بسم الله الرحمن الرحیم يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ و أَكْثِرُوا  الدُّعَاءَ بِتَعْجِيلِ الْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِكَ فَرَجُكُم‏   دلـم ز هجـر تو ای یار خـوب رو...
سه شنبه: 1399/01/19 - (الثلاثاء:13/شعبان/1441)
ماہ شعبان المعظم ؛ دعاؤں کا مہینہ ۔ ماہ شعبان المعظم کی آمد کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الوارد کے نوشتہ جات سے مأخوذ

بسم الله الرحمن الرحيم
«قالَ رَبُّکُمُ ادْعُوني‏ أَسْتَجِبْ لَکُم»(۱)
اللّهُمَّ صَلِّ عَلَي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ لاسِيّمَا عَلي وَلِيّکَ الْمُحْيي سُنَّتَکَ القَائِمِ بِأمْرِکَ الدَّاعِي إلَيکَ الدَّليلِ عَلَيکَ. اللّهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَهُ وَ سَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَ ارْزُقْنَا لِقَائَهُ وَ اجْعَلْنَا مِنْ أنْصَارِهِ وَ أعْوَانِهِ

 

 ماہ مبارک شعبان کی آمد کی مناسبت سے آپ سب کی خدمت میں تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں ۔ یہ برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے، مبارک اعیاد ، اور انوارِ الٰہیہ کی تجلی کا مہینہ ہے ۔   

 

یہ مبارک مہینہ دعا اور فرجِ آل محمد علیہم السلام طلب کرنے کا بہت مناسب اور بہترین موقع ہے ۔ نیز یہ ظہور ( امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) میں تعجیل ، انبیاء عظام ، تمام اقوام و ملل ، بالخصوص مستضعفین اور اس عادلانہ عالمی و  توحیدی و اسلامی حکومت کے مشتاق افراد سے وعدۂ الٰہی کے متحقق ہونے کی درخواست کرنے ، تعظیم شعائر ، احیاء امر اہل بیت علیہم السلام ، حیات ولائی کے اعلان اور دعا و مناجات کا سنہری موقع ہے  ۔

 

اس پورے مہینہ میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل اور آپ کے اعلیٰ مقامات و درجات  کا ذکر زبان سے منقطع نہیں ہونا چاہئے۔ مجالس و محافل اور تقاریر و خطبات میں سب کو عوالمِ قرب اور معنوی کمال کی طرف تشویق دلائی جانی چاہئے  اور بالخصوص اس پورے مہینہ میں سب لوگوں کو خلوت و جلوت میں انفرادی یا اجتماعی طور پر حضرت بقیۃ اللہ مولانا الامام المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کرنے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ۔

 

حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور آپ  کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا ؛ تمام انسانیت کے لئے دعا ہے ، اور یہ تمام اقوام و ملل ، قبائل ، قوی و ضعیف ، عالم و جاہل اور غنی و فقیر کے لئے دعا ہے ۔

 

امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور اور اس یگانہ خلیفۂ الٰہی ، تمام انبیاءِ مرسلین (علیہم السلام ) اور ائمہ طاہرین (علیہم السلام )  کے خلفِ یکتا کے امرِ فرج میں تعجیل ؛ سب لوگوں کے لئے جہالت ، ضلالت ، گمراہی اور ظلم و جور سے نجات ہے ۔

اسلامی تعلیمات اور اولیائے دین کی ہدایات و تعلیمات کا ایک اہم حصہ خدا سے دعا و مناجات کرنے اور خدا کو پکارنے کی تاکیدات پر مشتمل ہے ، یہاں تک کہ فرمایا گیا : « الدُّعاءُ مُخُّ العِبادَةِ ؛ عبادت و پرستش کا مغز (نچوڑ)  دعا ہے ۔ » (۲)

 

قرآنی آیات اور احادیث و روایات میں خدا کو اسماء حسنیٰ سے پکارنے اور دعا کرے کی مؤکد تاکیدات کی گئی ہیں :

«وَ للهِ الأسْماءُ الْحُسْنى فَادْعُوهُ بِها» (۳) ۔ اسماء الحسنیٰ میں سے کسی بھی اسم سے دعا کرنے کے خاص آثار و اثرات اور معرفت کے بزرگ پیغام ہیں ۔

 

دعا دل کو منوّر کرتی ہے ، ظلمت و تاریکی کو دور کرتی ہے ، بندہ کو بلند کرتی ہے اور اس کے عروج کا باعث بنتی ہے ۔ اگر یہ دعا سب لوگوں کی حاجتوں اور سب کی خیر و سعادت کے لئے ہو تو اس کا اجر و فضیلت زیادہ ہے ، اور اگر ولیِ امر حجت خدا کے لئے دعا کی جائے تو ہمارے لئے اس کے اجر و فضیلت کو درک کرنا قابلِ تصور نہیں ہے ۔ حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے دعا ؛ تمام جنّ و انس اور ملائکہ میں سے تمام موجودات کے لئے دعا ہے ۔ آپ کا فرج و گشائش (درحقیقت ) تمام انبیاء و اولیاء الٰہی اور عدل و انصاف  ، علم و دانش  ، بیداری ، امن و امان اور آسائش کی آرزو رکھنے والوں کے لئے فرج و گشائش ہے ۔

 

اس کے بزرگ فوائد اور عظیم آثار کو شمار نہیں کیا جا سکتا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے نقل ہونے والی بعض منقول دعاؤں کے معنی ومطالب اور ہدایات کے بارے میں لب کشائی نہیں کی جا سکتی  ۔

 

دعا مکتب ہے ، دعا درس اور سب کے لئے الٰہی دانشگاہ ہے ، دعا خدا و پیغمبر اور امام کی معرفت کا درس ہے ۔ حضرت صاحب الامر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے دعا کے پروگرام مزید وسیع اور عام ہونے چاہئیں اور بالخصوص اس مبارک مہینہ میں ان کا انعقاد ہونا چاہئے تا کہ سب لوگ ماہِ شعبان کی برکتوں ، رحمتوں اور نیمۂ شعبان کی عید سے مستفیض ہو سکیں ۔ نیز نیمۂ ماہِ شعبان کی رات ؛ باعظمت ، پُربرکت اور انبیاء و اولیاء کے یگانہ موعود کے میلاد کی رات ہے ۔ یہ رات بہت ہی بافضیلت اور شب قدر کی راتوں بلکہ شب قدر کی راتوں میں سے ایک (معین ) رات کے ہم پلہ ہے ۔ امید ہے کہ مؤمنین کی دعاؤں اور ان کے تعجیل فرج کی دعا کے اصرار سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور و فرج کے اسباب فراہم ہوں ۔ اللّهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَ وَلِيکَ وَ حُجَّتِکَ وَ صَلِّ عَلَيهِ وَ عَلى آبَائِهِ الطَّاهِرينَ وَ اجْعَلْنَا مِنْ أنْصَارِهِ وَ أعْوَانِهِ ۔

سب کو ماہ شعبان المعظم بہت مبارک ہو ۔ 

 

حوالہ جات :

۱ ۔ سورۂ غافر ، آیت ۶۰ ۔ ’’ اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو ، میں قبول کروں گا ‘‘ ۔

۲ ۔ وسائل الشیعہ : جلد ۷ ، باب ۲ ، حدیث  ۸۶۱۵ ۔

۳ ۔ سورۂ اعراف ، آیت : ۱۸۰ ۔ ’’ اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں لہذا اسے ان ہی کی ذریعہ پکارو‘‘ ۔

فاطميه ؛ باطل پر حق کی فتح
ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا تعلق اس اہلبیت عصمت و طہارت سے ہے کہ جن کے وجود کی وجہ سے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(1)

یعنی اگر ہم نہ ہوتے تو خداوند متعال نہ تو آدم کو خلق  کرتا اور نہ حوا کو، نہ تو جنت کو خلق کرتا اور نہ جہنم کو، نہ تو آسمان کو خلق  کرتا اور نہ زمین کو۔
حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے:

«فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(2)

یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(3) (میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیاہے)

اور دوسری حدیث میں فرمایا:«لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(4). (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا)

انسان بالکل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خداوند متعال کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں کہ میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور پوری کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا ؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(5)

یعنی ہم نے تمہیں اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تمہاری معرفت کا حق تھا۔

یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہ جاؤن کیونکہ اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے. نیز آپ نے فرمایا:«لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں کوئی چیز تعلیم نہ دو ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ یہ تم سب لوگوں سے اعلم ہیں.

اب اہلبيت عصمت و طہارت عليہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله عليہا کے درمیان ایک خاص محوریت ہے؛ ملاحظہ فرمائیں کہ جب اہلبیت علیہم السلام کا تعارف کروایا تو سیدۂ دو عالم جناب زہراء سلام اللہ علیہا مرکزیت کی حامل ہیں «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(6)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے لحاظ سے مقام امامت پر فائز  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا :«إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا»  اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں:

 «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(7) گرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضَبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(8) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:

«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(9)

اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ اس کا مؤلف سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته.»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے کلمات اور بالخصوص آپ کا وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ لوگوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہیں اور آنحضرت نے دنیا تک عورت کی کرامت اور حقیقی مقام پہنچایا اور فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد،جہالت و گمراہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہےاور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔

 اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

حوالہ جات:
۱۔ عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج1، ب26، ح22.
۲۔ نهج البلاغة، نامه28.
۳۔ الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص710.
۴۔ بحار الانوار؛ ج15،ب1، ح48.

۵۔ بحار الانوار؛ج68،ب61، ح1.
۶۔ عوالم العلوم، ص933.
۷۔ نهج البلاغة، خ233.
۸۔ صحيفه امام رضا عليه السلام، ص45،ح22.
۹۔ البرهان متقي هندی، ص94.

چهارشنبه / 18 دى / 1398
«بهار خزان» امّ ابيها حضرت زهرا سلام الله عليها کی شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر

«السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَكِ‏ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ بِهِ صَابِرَةً»
اے بی بی خداوند عالم نے آپ کو اپنے سخت اور دشوار امتحان پر صابر پایا! اے دختر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ!
آپ کے صبر پر خدا کا درود و سلام ہو؛

آپ کے ایمان پر خدا کا درود و سلام ہو؛ آپ کے پدر گرامی نے فرمایا: «إِنَّ ابْنَتِي فَاطِمَةَ مَلَأَ اللهُ قَلْبَهَا وَ جَوَارِحَهَا إِيمَاناً وَ يَقِيناً؛ بیشک خداوند نے میرے بیٹی فاطمہ کے قلب اور اعضاء و جوارح کو ایمان اور یقین سے بھر دیا ہے. »

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی مدظله العالی کے دفتر کی ویب سائٹ کی جانب سے «بهار خزان» کے عنوان سے محبان جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے کچھ مطالب پیش خدمت ہیں تا کہ سیدۂ دو عالم کی رضائیت حاصل کی جا سکے:

* شرح سيلي (طمانچوں کی شرح؛حضرت زہراءعليہاالسلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے اشعار)

* فاطميه، باطل پر حق کی فتح (ایّام فاطمیہ کی تکریم میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر)

* فاطمه کون ہیں؟ (حضرت فاطمه زہراء عليہاالسلام کی شخصیت کے بارے میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی تحریر)

 

شرح سيلي(طمانچوں کی شرح)
اي دخـــت گــرامـي پـيمبر * اي سرّ رســول در تو  مـضمر
در بـيت شريف وحي، خاتـون * بــر چــرخ رفــيع مَجد اختر
اي شبه نبي به خلق و اوصاف  * اي نــور مـجسّــم مــصــوّر
اي خـــادم خــانه‌ي تـو حوّا * و اي حاجــب درگه تو هاجـر
در طــورِ لــقا يــگانـه بانو * در مُـلك وجود زيــب و زيـور
بــا شــير خــدا عـليّ عالي * هـم‌ سـنگر و هم پيام و همســر
مانند تو زن جهان‌ ‌نديده‌‌است  * غــمـخوار و نـگاهبانِ شـوهــر
اي عــين كمال و جان بينش * اي ‌شخص‌ شخيـص عصمت ‌و فرّ
بـر رفـعت قدر تو گواه است * بــيت و حجــر و مقــام و مشعر
اي ســيّــده زنــان عــالـم *اي بــضــعه حــضــرت پيمــبر
تـو اصلي و ديگران همه فرع * تــو جـاني‌ وديــگران چـو پيكر
در مُـــلــك وَلا ولــيّـة الله* بـر نــخلِ وجـــود احمـــدي بَر
قــرآن بــه فـضيلت تو نازل* بـــرهان تــو مـــحكم و مقــرّر
روي تــو جــمال كــبريايي* كـــوي تـــو رواق قُـــرب داور
از جوي تو شبنمي است زمزم* و از بحــر تو شعبــه‌اي ‌است ‌كوثر
زآن خـطبه آتشين كه پيـچيد * در ارض و سـمــا بســـان ‌تـنـدر
مـحكوم شد آن نظام و گرديد* حــق روشن و غــالب و مظـــفّر
مـن عاجزم از بــيان وصفت * تـــو بحري و مـــن ز قطره كمتر
اي امّ مــحـامـد و مـعــالي * اي از تــو مــشام جـــان معـطّر
بــا اين ‌همه عزّ و رفعت شأن* بـا آن همـــه فخر بي حــد و مرّ
از ظــلـم مــنافـقين امّــت* شــد قــــلـب مـنــير تـو مكدّر
آن را كــه نـمـــود حــقّ مقدّم* كـــردند مــعانــدان مـؤخّر
بردند فــدك ‌به ‌غصب و بسـتند * بــر بــاب تو گفته ‌‌اي مـزوّر
افســوس شكست دشمــن ‌دين‌ * پـهلوي تو را بــه ضربـت در
بـــازوي تـو را به تــازيـــانه * زد قــنفذ مــــلحد سـتـمگر
از سيلــي و شـرح آن نگـــويم* كــافتد بـه دل از بيــانش آذر
در مــاتــم مـحســن شهيـدت * مايــيم به ســوگ و ناله اندر
بر لــطفي صافــي از ســر لطف* بنگـــر كه بُوَد پريش و مضطر
بس فخــر از آن كنـــد ‌كه دارد * بر سـر ز سـتــايش تـو افسر

 

ایّام فاطمیہ میں مجالس عزاء کا انعقاد

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليك يا بنت رسول الله ،  السلام عليك يا سيدة نساء العالمين. اللّهمّ صلّ علی السّيدة الزکية فاطمة الوليّة، اللّهمّ صلّ عليها و أبيها و بعلها و بنيها وا ُمّها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين.

﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾.[۱]

سب سے پہلے ہم حضرت صديقهٔ کبري فاطمۀ زهراء سلام الله علیها و علي أبيها و بعلها و بنيها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين کی شہادت کی مناسبت سے آپ تمام محترم بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

اور امید کرتے ہیں کہ ہم سب حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا سے توسل کی برکات سے بہرہ مند ہو کر  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی رضائیت حاصل کر سکیں ۔ نیز ہم گفتار و رفتار اور قول و عمل سے مذہب و معارف اہلبیت علیہم السلام کی ترویج اور عزت کا باعث بنیں ۔

حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجالس عزاء بہت اہمیت کی حامل ہیں ۔ یہ مجالس امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل کو شاد کرنے اور آپ کی رضائیت کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ ان کے ذریعے آپ اسلام اور تشیع کی عزت کے اسباب فراہم کرتے ہیں ۔ مذہب تشیع اور دین اسلام کی بقاء حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے وجود کے وسیلہ سے ہے ۔

’’حضرت زہراء سلام اللہ علیہا السلام کی شخصیت‘‘ ؛ اس موضوع کے بہت وسیع پہلو ہیں اور اس بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے ، پھر بھی بحث کبھی اختتام پذیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ وہ ذات ہے کہ جس کی معرفت و شناخت کے لئے اس کے مشہور و معروف خطبے پر غور و فکر کرنا ہی  کافی ہے ( البتہ یہ بھی ہماری عقل و فہم کے مطابق ہے ، ورنہ ہم اس عظیم خطبے کے اہم مطالب و مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ۔ مجھ جیسا شخص اور مجھ سے بلند پایہ اور بالا تر حضرات اُس طرح سے اس خطبے کے عمق تک نہیں پہنچ سکتے کہ جس طرح اس کے عمق تک پہنچنے کا حق ہے )۔

بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا خطبہ عظیم معجزات میں سے ہے ۔ اس معجزہ کا مادی اور حسّی و ظاہری معجزات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ؛ جیسے مردوں کو زندہ کرنا ۔ ان بہت سخت اور دشوار حالات میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں جا کر اعلیٰ مطالب و مضامین پر مشتمل بالبدیہہ ایسا عظیم خطبہ دینا اہلبیت علیہم السلام کے معجزات میں سے ہے ۔

اس خطبہ کے ضمن میں حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا ایک جملے میں گلہ و شکوہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

«مَا هَذِهِ الْغَمِيزَةُ فِي حَقِّي» ؛  [۲]

«میرے حق میں تمہارا یہ ضعف کیسا ہے؟» ۔

حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا کا اب  بھی یہی شکوہ ہے ۔ اب بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی تمام مسلمانوں سے یہی کہہ رہی ہے کہ مسلمان ؛ قرآن مجید ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام ، حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، نافذ نہ ہونے والے اسلامی احکام ، حجاب ، عفت ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے بارے میں کیوں کمزوری دکھاتے ہیں ؟ اب بھی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی بیٹی حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی یہی فریاد ہے کہ تم دین کی مدد و نصرت کرنے میں کیوں سستی کا مظاہرہ کرتے  ہو ؟ (یعنی تم دین کو کیوں اہمیت نہیں دیتے ؟) ۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے اور اپنی ذات کے لئے فکر مند نہیں تھیں ؛ خدا جانتا ہے کہ حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور آج کے دور  میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو صرف دین اور احکام دین کی فکر ہے کہ آخر دین کے احکام کیوں نافذ نہیں ہوتے ۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی یہی فرماتی تھیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف بھی یہی فرماتے ہیں ۔ جب احکام دین میں سے کسی کو پامال کیا جاتا ہے تو خدا جانتا  ہے کہ یہ کس قدر پریشان ، محزون اور غمگین ہوتے ہیں ۔ آئیں ! اور فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ  تعالی فرجہ الشریف کے دل کی پریشانی کو کم کریں ۔

میں آپ سب کی توفیقات کے لئے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ سب کی خدمات اور زحمات بارگاہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف میں مقبول ہوں   اور وقت کے امام خود آپ کے لئے دعا کریں اور آپ کے لئے توفیقات طلب کریں ۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کروں ، کیونکہ ان مجالس وعزادری  اور فرش عزاء کے صاحب خود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں  ۔ ان مجالس سے امام راضی و خوشنود ہوتے ہیں اور ان کے دل سے حزن کم ہوتا ہے ۔ جو کوئی بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل سے یہ پریشانی اور غم و اندوہ کم کرے وہ خدا کا ولی اور دوست ہے ۔

یہ مجالس شعائر دين ہیں اور تقوائے قلب کی نشانی ہیں :

﴿ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‏﴾.[۳]

اپنی قدر و اہمیت کو پہچانیں ۔ انسان کے دل میں وارد ہونے والے یہ الہامات اور توجہات بے مقصد نہیں ہیں ؛ بلکہ ان کا تعلق عالم غیب سے ہے ، ان کا تعلق دلوں میں حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے تصرفات  سے ہے ۔ اور ان کے ذریعے سے آپ کی اہلببیت اطہار علیہم السلام سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔

ان مجالس کا انعقاد کرنے والے اور ان میں شرکت کرنے والے لائق تحسین ہیں اور ہم ان کے شکرگذار ہیں ۔

آج فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی رضائیت کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ آج اس طرح سے عمل کریں کہ وقت کے امام ہم سے راضی و خوشنود ہو جائیں اور یہ فرمائیں کہ میرے شیعہ کتنے اچھے ہیں ، میرے دوست کس قدر اچھے ہیں ۔ خداوند متعال ہم سب کو یہ توفیق عنائت فرمائے اور ہم سب کے گذشتگان پر رحمت فرمائے اور آپ کو آپ کی ان خدمات کا احسن اجر عطا فرمائے ۔

والسلام عليکم ورحمة الله وبرکاته

حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے پیغامات سے اقتباس

 

 


[1]. سورۂ حج  ، آیت : ١٥٨ ۔ «یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے  گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہو گی » ۔

[۲]. طبری امامی، دلائل الامامه، ص120؛ ابن‌شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج2، ص50؛ طبرسی، الاحتجاج، ج1، ص139؛ مجلسی، بحار الانوار، ج29، ص227 ۔

[۳]. سورۂ حج ، آیت : ٣٢ ۔

ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی دام ظلہ العالی کے نوشتہ جات سے اقتباس 

ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی دام ظلہ العالی کے نوشتہ جات سے اقتباس 

اہل بیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے مقام و مرتبہ کی عظمت اور آپ کے وجود کی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور اس بارے میں کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے ؛ وہ اہل بیت علیہم السلام کے طفیل و تصدق سے ہے ۔ اور جب انسان ان ہستیوں کے علاوہ کسی اور کی کہی ہوئی کسی بھی بات پر غورکرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی منبع سے متصل نہیں ہیں اور ان کی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔

مکتب اہل بیت علیہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہو ۔ کیونکہ اگر ان سے آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر ان سے پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے ۔

حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کی خاص عظمت اور آپ کی محوریت

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهل بيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے ۔

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله اور قرآن کے حکم کی رو سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں ۔ نیز آپ اہل بيت عليهم السلام میں سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔

حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام ؛ اصل کے عین مطابق نسخہ

حضرت زہرا سلام الله عليها مقام نبوت کے علاوہ اخلاق ، علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آپ کی سيرت اور کردار و گفتار بھی دين و شریعت میں احكام الٰهی کی دلیل ہے۔

آپ علم و ہدایت کے معنی میں مقام امامت پر فائز  تھیں اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

خطبۂ فدکیہ ؛ حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کا ایک عظیم معجزہ

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے ؛ اگرچہ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن اس وقت کا ماحول اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ آپ اس طرح کا جامع  ، ناطق ، منہ توڑ اور جاودانہ خطبہ دیں ۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ خطبہ اہل بيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے ۔ لہذا  دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی کتاب بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا ہے ۔

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے بے شمار فضائل ہیں ۔ اور اس حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اطمینان و تسکین دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا  : ’’أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ مَنْك ‘‘ ؛ اے فاطمہ ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں ۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

 ایّام فاطميه،مواضعِ فاطمه،سيرتِ فاطمه، زهدِ فاطمه، عبادتِ فاطمه، علم و حكمتِ فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ جو سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے ۔ رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں ۔

لوگوں  کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے ۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا السلام کے فرمودات و ارشادات اور بالخصوص آپ کے معجزات میں سے وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے ۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون اور پيغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یگانہ دختر حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہونے چاہئیں  ۔ آپ نے عورت کی کرامت اور حقیقی مقام کو دنیا تک پہنچاتے ہوئے فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام ۔

فاطمیہ ؛ یعنی ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنا

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں ، اجنبیت ،گناہ و فساد اور جہالت و گمراہی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت ، علم و بيداري ،  آگاهي و عدالت ، مساوات ، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہے  اور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور ہمیں  خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کو  اپنی اہم ترین ذمہ داری قرار دینا چاہئے ۔

فاطمه (علیهاالسلام)،اصل کے عین مطابق نسخہ
(ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات)

 

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟

فاطمه عليهاالسلام  اہلبيت کی وہ فرد ہیں کہ جن کے لئے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا ہے ، رسول خدا صلوات الله عليه وآله نے فرمایا ہے: «لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(۱) اور حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے: «فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(۲) یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(۳) دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے: «لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(۴).انسان بالکل یہ سمجھ نہیں سکتا کہ خداوند عالم کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں: تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور تمام کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(۵)

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اہلبيت عليهم السلام کے طفیل و تصدق سے ہے۔ان کے علاوہ  دوسروں کے کہے ہوئے پر جب انسان غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی منبع سے متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ہر چیز مكتب اہلبيت عليهم السلام میں موجود ہے چونکہ پيغمبر صلي الله عليه و آله نے فرمایا ہے: «إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» یعنی ہر چیز اہلبيت سے اخذ کرو اور ان کے علاوہ کسی اور سے نہ لو۔

 رسول اکرم صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ ان سے پیچھے رہو ، اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گےنیز آپ نے فرمایا: «لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں مت سکھاؤ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ وہ تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں.

اب اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مرکز و محور رکھتی ہیں ۔آپ ملاحظہ کریں کہ جب اہلبيت عليهم السلام کا تعارف کروایا جا رہا ہے تو انہیں مرکزیت حاصل ہے: «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(۶)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے معنی میں  مقام امامت پر فائز تھیں  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا : «إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا» اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں: «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(۷) اگرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضِبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(۸) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:
«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(۹) اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے:

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ جو سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیںکہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے فرمودات و ارشادات اور بالخصوص آپ کے معجزات میں سے وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہونے چاہئیں ۔ آپ  نے  عورت کی کرامت اور اس کے حقیقی مقام کو دنیا والوں تک پہنچاتے ہوئے فرمایا : بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں ۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد اور جہالت و گمراہی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہے  اور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔ اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

منابع:
۱. عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج۱، ب۲۶، ح۲۲.

۲. نهج البلاغة، نامه۲۸.

۳. الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص۷۱۰.

۴. بحار الانوار؛ ج۱۵، ب۱، ح۴۸.

۵. بحار الانوار؛ ج۶۸، ب۶۱، ح۱.

۶. عوالم العلوم، ص۹۳۳.

۷. نهج البلاغة، خ۲۳۳.

۸. صحيفه امام رضا عليه السلام، ص۴۵،ح۲۲.

۹. البرهان متقي هندي، ص۹۴.

ملکۂ صبر و شجاعت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کی ایک تحریر

 

زینب؛ جی ہاں زینب، چار حروف پر مشتمل ایک اسم،لیکن یہ انسانیت کے ان تمام فضائل اور اقدار کا مجموعہ ہے جو خداوند کریم نے سورۂ احزاب کی پینتیسویں آیت میں عورتوں اور مردوں کے لئے شمار کئے ہیں۔

یہ ذات ایمان، علم و معرفت،صبر و صداقت اور استقامت و شجاعت کا اسوہ و نمونہ ہے، اور یہ وہ خاتون ہے جو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زبان اور مکارم اخلاق کے لحاظ سے اپنی ماں جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی اوصاف کی حامل ہے۔ اس ہستی پر صرف مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ پوری امت اسلام(چاہے خواتین ہوں یا مرد) نازاں ہے۔

اس ہستی کی سیرت،حجاب، عصمت و عفّت، عبادت اور عظمت و بزرگی سب افتخارانگیز ہیں۔ آپ بلند مرتبہ اور اعلیٰ منزلت پر فائز ہیں اور آپ نے ہمیشہ اسلام کی حمایت اور دینی اقدار کا دفاع کیا۔ نیز آپ نے تاریخ کے مستکبرین کی حکومت پاش پاش کر دیا اور اس طرح سے زمانے کے مستکبرین کا سر کچل دیا کہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا کوڑا دان بنی امیہ کا مقدر بن گیا ، اور انہیں دنیا کی نظروں میں نفرت انگیز اور تمام حریت پسندوں کی نظر میں لعنت و نفرت کا مستحق قرار دے دیا۔

حق یہ ہے کہ اس ذات اقدس نے اسلام کی عظمت، بنی ہاشم کی شان و شوکت اور افتخارات، اپنے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید کی پاسداری کی، اسلام و قرآن اور دین و توحید سب اس ہستی کے شکرگذار ہیں۔ اگر یہ ذات نہ ہوتی تو تاریخ کس طرح اوراق میں ثبت ہوتی، اس چیز کا تصوریقیناً بہت وحشت انگیز اور خوفناک ہے۔

دور حاضر میں مرد اور خواتین سب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مکتب سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ اس عظیم الشأن خاتون نے اپنے جاہ و جلال سے شجاعانہ طور پر اسلام اور قرآن کا دفاع کیا اور باطل، ظلم، الحاد، استبداد اور جبر و ستم کو سرنگوں کیا اور حق کے پرچم کو سربلند کیا۔ آج دنیا آپ کی حیات اور سیرت سے درس لینے کی محتاج ہے۔

امید ہے کہ آج کی مسلمان خواتین حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں اور اپنے تمام دینی ع شرعی امور میں اسلام کی اس عظیم خاتون سے درس لیں اور  دنیا کے سامنے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اور اسوہ پر افتخار کرتے ہوئے اس ہستی  کے ولائی اور معنوی پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ اور ہم آخر میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شان میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

پنجشنبه / 12 دى / 1398
ولادت با سعادت امام حسن عسكري عليہ السلام

ہمارے گيارہويں امام جن كا تعلق خاندان پيغمبر(ص) اور خاندان حضرت زہرا(س) سے ہے ، آپ ۲۲ سال كي عمر ميں منصب امامت پر فائز ہوئے اور امت كے نجات و ہدايت كي باگ ڈور سنبھالي اور صاحب منصب ولايت قرار پائے ۔ ۶سال يہ منصب آپ كے ہاتھوں ميں رہا اور پھر ۲۹ سال كي عمر ميں اپنے اجداد طاہرين كي طرح جام شہادت نوش فرمايا ۔ 
امام حسن عسكري عليہ السلام كے بہت سے فضائل نقل كئے گئے ہيں ، آپ كا اخلاق ، طريقہ عبادت ،لوگوں كے ساتھ رابطہ بالخصوص اپنے چاہنے والوں پر آپ كي عنايات اور دشمنوں كے ساتھ خوش اخلاقي كا مظاہرہ وغيرہ ، جن ميں سے ہم چند خصوصيات كو يہاں پر ذكر كر رہيں ہيں ۔ 
عبادت امام 
محمد بن اسماعيل ناقل ہيں : جس وقت امام حسن عسكري عليہ السلام زندان ميں تھے ،آپ دن ميں روزہ ركھتے اور رات عبادت ميں بسر كرتے تھے ، گفتگو نہيں كرتے تھے اور عبادت كے علاوہ آپ كي اور كوئي مشغوليت نہيں تھي ۔
(اعيان الشيعہ،ج/۴،ص/۳۰۵)
امام عسكري عليہ السلام كي ايك نصيحت

امام حسن عسكري عليہ السلام كے بچپن ميں ايك بار بہلول نے آپ كو گلي ميں بچوں كے درميان روتے ہوئے ديكھا جبكہ ديگر بچے كھيل ميں مشغول تھے ۔ بہلول نے سوچا كہ امام كے رونے كا سبب يہ ہے كہ آپ كے پاس بچوں كي طرح كھلونا نہيں ہے ۔ پھر بہلول نے حضرت سے كہا : كيا آپ چاہتے ہيں كہ آپ كے لئے كھلونے خريد لاؤں تاكہ آپ بھي كھيليں ؟ 
حضرت نے جواب ديا : ہم كھيل كود كے لئے پيدا نہيں ہوئے ہيں ، بہلول نے پوچھا : پھر كس لئے خلق كئے گئے ہيں ؟ 
حضرت نے جواب ديا : افحسبتم انما خلقناكم عبثاً و انكم الينا لا ترجعون (سورہ مومنون ،آيت/ ۱۱۵) 
ترجمہ : كيا تمہارا خيال يہ تھا كہ ہم نے تمہيں بيكار پيدا كيا ہے اور تم ہماري طرف پلٹا كر نہيں لائے جاؤ گے ۔ 
پھر بہلول نے امام سے كہا كہ كچھ نصيحت كريں ، امام عسكري عليہ السلام نے چند اشعار كے ذريعہ نصيحت كي اور پھر غش كر گئے ، جب غش سے افاقہ ہوا تو بہلول نے پوچھا : آپ كو كيا ہوا ، آپ تو بچے ہيں اور گناہوں سے بھي پاك ہيں ؟ حضرت نے جواب ديا : بہلول مجھے تنہا چھوڑ دو ! جس وقت ميري ماں آگ جلا رہي تھي تو ميں نے ديكھا كہ بڑي لكڑياں چھوٹي لكڑيوں كے سہارے جلتي ہيں ۔۔۔ مجھے ڈر ہے كہ كہيں ميں جہنم كي چھوٹي لكڑياں نہ بن جاؤں ۔ 
(ائمتنا ، ج/۲، ص/۲۶۹ منقول از نور الابصار ، ص/۱۵۱)
كريم آقا 
محمد الشاكري كا بيان ہے : حضرت كم خوراك تھے ، ايك بار حضرت كے سامنے انجير ، انگور اور ہلو جيسے پھل ركھے ہوئے تھے ، حضرت نے ان ميں سے ايك دو پھل كھانے كے بعد فرمايا : يہ پھل اپنے بچوں كے لئے لے جاؤ ، ميں نے پوچھا : سارے پھل ، آپ(ع) نے فرمايا : سب 
محمد الشاكري كہتے ہيں : ميں نے اپني پوري عمر ميں آپ سے كريم كسي كو نہيں پايا ۔ 
(بحارالانوار ، ج/۱۲، ص/۱۵۸)

حضرت فاطمه بنت اسد سلام الله علیها کی رحلت کی مناسبت سے تعزیت و تسليت

«السَّلَامُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ الْهَاشِمِيَّةِ السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الصِّدِّيقَةُ الْمَرْضِيَّةُ السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا التَّقِيَّةُ النَّقِيَّةُ السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْكَرِيمَةُ الرَّضِيَّةُ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا كَافِلَةَ مُحَمَّدٍ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا وَالِدَةَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مَنْ ظَهَرَتْ شَفَقَتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مَنْ تَرْبِيَتُهَا لِوَلِى اللهِ الْأَمِينِ السَّلَامُ عَلَيْكِ وَ عَلَى رُوحِكِ وَ بَدَنِكِ الطَّاهِرِ السَّلَامُ عَلَيْكِ وَ عَلَى وَلَدِكِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّكِ أَحْسَنْتِ الْكَفَالَةَ وَ أَدَّيْتِ الْأَمَانَةَ وَ اجْتَهَدْتِ فِى مَرْضَاةِ اللهِ وَ بَالَغْتِ فِى حِفْظِ رَسُولِ اللهِ عَارِفَةً بِحَقِّهِ مُؤْمِنَةً بِصِدْقِهِ مُعْتَرِفَةً بِنُبُوَّتِهِ مُسْتَبْصِرَةً بِنِعْمَتِهِ كَافِلَةً بِتَرْبِيَتِهِ مُشْفِقَةً عَلَى نَفْسِهِ وَاقِفَةً عَلَى خِدْمَتِهِ مُخْتَارَةً رِضَاهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّكِ مَضَيْتِ عَلَى الْإِيمَانِ وَ التَّمَسُّكِ بِأَشْرَفِ الْأَدْيَانِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً طَاهِرَةً زَكِيَّةً تَقِيَّةً نَقِيَّةً فَرَضِى اللهُ عَنْكِ وَ أَرْضَاكِ وَ جَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَكِ وَ مَأْوَاكِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد»

  

يعقوبی اپنی تاریخ میں کہتے ہیں : حضرت ابو طالب علیہ السلام کی زوجہ حضرت فاطمه بنت اسد علیہا السلام ، پيغمبر خدا (صلی الله علیه و آله) کا خیال رکھتی تھیں اور جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا : «آج میری ماں وفات پا گئیں» اور آنحضرت نے انہیں اپنے پیراہن کا کفن دیا ۔ اور جب آپ کی قبر کھودی گئی  اور لَحَد تک پہنچے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھودا اور  لَحَد سے خاک باہر نکال کر خود اس میں لیٹے اور پھر خدا کی بارگاہ میں یہ دعا کی  : »الله الَّذی یُحیی ویُمیت وهُوَ حیُّ لا یَموت اغْفِرْ لِاُمَّى فاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ وَلَقِّنْها حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْها مُدْخَلَها، بِحَقِّ نَبيِّكَ مُحَمَّدٍ وَالْأَنْبياءِ الَّذينَ مِنْ قَبْلي فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرّاحِمينَ»؛

«خدا وہ ذات ہے کہ جو زندہ کرتی ہے اور موت دیتی ہے اور وہ (ایسا) زندہ ہے کہ جسے (کبھی)موت نہیں آئے گی ۔ خدایا ! اپنے پیغمبر محمد اور مجھ سے پہلے انبیاء کے وسیلے سے میری ماں بنت اسد (جو مجھ سے میری ماں کی طرح محبت کرتی تھی اور میرا خیال رکھتی تھی) کی مغفرت فرما ، انہیں حجت اور صحیح اعتقادات کی تلقین فرما ، ان کی برزخی زندگی اور سکونت کو گشائش دے کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے »۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے پہلے کبھی ایسا عمل نہیں کیا تھا اور جب آپ سے اس لطف و کرم کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا :

«میں نے انہیں اپنا پیراہن پہنایا تا کہ انہیں بہشتی لباس پہنایا جائے ، اور میں ان کی قبر میں لیٹا تا کہ ان کے فشارِ قبر میں کمی آئے ؛ کیونکہ ابو طالب کے بعد وہ میرے لئے خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ مہربان تھیں »۔ 

یعقوبی کی روایت کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا گیا : يا رسول الله! فاطمه (بنت اسد) کی وفات پر آپ کے حزن میں شدّت پائی گئی تو آپ نے فرمایا :

«إِنّها کانَتْ اُمّي إِن کانَتْ لَتُجيعُ صِبْيانَها وَ تُشْبِعُني، وتَشْعِثُهُمْ وَتُدْهِنُني، وَكانَتْ اُمّی».

«بیشک وہ میری ماں تھیں ۔ وہ پانے بچوں کو بھوکا رکھ کر مجھے سیر کرتیں تھیں ، ان کے بچوں کے بال بکھرے ہوتے تھے لیکن مجھے سنوارتی تھیں ؛ ہاں ! وہ میری ماں تھیں»۔ 

منبع: آیة الله العظمی صافی گلپایگانی دامت‌برکاته کی کتاب «رمضان در تاریخ» سے اقتباس

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها