بسمه تعالی ضمن ارزوی قبولی طاعات و عبادات کلیه‌ی مؤمنین خداجوی به اطلاع می‌رساند که رؤیت حلول ماه شوال در شامگاه پنجشنبه 24 خرداد بر حضرت ایت الله العظمی صافی گلپایگانی مد ظله العالی ثابت گردید و جمعه 25 خرداد 1397 عید سعید فطر و برابر با اول...
پنجشنبه: 1397/03/31 - (الخميس:7/شوال/1439)

انہدام جنت البقيع كي برسي كے موقع پر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني كا پيغام

 

بسم  اللہ  الرحمن  الرحیم 
قال اللہ تعاليٰ : وَ ذَكِّرهُم بِأيّام اللهِ
 

بقيع مدينہ منورہ كي زمين كا ايك حصہ ہے جو اپنے دامن ميں صدر اسلام كے بہت اہم وقائع كو سميٹے ہوئے ہے ، ان چودہ صدیوں کے دوران  يہ سر زمين ہمیشہ سے ہميں صدر اسلام كے وقائع كي ياد دلاتي رہتي ہے ۔ اس سرزمين پر موجود اسلامي آثار كي حفاظت اسلامي تبليغ اور قرآن كريم كي حمايت كے مترادف ہے ۔ 
يہ آثار اور حرمين شريفين ميں موجود ديگر آثار مسلمانوں كے درميان ہميشہ مقدس اور محترم رہے ہيں ۔ لوگ اس سرزمین پر سيرت نبوي ، جہاد پيغمبر ، غزوات ، اہلبيت اور اصحاب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو مشاہدہ كيا كرتے تھے اس لئے اس سرزمين كي عظمت بلند و برتر ہے ۔ 
حرمين شريفين كا چپہ چپہ بصيرت افروز اور ايمان پرور ہے ۔ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا وجود پر نور اور آپ سے متعلق ديگر تمام شخصيات ، آپ كا خاندان ،آپ كے دادا جناب عبدالمطلب ، آپ كے چچا جناب ابوطالب، جناب ابوطالب كي زوجہ فاطمہ بنت اسد جو آپ كي ماں كي جگہ تھيں ، مكہ ميں مدفون ازواج مطہرات اور نبي كي زوجہ جناب خديجہ ، سبط اكبر امام حسن عليہ السلام اور ان كي اولاد ، آپ كے ايك اور چچا جناب حمزہ  تاريخ اسلام كا اہم حصہ ہيں ۔ اسي طرح غزوۂ بدر و اُحُد ، مساجد اور بالخصوص  وہ مسجد جہاں پيغمبر(ص) كي ولادت ہوئي، كوہ حرا، غار حرا جہاں سے بعثت اور اسلامي تبليغ كا آغاز ہوا ، جناب ام ہاني كا مكان جہاں سے معراج ہوئي اور ديگر دسيوں مقامات دين حنيف اسلام كي تاريخ كي نشاندہي كرتے ہيں ۔ حرمين شريفين كعبہ معظمہ اور مسجد النبي(ص) كے علاوہ ديگر تاريخي مقامات كے اعتبار سے اسلامي تاريخ كي عظيم پہچان ہے ۔

ليكن افسوس كہ ان ميں سے اكثر مقامات كو منہدم كر كے تاريخ اسلام كو بہت بڑا نقصان پہنچايا گيا ہے جس كی تلافی کرنا ناممكن ہے ۔
آج كي دنيا ميں جہاں حكومتيں اور لوگ اپني تاريخ اور تاريخي آثار پر فخر كيا كرتے ہيں ، ان لوگوں نے اپني اس عظيم ميراث كو برباد كر ڈالا يا ان كا نام بدل ڈالا ۔ كوئي بھي قوم اپني تاريخ اور اپني ميراث كو اس طرح ضائع اور برباد نہيں كيا كرتي ہے ۔ 
قرآن مجيد نے " بيت" كو آيات بينات اور مقام ابراھيم كے ذريعہ شرف و كرامت عطا كي ہے اور اسي نسبت سے مقام ابراھيم عليہ السلام كو مورد احترام قرار ديا ہے ۔ 
حرمين شريفين ميں بہت سے مقامات ايسے ہيں جو خاتم الانبياء حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے منسوب ہيں ۔ وہ تمام مقامات جو حضرت محمد مصطفيٰ (ص) سے منسوب ہيں انھيں باقي ركھنا چاہئے اور زمانے كے ساتھ ساتھ وہ باقي رہيں اور جس طرح مقام ابراھيم مشہور ہے وہ بھي معروف و مشہور ہوں ۔ 
جس طرح توحيد كے عظيم مبلغ جناب ابراھيم عليہ السلام كے نام سے وہ مقام زندہ و جاويد ہے اسي طرح نام محمد(ص) اور ان كي تبليغ توحيد اور ان سے منسوب ديگر مقامات كو بھي زندہ و جاويد ركھنا چاہئے اور رہے گا انشاء اللہ ۔ جس طرح مقام ابراھيم كو مسمار كرنا ، اس مقام پر نماز پڑھنے اور عبادت كرنے سے روكنا جائز نہيں ہے اسي طرح ان مقامات كي تعظيم و احترام سے روكنا بھي جائز نہيں ہے جو حضرت محمد مصطفيٰ (ص) سے منسوب ہيں ۔ 
مكہ و مدينہ كے ديگر مقامات جو دوسرے ناموں سے بھي منسوب ہيں وہ سب پيغمبر اسلام (ص) كے نام و ياد سے باقي ہيں اور يہ سارے مقامات مكمل دعوت توحيد ہيں ، دين توحيد كي تاريخ ان ميں مضمر ہے اور ان كي بقا كلمہ توحيد كي بلندي كا باعث ہے ۔ اگر جناب ابراھيم عليہ السلام كو اس ايك مقام كي بنياد پر ياد كيا جاتا ہے تو محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو متعدد مقامات كي مناسبت سے ياد كيا جانا چاہئے چونكہ وہ سب ان كي زندہ نشاني ہيں ۔ 
تمام مسلمانوں پر فرض ہے كہ اسلامي مقامات كا احترام كريں اور انھيں اس طرح نہ چھوڑ ديں كہ يہ تاريخي ميراث بھلا دي جائے يا انھيں ترك كر ديا جائے ۔ 
آٹھ شوال وہ دن ہے جس دن اس گروہ نے بقيع كو مسمار كرنا شروع كيا اور اہلبيت عليھم السلام كے نوراني مراقد كو برباد كيا اور اسلام كي اس نشاني كو اپنے ظلم و ستم كا نشانہ بنايا ، لہذا تمام مسلمان شيعہ اور سني تمام مذاہب اس دن عالمي پيمانے پر سعوديہ كي اس جنايت كي مذمت كريں اور سب ايك ساتھ مل كر يہ مطالبہ كريں كہ ان قبور كي دوبارہ تعمير ہو اور دين اسلام كي اس روشن نشاني كو پھر سے زندہ كريں ۔ 
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم 
۳شوال المكرم ۱۴۳۳
لطف اللہ صافي

چهارشنبه / 30 خرداد / 1397
عيد الفطر كے سلسلہ ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي دامت بركاتہ كے بيانات

اَسْئَلُكَ بِحَقِّ هذَا الْيَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيداً
عيد سعيد فطر كے دن ساري دنيا كے مسلمان خوشي و مسرت ميں غرق رہتے ہيں اور اس بات پر فخر محسوس كرتے ہيں كہ انھوں نے ماہ مبارك رمضان كو خدا كي طاعت و عبادت ميں بسر كيا اور اس كي رحمتوں اور بركتوں سے فيض حاصل كيا ۔ 
خدا كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اسلام كے ايك عظيم تربيتي درس كو ايك مہينہ ميں تمام كيا ہے ۔ اور اس ميں جو سبق انھيں ديا گيا ہے اسے اپني صلاحيت اور استعداد كے مطابق سمجھا ہے اور اسے اپنے دل ميں اتارا ہے ۔ 
اس دن مسلمان ايك ايسے ميدان جہاد سے كامياب و سرفراز ہو كر نكلے ہيں جس ميں بڑے بڑے پہلوان اور قدآور لوگ خاك چاٹ چكے ہيں ۔ 
اس جہاد كا نام جہاد بالنفس ہے ،جس ميں انسان اپنے دل كي خواہشات ، حيواني غرائز اور نفساني لذات سے جہاد كرتا ہے ۔ 
نفس كو اس كے شہواني امور سے روكنا ، لذيذ غذاؤں اور گوارا مشروبات سے پرہيز كرنا ، نگاہوں كو شيطاني ہوا و ہوس اور حرام چيزوں سے بچانا ، جھوٹ ، غيبت ، غصہ ، بد اخلاقي ، تكبر ، جاہ و مقام طلبي اور ہر طرح كے گناہوں سے پرہيز كرنا ہي اس ميدان جہاد ميں فتح و كاميابي كي علامت ہے ۔ 
يہ سب جہاد ہيں بلكہ جہاد اكبرہيں جيسا كہ پيغمبر اسلام (ص) نے ميدان جہاد ميں جانے والے اور دشمن كے ساتھ اسلحہ اور تلوار سے جنگ كرنے والے گروہ سے فرمايا:
مَرحَبا بِقَوم قَضُوا الجِهادَ الاَصغَر وَبَقِىَ عَلَيهِمُ الجِهادُ الاَكبرَ

" جہاد اكبر" وہ مرحلہ ہے جس ميں با ايمان افراد ، وہ خواتين و حضرات جن كي تربيت اسلام كے دامن ميں ہوئي ہے ، ان كے علاوہ كوئي ثابت قدم نہيں رہ سكتا ، نہ ہي وہاں سے كامياب ہو كر نكل سكتا ہے ۔ 
يہ وہ ميدان ہے جہان قوي الجثہ افراد ، مال و مقام كے عاشق ، شہوت پرست ، خونخوار جلاد ، دنيا طلب فاتح ، مغرور جوان ، كينہ توز افراد ، بے رحم ظالم ، نسل كشي كرنے والے جلاد صفت ، بے پروا خواتين ، ناپاك دوشيزائيں اور مادي دنيا ميں غرق رہنے والے افراد ہلاكت كي ذلت سے دوچار ہوتے ہيں اور اس ميدان ميں شركت كرنے سے عاجز و ناتوان ہيں ، انھيں كوئي فخر نصيب نہيں ہوتا ۔ 
اس ميدان ميں باايمان خواتين اور مرد ، خداپرست افراد ، خاكسار لوگ ، متقي و پرہيزگار ، صبر و زہد ركھنے والے ،دنيا اور مال دنيا سے بے رغبت افراد لباس جنگ پہن كر بلند ہمت او رمستحكم ارادے كے ساتھ ميدان ميں اترتے ہيں اور اپنے حريف كو شكست دے كر كاميابي كے ساتھ اس ميدان سے باہر نكلتے ہيں ۔ 
يقيناً نفساني خواہشات سے جنگ آسان ہونے كے باوجود دشوار ہے ، آسان ہے چونكہ انسان كي پاك فطرت اور عقل و خرد مصلحتوں كو درك كرتي ہے اور اگر اس ميدان ميں انسان قدم ركھے تو جتنا آگے بڑھتا جائے گا، كاميابي ملتي جائے گي يہاں تك كہ اپنے سركش نفس كو مغلوب كر كے اپنا فرمانبردار بنا لے گا اور اپنے بدن كي مملكت ميں اپني ملكوتي اور عقلاني طاقت كو حاكم بنا دے گا ۔ 
دوسري طرف يہ كام دشوار بھي ہے چونكہ نفس سے جہاد ، اپني طرح طرح كي خواہشات كے مقابلے ميں قيام كرنا ، انھيں كنٹرول كرنے كي كوشش كرنا ، شيطاني مكر و فريب اور مخفي خواہشات كو پہچاننا ہر انسان كے بس كي بات نہيں ہے ۔ نفس امارہ كر لگام لگانا اور دنيا كي مادي لذتوں سے چشم پوشي ، اپنے سركش نفس كي ہزار قسم كي مختلف خواہشات كو قابو ميں كرنا اتني جلدي ممكن نہيں ہے ۔ بلكہ يہ اندروني دشمن ان بيروني طاقتوں سے مدد ليتا ہے جو انسان كے غريزے اور خواہشات كي مددگار ہيں ۔ 
اسي لئے نفس سے جہاد كرنا دشوار كام ہے ، ليكن كامياب وہي ہے جو اپنے نفس كو اپنے قابو ميں ركھے اور اسے صحيح طريقہ سے كام ميں لائے ۔ 
ماہ مبارك رمضان جہاد بالنفس كا مہينہ ہے ، اس ميں انسان اپني خواہشات كو كنٹرول كرتا ہے اور اپنے ارادہ كي قوت سے ان پر قابو پاتا ہے ، اور اب يہ موقع ختم ہو گيا اور جشن عيد و سرور برپا كرنے كا موقع آگيا ، يہ عيد اسلامي عيد الفطر ہے ، يہ ايك عمومي عيد ہے جو تمام لوگوں كے لئے ہے ۔ 
اَسئَلُكَ بِحَقِّ هذَا اليَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسلِمينَ عيِداً
يہ وہ عيد ہے جسے خداوند عالم نے تمام مسلمانوں كے لئے عيد اور خوشي كا دن قرار ديا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں عالمي پيمانے پر مساجد اور اسلامي مقامات پر خدا كي بندگي اورعبادت كا جلوہ نظر آتا ہے ۔ 
اس عيد كے رسوم صرف اہل دولت ، حكام ، سرشناختہ شخصيات اور اہل مملكت سے مخصوص نہيں ہيں ۔ 
مادي ڈيكوريشن ، گرانقيمت تحفہ و تحائف كا لين دين ، جيسا كہ اسلام سے پہلے عيدوں ميں رواج تھا ، اس عيد ميں رائج نہيں ہے ۔ 
اس ميں رعايا پر حكام كي زيارت كے لئے جانا ضروري نہيں ہے بلكہ مزدور اور ثروت مند ، افسر اور سپاہي ، فقير اور غني ، شاہ و گدا سبھي ايك ہي صف ميں كھڑے ہو كر خدا كي بندگي ، عبادت اور دعا كيا كرتے ہيں ۔ 
جيسا كہ ہميں معلوم ہے كہ اس عيد كا سب سے اہم ركن " نماز" اور " زكات فطرہ" ہے ۔ 
نماز اور زكات
جيسا كہ بتايا گيا كہ نماز ميں ہر طرح كے لوگ شريك ہوتے ہيں جس سے اسلامي برادري اور برابري كا جذبہ آشكار ہوتا ہے ۔ اس عيد ميں نماز ادا كي جاتي ہے اور قنوت ميں دعا پڑھي جاتي ہے اور پھر نماز كے بعد دو خطبہ ہيں جن ميں اسلام كا سب سے عظيم درس انسان كو پڑھايا جاتا ہے اور بہت سي ضروري چيزيں انسان كو بتائي جاتي ہيں، اور تمام لوگوں كو يہ دعوت دي جاتي ہے كہ اسلامي مقاصد كي تكميل ، ديني شعائر كي تعظيم ، علم و حكمت كي ترويج اور امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كے لئے مكمل طريقہ سے كوشش كريں ۔ 
جن لوگوں كے پاس سال بھر كا خرچ موجود ہے يا ايسا ذريعہ آمدني پايا جاتا ہے جس سے سال بھر كا خرچ پورا ہو سكتا ہے ان پر يہ فريضہ عائد كيا گيا ہے كہ وہ زكات ادا كر كے مسلمانوں كي مدد كريں ۔ 
اس عيد ميں مہنگے اور كمر شكن خرچ و بيہودہ اسراف كي كوئي جگہ نہيں ہے اس لئے بدكردار افراد كي عياشي اور فضول خرجي اور شہوت راني اور ميگساري كي بھي اس عيد ميں كوئي گنجائش نہيں ہے ۔ 
يہ عيد " كريسمس ڈے" كي طرح نہيں ہے جس ميں عيسائي برے كاموں اور فساد و فحشا ميں غرق رہتے ہيں اور بيہودہ كاموں ، ناچ گانے ، شباب و شراب اور فسق و فجور ميں ملوث رہتے ہيں اور دين اور حضرت عيسيٰ عليہ السلام كے نام پر لہو لعب ، جوا ، مستي ، شراب ، گانے اور ميوزيك كے پروگرام برپا كئے جاتے ہيں جب كہ يقيناً خدا كے پاك پيغمبر حضرت عيسيٰ عليہ السلام ان چيزوں سے بيزار ہيں ، نہ ہي يہ عيد " سيزدہ بدر" اور نوروز كي طرح ہے كہ جس ميں كچھ ہي سالوں پہلے تك شراب فروشي ، مجالس لہو و لعب ، شہوت انگيز فيلم اور سينيما كا رواج تھا اور ان ايام ميں بدترين جرم و جنايت كي تاريخ رقم كي جاتي ہے يہاں تك كہ اعداد و شمار كے مطابق وہ بچے جن كا نطفہ ان ايام ميں منعقد ہوتا تھا وہ ذہني اور فكري حوالہ سے پسماندگي كا شكار ہوتے تھے ، اسي طرح بہت سے دن ہيں جن كو مقدس نام ديا گيا ہے ، جيسے " مدر ڈے " ، "ٹيچر ڈے" وغيرہ ليكن يہ سب صرف اور صرف دكھاوا ہے اس كا حقيقت سے كوئي تعلق نہيں ہے ، جن كو ايك رسم كے طور پر ادا كيا جاتا ہے جس سے بچكانہ اور نادان جذبات وقتي طور پر ان سے متاثر ہوتے ہيں ۔ 
اس طرح كے ايام كو عيد نہيں كہنا چاہئے ، يہ رسومات اغيار كي تقليد اور مغرب كي جھوٹي اور حقيقت سے خالي سوغات پر مشتمل ہيں ، ورنہ اسلام ميں ہر دن " مدر ڈے " ہے ۔ ہر دن ماں باپ اور استاد كا احترام واجب اور ضروري ہے ۔ 
اسلامي ماحول جو كہ انساني مہر و محبت كا سب سے عمدہ نمونہ ہے ، اس ميں ماں ، استاد اور بچوں كا احترام ہميشہ اور ہر روز مورد تاكيد قرار ديا گيا ہے ۔ 
جن جگہوں پر سال كے ديگر ايام ميں يہ ديكھنے كو ملتا ہے كہ ماں باپ اور استاد كا احترام ختم ہو چكا ہے ان لوگوں نے اس مردہ جذبہ كو زندہ كرنے كے لئے سال ميں ايك دن معين كر ديا ہے جس ميں ماں باپ يا استاد كو تصنع اور بناوٹي انداز ميں ياد كيا جائے ۔ اس لئے ان دنوں كو صرف سالانہ ياد اور نابود شدہ انساني اقدار كي برسي كے طور پر منايا جاتا ہے ۔ 
وہ قوم جس خود كو اپنے ماں باپ اور استاد كا مرہون منت سمجھتي ہے اور ان كا دين انھيں ان كے حقوق كي ادائگي كا حكم ديتا ہے انھيں اس طرح كي نمايشوں كي ضرورت نہيں ہے ۔ 
ہم مسلمان اسي ماہ رمضان كے ايام ميں ماں باپ وغيرہ كے حقوق كے حوالے سے كتنے سبق سيكھتے ہيں ، دعاؤں ميں بارہا ماں كي زحمتوں كو ياد كيا جاتا ہے اور اس كي خدمات كو ذہن نشين كرايا جاتا ہے ۔ 
زندہ باد اسلام! جس نے تربيت اور معاشرے كي روحاني صلاح و فلاح كو سرمشق عمل قرار ديا ہے اور ہر موقع پر انسان كے قوت فكر اور قوت ارادہ كو مضبوط بنانے كے لئے انتظام كيا ہے ۔ 
يہ عيد فطر بھي ان تمام باارزش اور عالي مفاہيم كي يادآوري ہے جو انسان كو ہر نيك عمل كي ہدايت كرتے ہيں ۔ 
 اَن تُدخِلَنِي فِي كُلِّ خَير اَدخَلتَ فِيهِ مُحَمَّداً وآلَ مُحَمَّد،
وَاَن تُخرِجَنِي مِن كُلِّ سُوء اَخرَجتَ مِنهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّد
يہ عيد خدايي عيد ہے ، يہ دعا و نماز ، بندگان خدا كے ساتھ اچھا برتاؤ اور برادران اسلامي سے ملاقات كا بہترين موقع ہے ۔ 
چودہ صديوں سے يہ عيد منائي جا رہي ہے ، ليكن آج تك يہ سننے كو نہيں ملا كہ كسي نے اس عيد كے وسائل مہيا نہ ہونے كي وجہ سے خودكشي كر لي ہے ، يا زن و شوہر نے اس بات كو لے كر عدالت ميں مقدمہ دائر كيا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں بيجا تفريح كے بجائے لوگ مسجد اور بيت الصلاۃ كي طرف جاتے ہيں ۔ خداوند عالم نے اس عيد كو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے خير كا ذخيرہ ، شرف اور كرامت كي نشاني اور اسلامي اقدار كي عظمت و بلندي كا ذريعہ قرار ديا ہے ۔ 
________________________________________
منبع : ماہ مبارك رمضان ؛ مكتب عالي تربيت و اخلاق ، تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

عيد الفطر

عيد الفطر اسلامي كي دو عظيم عيدوں ميں سے ايك ہے جس كے بارے ميں بے شمار احاديث وارد ہوئي ہيں ۔ ماہ رمضان ميں مسلمان روزہ ركھتے ہيں اور كھانے ، پينے جيسے بہت سے مباح كاموں سے پرہيز كرتے ہيں ۔ماہ رمضان گزر جانے كے بعد شوال كے پہلے دن اپنے خدا سے اس اجر ثواب كا مطالبہ كرتے ہيں جس كا خداوند عالم نے ان سے وعدہ كيا ہے ۔ 
لغت ميں عيد كے معني پلٹنے كے ہيں اس لئے جس دن كسي قوم و قبيلہ سے مشكلات برطرف ہوتي ہيں يا انھيں كوئي خوشي ملتي ہے اس دن كو وہ لوگ عيد سے تعبير كرتے ہيں۔ قرآن مجيد ميں يہ لفظ ايك مرتبہ استعمال ہوا ہے جہاں حضرت عيسي عليہ السلام كي قوم نے جناب عيسيٰ علي نبينا و آلہ و عليہ السلام سے يہ فرمايش كي كہ خداوند سے دعا كريں كہ وہ ہمارے لئے آسمان سے دسترخوان نازل كرے ۔اللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئدَهًٔ مِّنَ السَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لاَِّوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَآيَهًٔ مِّنكَ ۱
چونكہ دنياوي زندگي ميں انسان كے لئے سب سے عظيم كاميابي يہ ہے كہ وہ معصيت اور گناہ نہ كرے اس لئے مولائے متقيان اميرالمومنين عليہ السلام كا فرمان ہے : كل يوم لا يعصيٰ اللہ فيہ فھو يوم عيد ۔ 
جس دن كوئي گناہ نہ ہو وہ دن عيد كا دن ہے ۔

سويد بن غفلہ نقل كرتے ہيں كہ عيد كے دن ميں مولائے كائنات كے گھر پہنچا تو آپ كے پاس گيہوں كي روٹي ،حلوا اور فرني ركھي ہوئي ہے ،ميں نے عرض كي مولا ! عيد كا دن اور يہ غذا؟ تو آپ نے فرمايا : عيد اس كي ہے جس كے گناہ بخش دئے گئے ہوں ۔۲
مولائے كائنات عليہ السلام نے عيد كے دن ايك خطبہ ارشاد فرمايا جس ميں مومنين كو بشارت دي اور بيہودہ كام كرنے والوں كو عذاب الٰہي سے ڈرايا اور فرمايا : اے لوگو! آج كا دن تمہارے لئے وہ دن ہے جس دن نيك عمل انجام دينے والے اپنے اعمال كي جزا پائيں گے اور گناہگار و مفسد افراد مايوس و نا اميد ہوں گے ،اس لئے آج كا دن قيامت سے بہت زيادہ مشابہ ہے ، اس لئے اپنے گھروں سے نماز كے لئے نكلو تو اس دن كو ياد كرو جب تمہيں قبروں سے نكال كر ميدان محشر ميں حاضر كيا جائے گا ، نماز ميں كھڑے ہو كر اس وقت كا تصور كرو جب تم پروردگار كے سامنے كھڑے ہوگے اور نماز سے گھر واپس آتے وقت وہ منزل ياد كرو جب تم كو قيامت سے بہشت كي طرف لے جايا جائے گا ، اے خدا كے بندو ! روزے داروں كي كم سے كم جزا يہ ہے كہ ماہ رمضان كے آخري ايام ميں ايك فرشتہ انھيں آواز ديتا ہے اور كہتا ہے : اے خدا كے بندو ! تمہارے گزشتہ گناہ معاف كر دئيے گئے ہيں اب تم اپنے مستقبل كي فكر كرو كہ اپني عمر كے باقي دن كس طرح گزارو گے ۔۳ 
صحيفہ سجاديہ ميں ماہ رمضان كے وداع اور عيد كے استقبال كے لئے امام زين العابدين عليہ السلام سے جو دعا منقول ہے اس ميں امام عليہ السلام فرماتے ہيں : پروردگارا! محمد اور ان كي آل پر رحمت نازل فرما اور اس مہينے ميں ہم نے جو مصيبتيں برداشت كي ہيں ان كا جبران كر دے اور عيد فطر كو ہمارے لئے مبارك قرار دے اور اس دن كو ہمارے گزرے ہوئے ايام ميں سے بہترين دن قرار دے ، اس دن ہمارے گناہوں كو معاف فرما اور ہميں بخش دے ، ہمارے علني اور مخفي دونوں گناہوں كو معاف كر دے ۔ 
خدايا! تو نے اس دن كو مومنين كے لئے اجتماع اور خوشحالي كا دن قرار ديا ہے ، ہمارے تمام گناہوں كو بخش دے ،ہماري ہر برائي كو درگزر فرما اور ميں اپنے دل ميں كئے ہوئے غلط ارادوں سے توبہ كرتا ہوں اور تيري بارگاہ ميں پناہ ليتا ہوں ۔
خدايا! اس عيد كو تمام مومنين كے لئے مبارك قرار دے اور اس دن ہميں اپنے بارگاہ ميں واپس آنے اور گناہوں سے توبہ كي توفيق عنايت فرما ۔۴ 
حوالہ جات 
۱۔ سورہ مائدہ ،آيت/۱۱۴
۲۔ بحار الانوار ،ج/۴۰،ص/۷۳
۳۔ پاسدار اسلام ميگزين ، نمبر ۱۰۱ ،ص/۱۰ 
۴۔ پاسدار اسلام ميگزين ، نمبر ۱۰۱ ،ص/۱۰

چهارشنبه / 30 خرداد / 1397
شب قدر؛ کمالِ انسانیت کی تاریخ کا آغاز
اه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8

شب قد؛ شب نور ، شب رحمت ، شب نزول قرآن اور شب مَطلع خیرات و سعادات ہے ۔ شب قدر  برکتوں کے نزول کا وقت اور انسان کی نئی زندگی کا آغاز ہے  یہ انسانوں کے لئے تبدیلی کی شروعات اور حقیقی و واقع کمال کی تاریخ ہے ۔

* شب قدر؛ انسانی آزادی کی رات

یہ ایسی رات ہے  کہ اگر اس رات کا وجود نہ ہوتا تو انسانوں کی بدبختی کی  تاریک رات کبھی اختتام پذیر نہ ہوتی، نیک بختی کی صبح کا سورج طلوع نہ ہوتا اور انسان کبھی بھی طاقتوروں اور استعمار گروں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔

شب قدر ایک مبارک رات  ہے ۔ یہ رات انسان کی آزادی ، انسانی حقوق اور عادلانہ حکومت کے اعلان کی رات ہے ۔ یہ رات غفلت  زدہ ، نادان ، فساد و تباہی اور گمراہی سے آلودہ اقوام وملل کے لئے صبح ہدایت و بیداری اور  آگاہی و فلاح ہے ۔ اس رات میں سب سے عظیم اور محترم آسمانی کتاب نازل ہوئی کہ جو تا ابد جاویداں ہے اور جو انسان کی رہنمائی اور سعادت کی ضامن ہے ۔ اس نے اپنی ملکوتی کرنوں سے دنیا سے شرک ، مجوس کی ثنویت ، عیسائیوں کی تثلیث ، یہودیوں کی خرافات اور بت پرستی کی ظلمت و تاریکی کا خاتمہ کر کے توحید اور خدائے یگانہ کی پرستش کو اجاگر کیا ۔ 

اگر یہ (مبارک) رات نہ ہوتی تو اپنی تمام تر اقدار ، علوم و معارف ، اخلاقیات ، عرفان اور فقہ کے باوجود بھی عظیم اسلامی تمدن کا وجود نہ ہوتا ۔ نیز اس کے دامن میں پرورش پانے والی اعلیٰ شخصیات بھی موجود نہ ہوتیں ۔

* انسانی سماج کی ترقی میں شب قدر کے اثرات

انسان نے نزول قرآن کے بعد جومنزلیں  طے کیں اور اس کے بعد بھی انسان جن منزلوں تک پہنچے گا ؛ وہ سب اس رات اور قرآن کی ہدایت کی برکات ہیں ۔

انسانی اہداف کی پیشرفت اور انسانی سماج کی ترقی میں اس مبارک رات کے اثرات کو آشکار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان عظیم تحریکوں اور انقلابات کو ملاحظہ کریں کہ جو قرآن کی آزادی بخش تعلیمات کے زیر سایہ انسان کو چودہ صدیوں میں علم و صنعت اور تمدن کے میدان میں حاصل ہوئی ہیں ۔ اور اس زندگی کا قرآن سے پہلے کی کم رنگ ، خاموش اور ساکن زندگی  سے موازنہ کریں تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کس طرح اسلامی  جنبش و تحریک ، قیام مسلمین اور خدا کے عظیم پیغمبر حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت اصلاحات ، جنبش اور آزادی خواہانہ انقلابات کی ابتداء ہے کہ جس نے کاروانِ انسانیت کو سرعت اور تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ یہی انسان صدیوں سے سستی اور ناتوانی سے قدم اٹھا رہا تھا لیکن (اسلام نے ) اسے چودہ صدیوں میں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اس کی فکر زمین ، چاند ،  ستاروں اور کہکشانوں کی حدوں سے بھی آگے بڑھ گئی ۔

* قرآن؛محور شب قدر

جی ہاں ! قرآن نے افکار کو بدل کر رکھ دیا ۔ اس نے انسان کی شخصیت کو محترم شمار کیا اور واضح طور پر انسانی حقوق کا اعلان کیا ، اس نے افراد کی پرستش اور انفرادی و شخصی طاقت کی مذمت کی ۔ اس نے بیت المال اور دوسرے امور میں امتیازات کی نفی کی اور سب کے لئے برابر شہری و مدنی حقوق قرار دیئے ۔ 

* شب قدر کے مخفی ہونے کا راز

قرآن نے شب قدر کو «لیلة المباركة» قرار دیا ہے اور اس کی شان میں ایک سورہ نازل فرمایا ہے اور اس رات کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ تعیینِ شب قدر میں اختلاف ہے لیکن معتبر روایات سے اخذ شدہ قابل اعتماد اور متحقق قول یہ ہے کہ شب قدر ؛ ماہ رمضان کی انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں رات سے خارج نہیں ہے ۔ اور قوی احتمال یہ ہے کہ شب قدر ؛ تئیسویں کی رات ہے ۔ بعض روایات جیسے «روایت جهنی» بھی اس قول کی تائید کرتی ہیں ۔ اور کچھ دوسری روایات سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ ان تین راتوں میں سے ہر ایک رات ؛ شب قدر ہے ۔

بہرحال اگر قطعی و یقینی طور پر شب قدر معلوم نہ ہو تو بھی اس کے محفی و نہاں ہونے میں حکمت اور مصلحت ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک مصلحت یہ ہو کہ مسلمان اس مہینے کی ہر رات اور کم سے کم ان تین راتوں میں خداوند متعال کی عبادت ، قرآن کریم کی تلاوت ، علوم و معارف کے حصول  اور حقائق کو جاننے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں ۔ اور اس پورے مہینے کو «ماه قرآن» قرار دیں ، جب کہ انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں کی راتوں کو صبح تک بیدار رہتے ہوئے توبہ و استغفار ، اصلاح و احوال ، تلاوت قرآن اور دعا و مناجات میں بسر کریں ۔

شب قدر کے مخفی ہونے میں ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر شب قدر اپنی تمام قدر و منزلت اور فضیلت کے ساتھ پہچانی جائے تو بہت سے لوگ صرف اسی رات میں عبادت کرنے پر اکتفاء کرتے اور یوں (ماہ مبارک رمضان کی ) دوسری راتوں میں دعا و مناجات کے فیوضات کی جانب توجہ نہ کرتے ۔ نیز ممکن ہے کہ یہ کبھی کسی کے لئے غرور اور تکبر کا باعث بنتی ؛ لہذا یہ رات اس لئے پنہاں اور مخفی ہے  کہ مؤمنین ہر وہ رات ذکر الٰہی ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات میں بسر کریں کہ جس کے شب قدر ہونے کا احتمال ہو تا کہ وہ زیادہ برکات اور ثواب سے مستفیض ہو سکے ۔ اور زیادہ مشق کے ذریعے اس میں ملکات فاضلہ راسخ ہو سکیں ۔

 

* شب قدر سے معنویت کا حصول لازم ہے

پس شب قدر ایک سنہری اور قیمتی موقع ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس رات کو اسلامی حالات کے بارے میں تفکر اور قرآن مجید کی تعلیمات کے بارے میں توجہ کرتے ہوئے اسے غینمت شمار کریں اور اس رات میں قرآن اور اس کے احکام کے ساتھ اپنے رابطے کے بارے میں سوچیں ۔

ان مبارک اور با فضیلت راتوں میں شب بیداری کریں ؛ کیونکہ دعا اور حدیث کی کتابوں میں ان راتوں میں شب بیداری کی فضلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں ۔ شب قدر ایسی رات ہے کہ جس میں خانۂ خدا کی طرف جانے والے ہر شخص کو معنوی سعادت اور تقرب کی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ 

* شب قدر ؛ امام زمانہ ارواحنا فداہ کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے کی رات

اس رات کے اہم ترین وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ولیّ امر حضرت بقیة اللهعجّل الله تعالی فرجهالشریف کے ساتھ تجدید عہد کرے اور یہ معروف دعا «اَللهم كُن لِوَلِیكَ...» پڑھے ؛ کیونکہ شب قدر کا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے خاص تعلق ہے ۔ اس رات ملائکہ (اور روح الأمین) حضرت ولی الأمر صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر نازل ہوتے ہیں ۔قرآن و عترت اور کتاب مبین و امام مبین سے تمسک کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مؤمنین شب قدر میں قرآن مجید اور روئے زمین پر خدا کی آخری حجت بقیۃ اللہ ، بقیۂ عترت ہادیہ اور اس آیۂ کریمہ «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَینا مِنْ عِبَادِنَا» کے حقیقی مصداق یعنی حضرت حجّة بن الحسن العسكریروحی و ارواح العالمین له الفدا سے متمسّك ہوں ۔ اور وہ یہ جان لیں کہ حدیث ثقلین جیسی متواتر روایات کی رو سے ضلالت و گمراہی سے امان اور نجات صرف قرآن و عترت سے متمسک ہونے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ ان تمام انحرافات ، (خرافات)اور مختلف قسم کی سرگردانی سے نجات «قرآن و عترت» سے توسل و تمسک کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

ہم سب اس رات کو غنیمت جانیں ؛ معارف دین کے حصول ، توبہ ، تجدید عہد ، دعا ، اخلاقی خود سازی ، تذکیہ ٔنفس ، خدا پر ایمان کی تجدید ، حساب وکتاب اور معاد پر یقین ، دھوکہ دہی سے نیتوں کو پاک کرنے ، مسلمان بھائیوں کے بارے میں بغض و کینہ کو ختم کرنے ، (نیک مقدرات ) خیر و سعادت ، ہدایت اور تمام نوع انسانی کے لئے امن و امان کی دعا کریں اور سب سے بڑھ کر اس مبارک رات میں صاحب العصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ؛ کیونکہ یہی ذات «بيمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الأرض و السماء» ہے ۔

امید ہے کہ ان مبارک راتوں میں خالصانہ دعاؤں کی برکت سے تمام اداروں اور شعبوں میں اسلامی جلوہ زیادہ سے زیادہ اجاگر ہو اور اس رات میں تمام اقتصادی ، سماجی و معاشرتی اور اخلاقی کمزوریاں برطرف ہو جائیں ۔

میں شب قدر کی مبارک راتوں میں شب بیداری کرنے والوں سے خاضعانہ طور پر استدعا کرتا ہوں کہ وہ رؤوف ، کریم ، عزیز ، مہربان ، محبوب قلب عرفاء ، ذخیرۂ انبیاء ، یوسف زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف متوجہ ہوں اور یہ راتیں صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی یاد ، دعائے فرج اور آپ کی عالمی ، عادلانہ (اور  آفاقی ) حکومت کے قیام کی دعا میں بسر کریں ۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور اور فرج کے لئے دعا کریں تا کہ آپ سب کے لئے گشائش مہیا ہو ۔ ان مبارک راتوں میں سب مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حضرت حجّة بن الحسن العسكری روحی و ارواح العالمین له الفدا کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔

آئیں اور بقیۃ اللہ الأعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے محکم و استوار عہد کریں کہ ہم سب اپنی زندگی امام کی رضا و خوشنودی  کی راہ میں بسر کریں گے اور مسلمانوں کی مشکلات کی وجہ سے امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے غم و حزن کو برطرف کریں گے ۔

وفات حضرت خدیجہ
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب ’’رمضان در تاریخ ‘‘ سے اقتباس

 

قال رسول‌الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:

«اُمِرْتُ اَنْ اُبَشِّرَ خَديجَةً بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لا صَخَبٌ فيهِ وَلا نَصَبٌ»؛(۱)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: «مجھے حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی بشارت دوں کہ جو سونے سے بنا ہوا ہے اور اس میں کوئی غم و اندوہ نہیں ہے»۔

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دسویں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔(۲)   رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے آپ کو حجون مکۂ مکرمہ میں دفن کیا ۔ آپ کی رحلت کی وجہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس قدر محزون اور غمگین ہوئے کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن» کا نام دیا ۔ (۳)

حضرت خدیجہ علیہا السلام کی شخصیت

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ گھر اور خاندان انسان کی تربیت کا محیط ہے ؛ جو انسان کی جسمانی و فکری پرورش اور شخصیت پر اثرانداز ہوتا ہے کہ جو انسان کو اصیل ، ثابت قدم اور پائیدار بناتا ہے ۔

ماں باپ اور دودھیال و ننیہالکی جانب سے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان «جزيرة العرب» کے اصیل اور صاحب شرافت و سيادت سے تھا ۔

خداوند متعال نے چاہا  کہ یہ بے مثل و بے مثال بی بی حرم نبوت اور ولایت و امامت کے گیارہ اختر تاباں کی ماں ہو ۔ آپ عقل و فہم ، ادب و حكمت اوربصيرت و معرفت کے لحاظ سے ممتاز اور نابغہ تھیں ۔ آپ کمال و نبوغ اور فہم و بیس کا  ایسا برجستہ نمونہ تھیں کہ عورتوں اور مردوں میں آپ جیسی ہستی بہت کم ملتی ہے ۔  عفّت، نجابت، طهارت، سخاوت، حسن معاشرت دلسوزی اور مهر و وفا آپ کی برجستہ صفات میں سے ہیں ۔

زمانۂ جاہلیت میں جناب خدیجہ کو طاہرہ  (۴)اور سيّدۂ نساء قريش کہا جاتا تھا (۵)اور اسلام میں آپ ان چارخواتین  میں سے قرار پائیں کہ جو جنت کی تمام عورتوں پر فضیلت اور برتری رکھتی ہیں اور آپ کی عزیز و ارجمند بیٹی کے سوا کسی کو یہ مقام و فضیلت حاصل نہیں ہے ۔(۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے حضرت خدیجہ علیہا السلام ایک عظیم نعمت اور خداوند متعال کی واسع رحمتوں میں سے ایک رحمت تھیں ۔

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام اور روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسی صورت میں شوہر کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید  اضافہ ہو جاتا ہے ؛کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتی بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مأمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور  یہاں تک کہ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکۃ العرب  ہیں اور جس نے اپنا تمام مال و دولت اپنے شوہر کے اختیار میں قرار دے دیا ہے  تا کہ وہ اسے راہ خدا میں خرچ کریں اور  اسے فقراء پر خرچ کرتے ہوئے ان کی دستگیری کریں ) انہیں یہ مشورہ دے رہی ہوں کہ : جب آپ کی قوم اور قبیلہ آپ کو اپنا بادشاہ اور امیر بنانے کے لئے تیار ہے تو پھر مناسب ہے کہ آپ بھی ان کے ساتھ سمجھوتہ کریں  ؛ اور ان کے دین اور راہ روش سے کوئی سروکار نہ رکھیں ۔ اور (ان کی مخالفت کرکے ) ہماری پرسکون اور آرام دہ زندگی کو مضطرب اور مشکل نہ بنائیں ؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح انہیں قانع کرتے ؟  اور اس صورت میں کون رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اور روح کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا تھا ؟ بیشک اس صورت میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گھر اور گھر سے باہر سخت مشکلات و موانع کا سامنا کرنا پڑتا ۔

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دکتر بنت‌الشّاطي کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام اور آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» ۔ (۷)

شہر مکہ ، مکہ کے لوگوں ، ان کی محبت و شفقت اور ان کی جانب سے دعوت توحید کا استقبال کئے جانے کی بجائے خداوند کریم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدیجہ علیہا السلام عطا کی۔ اور جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر میں آتے تو آپ آنحضرت کے استقبال کے لئے آگے بڑھتیں ، آپ کے حالت دریافت کرتیں ، آپ کی دلجوئی کرتیں ، آپ کو رحمت و نصرت اور لطف خدا کے بارے میں بتاتے ہوئے آپ کے منور چہرے سے گرد و غبار صاف کرتیں اور قوم کی سرزنش و ملامت کرتے ہوئے آپ کو تسلی دیتیں اور آپ کی دلجوئی کرتیں ۔

ابن‌اسحاق کہتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی قوم کی جانب سے اپنے ردّ یا تکذیب کے بارے میں جو بات بھی سنتے کہ جو آپ کے لئے پریشانی اور فکری بےچینی کا باعث بنی تو خداوند خدیجہ (علیہا السلام) کے ذریعے اسے برطرف کر دیتا ۔ خدیجہ (علیہا السلام) آنحضرت کے لئے سخت باتوں کی سنگینی کو کم کر دیتیں اور آپ کی تصدیق کرتیں ۔ لوگوں کے برتاؤ اور ان کی جانب سے توہین و جسارت کو بے اہمیت  شمار کرتیں ۔(۸)

جی ہاں ! خدیجہ علیہا السلام وہ پہلی خاتون تھیں کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کے سات نماز ادا کی ۔ اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے علی بن ابی طالب علیہما السلام (جو بعثت سے پہلے اور بعد میں ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہوتے اور جو ایک لمحہ کے لئے بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ سے جدا نہیں ہوتے ) کے سواء بندگان خدا میں سے کوئی بھی آپ کی طرح کا سابقہ نہیں رکھتا ۔

خديجه علیہا السلام نے اپنی دور اندیشی ، حکیمانہ افکار ، فہم و فراست اور عقل و بیشن سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کو قبول کیا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نیک اور درخشاں ماضی ، آنحضرت کا اخلاق ، صداقت ، سچائی ، امانت داری ، کمزوروں کی مدد کرنا ، فقراء کی دستگیری کرنا ، تواضع ، قناعت ، ایثار ، بخشش ، مہمان نوازی اور آنحضرت کی تمام صفات حسنہ جناب خدیجہ علیہا السلام جیسی حکیمہ خاتوں کی نظر میں مجسم تھیں ؛ اور آپ یہ جانتی تھیں کہ اس قدر پر آشوب ، تباہی و فساد اور تاریک ماحول میں یہ اعلیٰ و ملکوتی صفات نبوت کی نشانیاں ہیں ۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بخوبی جانتی تھیں کہ آپ باطل سے گریز کرتے ہیں اور جھوٹ سے بیزار ہیں ۔ دوسرے لوگ بھی آپ کو ان صفات سے پہچانتے تھے  اور آپ کو برے ، ناروا اور ناپسندیدہ کاموں سے پاک و منزہ سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو «امين» کا لقب دیا تھا ۔ (۹)  خدیجہ علیہا السلام جسے پہچانتیں تھیں ؛ وہ کبھی بھی زمین و آسمان کے خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دے سکتا ؛ اور ربّ العالمین بھی اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور وہ جو کچھ کہے وہ حق و حقیقت ہے ۔

اس بناء پر خدیجہ علیہا السلام نے اسلام قبول کرنے میں کسی طرح کا صبر اور شک و تردید نہیں کیا اور آپ اپنے پہلے قدم سے ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی یاور و مددگار بن گئیں اور آپ نے دین خدا کی نصرت اور مدد کے لئے اپنا تمام مال و دولت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اختیار میں دے دیا ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح حضرت خدیجہ علیہا السلام بھی مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے اذیت اور تکالیف سے نہ بچ سکیں۔ عوتوں نے آپ ملنا جلنا چھوڑ دیا اور آپ سے قطع تعلق کر لیا ؛ آپ کو زبان سے زخم اور طرح طرح کے طعنے دیئے ؛ حتی بچے کی ولادت کے موقع پر بھی کوئی عورت آپ کی مدد کے لئے نہیں آئی اور انہوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔ (۱۰)

لیکن حضرت خديجه علیہا السلام مستقبل کو دیکھ رہیں تھیں کہ جسے دوسرے لوگ نہیں دیکھ رہے تھے ۔ وہ جانتی تھیں کہ دین محمد حق ہے اور جلد ہی خدائے یگانہ کی عبادت و پرستش بتوں کی پرستش کی جگہ لے لے گی اور خداوند اپنے پیغمبر کی مدد کرتا ہے اور روز بروز ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

جی ہاں ! اسلام میں جناب خدیجہ علیہا السلام کو وہ مقام و افتخار ملا کہ جو آپ  کی بیٹی سیدۂ نساء العالمین  (۱۱)حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملا ۔ خدا نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسل کو اس بی بی کے ذریعے جاری رکھا ۔  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جوانی کی اوج میں پچیس سال کی عمر میں جناب خدیجہ علیہا السلام سے ازدواج کیا کہ جن کی عمر مبارک چالیس سال تھی ۔ (۱۲)تقریباً چوبیس سال تک حضرت خدیجہ علیہا السلام خانۂ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چراغ اور آنحضرت کی انیس و غمخوار تھیں ۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی پچاس سال کی عمر مبارک اور جناب خدیجہ علیہا السلام کی پینسٹھ سالہ بابرکت عمر  تک کسی اور سے ازدواج نہیں کیا ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آؒلہ و سلم نے حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بعد اگرچہ مختلف حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت متعدد عورتوں سے ازدواج کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کی جگہ نہ لے سکی اور وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر میں جناب خدیجہ علیہا السلام کے فراق اور جدائی سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں کر سکیں  اور پیغمر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان میں سے کسی سے بھی صاحب اولاد نہیں ہوئے اور آنحضرت کی نسل جناب خدیجہ علیہا السلام سے ہی باقی رہی ۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کو نہیں بھولے اور آپ ہمیشہ ان کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے اور آپ ان کے جاننے والوں اور ان کے دوستوں سے نیکی و احسان اور لطف و کرم فرماتے ۔

عائشه کہتی ہے : میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں سے کسی سے اس قدر حسد نہیں کیا کہ جتنا حسد خدیجہ سے کیا ؛ کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں بہت زیادہ یاد کرتے تھے اور اگر کوئی گوسفند ذبح کرتےتو  اس میں سے خدیجہ کے دوستوں کے لئے بھیجتے۔(۱۳)

اسی طرح عائشه سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خديجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا » ۔ (۱۴)

انس بن مالك نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مريم بنتِ عمران ، آسيه بنت مزاحم ، خديجه بنت خُوَيْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله عليه و آله و سلّم ہیں» ۔ (۱۵)

ابن عبّاس سے روايت ہوا ہے کہ: پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟  عرض كیا: خدا اور رسول خدا بہتر جانتے ہیں ۔ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خديجه بنت خويلد ، فاطمه بند ،  مريم بنت عمران اور آسيه بنت مزاحم ـ زوجۂ فرعون ـ ہیں» ۔ (۱۶)

«صحيحين» میں عائشه سے روايت ہوئی ہے کہ: «پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہاں کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے » ۔ (۱۷)

صحيح مسلم میں روايت ہوئی ہے کہ : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جبرئيل میرے پاس آئے اور کہا : «يا رسول الله! اب خدیجہ آئیں گی اور ان کے پاس کھانے اور پینے کا ایک برتن ہے ۔ جب وہ آئیں تو انہیں ان کے پروردگار  کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور  انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دیں » ۔(۱۸)

سيرهٔ ابن‌ ہشام میں روايت ہوئی ہے کہ : جبرئيل ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور کہا: «خدا کی طرف سے خديجه کو سلام کہیں » ۔ پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

«يا خَديجَةٌ! هذا جِبْريلُ، يُقْرِئُكِ السَّلام مِنْ رَبِّكِ. فَقَالَتْ خَديجَةُ : أَللهُ السَّلامُ وَمِنْهُ السَّلامُ، وعَلي جِبْريلَ السَّلامُ»؛(۱۹)

«اے خديجه! یہ جبرئیل ہے کہ جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر سلام بھیج رہا ہے ۔ پس خدیجہ نے عرض کیا : خداوند سلام ہے ، اور اس کی جانب سے سلام ہے اور جبرئیل پر سلام ہو » ۔

نسائی اور حاكم نيشاپوری کی روایت کی رو سے حضرت خديجه علیہا السلام نے کہا :

«إِنّ اللهَ هُوَ السَّلامُ وَعَلي جِبْريلَ السَّلامُ، وَعَلَيْکَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللهِ»؛(۲۰)

«بیشک خداوند، سلام ہے ،  جبرئیل اور آپ پر خدا کا سلام ، رحمت اور برکات ہوں » ۔

حضرت خديجه علیہا السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کرتی تھیں اور آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام کے فضائل اور اخلاقی کرامات بہت زیادہ ہیں ۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کتب تاریخ ، حدیث اور تراجم کی طرف رجوع فرمائیں ۔

سَلامُ الله عَلَيْها وَعَلى بَعْلِها رَسُولِ اللهِ‌  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلام وَ عَلَى ابْنَتِها سَيَّدَةِ  نِساءِ الْعالَمينَ  وَ عَلى صِهْرِها عَلِيٍّ  أَميرِ  الْمُؤْمِنينَ  وَ سَيِّدِ  الْمُسْلِمينَ  وَ عَلى أَبْنائِهَا الْأَئِمَّةِ الطّاهِرينَ ‌ علیہم السلام . اَللّهمَّ اجْعَلْنا في زُمْرَتِهِمْ وَأَرْزُقْنا مُرافَقَتَهُمْ وَشَفاعَتَهُم وَأَكْرِمْنا بِمُتابَعَتِهِمْ بِحَقِّهِمْ يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ.

 

 

حوالہ جات :

۱ ۔ ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج1، ص241؛ احمد بن حنبل، مسند، ج1، ص205؛ طبرانی، المعجم‌الکبير، ج23، ص10؛ حاکم نيشابوری، المستدرک، ج3، ص184.

۲ ۔ مفید، مسارالشیعه، ص22 - 23.

۳ ۔ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص103 ؛ حسینی کجوری، الخصائص‌الفاطمیه، ج2، ص 147 ؛  محدث قمی، منتهی‌آلامال، ج1، ص136 ؛  سیلاوی، الانوارالساطعه، ص386 – 389.

۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1817 ؛ ابن‌اثيرجزری، اسدالغابه، ج6، ص78.

۵ ۔ بيهقی، دلائل‌النبوه، ص22؛ ابن‌کثير، البداية و النهايه، ج‌3، ص15.

۶ ۔ طبرانی، المعجم‌الکبير، ج‌22، ص402 ؛ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1821 ـ 1823 ؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج3، ص104.

۷ ۔ ر.ك: ابوعلم، اهل‌البيت ^، ص102، نقل به معنا.

 ۸ ۔ ابن‌هشام، السيرةالنبويه، ج1، ص240؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج6، ص82.

۹ ۔  ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج1، ص183، 197، بلاذری، انساب‌الاشراف، ج1، ص99 – 100 ؛  يعقوبی، تاريخ، ج1،‌ ص19؛ ماوردی، اعلام‌النبوه، ص212 – 213؛ طبرسی،  اعلام‌الوری، ج1، ص 145؛ فخر رازی، اعلام‌النبوه، ص 74، 77؛ مقريزی، امتاع‌الاسماع، ج1، ص19، 91؛ ج2، ص146.

۱۰ ۔ کوفی، الاستغاثه، ج1، ص70؛ طبری امامی، دلائل الامامه، ص77 – 78؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج2، ص524 – 525؛ حلي، العدد‌القويه،‌ص223؛ مجلسی، بحارالانوار، ج16، ص80 – 81؛

۱۱ ۔ ابن‌عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1821 ـ 1823؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج‌3، ص‌104.

۱۲ ۔ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبري، ج‌8، ص17، 216 – 217؛ بلاذري، انساب‌الاشراف، ج1، ص98 – 99؛ طبري، تاريخ، ج2، ص34؛‌ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص194؛ ابن‌اثير جزري، اسد‌الغابه، ج1، ص23.

۱۳ ۔ احمد بن حنبل، مسند، ج‌6، ص202؛ بخاری، صحيح، ج‌4، ص230 ـ 231؛ ج7، ص‌76؛ مسلم نيشابوری، صحيح، ج‌7، ص133 ـ 134؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج 6، ص84.

۱۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1823 ـ 1824؛ ابن‌جوزی، المنتظم، ج3، ص18؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص84 ـ 85.

۱۵ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج6، ص83.

۱۶ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص83.

۱۷ ۔ بخاري، صحيح، ج2، ص203؛ ج4، ص230 – 231؛ مسلم نيشابوري، صحيح، ج7، ص133. اس حدیث کی مانند دوسری احادیث اہلسنت کی دیگر کتب میں ذکر ہوئی ہیں ۔ ر.ك: يعقوبی، تاريخ، ج2، ص35؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج2، ص83 ـ 84؛ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص101.

۱۸ ۔ مسلم نیشابوری، صحیح، ج7، ص133.

۱۹ ۔ ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج‌1، ص‌241؛ ر.ک: اربلی، كشف‌الغمه، ج2، ص136.

۲۰ ۔ نسائی، فضائل‌الصحابه، ص75؛ حاکم نيشابوری، المستدرک، ج2، ص138.

دوشنبه / 7 خرداد / 1397
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں (ماه رمضان کی مناسبت سے مخصوص تحریر /5)
(ماہ مبارک رمضان کے بارے میں آیت ‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات /5)

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دوسوں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔ (1) اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو خود اپنے ہاتھوں سے حجون مکہ مکرمہ میں دفن کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے آپ کی رحلت اس قدر غم و اندوہ کا باعث بنی کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن»  کا نام دیا۔

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان

حضرت خديجه سلام الله عليہا اپنے ماں باپ اور دودھیال و ننیہال کی طرف سے جزیرۃ العرب کے اصیل خاندان سے تھیں کہ جو صاحب شرافت و سيادت تھے۔

برجستہ صفات کی حامل

خدا نے یہ چاہا کہ یہ بے نظیر اور یگانہ خاتوں حرم نبوت اور امامت و ولایت کے گیارہ تابناک ستاروں کی ماں اور عقل، ادب، حکمت، بصیرت اور معرفت میں ممتاز اور بے مثال ہو۔

آپ کمالات، نبوغ فکری، فہم و فراست اور عقل و بینش کے لحاظ سے برجستہ نمونہ تھیں۔ مردوں اور عورتوں میں ان کی مثال نہیں ملتی۔  عفّت، نجابت، طہارت، سخاوت، حسن معاشرت، محبت اور وفا آپ کی کچھ برجستہ صفات تھیں۔

شوہر داری میں نمونه

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام اور روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس صورت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ شوہر کی مشکلات کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتی بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مأمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کی راستہ میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( کہ جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکہ ہیں)ان سے دلسوزی اور ترحم کر رہیں ہیں یا ان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ تقاضا کر رہی ہیں کہ وہ اپنی اس دعوت سے دستبردار ہو جائیں تا کہ آپ کے دشمن آپ کی توہین نہ کریں اور آپ کا مذاق نہ اڑائیں؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کوکیسی عجیب مشکل کا سامنا ہوتا؟ !

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دعوت الٰہی کا استقبال

ڈاکٹر «بنت الشّاطي» کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام و آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» (2)

کائنات کی بہترین خواتین

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے کبھی بھی آپ کو فراموش نہیں کیا اور آنحضرت آپ کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے تھے اور جو لوگ ان سے آشنا اور ان کے دوست تھے؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان پع لطف و احسان فرماتے تھے۔

«عائشه» سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خديجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا ».(3)

«انس بن مالك» نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مريم بنتِ عمران ، آسيه بنت مزاحم ، خديجه بنت خُوَيْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله عليه و آله و سلّم ہیں».(4)

«صحيحين» میں عائشه سے روايت ہوئی ہے کہ: «پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہان کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے ».(5)

آج ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے کمالات اور آپ کی بلند صفات کے گوشوں کو دنیا اور بالخصوص خواتین کے لئے بیان کریں۔ نیز اسلام، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور شوہر داری کے لحاظ سے لوگوں کے سامنے آپ کا تعارف نمونۂ عمل کے طور پر کرایا جائے اور ان کے راہ و روش کی پیروی کی جائے۔

 

حوالہ جات:

1. مسار الشیعة شیخ مفید رحمۃ اللہ ۔

2. اهل البيت، توفيق ابو علم، ص 102، ترجمه نقل بہ معنی۔

3. ایضاً۔

4. اسدالغابة، ج 5، ص 437 ـ الاستيعاب، بهامش الاصابة، ج 4، ص 284 و 285۔

5. الاصابة، ج 4، ص 282 ـ اسدالغابة ، ج 5، ص 438 اس کی مانند ایک اور حدیث تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 26، میں ذكر ہوئی ہے ۔

ماہ رمضان میں دعاؤں کا خزانہ
ماه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات /10)

بسم الله الرحمن الرحیم

ماہ رمضان میں روزہ داروں کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دعا و مناجات اور خدائے قاضی الحاجات سے حاجات طلب کرنا ہے۔

دعا، نا امیدی سے نجات

خدا سے ہر وقت دعا کرنا،اسے پکارنا اور اس سے خیر طلب کرنا مستحب ہے اور یہ نفسیاتی لحاظ سے توان بخش، دل کے لئے باعث فرحت و نشاط اور فکری و روحانی قوت کی تجدید کا باعث ہے۔

«دعا»، روح کی مقوی غذا ہے جو غم و اندوہ کو برطرف کرنے، پریشانیوں کو ختم کرنے، مستقبل کے سلسلہ میں امید بخش  اور ناامیدی سے نجات کا سبب ہے۔

دعا؛یعنی پروردگار کو پکارنا،اس سے مدد طلب کرنا اور خدا سے حاجتیں طلب کرنا ہے۔انسان فطری طور پر اس عظیم نعمت اور خدا کی وسیع رحمت سے بہرہ مند ہے۔

انسان کا لایزال قدرت کی پناہ میں آنا

انسان جس قدر بھی قوی اور طاقتور بن جائے لیکن اس کے باوجود مشکلات اور سختیوں میں خدا کے وجود کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی سے پناہ طلب کرتا ہے، اور مشکلات،پریشانیوں اور سختیوں سے نجات کے لئے اسی کو پکارتا ہے کیونکہ وہ سب سے برتر، سب سے بے نیاز اور سب کا کارساز ہے۔ انسانی فطرت ہی خدا کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور کار ساز اور چارہ گر نہیں ہے: «قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتاكُمْ عَذابُ اللهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السّاعَةُ اَغَيْرَاللهِ تَدْعُونَ اِن كُنْتُمْ صادِقِينَ بَلْ اِيَّاهُ تَدْعُونَ»(1)

اگر افتي به دام ابتلايي                 به جز او از كه ميجويي رهايي(2)

انسان زندگی کے اتار چڑھاؤ، حیات کے مختلف حادثات  اور دشوار و ناگوار حالات میں کبھی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں اسے اپنے لئے دعا کے علاوہ کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا اورجہاں صرف دعا ہی اس  کے ضعف اور روحانی ناتوانی کی تلافی کر سکتی ہے۔

عقدہ کشائی ؛ انسان کی ایک اہم ضرورت

ہر بیمار اور پریشان حال شخص کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،ان میں سے ایک «دعا» ہے۔ ہر بیمار اور پریشان شخص کو کسی دوست کی بھی ضرورت ہوتی کہ جس سے وہ اپنا درد دل بیان کر سکے اور اسے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرے ،اسے اپنی مشکلات بتائے  اور  اس وقت اس کے دل میں جو بات آئے وہ اس کے سامنے بیان کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہی ’’عقدہ کشائی‘‘ ہے یعنی کسی سے اپنا درد دل بیان کرنا ۔

دعا کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ مؤمن خدائے مہربان و سمیع سے اپنے راز، درد دل، رنج و مصائب اور اپنی افسردگی بیان کرتا ہے اور بغیر کچھ چھپائے اپنی سب پریشانیاں خدا سے کہہ دیتا ہے، اور اس سے چارہ جوئی کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کسی کی دوسرے شخص کی بنسبت اس سے زیادہ نزدیک ہے اور وہ اس کے آہ و نالہ کو سنتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے۔

دعا کرنے کے بعد بندۂ مؤمن یہ محسوس کرتا ہے کہ  اس کے اندرونی درد کم ہو گئے ہیں، اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے ۔

حقیقت میں اگر دعا نہ ہوتی ، یا  اگر دعا تک بندوں کی رسائی نہ ہوتی تو وہ کسی سے اپنا درد دل، اپنی مشکلات اور پریشانیاں بیان نہیں کر سکتے تھے۔ ان حالات میں زندگی کتنی تلخ اور ناگوار ہو جاتی اور انسان کی یہی کیفیت اسے اذیت دیتی۔

نعمت دعا کا شکر کرنا لازم ہے

ہمیں «دعا» جیسی نعمت کی وجہ سے خدا کا شکر کرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔

دعائے «ابو حمزه» میں ذکر ہوا ہے: «اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِي اَدعُوهُ فَيُجِيبُنِي وَاِن كُنتُ بَطِيئاً حِينَ يَدعُونِي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اسے پکارتا ہوں ؛ پس وہ مجھے جواب دیتا ہے ، اگرچہ میں اس کے جواب کے وقت (جب وہ مجھے پکارتا ہے) سستی کرتا ہوں۔»

اور ہم اسی دعا میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اَسْئَلُهُ فَيُعْطِيَنِي وَاِنْ كُنتُ بَخِيلا حِينُ يَسَتَقْرِضُنِي؛ حمد وثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اس سے مانگتا ہوں ، پس وہ عطا کرتا ہے ؛ اگرچہ جب وہ مجھے سے قرض مانگتا ہے تو میں بخل اور کنجوسی سے کام لیتا ہوں۔»(3)

اس خوبصورت دعا کے دوسرے جملوں میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اُنادِيهِ كُلَّما شِئتُ لِحاجَتِي وَاَخلُو بِه حَيثُ شِئتُ لِسِرِّي بِغَيرِ شَفِيع فَيَقضِي لِي حاجَتي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں جب بھی چاہوں اسے اپنی حاجت کے لئے پکارتا ہوں اور کسی شفیع کے بغیر  اس سے راز و نیاز کے لئے خلوت کرتا ہوں ۔ پس وہ میری حاجت کو پورا کر دیتا ہے.»

جی ہاں! دعا ہمت کو بلند اور ارادہ کو محکم و استوار کرنے کا باعث ہے اور یہ بڑے حادثات اور مصائب و مشکلات میں انسان کو پائیدار بنا دیتی ہے۔

دعا؛ تذکیہ و تہذیب نفس، خدا کے سامنے دعا کرنے والے کے فقر اورضرورت کو بیان کرنے، تواضع و فروتنی جیسی صفات کے راسخ ہونے اور غرور و تکبر سے نجات کا ذریعہ ہے۔

دعا اور اس کے آثار و برکات اور اس کی شرائط و آداب کے بارے میں ہم یہاں حق سخن ادا نہیں کر سکتے اور اس کے علاوہ یہ میرے جیسے ناتوان اور ضعیف انسان کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔

«دعا کی فضیلت» کے بارے میں روایات میں سے ایک یہ روايت ہے: «الدُّعاءُ مخُّ العِبادة؛دعا حقیقت بندگی و عبادت ہے.»(4)

نيز دیگر حديث میں وارد ہوا ہے: «اَلدُّعاءُ سلاحُ المُؤمِنِ وَعَمُودُ الدِّينِ وَنُورُ السَّماواتِ وَالاَرْضِ؛ دعا مؤمن کا اسلحہ،دین کا ستون اور آسمان و زمین کو نور ہے.»(5)

ماه رمضان،دعا کی بہار

یہ واضح ہے کہ ماہ رمضان دعاؤں کی بہار اور دعاؤں کا موسم ہے۔اس مہینہ میں ناامید، شکست خوردہ،پریشان حال،مضطر، بے حال، بے صبر اور تکلیف میں مبتلا افراد دعا کی برکت اور خدا کی وسیع رحمت کی جانب توجہ کرتے ہوئے امیدوار، بردبار، خوشحال  اور بانشاط ہو جاتے ہیں اور ایک نئے عزم  و ارادہ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور حیات کے امور انجام دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان یہ نوید سناتا ہے کہ اس دنیا کی کش مکش، مشکلات اور پریشانیوں کے مقابلہ میں شکست نہ کھائیں اور دنیا کے حادثات سے گھبرا کر مغلوب نہ ہو جائیں۔

دعائے ابو حمزہ، دعائے افتتاح اور دوسری دعاؤں کی قرائت انسان کو اس قدر پرجوش اور معنویت سے سرشار کر دیتی ہیں کہ انسان دنیا کے تمام مصائب بھول جاتا ہے اور اس کا وجود روشن مستقل کی امید میں غرق ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ایسی دعائیں (جو ماہ رمضان میں وارد ہوئی ہیں ،دوسری مناسبات اور دوسرے مہینوں میں بھی ان کے  بہت زیادہ نمونے ہیں) مؤمن کی سلاح اور مؤمن کی ڈھال ہیں جو اس کے وجود کو حادثات سے بچاتیں ہیں اور اس کی روح کو غیر قابل نفوذ قرار دیتی ہیں۔

پوری دعائے ابو حمزہ حقیقی اخلاق کے لئے اسلحہ ہے جو رضا و تسلیم، قناعت ، توکّل، خدا و پیغمبر اور اولیاء دین کی محبت سے سرشار ہے۔ وہی  دعا ایسا اسلحہ اور  ڈھال ہے کہ جس کے ذریعے مجاہدین اسلام خدا کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے لئے جاتے اور مختلف قسم کے اسلحوں سے لیس دشمن کو شکست  دیتے ہیں اور جس کے ذریعے اسلام کو کفر پر غلبہ دیتے ہیں۔

محترم قارئین اور عزیز روزہ دارو! اس مہینہ کی دعاؤں سے مستفید ہوں ۔  وقت کو غنيمت شمار کریں ۔ فرصت کو ضائع نہ کریں کیونکہ: «الفرصة تمرّ مرّ السّحاب»(6) خدا سے گفتگو کریں، راز و نیاز کریں ، اس کی مدح و ثناء کریں کیونکہ وہی مدح و ثناء کے لائق ہے۔ دعا سے رو گردانی نہ کریں اور تکبر کا اظہار نہ کریں که خداوند تبارک و تعالي قرآن کريم میں فرماتا ہے: «اِنَّ الَّذِينَ يَستَكبِرُونَ عَن عِبادَتِي سَيَدخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين»(7)

 

حوالہ جات:

[1]. سوره انعام، آيه 40 اور 41؛ «آپ ان سے کہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آ جائے تو کیا تم اپنے دعوی کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے؟نہیں تم خدا کو ہی پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے اور تم اپنے مشرکانہ خداو۷ں کو بھول جاؤ گے.

2. مرحوم آيتالله والد قدّس سرّه مؤلف ’’گنج دانش‘‘ کے کلام سے مأخوذ.

3. اس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ: (مَن ذَاالَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرضاً حَسَناً).

4. حديث نبوي; بحارالانوار، ج 93، ص 300.

5. كافي، ج 2، ص 468.

6.فرصت بادلوں کی طرح گذر جاتی ہے۔

7. سوره غافر، آيه 60؛ اور یقیناً جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

ماہ مبارك رمضان كے اعمال و آداب

ماہ رمضان المبارك كے مخصوص اعمال 
۱۔ ہر واجب نماز كے بعد يہ دعا پڑھنا مستحب ہے " اللهم ارزقني حج بيتك الحرام في عامي...الخ"
۲۔ ہر واجب نماز كے بعد دعائے " ياعليُ ياعظيمُ ياغفورُ يارحيمُ انت الرَّبُّ العظيم ۔۔۔۔۔۔الخ"پڑھنا مستحب ہے ۔ 
۳۔ رسول اكرم (ص) كے قول كے مطابق جو بھي دعائے " اللهم ادخل علي اهل القبور..." ہر واجب نماز كے بعد پڑھے گا اللہ تعاليٰ اس كے گناہوں كو معاف كر دے گا۔ 
۴۔ ماہ رمضان المبارك ميں دن اور رات كے بہترين اعمال ميں سے قرآن كي تلاوت كرنا ہے ۔ 
۵۔ ماہ رمضان المبارك ميں ہر تيسرے دن ايك قرآن ختم كرنا سنت ہے ۔ 
۶۔ اس مہينہ ميں دعا صلوات ، استغفار اور لا الٰہ الا اللہ پڑھنا چاہئے ۔ 
۷۔ ماہ رمضان المبارك كي دعائيں بالخصوص ہر رات دعائے افتتاح پڑھنا چاہئے ۔ 
۸۔ رمضان المبارك كي راتوں ميں دو ركعت نماز پڑھنا مستحب ہے جس كي تفصيل مفاتيح الجنان ميں ذكر ہے ۔ 
(مفاتيح الجنان ،ص ۳۵۶۔۳۵۸)

 

افطار كے آداب 
افطار كے وقت سورہ انا انزلناہ اور دعائے " اللّهم لك صُمْتُ و علي رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ و عليك تَوَكَّلْتُ" پڑھنی چاہئے ۔ 
۲۔ مستحب ہے كہ نماز كے بعد افطار كيا جائے ليكن اگر ضعف و نقاحت روزہ دار پر غالب ہو يا دوسرے لوگ افطار كے لئے منتظر ہوں تو پہلے افطار كر سكتا ہے ۔ 
۳۔ پاكيزہ اور حرام و شبہات سے پاك كھانے سے افطار كرنا چاہئے ۔ 
۴۔ افطار كا آغاز خرما سے كرنا چاہئے ايسي صورت ميں اس كي نماز كے ثواب چار سو برابر ديا جائے گا ۔ 
۵۔ افطار خرما ، دودھ ، حلوا يا گرم پاني سے كرنا بہتر ہے ۔ 
۶۔ افطار كے پہلے لقمے ميں " بسم الله الرحمن الرحيم ياواسع المغفرة اغفر لي "پڑھنے سے بندے كے گناہ معاف كر دئے جاتے ہيں ۔ 
(مفاتيح الجنان ،ص/۳۶۰۔۳۶۱)
سحري كے اعمال 
۱۔ سحري كھانا چاہئے اور ترك نہيں كرنا چاہئے چاہے ايك خرما يا ايك گھونٹ پاني سے سحري كرے ۔ 
۲۔ بہترين سحري قاوت اور خرما ہے۔ 
۳۔ سحري كھاتے وقت سورہ انا انزلناہ كي تلاوت مستحب ہے ۔ روايت ميں ہے كہ جو بھي سحري و افطار كے وقت اس سورہ كي تلاوت كرے گا تو سحري و افطار كے درمياني وقت ميں اس كا ثواب اس شخص كے برابر ہے جو راہ خدا ميں اپنے خون ميں نہايا ہو ۔ 
۴۔ سحري كے وقت استغفار كرنے سے خدا و ملائكہ استغفار كرنے والے پر صلوات بھيجتے ہيں ۔ 
۵۔ ماہ رمضان المبارك ميں سحركے وقت يہ دعا پڑھنا چاہئے ۔ " اللهم اني اسئلك من بهائك بِاَبْهاهُ و كل بهائك بَهِيٌّ...الخ " 
۶۔ ماہ رمضان المبارك ميں سحركے وقت دعائے ابو حمزہ ثمالي پڑھنا چاہئے ۔ 
(مفاتيح الجنان ،ص/ ۳۷۳۔ ۳۷۶)

چهارشنبه / 26 ارديبهشت / 1397
ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا

 

پہلا دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْ صِيَامِى فِيهِ صِيَامَ الصَّائِمِينَ وَ قِيَامِى فِيهِ قِيَامَ الْقَائِمِينَ وَ نَبِّهْنِى فِيهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغَافِلِينَ وَ هَبْ لِى جُرْمِى فِيهِ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ وَ اعْفُ عَنِّى يَا عَافِيا عَنِ الْمُجْرِمِينَ.

خدايا ! ميرا روزہ اس دن ميں روزہ داروں كي طرح قرار دے اور ميري نماز نمازگزاروں كي نماز كي طرح قرار دے اور مجھ كو ہوشيار كر دے غافلوں كي نيند سے اور ميرے گناہ بخش دے اے عالمين كے معبود اور مجھ كو معاف كردے اے گناہگاروں كے معاف كرنے والے ۔

 

دوسرا دن

اللَّهُمَّ قَرِّبْنِى فِيهِ إِلَى مَرْضَاتِكَ وَ جَنِّبْنِى فِيهِ مِنْ سَخَطِكَ وَ نَقِمَاتِكَ وَ وَفِّقْنِى فِيهِ لِقِرَاءَةِ آيَاتِكَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

خدايا! مجھ كو اس دن ميں اپني مرضي سے قريب كر اور اس دنيا ميں مجھ كو اپنے غصہ اور عذاب سے بچا لے اور مجھ كو اس ميں توفيق عطا كر ،اپنے قرآن كي آيتوں كے پڑھنے كي اپني رحمت كے ذريعہ سے ، اے سب سے بڑے رحم كرنے والے ۔

 

تيسرا دن

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِى فِيهِ الذِّهْنَ وَ التَّنْبِيهَ وَ بَاعِدْنِى فِيهِ مِنَ السَّفَاهَةِ وَ التَّمْوِيهِ وَ اجْعَلْ لِى نَصِيبا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ تُنْزِلُ فِيهِ بِجُودِكَ يَا أَجْوَدَ الْأَجْوَدِينَ.

خدايا! مجھے ہوشياري عنايت فرما ، اور مجھے حماقت اور فريب كاري سے دور ركھنا ،مجھے ہر اس خير ميں حصہ دار بنا دينا جو تو اس مہينہ مين نازل كرتا ہے كہ تو بہترين كرم كرنے والا ہے ۔

 

چوتھا دن

اللَّهُمَّ قَوِّنِى فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ أَمْرِكَ وَ أَذِقْنِى فِيهِ حَلاوَةَ ذِكْرِكَ وَ أَوْزِعْنِى فِيهِ لِأَدَاءِ شُكْرِكَ بِكَرَمِكَ وَ احْفَظْنِى فِيهِ بِحِفْظِكَ وَ سِتْرِكَ يَا أَبْصَرَ النَّاظِرِينَ.

خدايا مجھے اپنے كو قائم كرنے كي طاقت عطا فرما اور اپنے ذكر كي حلاوت سے آشنا فرما ،مجھے اور توفيق دے كہ ميں تيرے كرم كے سہارے تيرا شكر ادا كر سكوں ،اپني حفاظت اور پردہ پوشي سے ميرا تحفظ فرما كہ تو سب سے زيادہ نگاہ ركھنے والا ہے ۔

 

پانچواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِينَ وَ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الْقَانِتِينَ وَ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنْ أَوْلِيَائِكَ الْمُقَرَّبِينَ بِرَأْفَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

خدايا ! مجھے استغفار كرنے والوں ميں اور عبادت گزار صالح كردار بندوں ميں قرار ديدے اور اپني مہرباني سے اپنے مقرب اولياء ميں شمار كر لے كہ تو سب سے زيادہ رحم كرنے والا ہے ۔

 

چھٹا دن

اللَّهُمَّ لا تَخْذُلْنِى فِيهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِيَتِكَ وَ لا تَضْرِبْنِى بِسِيَاطِ نَقِمَتِكَ وَ زَحْزِحْنِى فِيهِ مِنْ مُوجِبَاتِ سَخَطِكَ بِمَنِّكَ وَ أَيَادِيكَ يَا مُنْتَهَى رَغْبَةِ الرَّاغِبِينَ.

خدايا ! معصيتوں پر ميري آمادگي كي بنا پر مجھے رسوا نہ كردينا اور اپنے عذاب كے تازيانوں سے مجھے سزا نہ دينا اپنے احسان اور اپني نعمتوں سے مجھے اسباب ناراضگي سے دور ركھنا كہ تو تمام رغبت ركھنے والوں كي رغبت كي حد آخر ہے ۔

 

ساتواں دن

اللَّهُمَّ أَعِنِّى فِيهِ عَلَى صِيَامِهِ وَ قِيَامِهِ وَ جَنِّبْنِى فِيهِ مِنْ هَفَوَاتِهِ وَ آثَامِهِ وَ ارْزُقْنِى فِيهِ ذِكْرَكَ بِدَوَامِهِ بِتَوْفِيقِكَ يَا هَادِىَ الْمُضِلِّينَ.

خدايا! آج كے دن كے صيام و قيام پر ميري امداد فرما اور ہر طرح كي بكواس اور گناہ سے مجے محفوظ ركھنا مجھے اپني مسلسل ياد كي توفيق كرامت فرما كہ تو تمام گمراہوں كو ہدايت دينے والا ہے ۔

 

آٹھواں دن

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِى فِيهِ رَحْمَةَ الْأَيْتَامِ وَ إِطْعَامَ الطَّعَامِ وَ إِفْشَاءَ السَّلامِ وَ صُحْبَةَ الْكِرَامِ بِطَوْلِكَ يَا مَلْجَأَ الْآمِلِينَ.

خدايا! مجھے توفيق دے كہ ميں يتيموں پر مہرباني كروں لوگوں كو كھانا كھلاؤں سلام كو عام كروں اور شريفوں كي صحبت ميں رہوں كہ تو تمام اميدواروں كي اميدوں كا مركز ہے ۔

 

 نواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِى فِيهِ نَصِيبا مِنْ رَحْمَتِكَ الْوَاسِعَةِ وَ اهْدِنِى فِيهِ لِبَرَاهِينِكَ السَّاطِعَةِ وَ خُذْ بِنَاصِيَتِى إِلَى مَرْضَاتِكَ الْجَامِعَةِ بِمَحَبَّتِكَ يَا أَمَلَ الْمُشْتَاقِينَ.

خدايا ! آج اپني رحمت كا ايك حصہ ميرے لئے قرار ديدے اور مجھے اپنے روشن دلائل كي ہدايت فرما ، ميري پيشاني كا رخ اپني جامع مرضي كي طرف موڑ دے اپني محبت كے طفيل ميں كہ تو تمام مشتاقوں كي اميد ہے ۔

 

دسواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنَ الْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ وَ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنَ الْفَائِزِينَ لَدَيْكَ وَ اجْعَلْنِى فِيهِ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ إِلَيْكَ بِإِحْسَانِكَ يَا غَايَةَ الطَّالِبِينَ.

خدايا ! آج كے دن مجھے اپنے اوپر اعتماد كرنے والوں ،اپني بارگاہ ميں كامياب ہو جانے والوں اور اپني درگاہ ميں قربت حاصل كر لينے والوں ميں قرار ديدے ۔

 

گيارہواں دن

اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَىَّ فِيهِ الْإِحْسَانَ وَ كَرِّهْ إِلَىَّ فِيهِ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْيَانَ وَ حَرِّمْ عَلَىَّ فِيهِ السَّخَطَ وَ النِّيرَانَ بِعَوْنِكَ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ.

خدايا ! آج كے دن ميرے لئے احسان كو محبوب اور فسق و عصيان كو نا پسنديدہ قرار ديدے اور اپني اپني ناراضگي اور جہنم كو ميرے اوپر حرام كر دے ۔اپني امداد خاص سے اے فرياديوں كے فرياد رس ۔

 

بارہواں دن

اللَّهُمَّ زَيِّنِّى فِيهِ بِالسِّتْرِ وَ الْعَفَافِ وَ اسْتُرْنِى فِيهِ بِلِبَاسِ الْقُنُوعِ وَ الْكَفَافِ وَ احْمِلْنِى فِيهِ عَلَى الْعَدْلِ وَ الْإِنْصَافِ وَ آمِنِّى فِيهِ مِنْ كُلِّ مَا أَخَافُ بِعِصْمَتِكَ يَا عِصْمَةَ الْخَائِفِينَ.

خدايا ! آج كے دن مجھے تحفظ و عفت سے آراستہ كر دے اور قناعت و انصاف كے لباس سے محفوظ بنا دے مجھے عدل و انصاف پر آمادہ كر دے اور ہر طرح كے خوف سے مامون بنا دے اپني حفاظت خاص كي بنا پر اے خوفزدہ افراد كي حفاظت كرنے والے ۔

 

تيرہوان دن

اللَّهُمَّ طَهِّرْنِى فِيهِ مِنَ الدَّنَسِ وَ الْأَقْذَارِ وَ صَبِّرْنِى فِيهِ عَلَى كَائِنَاتِ الْأَقْدَارِ وَ وَفِّقْنِى فِيهِ لِلتُّقَى وَ صُحْبَةِ الْأَبْرَارِ بِعَوْنِكَ يَا قُرَّةَ عَيْنِ الْمَسَاكِينِ.

خدايا !مجھے آج كے دن ہر طرح كي كثافت اور گندگي سے پاك بنا دے اور تمام مقدرات كائنات پر صبر كرنے كي صلاحيت عطا فرما دے اپني امداد خاص سے تقويٰ اور نيك كرداروں كي صحبت كي توفيق كرامت فرما دے كہ تو تمام مساكين كي آنكھوں كي ٹھنڈك ہے ۔

 

چودہواں دن

اللَّهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِى فِيهِ بِالْعَثَرَاتِ وَ أَقِلْنِى فِيهِ مِنَ الْخَطَايَا وَ الْهَفَوَاتِ وَ لا تَجْعَلْنِى فِيهِ غَرَضا لِلْبَلايَا وَ الْآفَاتِ بِعِزَّتِكَ يَا عِزَّ الْمُسْلِمِينَ.

پروردگار آج كے دن ميري لغزشوں كا مواخذہ نہ كرنا اور مجھے ہر طرح كي غلطي اور خطا سے محفوظ ركھنا اور بلاء و آفات كا نشانہ نہ بننے دينا ، اپني عزت كي بنياد پر اے عزت مسلمين !

 

پندرہواں دن

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِى فِيهِ طَاعَةَ الْخَاشِعِينَ وَ اشْرَحْ فِيهِ صَدْرِى بِإِنَابَةِ الْمُخْبِتِينَ بِأَمَانِكَ يَا أَمَانَ الْخَائِفِينَ.

پروردگار ! مجھے آج كے دن خضوع و خشوع والوں جيسي اطاعت عطا فرما اور ميرے سينہ كو خدا ترس بندوں كي طرح كشادہ فرما دے ، اپني امان كے ذريعہ اے خوفزدہ لوگوں كو امان دينے والے !

 

سولہواں دن

اللَّهُمَّ وَفِّقْنِى فِيهِ لِمُوَافَقَةِ الْأَبْرَارِ وَ جَنِّبْنِى فِيهِ مُرَافَقَةَ الْأَشْرَارِ وَ آوِنِى فِيهِ بِرَحْمَتِكَ إِلَى [فِى‏] دَارِ الْقَرَارِ بِإِلَهِيَّتِكَ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ.

پروردگار آج كے دن مجھے نيك بندوں كي رفاقت عطا فرما اور اشرار كي صحبت سے دور ركھنا مجھے اپني رحمت كے سہارے جنت ميں پناہ گاہ عطا فرما دے ، اپني الوہيت كے سہارے يا الہ العالمين ۔

سترہواں دن

اللَّهُمَّ اهْدِنِى فِيهِ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَ اقْضِ لِى فِيهِ الْحَوَائِجَ وَ الْآمَالَ يَا مَنْ لا يَحْتَاجُ إِلَى التَّفْسِيرِ وَ السُّؤَالِ يَا عَالِما بِمَا فِى صُدُورِ الْعَالَمِينَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَ.

پروردگار مجھے آج كے دن نيك اعمال كي ہدايت فرما اور ميري تمام حاجتوں اور تمنّاؤں كو پورا كر دے ،اے وہ پروردگار جو كسي تشريح اور سوال كا محتاج نہيں ہے اور عالمين كے دلوں كا حال جانتا ہے ،محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما ۔

 

اٹھارہواں دن

اللَّهُمَّ نَبِّهْنِى فِيهِ لِبَرَكَاتِ أَسْحَارِهِ وَ نَوِّرْ فِيهِ قَلْبِى بِضِيَاءِ أَنْوَارِهِ وَ خُذْ بِكُلِّ أَعْضَائِى إِلَى اتِّبَاعِ آثَارِهِ بِنُورِكَ يَا مُنَوِّرَ قُلُوبِ الْعَارِفِينَ.

خدايا! آج كے دن مجھے سحر كي بركتوں كے لئے بيدار ركھنا اور ميرے دل كو اس كے انوار سے منور كر دينا اور ميرے تمام اعضاء كو اس كے آثار كے اتباع پر آمادہ كر دينا اپنے نور كے ذريعہ اے عارفوں كے دلوں كو منور كرنے والے !

 

انيسواں دن

اللَّهُمَّ وَفِّرْ فِيهِ حَظِّى مِنْ بَرَكَاتِهِ وَ سَهِّلْ سَبِيلِى إِلَى خَيْرَاتِهِ وَ لا تَحْرِمْنِى قَبُولَ حَسَنَاتِهِ يَا هَادِيا إِلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ.

خدايا! آج كے دن كے بركات ميں ميرے حصہ كو وافر قرار دينا اور اس كے خيرات كے لئے ميرے راستوں كو آسان كر دينا اور اس كي نيكيوں ك قبوليت سے مجھے محروم نہ ركھنا ، اے روشن حق كي طرف ہدايت كرنے والے !

 

بيسواں دن

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِى فِيهِ أَبْوَابَ الْجِنَانِ وَ أَغْلِقْ عَنِّى فِيهِ أَبْوَابَ النِّيرَانِ وَ وَفِّقْنِى فِيهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ يَا مُنْزِلَ السَّكِينَةِ فِى قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ.

خدايا! آج كے دن ميرے لئے جنت كے دروازوں كو كھول دے اور جہنم كے دروازوں كو بند كر دے اور تلاوت قرآن كي توفيق كرامت فرما ۔اے مومنين كے دلوں پر سكون كو نازل كرنے والے ۔

 

اكيسواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِى فِيهِ إِلَى مَرْضَاتِكَ دَلِيلا وَ لا تَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ عَلَىَّ سَبِيلا وَ اجْعَلِ الْجَنَّةَ لِى مَنْزِلا وَ مَقِيلا يَا قَاضِىَ حَوَائِجِ الطَّالِبِينَ.

خدايا! آج كے دن ميري خاطر اپني رضا كے لئے كوئي رہنما قرار ديدے اور شيطان كو ہرگز مجھ پر راہ نہ پانے دے اور جنت كو ميري منزل اور ميرا مسكن قرار ديدے ،اے حاجت مندوں كي حاجتوں كو پورا كرنے والے !

 

 

 

بائيسواں دن

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِى فِيهِ أَبْوَابَ فَضْلِكَ وَ أَنْزِلْ عَلَىَّ فِيهِ بَرَكَاتِكَ وَ وَفِّقْنِى فِيهِ لِمُوجِبَاتِ مَرْضَاتِكَ وَ أَسْكِنِّى فِيهِ بُحْبُوحَاتِ جَنَّاتِكَ يَا مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ.

خدايا! آج كے دن ميرے لئے اپنے فضل و كرم كے دروازے كھول دے اور مجھ پر اپني بركتيں نازل كر دے اور مجھے اسباب رضا كي توفيق كرامت فرما اور مجھے جنت كے مركزي مقام پر ساكن قرار دے ،اے مضطر افراد كي دعاؤں كے قبول كرنے والے !

 

تيئيسوان دن

اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى فِيهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَ طَهِّرْنِى فِيهِ مِنَ الْعُيُوبِ وَ امْتَحِنْ قَلْبِى فِيهِ بِتَقْوَى الْقُلُوبِ يَا مُقِيلَ عَثَرَاتِ الْمُذْنِبِينَ.

خدايا! آج كے دن مجھے گناہوں سے بالكل دھو دے اور عيوب سے بالكل پاك كر دے اور ميرے دل كو تقويٰ كي آزمائش كے قابل بنا دے اے گناہگاروں كي لغزشوں كو معاف كرنے والے !

 

چوبيسواں دن

اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ فِيهِ مَا يُرْضِيكَ وَ أَعُوذُ بِكَ مِمَّا يُؤْذِيكَ وَ أَسْأَلُكَ التَّوْفِيقَ فِيهِ لِأَنْ أُطِيعَكَ وَ لا أَعْصِيَكَ يَا جَوَادَ السَّائِلِينَ.

خدايا! ميں آج كے دن تيرے اسباب رضا كا سوال كر رہا ہوں اور تجھے اذيت پہنچانے والے اسباب سے پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے توفيق كا طلبگار ہوں كہ تيري اطاعت كروں اور معصيت نہ كروں اے سائلوں كو ہاتھ كھول كر عطا كرنے والے !

 

پچيسواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِى فِيهِ مُحِبّا لِأَوْلِيَائِكَ وَ مُعَادِيا لِأَعْدَائِكَ مُسْتَنّا بِسُنَّةِ خَاتَمِ أَنْبِيَائِكَ يَا عَاصِمَ قُلُوبِ النَّبِيِّينَ.

 خدايا! آج كے دن مجھے اپنے دوستوں كا دوست اور اپنے دشمنوں كا دشمن اور اپنے خاتم الانبياء پيغمبر كي سيرت پر چلنے والا قرار ديدے ،اے انبياء كے دلوں كي حفاظت كرنے والے !

 

چھبيسواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَعْيِى فِيهِ مَشْكُورا وَ ذَنْبِى فِيهِ مَغْفُورا وَ عَمَلِى فِيهِ مَقْبُولا وَ عَيْبِى فِيهِ مَسْتُورا يَا أَسْمَعَ السَّامِعِينَ.

خدايا! آج كے دن ميري سعي كو قابل قبول بنا دے ،ميرے گناہوں كو بخشا ہوا ميرے عمل كو مقبول اور ميرے عيوب كو پوشيدہ بنا دے اے سب سے زيادہ سننے والے !

 

ستائيسواں دن

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِى فِيهِ فَضْلَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ صَيِّرْ أُمُورِى فِيهِ مِنَ الْعُسْرِ إِلَى الْيُسْرِ وَ اقْبَلْ مَعَاذِيرِى وَ حُطَّ عَنِّىَ الذَّنْبَ وَ الْوِزْرَ يَا رَءُوفا بِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ.

خدايا! آج كے دن مجھے شب قدر كي فضيلت عطا فرما اور ميرے امر كو تنگي سے سہولت كي طرف پہنچا دے اور ميرے عذر كو قبول فرما لے اور ميرے گناہ اور بوجھ كو ميرے كاندھوں سے گرا دے ،اے بندگان صالحين پر مہرباني كرنے والے !

 

اٹھائيسواں دن

اللَّهُمَّ وَفِّرْ حَظِّى فِيهِ مِنَ النَّوَافِلِ وَ أَكْرِمْنِى فِيهِ بِإِحْضَارِ الْمَسَائِلِ وَ قَرِّبْ فِيهِ وَسِيلَتِى إِلَيْكَ مِنْ بَيْنِ الْوَسَائِلِ يَا مَنْ لا يَشْغَلُهُ إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ.

خدايا! آج كے نوافل ميں ميرا حصہ وافر قرار ديدے اور مجھے مسائل كو حاضر ركھنے كي كرامت عطا فرما ميرے وسيلہ كو تمام وسائل سے قريب تر بنا دے كہ تجھے اصرار كرنے والوں كا اصرار مشغول نہيں بنا سكتا ہے ۔

 

انتيسواں دن

اللَّهُمَّ غَشِّنِى فِيهِ بِالرَّحْمَةِ وَ ارْزُقْنِى فِيهِ التَّوْفِيقَ وَ الْعِصْمَةَ وَ طَهِّرْ قَلْبِى مِنْ غَيَاهِبِ التُّهَمَةِ يَا رَحِيما بِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ.

خدايا! آج كے دن مجھے رحمت سے ڈھانك دے اور توفيق و تحفظ كي دولت عطا فرما دے ميرے دل كو شكوك كي تاريكيوں سے پاك كر دے اے بندگان مومنين پر مہرباني كرنے والے !

 

تيسواں دن

اللَّهُمَّ اجْعَلْ صِيَامِى فِيهِ بِالشُّكْرِ وَ الْقَبُولِ عَلَى مَا تَرْضَاهُ وَ يَرْضَاهُ الرَّسُولُ مُحْكَمَةً فُرُوعُهُ بِالْأُصُولِ بِحَقِّ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

خدايا! آج كے دن ميرے روزوں كو قبول كي منزل پر قرار ديدے جس طرح تو اور تيرا رسول پسند كرتا ہے اور جہاں فروع اصول كے ذريعہ مستحكم ہوتے ہيں تجھے ہمارے سردار حضرت محمد مصطفيٰ اور ان كي آل طاہرين كا واسطہ اور ساري حمد خدائے رب العالمين كے لئے ہے ۔

 

چهارشنبه / 26 ارديبهشت / 1397
غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (2۰)

غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (21)

 

بسم الله الرحمن الرحیم

قال الله تعالی: شَهْرُ رَمَضَانَ اَلَّذِي اُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ

* کتاب خدا سے تجدید عہد کا مہینہ

آیۂ شریفہ کی بناء پر ماہ رمضان کی کرمات و شرافت قرآن مجید کے نزول کی وجہ سے ہے بلکہ اس آیت سے یہ بھی استفادہ کیا جاتا ہے کہ اسی شرافت و فضیلت(یعنی اس مہینہ میں قرآن نازل ہونا) کی وجہ سے ہی دوسرے مہینوں میں سے اس مہینہ کو اختیار کیا گیا اور شاید اس مہینہ میں روزہ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت  نعمت کے شکر کےلئے قیام کرنا، نزول قرآن کی سالگرہ منانا، خدا کی کتاب  اور اس کی تعلیمات کے ساتھ تعلق کی تجدید کرنا اور قرآنی محافل کا انعقاد کرنا ہے تا کہ مسلمان پورے سال کے دوران ایک مہینہ میں خدا کی مقدس کتاب کی سالگرہ منائیں  اور اس مہینہ میں ’’روزہ‘‘نامی عبادت کو انجام دے کر اس کا حترام و اکرام کریں اور خدا کا شکر بجا لائیں ،قرآن کی تلاوت اور اس کی آیات کے معانی میں غور و فکر اور تدبّر و تفکّر کرتے ہوئے قرآنی علوم و معارف سے مسفید ہونے کے لئے کوشاں رہیں کہ جو دنیا و اورآخرت میں سعادت کی ضامن ہیں۔

’’قرآن‘‘كتاب حكمت، شريعت و قانون، اخلاق، توحيد و معرفت خدا اور تاريخ و عبرت ہے جس میں علوم حیاتیات، صحت، اقتصاد و معاشیات، زراعت، نجوم ، عمرانیات، معاشرت، اور نفسیات کے اصول درج ہیں.

«الْفَضْلُ ما شَهِدت بِه الأَعداءُ»(یعنی فضیلت وہی ہے کہ جس کی دشمن بھی گواہی دے) کی رو سے قرآن کی عظمت کے بارے میں چند عیسائی دانشوروں اور مادّي حضرات کے اقوال ذکر کرتے ہیں:

* قرآن کی عظمت کے بارے میں بیگانوں کی گواہی

1. كتاب «الحقيقة» کے مؤلف لبنان کے ڈاکٹر شبلی شميل (متوفّی 1917ء) رسول اعظم ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ کی مدح و ثناء میں اپنے مشہور قصیدہ میں کہتے ہیں:

دَع مِن مُحمد فِي صدي قُرآنِه * ما قَد نَحاه لِلحمةِ الغاياتِ
اِنّي وَاِن اكُ قَد كَفَرتُ بِدِينِه  * هَل اَكفُرَنَّ بِمُحْكَمِ الآياتِ
وَمَواعِظ لَو انَّهم عِملُوا بِها  * ما قَيَّدُوا العُمرانَ بِالعادات

2. ’’ناصف يازجی‘‘(متوفي 1871ء) ایک مشہور عیسائی مصنف اور اديب ہیں ،جو«طوق الحمامة» اور «مجمع البحرين» جیسی کتابوں کے مؤلف ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے ابراهيم يازجی(جن کا شمار عرب کی علمی و ادبی اور ‎لغوی نہضت کے رہبروں میں ہوتا ہے اور جو حافظ قرآن اور مجلّه «الضياء» کے بانی ہیں) کو یہ وصيّت كی ہے: «اذا شِئتَ اَن تَفُوقَ اَقرانَكَ فِي العِلْمِ وَالاَدَبِ وَصَنَاعَةِ الاِنشاءِ فَعَلَيْكَ بِحِفْظِ الْقُرآنِ وَنَهجِ البَلاغَةِ»(1)

3. استاد سنايس کہتے ہیں: قرآن ایک ایسا عالم قانون ہے کہ جس میں کسی طرح سے بھی باطل کا شائبہ نہیں پایا جاتا اور جو ہر زمان و مکان کے لئے شائستہ ہے اور اگر مسلمان اس سے متمسک ہو جاتے اور اس کی تعلیمات و احکام کے مطابق عمل کرتے تو ماضی کی طرح تمام امتوں پر برتری رکھتے۔(2)

4. برطانوی بوسور سميتھ کہتے ہیں:تاريخ میں یہ موضوع يگانه اور بے نظیر ہے كه محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله ‌و سلّم ایسی ‎كتاب لائے جو آيتِ بلاغت، شریعت کا دستور اور نماز و دين ہے۔(3)

5.فرانس  کے ڈاكٹر گوسٹاولوبون کہتے ہیں: قرآن کی اخلاقی تعلیمات،عالی آداب اور  اخلاقی بنیادوں کا خلاصہ ہیں اور یہ انجیل کے آداب سے کئی درجہ بلند ہے.(4)

6. ایڈور لوهارٹ کہتے ہیں:حكمت قرآن کا نور ایسا نور ہے جو اس پیغمبر کے سینہ پر نازل ہوا کہ جو ہدایت بشریت کے لئے مبعوث ہوئے اور  انہوں نے ایسا آئین و دستور باقی چھوڑا کہ جس کے ہتے ہوئے ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتے۔ایسا قرآن کہ جو دنیا کی مصلحتوں اور آخرت کی خیر کا مجموعہ ہے۔(5)

7. اگر قرآن میں معانی کے نور اور مبنٰی کی خوبصورتی کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ افکار پر غالب آنے اور قلوب کو مسخر کرنے کے لئے کافی تھا.(6)

8. ريتورت کہتے ہیں: واجب ہے کہ ہم یہ اعتراف كریں كه یورپ میں دسویں میں رواج پانے والے طبیعی علوم،فلکیات،فلسفہ اور ریاضیات قرآن سے اقتباس ہیں اور یورپ اسلام کا مقروض ہے.(7)

9. جويث کا کہنا ہے: قرآن اپنی فصاحت و بلاغت کی کثرت کی وجہ سے اپنے پڑھنے والوں کو اپنی خوبیوں کی طرف جذب کرتا ہے اور قرائت کی طرف اس کے شوق اور رغبت میں اضافہ کرتا ہے.(8)

10. دكتر موريس فرانسوي کہتے ہیں: قرآن سب سے افضل اور فاضل‎ كتاب ہے كه جو صناعت ازلی سے انسان و بشر کے لئے بھیجی گئی اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شكّ و شبه نہیں ہے.(9)

11. بولاتيتلر کہتے ہیں: انسان کے لئے یہ گمان کرنا دشوار اور مشکل ہے کہ قوّه فصاحت بشری قرآنی تأثير کا مالک ہے. قرآن معجزه ہے؛ کیونکہ زمین کے انسان اور آسمان کے فرشتہ اس کی مثل لانے سے عاجز و قاصر ہیں.(10)

12. اٹلی کے پروفیسر ڈاکٹر سيلقيوفرديو کہتے ہیں: قرآن کے متعلق زیادہ بحث اور اس کا تجزیہ و تحلیل کرنے والوں میں سے اکثر مشرقی تاریخ کے ماہرین ہیں اور تعصب سے دور ہیں، اور ان کا اس پر اجماع ہے کہ:اب تک کے زمانے میں انسانی خدمت کے لئے سب سے بڑا ممکن عمل قرآن ہے.(11)

13.برطانیہ کے مسٹركرنيكو (جو«اليكره» یونیورسٹی میں آداب عربی کے استاد ہیں) سے ایک مجمع میں اساتید اور ادباء نے اعجاز قرآن کے بارے میں سوال پوچھا تو انہوں نے ان کے جواب میں کہا:نہج البلاغہ کے نام سے قرآن کا ایک چھوٹا بھائی ہے۔ کیا کسی کے بس میں ہے کہ وہ قرآن کے اس چھوٹے بھائی کی مثل لے آئے تا کہ ہمارے لئے یہ جائز ہو سکے کہ ہم اس کے بڑے بھائی(قرآن) کی مثل لانے کے بارے میں بات کر سکیں.(12)

14. ليون کہتے ہیں: قرآن کی جلالت اور تمجید کے لئے یہی کافی ہے کہ چودہ صدیاں گذرنے کے باوجود اس میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوئی اور یہ اسی طرح تازہ اور زندہ ہے۔(13)

15. جيبوس کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہےجو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ عالم اسلامی کے لئے قرآن بنیادی آئین و دستور اور عام قانون ہے، دین و دنیا، سیاست و اجتماع، جنگ و تجارت، عدل و عدالت اور ہر وہ چیز کہ جس پر انسانی زندگی گردش کرتی ہے ،وہ سب قرآن کے قوانین میں فراہم کیا گیا ہے.(14)

16. ادموند يورك کہتے ہیں: قانون محمّدي ایسا قانون ہے جو سلطان سے لے کر ایک کم ترین انسان کے لئے بھی مقرر ہوا ہے، جو سب سے استوار نظام حقوق، قضاوت کے لحاظ سے سب سے وزین علمی سرمایہ اور سب سے عظیم منور و روشن تشریع ہے کہ جس کی مثل کائنات میں کہیں بھی پیدا نہیں ہو سکتی.(15)

17. الكس لوازون کہتے ہیں: محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ نے ایسی كتاب باقی چھوڑی کہ جو جدید علمی مسائل، آیت بلاغت، سجل اخلاقی اور کتابِ مقدس ہے؛ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو اسلامی کی اساس و بنیاد سے ٹکرائے، قرآن کی تعلیمات اور فطرت و طبیعت کے قوانین کے درمیان مناسبت، سازگاری اور مکمل مطابقت برقرار ہے۔(16)

18. جيمز مٹشز  کہتے ہیں:شاید دنیا میں کسی بھی کتاب سے زیادہ قرآن کے قاری ہیں(یعنی سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں) اور حتمی طور پر حفظ کے لئے یہ ہر کتاب کی بنسبت آسان ہے اور دلوں پر اس کی تأثیر سب سے زیادہ ہے۔ اس کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے سننے سے دل خاشع ہوتا ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔(۱۷)

 مذکورہ شخصیات کے علاوہ دوسرے دانشور،شعراء اور ادباء بھی ہیں جیسے: «وديع بستاني»، «خليل مطران»، «شبلي ملاط»، «سابازاريق» (شاعر فيحاء)، «حليم دموس»، «تولستوي» (روسی)، «ميس كوك»( امریکی) ، «كارلايل»(برطانوی)، «ولز» ، «مونتيه» (فرانسو)۔نیز یورپ، ایشیا اور امریکہ کے کئی دوسرے بڑے دانشور کہ  یہاں ہم ان کے اسماء کی فہرست کو ذکر کرنے سے بھی قاصر ہیں اور جنہوں نے قرآن کی عظمت اور اس کے اعجاز کا اعتراف کیا ہے۔ اہل علم میں سے ایک شخص نے اس موضوع کے متعلق ضخیم کتاب تألیف کی ہے جس میں انہوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہر قوم و ملت، ہر ملک ، ہر زبان کے دانشوروں کے اقوال انہی کی زبان اور خط میں جمع کئے ہیں اور انہوں نے انہی دانشوروں کی زبان و قلم سے اسلام کی کرامت، جامعیت اور اس دین حنیف کے امتیازات و افتخارات کی وضاحت اور تشریح کی ہے۔

حوالہ جات:

[1]. المعجزة الخالده، علاّمه شهرستاني، ص 12، مؤلّف نے یہ كتاب مرحوم آيت الله العظمي بروجردي ‎قدس‎سرّه کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی ہے. اختصار کے طور پر بھی اس کتاب کا مطالعہ قارئین کے لئے مفید ہے؛ اگر تم اپنی طرح کے سب لوگوں پر علم و ادب اور فن سخن(مثلاً نامہ نگاری اور ہر قسم کا خلق سخن)کے لحاظ سے برتری حاصل کرنا  چاہتے ہو تو قرآن اور نہج البلاغہ حفظ کرو۔

2. ایضاً، ص26.     

3. ایضاً ، ص26.

4. ایضاً ، ص26.                 

5. ایضاً ، ص27.         

6. ایضاً ، ص27.       

7. ایضاً ، ص27.       

۸. ایضاً ، ص27.                 

9. الاسلام والعلم الحديث ، ص 69.                

10. المعجزة الخالده، ص28.            

11. ایضاً ، ص 29.    

12. ایضاً ، ص 30.           

13. الاسلام و العلم الحديث، ص 69.            

14. محمّد رسولا نبيّاً، ص 89.          

۱۵. القرآن والمجتمع الحديث، ص 29.          

16. الاسلام والعلم الحديث، ص 69.                      

۱۷. ایضاً ، ص 70.

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها