ اپنی کتاب آپ کی خدمت میں ہدیہ کی ۔

تیرہ شوال ایسی (عظیم) شخصیت کی رحلت اور برسی کا دن ہے کہ جن کے وجود کی عظمتیں افتخار آفرین ہیں اور وہ علماء اور شیعوں کے لئے قابل قدر اسوہ و نمونہ ہیں ۔

*  تعبد کامل کا نمونہ 

آپ تعبد تام ، شریعت کی مکمل پیروی ، احکام کی پابندی ، عبادت ، دعا ، محاسبۂ نفس ، خدا کی طرف توجہ ، استغفار ، توبہ ، شعائر اور سنتوں کی تعظیم ؛ منجملہ امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا اور عاشورا میں مَثَل اور نمونہ تھے ۔

اس دن ، اس شخصیت اور ان کی حیات کو ہمیشہ زندہ رکھنا جانا چاہئے اور یہ سب کے لئے نمونۂ عمل ہونے چاہئیں ۔

* آپ کی وفات کے موقع پر مصر کے بزرگ ترین عالم کا بیان

ہم آپ کی وفات کے موقع پر مصر کے ایک بزرگ ترین عالم کے بیان پر اس مضمون کو اختتام تک پہنچاتے ہیں :

أغدقَ اللهُ عَلی جَدثِه الطاهر من سَحائِب رِضوانه وَبَعَثَهُ في زُمرة جدّه الأعظم الّذي بَعَثَه اللهُ رَحمةً للعالَمين وآله الطيبين الطاهرين صلواتُ الله وسلامُه عَلَيهم أَجْمعينَ. وَالسَّلامُ عَلَيْهِ يَومَ وُلِدَ وَيَوْمَ مَاتَ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيّاً.

لطف الله صافی

روزہ داروں کا امام زمانہ علیہ السلام سے تجدید عہد
ماہ رمضان کی مناسبت سے آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات

اہم عبادی امور اور بالخصوص ماہ رمضان المبارک کے عبادی امور میں سے ایک صاحب الامر حضرت بقیة الله الاعظم ارواح العالمین له الفدا سے تجدید عہد کرنا ہے ۔ روزہ دار مؤمنین کو چاہئے کہ وہ دعاؤں ، مجالس ، محافل ، وعظ و نصیحت اور شب قدر کی مبارک راتوں میں حجت خدا حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو فراموش نہ کریں اور اپنے امام سے عہد کریں کہ وہ بذات خود ، اس کے اردگرد کے افراد اور معاشرہ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضائیت حاصل کرنے کے لئے گامزن رہے گا۔ اور یہ جانتے ہیں کہ وہ شخص اور سماج سعادت مند ہے جو امام زمانہ ارواحنا فداہ کی رضائیت کے حصول میں کامیاب ہو جائے ۔

  • امتحان اور آزمائش کا زمانہ

یہ جان لیں کہ زمانۂ غیبت امتحان و آزمائش  اورخالص ہونے کا زمانہ ہے۔سعادتمند اور ایمان پر ثابت قدم رہنے والے غیبت کے  زمانے میں بھی اس انسان ساز مکتب سے وابستہ رہ کر خودسازی کرتے ہیں ۔ مختلف حوادث،مشکلات اور سختیاں  انہیں کمزور نہیں کر سکتیں اور ان  کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور وہ تند و تیز ہواؤں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں  کہ جس کی وجہ سے وہ کمزور ایمان اور ارادے کے حامل افراد سے ممتازہوتے ہیں۔

جس قدر بھی دین و دینداری سے وابستہ رہنا دشوار ہوتا جائے اورمختلف قسم کی  ظاہری محرومیت وجود میں آتی جائیں اسی قدر ان کا ایمان اور عہد و پیمان مزید قوی ہوتاجائے گا اور ان پر ایسی حدیثوں کی صداقت و سچائی واضح ہوتی جائے گی کہ جن میں زمانہ ٔ غیبت کے واقعات،کچھ گناہوں کے عام ہونے ،غنا و موسیقی،لڑکے اور لڑکیوں کی صورت حال ،مرد و زن کے اختلاط اور دوسرے امور کی خبر دی گئی ہے۔

بعض روایات کے مطابق ان شرائط میں دین کی حفاظت و نگہداری اس طرح سخت و دشوار ہو جائے گی کہ  جس طرح  ہاتھ کی ہتھیلی پر  آگ کی حفاظت کرنا۔نیز دیگر حدیث میں بیان ہوان ہے: «إن لصاحب هذا الامر غيبة المتمسّک فيها بدينه کالخارط للقتاد«

غيبت کے اس زمانے میں ایمان پر ثابت رہنے والوں کو رسول اعظم اسلام صلّي الله عليه و آله و سلّم کے ہمراہ تلوار سےجهاد کرنے والوں کا ثواب ملے گا اور وہ اس قدر بلند مرتبہ ہیں کہ پيغمبر اکرم صلّي الله عليه و آله و سلّم نے انہیں اپنا بھائی کہا ہے اور احادیث کی رو سے آنحضرت کو ان سے ملنے کا اشتیاق ہے۔

زمانۂ غیبت کے مؤمنین حزب اللہ ہیں اور وہ ظہور اور اسلام کی عالمی حکومت کے حقیقی منتظر ہیں کہ احادیث میں فرمایا گیا ہے:

«اولئک هم المخلصون حقّا و شیعتنا صدقاً و الدّعاة الی دین الله و جهرا اُولئک الذین یومنون بالغیب ثم اولئک حزب الله ألا إنّ حزب الله هم المفلحون»  اور اس حدیث مبارکہ «المنتظر لأمرنا کالمتشحِّط بدمه فی سبیل الله» کی رو سے وہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو راہ خدا میں خون میں ڈوبا ہو۔

یہ سب آپ شیعوں،منتظرخواتین و حضرات،احکام کی پابندی کرنے والوں اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وفاداروں کے فضائل ہیں۔

  • منتظرین کی ذمہ داریاں

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کو عاقل و ہوشیار ہونا چاہئے اور ان فضائل کی پاسداری کرنی چاہئے کہ کہیں وہ سوء تلقین (غلط پروپیگنڈوں)  اور فریب دینے والے الفاظ سے دھوکا کھا کر احکام الٰہی کے سامنے تسلیم ہونے سے دستبردار نہ ہو جائیں اور حکومت الٰہی و قرآن اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف  کے تحت سے خارج نہ ہو جائیں۔

انسانی حقوق ؛ یعنی مرودوں اور عورتوں کے وہی حقوق ہیں ؛ جو خدائے بشر اور خدائے مرد و زن نے معین فرمائے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب گمراہی و ضلالت اور فساد و تباہی کا خزانہ ہیں کہ جو حیوانی زندگی کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔

 احکام الٰہی میں سے کسی حکم کو قبول نہ کرنے والے مرد و زن ، بوڑھے اور جوان یا تو مغرب کےغیر سماجی اور بیہودہ امور سے متاثر ہیں کہ جو زمانے کے لئے مناسب نہیں ہیں اور جن سے ان کا ایمان مخدوش و کھوکھلا ہو جائے گا۔اسی لئے احاديث شريفه میں وارد ہوا ہے که «زمانۂ غيبت، میں مؤمن صبح کے وقت با ایمان ہوگا اور رات کے وقت دین سے خارج ہو چکا ہو گا» ۔

میں خاص طور سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ احکام اسلام کو مغربی ثقافت اور لادینی کے مطابق بنانے اور ان کی تأویل کرنےوالوں سے ہوشیار رہیں اور اشتباہ کے شکار نہ ہوں؛وہ ایک اور دور جاهليت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔روایت کی رو سے غیبت کا زمانہ طولانی ہو گا یہاں تک کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : «ما اطول هذا العناء و ابعد هذا الرجاء»۔

انسان اپنی حیات میں مختلف مکاتب و مذاہب میں تحولات اور تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی بشر کی سعادت کی شرائط موجود نہیں ہیں اور وہ عدل و انصاف کو نافذ کرنے سے عاجز و ناتواں ہیں اگرچہ دنیا ظلم و جور ،فساد،بدامنی اور تباہی سے بھری ہوئی ہے لیکن اَلشَّيءُ اِذا جاوَزَ حَدُّهُ اِنْعَکَسَ ضِدّه کی رو سے  انسانی سماج نظام الٰہی و اسلامی اور دنیا کی واحد عادل عالمی حکومت کے لئے تیار ہورہا ہے اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے دنیا کمال اور ارتقاء کی اوج پر ہو گی۔

  • امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے تجدید عہد کا مہینہ

محترم روزہ دارو !

غیبت کا زمانہ دین کے امور پر عمل کرنے،جد و جہد  کرنے ،ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور انہیں ادا کرنے کا زمانہ ہے ، یہ مقاوت ،ثابت قدمی ، استقامت اور صبر کا زمانہ ہے۔

 شعائر کی تعظیم ، کلمة الله کی سربلندی،اسلام کی تبلیغ ،سیاسی،اقتصادی،ثقافتی امور میں استقال،کفّار کی وابستگی سے نجات،علمی و صنعتی میدان میں ترقی ،تعلم و تربیت کی نشر و اشاعت ،امر به معروف و نهي از منکر، نیکی و تقویٰ میں تعاون ، غریبوں کی مدد ، ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا، محتاجوں کو دستگيري کرنا،اسلامی ممالک کی جغرافیائی،فکری اور عقیدتی حدود کا دفاع کرنا، اہل شکوک اور اہل شبہ کے شکوک و شبہات کا جواب دینا،برائیوں اوراحکام الٰہی کی ہتک حرمت کا مقابلہ کرنا ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور ہم اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں۔

اس  مبارک مہینے میں ہم سب کو  چاہئے کہ ہم ولی خدا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف   سے تجدید عہد کریں ۔ نیز حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کو چاہئے کہ وہ اسلامی سماج کو لاحق خطرات کو پہچانیں کہ جنہوں نے بڑی حد تک معاشرے کے بہت بڑے حصہ کو کمزور ،زبوں حال اور کفار کی اطاعت میں مبتلا کر دیا ہے اور منتظرین کو چاہئے کہ وہ ہمارے سماج اور ہماری عزیز نوجوان نسل کو اس میں مبتلا  ہونے سے بچائیں۔زمانۂ غیبت ذمہ داریوں کا زمانہ ہے،اعمال و اقدام کا زمانہ ہے،امیدکا زمانہ ہےاورباطل پر حق کی کامیابی کا زمانہ ہے،منتظر بنیں اور عمل کریں کیونکہ خداوند کریم فرماتا ہے: «وَ قُلِ اعْمَلُوا فَسَيَري اللهُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُولُهُ وَ الْمُؤْمِنونَ»

 

ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا
ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا

ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّهُمَّ اجْعَلْ صِيامي فيہ صِيامَ الصّائِمينَ وَقِيامي فيِہ قِيامَ القائِمينَ وَنَبِّهْني فيہ عَن نَوْمَةِ   الغافِلينَ وَهَبْ  لي جُرمي فيہ يا اِلهَ العالمينَ وَاعْفُ عَنّي يا عافِياً عَنِ المُجرِمينَ.

اے معبود! اس مہینے میں میرا روزہ ، روزہ داروں کا روزہ قرار دے، اور اس میں میرے قیام کو قیام کرنے والوں کا قیام قرار دے اور مجھے اس میں غافلوں کی غفلت سے بیداری عطا کر، اور میرے گناہوں کو بخش دے ،اے جہانوں کے معبود اور مجھ سے درگذر فرما اے مجرمین سے درگذر کرنے والے۔

ماہ رمضان کےدوسرے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اللّهُمَّ قَرِّبْنی فیهِ اِلی مَرْضاتِکَ ، وَ جَنِّبْنی فیهِ مَنْ سَخَطِکَ و نَقْماتِکَ، وَ وَفِّقْنِی فِیهِ لِقِراءَةِ آیاتِکَ ، بِرحْمَتِکَ یا أَرْحَمَ الرَّاحِمین۔

خدایا ! مجھے اس ماہ رمضان میں اپنی رضا و خوشنودی سے قریب فرما۔اور مجھے اس مہینہ میں  اپنی  ناراضگی اور انتقام سے دور رکھ۔اور مجھےاس ماہ رمضان میں  اپنی آیات (یعنی قرآ­ن) کی تلاوت کی توفیق عطا فرما،تیری رحمت کے واسطے،  اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

ماہ رمضان کےتیسرے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ الذِّهْنَ وَ التَّنْبِیهَ، وَ بَاعِدْنِی فِیهِ مِنَ السَّفَاهَةِ وَ التَّمْوِیهِ ، وَ اجْعَلْ لِی نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیهِ , بِجُودِکَ یَا أَجْوَدَ الْأَجْوَدِین ۔
اے معبود! اس مہینے میں مجھے ہوش اور آگاہی عطا فرما،مجھے ہر طرح کی نا سمجھی اور بے راہ روی سے بچا کے رکھ ،اور مجھ کو ہر اس بھلائی میں سے حصہ دے جو آج تیری عطاؤں سے نازل ہو، اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چوتھے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ قَوِّنِی فِیهِ عَلَی إقامَةِ أَمْرِکَ وَأَذِقْنِی فِیهِ حَلاوَةَ ذِکْرِکَ وَأَوْزِعْنِی  فِیهِ لاََدائِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ وَاحْفَظْنِی فِیهِ بِحِفْظِکَ وَسَتْرِکَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے قوت دے کہ تیرے حکم کی تعمیل کروں اس میں مجھے اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ عطا کر،اور  اپنے کرم سے مجھے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے ، اور مجھے اپنی نگہداری اور پردہ پوشی کی حفاظت میں رکھ ،اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے۔

ماہ رمضان کے پانچویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ، وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ الْقانِتِینَ وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ أَوْلِیائِکَ الْمُقَرَّبِینَ بِرَأْفَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

اے معبود!اس مہینے میں مجھے بخشش مانگنے والوں میں سے قرار دے ،اس مہینے میں مجھے اپنے نیکوکار عبادت گزار  اور فرمانبردار بندوں میں سے قرار دے  اوراس مہینے میں مجھے اپنے نزدیکی دوستوں میں سے قرار دے ،اپنی محبت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چھٹے دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ لاَ تَخْذُلْنِی فِیهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیَتِکَ   وَلاَ تَضْرِبْنِی بِسِیاطِ نَقِمَتِکَ وَزَحْزِحْنِی فِیهِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِکَ، بِمَنِّکَ وَأَیادِیکَ یَا مُنْتَهی رَغْبَةِ الرَّاغِبِینَ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے چھوڑ نہ دے کہ تیری نا فرمانی میں لگ جاؤں اور نہ مجھے اپنے غضب کا تازیانہ مار  ، اس مہینے میں اپنے احسان و نعمت سے مجھے اپنی ناراضی کے کاموں سے بچائے رکھ ، اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید گاہ ۔

ماہ رمضان کے ساتویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ٲَعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہِ وَآثامِہِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں اس کے روزے اور شب زندہ داری میں میری مدد فرما، اور اس مہینے ہونے والے گناہوں اور لغزشوں سے مجھے دور رکھ، اور مجھے  ہمیشہ تیرے ذکر کرنے کی توفیق عطا کر، تمہاری توفیق کا واسطہ ، اے گمراہوں کو ہدایت کرنے والے۔

ماہ رمضان کے آٹھویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ رَحْمَۃَ الْاَیْتامِ وَ إطْعامَ الطَّعامِ وَ إفْشاءِ  السَّلامِ وَصُحْبَۃَ الْکِرامِ، بِطَوْ لِکَ یَا مَلْجَٲَ الاَْمِلِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں توفیق عطا کر کہ میں یتیموں پر مہربان رہوں، اور بلند آواز سے سلام کروں اور لوگوں کو کھانا کھلاتا رہوں، اور مجھے بزرگوں کی مصاحبت کی توفیق عطا کر، اپنی عطا کے واسطے اے آرزومندوں کی پناہ گاہ۔

ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ نَصِیباً مِنْ رَحْمَتِکَ الْواسِعَۃِ وَاھْدِنِی فِیہِ لِبَراھِینِکَ السّاطِعَۃِ، وَخُذْ بِناصِیَتِی إلی مَرْضاتِکَ الْجامِعَۃِ، بِمَحَبَّتِکَ یَا ٲَمَلَ الْمُشْتاقِینَ۔
اے معبود! آج کے دن مجھے اپنی وسیع رحمت میں سے بہت زیادہ حصہ دے ، اور آج کے دن میں اپنے روشن دلائل سے میری ہدایت فرما اور میری مہار پکڑ کے مجھے اپنی ہمہ جہتی رضاؤں کی طرف لے جا ،اپنی محبت سے اے شوق رکھنے والوں کی آرزو۔

ماہ رمضان کے دسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْفائِزِینَ لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ إلَیْکَ، بِ إحْسانِکَ یَا غایَۃَ الطَّالِبِینَ .

اے معبود! مجھے اس مہینے میں تجھ پر توکل اور بھروسہ کرنے والوں میں سے قرار دے، اور اس میں مجھے اپنے ہاں کامیاب ہونے والوں اور فلاح پانے والوں میں سے قرار دے اور اپنی بارگاہ کے مقربین میں سے قرار دے، تیرے احسان کے واسطے، اے متلاشیوں کی تلاش کے آخری مقصود۔

 ماہ رمضان کے گیارہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ فِیہِ الْاِحْسانَ وَکَرِّہْ إلَیَّ فِیہِ الْفُسُوقَ وَالْعِصْیانَ وَحَرِّمْ عَلَیَّ فِیہِ السَّخَطَ وَالنِّیرانَ، بِعَوْ نِکَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ ۔
اے معبود! آج کے دن نیکی کو میرے لئے پسندیدہ فرما دے ، اس میں گناہ و نا فرمانی کو میرے لئے نا پسندیدہ بنا دے اور اس میں غیظ و غضب کو مجھ پر حرام کر دے اپنی حمایت کے ساتھ ، اے فریادیوں کے فریاد رس۔

ماہ رمضان کے بارہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ زَیِّنِّی فِیہِ بِالسِّتْرِ وَالْعَفافِ، وَاسْتُرْنِی فِیہِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ وَالْکَفافِ وَاحْمِلْنِی فِیہِ عَلَی الْعَدْلِ وَالْاِنْصافِ وَآمِنِّی فِیہِ مِنْ کُلِّ مَا ٲَخافُ بِعِصْمَتِکَ یَا عِصْمَۃَ الْخائِفِینَ ۔

اے معبود! مجھے اس مہینے میں پردے اور پاکدامنی سے مزیّن فرما، اور مجھے کفایت شعاری اور اکتفا کا جامہ پہنا دے، اور مجھے اس مہینے میں عدل و انصاف پر آمادہ کردے، اور اس مہینے کے دوران مجھے ہر اس شیئے سے امان دے ، جس سے میں خوفزدہ ہوتا ہوں، اے خوفزدہ بندوں کی امان۔

ماہ رمضان کے تیرہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی فِیہِ مِنَ الدَّنَسِ وَالْاَقْذارِ وَصَبِّرْنِی فِیہِ عَلَی کائِناتِ الْاَقْدارِ، وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِلتُّقی وَصُحْبَۃِ الْاَ بْرارِ، بِعَوْ نِکَ یَا قُرَّۃَ عَیْنِ الْمَساکِینِ ۔

اے معبود! اس مہینے مجھے آلودگیوں اور ناپاکیوں سے پاک کر دے ، اور مجھے صبر دے ان چیزوں پر جو میرے لئے مقدر ہوئی ہیں، اور مجھے پرہیزگاری اور نیک لوگوں کی ہم نشینی کی توفیق دے، تیری مدد کے واسطے، اے بےچاروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔

ماہ رمضان کے چودہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیہِ بِالْعَثَراتِ وَٲَقِلْنِی فِیہِ مِنَ الْخَطایا وَالْھَفَواتِ وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیہِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالاْفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں میری لغزشوں پر میرا مؤاخذہ نہ فرما ، اور اس میں میری خطاؤں اور فضول باتوں سے درگزر کر اور اس میں مجھے مشکلوں ، مصیبتوں اور آفات کا نشانہ قرار نہ دے ، تیری عزت کے واسطے ، اے مسلمانوں کی عزت و عظمت ۔

ماہ رمضان کے پندرہوں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ طاعَۃَ الْخاشِعِینَ، وَاشْرَحْ فِیہِ صَدْرِی بِاِنابَۃِ  الْمُخْبِتِینَ، بِأَمانِکَ یَا أِمانَ الْخائِفِینَ ۔

اے معبود! اے معبود! اس مہینے میں مجھے خاشعین کی سی اطاعت نصیب فرما ،  اور خاکسار اطاعت شعاروں کی سی توبہ کرنے کے لئے میرا سینہ کشادہ فرما، تیری امان کے واسطے، اے ڈرے  اور سہمے ہؤوں کی امان ۔

ماہ رمضان کے سولہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِی فِیہِ لِمُوافَقَۃِ الْاَ بْرارِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مُرافَقَۃَ الْاَشْرارِ وَآوِنِی فِیہِ بِرَحْمَتِکَ إلی دارِ الْقَرارِ، بِ إلھِیَّتِکَ یَا إلہَ الْعالَمِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں نیک انسانوں کا ساتھ دینے اور ہمراہ ہونے کی توفیق دے اور بروں کا ساتھ دینے سے دور کردے، اور اپنی رحمت سے سکون کے گھر میں مجھے پناہ دے، تیری معبودیت کے واسطے اے تمام جہانوں کے معبود۔

ماہ رمضان کے سترہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیہِ لِصالِحِ الْاَعْمالِ، وَاقْضِ لِی فِیہِ الْحَوائِجَ وَالاَْمالَ، یَا مَنْ لا یَحْتاجُ إلَی التَّفْسِیرِ وَالسُّؤالِ، یَا عالِماً بِما فِی صُدُورِ الْعالَمِینَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے نیک کاموں کی طرف ہدایت دے، اور میری حاجتیں اور خواہشیں پوری فرما ، اے وہ ذات جو کسی سے پوچھنے اور وضاحت و تفسیر کا  محتاج نہیں ہے ، اے جہانوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اسرار کے عالم، درود بھیج محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) اور آپ کے پاکیزہ خاندان پر۔

ماہ رمضان کے اٹھارویں دن کی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ نَبِّھْنِی فِیہِ لِبَرَکاتِ ٲَسْحارِہِ، وَنَوِّرْ فِیہِ قَلْبِی بِضِیاءِ ٲَنْوارِہِ، وَخُذْ بِکُلِّ ٲَعْضائِی إلَی اتِّباعِ آثارِہِ، بِنُورِکَ یَا مُنَوِّرَ قُلُوبِ الْعارِفِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں اس کی سحریوں کی برکتوں سے آگاہ کر ، اور میرے قلب کو اس کے انوار سے نورانی فرما، اور میرے تمام اعضاء وجوارح کو اس مہینے کے احکام  پر عمل کرنے  پر مامور کر دے، تیرے نور کے واسطے اے عارفوں کے قلوب کو منور کرنے والے۔

ماہ رمضان کے انیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ وَفِّرْ فِیہِ حَظِّی مِنْ بَرَکاتِہِ، وَسَھِّلْ سَبِیلِی إلی خَیْراتِہِ، وَلاَ تَحْرِمْنِی قَبُولَ حَسَناتِہِ، یَا ہادِیاً إلَی الْحَقِّ الْمُبِینِ ۔
اے معبود! اس مہینے میں اس کی برکتوں سے میرے حصے میں اضافہ فرما ،اور اس کی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف میرا راستہ ہموار اور آسان کر، اورمجھے  اس کے حسنات کی قبولیت سے  محروم نہ فرما، اے آشکار حقیقت کی طرف ہدایت دینے والے۔

ماہ رمضان کے بیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِی فِیہِ ٲَبْوابَ الْجِنانِ، وَٲَغْلِقْ عَنِّی فِیہِ ٲَبْوابَ النِّیرانِ وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِتِلاوَۃِ الْقُرْآنِ، یَا مُنْزِلَ السَّکِینَۃِ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں بہشت کے دروازے مجھ پر کھول دے ، اور دوزخ کی بھڑکتی آگ کے دروازے مجھ پر بند کردے، اور مجھے اس مہینے میں تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرما۔ اے مؤمنوں کے دلوں میں سکون نازل کرنے والے۔

ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ إلی مَرْضاتِکَ دَلِیلاً، وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ فِیہِ عَلَیَّ سَبِیلاً، وَاجْعَلِ الْجَنَّۃَ لِی مَنْزِلاً وَمَقِیلاً، یَا قاضِیَ حَوائِجِ الطَّالِبِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں اپنی رضاؤں کی طرف میری رہنمائی کا سامان فرما ، اور اس میں شیطان کو مجھ پر کسی طرح کی دسترس پانے کا راستہ قرار نہ دے ، اے طلبگاروں کی حاجتیں پوری کرنے والے ۔

ماہ رمضان کے بائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِی فِیہِ ٲَبْوابَ فَضْلِکَ، وَٲَنْزِلْ عَلَیَّ فِیہِ بَرَکاتِکَ وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِکَ وَ ٲَسْکِنِّی فِیہِ بُحْبُوحاتِ جَنَّاتِکَ یَا مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ ۔

اے معبود! میرے لئے اس مہینے میں اپنے فضل و کرم کے دروازے کھول دے، اور اس میں مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما ، اور اس میں مجھے تیری خوشنودی کے اسباب فراہم کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اس کے دوران مجھے اپنی بہشت کے مرکز میں سکونت عنایت فرما ، اے بےبسوں اور بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے۔

ماہ رمضان کے تئیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اغْسِلْنِی فِیہِ مِنَ الذُّنُوبِ وَطَہِّرْنِی فِیہِ مِنَ الْعُیُوبِ وَامْتَحِنْ قَلْبِی فِیہِ بِتَقْوَی الْقُلُوبِ، یَا مُقِیلَ عَثَراتِ الْمُذْنِبِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میرے گناہوں کو دھو ڈال ،  اور اس میں مجھے عیب اور نقائص سے پاک کردے، اور میرے دل کو  آزما کر اہل تقویٰ کا درجہ دے ، اے گنہگاروں کی لغزشوں کو نظر انداز کرنے والے!

ماہ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ فِیہِ مَا یُرْضِیکَ وَٲَعُوذُ بِکَ مِمَّا یُؤْذِیکَ وَٲسئَلُکَ التَّوْفِیقَ فِیہِ لاََِنْ ٲُطِیعَکَ وَلاَ ٲَعْصِیَکَ، یَا جَوادَ السَّائِلِینَ ۔
اے معبود! تیرے در پر ہر اس چیز کا سوالی ہوں جو تجھے خوشنود کرتی ہے اور ہر اس چیز سے تیری پناہ کا طلبگار ہوں جو تجھے ناراض کرتی ہے، اور تجھ سے توفیق کا طلبگار ہوں کہ میں تیرا اطاعت گزار رہوں اور تیری نافرمانی نہ کروں، اے سوالیوں کو بہت زیادہ عطا کرنے والے۔

ماہ رمضان کے پچیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مُحِبّاً لاََِوْلِیائِکَ وَمُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُسْتَنّاً بِسُنَّۃِ خاتَمِ ٲَنْبِیائِکَ، یَا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیِّینَ ۔

اے معبود! مجھے اس مہینے میں اپنے اولیاء اور دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے، مجھے اپنے پیغمبروں کے آخری پیغمبر کی راہ و روش پر گامزن رہنے کی صفت سے آراستہ کردے، اے انبیاء کے دلوں کی حفاظت کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَعْیِی فِیہِ مَشْکُوراً، وَذَ نْبِی فِیہِ مَغْفُوراً، وَعَمَلِی فِیہِ مَقْبُولاً، وَعَیْبِی فِیہِ مَسْتُوراً، یَا ٲَسْمَعَ السَّامِعِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میری کوششوں کو لائق قدردانی قرار دے، اور اس مہینے میں میرے گناہوں کو قابل بخشش قرار دے، اور اس میں میرے عمل کو مقبول اور میرے عیبوں کو پوشیدہ قرار دے، اے سننے والوں میں سب سے زیادہ سننے والے۔

ماہ رمضان کے ستائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ فَضْلَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَصَیِّرْ ٲُمُورِی فِیہِ مِنَ الْعُسْرِ إلَی الْیُسْرِ وَاقْبَلْ مَعاذِیرِی، وَحُطَّ عَنِّی الذَّنْبَ وَالْوِزْرَ، یَا رَؤُوفاً بِعِبادِہِ الصَّالِحِینَ۔
اے معبود اس مہینے میں مجھے شب قدر کی فضیلت نصیب فرما، اور اس میں میرے امور اور  معاملات کو سختی سے آسانی کی طرف پلٹا دے، میرے عذر اور معذرت کو قبول فرما اور گناہوں کا بھاری بوجھ میری پشت سے اتار دے، اے نیک بندوں پر مہربانی کرنے والے۔

ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

 اَللّٰھُمَّ وَفِّرْ حَظِّی فِیہِ مِنَ النَّوافِلِ وَٲَکْرِمْنِی فِیہِ بِإحْضارِ الْمَسائِلِ وَقَرِّبْ فِیہِ وَسِیلَتِی إلَیْکَ مِنْ بَیْنِ الْوَسائِلِ، یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ إلْحاحُ الْمُلِحِّینَ ۔
اے معبود! اس مہینے کے نوافل اور مستحبات سے میرا حصہ بڑھا دے، اور اس میں میری التجاؤں کی قبولیت سے مجھے عزت دے، اور اس میں تمام وسیلوں میں سے میرے وسیلے کو اپنے حضور قریب فرما، اے وہ جس کو اصرار کرنے والوں کا اصرار [دوسروں سے] غافل نہیں کرتا۔

ماہ رمضان کے انتیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ غَشِّنِی فِیہِ بِالرَّحْمَۃِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ التَّوْفِیقَ وَالْعِصْمَۃَ، وَطَھِّرْ قَلْبِی مِنْ غَیاھِبِ التُّھَمَۃِ، یَا رَحِیماً بِعِبادِہِ الْمُؤْمِنِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں مجھے اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ دے، مجھے اس میں توفیق اور تحفظ دے، اور میرے قلب کو تہمت کی تیرگیوں سے پاک کردے، اے با ایمان بندوں پر بہت مہربان ۔

ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیہِ بِالشُّکْرِ وَالْقَبُولِ عَلَی مَا تَرْضاہُ وَیَرْضاہُ الرَّسُولُ، مُحْکَمَۃً فُرُوعُہُ بِالاَُْصُولِ، بِحَقِّ سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میرے روزوں کو قدردانی اور قبولیت کے قابل قرار دے،  اس طرح سے کہ جسے تو اور تیرے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم )  پسند کرتے ہیں؛  اور جو  اس کے فروع اس کے اصولوں سے محکم ہوئے ہوں، ہمارے سرور و سردار محمد  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) اور آپ کی آل پاک (علیہم السلام ) کے واسطے، اور تمام تر تعریف اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔

سه شنبه / 23 ارديبهشت / 1399
ابو طالب؛ مدافع رسالت
ماہ رمضان کی مناسبت سے آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات

ماہ رمضان کے تاریخی اتفاقات و واقعات میں سے ایک حضرت ابو طالب علیہ السلام کی وفات ہے ۔ شیخ مفید قدّس سرّه کے قول کی بناء پر بعثت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال پہلے سات ماہ رمضان کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واحد حامی و کفیل جناب ابوطالب علیہ السلام نے وفات پائی ۔

انسانوں میں سے اکثر افراد کی زندگی کے زیادہ تر ایّام ان کی اپنی ذات یا انفرادی امور سے وابستہ ہوتے ہیں ، لیکن عالم انسانیت کی خدمت کرنے والے ، مردان خدا ، انبیاء ، اولیاء اور اصلاح کرنے والے بزرگوں کی زندگی کے ایّام پورے سماج ، تاریخ اور خدا سے مرتبط ہوتے ہیں اور یہ سب کی نظر میں فخر و مباہات ، عزّت و خير، صلاح و ترقي اور عظیم تاریخی تحریک کا موجب  ہوتے ہیں ۔  یہ ایّام جس قدر الٰہی رنگ رکھتے ہوں اور  سماج  کے لئے خیر خواہی، لوگوں کو جہالت سے نجات دینے ، فلاح کی دعوت دینے ،حق و عدالت اور ہدایت کا باعث ہوں  ، یہ اسی قدر پائیدار اور جاودانہ ہوتے ہیں ۔ 

ان اّیّام کا احترام  ، حق اور نصرتِ ایمان کا احترام ہے ۔ تاریخ اسلام میں یہ درخشاں اور تاریخی ایّام خاص جلوہ رکھتے ہیں اور تاریخ اسلام ایسے دنوں سے مزین ہے ۔ 

اسلام میں اپنے خاص کردار ، مقام اور بہت ہی حساس عہدے کی حفاظت اور ذمہ داری کی وجہ سے جن شخصیات کی زندگی کے ایّام کو یاد رکھنا چاہئے بلکہ ان کی پوری حیات زندہ و جاوید ہونی چاہئے ، ان میں سے ایک سيّد بطحا، رئيس مكّه اور قبلهٔ قبيله ہیں ؛ جو تمام اخلاقی فضائل کے حامل تھے اور سب لوگ آپ کا احترام کرتے تھے اور آپ کی شخصیت اور مکارم اخلاق کو سراہتے تھے : «عَلَيْهِ بَهَاءُ الْمُلُوكِ وَ وَقَارُ الْحُكَمَاءِ؛ ان کے رخسار پر بادشاہوں کی ظرافت اور حکماء کا وقار نظر آتا تھا » ۔ جی ہاں ! اميرالمؤمنين علی عليه السلام کے پدر گرامی جناب ابو طالب علیہ السلام ان عظیم شخصیات میں سے ہیں ؛ جو انسانیت اور مسلمان معاشرے پر بہت بڑا حق رکھتے ہیں ۔جب عرب کے مشہور حکیم «اكتم بن صيفي» سے پوچھا گیا کہ آپ  نے حكمت و رياست اور حُكم و سيادت کس سے سیکھی ؟ انہوں نے کہا : «میں نے یہ (علوم) حليفِ علم و ادب، سيّد عجم و عرب ابوطالب بن عبد المطلب سے سیکھے ہیں » ۔ انہوں نے ہی تاریخ اسلام کے حساس ترین موقعوں پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کی  ؛ یعنی ابلاغ وحی کے آغاز سے اور اس کے آشکار ہونے کی ابتداء سے ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت میں اہم ، بنیادی اور نجات بخش کردار ادا کیا کہ جو دین مبین اسلام کے مستقر ہونے کا باعث بنا ۔

آپ تمام امت مسلمہ پر حق رکھتے ہیں ، سب ان کے احسان مند ہیں ، جنہوں نے بیالیس سال تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت ، نصرت ، مدد اور خدمت کی ، جو چودہ ہزار دنوں سے زیادہ بنتے ہیں کہ جن میں ہر ایک دن تاریخ ساز اور الٰہی تھا ۔ اس مرد الٰہی کی زندگی کا ہر دن اسلام ، دین توحید اور اس عظیم تحریک  کا پشت پناہ شمار ہوتا ہے کہ جس نے انسانی سماج کو ترقی ، تکامل ، خود شناسی  اور خدا شناسی کی طرف ہدایت دی اور ان کی زندگی کا  ہر دن خدا اور اسلام کی راہ میں گزرا ۔کسی کی بھی زندگی کے اتنے ایّام پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت ، دعوت اور حق کی مدد میں نہیں گزرے ۔

جناب ابو طالب علیہ السلام نے اپنی غیر معمولی فداکاری سے دین خدا کے دشمنوں کا محکم مقابلہ کیا اور انہیں نورِ الٰہی کو بجھانے سے روکے رکھا ۔

ان کی زندگی کا ہر دن اور ہر عمل لائق احترام و تحسین اور قابل اسوہ ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت میں گزارے گئے آپ کے چودہ ہزار دن ؛ سب کے سب ایّام اللہ ہیں ۔ استقامت کے چودہ ہزار دنوں، مشکلات ،محرویت ،پابندیوں  ، سختیوں اور مشرکوں کی سازشوں کو برداشت کرنے کے  چودہ ہزار دنوں نے اسلام کو بیمہ کر دیا ۔

یہ ابو طالب (علیہ السلام ) تھے ، ابو طالب (علیہ السلام ) تھے اور پھر ابو طالب (علیہ السلام ) ہی تھے کہ جنہوں نے  اسلام کے ابتدائی دنوں اور دعوت کے ابتدائی سالوں میں معاشرے میں  اپنے خاص مقام و مرتبہ اور احترام سے استفادہ کرتے ہوئے خدا کے دین کی پاسداری کی اور دعوت (اسلام) کے ابلاغ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کی ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح میں جناب ابو طالب علیہ السلام کا قصیدۂ لامیہ ، جناب ابوطالب علیہ السلام کے ایمان کی اوج ، خلوص نیت  ، وفاداری  اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کامل نصرت کا ایک نمونہ ہے ۔

اہل سنت کے بعض سخن شناس علماء اور ادب و بلاغت کے بزرگوں نے  یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ قصیدہ  فصاحت و بلاغت کا کا اعلیٰ مرتبہ کا حامل ہے اور یہ  قصائد سبعهٔ معلّقه سے زیادہ قوی اور برتر ہے اور ابو طالب (علیہ السلام )  کے سوا یہ کسی اور کا قصیدہ نہیں ہو سکتا ۔ اس قصیدہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ابو طالب (علیہ السلام ) پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت الٰہی کی پشت پناہی کے لحاظ سے کہاں اور کس حد تک مصمم ، جازم ،قاطع اور محکم عزم و ارادے کے مالک تھے اور دشمنوں کے مقابلے میں قوی ، خطرناک اور خونخوار تھے کہ جنہوں نے یک و تنہا دفاع  کیا اور اسلام کو ایسے راستے پر گامزن کر دیا کہ جہاں سے وہ واپس نہیں پلٹ سکتا تھا ۔

جس طرح تاریخ میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ساتھ دینے کے ایّام درخشاں ہیں ، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثناء میں لکھے گئے عرب و عجم کے ہزاروں قصیدوں میں سے یہ قصیدہ بھی بے مثال ، ممتاز اور یگانہ ہے ۔

سب حضرات اور بالخصوص فضلا اور عزیز طلاب کو سو بیت پر مشتمل اس قصیدے کا حافظ ہونا چاہئے ۔

نوجوان نسل اور موجودہ اسلامی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی تاریخ حیات و زندگی کو اسوہ و نمونہ قرار دیں اور اس تاریخ سے عظیم اور سبق آموز درس حاصل کریں ۔

سب لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس دن کی تجلیل و تکریم کریں اور اس مناسبت سے مجالس کا انعقاد کریں ، جب کہ  خطابات و تقاریر  اور مقالات میں تاریخ اسلام اور مسلمانوں پر اس  عظیم اور بزرگوار شخصیت کے حقوق کی ستائش کریں ۔  

شنبه / 20 ارديبهشت / 1399
روزہ؛ ایک آسان عبادت
(ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8)

روزہ؛ ایک آسان عبادت

(ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8)

 

روزه؛ ایک آسان عبادت 

اسلامی شریعت انسانی فطرت کے ساتھ ہماہنگ ہے اور اس کے احکام فطرت،طبیعت سلیم اور ذوق مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام نے عقل، انسانی فکر اور سوچ کو بے پناہ اہمیت دی ہے اور اسے تعقّل، جستجو اور تحقیق کی تشویق دلائی ہے اور جو لوگ عقل کی حکومت اور اس کی طرف رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں، اسلام ان کی توبیخ و سرزنش کرتا ہے۔

اسلام کی تعلیمات انسانیت کی پاک روح پر بوجھ نہیں ہیں اور اگر انسان کی راہ و روش اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہو جائیں تو انسان کا وجدان بوجھ اور سنگینی کا احساس نہیں کرے گا۔

یگانہ و تنہا صراط مستقیم

تنہا صراط مستقیم اور عالی مقاصد کی جانب سب سے مختصر راہ اسلام کا آئین ہے کہ جس نے دین و دنیا، جسم و روح اور انفرادی و اجتماعی مصلحتوں کو یکجا کر دیا ہے۔

اس دین حنیف میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے اور جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے، وہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو فطرت پر بوجھ ہیں اور جو فطرت کے تقاضوں سے ہماہنگ نہیں ہیں اور دین میں جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور جنہیں واجب اور مستحب قرار دیا گیا ہے وہ فطرت بشر کے عین مطابق ہیں۔

«خير و مصلحت» اور «ضرور و مفسدہ کو دور کرنا» اسلام کے احکام کی بنیاد ہے اور جہاں بھی دو مصلحتوں کے درمیان تزاحم ہو تو زہادہ اہم مصلحت کا انتخاب کیا جاتا ہے اور جہاں دو مضر چیزوں میں سے کسی ایک کے مرتکب ہونے کے لئے ناچار اور مجبور ہوں تو ایسے عمل سے اجتناب کیا جاتا ہے کہ جس میں زیادہ نقصان ہو۔

اسلامی احکام میں سہولت اور آسانی

اسلامی شریعت کے مشخصات اور نشانیوں میں سے ایک اس کے ’’ احکام میں سہولت اور آسانی‘‘ ہے ؛چنانچہ ’’مکلفین کے لئے امکان‘‘ اور ’’احاکم و تکالیف کے عملی ہونے‘‘ جیسے امور  کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ جن کی بنیاد پر اسلامی شریعت استوار ہے۔

سخت تعلیمات، زحمت سے بھرپور اور دشوار اعمال، اور فطرت کی مخالفت سبب بنتے ہیں کہ انسان اکثر اطاعت سے گریز کرے گا اور جن کی وجہ سے دین صرف مکتب ریاضت اور خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور دین میں دنیا و آخرت، سماج،تہذیب اخلاق، تربیت و ہدایت اور ترقی کے لئے ضروری فوائد نہیں ہوں گے۔

یہ واضح ہے کہ اگر قانون فطرت کے برخلاف ہو اور جو مصلحت کی رعائت اور ضرر کو دور کرنے کی بنیاد پر نہ ہو تو وہ دوام کے قابل نہیں ہوتا اور اگر اسے زور زبردستی انسان پر تھونپ دیا جائے تو اس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور فطرت کے مقابلہ میں محکوم ہو جائے گا۔

قرآنی اور حدیثی اصول

اس وجہ سے اسلام نے مشقت، مجبوری اور ضرر و تقیّہ کے موارد میں اپنے احکام  کو فقہ میں بیان ہونے والی شرائط کے مطابق اٹھا لیا ہے۔ قرآن مجید اور نصوص و روایات میں ان اصولوں کو ثابت و مقرر فرمایا گیا ہے کہ جن کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف ـ آيات كريمه

«فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا»(۱) ؛ «وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينَ مِنْ حَرَج» ؛ «يُرِيدُ اللهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ»؛ «يُرِيد اللهُ بِكمُ اليُسرَوَ لايُريد بِكُم العُسرَ» ؛ «مَايُريدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَج وَلكِن يُرِيدُ لِيُطهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُم لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ»

ب ـ احاديث شريفه

«لا ضَررَ وَلاضِرار في الإسلام»؛ «رُفِعَ عَن اَمَّتِي تِسعَة ...»؛ «يَسِّرُوا وَلا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا، ولاتنفِرُوا...»

اس بیان کی رو سے شریعت کی بنیاد سہولت اور آسانی پے۔ پس اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریعت میں کیوں بہت سے دشوار احکام بھی ہیں کہ جن میں مال خرچ کرنے اور جان دینے کی بھی ضرورت ہے؟

اس کے جواب میں کہنا چاہئے: اگرچہ جان قربان کرنا اور فداکاری آسان نہیں تھی اور اسی طرح سخاوت کی خصلت سے محروم لوگوں کے لئے اپنا مال خرچ کرنا بھی بہت مشکل اور دشوار ہے کہ جو ایک دوسرے سے ہمدردی سے لذت محسوس نہیں کرتے اور جو اسے معاوضہ کی ادائیگی اور نقصان سمجھتے ہیں لیکن اہم مقاصد کے حصول یا بڑے نقصانات سے بچنے کے لئے ان زحمتوں کو برداشت کرنا فطرت کے مطابق ہے اور جب نوع بشر کو ان تکالیف کا سامنا ہو تو سب اپنی ذات سے قطع نظر کرتے ہوئے ان امور کو انجام دینا لازم قرار دیتے ہیں اور اسے کمال تک پہنچنے کا اصول اور اجتماعی نظام کی بقاء سمجھتے ہیں۔

ماہ رمضان کے روزوں کے بارے میں آیات کے ضمن میں دین میں سہولت کی جہت کو بیان کیا گیاہے اور یہ اس چیز کو بیان کر رہا ہے کہ روزہ کی تشریع میں بھی اس موضوع کی رعائت کی گئی ہے۔

روزه کی زحمت  کو برداشت کرنے کے  متعلق حکم عقل

غذا کھانے کے عادی لوگوں کے لئے روزہ مشکل اور دشوار ہے اور یہ ایک قسم کی ریاضت ہے کیونکہ یہ بھی ہر دوسری تربیتی حکومت کی طرح انسان کی نفسانی خواہشات کے ساتھ سازگار نہیں  لیکن یہ ناسازگاری ایسے ہی ہے کہ جیسے بیمار کو دوا ناسازگار لگتی ہے اور بیمار دوائی کے ذائقہ کو پسند نہیں کرتا اور اس کا مزاج دوا سے نفرت کرتا ہے،یہ نفرت صرف دوا کے ذائقہ کی وجہ سے ہے لیکن بیمار کی عقل،فطرت اور ضمیر کی نظر میں دوا کھانا ضروری ہے اور اس زحمت کو برداشت کرنا لازم ہے اور دوائی کھانے سے گریز کرنا ناپسند اور بیوقوفی شمار کیا جاتا ہے اور اگر بیمار دوائی نہ کھائے تو اسے زبردستی دوائی کھلائی جاتی ہے۔کیونکہ یہ عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔

لیکن اگر دوائی مضر ہو تو وہ بیمار کو نہیں کھلانی چاہئے یا اگر دوائی کھانے سے تکلیف ہوتی ہو لیکن اس دوائی کو تبدیل کرنا ممکن ہو تو ماہر ڈاکٹر اور طبیب اس دوائی کو تبدیل کر دیتا ہے ،یا اگر وقت کے اعتبار سے دوائی تبدیل کرنے میں اہم مصلحت ہو تو اسے وقت کے مطابق تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

خداوند متعال نے روزه کے احکام کو بیان کرنے کے ضمن میں یہ حکم بیان فرمایا ہے کہ مسافر اور بیمار کسی اور وقت(کہ جب یہ دونوں عذر نہ ہوں) روزہ رکھیں۔ خدا پھر فرماتا ہے: «يريد الله بكم اليسر»؛ (یعنی خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے) خداوند متعال روزہ میں بھی سختی اور دشواری نہیں چاہتا بلکہ احکام و تکالیف کا کلی ہدف و مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اذیت دی جائے،انہیں تنگ کیا جائے اور انہیں مشکل میں ڈالا جائے بلکہ خداوند کریم اپنے بندوں کے لئے رؤوف و مہربان ہے۔خدا  اپنے بندوں کے امور میں آسانی چاہتا ہے اور خدا نے ان کے لئے سختی کا ارادہ نہیں فرمایا۔

اگرچہ مذکورہ اصل روزہ کے احکام کے ضمن میں بیان ہوا ہے لیکن یہ ایک کلی اصل اور قانون  ہے کہ جس کا دوسرے تمام موارد میں بھی خیال رکھا گیا گیا ہے لیکن روزہ کے احکام کے ضمن میں اسے بیان کرنے کی دلیل یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ نادان اور ناپختہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں مکلفین پر روزہ کی تشریع میں سختی سے کام لیا گیا ہے لہذا خدا نے اس توہم کو دفع کرنے کے لئے فرمایا: «يريد الله بكم اليسر»؛ بیشک اگر روزہ کو واجب قرار دے کر خدا بندوں کو تکلیف دینا چاہتا تو پھر بیماروں، مسافروں اور بوڑھوں سے روزہ کا وجوب ساقط نہ ہوتا۔

پس اے مسلمان بھائیو! خدا کا شکر کرو اور اسلام جیسی نعمت کی قدر کرو اور ماہ مبارک رمضان میں خدا کے فرمان اور حکم کو دل و جان سے قبول کرو۔

کہیں اس مہینہ میں خدا کی مغفرت و بخشش سے محروم نہ رہ جائیں: «فالشقي من حرم غفران الله في هذا الشهر العظيم»۔ کہیں کسی عذر کے بغیر روزہ چھوڑ کر اس عزیز مہینہ میں خدا کے امر کی مخالفت نہ کر دیں اور خدا کی معصیت کرکے اس حدیث شریف کے مصداق میں شامل نہ ہو جائیں: «مَن اَفطَرَ يَوماً مِن شَهر رَمَضان خَرجَ رُوحَ الايِمانِ مِنه؛ جس نے (کسی عذر کے بغیر) ماہ رمضان کے روزہ کو افطار کیا(چھوڑ دیا)،اس سے روح ایمان خارج ہو گئی.» ۔

جمعه / 5 ارديبهشت / 1399
غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (2۰)

غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (21)

 

بسم الله الرحمن الرحیم

قال الله تعالی: شَهْرُ رَمَضَانَ اَلَّذِي اُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ

* کتاب خدا سے تجدید عہد کا مہینہ

آیۂ شریفہ کی بناء پر ماہ رمضان کی کرمات و شرافت قرآن مجید کے نزول کی وجہ سے ہے بلکہ اس آیت سے یہ بھی استفادہ کیا جاتا ہے کہ اسی شرافت و فضیلت(یعنی اس مہینہ میں قرآن نازل ہونا) کی وجہ سے ہی دوسرے مہینوں میں سے اس مہینہ کو اختیار کیا گیا اور شاید اس مہینہ میں روزہ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت  نعمت کے شکر کےلئے قیام کرنا، نزول قرآن کی سالگرہ منانا، خدا کی کتاب  اور اس کی تعلیمات کے ساتھ تعلق کی تجدید کرنا اور قرآنی محافل کا انعقاد کرنا ہے تا کہ مسلمان پورے سال کے دوران ایک مہینہ میں خدا کی مقدس کتاب کی سالگرہ منائیں  اور اس مہینہ میں ’’روزہ‘‘نامی عبادت کو انجام دے کر اس کا حترام و اکرام کریں اور خدا کا شکر بجا لائیں ،قرآن کی تلاوت اور اس کی آیات کے معانی میں غور و فکر اور تدبّر و تفکّر کرتے ہوئے قرآنی علوم و معارف سے مسفید ہونے کے لئے کوشاں رہیں کہ جو دنیا و اورآخرت میں سعادت کی ضامن ہیں۔

’’قرآن‘‘كتاب حكمت، شريعت و قانون، اخلاق، توحيد و معرفت خدا اور تاريخ و عبرت ہے جس میں علوم حیاتیات، صحت، اقتصاد و معاشیات، زراعت، نجوم ، عمرانیات، معاشرت، اور نفسیات کے اصول درج ہیں.

«الْفَضْلُ ما شَهِدت بِه الأَعداءُ»(یعنی فضیلت وہی ہے کہ جس کی دشمن بھی گواہی دے) کی رو سے قرآن کی عظمت کے بارے میں چند عیسائی دانشوروں اور مادّي حضرات کے اقوال ذکر کرتے ہیں:

* قرآن کی عظمت کے بارے میں بیگانوں کی گواہی

1. كتاب «الحقيقة» کے مؤلف لبنان کے ڈاکٹر شبلی شميل (متوفّی 1917ء) رسول اعظم ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ کی مدح و ثناء میں اپنے مشہور قصیدہ میں کہتے ہیں:

دَع مِن مُحمد فِي صدي قُرآنِه * ما قَد نَحاه لِلحمةِ الغاياتِ
اِنّي وَاِن اكُ قَد كَفَرتُ بِدِينِه  * هَل اَكفُرَنَّ بِمُحْكَمِ الآياتِ
وَمَواعِظ لَو انَّهم عِملُوا بِها  * ما قَيَّدُوا العُمرانَ بِالعادات

2. ’’ناصف يازجی‘‘(متوفي 1871ء) ایک مشہور عیسائی مصنف اور اديب ہیں ،جو«طوق الحمامة» اور «مجمع البحرين» جیسی کتابوں کے مؤلف ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے ابراهيم يازجی(جن کا شمار عرب کی علمی و ادبی اور ‎لغوی نہضت کے رہبروں میں ہوتا ہے اور جو حافظ قرآن اور مجلّه «الضياء» کے بانی ہیں) کو یہ وصيّت كی ہے: «اذا شِئتَ اَن تَفُوقَ اَقرانَكَ فِي العِلْمِ وَالاَدَبِ وَصَنَاعَةِ الاِنشاءِ فَعَلَيْكَ بِحِفْظِ الْقُرآنِ وَنَهجِ البَلاغَةِ»(1)

3. استاد سنايس کہتے ہیں: قرآن ایک ایسا عالم قانون ہے کہ جس میں کسی طرح سے بھی باطل کا شائبہ نہیں پایا جاتا اور جو ہر زمان و مکان کے لئے شائستہ ہے اور اگر مسلمان اس سے متمسک ہو جاتے اور اس کی تعلیمات و احکام کے مطابق عمل کرتے تو ماضی کی طرح تمام امتوں پر برتری رکھتے۔(2)

4. برطانوی بوسور سميتھ کہتے ہیں:تاريخ میں یہ موضوع يگانه اور بے نظیر ہے كه محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله ‌و سلّم ایسی ‎كتاب لائے جو آيتِ بلاغت، شریعت کا دستور اور نماز و دين ہے۔(3)

5.فرانس  کے ڈاكٹر گوسٹاولوبون کہتے ہیں: قرآن کی اخلاقی تعلیمات،عالی آداب اور  اخلاقی بنیادوں کا خلاصہ ہیں اور یہ انجیل کے آداب سے کئی درجہ بلند ہے.(4)

6. ایڈور لوهارٹ کہتے ہیں:حكمت قرآن کا نور ایسا نور ہے جو اس پیغمبر کے سینہ پر نازل ہوا کہ جو ہدایت بشریت کے لئے مبعوث ہوئے اور  انہوں نے ایسا آئین و دستور باقی چھوڑا کہ جس کے ہتے ہوئے ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتے۔ایسا قرآن کہ جو دنیا کی مصلحتوں اور آخرت کی خیر کا مجموعہ ہے۔(5)

7. اگر قرآن میں معانی کے نور اور مبنٰی کی خوبصورتی کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ افکار پر غالب آنے اور قلوب کو مسخر کرنے کے لئے کافی تھا.(6)

8. ريتورت کہتے ہیں: واجب ہے کہ ہم یہ اعتراف كریں كه یورپ میں دسویں میں رواج پانے والے طبیعی علوم،فلکیات،فلسفہ اور ریاضیات قرآن سے اقتباس ہیں اور یورپ اسلام کا مقروض ہے.(7)

9. جويث کا کہنا ہے: قرآن اپنی فصاحت و بلاغت کی کثرت کی وجہ سے اپنے پڑھنے والوں کو اپنی خوبیوں کی طرف جذب کرتا ہے اور قرائت کی طرف اس کے شوق اور رغبت میں اضافہ کرتا ہے.(8)

10. دكتر موريس فرانسوي کہتے ہیں: قرآن سب سے افضل اور فاضل‎ كتاب ہے كه جو صناعت ازلی سے انسان و بشر کے لئے بھیجی گئی اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شكّ و شبه نہیں ہے.(9)

11. بولاتيتلر کہتے ہیں: انسان کے لئے یہ گمان کرنا دشوار اور مشکل ہے کہ قوّه فصاحت بشری قرآنی تأثير کا مالک ہے. قرآن معجزه ہے؛ کیونکہ زمین کے انسان اور آسمان کے فرشتہ اس کی مثل لانے سے عاجز و قاصر ہیں.(10)

12. اٹلی کے پروفیسر ڈاکٹر سيلقيوفرديو کہتے ہیں: قرآن کے متعلق زیادہ بحث اور اس کا تجزیہ و تحلیل کرنے والوں میں سے اکثر مشرقی تاریخ کے ماہرین ہیں اور تعصب سے دور ہیں، اور ان کا اس پر اجماع ہے کہ:اب تک کے زمانے میں انسانی خدمت کے لئے سب سے بڑا ممکن عمل قرآن ہے.(11)

13.برطانیہ کے مسٹركرنيكو (جو«اليكره» یونیورسٹی میں آداب عربی کے استاد ہیں) سے ایک مجمع میں اساتید اور ادباء نے اعجاز قرآن کے بارے میں سوال پوچھا تو انہوں نے ان کے جواب میں کہا:نہج البلاغہ کے نام سے قرآن کا ایک چھوٹا بھائی ہے۔ کیا کسی کے بس میں ہے کہ وہ قرآن کے اس چھوٹے بھائی کی مثل لے آئے تا کہ ہمارے لئے یہ جائز ہو سکے کہ ہم اس کے بڑے بھائی(قرآن) کی مثل لانے کے بارے میں بات کر سکیں.(12)

14. ليون کہتے ہیں: قرآن کی جلالت اور تمجید کے لئے یہی کافی ہے کہ چودہ صدیاں گذرنے کے باوجود اس میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوئی اور یہ اسی طرح تازہ اور زندہ ہے۔(13)

15. جيبوس کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہےجو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ عالم اسلامی کے لئے قرآن بنیادی آئین و دستور اور عام قانون ہے، دین و دنیا، سیاست و اجتماع، جنگ و تجارت، عدل و عدالت اور ہر وہ چیز کہ جس پر انسانی زندگی گردش کرتی ہے ،وہ سب قرآن کے قوانین میں فراہم کیا گیا ہے.(14)

16. ادموند يورك کہتے ہیں: قانون محمّدي ایسا قانون ہے جو سلطان سے لے کر ایک کم ترین انسان کے لئے بھی مقرر ہوا ہے، جو سب سے استوار نظام حقوق، قضاوت کے لحاظ سے سب سے وزین علمی سرمایہ اور سب سے عظیم منور و روشن تشریع ہے کہ جس کی مثل کائنات میں کہیں بھی پیدا نہیں ہو سکتی.(15)

17. الكس لوازون کہتے ہیں: محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ نے ایسی كتاب باقی چھوڑی کہ جو جدید علمی مسائل، آیت بلاغت، سجل اخلاقی اور کتابِ مقدس ہے؛ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو اسلامی کی اساس و بنیاد سے ٹکرائے، قرآن کی تعلیمات اور فطرت و طبیعت کے قوانین کے درمیان مناسبت، سازگاری اور مکمل مطابقت برقرار ہے۔(16)

18. جيمز مٹشز  کہتے ہیں:شاید دنیا میں کسی بھی کتاب سے زیادہ قرآن کے قاری ہیں(یعنی سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں) اور حتمی طور پر حفظ کے لئے یہ ہر کتاب کی بنسبت آسان ہے اور دلوں پر اس کی تأثیر سب سے زیادہ ہے۔ اس کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے سننے سے دل خاشع ہوتا ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔(۱۷)

 مذکورہ شخصیات کے علاوہ دوسرے دانشور،شعراء اور ادباء بھی ہیں جیسے: «وديع بستاني»، «خليل مطران»، «شبلي ملاط»، «سابازاريق» (شاعر فيحاء)، «حليم دموس»، «تولستوي» (روسی)، «ميس كوك»( امریکی) ، «كارلايل»(برطانوی)، «ولز» ، «مونتيه» (فرانسو)۔نیز یورپ، ایشیا اور امریکہ کے کئی دوسرے بڑے دانشور کہ  یہاں ہم ان کے اسماء کی فہرست کو ذکر کرنے سے بھی قاصر ہیں اور جنہوں نے قرآن کی عظمت اور اس کے اعجاز کا اعتراف کیا ہے۔ اہل علم میں سے ایک شخص نے اس موضوع کے متعلق ضخیم کتاب تألیف کی ہے جس میں انہوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہر قوم و ملت، ہر ملک ، ہر زبان کے دانشوروں کے اقوال انہی کی زبان اور خط میں جمع کئے ہیں اور انہوں نے انہی دانشوروں کی زبان و قلم سے اسلام کی کرامت، جامعیت اور اس دین حنیف کے امتیازات و افتخارات کی وضاحت اور تشریح کی ہے۔

حوالہ جات:

[1]. المعجزة الخالده، علاّمه شهرستاني، ص 12، مؤلّف نے یہ كتاب مرحوم آيت الله العظمي بروجردي ‎قدس‎سرّه کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی ہے. اختصار کے طور پر بھی اس کتاب کا مطالعہ قارئین کے لئے مفید ہے؛ اگر تم اپنی طرح کے سب لوگوں پر علم و ادب اور فن سخن(مثلاً نامہ نگاری اور ہر قسم کا خلق سخن)کے لحاظ سے برتری حاصل کرنا  چاہتے ہو تو قرآن اور نہج البلاغہ حفظ کرو۔

2. ایضاً، ص26.     

3. ایضاً ، ص26.

4. ایضاً ، ص26.                 

5. ایضاً ، ص27.         

6. ایضاً ، ص27.       

7. ایضاً ، ص27.       

۸. ایضاً ، ص27.                 

9. الاسلام والعلم الحديث ، ص 69.                

10. المعجزة الخالده، ص28.            

11. ایضاً ، ص 29.    

12. ایضاً ، ص 30.           

13. الاسلام و العلم الحديث، ص 69.            

14. محمّد رسولا نبيّاً، ص 89.          

۱۵. القرآن والمجتمع الحديث، ص 29.          

16. الاسلام والعلم الحديث، ص 69.                      

۱۷. ایضاً ، ص 70.

ماہ رمضان میں دعاؤں کا خزانہ
ماه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات /10)

بسم الله الرحمن الرحیم

ماہ رمضان میں روزہ داروں کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دعا و مناجات اور خدائے قاضی الحاجات سے حاجات طلب کرنا ہے۔

دعا، نا امیدی سے نجات

خدا سے ہر وقت دعا کرنا،اسے پکارنا اور اس سے خیر طلب کرنا مستحب ہے اور یہ نفسیاتی لحاظ سے توان بخش، دل کے لئے باعث فرحت و نشاط اور فکری و روحانی قوت کی تجدید کا باعث ہے۔

«دعا»، روح کی مقوی غذا ہے جو غم و اندوہ کو برطرف کرنے، پریشانیوں کو ختم کرنے، مستقبل کے سلسلہ میں امید بخش  اور ناامیدی سے نجات کا سبب ہے۔

دعا؛یعنی پروردگار کو پکارنا،اس سے مدد طلب کرنا اور خدا سے حاجتیں طلب کرنا ہے۔انسان فطری طور پر اس عظیم نعمت اور خدا کی وسیع رحمت سے بہرہ مند ہے۔

انسان کا لایزال قدرت کی پناہ میں آنا

انسان جس قدر بھی قوی اور طاقتور بن جائے لیکن اس کے باوجود مشکلات اور سختیوں میں خدا کے وجود کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی سے پناہ طلب کرتا ہے، اور مشکلات،پریشانیوں اور سختیوں سے نجات کے لئے اسی کو پکارتا ہے کیونکہ وہ سب سے برتر، سب سے بے نیاز اور سب کا کارساز ہے۔ انسانی فطرت ہی خدا کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور کار ساز اور چارہ گر نہیں ہے: «قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتاكُمْ عَذابُ اللهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السّاعَةُ اَغَيْرَاللهِ تَدْعُونَ اِن كُنْتُمْ صادِقِينَ بَلْ اِيَّاهُ تَدْعُونَ»(1)

اگر افتي به دام ابتلايي                 به جز او از كه ميجويي رهايي(2)

انسان زندگی کے اتار چڑھاؤ، حیات کے مختلف حادثات  اور دشوار و ناگوار حالات میں کبھی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں اسے اپنے لئے دعا کے علاوہ کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا اورجہاں صرف دعا ہی اس  کے ضعف اور روحانی ناتوانی کی تلافی کر سکتی ہے۔

عقدہ کشائی ؛ انسان کی ایک اہم ضرورت

ہر بیمار اور پریشان حال شخص کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،ان میں سے ایک «دعا» ہے۔ ہر بیمار اور پریشان شخص کو کسی دوست کی بھی ضرورت ہوتی کہ جس سے وہ اپنا درد دل بیان کر سکے اور اسے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرے ،اسے اپنی مشکلات بتائے  اور  اس وقت اس کے دل میں جو بات آئے وہ اس کے سامنے بیان کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہی ’’عقدہ کشائی‘‘ ہے یعنی کسی سے اپنا درد دل بیان کرنا ۔

دعا کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ مؤمن خدائے مہربان و سمیع سے اپنے راز، درد دل، رنج و مصائب اور اپنی افسردگی بیان کرتا ہے اور بغیر کچھ چھپائے اپنی سب پریشانیاں خدا سے کہہ دیتا ہے، اور اس سے چارہ جوئی کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کسی کی دوسرے شخص کی بنسبت اس سے زیادہ نزدیک ہے اور وہ اس کے آہ و نالہ کو سنتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے۔

دعا کرنے کے بعد بندۂ مؤمن یہ محسوس کرتا ہے کہ  اس کے اندرونی درد کم ہو گئے ہیں، اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے ۔

حقیقت میں اگر دعا نہ ہوتی ، یا  اگر دعا تک بندوں کی رسائی نہ ہوتی تو وہ کسی سے اپنا درد دل، اپنی مشکلات اور پریشانیاں بیان نہیں کر سکتے تھے۔ ان حالات میں زندگی کتنی تلخ اور ناگوار ہو جاتی اور انسان کی یہی کیفیت اسے اذیت دیتی۔

نعمت دعا کا شکر کرنا لازم ہے

ہمیں «دعا» جیسی نعمت کی وجہ سے خدا کا شکر کرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔

دعائے «ابو حمزه» میں ذکر ہوا ہے: «اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِي اَدعُوهُ فَيُجِيبُنِي وَاِن كُنتُ بَطِيئاً حِينَ يَدعُونِي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اسے پکارتا ہوں ؛ پس وہ مجھے جواب دیتا ہے ، اگرچہ میں اس کے جواب کے وقت (جب وہ مجھے پکارتا ہے) سستی کرتا ہوں۔»

اور ہم اسی دعا میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اَسْئَلُهُ فَيُعْطِيَنِي وَاِنْ كُنتُ بَخِيلا حِينُ يَسَتَقْرِضُنِي؛ حمد وثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اس سے مانگتا ہوں ، پس وہ عطا کرتا ہے ؛ اگرچہ جب وہ مجھے سے قرض مانگتا ہے تو میں بخل اور کنجوسی سے کام لیتا ہوں۔»(3)

اس خوبصورت دعا کے دوسرے جملوں میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اُنادِيهِ كُلَّما شِئتُ لِحاجَتِي وَاَخلُو بِه حَيثُ شِئتُ لِسِرِّي بِغَيرِ شَفِيع فَيَقضِي لِي حاجَتي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں جب بھی چاہوں اسے اپنی حاجت کے لئے پکارتا ہوں اور کسی شفیع کے بغیر  اس سے راز و نیاز کے لئے خلوت کرتا ہوں ۔ پس وہ میری حاجت کو پورا کر دیتا ہے.»

جی ہاں! دعا ہمت کو بلند اور ارادہ کو محکم و استوار کرنے کا باعث ہے اور یہ بڑے حادثات اور مصائب و مشکلات میں انسان کو پائیدار بنا دیتی ہے۔

دعا؛ تذکیہ و تہذیب نفس، خدا کے سامنے دعا کرنے والے کے فقر اورضرورت کو بیان کرنے، تواضع و فروتنی جیسی صفات کے راسخ ہونے اور غرور و تکبر سے نجات کا ذریعہ ہے۔

دعا اور اس کے آثار و برکات اور اس کی شرائط و آداب کے بارے میں ہم یہاں حق سخن ادا نہیں کر سکتے اور اس کے علاوہ یہ میرے جیسے ناتوان اور ضعیف انسان کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔

«دعا کی فضیلت» کے بارے میں روایات میں سے ایک یہ روايت ہے: «الدُّعاءُ مخُّ العِبادة؛دعا حقیقت بندگی و عبادت ہے.»(4)

نيز دیگر حديث میں وارد ہوا ہے: «اَلدُّعاءُ سلاحُ المُؤمِنِ وَعَمُودُ الدِّينِ وَنُورُ السَّماواتِ وَالاَرْضِ؛ دعا مؤمن کا اسلحہ،دین کا ستون اور آسمان و زمین کو نور ہے.»(5)

ماه رمضان،دعا کی بہار

یہ واضح ہے کہ ماہ رمضان دعاؤں کی بہار اور دعاؤں کا موسم ہے۔اس مہینہ میں ناامید، شکست خوردہ،پریشان حال،مضطر، بے حال، بے صبر اور تکلیف میں مبتلا افراد دعا کی برکت اور خدا کی وسیع رحمت کی جانب توجہ کرتے ہوئے امیدوار، بردبار، خوشحال  اور بانشاط ہو جاتے ہیں اور ایک نئے عزم  و ارادہ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور حیات کے امور انجام دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان یہ نوید سناتا ہے کہ اس دنیا کی کش مکش، مشکلات اور پریشانیوں کے مقابلہ میں شکست نہ کھائیں اور دنیا کے حادثات سے گھبرا کر مغلوب نہ ہو جائیں۔

دعائے ابو حمزہ، دعائے افتتاح اور دوسری دعاؤں کی قرائت انسان کو اس قدر پرجوش اور معنویت سے سرشار کر دیتی ہیں کہ انسان دنیا کے تمام مصائب بھول جاتا ہے اور اس کا وجود روشن مستقل کی امید میں غرق ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ایسی دعائیں (جو ماہ رمضان میں وارد ہوئی ہیں ،دوسری مناسبات اور دوسرے مہینوں میں بھی ان کے  بہت زیادہ نمونے ہیں) مؤمن کی سلاح اور مؤمن کی ڈھال ہیں جو اس کے وجود کو حادثات سے بچاتیں ہیں اور اس کی روح کو غیر قابل نفوذ قرار دیتی ہیں۔

پوری دعائے ابو حمزہ حقیقی اخلاق کے لئے اسلحہ ہے جو رضا و تسلیم، قناعت ، توکّل، خدا و پیغمبر اور اولیاء دین کی محبت سے سرشار ہے۔ وہی  دعا ایسا اسلحہ اور  ڈھال ہے کہ جس کے ذریعے مجاہدین اسلام خدا کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے لئے جاتے اور مختلف قسم کے اسلحوں سے لیس دشمن کو شکست  دیتے ہیں اور جس کے ذریعے اسلام کو کفر پر غلبہ دیتے ہیں۔

محترم قارئین اور عزیز روزہ دارو! اس مہینہ کی دعاؤں سے مستفید ہوں ۔  وقت کو غنيمت شمار کریں ۔ فرصت کو ضائع نہ کریں کیونکہ: «الفرصة تمرّ مرّ السّحاب»(6) خدا سے گفتگو کریں، راز و نیاز کریں ، اس کی مدح و ثناء کریں کیونکہ وہی مدح و ثناء کے لائق ہے۔ دعا سے رو گردانی نہ کریں اور تکبر کا اظہار نہ کریں که خداوند تبارک و تعالي قرآن کريم میں فرماتا ہے: «اِنَّ الَّذِينَ يَستَكبِرُونَ عَن عِبادَتِي سَيَدخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين»(7)

 

حوالہ جات:

[1]. سوره انعام، آيه 40 اور 41؛ «آپ ان سے کہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آ جائے تو کیا تم اپنے دعوی کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے؟نہیں تم خدا کو ہی پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے اور تم اپنے مشرکانہ خداو۷ں کو بھول جاؤ گے.

2. مرحوم آيتالله والد قدّس سرّه مؤلف ’’گنج دانش‘‘ کے کلام سے مأخوذ.

3. اس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ: (مَن ذَاالَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرضاً حَسَناً).

4. حديث نبوي; بحارالانوار، ج 93، ص 300.

5. كافي، ج 2، ص 468.

6.فرصت بادلوں کی طرح گذر جاتی ہے۔

7. سوره غافر، آيه 60؛ اور یقیناً جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

ماه رمضان، عہد الٰہی کی تجدید کا مہینہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے سلسلہ وار نوشتہ جات(ا)

 

ماه رمضان، عہد الٰہی کی تجدید کا مہینہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے سلسلہ وار نوشتہ جات(ا)

بسم‌الله الرّحمن الرّحیم
قال‌الله تعالی: «یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ»(1)

سب سےہم  پہلے تمام مسلم امّہ اور امت اسلام کی خدمت میں ماہ مبارک رمضان کی مناسب سے تبریک پیش کرتے ہیں جو اولیاء اللہ اور اصفیاء اللہ کی عید، قرائت قرآن کریم کی بہار، مساجد میں حاضر ہونے کا موسم، ضیافت الٰہی اور اسلامی تعلیم و تربیت کے لئے پھر سے کھل جانے والا سب سے بڑا اور عام مدرسہ ہے کہ جس میں بوڑھے و جوان، مرد و زن، خاص و عام، استاد و شاگرد، افسر و مزدور،شہری و دیہاتی، سیاست دان اور فوجی سب ہی شامل ہوتے ہی۔

یہ ایسا مدرسہ ہے کہ جس کی بڑی کلاسیں مساجد، نماز با جماعت، وعظ و نصیحت کی مجالس، معارف و احکام کی تبلیغ اور سب کی ہدایت  پرمشتمل ہیں اور جو کوئی بھی علم و معرفت کے جس درجہ پر فائز ہو وہ اس میں شرکت کا شرف پاتا ہے اور سب سے بڑھ کر قطب عالم امکان، عدل یگانۂ قرآن حضرت صاحب الزمان مولانا المہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ان میں حاضر ہوتے ہیں  اور اس مہینہ میں متواتر نازل ہونے والی رحمتوں اور الٰہی عنایات سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔

اور اس مدرسہ کی چھوٹی کلاسیں گھر اور انفرادی کمرے ہیں اور ان کی درسی کتابیں قرآن مجید، نہج البلاغہ، احادیث شریفہ، صحیفۂ کاملہ، دعائے افتتاح اور دعائے ابوحمزہ ثمالی جیسی جامع و معرفت بخش دعا ہے۔

بیشک یہ بزرگ مہینہ کس قدر جامع ہے۔ خدا نے امت اسلام کو اس مہینہ کی صورت میں خودسازی کا سنہری موقع  دیا ہے اور   بہترین فرصت عطا کی ہے جس کے لئے ہمیں خدا کا  بے حدشکرگذار ہونا چاہئے۔

ہمیں اس ہدایت کی قدر و اہمیت کو پہچاننا چاہئے اور اس کے حقائق کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور دعاؤں کے معانی میں تفکر کرنا چاہئے۔ اس مہینہ کے روزوں اور دعاؤں نے ہمارے معاشرے ، مختلف امور کے عہدیداروں، ، امیروں ، غریبوں، علماء و دانشوروں،مصنفین  اور سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو جو پیغام دیئے ہیں ،ہمیں انہیں دل و جان سے سننا چاہئے۔

میرے عزیز بھائیو اور بہنو!خدا جانتا ہے کہ اب جب کہ میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے یہ تحریر لکھ رہا ہوں،میں ماہ رمضان کے جمال کو اس قدر خوبصورتی سے مشاہدہ کر رہا ہوں اوراس قدر ایمان و  لذت محسوس کر رہا ہوں کہ میں جس کی توصیف بیان کرنے سے عاجز ہوں۔مجھے یہ کہنا چاہئے کہ اگر مجھ جیسا ناچیز و حقیر بندہ ماہ مبارک و شریف کے جمال کا یوں مشاہدہ کر رہا ہے  تو پھر اہل اللہ اور اس مہینہ کے معانی اور اس کے آداب سے زیادہ سے زیادہ  آگاہی رکھنے والے اس مہینہ کے جمال کا کس طرح سے مشاہدہ کرتے ہوں گے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ائمهٔ اطہار علیهم السلام اس عزیز ماہ کا کس حد تک مشاہدہ کرتے ہوں گے جب کہ یہ ہستیاں بذات خود جمال اسلام کا ایک جلوہ ہیں۔

بھائیو اور بہنو!اس دین، اسلام،قرآن، اسلامی تشخص، اپنی اسلامی عزت، ماہ مبارک رمضان اور ولایت اہلبیت علیہم السلام پر فخر و مباہات کریں۔ اس ماہ مبارک میں اسلام، قرآن اور احکام خدا سے تجدید عہد کریں اور اسلامی عزت،دین خدا،اخلاق اور اسلامی سنتوں کو عزیز رکھیں اور ان کا احترام کریں۔ اس مہینہ کی مختلف تقریبات اور مساجد میں شرکت کریں اور اس دین اور سلامی شعائر کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کریں؛جہاں کہیں بھی ،جس شہر اور دیہات میں بھی اہل علاقہ مسجد کو خالی چھوڑ دیں تو وہ مسجد خدا سے وہاں کے لوگوں کی شکایت کرے گی۔

اس مہینہ  میں اور دوسرے تمام مہینوں میں بھی اعمال میں سب سے افضل عمل گناہ و معصیت اور حرام چیزوں کو ترک کرنا ہے۔اپنا خیال رکھیں اور احتیاط کریں کیونکہ اسلام کے دشمن اسلامی تشخص و وقارکو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور ہمیشہ سازشیں کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔آزادی  کے نام پر، انسانی حقوق کے نام  پر ، عورت اور مرد  کے درمیان برابری کے نام پر اور دوسرے طریقوں سے ہمیں اسلام سے دور کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔وہ لوگ اپنے ایجنٹوں ، زہر آلود قلم ،مختلف پروپیگنڈوں ،عورتوں اور مردوں کے تعلقات  اور احکام خدا پر اعتراضات کے ذریعہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنا پر پیش کر رہے ہیں۔ ہوشیار رہیں،اپنے مقامات پر کھڑے ہوں اور اسلامی سنتوں کی جانب محکم نگاہ کریں۔

دوسرے لوگ اگرچہ انجینئرنگ،ٹیکنالوجی اور استکبار کے لحاظ سے طاقتور ہو گئے ہیں اور وہ اپنی طاقت اور مال و دولت کے ذریعہ اپنی فاسد ثقافت کو دنیا پر حاکم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اخلاق، انسانیت، حیاء، شرافت ،ضمیر و وجدان اور انسانی کرامت کے لحاظ سے بہت پست ہیں، جس کی کوئی بنیاد نہیں اور جو «یَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَیَاهِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَهِ هُمْ غَافِلُونَ»(2) اور «... اُولَئِکَ کَالانْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ...»(3) کے مصداق ہیں۔ ان کی اقدار ،حقیقی اقدار کے برخلاف ہیں،ان کا ہنر عیب ہے، وہ ایسے ایسے ظلم و ستم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ جن کی انسانی تاریخ میں کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی، انہیں کسی سے کوئی شرم و حیاء نہیں ہے اور وہ خود کو متمدن سمجھتے ہیں۔ ایسی دنیا میں اسلام اور اسلامی احکام پر ایمان رکھنے والوں کو غور و فکر کرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے  اور انہیں اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔

آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے، اور اپنے لئے یہ واجب سمجھیں کہ اس دھونس اور زور زبردستی کے مقابلہ میں دفاع کے لئے تیار رہیں اور ضروری اسلحہ سے مسلح و لیس رہیں  اوراسلام،اخلاق اور آداب و سنن اسلام کے خلاف  ان کی ثقافتی یلغار  کو  ہلکا نہ سمجھیں ۔دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے اسلامی استقلال حتی کہ ظاہری لباس اور رائج عادات و رسومات کی بھی حفاظت کریں اور صرف اسلام اور اسلامی احکام کے بارے میں غور و فکر کریں اور اسلامی اقدار کی حفاظت میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ وعدۂ الٰہی ہے: «وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَاَنْتُمُ الاعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِینَ»(4)

 

حوالہ جات:
۱۔ اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھ دیئے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ۔(سوره البقره،آیه 183)
۲۔یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخر کی طرف سے بالکل غافل ہیں!(سوره الروم،آیه 7)
۳۔اور یقیناً ہم نے انسان اور جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں۔یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.(سوره الاعراف،آیه 179)
۴۔ سستی نہ کرنا، مصائب پر محزون نہ ہونااگر تم صاحب ایمان ہو تو سربلندی تمہارے لئے ہی ہے!(سوره آل عمران،آیه 139)

ماه رمضان، سب کے لئے اخوت و بھائی چارہ کا مہینہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (11)

ماه رمضان، سب کے لئے اخوت و بھائی چارہ کا مہینہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (11)

 

ماہ مبارک رمضان میں واقع ہونے والے تاریخی واقعات اور مناسبتوں میں سے ایک عقد اخوت و برادری ہے۔

شیخ مفید (1)کے قول کے مطابق ماہ مبارک رمضان کے بارہویں دن پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اصحاب کے درمیان عقد اخوت قائم کیا، نیزآپ نے اپنے اور علی علیہما السلام کے درمیان بھی عقد اخوت  قائم کیا۔

اسلام اخوّت و بھائی چارہ، برادری ، ہم فکری اور مساوات کا دین ہے جو دنیا والوں کو ایک خاندان کے اعضاء شمار کرتا ہے۔اسلام  رنگ و نسل، فقر و ثروت،حکومت اور دنیاوی امور کو ایک دوسرے پر برتری کا سبب قرار نہیں دیتا۔ اسلام نے لوگوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا   اور  برتری کا معیار صرف «تقویٰ» کو قرار دیا۔ ایک ایسا معیار  جو ہرگز  غرور و تکبر ، بدسلوکی اور دوسروں سے دوری کا سبب نہیں ہو سکتا۔

عقیدۂ توحید اس دین کا  مرکزی پہلو اور مخلوق خدا کے ساتھ بھائی چارہ اور برادری کا منبع و مأخذ ہے ۔توحید کے عقیدہ سے برھ کر کوئی مادّہ و غذا، کوئی عقیدہ اور کوئی عادت و خصلت بھی انسان کی سعادت اور نیک بختی کے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔ قرآن كريم میں ارشاد ہے: «إِنَّ هذِهِ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً واحِدَةً وَاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ»(2)

قرآن نے لوگوں کے درمیان مال و دولت، مقام و منصب، حکومت، تعداد، رنگ و نسل، موازنہ اور مقابلہ کو معیار قرار نہیں دیا۔

عرب اور عجم، کالے اور گورے سب برابر ہیں؛  کیونکہ یہ لوگ قرآن اور انسانی و اسلامی حقوق کے لحاظ سے برابر ہیں۔ انسان کی انسانیت اور آدمیت کا کام ان امور سے وابستہ نہیں ہے۔

قرآن نے لوگوں کے درمیان موازنہ کرتے وقت تقویٰ و عبادت اور ایمان کو فضیلت کا میزان و معیار قرار دیا ہے۔ اسلام اور خدا پر ایمان کا رنگ ایک ایسا رنگ ہے جو ہر کسی کے لئے شائستہ ہے چاہے وہ عورت ہو یا مرد، غنی ہو یا فقیر، ایشیائی ہو یا یورپی، عرب ہو یا عجم۔ اسلام کا رنگ انسانی فطرت کا رنگ ہے جو ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے  اور دوسرے رنگوں کو اس میں حائل نہیں کرنا چاہئے۔  یہ رنگ؛ وطن، قوم و ملت اور زبان کی طرح تفرقہ اور جدائی کا سبب نہیں ہے کیونکہ یہ کسی خاصّ قوم اور کسی خاص ملک کے لوگوں سے مخصوص نہیں ہے۔

اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا نے حقوق کے لحاظ سے کسی قوم و ملت کو دوسروں پر برتری نہیں دی  گئی اور فلاح و کامیابی کسی ایک ملک یا قوم سے مخصوص قرار نہیں دی گئی، نیز اسلام نے یہ بھی اعلان کیا ہے انسانی کرامت و شرافت کے اعتبار سے سب برابر کے شریک ہیں اور یہ انسانی کرامت کسی رنگ و نسل یا قوم و ملت سے مختص نہیں ہے۔

حلق سے قومیت اور میلت کی آوازیں نکلنا اصل انسانی شرافت و کرامت کے برخلاف ہے۔ نیز یہ صحیح منطق، سچے ادیان اور اسلام کی مقدس تعلیمات کے منافی ہے۔

ایسی آوازوں  نے انسانوں میں صرف نفاق و منافقت، بغض و کینہ اور تفرقہ و جدائی کے بیج بوئے ہیں اور ایسی صدائیں بلند کرنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ نفاق و اختلاف کے منادی ہیں۔

اسلام کی تعلیمات دلوں میں محبت و اخوت کے بیج بوتی ہیں اور تعاون و ہمدردی کی طرف انسانیت کی ہدایت کرتی ہیں۔

قرآن مجید نے اس اخوت کا ذکر کیا ہے کہ جو مسلمانوں کو اسلام کے سایہ میں نصیب ہوئی، جس نے اختلافات کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کے دلوں میں الفت کا بیج بویا اور مسلمانوں کو اِعْتِصامِ بِحَبْلِ الله کا حکم دیااور ایک مختصر اور معنی سے بھرپور جملہ«اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌ»(3) کے ذریعہ مسلمانوں میں اخوّت و بھائی چارہ ایجاد کیا یا انہیں اخوت و برادری کا پیغام دیا۔ پس اگر لوگوں کے درمیان آپس میں اخوّت و بھائی چارہ نہ ہو تو وہ مؤمن نہیں ہیں۔

اصحاب پيغمبر کے درمیان عقد اخوت

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم نے اپنی دعوت کے آغاز سے ہی دینی اخوّت پر بہت زور دیا اور بے حد توجہ کی اور آپ اسے مسلمانوں کے زندہ سماج اور معاشرے کا ایک اہم رکن اور اہم ستون قرار دیتے تھے اور اس کے ذریعہ آپ نے بغض و کینہ اور مختلف اقوام اور قبائل میں دیرینہ دشمنی کا خاتمہ کیا۔

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم نے مکمل ہمبستگی ،اسلامی شعور کے بیدار ہونے اور دوسری حکمتوں کے لئے جو کام انجام دیئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے مہاجرین کے ہر دو افراد کے درمیان عقد اخوت قائم کیا  اور اسی طرح آپ نے مہاجرین و انصار میں سے بھی ہر دو افراد کے درمیان عقد اخوت قائم کیا۔

مہاجرین و انصار میں جن کے درمیان مماثلت پائی جاتی تھی اور جن کے افکار اور نظریات ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے ؛ انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا گیا۔ اور حقیقت میں اس کام سے قبائل اور خاندان ایک دوسرے سے متصل ہو گئے۔

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم کا یہ اقدام سیاسی و معاشرتی  لحاظ سے اور نومولود اسلامی سماج کے درمیان اتحاد اور ایک دوسرے سے پیوستہ ہونے کے لئے بہت مفید تھا جو عالمی  انسانی سماج  اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے  اخوت و بھائی چارہ  کا باعث بنا۔

بارہا عقد اخوّت

تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ عقد اخوت و مؤاخاۃ مکرر طور پر واقع ہوا۔

1. ایک مرتبہ مہاجرین کے درمیان عقد اخوت قاتم کیا گیا جیسا کہ بحارالأنوار(جدید طبع) ج ۳۸، ب۶۸، ص۳۳۳ میں یہ «ابن عمر» سے روایت کیا گیا ہے۔

2. مدینہ میں داخل ہونے کے موقع پر مدینہ منورہ میں ہی مہاجرین و انصار کے درمیان عقد اخوت قائم کیا گیا۔جیسا بحارالأنوار، سیرۂ ابن ہشام اور دوسری کتابوں میں نقل ہوا ہے۔

3. اس آیت «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَة» کے نزول کے وقت ۔جیسا کہ بحار  الأنوارمیں امالي شيخ سے روایت کیا گیا ہے۔

4. «يَوْمُ الْمُباهَلَة» کے موقع پر. جیسا کہ سفينة البحار، ج1، ص12 میں روایت ہوا ہے.

اہم اور دلچسپ موضوع

اس مودّت ساز اور محبت آفرین موقع پر دلچسپ اور اہم بات یہ تھی کہ پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم نے حضرت علی بن ابیطالب علیہما السلام کو اپنا بھائی بنانے کے لئے منتخب کیا۔

پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  نے سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور بہت سے مؤرخین اور محدّثین کے بقول پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم نے ہم رتبہ لوگوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔

اس بناء پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم اپنے لئے بھی کسی بھائی کا انتخاب فرماتے۔ اور ہاں! جو اس مقام کے لائق ہو،وہ کون ہے؟ اور جو پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم کے قریب اور(مقام نبوت کے علاوہ) ہم رتبہ  ہو،وہ کون سی شخصیت ہے؟

جی ہاں! علی علیہ السلام کے سوا کوئی اور اس مقام کے لائق نہیں تھا کہ جن کے بارے میں پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  نے فرمایا: «اَنْتَ مِنّي بِمَنْزِلَةِ هارُونَ مِنْ مُوسي اِلاّ اَنَّهُ لا نَبِيّ بَعْدي»(4)

یہ انتخاب، وحی اور خدا کے انتخاب کی بنیاد پر تھا۔ خدا نے پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  اور علی علیہ السلام کے کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا جیسا کہ «لَيْلَةُ المبيت»،(جس رات مشرکین پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم کو قتل کرنا چاہتے تھے تو علی علیہ السلام نے اپنی جان ،پیغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  کی جان پر قربان کی اور آنحضرت کے بستر پر سو گئے) کے موقع پر (اہلسنت کی معتبر کتابوں میں موجود شرح کی روشنی میں)خدا نے جبرئیل اور میکائیل پر کی گئی وحی کے ضمن میں فرمایا:«اَفَلا كُنْتُما مِثْلَ عَليّ بْنِ اَبي‌طالِب اخَيْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُحَمَّد»(5)

 

حوالہ جات:

۱۔ مسار الشيعة شیخ مفید ره، ص 28.

2. سوره انبيا، آيه 92؛ بیشک تمہارا دین ایک ہی دین اسلام ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہو لہذا میری عبادت کرو۔

3. سوره حجرات، آيه 10 : حقیقت میں مؤمنین آپس میں بھائی ہیں.

4. اے علی !آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی و پیغمبر نہیں ہو گا۔

5. المسترشد، ص 261؛‌ الغدير، ج2، ص48؛ عمده ابن بطريق، فصل 30، ص123 و 125؛ خصائص الوحي المبين ابن بطريق، فصل6، ص6؛ کيا تم علی بن ابي‌طالب کی مانند نہیں  ہو (اور ان کی قربانی و فداکاری سے درس نہیں لیتے) اور اسی وجہ سے میں نے انہیں اور محمد صلي الله عليه و آله وسلّم کو بھائی قرار دیا.

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها