بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین و الصّلوة و السّلام علی سیّد الأنبیاء و المرسلین أبی القاسم المصطفی محمّد و آله الطیبین الطاهرین سیّما بقیة الله فی الأرضین عجّل الله تعالی فرجه الشریف. عَنْ أَبِي عَبْدِ الله عليه‌السلام قَالَ: «...
دوشنبه: 1397/09/26 - (الاثنين:9/ربيع الثاني/1440)

ولادت با سعادت حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام

۸ ربيع الثاني سن ۲۳۲ ہجري امام علي نقي عليہ السلام كے گھر ميں گيارہويں امام حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام كي ولادت ہوئي ، آپ كي والدہ ايك با تقويٰ خاتون تھيں جن كا نام حديث يا سليل لكھا گيا ہے ۔ (بحارالانوار ، ج/ ۵۰، ص/ ۲۳۶)
ولادت كے بعد سن ۲۴۳ ہجري تك آپ مدينہ ميں رہے اس كے بعد اپنے والد بزرگوار كے ساتھ عباسي دارالحكومۃ شہر " سُرّ من راي" چلے گئے اور وہاں اپنے والد كے ہمراہ عسكر نامي علاقہ ميں ساكن ہوئے اسي وجہ سے آپ كو عسكري كہا جاتا ہے ۔ 
اس لقب كے علاوہ آپ كے بہت سے القاب ہيں جيسے صامت ، ہادي ، رفيق ، زكي ، نقي وغيرہ ، اور يہ سارے القاب آپ كے پسنديدہ صفات كي نشاندہي كرتے ہيں ۔ آپ كي كنيت ابو محمد تھي جبكہ عام طور پر آپ كو اور آپ كے باپ ، دادا كو ابن الرضا كے لقب سے لوگ ياد كرتے تھے ۔ (بحارالانوار ، ج/ ۵۰، ص/ ۲۳۶)
امام حسن عسكري عليہ السلام كے ايك بڑے بھائي تھے جن كا نام محمد تھا ۔ جناب محمد اتنے بلند و والا مقام تھے كہ شيعہ انھيں ان كے باپ كا جانشين تصور كرتے تھے چونكہ وہ اپنے والد كے سب سے بڑے فرزند بھي تھے ليكن امام علي نقي عليہ السلام نے اپنے قريبي اصحاب كو اس بات كا اشارہ ديا تھا كہ ان كے بعد امام ان كے بيٹے حسن عسكري ہوں گے ۔ پھر جناب محمد كا جواني ہي ميں انتقال ہو گيا اور ان كي قبر بغداد اور سامرا كے درميان واقع ہے ۔ آج بھي لوگ ان كے قبر كي زيارت كرنے كے لئے آتے ہيں اور اپني مراديں مانگتے ہيں اور خداوند عالم ان كے طفيل ميں سب كي مراديں پورا كرتا ہے  
ان كي وفات كے بعد لوگ سمجھ گئے كہ امام نقي عليہ السلام كے بعد امام ابو محمد حسن عسكري (ع) ہوں گے اور پھر امام نقي عليہ السلام نے ان كے جنازے پر امام حسن عسكري عليہ السلام كو مخاطب قرار دے كر فرمايا كہ بيٹا خدا كا شكر بجا لاؤ كہ تمہارے متعلق خدا نے نيا فرمان صادر كيا ہے ۔ ( بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۴)
شايد اس روايت ميں نئے فرمان سے مراد يہ ہے كہ امام حسن عسكري عليہ السلام كي امامت كو لوگوں نے بلا ترديد قبول كر ليا ورنہ امام كي امامت تو روز ازل سے معين تھي اس سلسلے ميں بہت سي روايتيں بھي وارد ہوئي ہيں جن ميں چند روايتيں يہاں پر نقل كي جا رہي ہيں ۔ 
علي بن عمر نوفلي ناقل ہيں : امام علي نقي عليہ السلام كے ہمراہ ان كے گھر پر تھا كہ اتنے ميں وہاں سے ابو جعفر كا گزر ہوا ميں نے پوچھا آپ كے بعد ہمارے امام يہي ہيں ؟ امام نے فرمايا : نہيں ، تمہارے امام حسن ہيں ۔ (بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۲)
علي بن عمرو عطار ايك روايت ميں كہتے ہيں : جناب محمد كي زندگي ميں حضرت امام علي نقي عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ہوا ، ميرا خيال تھا كہ محمد گيارہويں امام ہيں اس لئے عرض كي : مولا! آپ پر قربان جاؤں ميں آپ كے كس فرزند كو امام سمجھوں ؟ امام نے فرمايا : جب تك ميں كوئي فرمان نہ صادر كروں كسي كو نہيں ، اس كے بعد پھر ہم نے ايك خط لكھ كر دريافت كيا كہ امامت كا حقدار كون ہے تو امام علي نقي عليہ السلام نے لكھا : ميرے بڑے فرزند ابو محمد ، ابو جعفر امام حسن عسكري عليہ السلام سے چھوٹے تھے ۔ (بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۴)
اس كے علاوہ بھي بہت سي روايات ميں امام حسن عسكري عليہ السلام كے امامت كي تصديق كي گئي ہے ۔ 

پنجشنبه / 22 آذر / 1397
حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام سے یہ درس سیکھنا چاہیئے:
دین شناس حضرات کی خدمت میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی ضرورت
(حضرت عبد العظیم حسنی کی ولادت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کا بیان)

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام؛ رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظیم ذریت اور علی و بتول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ آپ علماء علوم اہلبیت علیہم السلام کی معروف شخصیات، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بزرگ صحابہ اور اسرار ائمہ اطہار علیہم السلام کے محارم میں سے ہیں۔اور چونکہ ظاہری طور پر آپ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے سلسلۂ نسب میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی طبقہ میں ہیں لہذا آپ آنحضرت کے اصحاب میں سے بھی ہیں۔ اگرچہ ایک روایت کی بناء پر آپ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانہ کو درک نہیں کیا ہے لیکن یہ قوی احتمال ہے کہ آپ نے آنحضرت کی خدمت کو درک کیا ہے.

اسلام کی اس عظیم شخصیت کے الٰہی اور ہمیشہ باقی رہنے والے کارناموں میں سے ایک اپنے وقت کے امام کی خدمت میں عرض دین کا مسئلہ ہے( یعنی آپ امام کے حضور اپنے دینی عقائد بیان کرتے تھے تا کہ امام عقائد کی تائید و تصحیح فرمائیں)۔ ایک ایسی شخصیت جب ’’عرض دین‘‘ کا اقدام کرے تو اس سے عقائد کی تصحیح کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، چاہے یہ واجب الاعتقاد ہوں یا اس سے بھی زیادہ۔

حضرت عبد العظیم حسنی علیہ السلام جیسی عظیم اور بزرگ شخصیت نے کتاب و سنت کے بارے میں اپنے تمام علم و آگاہی اور کتاب خطب امیر المؤمنین علیہ السلام کی تألیف کے باوجود یہ لازم جانا کہ اپنے وقت کے امام کی خدمت اقدس میں اپنے ان عقائد کو بیان کریں کہ جن کے آپ سو فیصد قطعی و حتمی اور یقینی طور پر معتقد تھے تا کہ امام علیہ السلام ان عقائد کی تصدیق کریں اور آپ اپنے امام علیہ السلام سے ان عقائد کے صحیح ہونے کی تائید دریافت کریں۔ اس رو سے دوسرے لوگوں کو بطریق اولٰی عرض دین جیسے اہم مسئلہ پر زور دینا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ اطمینان کے لئے قرآن و حدیث اور علوم اہبیت علیہم السلام کے علماء (جنہوں نے بزرگوں سے علم حاصل کیا ہے)میں سے کسی ایک عالم کے سامنے نہیں بلکہ متعدد علماء کے سامنے اپنے عقائد بیان کرنے چاہئیں۔

اس کے لئے مکمل تواضع اور عاجزی سے باخبر، مورد اطمینان، صحیح و غلط اور کامل و ناقص میں تشخیص دینے والے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں۔

ہمارے زمانے میں ہم سب اور بالخصوص نوجوان نسل، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے عزیز  اور دیندار طلباء کو عرض دین اور دین شناسی جیسے اہم مسئلہ کی جانب مکمل توجہ کرنی چاہئے یعنی قرآن کریم اور احادیث اہلبیت علیہم السلام کے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں اور دین کی تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ تحریف و تأویل، تصرف اور اعمال میں  اپنے ذاتی سلیقوں اور متعدد وجوہات کی بناء پر لوگ دین  کی تعلیمات دے رہے ہیں منجملہ بعض مغرب زدہ افراد عقائد اور دینی تعلیمات دینے میں مشغول ہیں کہ جو خود کو روشن فکر شمار کرتے ہیں اور جن کی اپنی کوئی علمی صلاحیت نہیں ہے لیکن وہ دینی امور کے ماہر بنے بیٹھے ہیں۔ انٹرویو، کانفرنس، تقاریر اور مقالات و مضامین لکھ کر اسلامی اقدار، لوگوں کے عقائد اور شرعی احکام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دکھاوا کرتے ہیں کہ روشن فکری کا مطلب ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل، دینی اصطلاحات اور صرف قرآن و سنت تک ہی محدود نہ رہا جائے ۔ یہ نام نہاد روشن فکر حضرات متمدن دنیا میں علماء اور فقہاء کی علمی کاوشوں کو ردّ کرتے ہیں اور انہیں موجودہ زمانے کے مشرقی یا مغربی تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتے نیز وہ بعض شرعی، سماجی اور عدالتی آئین پر اعتراض کرتے ہیں اور عقائد میں بھی اپنی خاص عارفانہ اصطلاحات سے کتاب و سنت کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ المختصر یہ کہ وہ ایسی راہ پر چل رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی یہ راہ و روش جاری رکھی تو وہ بہت سے دینی فرائض کو پامال کر دیں گے۔

انبیاء کا اہم اور عظیم کام یہ تھا کہ انہوں نے خدا کی طرف لوگوں کی تبلیغ کی، انہیں مؤمن بنایا اور انہیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کا پابند بنایا۔یہ ایک ایسا کام تھا جو کسی بھی طبقہ کے برجستہ اور فکری نوابغ انجام نہیں دے پائے اور نہ ہی انجام دے پائیں گے۔

ہر جگہ یہ روشن فکر افراد  ایسی ہی فکر اور ایسی ہی ذہنیت کے مالک ہوں گے اور وہ اس سے خارج نہیں ہیں ۔اور وہ اس بات پر افتخار کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یا بعض عقائد پر اعتراض کرکے لوگوں کے اعتقادات کو کم کر رہے ہیں۔ یہ روشن فکر افراد بیگانوں کے حالات اور نظریات سے متأثر ہو کر اپنی فکر سے دین کی تفسیر کرتے ہیں اور اسلام کی بنیادوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں یا پھر ان کا انکار کرتے ہیں۔

افسوس ہے کہ ایسی راہ و روش پر چلنے والے افراد پر دین و مذہب کی طرف مائل ہونے یا  مذہبی ہونے کا لیبل لگا کر پیش کیا جاتا ہے کہ جو اکثر خواتین و حضرات پر اثرانداز  ہوتے ہیں اورجن کی وجہ سے بعض مسلم مذہبی مسائل اور اسلامی فرائض میں شکوک و شبہات اور وسوسہ ایجاد ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری ہے کہ ایسے مقبول، محترم اور مقدس مسائل کی توہین کرنا اور ان میں شکوک و شبہات ایجاد کرنا معاشرے میں شہرت بخش ہے ۔ چونکہ ایسے افراد صحیح طریقہ سے سماج میں اپنا نام نہیں بنا سکتے لہذا وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس راہ میں جس قدر زیادہ توہین و اہانت کریں، مسلّمات کا انکار کریں اور سماج کی اقدار پر حملہ کریں اتنا ہی ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ ان اقدار کو اپنی خواہشات اورمنافع کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں؛ وہ ان کو زیادہ سراہتے ہیں۔

اکثر مغرب زدہ، جدید مسلک کے موجد، مؤلفین و مصنفین اور مقررین کو آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر سمجھتے ہیں کہ جو مقدسات پر حملہ کرتے ہیں، سماجی اعتقادات کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی کھلم کھلا توہین کرتے ہیں۔

مرتد سلمان رشدی کی کتاب ہر قسم کے استدلال اور منطقی و عقلائی اصولوں سے عاری تھی کہ جس میں کسی طرح کا کوئی عاقلانہ ردّ اور حکمت پر مبنی نکتہ نہیں تھا لیکن اس نے ایسے مقامات مقدسہ کی اہانت اور باعظمت شخصیات کی توہین کی کہ جن کا سب احترام کرتے ہیں اور انہیں محترم شمار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے اور اس کی اسی گستاخی کی وجہ سے وہ آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔ اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین کرنے کی وجہ سے استعمار نے اس کی حمایت اور دفاع کیا ورنہ اس کی کتاب میں کسی طرح کی کوئی منطقی و استدلالی بات نہیں ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر اگر ہماری جوان نسل ان نام نہاد روشن فکر افراد کے گمراہانہ شر سے محفوظ رہنا چاہتی ہے اور دین اسلام کو اسی پاکیزگی اور اصل و اصیل منابع سے سیکھنا چاہتی ہے کہ جس طرح وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا تو اسے چاہے کہ وہ خود ان منابع کی طرف رجوع کرے اور کسی طرح کی تأویل و توجیہ کے بغیر کتاب و سنت کی دلالت کو حجت سمجھے  اور اسلام شناس ( یعنی مکتب اہلبیت علیہم السلام اور ان دو منابع پر غور و فکر اور تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے ) افراد کی طرف رجوع کرے۔ ان ہستیوں کو سب لوگ جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اور وہ شخصیات ابوذر، مقداد، سلمان، سلیم، محمد بن مسلم، ابن ابی عمیر، فضل بن شاذان، ابن بابویہ، کلینی، شیخ طوسی، ان کے شاگرد، ان کے شاگردوں کے شاگرد اور عصر حاضر میں علماء و فقہاء اور مراجع کرام ہیں۔ یہ وہ علماء ہیں جنہوں نے مختلف زمانوں میں اصل اور اصیل منابع سے اسلام اخذ کیا اور آئندہ نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ اگر یہ بااخلاص شخصیات نہ ہوتیں تو کوئی دوسرا طبقہ اس امانت کی حفاظت کے لئے کھڑا نہ ہوتا اور اصطلاح عارفانہ، مختلف افکار اور صوفیانی نظریات کے شور شرابے اور ہنگامے میں کوئی چیز ثابت اور خالص نہ رہتی اور نہ ہی اسلامی اعتقادات کے مبانی تحریف کے ضرر سے محفوظ  رہ پاتے۔

اسلامي عدالتی قوانين كي بنياد پر مسئلہ فدك كا حل و فصل

سوال : اگر فدك كے مسئلے ميں مخالفين يہ اعتراض كريں كہ " عدالتي قوانين كے لحاظ سے حضرت صديقہ طاہرہ عليھا السلام كا دعويٰ ثابت نہيں ہو سكا ، جس طرح اميرالمومنين عليہ السلام قاضي كے سامنے اپني زرہ كے لئے كوئي دليل قائم نہ كر سكے اور مولائے كائنات كے گماشتہ قاضي نے ان كي عصمت كي پروا كئے بغير ان كے خلاف فيصلہ ديا ، تو اس كا كيا جواب ديا جا سكتا ہے ۔
جواب : فدك كے غصب كے سلسلے ميں ابوبكر اور اس كے ہمنوا لوگوں كا رويہ اسلامي عدالتي قوانين كے بالكل خلاف تھا ، اور يہ بات واضح تھي كہ ان كي روش معمول كے مطابق اور بے غرض نہ تھي ۔ 
يہ مسئلہ خالص سياسي مسئلہ تھا جس كو ابوبكر اور اس كي ہمنوا جماعت كے ذاتي اغراض كي بنياد پر حل كيا گيا ۔ يہ گروہ خدا و رسول كے صريح حكم كے خلاف خاص كر متواتر حديث ثقلين اور غدير خم كے علانيہ اعلان كے باوجود مسئلہ امامت و خلافت كو وحي الٰہي كے ذريعہ منصوص راستے سے ہٹا كر اپني ہويٰ و ہوس كے مطابق چلانا چاہتا تھا ۔ 
البتہ امامت و خلافت رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے راستے كو كوئي بدل نہيں سكتا چونكہ وہ حكم خدا سے معين ہو چكا ہے اور حضرت بقيۃ اللہ الاعظم (عج) كے ظہور تك اسي راستے پر گامزن رہے گا ۔ 
يہ گروہ چاہتا تھا كہ ظاہري صورت حال كو تبديل كر دے تاكہ اپنے مقصد كو حاصل كر سكے ، جبكہ جس طرح كسي كي شرعي ملكيت ميں غصبي تصرف كرنے سے مالك كي ملكيت پر كوئي فرق نہيں پڑتا اور مغصوب ملكيت اصلي مالك كي ملكيت ميں باقي رہتي ہے اور غاصب ضامن ہوتا ہے اسي طرح امامت و خلافت كا عہدہ بھي صاحبان ولايت و امامت كي ملكيت ميں باقي ہے اسے حقيقت ميں كوئي ان سے چھيں نہيں سكتا ہے ۔ 
جس چيز كو غصب كيا گيا وہ اس شرعي منصب كي ظاہري رياست و حكومت تھي جس كي تمنا ان جاہ طلب لوگوں كو ہميشہ سے تھي جبكہ اس منصب كے حقيقي عہديدار اس حقيقي منصب كو مد نظر ركھتے تھے جيسا كہ اميرالمومنين عليہ السلام نے ابن عباس كے جواب ميں اس كي وضاحت فرمائي ہے ۔ (نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳)
معتبر كتابوں كي بنياد پر يہ رياست طلب گروہ جو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے سے ہي تباہي كا منصوبہ بنا چكا تھا ، اس نے اسلامي سياست و حكومت كے راستے كو اس طرح تبديل كر ديا كہ اس كے بعد آنے والي حكومتيں بدترين نظام كي حامل ، ظالم ترين ، بے رحم اور بے دين ترين اور عياش حكومتيں تھيں جو مسلمانوں پر مسلط ہوئيں ۔ 
يہ گروہ جس نے پيغمبر (ص) كي عمر مبارك كے آخري ايام ميں اپنے موقف كا علانيہ اظہار كرنا شروع كر ديا تھا اور واقعہ يوم الخميس ميں جب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے كاغذ اور قلم دريافت كيا تاكہ وہ چيز لكھ ديں جس كے بعد مسلمان كبھي گمراہ نہ ہوں اوراسي طرح لشكر اسامہ ميں شامل ہونے پر مبني پيغمبر(ص) كے حكم كي مخالفت كيا اور رحمۃ للعالمين كے جنازے كو چھوڑ كر سقيفہ ميں اكٹھا ہوكر اس غلط عمارت كي بنياد ركھي ۔ 
سقيفہ كے سياسي منصوبے ميں لوگوں كو ڈرايا دھمكايا گيا ، عمر بن الخطاب نے بہت ہي شدت و سختي كے ساتھ ننگي تلوار لے كر مدينہ كي گليوں ميں لوگوں كو ابوبكر كي بيعت كرنے پر مجبور كيا ۔ 
اس سلسلے ميں شروع ہي ميں بلكہ سب سے پہلے جو كام كيا گيا وہ پيغمبر(ص) كي اكلوتي بيٹي سيدہ نساء العالمين اور جنت كي عورتوں كي سردار كي جائداد پر قبضہ تھا ، چونكہ انھيں يقين تھا كہ جناب فاطمہ ايسي صاحب ايثار ہيں كہ ان كے پاس جو كچھ بھي ہے اسے راہ خدا ميں ضرورتمند مسلمانوں كے درميان تقسيم كر ديں گي اور اس طرح سے خاندان رسالت كي محبت لوگوں كے دلوں ميں برقرار رہے گي ۔ اس لئے انھوں نے يہ فيصلہ كيا كہ ان كے تمام اموال كو ان سے چھين ليں تاكہ وہ لوگوں كي مدد اور اعانت نہ كر سكيں ۔ 
عمر ابوبكر اور ابوعبيدہ كي پارٹي كے سامنے فدك غصب كرنے ميں صرف يہي مصلحت دركار تھي كہ ان كو حكومت مل جائے ليكن حالات اتنے سخت اور غير معمولي تھے كہ خوف و ہراس كي وجہ سے كوئي يہ بات نہ كہہ سكا يا اگر كسي نے كہا بھي تو اس كي بات پر توجہ نہيں كي گئي ۔ 
بر فرض فدك حضرت زہرا(س) كي ذاتي ملكيت نہ رہا ہو اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس كي درآمد سے استفادہ كرنے كے لئے يا كسي بھي دوسري مصلحت كے لئے انھيں ديا تھا تو كس طرح آنحضرت كي وفات كے بعد اچانك ساري مصلحتيں تبديل ہو گئيں اور پيغمبر كا حكم جسے انھوں نے فرمان خدا كي بنياد پر ديا تھا اسے غلط قرار دے ديا گيا ؟ 
فدك اگر عائشہ اور حفصہ كے پاس ہوتا تو كيا ابوبكر و عمر ان سے بھي چھين ليتے ؟ يا پھر ان كي تائيد و تصديق كرتے ، اور اگر سارے مسلمان مل كر فدك ان سے واپس لينے كا مطالبہ كرتے تو يہ عذر پيش كرتے ہوئے كہ پيغمبر (ص) كے عمل كي ترديد نہيں كي جاسكتي ، مسلمانوں كے تقاضے كو ٹھكرا ديا جاتا ؟ 
نتيجہ يہ كہ فدك كا مسئلہ اتنا سادہ نہ تھا بلكہ حكومت اور رياست كا مسئلہ تھا اور اس مسئلے ميں جناب فاطمہ زہرا(س) كي تصديق كر دينے سے اہل سقيفہ كي ساري مكاري و عياري پر پاني پھر جاتا ۔ 
ہم اس وقت اہل سقيفہ كے ان منصوبوں كے پس پردہ چھپے ہوئے راز كي بحث نہيں كرنا چاہتے بلكہ صرف عدالتي قوانين كے لحاظ سے اس مسئلہ پر ايك نظر كريں گے ۔
يہ بات تو يقيني ہے كہ فدك كوئي چيز تھي اور اسے پيغمبر (ص) نے حكم خدا سے حضرت زہرا(س) كے حوالے كيا تھا ۔ 
اس بخشش اور عطا كا مطلب يہ ہے كہ نبي نے فدك ان كي ملكيت ميں ديا ہے جس كے بعد نہ حضرت زہرا (س) نہ كسي دوسرے كو ملكيت كے علاوہ كوئي دوسرا احتمال بھي نہيں تھا ۔ چونكہ يہ عطا حكم خدا سے تھي اس لئے اس كو لوٹانے كے لئے بھي وحي كي ضرورت پڑے گي ، ميرا مطلب ہے كہ خود رسولخدا(ص) كو بھي بغير وحي اور حكم الٰہي كے فدك واپس لينے كي اجازت نہيں تھي ، چونكہ يہ كام وحي الٰہي سے انجام پايا تھا اس لئے اسے بدلنے كا كسي كو بھي اختيار نہيں تھا ۔ 
اس لئے يہ بات واضح تھي كہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور رابطہ وحي ختم ہوجانے كے بعد كسي كو حضرت زہرا(س) سے فدك واپس لينے كا اختيار نہيں تھا ۔ 
اس كے باوجود ہم مقام رسالت سے پست لوگوں كي جانب سے فدك كي واپسي كے مطالبہ كے مسئلے كو تفصيل سے يہاں پر پيش كريں گے ۔ 
الف : عدالت ميں پيش ہونے والے ہر مقدمے كے تين اساسي ركن ہوتے ہيں ۔ 
اول : مدعي ( جس نے دعويٰ پيش كيا ہو )
دوم : مدعيٰ عليہ ( جس كے خلاف دعويٰ پيش كيا گيا ہو )
سوم : قاضي و حاكم ( فيصلہ كرنے والا)
جس طرح مدعي اور مدعيٰ عليہ كا الگ الگ ہونا ضروري ہے، اسي طرح ضروري ہے كہ مدعي اور قاضي بھي الگ الگ ہوں ، دونوں كا عنوان الگ ہونا كافي نہيں ہے مثال كے طور پر ايك آدمي كسي بچہ كا ولي ہونے كے عنوان سے اپنے اوپر كوئي دعويٰ پيش كرے ، يا بچہ كے ولي پر اپني طرف سے كوئي دعويٰ پيش كرے ۔ 
غصب فدك كے واقعہ ميں ابوبكر باوجود اس كے كہ خود مدعي تھے اور اس اعتبار سے كہ لوگوں كے حاكم ہونے كے دعويدار تھے وہ كس طرح خود كو قاضي سمجھنے لگے اور كس طرح انھوں نے حضرت زہرا(س) سے گواہ طلب كيا تاكہ وہ اپنے اور حضرت زہرا(س) كے درميان فيصلہ كر سكے ۔ 
ب : علي القاعدہ مقدمات كا فيصلہ ايسي عدالت ميں ہونا چاہئے جس كو مقدمہ كے طرفين قبول ركھتے ہوں اور مدعي كو ايسي عدالت ميں مقدمہ پيش كرنا چاہئے جبكہ اس وقت نہ ايسي كوئي عدالت موجود تھي نہ حضرت زہرا(س) علي عليہ السلام كے علاوہ كسي كو حكومت اور قضاوت كا اہل سمجھتي تھيں۔
ابوبكر بھي باوجود اس كے كہ پيغمبر(ص) نے فرمايا تھا كہ اقضاكم علي " علي سب سے بڑے قاضي ہيں " كبھي اس مقدمے كو علي (ع)كے پاس نہ لے جاتے اور اس وقت تك ابوبكر نے كسي كو قاضي بھي معين نہيں كيا تھا اور اگر اس نے معين بھي كيا ہوتا تو اسے حضرت زہرا(س) قبول نہ كرتيں چونكہ وہ نصب كرنے والے اور منصوب كسي كو مشروع اور جائز نہيں سمجھتي تھيں ۔ 
ج ۔ اگر يہ كہا جائے : ابوبكر خود كو مسلمانوں كا حاكم سمجھتا تھا اس لئے وہ خود كو اس بات كا حقدار جانتا تھا كہ مسلمانوں كي طرف سے مدعيٰ پيش كرے اور ولي امر مسلمين ہونے كے لحاظ سے خود اس كا فيصلہ بھي كرے ۔ 
اس كا جواب يہ ہے كہ ابوبكر اور اس كے ساتھي جس بنياد پر حكومت كو اجماعي اور اتفاقي بتانا چاہتے تھے وہ اجماع اور اتفاق شيعہ و سني دونوں كي نظر ميں فدك كے غصب تك محقق ہي نہيں ہوا تھا اس لئے كہ تمام مورخين كا اتفاق ہے كہ جب تك فاطمہ زندہ تھيں بني ہاشم اور غير بني ہاشم كي بعض معروف شخصيتوں نے ابوبكر كي بيعت نہيں كي تھي ، جبكہ وہ شخصيات اہل حل و عقد ميں سے تھيں اور جب تك حضرت زہرا(س) زندہ تھيں ابوبكر كي جماعت تمام ظلم و ستم كے باوجود ان سے بيعت نہيں لے سكي تھي اور دوسروں سے جو بيعت لي گئي تھي وہ بھي ڈرا دھمكا كر لي گئي تھي ۔ 
اس لئے خود انھيں كے نظريہ كي بنياد پر اس وقت تك ان كي حكومت قانوني ہي نہيں تھي كہ اس كے لئے اس طرح كے تصرفات اور ہر طرح كے امور ميں مداخلت جائز رہي ہو ۔ 
د ۔ ہميں اس بات سے انكار نہيں كہ اگر حكومت مشروع اور قانوني ہو تو حاكم لوگوں كے مقدمات كا فيصلہ بھي كر سكتا ہے اور لوگوں كي طرف سے مقدمہ پيش بھي كر سكتا ہے ليكن ايك ہي واقعہ ميں يہ بات عقل و منطق كے خلاف ہے كہ مدعي اور منصف ايك ہو۔ اس كي سيرت پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں بھي كوئي مثال نہيں ملتي ہے كہ ايك ہي مسئلہ ميں حاكم مدعي بھي ہو اور قاضي بھي ، دوسرے يہ كہ اس سے يہ بات لازم آتي ہے كہ مدعي اپنے دعوے پر بھي يقين ركھتا ہے اور چونكہ قاضي ہے اس لئے اپنے علم كي بنياد پر فيصلہ بھي كر سكتا ہے ۔ ( يعني اسے گواہ اور شاہد كي بھي ضرورت نہيں ہوگي ) 
ھ ۔ سب سے بڑا اعتراض يہ ہے كہ اگر ابو بكر خود مدعي اور قاضي تھا جيسا كہ اس واقعہ ميں اس نے كيا، تو اگر اسے اس بات كا يقين تھا كہ فدك مسلمانوں كا حق ہے اور حضرت صديقہ طاہرہ سلام اللہ عليھا نے ۔ العياذ باللہ ۔ ناحق اس پر قبضہ جما ركھا ہے تو كيوں جناب فاطمہ سے اس نے گواہ طلب كيا اور اپنے علم پر عمل كيوں نہيں كيا ؟ اور اگر اسے اس كا يقين نہيں تھا بلكہ اس بات كا احتمال بھي تھا كہ ہو سكتا ہے جناب فاطمہ (س) حق پر ہوں تو كيوں اس نے يہ دعويٰ پيش كيا اور فدك كو اپنے قبضے ميں ليا چونكہ مدعي كو اپنے دعوے كا يقين ہونا چاہئے ۔ 
اگر يہاں پر قاعدہ استصحاب بقاي ملكيت جاري ہو تو اس كا نتيجہ صرف يہ ہوگا كہ صاحب يد مدعي سمجھا جائے اور اس سے بينہ طلب كيا جائے ليكن صرف استصحاب كي بنا پر دعويٰ پيش كرنا اور پھر اسے صاحب يد كے خلاف قرار دينا صحيح نہيں ہے ۔ مثال كے طور پر اگر زيد كے باپ كا گھر عمرو كے ہاتھوں ميں ہو جو يہ دعويٰ كرے كہ اس نے اس گھر كو زيد كے باپ سے خريدا ہے اور زيد يہ چاہے كہ چونكہ يہ گھر پہلے اس كے باپ كي ملكيت ميں تھا اس بنا پر استصحاب جاري كرتے ہوئے عمرو كو غاصب اور ظالم كہہ كر عدالت ميں مقدمہ پيش كرنا چاہے تو اس كا يہ دعويٰ قابل قبول نہيں ہے ۔ 
ان تمام ملاحظات كے بعد پتہ چلتا ہے كہ حضرت زہرا سلام اللہ عليھا كے حق كو غصب كرنے ميں كسي طرح كي عدالتي قوانين كي رعايت نہيں كي گئي تھي بلكہ جاہ طلب منافقين كا حسد و كينہ جو زمانہ جاہليت سے كچھ لوگوں ، خاص كر ان دونوں كے دلوں ميں تھا ، اس كي بنياد پر سيد المرسلين صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي اكلوتي بيٹي پر يہ ظلم و ستم روا ركھا گيا تھا ۔ 
ان تمام نكات كے مد نظر جو چيز ان ظالموں كے نفاق كو ثابت كرتي ہے اور اس بات كي تصديق كرتي ہے كہ يہ سچے دل سے وحي و رسالت پر بھي ايمان نہيں ركھتے تھے وہ يہ ہے كہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بارہا تاكيد اور تصريح اور آيت تطہير كے نزول كے باوجود انھيں حضرت زہرا كي طہارت و صداقت ميں شك تھا ۔ اور اگر انھيں اس بات ميں شك تھا تو كس طرح ہم مان ليں كہ ان كا رسالت پر ايمان مكمل تھا ؟ اور اگر شك نہيں تھا تو اس طرح كے ظلم و ستم كے مرتكب كيوں ہوئے ؟ 
كيا يہي اجر رسالت كي ادائگي تھي ، اس پيغمبر كي رسالت كا اجر جس نے ہدايت كي راہ ميں كتني مصيبتيں اور اذيتيں برداشت كي تھيں ، اس كے اجر كي ادائگي يہي تھي كہ اس كي اكلوتي بيٹي كو اس طرح رنجيدہ كيا جائے ۔ 
كيا اگر فدك مسلمانوں كا حق تھا تو جس طرح پيغمبرصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسے حكم خدا سے حضرت زہرا (س) كے حوالے كيا تھا اسي طرح ابوبكر خدا و رسول كي پيروي كرتے ہوئے اسے حضرت زہرا(س) كو دے ديتے تو كيا كوئي مسلمان اعتراض كرتا ؟ 
يقيناً كوئي مسلمان ۔ سوائے ان لوگوں كے جو يہ نہيں چاہتے تھے كہ فدك حضرت زہرا(س) كے ہاتھوں ميں رہے ۔ آنحضرت سے فدك واپس لينے كا مطالبہ نہ كرتا ۔ و سيعلم الذين ظلموا اي منقلب ينقلبون 
اور واقعہ غصب فدك ميں حضرت زہرا(س) سے گواہ كے مطالبہ كو اميرالمومنين عليہ السلام كي زرہ كے واقعہ سے مقايسہ كرنا صحيح نہيں چونكہ دونوں ميں بہت ہي فرق ہے ۔ 
اول : زرہ كے واقعہ ميں صاحب يد سے بينہ كا مطالبہ نہيں كيا گيا جو كہ عدالت كے قانون كے خلاف ہے ، جبكہ فدك كے واقعہ ميں حضرت زہرا(س) جو صاحب يد تھيں ان سے بينہ طلب كيا گيا ۔ 
دوم : جيسا كہ ہم پہلے بتا چكے ہيں كہ يہ مقدمہ معمول كے مطابق نہ تھا بلكہ سياسي اغراض كے تحت تھا ۔ 
سوم : قاضي شريح اگر چہ اميرالمومنين كے زمانے ميں بھي قاضي تھا ليكن وہ بھي انھيں ظالموں ميں سے تھا جنہوں نے حضرت زہرا(س) سے فدك چھينا تھا اور اميرالمومنين (ع) نے كسي مصلحت كي بنياد پر اسے معزول نہيں كيا تھا ، اسي لئے امام عليہ السلام نے اس كے حكم كے نفاذ كے لئے ايسا راستہ اختيار كيا كہ جس سے لوگوں كا حق ضائع نہ ہونے پائے ۔ 
بنا بر اين اس جيسے آدمي سے اس كے علاوہ كوئي توقع نہيں كي جا سكتي اميرالمومنين عليہ السلام كے مسئلے ميں اس طرح كي برخورد كرے اور پھر حقيقت كا علم ہونے كے بعد حكم صادر كرے ۔ اگر اس كي جگہ مالك اشتر يا عمار ياسر يا آنحضرت كے مقام و منزلت كو پہچاننے والے اصحاب ہوتے تو اپنے علم كي بنياد پر فيصلہ كرتے ۔ليكن جب اس غلط سنت كي بنياد پڑ چكي اور فدك كے مسئلے ميں حضرت زہرا (س) سے گواہ مانگ كر ان كا حق غصب كر ليا ، ان كي طہارت و صداقت اور منصوص عصمت كا پاس نہ ركھا گيا تو اس كے بعد عدالت كا يہي طريقہ بن گيا كہ اميرالمومنين عليہ السلام جو صاحب يد نہ تھے ان سے بھي بينہ طلب كيا جائے ۔ 
البتہ ايك احتمال يہ بھي ہے كہ (اگر اس حديث كي سند صحيح ہو ) تو اميرالمومنين عليہ السلام نے شريح كے فيصلے پر كوئي اعتراض اس لئے نہيں كيا كہ خود آنحضرت نے اس طرح فيصلہ كرنے كا حكم ديا تھا تاكہ وہ آدمي اسلام سے مانوس ہو كر ايمان لا سكے ، جيسا كہ اس نے بعد ميں اسلام قبول كر ليا يا يہ وجہ رہي ہو كہ چونكہ اس شخص نے اسلام قبول كر ليا اس لئے امام عليہ السلام نے شريح كے فيصلے پر كوئي اعتراض نہيں كيا۔
مختصر يہ كہ ان دو وواقعات ميں سے پہلا واقعہ ايك منصوبہ بند اور سياسي مقاصد كے تحت انجام ديا گيا اور دوسرا واقعہ ايك معمولي واقعہ تھا كہ جس ميں اميرالمومنين عليہ السلام كي بزرگي اور سخاوت كا مظاہرہ كيا جا سكتا ہے ، اس لئے دونوں كو كسي صورت مقايسہ نہيں كيا جا سكتا ہے ۔ و الحمدلله اولاً و آخراً و صلي الله علي محمد و آله الطاهرين ۔

عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے ميں زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسين عليہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كيا تو قيام كيا تاكہ پيغمبر(ص) كي سنت كو زندہ كريں اور اپنے نوراني بيان ميں قيام كے اس مقصد كي جانب اشارہ بھي فرمايا : اني لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) ميں فساد پھيلانے كے لئے نہيں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كي امت كي اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ ميرا ارادہ ہے كہ ميں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علي مرتضيٰ (ع) كي سنت كو زندہ كروں اور ان كي سيرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احياء 
امام حسين عليہ السلام كے بيانات ميں قيام كا ايك فلسفہ جس بنياد پر امام عليہ السلام نے كربلا كي عظيم عمارت تعمير كي ،يہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہي از منكر كے لئے قيام كيا اور اپني اس عظيم تحريك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض يعني امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو قرار ديا۔آپ نے فرمايا : اريد ان آمر بالمعروف وانھيٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسي طرح ايك اور مقام پر فرمايا : اللہم اني احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدايا ميں نيكيوں كو پسند كرتا ہوں اور برائيوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد ميں جدائي 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پيش نہ آئے حقيقي ديندار اور ايمان كا زباني دعويٰ كرنے والے نہيں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقيقت ميں وہ ميزان و معيار ہے جس كے ذريعہ حقيقي مومن اور زباني دعويٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زباني مسلمان اور حقيقي مسلمان كي پہچان نہ ہو اسلام كي حقيقي معرفت نہيں حاصل ہوسكتي جيسا كہ امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الديانون" لوگ دنيا كے غلام ہيں اور دين ان كي نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دينداروں كي تعداد كم ہو جاتي ہے۔ 
۴۔ عزت 
سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگي اور عزت كا كامل ترين نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگي اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگي كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختيار فرمايا ۔ آپ نے اپنے بليغ كلام ميں اس كي جانب اس طرح اشارہ فرمايا : ابن زياد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درميان ركھا ہے ليكن ذلت ہم سے دور ہے " ھيھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كي مخالفت 
عاشورا كے عظيم اہداف ميں سے ايك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كي ظالم و جابر حكومت معاويہ بن يزيد كے ہاتھوں ميں تھي ۔ اس لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمايا : " جو بھي كسي ظالم كو ديكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہي كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قيام نہ كرے تو خداوند كو يہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كي سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احياء
جو چيز دين كي بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقي كا باعث ہے ، راہ خدا ميں جہاد اور شہادت طلبي كا جذبہ ہے ۔ امام حسين عليہ السلام نے يہ بيان كرنے كے لئے كہ دين صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہيں ہے ، قيام كيا تاكہ دين خدا كي راہ ميں شہادت و فداكاري كے جذبے كو زندہ كريں اور لوگوں ميں شہادت طلبي كا جذبہ پيدا كركے ان كے دلوں سے دنيا كي محبت نكال ديں اور كربلا كے راستے ميں بارہا يہ جملہ ارشاد فرمايا : "فاني لا اريٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)ميري نظر ميں موت سعادت و خوشبختي ہے ۔ 
۷۔ معيشتي اور عسكري محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ايك اہم پيغام اپنے ايمان اور عقيدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معيشتي اور عسكري محاصرے ميں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسين عليہ السلام كو چاروں طرف سے گھير ليا گيا ، آپ پر پاني بند كر ديا گيا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے ديا گيا ليكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ايك قدم بھي پيچھے نہ ہٹايا ، اور كبھي شكست كا احساس نہ كيا ۔ اس لئے ايسے حالات ميں مسلم امت كا فريضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب ميں گرفتار ہو جائے تو امام حسين عليہ السلام كي اقتدا كرے اور اگر معيشتي پابندياں عائد كر دي جائيں تو مولائے كائنات كي پيروي كرے جيسا كہ آپ فرماتے ہيں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو ميں وہ نہيں ہوں كہ پيٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندي 
امام حسين عليہ السلام نے اپني نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندي كي تھي چاہے وہ بيعت سے انكار كرنے كي بات ہو يا مدينہ سے مكہ كي جانب كوچ كرنے كا فيصلہ اور پھر وہاں چند مہينے قيام كے بعد عراق كي جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كي بزرگ شخصيات كو خط لكھا اور انھيں اپني نہضت ميں شريك ہونے كي دعوت دي ، مكہ و منا يہاں تك كہ كربلا ميں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كيا اور انھيں اپني طرف بلايا ۔ يہ ساري تياري اپنے اس ہدف كے لئے تھي جو امام حسين عليہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئي عمل بغير تدبير و درايت اور منصوبہ بندي كے نہيں تھا يہاں تك كہ صبح عاشور امام حسين عليہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھيں الگ الگ ذمہ دارياں ديں اور لشكر كا سردار معين فرمايا ۔ (۸)
۹۔ وظيفہ كي ادائگي 
عاشور كے اس پيغام كي طرف توجہ بہت ضروري ہے تاكہ يہ پيغام ہمارے معاشرے ميں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كي ثقافت كا جز بن سكے ۔ يعني انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام ميں وہ كامياب ہو يا ناكام اسے اپنا وظيفہ انجام دينا چاہئے نتيجہ كي پرواہ نہيں كرني چاہئے ۔ كام كا نتيجہ كيا ہوگا يہ اہم نہيں ہے ۔ امام حسين عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں " ارجوا ان يكون خيراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) ميري خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے ميرے حق ميں ارادہ كيا ہے اسے ميرے لئے خير قرار دے چاہے ميں اس راہ ميں قتل كر ديا جاؤں يا ظاہري كاميابي حاصل ہو ۔ يعني امام حسين عليہ السلام نے جو كام انجام ديا وہ ان كے حق ميں خير تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كيا ۔ اگر فرض شناسي اور وظائف كي انجام دہي معاشرے ميں رائج ہو جائے تو كبھي بھي معاشرے ميں كوئي اقدار پامال نہيں ہوں گي ۔ 
۱۰۔ ولي اور قائد كي حمايت 
واقعہ عاشورا ميں ايك چيز جو سب سے زيادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كي حمايت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے بيعت اٹھا لي ليكن وہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھيں تنہا نہيں چھوڑا ۔ كربلا ميں جن لوگوں نے امام كي حمايت ميں زبان كھولي ہے ان كے بيان سے يہ پيغام بالكل واضح ہے ۔ حبيب بن مظاہر ، زھير بن قين اور ديگر لوگوں كا بيان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس عليہ السلام كے اشعار اس حمايت كي واضح دليل ہيں ۔ " اگر تم ہمارا داياں ہاتھ كاٹ بھي دو پھر بھي ميں امام كي حمايت سے دستبردار نہيں ہوں گا ۔ ميں اپنے دين اور امام برحق كي حمايت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھي زخمي ہونے كے بعد آخري سانسيں ليتے ہوئے حبيب بن مظاہر سے وصيت كي كہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت كريں اور ان كي راہ ميں اپني جان قربان كر ديں ۔ " اوصيك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) ميں تمھيں ان (امام حسين عليہ السلام ) كي وصيت كرتا ہوں كہ جب تك جان ميں جان رہے ان كي حمايت كرنا۔
۱۱۔ دنيا، دار امتحان ہے 
دنياوي تعلقات اور دنيا طلبي ہي تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان ميں مبتلا ہوتے ہيں تو اپنے فرض كو ادا نہيں كر پاتے اور دنيا انھيں اپني طرف كھينچ ليتي ہے ۔ يہ دنيا طلبي ہي تھي جس كي وجہ سے ابن زياد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جيسے لوگ امام حسين عليہ السلام كے مقابلے ميں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سياسي ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ري كے خواہاں اور امير كوفہ كے انعامات كے شيفتہ لوگوں نے امام حسين عليہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگين كر لئے ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے فرمايا : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتھم يحوطونہ ما درت معايشھم " (۱۲) لوگ دنيا كے غلام ہيں دين ان كي نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دين كي باتيں كرتے ہيں ليكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دين كا ساتھ چھوڑ ديتے ہيں ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنيا فانھا تقطع رجاء من ركن اليھا "(۱۳) دنيا تمھيں فريفتہ نہ كرے جو بھي دنيا پر بھروسہ كرے گا اس كي اميديں كبھي پوري نہيں ہوں گي ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے 
جيسا كہ قرآن كريم نے وعدہ كيا ہے اور روايت ميں بھي كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا ميں اس كا كاملترين مصداق ديكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن يزيد رياحي جو امام حسين عليہ السلام كو گھير كر كربلا ميں لے آيا اور خود لشكر يزيد ميں ايك ہزار سپاہيوں كا سردار تھا ليكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كي طرف پلٹ آيا اور امام حسين عليہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا ميں شامل كر ليا ۔ يہ واقعہ اس بات پر دليل ہے كہ انسان ہر حالت ميں حق و حقيقت كي طرف پلٹ سكتا ہے اور ہميشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كي رعايت 
معصومين عليھم السلام كي سيرت ميں يہ امر بہت ہي اہميت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا ميدان كارزار تھا ليكن وہاں بھي امام حسين عليہ السلام نے حقوق الناس كي رعايت كي ۔ آنحضرت نے كربلا كي زمين كو ان كے مالكوں سے خريدا اور اسے وقف كيا۔ زمين كربلا كا كل رقبہ چار ميل تھا (۱۴) اسي طرح عاشور كے دن يہ اعلان كيا كہ جو بھي كسي كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہي پر راضي رہنا 
رضائے الٰہي پر راضي رہنا عرفاء كے كمالات ميں سے ايك ہے ۔ اہلبيت(ع) كي ايك خاص صفت يہ تھي كہ ہميشہ خدا كي رضا پر راضي تھے اور خدا كي مرضي كو ہميشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسين عليہ السلام نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كي ۔ " صبراً عليٰ قضائك يا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدايا ميں تيري رضا پر راضي ہوں ، تيرے سوا كوئي معبود نہيں ہے ۔ اسي لئے اہلبيت(ع) كي مرضي كو خدا كي مرضي كہا گيا ہے جيسا كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرمايا : رضي اللہ رضانا اہل البيت " (۱۷) خدا كي مرضي ہم اہلبيت(ع) كي مرضي ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھيان نور ،جواد محدثي ،ص/۷۶
۹۔ اعيان الشيعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرين ، ذيل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعيان الشيعہ ،ج/۱،ص/۵۹

سه شنبه / 20 شهريور / 1397
مصائب عاشورا

(مرحوم حضرت آيت ‌اللّه آخوند ملا محمد جواد صافی گلپايگانی ‌(قدس سره) کے بیانات سے اقتباس)

پہلی مصيبت

جب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے دونوں بازو قلم ہو گئے اور آپ کی آنکھ میں تیر پیوست ہو گیا ، اور آپ کا بدن مطہر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے اس طرح چھلنی ہو چکا تھا کہ جس طرح شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ۔ آپ بچوں کے لئے جو پانی لا رہے تھے وہ زمین پر بہہ گیا : آيِساً مِنَ الحَيَاةِ  وَ قَرِيباً  إِلَى الْمَمَاةِ ، آپ زندگی سے ناامید اور موت کے قریب تھے کہ ایک ملعون لوہے کا گرز لے کر سامنے آیا اور جب اس نے دیکھا کہ عباس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو اس نے نہ خدا و رسول سے شرم کی اور نہ ہی اس مظلوم پر رحم کیا اور وہ گرز اپنی پوری قوت سے آپ کے سر اقدس پر مارا کہ آپ کا مغز  آپ کے شانوں پر گر گیا ۔

چو دشت بلا از غمش تار شد
ور افتاد با سينه چاک‌چاک
 

 

کشيد آه و از زين نگون‌سار شد
به‌ سر باد خاکم، ز زين روي خاک
 

 

 حضرت عباس نے آواز دی : يَا أَخَاه ! أَدْرِكْ أَخَاكَ الْعَبَّاسَ ۔ اے بھائی ! اپنے بھائی عباس کی مدد کو پہنچئے ۔ جب امام ‌حسين علیہ السلام نے اپنے بھائی کی فریاد سنی تو ایک  آہ بلند کی اور جگر سوز فریاد کی : «اَلْآنَ انْکَسَرَ ظَهْرِي وَ انْقَطَعَ رَجَائِي وَ قَلَّتْ حِيلَتِي». وَأَتَی زَيْنَبُ، فَنَادَتْ: «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔ (۱)

’’ اب میری کمر ٹوٹ گئی ، میری امید دم توڑ گئی ، میرا حیلہ اور چارہ جوئی کم ہو گئی ‘‘ ۔ اور جب حضرت زینب کبریٰ نے حضرت عباس کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔

دوسری مصيبت

آپ سب نے سنا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ عاشورا کے دن (لشکر حسین علیہ السلام میں سے ) چند لوگوں پر پتھر برسائے گئے کہ جن میں سے ایک قاسم بن حسن ہیں کہ جن کے نازک اور پھول سے بدن پر پتھر برسائے گئے اور ان کے جسم کو تیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے ان کے بچپن ، بے کسی ، غریب الوطنی ، یتیمی اور ان کی پیاس پر رحم نہ کیا ۔

آه آه ۔ وا اسَفاه ! کتاب بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ حميد‌ بن مسلم کہتا ہے : میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جو چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا اور جس کی نعلین کا ایک بند کھلا ہوا تھا اور اس پر لشکر نے ہر طرف سے بھیڑیوں کی طرح حملہ کر دیا لیکن جب وہ نوجوان حملہ کرتا تو لشکر اس طرح سے بھاگ جاتا کہ جیسے بھیڑیں کسی شجاع شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں ۔ عمر بن سعد ازدی نے کہا : ان لوگوں کے گناہ مجھ پر ہوں  اگر مجھے موقع ملے اور میں اسے قتل نہ کروں ۔ پس اسے موقع ملا اور اس نے پیچھے سے قاسم پر حملہ کیا اور اس طرح قاسم کے سر پر تلوار سے وار کیا کہ قاسم کا سر شگافتہ ہو گیا ۔ لشکر نے قاسم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے پھول سے نازک بدن کو نیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور جب گھوڑے سے گرے تو فریاد کی : يَا عَمَّاهُ ! أَدْرِکْنِي ۔اے چچا ! میری مدد کو پہنچئے ۔

امام‌ حسين‌ علیه‌السلام ایک غضبناک شیر کی طرح ان کی طرف روانہ  ہوئے ۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو ملعون ؛ قاسم کا سر جدا کرنا چاہتا تھا ۔  آپ نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کا ہاتھ  کاٹ دیا ۔

 اس نے لشکر سے مدد مانگی اور اس کی قوم نے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لیا  اور اسی جنگ میں قاسم کا بدن گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال ہو گیا ۔ اور جب لشکر حیدر صفدر کے حملوں سے منتشر ہو گیا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے پاس آئے ، جب کہ قاسم کے جسم میں کچھ رمق باقی تھی ، اور اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے تھے ؛ فَبَکَی الْحَسَيْنُ‌ (علیه‌السلام) وَ قَالَ : «وَاللهِ يَعِزُّ عَلَی عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يُعِينُكَ أَوْ يُعِينُكَ فَلَا يُغْنِي عَنْكَ».

 پس حسیں علیہ نے گریہ کیا اور فرمایا : ’’ خدا کی قسم ! تمہارے چچا کے لئے بہت ناگوار ہے کہ تم اسے پکارو ، لیکن وہ تمہیں جواب نہ دے سکے ، یا جواب دے لیکن تمہاری مدد نہ کر سکے ، یا تمہاری ممد کے لئے آئے لیکن وہ تمہیں بے نیاز نہ سکے ‘‘ ۔

تیسری مصيبت

صديقۂ صغریٰ فرماتی ہیں :

لَيَتَ‌ السَّمَاءَ طُبِقَتْ عَلَی الْأَرْضِ

وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدْکَدَکَتْ عَلَی السَّهْلِ   (۲)

 «اے کاش ! آسمان ، زمین پر گر پڑتا  اور اے کاش ! پہاڑ ، دشت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتے» ۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرے اور آپ کا بدن مطہر خاک و خون میں غلطاں تھا ۔ عبد الله ‌بن ‌الحسن اپنے چچا کو اس حال میں میں دیکھ کر سخت بے قراری و بے تابی کے عالم میں امام علیہ السلام  کی طرف دوڑے ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «يَا اُخْتَاه ! أَحْبِسِيهِ» ؛ «اے میری بہن ! عبد الله کو روکو کہ وہ اس مصیبت انگیز بیابان میں نہ آئے اور خود کو تیروں اور تلواروں کا ہدف قرار نہ دے» ۔

جناب زينب نے عبد اللہ بن حسن کو پکڑا اور انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن عبد اللہ بن حسن نے بہت اصرار کیا  اور کہا : لَا وَ اللهِ ! لَا أُفَارِقُ عَمِّيِ ۔ خدا کی قسم ! میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ خود کو جناب زینب سے چھڑا کر امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔

اسی وقت ابن ‌کعب لعنۃ اللہ علیہ نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار سے حملہ کرنا چاہا ، فَقَالَ لَهُ: وَيْلَكَ يَا بْنَ الْخَبِيثَة! أَ تَقْتُلُ عَمِّي؛ عبد الله بن حسن نے کہا : اے زانيه کے بیٹے ! کیا تم میرے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ (وہ اپنے چچا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ) انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چچا کے لئے ڈھال بنایا لیکن اس ملعون نے تلوار سے وار کیا جس سے عبد اللہ بن حسن کے ہاتھ کٹ گئے ۔پس انہوں نے آواز دی : يا عمّاه ! امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے انہیں پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «يَا ابْنَ أَخِي! اِصْبِرْ عَلَی مَا نَزَلَ بِكَ وَاحْتَسِبْ فِي ذَلِكَ الْخَيْر فَإِنَّ‌ اللهَ يَلْحَقُكَ بِآبَائِكَ الصَّالِحِينَ» ۔ (۳)  ’’ اے میرے بھتیجے ! تم پر جو مصیبت بھی آئے اس پر صبر کرو ، اور اس میں خیر ہی سمجھو ، اور بیشک خدا تمہیں تمہارے صالح آباء و اجداد کے ساتھ ملحق فرمائے ‘‘۔

جب عبد اللہ بن حسن ، امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں تھے تو حرملہ ملعون نے ایک تیر چلا کہ جس سے عبد اللہ بن حسن کی شہادت واقع ہو گئی ۔

پس آن‌سان ظالمي تيري رها کرد                                 که اندر مقتل شه‌زاده جا کرد

ندانم شاه را چون گشت احوال                                                که اينجا، عقل مات و نطق شد لال

چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

چوتھی مصيبت

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے علی اکبر کو دیکھا کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ، جس کا سر شگافتہ ہے ، جس کے ہونٹ خشک ہیں اور جو خاک و خون میں غلطاں ہو کر جان دے رہا ہے تو آپ نے بے ساختہ ایسی فریاد کی کہ دوست اور دشمن سبھی ان کی حالت پر روئے ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے خود کو گھوڑے سے گرا دیا ’’وَ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی خَدِّه ‘‘ ، اور اپنا چہرا ان کے چہرے پر رکھ دیا ، اور جب آپ نے بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کے چہرے پر اپنا چہرا رکھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شمس و قمر کی آپس میں ملاقات ہو رہی ہو ۔

راوی کہتا ہے : کچھ دیر کے بعد ہی امام حسین علیہ السلام نے اپنا چہرا اٹھایا تو علی اکبر کے سر سے خون ان کے چہرے پر جاری ہوا ۔

يقين شد صافي آن‌سان حالت شاه                                                          که اشکش شد بماهي آه بر ماه

پانچویں مصيبت

امام‌ حسين‌ علیه‌ السلام آخری دم تک صابر اور قضاء الٰہی پر راضی تھے اور آنحضرت سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دیا جائے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف راغب نہیں ہو گا اور میں اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

اور شاید آپ نے یہ کلمات اس وقت بیان فرمائے کہ جب آپ صالح بن وہب کے نیزے کی ضرب سے گھوڑے کی زین سے زمین پر آئے ۔

جگر تفتيده با چشمان نمناک
گُهر ريزان ز ديده لعل مي‌سُفت
تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا
 

 

فتاد آن هيکل توحيد بر خاک
به‌ شکر وصل در آن حال مي‌گفت
وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا
 

 

چھٹی مصيبت

جب علی بن الحسین علیہما السلام (علی اکبر علیہ السلام) کا بدن مبارک زخموں کی کثرت اور خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تو ایک ملعون کو موقع ملا ، اس نے اپنی تلوار سے آپ کے سر اقدس پر وار کیا کہ جس سے بہت گہرا زخم لگا اور (یہ دیکھ کر )سارا لشکر جری ہو گیا ، لشکر نے چاروں طرف سے حملہ کیا ، اور انہیں تیروں اور تلواروں کا نشانہ بنایا ۔ جب جناب علی اکبر کی طاقت جواب دے گئی تو آپ نے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈالیں اور نیچے کی جانب جھک گئے اور گھوڑے کی لگام چھوڑ دی ، گھوڑ ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور وہ جس سوار کے پاس بھی پہنچتا تھا وہ آپ کے بدن مبارک پر حملہ کر کے زخمی کرتا تھا ۔ فَقَطَّعُوهُ بِسُيُوفِهِمْ إِرْباً إِرْباً ؛ ان کے بدن مطہر کو تلواروں سے پارہ پارہ کر دیا ۔ پس جناب علی اکبر  گھوڑے سے زمین پر آئے تو آواز دی : يَا أَبَتَاه! هَذَا جَدِّي رَسُولُ اللهِ قَد سَقَانِي بِکَأْسِهِ الْأَوْفَى.اے بابا جان ! یہاں مرے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موجود ہیں کہ جنہوں نے مجھے اپنے جام سے سیراب فرمایا ہے ‘‘

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے کی فریاد سنی تو آپ نے جگر سوز فریاد کی اور فرمایا : «قَتَلَ اللهُ قَوْماً قَتَلُوكَ» ؛ ( ۴)

گفت: اي جان پدر روحي فداک                               باد بر دنيا پس از مرگ تو خاک

ساتویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام ان تمام مصائب ، مشکلات ، تکالیف اور سختیوں (اگر یہ  پہاڑوں پر پڑتیں تو وہ اس کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے) پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا عالم ، بدن پر بے شمار زخم ، ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے کہ جو آپ کے بدن پر ایک کے بعد ایک زخم لگا رہے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود آپ بار بار خدا کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں : «صَبْراً عَلَی بَلَائِكَ وَ رِضاً بِقَضَائِكَ» ؛ ’’ خدایا ! میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر ہوں اور تیری رضا پر راضی ہوں ‘‘  اور آپ خشک زبان  اور سوختہ جگر سے کبھی پانی طلب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :

«وَاعَطَشَاه ! وَاقِلَّةَ نَاصِرَاه ! يَا قَوْمِ !ِ اِسْقُونِي شَرْبَةً مِنَ الْمَاءِ قَبْلَ طُلُوعِ رُوحِي مِنْ جَسَدِي»؛

«اے بے مروت لوگو! اے بے رحم لوگو ! مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو ، اس سے پہلے کہ مرے جسم سے میری روح پرواز کر جائے» ۔

به سبط پيمبر خدا را ثوابي                             گذاريد منّت به يک جرعه آبي

شد از تيغ و خنجر دلم پاره‌پاره                        شده زخم‌هايم فزون از ستاره

شما را گر از قتل من نيست چاره                   دهيد آب، رحمي به حال خرابي

بده مهلت اي شمر تا مادر آيد                      رها کن مگر باب من بر سر آيد

ز خيمه به بالين من خواهر آيد                     مکن بي‌مروّت به قتلم شتابي

آٹھویں مصیبت 

امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف نہیں جائے گا اور اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

نمودم ترک مردم را جميعاً در هواي‌ تو                          يتيم‌ و دربه‌در کردم عيال خود براي ‌تو
نمایي پاره‌پاره‌گر مرا اندر ره‌ عشقت                                           دلم هرگز نخواهد رفت سوي ما‌سواي ‌تو 

آه آه! مجھے نہیں معلوم کہ امام حسین علیہ السلام نے کس وقت یہ کلمات بیان فرمائے ؛ کیا اس وقت یہ کلمات بیان فرمائے کہ جب سہ شعبہ تیر آپ کے قلب مبارک پر پیوست ہو گیا اور جس سے ناودان (پرنالہ) کی طرح خون جاری ہو گیا اور آپ نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے چہرے اور داڑھی پر مل لیا اور فرمایا : «هَکَذَا أَکُونُ حَتَّی اَلْقَی جَدِّي رَسُولَ اللهِ وَ (أَنَا مَخْضُوبٌ بِدَمی ) و َ أَقُوُلَ قَتَلَنِي فُلَانٌ وَ فُلاَنٌ » ؛ (۵)

خدا کی قسم !میں اسی خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ملاقات کروں گا اور کہوں گا : اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مجھے فلاں فلاں نے قتل کیا ہے ۔

یا آپ نے اس وقت یہ کلمات بیان کئے کہ جب صالح بن وہب  لعنۃ اللہ علیہ نے آپ کے پہلو میں اس طرح سے نیزہ  مارا کہ آپ گھوڑے کی زین سے زمین پر آ گئے ۔

چو پهلو شد ز جنب‌الله پاره                                       ز عين‌الله بر مه شد ستاره

شد اندر ذات حقّ چون باب ممسوس                          فتاد از صدر زين با آه و افسوس

نویں مصیبت

اگر صحرائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مطہر زخمی نہ ہوتا ، اور آپ کے سر اقدس کو بدن اطہر سے جدا نہ کیا جاتاتب بھی  آپ کی شہادت کے لئے وہ تیر ہی کافی تھا کہ جو آپ کے دل میں پیوست ہو گیا ۔ جب ابو الحتوف ملعون نے کمان سے ایک تیر چلایا جو آپ کی پیشانی مبارک پر آ کر لگا  اور ایک روایت کے مطابق کہ اس  نے آپ کی پیشانی مبارک پر ایسا پتھر مارا کہ پیشانی شگافتہ ہو گئی ۔

ز کف ، سنگين‌دلي ، سنگي رها کرد                       به پيشاني وجه‌الله جا کرد

چو  پيشاني  وجه ‌الله  بشکست                               به عين‌الله، خون، راه نظر بست

         پر از خون گشت روي شاه اطهر                            چو  در  روز  اُحد  روي  پيمبر

آپ کے چہرے اور داڑھی پر خون جاری ہوا ، اور آپ نے اپنے  چہرۂ اقدس سے خون  صاف کرنے کے لئے دامن سے زرہ ہٹائی اور اپنے پیراہن کو کھینچا تو آپ کا قلب مبارک درخشاں آفتاب کی مانند نمایاں ہوا ؛ فَأَتَاهُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ لَهُ ثَلَاثَةُ شُعَبٍ ؛ (۶) ’’ایک سہ شعبہ زہر آلود تیر آیا ۔

چو دامان کرد بالا، شد نمايان                                    يکي تيري سه‌پَر از شصت بدخواه
چو آن تير از قفايش سر به ‌در کرد                                ندانم رفت چون بر شاه مظلوم
چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     دل پر نور، يعني عرش رحمن
رها گشت و نشست اندر دل شاه                                   دل پاک پيمبر را خبر کرد
دل نازک کجا و تير مسموم                                        بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

دسویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور سخت مصائب میں سے ایک آپ کا آخری وداع اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے رخصت ہونا ہے ۔ آپ تصور کریں کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی کیا حالت اور کیا کیفیت رہی ہو گی ، جب وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کے اب کبھی حسین کو نہیں دیکھ پائیں گے مگر جب حسین خاک و خون میں غلطاں ہوں گے  اور حسین کا سر نیزے پر بلند ہو گا ۔ اس وقت نہ کوئی یاور و انصار ، نہ کوئی ناصر و مددگار  ہو گا ،  اس وقت سب  بیکس و لاچار اور بے یار و مددگار   ہوں گے  ، اور ایک بیابان ہے ہو گا کہ جس میں سنگدل  اور بے رحم دشمن ہو گا۔ 

قَالَتْ سَکِينَةُ: يَا أَبَتَاه! اِسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ ؛

سکينه نے عرض کیا : اے بابا جان ! کیا آپ موت کی طرف جا رہے ہیں ؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«کَيْفَ لَا يَسْتَسْلِمُ (لِلْمَوْتِ) مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَ لَا مُعِينَ» ؛ (۷)

«وہ کیسے موت کی طرف نہ جائے کہ جس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو؟» ۔

سکینہ نے اپنے سر پر ماتم کرتے ہوئے  نوحہ و گریہ کی بنیاد رکھی ۔

امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے فرمایا :

لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكَ حَسْرَةً                         مَادَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي

(اے سکینہ جان ! ) اپنے حسرت بھرے آنسؤں سے میرے دل کو مٹ جلاؤ کہ جب میرے جسم میں روح موجود ہے ۔

فَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي                          تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ النِّسْوَانِ  (۸)

اور جب میں قتل ہو جاؤں تو تم سب سے زیادہ مجھ پر رونے کی مستحق ہو ، اے سب سے بہترین نسواں ۔

حوالہ جات

۱ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص42 ۔

 ۲ ۔ ابن ‌طاووس ، اللہوف ، ص73 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص54 ۔

۳ ۔ طبری ، تاريخ ، ج 4 ، ص344 ؛ مفيد ، الارشاد ، ج2 ، ص110 ؛ ابن ‌نما حلی ، مثیر ‌الاحزان ، ص55 ـ 56 ۔

 ۴ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص44 ؛ بحرانی اصفہانی ، عوالم ‌العلوم ، ص286 ـ 287۔

 ۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص53 ۔

 ۶ ۔ ابن‌ طاووس ، اللہوف ، ص71 ؛ امين عاملی ، اعيان ‌الشيعه ، ج 1، ص 610 ؛ ایضاً ، لواعج ‌الاشجان ، ص187 ۔

۷ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص47 ۔

۸ ۔ ابن ‌شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، ج4 ، ص109ـ 110۔

سه شنبه / 20 شهريور / 1397
اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

رسالت عاشورائی (۱)

مبلغین کی عاشورائی رسالت

ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت

مرحوم آیت اللہ العظمی حائزی یزدی (قدس سرہ) کی کاوشوں سے سنہ ۱۳۴۰ ہجری میں قم کے قدیمی حوزۂ علمیہ کی تجدید عمل میں لائی گئی ۔ اس حوزۂ علمیہ میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ  ساتھ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے کہ جس میں بزرگ اساتید ، علماء ، آیات عظام ، مؤلفین ، خطباء ، واعظین اور برجستہ مبلغین شہروں ، دیہاتوں اور ہر سماج کو تبلیغ ، معارف دین  اور  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ احکام اسلام سے روشناس کروانے کواپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے وہ مکتب حسینی اور ذکر مصائب اہلبیت علیہم السلام سے  لوگوں کی باطنی اور پاکیزہ رغبت اور بالخصوص کربلا کے جانسوز واقعہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اور ماہ مبارک رمضان کے علاوہ ماہ محرم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر مصائب سے کربلا کی بے نظیر نہضت و تحریک کے مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ اسّی سال سے زائد عرصے سے  تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے جوکہ انحرافات ، کج روی ، کج فہمی ، بدعات اور دوسری برائیوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ حوزۂ علمیہ باطل کے ابطال اور عقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ سے سماج میں مؤثر اور کارساز رہا ہے ۔

تبلیغ کے متعلق اہم نکات

تبلیغ کے متعلق ایسے اہم نکات کہ جنہیں جاننا چاہئے :

بندۂ حقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ تبلیغ کے متعلق کچھ ایسے نکات بھی بیان کئے جائیں کہ جو شاید بعض حضرات کی نظر میں مخفی اور پنہاں نہ ہوں:

1ـ مخاطبین کو ان اہم مطالب سے خبردار کریں:

اب کچھ ایسے حالات درپیش ہیں کہ اسلام اور کفر میں ایک طرح کی تازہ کشمکش دکھائی دیتی ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران ، اسلامی تفکر کا احیاء و تجدید ، مسلمانوں کا اسلامی استقلال کی طرف رجحان ، دیرینہ عظمت کی طرف بازگشت  اور المختصر یہ کہ عام بیداری ؛ اور بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقہ کا بیدار ہونا اور اس کے علاوہ کچھ دیگر موارد باعث بنیں ہیں کہ اسلام کے دشمن تقریباً پہلی جنگ عظیم کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی ممالک پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے ان ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے ان پر قبضہ کر لیا ۔ لہذا اب وہ اپنے قبضہ اور تسلط کے خاتمہ سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام خواہی کے نام پر مسلمانوں کی مخالفت اور انہیں نابود کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اس مقصد کے لئے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغات  کے علاوہ مختلف قسم کے آشکار و مخفی اور سیاسی و اقتصادی وسائل بروئے کار لائے حتی انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔

لہذا مسلمانوں کو استقامت، صبر، پائيداری اور خداوند متعال  کی نصرت سے دشمنوں پر غلبہ پانے کی امیددلانی چاہئے اور انہیں اس کی تشویق و ترغیب کرنی چاہئے ۔

غرب گرائی (Westernization) ، مغربی سماج کی عادات کی پیروی ، ان کی تقلید حتی لباس اور ظاہری طور پر معمولی اور چھوٹے نظر آنے والے امور سے لے کر اہم امور تک سب میں ان کی تقلید کرنا جیسے عورتوں اور مردوں کے درمیان مخلوط نظام  کی ترویج ، مختلف قسم کے نعرے ، منجملہ عورتوں سے تبعیض کا خاتمہ ، یا آزادی بیان کے نام پر مطلق آزادی ، شریعت کے بعض احکام کو پامال کرنا، موسیقی کی ترویج ، شریعت سے بے اعتناء ہنرمندوں اور اسلامی شعار سے بیزاری کا اظہار کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر تشویق ؛ یہ سب اسلامی ہویّت و شناخت کوبدلنے یا اسے کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔

مسلمانوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ غرب گرائی کی جانب ترجحان کے خطرات کی طرف توجہ کریں لیکن بد قسمتی سے ان میں کافی وسعت آ چکی ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسلامی ہویّت اور شناخت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں اور ہر حال میں ہر جگہ اس کے پابند رہیں اور اس پر ناز کریں ۔ اسلام ، قرآن ، تشیع اور ولایت ائمہ علیہم السلام پر افتخار کریں ۔ تمدن اور اسلامی اخلاق کو ہر تمدن اور اخلاق سے برتر سمجھیں»۔  (۱)

امام حسین علیہ السلام کی راہ ؛ قرآن کی راہ ہے ، احکام پر عمل کرنے کی راہ ہے ، اسلام اور توحید پر افتخار کرنے کی راہ ہے ، خدا پر ایمان رکھنے کی راہ ہے ۔ یہ راہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ کفر و بت پرستی ، شرک یزدان و اہرمن ، فرعون و نمرود اور جمشید کے استکبار کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ فساد ، فرسودہ نظام ، گناہوں اور ان امور پر فخر کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ تجمل پرستی ، اسراف  ، تکبر ، استکبار اور لوگوں کو حقیر شمار کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام ؛ قرآنی پیغام ہے کہ جس میں حقیقی اقدار کے لحاظ سے عورت و مرد میں مساوات ہے :

’’إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً‘‘(۲)

«بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ، اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں ، اور صابر مرد اور صابر عورتیں ، اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں ، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والی عورتیں ،  اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کر رکھا ہے » ۔

جو سماج اور معاشرہ امام حسین علیہ السلام کی راہ پر گامزن ہو ؛ وہاں ان امور اور اقدار پر افتخار کیا جاتا ہے اور ان اقدار میں مرد اور خواتین نہ صرف ہم پلہ ہوتے ہیں بلکہ ان اقدار میں وہ  ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اور ان کا مختلف مجالس و محافل ، کالج ، یونیورسٹیوں اور دفاتر وغیرہ میں ( جہاں اجنبی حضرات سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے ) میں مخلوط ہونا مسلمان عورت کی شأن ، پارسائی اور اسلامی تربیت سے سازگار نہیں ہے ۔ مغرب زدگی یعنی مغرب کی اندھی تقلید انسان کی ہویّت و شناخت اور اس کی شخصیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ماہ محرم و صفر میں علماء و فضلا ، اساتید اور خطباء کو چاہئے کہ وہ اپنے مواعظ ، بیانات اور تقاریر میں لوگوں کو ان بنیادی اور اہم مطالب کی طرف متوجہ کریں ۔

2ـ تبلیغ  کے بنیادی اصولوں کو پہچانیں

تقاریر ، خطابات اور بیانات میں یہ معانی خیز حدیث مبارک واضح ہے کہ :

«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَامْسِکُوا عَمَّا یُنْکِرونَ». (۳)

«لوگوں کے لئے وہی چیزیں بیان کریں کہ جنہیں وہ جانتے ہیں اور ایسی چیزیں بیان کرنے سے گریز کریں کہ جن کے وہ منکر ہو جائیں» ۔

یہ حدیث ایک دستور العمل ہے اور مقتضائے حال کی بناء پر کلام و تکلّم میں بلاغت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ تبلیغ کے دوران انبیاء علیہم السلام کا بھی یہی منشور رہا ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ ہر علاقہ کا جائزہ لیا جائے اور وہاں کی دینی اور مذہبی کمزوریوں کو ( اگر وہاں دینی و مذہبی کمزوریاں موجود ہوں تو) پہنچانا جائے اور تقاریر و بیانات اور خطابات کے دوران شائستہ انداز میں ان ضعف نکات کر برطرف کرنے کی طرف توجہ کی جائے ۔

3 ۔ جوانوں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں

جوانوں ، نوجوانوں اور طالب علموں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں اور والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پذیرائی کریں اور تسلی و اطمینان سے ان کی باتوں اور ان کے سوالات کو سنیں اور ان کے جوابات دیں ۔(۴)

عاشورائی دروس

درس معرفت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ؛ أَلَا وَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ». (۵)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ علم حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے» ۔

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (عليه ‌السلام) : «أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ كَمَالَ الدِّينِ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ بِهِ وَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ أَوْجَبُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ، إِنَّ الْمَالَ مَقْسُومٌ بَیْنَکُمْ مَضْمُونٌ لَكُمْ قَدْ قَسَمَهُ عَادِلٌ بَيْنَكُمْ وَضَمِنَهُ سَيَفِي لَكُمْ وَ الْعِلْمُ مَخْزُونٌ عَلَیْکُمْ عِنْدَ أَهْلِهِ قَدْ أُمِرْتُمْ بِطَلَبِهِ مِنْهُمْ فَاطْلُبُوهُ» ۔ (۶)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : «اے لوگو ! جان لو کہ دین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے ۔ اور بیشک تم پر مال کےحصول سے زیادہ علم کا حصول واجب ہے ، مال تم میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی ضمانت دی جا چکی ہے اور ایک عادل شخص نے اسے تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے اور جلد ہی اس پر وفا کریں گے ، لیکن علم و دانش کو اہل علم اور دانشوروں کے پاس رکھا گیا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے علم طلب کرو ، پس ان سے طلب کرو» ۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ مِنْكُمْ فِي الدِّينِ فَهُوَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾» ۔ (۷)

« دین میں تفقہ ، بصیرت اور آگاہی حاصل کرو ؛ تم میں سے جو دین میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو وہ اعرابی اور بادیہ نشین ہے ۔ خداوند عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ’’ اور دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو انہیں عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح سے ڈرنے لگیں».

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «عَلَيْكُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي دِينِ الله وَلَا تَكُونُوا أَعْرَاباً فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي دِينِ اللهِ، لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُزَكِّ لَهُ عَمَلاً» ۔ (۸)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «تم پر لازم ہے کہ خدا کے دین میں تفقہ کرو ( یعنی دین میں بصیرت اور آگاہی حاصل کرو) اور اعرابی نہ بنو ( یعنی تمدن و ثقافت سے دور بادیہ نشین نہ رہو) ؛ کیونکہ جو شخص دین میں بصیرت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ، خداوند قیامت کے دن اس پر نظررحمت نہیں کرے گا اور اس کے عمل کو پاکیزہ نہیں کرے گا»۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (عليه ‌السلام) : «لَوَدِدْتُ أَنَّ أَصْحَابِي ضُرِبَتْ رُءُوسُهُمْ بِالسِّيَاطِ حَتَّى يَتَفَقَّهُوا» ۔ (۹)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ اپنے اصحاب کہ سروں  پر تازیانے ماروں تا کہ وہ دین میں تفقہ اور بصیرت حاصل کریں» ۔

مکتب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شاگرد

اس بارے میں معتبر روایات دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کو مخصوص علم تعلیم دیا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور علی علیہ السلام کے خط سے لکھی گئی کتاب سے ہمیشہ اس خاندان تطہیرنے استناد کیا اور اس کی طرف رجوع کیا ۔ حقیقت میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات و تبلیغات اور ان کی سیرت و اسلوب معاشرے کی تربیت اور انسانیت کی ہدایت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مکمل و متمم ہدف تھا۔

مشہور اور متواتر حدیث ’’حدیثِ ثقلین‘‘(۱۰)کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام امت کو ان بزرگ ہستیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حدیث شریف کی رو سے اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی علمی صلاحیت ظاہر و آشکار ہو جاتی ہے ۔

ان کے علاوہ اہلسنت سے بھی اس بارے میں دوسری بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ مکتب نبوت کے تربیت شدہ افراد میں سے علی علیہ السلام نے دوسرے تمام اصحاب کی بنسبت سب سے زیادہ انوار نبوت سے استفادہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علمی مسائل اور مشکلات میں علی علیہ السلام ہی سب کے لئے مرجع ہیں اور تمام شرعی علوم آنحضرت پر منتہی ہوتے ہیں ۔

حضرت امام علی علیه ‌السلام کے بعد امامت اور علمی و دینی رہبری کا ‏منصب الٰہی آپ کے بیٹوں حضرت امام ‌حسن ‌مجتبی اور سید الشہداء حضرت امام ‌حسين علیہ السلام کو حاصل تھا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اسلامی مسائل ، علوم تفسیر اور شرعی احکام میں لوگوں کے لئے پناہگاہ تھے اور آپ کے سخن قاطع و مقبول اور آپ کی روش و اسلوب نمونہ و میزان تھی ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام ؛ چراغ اسلام

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

خوارج میں سے فرقۂ ازارقہ کے سربراہ نافع بن ازرق نے امام‌حسين‌‏‌علیه‌ السلام سے ‏عرض كیا :

آپ اپنے خدا کی توصیف بیان کریں کہ جس کی آپ پرستش کرتے ہیں !۔

امام‌ حسين‌‏ علیه ‌السلام نے فرمایا :

«يَا نَافِعُ إِنَّ مَنْ وَضَعَ دينَهُ عَلَی الْقِيَاسِ لَمْ يَزَلِ الدَّهرَ فِي الْإِلْتِبَاسِ مَائِلاً نَاكِباً عَنِ الْمِنْهَاجِ ظَاعِناً بِالْإِعْوِجَاجِ ضَالّاً عَنِ السَّبِيلِ قَائِلاً غَيْرَ الْجَمِيلِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ أَصِفُ إِلَهِي بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَعْرِفُهُ بِمَا عَرَفَ بِهِ نَفْسَهُ، لَا يُدْرَكُ بِالْحَواسِّ وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ، قَرِيبٌ غَيْرُ مُلْتَصِقٍ، وَبَعِيدٌ غَيْرُ مُسْتَقْصِي، يُوَحَّدُ، وَلَا يُبَعَّضُ، مَعْرُوفٌ بِالْآيَاتِ، مَوْصُوفٌ بِالْعَلَامَاتِ، لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالُ»؛

«اي نافع! جو شخص بھی اپنے دین کی بنیاد قیاس پر رکھے ؛ وہ پوری عمر غلطی پر ہی رہے گا اور راہ سے منحرف ہو جائے گا ، کج روی اختیار کرے گا اور گمراہ ہو جائے گا اور نازیبا کلمات کہے گا ۔ اے ابن ازرق! میں اس چیز سے خدا کی توصیف کرتا ہوں کہ جس سے اس نے خود اپنی توصیف بیان فرمائی ہے ۔ اسے نہ تو حواس سے درک کیا جائے اور نہ ہی لوگوں پر اس کا قیاس کیا جائے ۔ وہ نزدیک ہے لیکن کسی چیز سے متصل اور ملحق شدہ نہیں ہے ۔ اور وہ دور ہے لیکن اس نے دوری اختیار نہیں کی ( خداوند متعال کی دوری و نزدیکی ؛ دوسری مخلوقات و موجودات کی دوری و نزدیکی کی مانند نہیں ہے ۔ اس کی دوری و نزدیکی مادی حواس کے ذریعے قابل درک نہیں ہے ) ۔ وہ یگانہ ہے لیکن وہ تبعیض اور تجزیہ و ترکیب سے مبرّا ہے ، وہ کچھ نشانیوں سے پہچانا گیا ہے اور کچھ علامتوں سے اس کی توصیف کی جاتی ہے اور خدائے کبیر و متعال کے سوا کوئی خدا نہیں ہے».

ابن‌ ازرق نے روتے ہوئے کہا :

یَا حُسَیْنُ مَاأَحْسَنَ كَلَامَكَ؛

اے حسین ! آپ کا کلام کس قدر خوبصورت ہے!

امام حسين علیه ‌السلام نے فرمایا : «مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میرے پدر اور میرے بھائی کے سامنے میرے کفر کی گواہی دیتے ہو!».

ابن‌ازرق نے کہا : أَمَا وَاللهِ یَا حُسَیْنُ لَئِنْ کَانَ ذَلك لَقَدْ کُنْتُمْ مَنَارَ الْإِسْلَامِ وَنُجُومَ الْأَحْکَامِ ۔ (۱۱)

اے حسین ‌(علیه‌ السلام) ! اگر مجھ سے یہ نازیبا حرکت صادر ہوئی ! تو بیشک آپ اسلام کے چراغ اور احکامِ خدا کے ستارے ہیں ۔

یعنی لوگوں کو آپ کے علوم و معارف کے انوار سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہئے اور تاریکی میں آپ کے وجود کے ستاروں سے ہدایت پانی چاہئے ۔

امام حسين علیه‌ السلام ؛ شمع بزم عالمان

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱۲)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۳)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

اس کے بعد علايلی لکھتے ہیں : حسين ‌(علیه‌ السلام)  كثير الحديث و الروايه تھے ۔ اس زمانے میں اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہت سارے اصحاب حدیث نقل کرتے تھے لیکن لوگ سب کو چھوڑ کر حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں آتے ۔ اس کے بعد علایلی نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کچھ احادیث نقل کی ہیں ۔ (۱۴)

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا :

إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ۔ (۱۵)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

درس عبادت

احادیث

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ غِنًى وَلَا أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ وَعَلَيَّ أَنْ أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَمْلَأَ قَلْبَكَ خَوْفاً مِنِّي وَ إِنْ لَا تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ شُغُلاً بِالدُّنْيَا ثُمَّ لَا أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ» ۔ (۱۶)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : « توریت میں لکھا ہے : اے ابن آدم ! تمہاری توجہ میری عبادت و بندگی کی طرف رہے  تو میں تمہارے دل کو بے نیازی سے بھر دوں گا اور تمہیں تمہاری طلب اور جستجو میں نہیں چھوڑوں گا ، اور تمہاری ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لوں گا اور تمہارے دل کو اپنے خوف سے بھر دوں گا ، اور اگر تمہاری توجہ میری عبادت کی طرف نہ ہوئی تو میں تمہارے دل کو دنیا میں مشغول ہونے سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کی چارہ جوئی  نہیں کروں  گا اور تمہیں تمہاری طلب پر چھوڑ دوں گا » ۔

قَالَ الصَّادِقُ ‌‌(عليه ‌السلام) : «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا عِبَادِيَ الصِّدِّيقِينَ ! تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي الدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ تَتَنَعَّمُونَ بِهَا فِي الْآخِرَةِ» ۔ (۱۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «خداوند نے فرمایا : اے میرے سچے اور حقیقی بندو ! دنیا میں میری عبادت کے ذریعے نعمتیں حاصل کرو اور بیشک اسی کے ذریعے تمہیں جنت میں بھی نعمتیں ملیں گی» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبَادَةَ فَعَانَقَهَا وَأَحَبَّهَا بِقَلْبِهِ وَبَاشَرَهَا بِجَسَدِهِ، وَتَفَرَّغَ لَهَا فَهُوَ لَا يُبَالِي عَلَى مَا أَصْبَحَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى عُسْرٍ أَمْ عَلَى يُسْرٍ» ۔ (۱۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «لوگوں میں افضل وہ ہے جو عبادت کا عاشق ہو اور  اسے اخذ کر لے اور اسے دل سے دوست رکھتا ہو اور بدن سے انجام دیتا ہو اور وہ اس کے لئے فارغ ہو اور اس کی مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو اور دنیا کی سختی و آسانی کو اہمیت نہ دے»۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «إِنَّ الْعُبَّادَ ثَلَاثَةٌ : قَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَوْفاً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى طَلَبَ الثَّوَابِ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأُجَرَاءِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حُبّاً لَهُ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَارِ وَهِيَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ» ۔ (۱۹)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «عبادت کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں : ایک گروہ خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، یہ غلاموں کی عبادت ہے ؛ کچھ لوگ ثواب کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ اجیر شدہ افراد کی عبادت ہے ؛ اور ایک گروہ خدا کی محبت میں خداوند عزوجل کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کی سب سے افضل قسم ہے » ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَقْبَحَ الْخَطِيئَةَ بَعْدَ الْمَسْكَنَةِ، وَأَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ الْعَابِدُ لِلّٰهِ ثُمَّ يَدَعُ عِبَادَتَهُ» ۔ (۲۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «غنی و بے نیاز ہونے کے بعد فقر کس قدر قبیح ہے ، اور بدبختی و ناداری کے بعد گناہ کس قدر قبیح ہے ، اور اس سے بھی قبیح وہ عابد ہے کہ جو خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دے » ۔

قَالَ السَّجَّادُ‌ (عليه ‌السلام) : «مَنْ عَمِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ» ۔ (۲۱)

 حضرت امام سجاد  نے فرمایا : «جو شخص خدا کی جانب سے واجب کردہ  امور پر عمل کرے ؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد ہے » ۔

امام حسین علیه‌السلام ؛ سید العابدین

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

«حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۲۲)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے» ۔ (۲۳)

عقّاد کہتے ہیں : «حسین علیہ السلام پنجگانہ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں بھی بجا لاتے اور ماہ رمضان کے روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے ، اور آپ نے کسی بھی سال حج کو ترک نہیں کیا مگر یہ کہ آپ اسے ترک کرنے پر مجبور ہوں» ۔ (۲۳)

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۲۴) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي نَعَّمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاکِراً ، وَابْتَلَیْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً ، فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْکِ الشُّکْرِ ، وَلَا (أَنْتَ) أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ، إِلَهِي مَا يَکُونُ مِنَ الْکَرِيمِ إِلَّا الْکَرَمُ» ۔ (۲۵)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا» ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ (۲۶)

درس سخاوت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ‌ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ» ۔ (۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «سخاوت ؛ بہشت میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ، وہ اسے جنت میں لے جاتی ہے ، اور بخل ؛ جہنم میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ؛ وہ اسے جہنم میں لے جاتی ہے» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ طَيٍّ: «دُفِعَ عَنْ أَبِيكَ الْعَذَابُ الشَّدِيدُ لِسَخَاوَةِ نَفْسِهِ» ۔(۲۸)

پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عدی بن حاتم طائی سے فرمایا : «تمہارے باپ کی سخاوت کی وجہ سے اس سے سخت عذاب اٹھا لیا گیا» ۔

قَالَ الرِّضَا (عليه‌ السلام) : «إِيَّاكَ وَالسَّخِيَّ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْخُذُ بِیَدِهِ» ۔ (۲۹)

‌حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : «کہیں کسی سخی کی سرزنش نہ کرنا کہ خداوند اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے » ۔

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ.

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۳۰)

میں تمہارا قرض ادا کروں گا

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۳۱)

درس حسن معاشرت 

احاديث:

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «يَا شِيعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ عِنْدَ غَضَبِهِ، وَمَنْ لَمْ يُحْسِنْ صُحْبَةَ مَنْ صَحِبَهُ، وَمُخَالَقَةَ مَنْ خَالَقَهُ، وَمُرَافَقَةَ مَنْ رَافَقَهُ، وَمُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَهُ، وَمُمَالَحَةَ مَنْ مَالَحَهُ» ۔ (۳۲)

حضرت امام‌صادق علیه‌السلام نے فرمایا : « اے آل محمد کے شیعو اور پیروکارو ! جان لو کہ وہ شخص  ہم میں سے نہیں ہے کہ جو شخص غصہ کے عالم میں خود پر حاکم اور مسلط نہ ہو ، اور جو اپنے ہم نشینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے ، اور جو اپنے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر مہربانی نہ کرے ، اور جو اپنے رفقاء اور دوستوں کی دوستی کا جواب دوستی سے نہ دے اور جو اپنے پڑوسیوں کا احترام نہ کرے اور پڑوسیوں کے حقوق کی رعائت نہ کرے اور جو کسی کے نمک کے حق کی رعائت نہ کرے » ۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (علیه ‌السلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾، «کَانَ يُوَسِّعُ الْمَجْلِسَ، وَ يَسْتَقْرِضُ لِلْمُحْتَاجِ، وَ يُعِينُ الضَّعِيفَ»۔(۳۳)

حضرت امام ‌صادق علیه ‌السلام نے خداوند متعال کے اس قول «ہم تمہیں احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں» کے بارے میں فرمایا : «وہ مجلس میں جگہ دیتے اور ضرورت مندوں کو قرض دیتے اور مستضعف و ناتوان افراد کی مدد کرتے» ۔

قَالَ البَاقِرُ‌(عليه ‌السلام) : «عَظِّمُوا أَصْحَابَكُمْ وَ وَقِّرُوهُمْ، وَ لَا يَتَهَجَّمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَ لَا تُضَارُّوا ، وَ لَا تَحَاسَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَ الْبُخْلَ، كُونُوا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ» ۔ (۳۴)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : «اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا احترام کرو اور ان میں سے ایک دوسرے سے نزاع و اختلاف اور جارحیت کا مظاہرہ نہ کرے ، اور ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر نہ پہنچاؤ ، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اور بخل سے دوری کرو تا کہ خدا کے مخلص بندوں میں سے قرار پاؤ » ۔

امام ‌حسين علیه السلام کی جانب سے عذر قبول کرنا

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اجتماعی و سماجی آداب اور دور و نزدیک سے حسن معاشرت کے لحاظ سے بلند پایہ اور بے نظیر تھے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی خصلت یہ تھی کہ آپ عفو و درگذر کرنے سے سرشار تھے ۔

جمال‌الدّين محمد زرندی حنفی مدنی نے روايت كی ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے پدر گرامی امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 «اگر کوئی شخص میرے اس کان (آپ نے اپنے دائیں کان کی طرف اشارہ کیا) میں مجھے دشنام دے اور اور میرے دوسرے کان میں کوئی عذر پیش کرے تو میں اس کا عذر قبول کر لوں گا کیونکہ امير المؤمنين علی علیه ‌السلام نے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میرے لئے نقل فرمایا ہے :

«لَا يَرِدُ الْحَوْضَ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْعُذْرَ مِنْ مُحِقٍّ أَوْ مُبْطِلٍ» ۔ (۳۵)

«عذر قبول نہ کرنے والا حوض (كوثر) میں وارد نہیں ہو گا ؛ چاہے عذر لانے والا حق ہو یا باطل» ۔

بھائی کا احترام

امام‌ حسين علیه ‌السلام اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور اہلبیت سے نہایت ادب و احترام ، محبت و رحمت ، لطف و کرم اور انس و محبت سے پیش آتے ۔ ابن ‌قتيبه نے روايت کی ہے کہ ایک شخص سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت سے کسی چیز کی درخواست کی ۔

آنحضرت نے فرمایا : «سوال کرنا شائسته نہيں ہے مگر کسی سنگین قرض یا خوار کرنے والے فقر   یا  اس دیت و تاوان کی وجہ سے کہ جسے ادا نہ کرنا رسوائی کا باعث بنے» ۔

اس نے عرض کیا : میں آپ کی خدمت میں انہی میں سے ایک مورد کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔

امام حسن علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے سو دینار عطا کر دیئے جائیں ۔

پھر وہ شخص امام ‌حسين علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنضرت سے بھی سوال کیا ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس شخص سے اپنے بھائی کا سخن ہی بیان کیا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا : «میرے بھائی نے تمہیں کتنے پیسے دیئے ہیں؟» ۔

اس نے عرض کیا : سو دینار ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام نے اسے ننانوے دینار عطا کئے ؛ کیونکہ آپ اپنے بھائی کی برابری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ (۳۶)

احسان کا بدلہ احسان

ياقوت مستعصمی ؛  اَنَس سے روايت کرتے ہیں کہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«أَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى».

«تم خدا کے لئے آزاد ہو» ۔

میں نے عرض کیا : وہ کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ؟

آپ نے فرمایا : «خدا نے ہمیں ایسے ہی آداب سکھائے ہیں ؛ کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے :

﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ۔ (۳۷)

«اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ (سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب رکھنے والا ہے»۔  (۳۸)

 

حوالہ جات :

۱ ۔ محرّم‌ الحرام کی آمد پر پیغام؛ سنہ 1423ہجری ۔

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : ۳۵ ۔

۳ ۔ نعماني، الغيبه، ص41؛  مجلسی، بحارالانوار، ج2، ص77.

۴ ۔ ماہ محرم الحرام کی آمد پر پیغام ؛ سنہ 1420 ہجری ۔

۵ ۔ صفار، بصائر الدرجات، ص22؛ کليني، الکافي، ج1، ص30؛  حر عاملي، الفصول ‌المهمه، ج1، ص462؛ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص172 ۔

۶ ۔ ابن ‌شعبه حراني، تحف ‌العقول، ص199؛ مجلسي، بحار الانوار، ج1، ص175 ۔

۷ ۔ برقي، المحاسن، ج1، ص229؛ کلينی، الکافی، ج1، ص31 ۔

۸ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

۹ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

 ۱۰ ۔ کوفي، مناقب الامام ‌اميرالمؤمنين علیه‌السلام ، ج2، ص98، 105، 112، 114؛  طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج5، ص167؛  طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص216 ـ 217؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق المحرقه، ص149 – 150 ۔

 ۱۱ ۔ ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق ، ج14، ص184؛  ایضاً ، ترجمة ریحانة ‌الرسول الامام‌ الحسين (علیه ‌السلام) ، ص225؛ علایلي، سموالمعني، ص148 ۔

 ۱۲ ۔ ابن‌کثير ،  البداية و النهايه، ج8 ، ص162 ؛  ر.ک :  علایلي ، سموالمعني، ص99 ـ 100 ۔

۱۳ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ۔

۱۴ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ـ 102 ۔

۱۵ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص148 ۔

۱۶ ۔ کلینی، الکافی، ج 2 ، ص83 ۔

۱۷ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص83 ۔

۱۸ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۱۹ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۰ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۱ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۲ ۔ ابن‌ عبدالبر ، الاستیعاب ، ج1 ، ص397 ؛ ابن ‌اثیر جزری ، اسد الغابه ، ج2 ، ص20 ۔

۲۳ ۔ عقّاد ، ابو الشهداء ، ص145 ۔

۲۴ ۔ یعقوبی ، تاریخ ، ج2، ص226 ؛ سبط ابن جوزی ، تذکرة ‌الخواص ، ص211 ؛ ابی ‌الفداء ، تاریخ ، ج1 ، ص191 ۔

۲۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج  69، ص197 ـ 198 ؛ مرعشی نجفی ، شرح احقاق ‌الحق ، ج 11، ص 595؛ ج19 ، ص420ـ421 ؛ ج27 ، ص203 ۔

۲۶ ۔ ابن ‌طاووس ، اقبال ‌الاعمال ، ج  2، ص 74ـ87 ؛ کفعمی ، المصباح ، ص 671 ـ 681 ؛ ایضاً ، البلد الامین ، ص 251ـ258 ؛ مجلسی ، زاد المعاد ، ص 173ـ182 ۔

۲۷  ۔حميری قمی ، قرب ‌الاسناد ، ص117؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج70 ، ص303 ۔ 

۲۸ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص345 ۔ 

۲۹ ۔ ابن ‌بابویه ، فقه ‌الرضا علیه ‌السلام ، ص363 ؛ مفید ، الاختصاص ، ص253 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص355 ۔

۳۰ ۔ ابن عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج14 ، ص185 ، علايلی ، سمو المعنی ، ص151 ۔

۳۱ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي ‌طالب ، ج4 ، ص65 ؛ محدّث نوري ، مستدرک‌ الوسائل ، ج13 ، ص436 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص 151 ـ 152 ۔

۳۲ ۔کليني ، الکافي، ج2 ، ص637 ۔

۳۳ ۔ کلينی ، الکافی ، ج2 ، ص637 ؛ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج12 ، ص14 ۔

۳۴ ۔ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج14 ، ص15 ؛ ایضاً ، الفصول ‌المهمۃ ، ج3 ، ص355 ۔

۳۵ ۔ زرندی ، نظم درر السمطين ، ص209 ۔

۳۶ ۔ علایلی ، سمو المعنی ، ص152۔

۳۷ ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۸۶ ۔

۳۸ ۔ اربلی ، کشف ‌الغمه ، ج2 ، ص240 – 241 ؛ ابن ‌صباغ مالکی ، الفصول‌ المهمه ، ج2 ، ص786 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص159 ؛ عقّاد ، ابو الشہداء ، ص145 ۔

سه شنبه / 20 شهريور / 1397
روزہ مباہلہ
(فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْانَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ)

عید مباہلہ کی مناسبت سے خصوصی تحریر

( فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْ انَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ )

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اپنی رسالت پر قوّت ایمان کے دلائل و مظاہر میں سے ایک ’’ واقعہ مباہلہ ‘‘ ہے ۔ کیونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود مباہلہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لہذا اگر آپ کو خود اپنی دعوت پر ایمان نہ ہوتا تو گویا آپ  خود اپنے دشمن کو اپنی دعوت کے باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم کر دیتے ۔ چونکہ مباہلہ دو صورتوں سے خالی نہیں تھا یا آنحضرت کے حق میں نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہو جاتی  ، اور دوسری صورت یہ تھی کہ نہ تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نفرین مستجاب ہوتی اور نہ ہی نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہوتی ،  ان دونوں صورتوں میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا  دعوی آشکار طور پر باطل ہو جاتا ۔نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی عقل مند  کبھی بھی ایسی تجویز پیش نہیں کرے گا اور لوگوں کو اپنے دعوے کی باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم نہیں کرے گا مگر یہ کہ اسے اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور اپنے دشمن کی ہلاکت کا سو فیصد اطمینان اور یقین ہو ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے رسالت و نبوت کی حقانیت ، اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور مباہلہ کی صورت  میں اپنے دشمن کی ہلاکت و نابودی کا یقین کامل تھا ؛ جس کی وجہ سے آپ نے کمال شجاعت و صراحت سے مباہلہ کی تجویز پیش کی ۔

مباہلہ میں حضرت علی ، حضرت حسن ، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ علیہم السلام کو خدا کے حکم اور تعیین کے ذریعے شریک کیا گیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مباہلہ میں شریک ہونے والے یہ انوار اربعہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محترم و مکرم ہیں اور یہ مخلوقات میں سب سے شائستہ مخلوق ہیں ، اور یہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔

آیۂ مباہلہ خدا کے نزدیک ان ہستیوں کے مقام و مرتبہ کی جلالت اور خاص تقرب کا اعلان ہے ۔ بزرگ مفسرین اور محدثین و مؤرخین نے تفسیر و حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں واقعۂ مباہلہ کو نقل کیا ہے ۔ اور یہاں اس واقعہ کے مصادر اور اسناد بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم یہاں چند کتابوں کے نام ذکر کرتے ہیں تا کہ اگر کوئی شخص  چاہئے تو ان کی طرف رجوع کر سکے :

تفسير طبری ، بيضاوی ، نيشابوری ، كشاف ، الدرالمنثور ، اسباب النزول واحدی ، اكليل سيوطی ، مصابيح السنة ، سُنن ترمذی اور ان کے علاوہ دیگر کتب ۔

 

منبع:  کتاب ’’پرتوی از عظمت امام حسین علیه السلام ‘‘ تألیف :  آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی

دوشنبه / 12 شهريور / 1397
غدير سےظہور تک
دھہ مبارک ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمی صافی کے سلسلہ وار نوشتہ جات /4

مكتب غدیر ( در حقیقت ) مكتب جہاد ، مكتب ایمان ، مكتب قرآن اور تمام انبیاء کے استمرار کا مکتب ہے ۔

غدیر ایک ایسی راہ ہے کہ جس سے صرف حقیقت کی طرف گامزن افراد ہی گذرتے ہیں۔ خوف و خطر اور تاریکی و ضلالت کی وادی میں گمشدہ افراد کو چاہئے کہ وہ خود کو اس مقصد اور منزل تک پہنچائیں۔

 

  • ہرگز منقطع نہ ہونے والا نظام

غدیر میں جلوہ گر ہونے والا عام نظام ایک ایسا نظام ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری و ساری ہے اور جو ہرگز منقطع نہیں ہو گا اور زمین کبھی بھی اس نطام کے صاحب ، سربراہ اور رہبر سے خالی نہیں رہے گی ۔

صفحه‌ٔ غدیر کا ابھی تک اختتام نہیں ہوا ہے اور یہ صاحب غدیر کے آخری وارث کے ظہور موفور السرور تک جاری رہے گا اور عاشقان غدیر ؛ فرزند غدیر کے ہم رکاب جانفشانی کے لئے منتظر ہیں ۔

جی ہاں !  غدیر ؛ روز میثاق اور انسانیت کے آقا و مولا اور دنیائے بشریت کے مظلوموں کی دادرسی کرنے والے یگانہ امام سے کی گئی بیعت کی تجدید کا دن ہے ۔

 

  • بعثت سے  غدیر تک اور غدیر سے ظہور تک

غدیر ایک ایسا دن ہے کہ جوعظمت کے اعتبار سے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روزِ بعثت کے ہم پلہ ہے ۔ دونوں آغاز ہیں اور دونوں یوم الله الاكبر ہیں ۔

اور دونوں دنوں کی طرح تیسرا دن منجی عالم بشریت ، آخر الزمان میں یگانہ مصلح ، عدل کل ، موعود رسل قائم آل محمد حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور پر نور کا دن ہے ۔ مہدی موعود عجل اللہ فرجہ الشریف ایک ایسی بلند پایہ شخصیت کہ انبیاء اور آسمانی صحف نے جن کے ظہور کی بشارت دی ہے ، اور «یمْلَأُ الأرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً» (1) ان سے مختص اوصاف میں سے ایک ہے ، اور اسی طرح «هُوَ الّذی یفْتَحُ اللهُ عَلى یدَیهِ مَشَارِقَ الأرْضِ وَ مَغَارِبَها» (2) ان کے قیام اور اقدامات کا منشور ہے ۔

 

  • خطبۂ غدیر میں ظہور کی بشارت

جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے معنی و مفہوم سے لبریز خطبہ میں بارہا حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی عادلانہ  حکومت کی بشارت دی ہے ، اسی طرح صاحب غدیر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے مختلف مقامات اور مختلف مواقع پر بارہا اس غدیر کے امتداد و اسمترار کا اعلان کیا ہے ۔

 

  • صاحب الامر علیہ السلام کے وجود کی بشارت کے بارے میں اہم علوی خطبہ 

مولائے کائنات امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے غدیر جیسے نورانی اور معرفت بخش خطبہ میں راہ غدیر کے استمرار و تسلسل کو برقرار رکھنے والی ہستی یعنی ؛ حضرت بقیة الله الاعظم ارواح العالمین له الفدا کی بشارت دی ہے ۔ لہذا مناسب ہے کہ ہم یہاں اس مقام پر مختصر طور پر اس خطبہ کو بیان کریں :

 بزرگ مؤرخ اور دانشور مسعودی نے اپنی کتاب ’’مروج الذہب‘‘ (جو عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے کہ جس کی جانب علماء اسلام اور مسلم و غیر مسلم محققین رجوع کرتے ہیں اور جسے اہم مصادر میں شمار کیا جاتا ہے) کے مقدمہ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے ایک خطبہ نقل کیا ہے کہ جو اعلی مطالب اور شریف مضامین پر مشتمل ہے ، البتہ اس کے کچھ حصوں کے لئے تفسیر و شرح اور بیان کی ضرورت ہے اور اس کی تفسیر و شرح بیان کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ کچھ ہی ایسے بزرگ افراد یہ کام کر سکتے ہیں کہ جو ہمیشہ سے انگشت شمار رہے ہیں ۔ (3)

اس خطبہ کا آغاز کائنات اور انسان کی خلقت کے بیان سے شروع ہوتا ہے اور اس خطبہ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شأن و عظمت کو بہت عظیم جملوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور جب آنحضرت کے وجود مبارک کے نورانی امتیاز کی بات آتی ہے تو یہ جملہ بیان فرماتے ہیں کہ جو آنحضرت سے خدا کا خطاب ہے :

« أنْتَ الْمُخْتَارُ الْمُنْتَخَبُ، وَ عِنْدَكَ مُسْتَوْدَعُ نُورِی‌ وَ كُنُوزُ هِدَایتِی‌. مِنْ أجْلِكَ اُسَطِّحُ الْبَطْحَاءَ، وَ اُمَوِّجُ الْمَاءَ، وَ أرْفَعُ السَّمَاءَ ....»

اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے مقام و منزلت اور مرتبہ کے تعارف کے لئے اس سے زیادہ جامع اور کافی جملہ کوئی نہیں ہے ؛ یہ خدا کا خطاب اور خدا کا اعلان و ابلاغ ہے ۔

پھر آپ اہم مطالب بیان فرماتے ہیں اور آنحضرت اور اہبیت عصمت و رسالت علیہم السلام کے ظاہری ظہور کو بیان کرنے کے بعد حضرت صاحب الأمر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے وجود مبارک کی بشارت دیتے ہوئے فرماتے ہیں « فَنَحْنُ أنْوَارُ السَّمَاءِ وَ أنْوَارُ الارْضِ، فَبِنَا النَّجَاةُ، وَ مِنَّا مَكْنُونُ الْعِلْمِ، وَ إلَینَا مَصِیرُ الاُمُورِ، وَ بِمَهْدِینَا تَنْقَطِعُ الْحُجَجُ، خَاتِمَةُ الائِمَّةِ، وَ مُنْقِذُ الاُمَّةِ، وَ غَایةُ النُّورِ، وَ مَصْدَرُ الاُمُورِ »

آپ فرماتے ہیں : ہم آسمان و زمین کے انوار ہیں ، ہماری پیروی میں ہی راہ نجات ہے ، علم کا منشأ و منبع ہم ہیں ، امور کی عاقبت ہماری طرف پلٹتی ہے ، ہمارے مہدی پر حجتیں تمام ہوں گی ، جو کہ خاتم الأئمہ ہے اور جو امت کو نجات دینے والا ہے ، نور کی غایت ہے ، اور امور کے لئے مصدر ہے ۔

اس خطبہ اور ان زرّین و نورانی اور معرفت آفرین جملوں کو تعلیم دیا جانا چاہئے اور ان معرفت بخش اور زرّین جملوں کی تکریم کرنی چاہئے کہ جیسے مسعودی نے حضرت امام صادق علیہ السلام اور ان کے آباء و اجداد علیہم السلام اور امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کیا ہے اور اس پر اعتماد و استناد کیا ہے ۔ ان جملوں کو جاننا چاہئے اور ان کے ذریعہ اہلبیت علیہم السلام کو پہچانا چاہئے کہ جن میں بلند پایہ درس اور عظیم پیغام قیامت تک کے لئے سب لوگوں کو مخاطب قرار دے رہے ہیں ۔ سزاوار ہے کہ ان جملوں کو حفظ کیا جائے اور اپنے بچوں کو ان کی تعلیم دی جائے کہ جنہیں تاریخ و آثار سے مطلع مسعودی جیسی بزرگ شخصیت نے روایت کیا ہے ۔

 

  • حوالہ جات :
    1. مستدرك الوسائل، جلد 12، باب 31،‌ حدیث 14094 ۔
    2. بحار الأنوار، جلد 26، باب 5، حدیث 47 ۔
    3. مروج الذّهب مسعودی، ج1، ص 24-22 ۔
چهارشنبه / 7 شهريور / 1397
ولایت علوی کی نصوص جليّه و خفيّه
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۲)

غدیر؛حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل اور ولایت کی سب سے معتبر اور صریح نص ہے۔ غدیر کی نصوص کے علاوہ اس عظیم ولایت پر بہت  زیادہ صریح نصوص ہیں کہ جو کتاب و سنت میں موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ نصوص بے شمار ہیں لیکن ان سب نصوص کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:نصّ جلی اور نصّ خفی 
نصوص جلیّہ
قرآن کی نصوص جلیّہ ، جیسے مباہلہ کی آيه ٔكريمه (1)یہ آیت مبارکہ: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ الله (2) اور دوسری متعدد آیات کہ جنہیں ابن بطریق نے کتاب "خصائص الوحي المبين في مناقب اميرالمؤمنين عليه‌السّلام"  میں محدثین ، صاحب جوامع و صحاح اور مسانید عامہ میں معتبر سندوں سے روایت کرتے ہوئے شمار کیا ہے.
نصوص جلیّہ میں سے متواتر نبوی نصوص، جیسے مشہور حديث منزلت(3)  اور دوسری احادیث کہ جن میں سے عظیم و مشہور اور اتّم حدیث  شریف غدیر ہے  جو ابلاغ اور عام اعلان ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات رسالت میں اس سے عظیم اجتماع اور بزرگ دن   نہیں ہے۔اس عظیم اجتماع میں تمام نامور اصحاب اور حجاج شریک تھے  اوراس زمانے تک ایسے اجتماع کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

یہ دونوں آغاز ہیں اور دونوں یوم اللہ الاکبر ہے۔ ان دونوں دنوں کے لئے تیسرا دن مصلح یگانہ آخر الزمان، عالم بشریت کو نجات دینے والے، عدل کل، موعود رسل حضرت قائم آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ظہور کا دن ہے۔

نصوص جلیّہ میں حدیث غدیر سے بڑھ کر اور کوئی نصّ جلی نہیں ہے کہ جس کے اصحاب، تابعین اور تبع تابعین میں سے اس قدر زیادہ راوی ہوں اور جو ہر لحاظ سے اس قدر معتبر ہو۔ اس حدیث ، اس کی اسناد اور اس کے الفاظ کے بارے میں اتنی کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں کہ جن سے ایک  شاندار کتابخانہ تشکیل پا جائے۔
* نصوص خفيّه
نصّ جلیہ کے ساتھ  ساتھ خفیّہ نصوص بھی بڑا اہم اور محکم مقام رکھتی ہیں  اور وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بلا فصل ولایت اور بقیہ تمام ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت کو ثابت کرتی ہیں۔
خفیّہ نصوص کا ایک بڑا وسیع اور جامع باب ہے۔ علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ’’آلفین‘‘ کو ان خفیّہ ادلہ  میں سے دو ہزار دلائل کے طور پر شمار کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ان نصوص کو خفیّہ کا نام دیا جاتاہے لیکن کسی طرح سے بھی ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت پر ان کی دلالت میں کوئی مخفی پہلو نہیں ہے(بلکہ ان سب کی  دلالت آشکار ہے) ان خفیّہ نصوص میں بعض قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے طور پر سب کو مخاطب قرار دیا گیا ہے۔جیسے:

أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ يَهِدِّي إِلّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)۶)

یا ’’مَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَ الْبَصِير‘‘)۷)

یا پھر یہ آٰیت:’’هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ‘‘(۸)
ان آیات سے واضح طور پر اظہر مصادیق کے لحاظ سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام خلافت و امامت  کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ ان سب کا پیغام یہ ہے کہ بینا ہو نہ کہ نابینا، عالم ہو نہ کہ جاہل، فاضل ہو نہ کہ مفضول، علی علیہ السلام ہوں نہ کہ کوئی دوسرا۔

* ایک عقلی قانون؛فاضل کو مفضول پر فضیلت دینا

فاضل کو مفضول اور افضل کو فاضل پر برتری دینے کا موضوع اور اسی طرح افضل پر فاضل اور مفضول کو فاضل پر برتری دینے کی قباحت قرآن کریم کی متعدد آیات اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی بے شمار احادیث و روایات کا موضوع ہے ۔ نیز یہ واجب اور مستحب احکام کے  بعض موارد میں ہے اور قرآن و روایات کی اہم ہدایات میں سے ہے۔ ان تمام امور میں اور بالخصوص ولایت واور اختیارات میں ایک قانون ہے جسے ہر مسلمان اور ہر عاقل انسان کو اپنا آئین قرار دینا چاہئے کہ انتخاب میں اصلح کو صالح اور الیق کو لائق پر ترجیح دے ۔ اور اجمالی طور پر انسانی فطرت کے لحاظ سے (اگر کوئی دوسرا مقصد یا کوئی اور غرض مدنظر نہ ہو) بھی اس  قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اصل دینی و ولائی نظام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  کی خلافت کے  نظام میں ان تعلیمات و ارشادات کی رعائت کرنا اہم مطالب اور واجبات میں سے ہے۔
اسی اصل اور قانون کی طرف امام علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے اور سب کو مخاطب قرار دیا ہے:
’’أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْهِ وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللهِ فِيهِ‘‘(۹)

نیز فرمایا ہے: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالْأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِهِ‘‘(۱۰)

اس بنیاد پر اور ان آیات و روایات کے حساب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد (چاہے آنحضرت کی حیات میں یا حیات کے بعد) جو واحد  و یگانہ ذات واجب الطاعۃ، صاحب ولایت امر اور منصوص من اللہ ہے؛ وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ذات ہے۔

جاحط کے بقول(انہوں نے اپنے ایک رسالہ میں اس بارے میں کہا ہے): اسلام میں فضائل ، مکارم اور مقامات کی اوج چار چیزوں کو قرار دے سکتے ہیں: خدا پر ایمان، علم و دانائی، زہد اور پرہیز گاری، راہ دین اور راہ خدا میں جہاد۔

پھر وہ کہتے ہیں: اگر تمام علماء اسلام سے یہ پوچھا جائے کہ ایمان کے لحاظ سے اسبق(سب سے پہلے ایمان لانے والے) اور اکمل کون ہیں؟ تو سب سے پہلے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو شمار کریں گے اور اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصحاب میں سب سے اعلم کے بارے میں پوچھا جائے  تو سب سے پہلے علی علیہ السلام کا تعارف کروایا جائے گا اور اگر اس ذات کے بارے میں پوچھا جائے کہ جس نے دین کی راہ میں جہاد کیا اور جس کے جہاد کی برکت سے اسلام اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا تو پھر بھی سب سے پہلے علی علیہ السلام کا نام لیا جائے گا  کہ جن کے ایک جہاد کا ثواب روز قیامت تک پوری امت کی عبادت سے زیادہ ہے۔ اور اگر صحابیوں میں سب سے زیادہ متقی و زاہد کے بارے میں سوال کیا جائے کہ جس نے دنیا کو ترک کر دیا ہو،جو دنیا پر فریفتہ نہ ہوا ہو تو سب علی علیہ السلام کا نام لیں گے کہ جنہوں نے ایک لمحہ کے لئے بھی دنیا کی طرف نہیں دیکھا۔

الغرض یہ کہ اسلام، قرآن اور تمام انببیاء کی دعوت میں افضل کی طرف دعوت دی گئی ہے اور مفضول کو فاضل پر سبقت دینے کی مذمت کی گئی ہے ۔ شیعوں کے عقائد کی محکم بنیاد افضل کو فاضل پر برتری دینے کا مصداق ہے اور دوسرا مصداق غیروں کا عقیدہ ہے کہ جن کے باطل ہونے پر ںصوص خفیّہ دلالت کرتی ہیں اور مصداق و مصادیق کی شناخت کو خود عرف کے سپرد  کیا گیا ہے۔

حوالہ جات:
۱۔ سوره آل عمران، آيه 61.
۲۔ سوره مائده، ‌آيه 55.
۳۔ ارشاد مفيد، جلد 1، صفحه 156؛ بحار الأنوار، جلد 21، صفحه 208، تاريخ طبرى، جلد 2، صفحه 368؛  الكامل في التاريخ ابن اثير، جلد 1، صفحه 306؛ سيره ابن هشام، جلد 4، صفحه 163.
۴۔ مستدرك الوسائل، جلد 12، باب 31،‌ حديث 14094.
۵۔ بحار الأنوار، جلد 26، باب 5، حديث 47.
۶۔ سوره يونس، آيه 35.
۷۔ سوره فاطر، آيه 19.
۸۔ سوره زمر، آيه 9.
۹۔ نهج البلاغة صبحي صالح، خطبه 173.
۱۰۔ ایضاً، حكمت 96.

 

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها