بسم الله الرحمن الرحيم سلام بر ماه مبارک رجب، سلام بر رجبيّون، سلام و تحيّات و غفران و رحمت الهي بر روزه داران این ماه، سلام بر عزيزاني که نداي «اين الرجبيّون» را لبيّک گفته، و بر سر سفره رحمت خداوند متعال نشسته و از نعمت‌هاي بيکران آن...
جمعه: 1399/12/8 - (الجمعة:14/رجب/1442)

ایّام فاطمیہ علیہا السلام کی آمد کی مناسبت سے مرجع عالیقدر حضرت آیة‌ الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کا پیغام

بسم الله الرّحمن الرّحیم

»اللهم صلّ و سلّم علی الصدیقة الشهیدة الرّضیة المرضیة الحوراء الانسیة المظلومة المغصوبة فاطمة الزهراء سیدة نساء العالمین. «

 

دنیائے انسانیت  کی عظیم خاتون صدیقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے ہم ان کے غم دیدہ و سوگوار فرزند اور پاک خون کے منتقم حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

بعض محبان فاطمی نے اس ناتواں حقیر سے درخواست کی کہ میں مجالس و مراسم فاطمیہ کے انعقاد اور ایّام فاطمیہ کے دوران عزاداری برپا کرنے کے سلسلہ  میں کچھ عرض کروں ۔ حقیر (ان کے  حکم کی) اطاعت کرتے ہوئے چند جملے عرض کرتا ہے :

حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی نورانی و آسمانی شخصیت کا تعارف صرف فاطمہ کا خدا ، فاطمہ  کے پدر بزرگوار ، فاطمہ کے بلند مرتبہ شوہر اور فاطمہ کے عزیز فرزند صلوات اللہ علیہم اجمعین ہی کروا سکتے ہیں ۔ خداوند متعال نے قرآن کریم کی آیۂ شریفۂ مباهله، ، آیهٔ تطهیر ، سورهٔ مبارکه انسان (سورۂ دھر) اور سورهٔ کوثر کی مبارک آیات میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے عزیز فرد ، پاک اسوۂ اور  انسانی فضائل و مکارم اخلاق کے لحاظ سے صاحب عصمت اور نمونہ شخصیت قرار دیا ہے ۔

ماہ جمادی ؛ تاریخ کے ایک غم انگیز ترین واقعہ کی یاد دلاتا ہے کہ جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی ۔ اگر ہم اس عظیم مصیبت کے غم و حزن کو بیان کریں تو ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ آسمان و زمین ، ستاروں اور کہکشاؤں میں اس عظیم مصیبت کو سننے  اور دیکھنے کی طاقت نہیں ہے ،۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام جیسی  کوہ صبر و استقامت ذات ، اور روئے زمین کی شجاع ترین شخصیت اس مصیبتِ عظمی پر ایسے غمزدہ اور داغدار ہوئی  کہ آپ اپنی زوجہ کی شہادت  کا سن کر بے ہوش گئے اور پھر فرمایا :

نفسی علی زفراتها محبوسة

یا لیتها خرجت مع الزَّفرات

لا خیر بعدک فی الحیاة و إنّما

أبکی مخافة أن تطول حیاتی

اگر آج شیعہ اور محبان اہل بیت علیہم السلام حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے عزاداری برپا کر رہے ہیں اور احترام و عقیدت اور  اخلاص کا اظہار کر رہے ہیں تو اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ دنیا والوں کے لئے تاریخ بیان کریں ، حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام للہ علیہا کے فضائل و مناقب کا کوئی ایک گوشہ بیان کریں ، اور  خدا شناس و حریت پسند انسانوں کو خطبۂ فدکیہ کے عظیم اور بزرگ الٰہی معارف سے روشناس کرائیں ۔

آج شیعہ اور محبان حضرت زہراء سلام اللہ علیہا حفظان صحت کے اصولوں (s'SOP) کی رعایت کرتے ہوئے عزاداری کا انعقاد کرنا ،  دنیا والوں کو مجالس فاطمی  کی عظمت دکھاتے ہوئے ولایت و امامت کے عظیم مقام کا دفاع کرنا ، اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی پیروی کرنا اپنے لئے افتخار سمجھتے ہیں ۔  حضرات معصومین علیہم السلام اور بالخصوص حضرت زہراء مرضیہ سلام اللہ علیہا سے توسل اور حدیث شریف کساء و دعائے توسل پڑھ کر خدواند متعال سے دعا کریں کہ خدا حضرت ولی عصر روحی و ارواح العالمین له الفداء کے ظہور اور فرج موفور السرور کو نزدیک فرمائے اور ان انوار مقدسہ کے وسیلہ سے مشکلات ، پریشانیوں اور بیماریوں کو برطرف فرمائے ۔  و السلام علیکم و رحمة‌الله و برکاته

10  /  جمادی الاولی سنہ 1442 ہجری

لطف الله صافی

 

 

فاطمه (علیهاالسلام)،اصل کے عین مطابق نسخہ
(ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات)

 

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟

فاطمه عليهاالسلام  اہلبيت کی وہ فرد ہیں کہ جن کے لئے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا ہے ، رسول خدا صلوات الله عليه وآله نے فرمایا ہے: «لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(۱) اور حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے: «فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(۲) یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(۳) دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے: «لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(۴).انسان بالکل یہ سمجھ نہیں سکتا کہ خداوند عالم کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں: تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور تمام کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(۵)

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اہلبيت عليهم السلام کے طفیل و تصدق سے ہے۔ان کے علاوہ  دوسروں کے کہے ہوئے پر جب انسان غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی منبع سے متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ہر چیز مكتب اہلبيت عليهم السلام میں موجود ہے چونکہ پيغمبر صلي الله عليه و آله نے فرمایا ہے: «إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» یعنی ہر چیز اہلبيت سے اخذ کرو اور ان کے علاوہ کسی اور سے نہ لو۔

 رسول اکرم صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ ان سے پیچھے رہو ، اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گےنیز آپ نے فرمایا: «لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں مت سکھاؤ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ وہ تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں.

اب اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مرکز و محور رکھتی ہیں ۔آپ ملاحظہ کریں کہ جب اہلبيت عليهم السلام کا تعارف کروایا جا رہا ہے تو انہیں مرکزیت حاصل ہے: «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(۶)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے معنی میں  مقام امامت پر فائز تھیں  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا : «إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا» اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں: «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(۷) اگرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضِبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(۸) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:
«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(۹) اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے:

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ جو سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیںکہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے فرمودات و ارشادات اور بالخصوص آپ کے معجزات میں سے وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہونے چاہئیں ۔ آپ  نے  عورت کی کرامت اور اس کے حقیقی مقام کو دنیا والوں تک پہنچاتے ہوئے فرمایا : بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں ۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد اور جہالت و گمراہی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہے  اور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔ اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

منابع:
۱. عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج۱، ب۲۶، ح۲۲.

۲. نهج البلاغة، نامه۲۸.

۳. الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص۷۱۰.

۴. بحار الانوار؛ ج۱۵، ب۱، ح۴۸.

۵. بحار الانوار؛ ج۶۸، ب۶۱، ح۱.

۶. عوالم العلوم، ص۹۳۳.

۷. نهج البلاغة، خ۲۳۳.

۸. صحيفه امام رضا عليه السلام، ص۴۵،ح۲۲.

۹. البرهان متقي هندي، ص۹۴.

ایّام فاطمیہ میں مجالس عزاء کا انعقاد

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليك يا بنت رسول الله ،  السلام عليك يا سيدة نساء العالمين. اللّهمّ صلّ علی السّيدة الزکية فاطمة الوليّة، اللّهمّ صلّ عليها و أبيها و بعلها و بنيها وا ُمّها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين.

﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾.[۱]

سب سے پہلے ہم حضرت صديقهٔ کبري فاطمۀ زهراء سلام الله علیها و علي أبيها و بعلها و بنيها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين کی شہادت کی مناسبت سے آپ تمام محترم بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

اور امید کرتے ہیں کہ ہم سب حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا سے توسل کی برکات سے بہرہ مند ہو کر  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی رضائیت حاصل کر سکیں ۔ نیز ہم گفتار و رفتار اور قول و عمل سے مذہب و معارف اہلبیت علیہم السلام کی ترویج اور عزت کا باعث بنیں ۔

حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجالس عزاء بہت اہمیت کی حامل ہیں ۔ یہ مجالس امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل کو شاد کرنے اور آپ کی رضائیت کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ ان کے ذریعے آپ اسلام اور تشیع کی عزت کے اسباب فراہم کرتے ہیں ۔ مذہب تشیع اور دین اسلام کی بقاء حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے وجود کے وسیلہ سے ہے ۔

’’حضرت زہراء سلام اللہ علیہا السلام کی شخصیت‘‘ ؛ اس موضوع کے بہت وسیع پہلو ہیں اور اس بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے ، پھر بھی بحث کبھی اختتام پذیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ وہ ذات ہے کہ جس کی معرفت و شناخت کے لئے اس کے مشہور و معروف خطبے پر غور و فکر کرنا ہی  کافی ہے ( البتہ یہ بھی ہماری عقل و فہم کے مطابق ہے ، ورنہ ہم اس عظیم خطبے کے اہم مطالب و مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ۔ مجھ جیسا شخص اور مجھ سے بلند پایہ اور بالا تر حضرات اُس طرح سے اس خطبے کے عمق تک نہیں پہنچ سکتے کہ جس طرح اس کے عمق تک پہنچنے کا حق ہے )۔

بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا خطبہ عظیم معجزات میں سے ہے ۔ اس معجزہ کا مادی اور حسّی و ظاہری معجزات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ؛ جیسے مردوں کو زندہ کرنا ۔ ان بہت سخت اور دشوار حالات میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں جا کر اعلیٰ مطالب و مضامین پر مشتمل بالبدیہہ ایسا عظیم خطبہ دینا اہلبیت علیہم السلام کے معجزات میں سے ہے ۔

اس خطبہ کے ضمن میں حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا ایک جملے میں گلہ و شکوہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

«مَا هَذِهِ الْغَمِيزَةُ فِي حَقِّي» ؛  [۲]

«میرے حق میں تمہارا یہ ضعف کیسا ہے؟» ۔

حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا کا اب  بھی یہی شکوہ ہے ۔ اب بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی تمام مسلمانوں سے یہی کہہ رہی ہے کہ مسلمان ؛ قرآن مجید ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام ، حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، نافذ نہ ہونے والے اسلامی احکام ، حجاب ، عفت ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے بارے میں کیوں کمزوری دکھاتے ہیں ؟ اب بھی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی بیٹی حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی یہی فریاد ہے کہ تم دین کی مدد و نصرت کرنے میں کیوں سستی کا مظاہرہ کرتے  ہو ؟ (یعنی تم دین کو کیوں اہمیت نہیں دیتے ؟) ۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے اور اپنی ذات کے لئے فکر مند نہیں تھیں ؛ خدا جانتا ہے کہ حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور آج کے دور  میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو صرف دین اور احکام دین کی فکر ہے کہ آخر دین کے احکام کیوں نافذ نہیں ہوتے ۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی یہی فرماتی تھیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف بھی یہی فرماتے ہیں ۔ جب احکام دین میں سے کسی کو پامال کیا جاتا ہے تو خدا جانتا  ہے کہ یہ کس قدر پریشان ، محزون اور غمگین ہوتے ہیں ۔ آئیں ! اور فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ  تعالی فرجہ الشریف کے دل کی پریشانی کو کم کریں ۔

میں آپ سب کی توفیقات کے لئے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ سب کی خدمات اور زحمات بارگاہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف میں مقبول ہوں   اور وقت کے امام خود آپ کے لئے دعا کریں اور آپ کے لئے توفیقات طلب کریں ۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کروں ، کیونکہ ان مجالس وعزادری  اور فرش عزاء کے صاحب خود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں  ۔ ان مجالس سے امام راضی و خوشنود ہوتے ہیں اور ان کے دل سے حزن کم ہوتا ہے ۔ جو کوئی بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل سے یہ پریشانی اور غم و اندوہ کم کرے وہ خدا کا ولی اور دوست ہے ۔

یہ مجالس شعائر دين ہیں اور تقوائے قلب کی نشانی ہیں :

﴿ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‏﴾.[۳]

اپنی قدر و اہمیت کو پہچانیں ۔ انسان کے دل میں وارد ہونے والے یہ الہامات اور توجہات بے مقصد نہیں ہیں ؛ بلکہ ان کا تعلق عالم غیب سے ہے ، ان کا تعلق دلوں میں حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے تصرفات  سے ہے ۔ اور ان کے ذریعے سے آپ کی اہلببیت اطہار علیہم السلام سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔

ان مجالس کا انعقاد کرنے والے اور ان میں شرکت کرنے والے لائق تحسین ہیں اور ہم ان کے شکرگذار ہیں ۔

آج فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی رضائیت کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ آج اس طرح سے عمل کریں کہ وقت کے امام ہم سے راضی و خوشنود ہو جائیں اور یہ فرمائیں کہ میرے شیعہ کتنے اچھے ہیں ، میرے دوست کس قدر اچھے ہیں ۔ خداوند متعال ہم سب کو یہ توفیق عنائت فرمائے اور ہم سب کے گذشتگان پر رحمت فرمائے اور آپ کو آپ کی ان خدمات کا احسن اجر عطا فرمائے ۔

والسلام عليکم ورحمة الله وبرکاته

حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے پیغامات سے اقتباس

 

 


[1]. سورۂ حج  ، آیت : ١٥٨ ۔ «یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے  گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہو گی » ۔

[۲]. طبری امامی، دلائل الامامه، ص120؛ ابن‌شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج2، ص50؛ طبرسی، الاحتجاج، ج1، ص139؛ مجلسی، بحار الانوار، ج29، ص227 ۔

[۳]. سورۂ حج ، آیت : ٣٢ ۔

فاطميه ؛ باطل پر حق کی فتح
ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا تعلق اس اہلبیت عصمت و طہارت سے ہے کہ جن کے وجود کی وجہ سے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(1)

یعنی اگر ہم نہ ہوتے تو خداوند متعال نہ تو آدم کو خلق  کرتا اور نہ حوا کو، نہ تو جنت کو خلق کرتا اور نہ جہنم کو، نہ تو آسمان کو خلق  کرتا اور نہ زمین کو۔
حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے:

«فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(2)

یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(3) (میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیاہے)

اور دوسری حدیث میں فرمایا:«لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(4). (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا)

انسان بالکل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خداوند متعال کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں کہ میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور پوری کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا ؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(5)

یعنی ہم نے تمہیں اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تمہاری معرفت کا حق تھا۔

یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہ جاؤن کیونکہ اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے. نیز آپ نے فرمایا:«لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں کوئی چیز تعلیم نہ دو ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ یہ تم سب لوگوں سے اعلم ہیں.

اب اہلبيت عصمت و طہارت عليہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله عليہا کے درمیان ایک خاص محوریت ہے؛ ملاحظہ فرمائیں کہ جب اہلبیت علیہم السلام کا تعارف کروایا تو سیدۂ دو عالم جناب زہراء سلام اللہ علیہا مرکزیت کی حامل ہیں «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(6)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے لحاظ سے مقام امامت پر فائز  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا :«إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا»  اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں:

 «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(7) گرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضَبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(8) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:

«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(9)

اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ اس کا مؤلف سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته.»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے کلمات اور بالخصوص آپ کا وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ لوگوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہیں اور آنحضرت نے دنیا تک عورت کی کرامت اور حقیقی مقام پہنچایا اور فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد،جہالت و گمراہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہےاور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔

 اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

حوالہ جات:
۱۔ عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج1، ب26، ح22.
۲۔ نهج البلاغة، نامه28.
۳۔ الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص710.
۴۔ بحار الانوار؛ ج15،ب1، ح48.

۵۔ بحار الانوار؛ج68،ب61، ح1.
۶۔ عوالم العلوم، ص933.
۷۔ نهج البلاغة، خ233.
۸۔ صحيفه امام رضا عليه السلام، ص45،ح22.
۹۔ البرهان متقي هندی، ص94.

ملکۂ صبر و شجاعت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کی ایک تحریر

 

زینب؛ جی ہاں زینب، چار حروف پر مشتمل ایک اسم،لیکن یہ انسانیت کے ان تمام فضائل اور اقدار کا مجموعہ ہے جو خداوند کریم نے سورۂ احزاب کی پینتیسویں آیت میں عورتوں اور مردوں کے لئے شمار کئے ہیں۔

یہ ذات ایمان، علم و معرفت،صبر و صداقت اور استقامت و شجاعت کا اسوہ و نمونہ ہے، اور یہ وہ خاتون ہے جو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زبان اور مکارم اخلاق کے لحاظ سے اپنی ماں جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی اوصاف کی حامل ہے۔ اس ہستی پر صرف مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ پوری امت اسلام(چاہے خواتین ہوں یا مرد) نازاں ہے۔

اس ہستی کی سیرت،حجاب، عصمت و عفّت، عبادت اور عظمت و بزرگی سب افتخارانگیز ہیں۔ آپ بلند مرتبہ اور اعلیٰ منزلت پر فائز ہیں اور آپ نے ہمیشہ اسلام کی حمایت اور دینی اقدار کا دفاع کیا۔ نیز آپ نے تاریخ کے مستکبرین کی حکومت پاش پاش کر دیا اور اس طرح سے زمانے کے مستکبرین کا سر کچل دیا کہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا کوڑا دان بنی امیہ کا مقدر بن گیا ، اور انہیں دنیا کی نظروں میں نفرت انگیز اور تمام حریت پسندوں کی نظر میں لعنت و نفرت کا مستحق قرار دے دیا۔

حق یہ ہے کہ اس ذات اقدس نے اسلام کی عظمت، بنی ہاشم کی شان و شوکت اور افتخارات، اپنے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید کی پاسداری کی، اسلام و قرآن اور دین و توحید سب اس ہستی کے شکرگذار ہیں۔ اگر یہ ذات نہ ہوتی تو تاریخ کس طرح اوراق میں ثبت ہوتی، اس چیز کا تصور بھی بہت وحشت انگیز اور خوفناک ہے۔

دور حاضر میں مرد اور خواتین سب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مکتب سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ اس عظیم الشأن خاتون نے اپنے جاہ و جلال سے شجاعانہ طور پر اسلام اور قرآن کا دفاع کیا اور باطل، ظلم، الحاد، استبداد اور جبر و ستم کو سرنگوں کیا اور حق کے پرچم کو سربلند کیا۔ آج دنیا آپ کی حیات اور سیرت سے درس لینے کی محتاج ہے۔

امید ہے کہ آج کی مسلمان خواتین حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں اور اپنے تمام دینی ع شرعی امور میں اسلام کی اس عظیم خاتون سے درس لیں اور  دنیا کے سامنے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اور اسوہ پر افتخار کرتے ہوئے اس ہستی  کے ولائی اور معنوی پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ اور ہم آخر میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شان میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

يكشنبه / 30 آذر / 1399
انسانیت کے عظیم رہبر و پیشوا کے سوگ میں
گفتاری از مرجع عالیقدر به مناسبت شهادت پیامبر گرامی اسلام(ص)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاتہ کے بیانات سے اقتباس

رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بابرکت و مقدس وجود تمام انسانی عظمتوں اور ایک بے مثال انسان کی تمام کرامتوں کا مجموعہ ہے ، لہذا کسی ایک جلسہ ، مقالہ یا کتاب میں آپ  کی ان عظمتوں کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے ۔اگر انبیاء علیہم السلام کو ان کے بلند مقام ومرتبہ کے لئے «قهرمان» کا لقب دینا درست ہو تو آنحضرت کو تمام انبیاء میں یگانہ قہرمان کہنا چاہئے ، جیسا کہ مشہور دانشور «توماس کارلایل» نے کہا ہے : تمام پیغمبروں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یگانہ قہرمان ہیں ۔ نیز آپ کو تمام عظمتوں میں بے مثل و بے مثال اور بے نظیر دلاور و قہرمان کہنا چاہئے ، اور ان تمام عظمتوں میں سب سے اہم رسالت و دعوت کی عظمت  ہے ۔

انسانی تاریخ میں سماجی و معاشرتی اصلاحات کے لئے دعوت دینے والوں ، یا بنیادی انقلابات کے لئے قیام کرنے والوں میں سے کسی کی دعوت بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت سے اعلیٰ ، اور کسی کی رسالت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت سے زیادہ جامع اور انقلابی نہیں ہے ۔

* توحید؛ مسلمانوں کے لئے تاج افتخار

پیغمبر اعظم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کی عظمت کی بنیاد ؛ توحید و وحدنیت کی دعوت ہے کہ جس کا کلمۂ طیبہ «لا اله الّا الله» میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے ؛ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس سے اہم ، آزادی بخش ، واضح و روشن اور نجات دینے والا کوئی اور کلمہ نہیں ہے ، ایسا کلمہ ہے جس میں تمام برابری و برادری  مخفی ہے، اور جس میں تمام بیہودہ و فرسودہ امتیازات کا خاتمہ پوشیدہ ہے ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جس کے بارے مشہور فرانسوی دانشور گوستاولوبون نے اپنی کتاب «تمدّن اسلام و عرب» میں کہا ہے : «تمام ادیان و مذاہب میں ایک تاج افتخار ہے جو صرف اور صرف اسلام کے سر پر رکھا جا سکتا ہے » ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو استثمار و استضعاف کومحکوم کرتا ہے ، ایک ایسا کلمہ جو انسانوں کی آزادی اور انسانوں کے حقوق کا اعلان کرتا ہے ، اور یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے سامنے تمام منصف مزاج دانشوروں نے سر تعظیم خم کیا ، اور جس نے تمام قومی و قبیلائی امتیازات کا قلع قمع کیا ہے ۔

جی ہاں ! حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت ؛ عدل و احسان اور نیکی کی دعوت ہے ، جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : «إِنَّ اللهَ یأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» اور اس کی حقیقت مکارم اخلاق ، محاسن آداب اور نیک و پسندیدہ اسلوب کو زندہ کرنا ہے کہ جس کے بارے میں فرمایا گیا : «بُعِثْتُ‏ لِأُتَمِّمَ‏ مَکَارِمَ‏ الْأَخْلَاق» ۔

رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اچھائیوں ، نیکیوں اور خوبیوں کے پیغمبر ہیں ، آپ شرافت و انسانیت کا عظیم نمونہ اور اسوہ ہیں ، اور آپ نے ہی لوگوں کو محبت و الفت ، بھائی چارے ، مساوات اور نیک عمل کی دعوت دی ، آپ نے ہی لوگوں کو حق کی تاکید ہے کی اور انہیں حق اور سچ کہنے ، زاہدانہ رفتار میں صداقت ، دوسروں کے ساتھ تواضع و انکساری  اور فروتنی کے ساتھ پیش آنے کی دعوت دی  ، جب کہ غرور و تکبیر اور فخر و مباہات کی مخالفت کی ۔   اور آخر کار یہی کہنا چاہئے کہ وہ نبی رحمت اور رحمۃ للعالمین ہیں ۔ افسوس صد اسوس کہ آج اس نورانی چہرے کو کچھ جاہل اور خود غرض افراد (جو پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوسوں دور ہیں )خشن ، تند اور بد اخلاق چہرے کے طور پر پیش کرکے اسلام و قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ظلم و ستم اور جفا کر رہے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں ہم پر بہت اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دنیا والوں کو اسلام کے نجات بخش آئین کی طرف توجہ دلائیں کہ جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : «الصُّلْحُ خَیرٌ» ۔ اسلام صلح کا دین ہے ؛ جو تمام دنیا کے لئے خیر خواہ اور مطمئن راہ کی جستجو میں تمام انسانوں کے لئے صحیح رہبر ہے  ۔ دین مبین اسلام کی حقیقت پیغمبر عالی مقام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرمودات میں بیان ہوئی ہے ۔

* اخلاق کے عظیم معلم

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نیک سیرت نے اپنوں اور بیگانوں میں سے ہر کسی کو اپنا عاشق بنا دیا ۔ آپ مخلوق خدا کی سعادت کے طلبگار اور خیر خواہ تھے ، لہذا آپ خیر و سعادت کی طرف ان کی ہدایت کرنے کے لئے ایک مہربان باپ سے بھی زیادہ کوشش کرتے تھے ۔

جو لوگ آپ کی روش و اسلوب ، گھر اور گھر سے باہر آپ کے طرز زندگی سے آگاہ تھے ؛ ان کے دل آپ پر ایمان اور آپ کی محبت و الفت سے سرشار تھے ،اور وہ لوگ آپ سے تبرک پاتے تھے ۔ آپ قرابتداروں ، اہل خانہ ، جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور مردوں کے ساتھ حسن سلوک  کے ساتھ انتہائی صداقت ، تواضع اور اخلاق سے پیش آتے تھے ۔

آپ  کے لبوں پر ہمیشہ تبسم رہنا تھا ، آپ کی نرم مزاجی اور غیر معمولی تحمل و بردباری کا یہ عالم تھا کہ کچھ لوگ آپ سے گستاخی کر دیتے تو آپ درگزر فرماتے ، آپ خود ہی اپنے سے دور ہونے والوں اور قطع تعلق کرنے والوں سے رابطہ استورا کرتے ، اور آپ پر ظلم و ستم کرنے والوں کو بخش دیتے ، اور تکلیف پہنچانے والوں کو نوازتے ، اپنے اصحاب حتی منافقین کی بھی دلجوئی کرتے تھے اور ان کے تقاضوں کو قبول  کر لیتے تھے ، ان سے ان کے حال و احوال اور مشکلات کے بارے میں پوچھتے تھے  اور ان کی غم خواری کرتے تھے ۔ آپ جب کبھی کوئی تلخ بات سنتے یا کسی کے گستاخانہ رویہ کو دیکھتے تو اسے ان دیکھا اور ان سنا کر دیتے ۔ برائی کا جواب نیکی سے دیتے ۔آپ کے قریبی ، آپ سے دور ، منافقین اور آپ کے دشمن سب ہی آپ کے اخلاق کے گرویدہ تھے ۔

آپ کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ اس بارے میں آپ خود فرماتے ہیں : «أدَّبني ربّي فأحسن تأديبي» ، لہذا آپ خداوند متعال کی جانب سے قرآن مجید میں آپ کی مدح و ستائش کے مستحق تھے  اور اس بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے : «إنَّك لَعلي خلق عظيم» ۔اکثر لوگ آپ کو اپنے ماں باپ ، بھائی اور ہمسر سے زیادہ چاہتے تھے ۔

جب جنگ احد میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کی خبر مدینہ میں لائی گئی تو جن والدین کے عزیز بیٹے ، جن عورتوں کے شوہر ، اور جن بچوں کے والد اور دوسرے عزیز و رشتہ دار شہید ہو گئے تھے ؛ ان کی صرف ایک ہی آرزو تھی کہ وہ ایک مرتبہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندہ زیارت کر لیں  ، لہذا  وہ کہہ رہے تھے : «كل مصيبة بعدك جلل» ۔

* سماج کا سب سے عظیم فکری انقلاب

تاریخ کے عظیم انقلابات کے رہبروں میں سے کوئی  بھی ایسا رہبر نہیں ہے جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح بہت ہی کم مدت میں اس طرح کا فکری و عملی اور سماجی انقلاب برپا کر دیا ہو ۔ اس بارے میں منفلوطی کہتے ہیں : « ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم کہ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں ، آپ کا ہم پر بہت بڑا احسان اور بہت سے حقوق ہیں ، آپ نے ہمیں بری عادتوں کی زنجیروں سے نجات دی کہ جس میں ہم نے خود کو جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں اپنی سات سالہ بیٹی کا واقعہ بیان کیا جسے اس نے زندہ درگور کر دیا تھا ، اور پھر اس نے عرض کیا : مجھے وہ لمحہ نہیں بھولتا جب میں اپنی خوبصورت اور شیریں زبان بیٹی کو زندہ درگور کر رہا تھا اور اس پر مٹی ڈال رہا تھا تو وہ میرا دامن پکڑ کر مجھ سے التماس کر رہی تھے اور کہہ رہی تھی : بابا ! آپ مجھ سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں ؟ لیکن وہ اپنی تمام تر آہ و زاری اور التماس کے باجود بھی مجھے میرے اس ظلم اور جرم سے نہ روک سکی اور میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی سات سالہ شیریں زبان بیٹی کو زندہ در گور کر دیا ۔ یا رسول اللہ! آپ  نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں اس پلید اور غیر انسانی عادت سے نجات دی »۔

تولستوی کا بیان ہے کہ : «اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (تاریخ کی ) عظیم شخصیات میں سے ہیں ؛ جنہوں نے سماج  کی لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ ان کے فخر و افتخار کے لئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے ایک امت کی نور حق کی طرف ہدایت کی ، اور انہیں خونریزی ، قتل و غارت ، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے اور انسانوں کی قربانی کرنے سے منع کیا اور انہیں ان کی طرح احترام و اکرام کا مستحق بنا دیا » ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دنیا سے جانے سے پہلے ہی جزیرۃ العرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا اور بتوں کا نام و نشان بھی مٹ گیا تھا ، خداپرستی ، نماز ، روزہ ، زکات اور اسلام کے دوسرے فرائض عملی طور پر انجام دیئے جا رہے تھے ، سود خوری کا خاتمہ ہو گیا تھا ، وہاں شراب نوشی بہت زیادہ رائج تھی لیکن شراب خوری کی حرمت کی آیت نازل ہوتے ہی شراب کو ترک کر دیا گیا اور پھر کوئی ایک شخص بی شراب کو منہ نہیں لگاتا تھا اور کہیں سے شراب کا ایک قطرہ بھی نہیں ملتا تھا ۔ جس دن شراب کی حرمت کا اعلان ہوا تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے شراب کو بہا دیا تھا ۔ جوّا اور قمار بازی ختم ہو گئی تھی ۔ عورتوں اور بیٹیوں کو عزت میسر آئی تھی اور انہیں بھی ایک انسانوں کے حقیقی حقوق مل رہے تھے ۔ غلاموں کو بھی انسانی احترام ملا تھا اور انہیں ظلم و ستم اور تحمیلات سے نجات مل گئی تھی ، اور ان کی آزاری کے منشور پر تیزی سے عمل ہونا شروع ہو گیا تھا ، تجارتی معاملات صحیح بنیادوں پر قائم ہو رہے تھے ۔ بے عفتی ، ناپاکی ، زنا ، عورتوں کی دوستی اور دوسرے برے کاموں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔ تکبر و استبداد؛ ننگ و عار بن گیا اور تواضع و انکساری کو افتخار مانا جانے لگا ۔ ارث کے قوانین و مقررات ، ازدواج ، طلاق ، جہاد ، صلح ، وصیت ، ہبہ ، رہن ، مزارعہ ، مساقات ، احیاء موات ، قضاء اور شہادات وغیرہ کے قوانین نافذ ہوئے ، اور اب یتیموں کے مالی حقوق پامال نہیں ہوتے تھے ، پھر عورتوں کی مرد کے متروکات میں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،اب مکرر اور نامحدودطلاقوں اور پے در پے رجوع کرنے سے وہ بلاتکلیف اور سرگرداں نہیں تھیں ،  اسلام  کے انسانی سماج میں  فقراء بھی اغنیاء کی صف میں قرار پائے ، بلکہ انہیں ان کی صلاحیت اور لیاقت کی بناء پر اغنیاء پر بھی سربراہی و قیادت ملی ۔

سماج اور معاشرے کی بنیادی اصلاحات ، بے توقف انقلاب ، اور اسلام کے ہر زمان و مکان میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت کی شرح بہت مفصل ہے  اور حق یہ ہے کہ تاریخ میں اصلاح کرنے اور انقلاب برپا کرنے والی شخصیات میں سے کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جسے اس مختصر مدت کے ودران ان تمام مادی و معنوی ، روحانی وجسمانی اور انفرادی و اجتماعی شعبوں  میں اس قدر کامیابی ملی ہو ۔

* تمام زهّاد کے لئے اسوہ و نمونہ

پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام زاہدوں کے لئے یگانہ اسوہ و نمونہ  ہیں ۔ آپ کے زہد کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب آپ ظاہری قدرت اور مادی قدرت کی اوج پر فائز تھے تو اس وقت بھی آپ اپنی نعلین کو اپنے ہاتھوں سے گانٹھتے تھے ، اپنے لباس کو خود سلائی کرتے تھے ، دنیا کے تجملات سے پرہیز کرتے تھے ، اور اگر آپ کو دنیا کے زیوارات میں سے  کوئی زیور دکھائی دیتا تو آپ فرماتے تھے : ’’ اسے میرے نظروں سے دور کر دو ، کہیں میں اسے دیکھ کر دنیا کی یاد میں مشغول نہ ہو جاؤں ‘‘ ۔

اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ کئی کئی دن ، بلکہ مہینہ گزر جاتا تھا لیکن آپ کے گھر میں کوئی کھانا نہیں پکتا تھا ، آپ فقراء اور ضرورت مندوں کو خود پر اور اپنی عزیز بیٹی فاطمہ علیہا السلام اور حسن و حسین علیہما السلام پر مقدم فرماتے تھے ۔

اس زمانے میں سب سے زیادہ محروم  طبقہ غلاموں کا تھا جن کی حالت انتہائی افسوسناک تھی اور جو سب کمزور اور مستضعف تھے اور انہیں سماج کا انتہائی پست طبقہ سمجھا جاتا تھا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی رسالت و دعوت کو ان کی مدد ، آزادی اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے قرار دیا ، اور قرآن مجید میں ان کے بارے میں مؤٔکد تاکیدات و سفارشات ذکر ہوئی ہیں ، اور ان کی آزادی کے  لئے آئین و منشور مقرر کیا گیا ہے ۔ آپ کی خوراک و لباس اور نشت و برخاست غلاموں کی طرح تھی ، آپ کی غذا غلاموں سے زیادہ اور لذیذ تر نہیں ہوتی تھی ، آپ کا لباس ان کے لباس سے بہتر نہیں ہوتا تھا ، آپ انہیں کی طرح بیٹھتے تھے ، پیسے اوردرہم جمع نہیں کرتے تھے ، آپ اس قدر  حصیر پر بیٹھے تھے کہ آپ  کے جسم مطہر پر اس کے اثرات نمایاں ہو گئے تھے ۔ 

دوسرے پیغمبر جیسے حضرت عیسی بن مریم علی نبیّنا و آله و علیه السلام بھی زاہد تھے لیکن حضرت عیسی مسیح علیہ السلام اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان یہ فرق ہے کہ عیسی علیہ السلام کے پاس مال اور مقام نہیں تھا ، لیکن پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس رسالت پر مبعوث ہونے سے پہلے اور بعثت کے آغاز میں ہی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دولت تھی ، اور زندگی کے آخری سالوں میں پورا شبہ جزیرۃ العرب آپ کے اختیار میں تھا لیکن اس کے باوجود آپ دنیا سے زاہد و بے اعتناء تھے ، آپ کو بھوک کی عادت تھی اور آپ اکثر اوقات روزہ رکھتے تھے۔

* یگانه معلّم مساوات و برابری

پیغمبر عظیم الشأن اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مساوات اور برابری کے یگانہ معلم تھے ؛ آپ لوگوں کو وحی الٰہی اور قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بھی انسانوں میں مساوات اور برابری کی تعلیم دیتے تھے ۔ آپ  کی  مجلس میں اوپر یا نیچے بیٹھے کا کوئی تصور نہیں تھا ، یعنی رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آپ اور آپ کے اصحاب کے بیٹھنے کے درمیان لحاظ سے نہیں پہچانا جا سکتا تھا ، اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ جو سب سے آگے بیٹھا ہے ، یا صدر محفل ہے ؛ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں ، یا یہ کہ غنی ، صاحب مقام و منصب اور طاقتور ہی آپ کے پاس بیٹھیں ۔ آج کی اس (نام نہاد) متمدن دنیا میں ان باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس اور تربیتی مکتب میں ان کا  کوئی وجود نہیں تھا ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں فقیر و غنی ، شاہ و گدا سب یکساں تھے ۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس سواریاں ، گھوڑے اور اونٹ بہت کم تھے ، اور افراد کی تعداد کے برابر بھی سواریاں موجود نہیں تھیں ، سواریوں کو افراد کے درمیان متعادل طور پر تقسیم کیا گیا ، اور ہر دو یا تین افراد کو ایک سواری ملی تا کہ وہ باری باری سواری پر سوار ہوں اور دوسرے پیدل چلیں ، اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دوسرے دو افراد کو ایک سواری میسر آئی کہ جن میں ایک علی علیہ السلام تھے ، اور جب بھی لشکر کے سربراہ اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چلنے کی باری آتی تو امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور وہ دوسرا شخص آپ کی خدمت میں عرض کرتے : یا رسول اللہ ! آپ سواری پر سوار رہیں ، اور پیدل نہ چلیں ، ہم پیدل چلتے ہوئے آئیں گے ۔ لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ قبول نہیں کرتے تھے اور سواری سے اتر کر پدل چلنے لگتے تھے ۔ اسی سے ملتے جلتے مضمون میں نقل ہوا ہے کہ آپ فرماتے تھے : ’’ نہ تو تم پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ توانا ہو ، اور نہ ہی مجھے تمہاری بنسبت اجر و ثواب اور خدا کی رحمت کی کم ضرورت ہے ‘‘ ۔

 کسی ایک غزوہ و جنگ میں مسلمانوں نے گوسفند کو ذبح کرکے پکانا چاہا ، اصحاب میں سے ہر ایک نے کوئی ایک کام اپنے ذمہ لے لیا تو  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ’’میں لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوں ‘‘۔ْ

 اصحاب نے کہا :  ہم آپ کو کام نہیں کرنے دیں گے ۔

 آپ  نے فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تم لوگوں پر کوئی امتیاز رکھوں ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ فرماتے تھے : «لیس لعربی‏ على‏ عجمی‏ فضل إلا بالتقوى» اور «الناس سواء کأسنان المشط»

ہم یہاں اس مقالہ کو مزید طول نہ دینے کی غرض سے اسے مختصر کرتے ہیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری عظمتوں جیسے استقامت ، شجاعت ، تقویٰ ، عبادت ، صداقت ، امانت ، عفو و درگزر ، خلق عظیم ، آپ کے معجزات ، اور قرآن مجید کی عظمت (جو آپ کا جاودانی معجزہ اور تمام انبیاء کی نبوت کے صحیح ہونے کی سند ہے ) کو بیان کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں  ۔ جہاں دوسرے اور اجنبی آپ کی مدح و ثناء اور تعظیم بیان کریں تو وہاں اپنے کیا تعریف  کریں ، ایک عیسائی دانشور نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں کہے گئے ایک قصیدہ میں کہا ہے :  

انى مسیـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا

میں عیسائی ہوں اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا احترام کرتا ہوں ، اور انہیں کتابِ علو و مقام میں سب سے بلند دیکھتا ہوں ۔

اور داکٹر شبلی شمیل طبیعی نے رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اور عظمت بیان کرتے ہوئے ایک قصیدہ  میں یوں کہا ہے :

من دونه الأبطال فى کل الورى * من حاضــــر او غائــب أو آتٍ

دنیا میں ماضی ، حال اور مستقبل کے تمام بزرگ اور طاقتور انسانوں کی عظمت اور شأن و شوکت حجرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بلند مقام و مربتہ سے کم ہے ۔

یہ واضح ہے کہ مسلمانوں کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زحمات اور ہدایات و رہنمائی میں کس قدر حق شناس ہونا چاہئے تا کہ وہ اس زمانے میں دنیا والوں کی سماعتوں تک اسلام کے صلح ، عدالت ، خیر خواہی اور سعادت طلبی کا پیغام پہنچائیں اور دنیا بھر کے تمام نقاط کو آپ کے انوار ہدایت سے متصل کر دیں ۔

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

مصائب عاشورا

(مرحوم حضرت آيت ‌اللّه آخوند ملا محمد جواد صافی گلپايگانی ‌(قدس سره) کے بیانات سے اقتباس)

پہلی مصيبت

جب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے دونوں بازو قلم ہو گئے اور آپ کی آنکھ میں تیر پیوست ہو گیا ، اور آپ کا بدن مطہر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے اس طرح چھلنی ہو چکا تھا کہ جس طرح شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ۔ آپ بچوں کے لئے جو پانی لا رہے تھے وہ زمین پر بہہ گیا : آيِساً مِنَ الحَيَاةِ  وَ قَرِيباً  إِلَى الْمَمَاةِ ، آپ زندگی سے ناامید اور موت کے قریب تھے کہ ایک ملعون لوہے کا گرز لے کر سامنے آیا اور جب اس نے دیکھا کہ عباس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو اس نے نہ خدا و رسول سے شرم کی اور نہ ہی اس مظلوم پر رحم کیا اور وہ گرز اپنی پوری قوت سے آپ کے سر اقدس پر مارا کہ آپ کا مغز  آپ کے شانوں پر گر گیا ۔

چو دشت بلا از غمش تار شد
ور افتاد با سينه چاک‌چاک
 

 

کشيد آه و از زين نگون‌سار شد
به‌ سر باد خاکم، ز زين روي خاک
 

 

 حضرت عباس نے آواز دی : يَا أَخَاه ! أَدْرِكْ أَخَاكَ الْعَبَّاسَ ۔ اے بھائی ! اپنے بھائی عباس کی مدد کو پہنچئے ۔ جب امام ‌حسين علیہ السلام نے اپنے بھائی کی فریاد سنی تو ایک  آہ بلند کی اور جگر سوز فریاد کی : «اَلْآنَ انْکَسَرَ ظَهْرِي وَ انْقَطَعَ رَجَائِي وَ قَلَّتْ حِيلَتِي». وَأَتَی زَيْنَبُ، فَنَادَتْ: «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔ (۱)

’’ اب میری کمر ٹوٹ گئی ، میری امید دم توڑ گئی ، میرا حیلہ اور چارہ جوئی کم ہو گئی ‘‘ ۔ اور جب حضرت زینب کبریٰ نے حضرت عباس کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔

دوسری مصيبت

آپ سب نے سنا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ عاشورا کے دن (لشکر حسین علیہ السلام میں سے ) چند لوگوں پر پتھر برسائے گئے کہ جن میں سے ایک قاسم بن حسن ہیں کہ جن کے نازک اور پھول سے بدن پر پتھر برسائے گئے اور ان کے جسم کو تیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے ان کے بچپن ، بے کسی ، غریب الوطنی ، یتیمی اور ان کی پیاس پر رحم نہ کیا ۔

آه آه ۔ وا اسَفاه ! کتاب بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ حميد‌ بن مسلم کہتا ہے : میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جو چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا اور جس کی نعلین کا ایک بند کھلا ہوا تھا اور اس پر لشکر نے ہر طرف سے بھیڑیوں کی طرح حملہ کر دیا لیکن جب وہ نوجوان حملہ کرتا تو لشکر اس طرح سے بھاگ جاتا کہ جیسے بھیڑیں کسی شجاع شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں ۔ عمر بن سعد ازدی نے کہا : ان لوگوں کے گناہ مجھ پر ہوں  اگر مجھے موقع ملے اور میں اسے قتل نہ کروں ۔ پس اسے موقع ملا اور اس نے پیچھے سے قاسم پر حملہ کیا اور اس طرح قاسم کے سر پر تلوار سے وار کیا کہ قاسم کا سر شگافتہ ہو گیا ۔ لشکر نے قاسم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے پھول سے نازک بدن کو نیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور جب گھوڑے سے گرے تو فریاد کی : يَا عَمَّاهُ ! أَدْرِکْنِي ۔اے چچا ! میری مدد کو پہنچئے ۔

امام‌ حسين‌ علیه‌السلام ایک غضبناک شیر کی طرح ان کی طرف روانہ  ہوئے ۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو ملعون ؛ قاسم کا سر جدا کرنا چاہتا تھا ۔  آپ نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کا ہاتھ  کاٹ دیا ۔

 اس نے لشکر سے مدد مانگی اور اس کی قوم نے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لیا  اور اسی جنگ میں قاسم کا بدن گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال ہو گیا ۔ اور جب لشکر حیدر صفدر کے حملوں سے منتشر ہو گیا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے پاس آئے ، جب کہ قاسم کے جسم میں کچھ رمق باقی تھی ، اور اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے تھے ؛ فَبَکَی الْحَسَيْنُ‌ (علیه‌السلام) وَ قَالَ : «وَاللهِ يَعِزُّ عَلَی عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يُعِينُكَ أَوْ يُعِينُكَ فَلَا يُغْنِي عَنْكَ».

 پس حسیں علیہ نے گریہ کیا اور فرمایا : ’’ خدا کی قسم ! تمہارے چچا کے لئے بہت ناگوار ہے کہ تم اسے پکارو ، لیکن وہ تمہیں جواب نہ دے سکے ، یا جواب دے لیکن تمہاری مدد نہ کر سکے ، یا تمہاری ممد کے لئے آئے لیکن وہ تمہیں بے نیاز نہ سکے ‘‘ ۔

تیسری مصيبت

صديقۂ صغریٰ فرماتی ہیں :

لَيَتَ‌ السَّمَاءَ طُبِقَتْ عَلَی الْأَرْضِ

وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدْکَدَکَتْ عَلَی السَّهْلِ   (۲)

 «اے کاش ! آسمان ، زمین پر گر پڑتا  اور اے کاش ! پہاڑ ، دشت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتے» ۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرے اور آپ کا بدن مطہر خاک و خون میں غلطاں تھا ۔ عبد الله ‌بن ‌الحسن اپنے چچا کو اس حال میں میں دیکھ کر سخت بے قراری و بے تابی کے عالم میں امام علیہ السلام  کی طرف دوڑے ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «يَا اُخْتَاه ! أَحْبِسِيهِ» ؛ «اے میری بہن ! عبد الله کو روکو کہ وہ اس مصیبت انگیز بیابان میں نہ آئے اور خود کو تیروں اور تلواروں کا ہدف قرار نہ دے» ۔

جناب زينب نے عبد اللہ بن حسن کو پکڑا اور انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن عبد اللہ بن حسن نے بہت اصرار کیا  اور کہا : لَا وَ اللهِ ! لَا أُفَارِقُ عَمِّيِ ۔ خدا کی قسم ! میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ خود کو جناب زینب سے چھڑا کر امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔

اسی وقت ابن ‌کعب لعنۃ اللہ علیہ نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار سے حملہ کرنا چاہا ، فَقَالَ لَهُ: وَيْلَكَ يَا بْنَ الْخَبِيثَة! أَ تَقْتُلُ عَمِّي؛ عبد الله بن حسن نے کہا : اے زانيه کے بیٹے ! کیا تم میرے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ (وہ اپنے چچا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ) انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چچا کے لئے ڈھال بنایا لیکن اس ملعون نے تلوار سے وار کیا جس سے عبد اللہ بن حسن کے ہاتھ کٹ گئے ۔پس انہوں نے آواز دی : يا عمّاه ! امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے انہیں پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «يَا ابْنَ أَخِي! اِصْبِرْ عَلَی مَا نَزَلَ بِكَ وَاحْتَسِبْ فِي ذَلِكَ الْخَيْر فَإِنَّ‌ اللهَ يَلْحَقُكَ بِآبَائِكَ الصَّالِحِينَ» ۔ (۳)  ’’ اے میرے بھتیجے ! تم پر جو مصیبت بھی آئے اس پر صبر کرو ، اور اس میں خیر ہی سمجھو ، اور بیشک خدا تمہیں تمہارے صالح آباء و اجداد کے ساتھ ملحق فرمائے ‘‘۔

جب عبد اللہ بن حسن ، امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں تھے تو حرملہ ملعون نے ایک تیر چلا کہ جس سے عبد اللہ بن حسن کی شہادت واقع ہو گئی ۔

پس آن‌سان ظالمي تيري رها کرد                                 که اندر مقتل شه‌زاده جا کرد

ندانم شاه را چون گشت احوال                                                که اينجا، عقل مات و نطق شد لال

چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

چوتھی مصيبت

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے علی اکبر کو دیکھا کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ، جس کا سر شگافتہ ہے ، جس کے ہونٹ خشک ہیں اور جو خاک و خون میں غلطاں ہو کر جان دے رہا ہے تو آپ نے بے ساختہ ایسی فریاد کی کہ دوست اور دشمن سبھی ان کی حالت پر روئے ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے خود کو گھوڑے سے گرا دیا ’’وَ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی خَدِّه ‘‘ ، اور اپنا چہرا ان کے چہرے پر رکھ دیا ، اور جب آپ نے بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کے چہرے پر اپنا چہرا رکھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شمس و قمر کی آپس میں ملاقات ہو رہی ہو ۔

راوی کہتا ہے : کچھ دیر کے بعد ہی امام حسین علیہ السلام نے اپنا چہرا اٹھایا تو علی اکبر کے سر سے خون ان کے چہرے پر جاری ہوا ۔

يقين شد صافي آن‌سان حالت شاه                                                          که اشکش شد بماهي آه بر ماه

پانچویں مصيبت

امام‌ حسين‌ علیه‌ السلام آخری دم تک صابر اور قضاء الٰہی پر راضی تھے اور آنحضرت سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دیا جائے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف راغب نہیں ہو گا اور میں اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

اور شاید آپ نے یہ کلمات اس وقت بیان فرمائے کہ جب آپ صالح بن وہب کے نیزے کی ضرب سے گھوڑے کی زین سے زمین پر آئے ۔

جگر تفتيده با چشمان نمناک
گُهر ريزان ز ديده لعل مي‌سُفت
تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا
 

 

فتاد آن هيکل توحيد بر خاک
به‌ شکر وصل در آن حال مي‌گفت
وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا
 

 

چھٹی مصيبت

جب علی بن الحسین علیہما السلام (علی اکبر علیہ السلام) کا بدن مبارک زخموں کی کثرت اور خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تو ایک ملعون کو موقع ملا ، اس نے اپنی تلوار سے آپ کے سر اقدس پر وار کیا کہ جس سے بہت گہرا زخم لگا اور (یہ دیکھ کر )سارا لشکر جری ہو گیا ، لشکر نے چاروں طرف سے حملہ کیا ، اور انہیں تیروں اور تلواروں کا نشانہ بنایا ۔ جب جناب علی اکبر کی طاقت جواب دے گئی تو آپ نے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈالیں اور نیچے کی جانب جھک گئے اور گھوڑے کی لگام چھوڑ دی ، گھوڑ ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور وہ جس سوار کے پاس بھی پہنچتا تھا وہ آپ کے بدن مبارک پر حملہ کر کے زخمی کرتا تھا ۔ فَقَطَّعُوهُ بِسُيُوفِهِمْ إِرْباً إِرْباً ؛ ان کے بدن مطہر کو تلواروں سے پارہ پارہ کر دیا ۔ پس جناب علی اکبر  گھوڑے سے زمین پر آئے تو آواز دی : يَا أَبَتَاه! هَذَا جَدِّي رَسُولُ اللهِ قَد سَقَانِي بِکَأْسِهِ الْأَوْفَى.اے بابا جان ! یہاں مرے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موجود ہیں کہ جنہوں نے مجھے اپنے جام سے سیراب فرمایا ہے ‘‘

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے کی فریاد سنی تو آپ نے جگر سوز فریاد کی اور فرمایا : «قَتَلَ اللهُ قَوْماً قَتَلُوكَ» ؛ ( ۴)

گفت: اي جان پدر روحي فداک                               باد بر دنيا پس از مرگ تو خاک

ساتویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام ان تمام مصائب ، مشکلات ، تکالیف اور سختیوں (اگر یہ  پہاڑوں پر پڑتیں تو وہ اس کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے) پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا عالم ، بدن پر بے شمار زخم ، ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے کہ جو آپ کے بدن پر ایک کے بعد ایک زخم لگا رہے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود آپ بار بار خدا کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں : «صَبْراً عَلَی بَلَائِكَ وَ رِضاً بِقَضَائِكَ» ؛ ’’ خدایا ! میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر ہوں اور تیری رضا پر راضی ہوں ‘‘  اور آپ خشک زبان  اور سوختہ جگر سے کبھی پانی طلب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :

«وَاعَطَشَاه ! وَاقِلَّةَ نَاصِرَاه ! يَا قَوْمِ !ِ اِسْقُونِي شَرْبَةً مِنَ الْمَاءِ قَبْلَ طُلُوعِ رُوحِي مِنْ جَسَدِي»؛

«اے بے مروت لوگو! اے بے رحم لوگو ! مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو ، اس سے پہلے کہ مرے جسم سے میری روح پرواز کر جائے» ۔

به سبط پيمبر خدا را ثوابي                             گذاريد منّت به يک جرعه آبي

شد از تيغ و خنجر دلم پاره‌پاره                        شده زخم‌هايم فزون از ستاره

شما را گر از قتل من نيست چاره                   دهيد آب، رحمي به حال خرابي

بده مهلت اي شمر تا مادر آيد                      رها کن مگر باب من بر سر آيد

ز خيمه به بالين من خواهر آيد                     مکن بي‌مروّت به قتلم شتابي

آٹھویں مصیبت 

امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف نہیں جائے گا اور اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

نمودم ترک مردم را جميعاً در هواي‌ تو                          يتيم‌ و دربه‌در کردم عيال خود براي ‌تو
نمایي پاره‌پاره‌گر مرا اندر ره‌ عشقت                                           دلم هرگز نخواهد رفت سوي ما‌سواي ‌تو 

آه آه! مجھے نہیں معلوم کہ امام حسین علیہ السلام نے کس وقت یہ کلمات بیان فرمائے ؛ کیا اس وقت یہ کلمات بیان فرمائے کہ جب سہ شعبہ تیر آپ کے قلب مبارک پر پیوست ہو گیا اور جس سے ناودان (پرنالہ) کی طرح خون جاری ہو گیا اور آپ نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے چہرے اور داڑھی پر مل لیا اور فرمایا : «هَکَذَا أَکُونُ حَتَّی اَلْقَی جَدِّي رَسُولَ اللهِ وَ (أَنَا مَخْضُوبٌ بِدَمی ) و َ أَقُوُلَ قَتَلَنِي فُلَانٌ وَ فُلاَنٌ » ؛ (۵)

خدا کی قسم !میں اسی خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ملاقات کروں گا اور کہوں گا : اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مجھے فلاں فلاں نے قتل کیا ہے ۔

یا آپ نے اس وقت یہ کلمات بیان کئے کہ جب صالح بن وہب  لعنۃ اللہ علیہ نے آپ کے پہلو میں اس طرح سے نیزہ  مارا کہ آپ گھوڑے کی زین سے زمین پر آ گئے ۔

چو پهلو شد ز جنب‌الله پاره                                       ز عين‌الله بر مه شد ستاره

شد اندر ذات حقّ چون باب ممسوس                          فتاد از صدر زين با آه و افسوس

نویں مصیبت

اگر صحرائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مطہر زخمی نہ ہوتا ، اور آپ کے سر اقدس کو بدن اطہر سے جدا نہ کیا جاتاتب بھی  آپ کی شہادت کے لئے وہ تیر ہی کافی تھا کہ جو آپ کے دل میں پیوست ہو گیا ۔ جب ابو الحتوف ملعون نے کمان سے ایک تیر چلایا جو آپ کی پیشانی مبارک پر آ کر لگا  اور ایک روایت کے مطابق کہ اس  نے آپ کی پیشانی مبارک پر ایسا پتھر مارا کہ پیشانی شگافتہ ہو گئی ۔

ز کف ، سنگين‌دلي ، سنگي رها کرد                       به پيشاني وجه‌الله جا کرد

چو  پيشاني  وجه ‌الله  بشکست                               به عين‌الله، خون، راه نظر بست

         پر از خون گشت روي شاه اطهر                            چو  در  روز  اُحد  روي  پيمبر

آپ کے چہرے اور داڑھی پر خون جاری ہوا ، اور آپ نے اپنے  چہرۂ اقدس سے خون  صاف کرنے کے لئے دامن سے زرہ ہٹائی اور اپنے پیراہن کو کھینچا تو آپ کا قلب مبارک درخشاں آفتاب کی مانند نمایاں ہوا ؛ فَأَتَاهُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ لَهُ ثَلَاثَةُ شُعَبٍ ؛ (۶) ’’ایک سہ شعبہ زہر آلود تیر آیا ۔

چو دامان کرد بالا، شد نمايان                                    يکي تيري سه‌پَر از شصت بدخواه
چو آن تير از قفايش سر به ‌در کرد                                ندانم رفت چون بر شاه مظلوم
چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     دل پر نور، يعني عرش رحمن
رها گشت و نشست اندر دل شاه                                   دل پاک پيمبر را خبر کرد
دل نازک کجا و تير مسموم                                        بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

دسویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور سخت مصائب میں سے ایک آپ کا آخری وداع اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے رخصت ہونا ہے ۔ آپ تصور کریں کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی کیا حالت اور کیا کیفیت رہی ہو گی ، جب وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کے اب کبھی حسین کو نہیں دیکھ پائیں گے مگر جب حسین خاک و خون میں غلطاں ہوں گے  اور حسین کا سر نیزے پر بلند ہو گا ۔ اس وقت نہ کوئی یاور و انصار ، نہ کوئی ناصر و مددگار  ہو گا ،  اس وقت سب  بیکس و لاچار اور بے یار و مددگار   ہوں گے  ، اور ایک بیابان ہے ہو گا کہ جس میں سنگدل  اور بے رحم دشمن ہو گا۔ 

قَالَتْ سَکِينَةُ: يَا أَبَتَاه! اِسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ ؛

سکينه نے عرض کیا : اے بابا جان ! کیا آپ موت کی طرف جا رہے ہیں ؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«کَيْفَ لَا يَسْتَسْلِمُ (لِلْمَوْتِ) مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَ لَا مُعِينَ» ؛ (۷)

«وہ کیسے موت کی طرف نہ جائے کہ جس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو؟» ۔

سکینہ نے اپنے سر پر ماتم کرتے ہوئے  نوحہ و گریہ کی بنیاد رکھی ۔

امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے فرمایا :

لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكَ حَسْرَةً                         مَادَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي

(اے سکینہ جان ! ) اپنے حسرت بھرے آنسؤں سے میرے دل کو مٹ جلاؤ کہ جب میرے جسم میں روح موجود ہے ۔

فَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي                          تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ النِّسْوَانِ  (۸)

اور جب میں قتل ہو جاؤں تو تم سب سے زیادہ مجھ پر رونے کی مستحق ہو ، اے سب سے بہترین نسواں ۔

حوالہ جات

۱ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص42 ۔

 ۲ ۔ ابن ‌طاووس ، اللہوف ، ص73 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص54 ۔

۳ ۔ طبری ، تاريخ ، ج 4 ، ص344 ؛ مفيد ، الارشاد ، ج2 ، ص110 ؛ ابن ‌نما حلی ، مثیر ‌الاحزان ، ص55 ـ 56 ۔

 ۴ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص44 ؛ بحرانی اصفہانی ، عوالم ‌العلوم ، ص286 ـ 287۔

 ۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص53 ۔

 ۶ ۔ ابن‌ طاووس ، اللہوف ، ص71 ؛ امين عاملی ، اعيان ‌الشيعه ، ج 1، ص 610 ؛ ایضاً ، لواعج ‌الاشجان ، ص187 ۔

۷ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص47 ۔

۸ ۔ ابن ‌شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، ج4 ، ص109ـ 110۔

شنبه / 1 شهريور / 1399
رسالت عاشورائی (۱)

مبلغین کی عاشورائی رسالت

ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت

مرحوم آیت اللہ العظمی حائزی یزدی (قدس سرہ) کی کاوشوں سے سنہ ۱۳۴۰ ہجری میں قم کے قدیمی حوزۂ علمیہ کی تجدید عمل میں لائی گئی ۔ اس حوزۂ علمیہ میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ  ساتھ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے کہ جس میں بزرگ اساتید ، علماء ، آیات عظام ، مؤلفین ، خطباء ، واعظین اور برجستہ مبلغین شہروں ، دیہاتوں اور ہر سماج کو تبلیغ ، معارف دین  اور  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ احکام اسلام سے روشناس کروانے کواپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے وہ مکتب حسینی اور ذکر مصائب اہلبیت علیہم السلام سے  لوگوں کی باطنی اور پاکیزہ رغبت اور بالخصوص کربلا کے جانسوز واقعہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اور ماہ مبارک رمضان کے علاوہ ماہ محرم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر مصائب سے کربلا کی بے نظیر نہضت و تحریک کے مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ اسّی سال سے زائد عرصے سے  تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے جوکہ انحرافات ، کج روی ، کج فہمی ، بدعات اور دوسری برائیوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ حوزۂ علمیہ باطل کے ابطال اور عقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ سے سماج میں مؤثر اور کارساز رہا ہے ۔

تبلیغ کے متعلق اہم نکات

تبلیغ کے متعلق ایسے اہم نکات کہ جنہیں جاننا چاہئے :

بندۂ حقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ تبلیغ کے متعلق کچھ ایسے نکات بھی بیان کئے جائیں کہ جو شاید بعض حضرات کی نظر میں مخفی اور پنہاں نہ ہوں:

1ـ مخاطبین کو ان اہم مطالب سے خبردار کریں:

اب کچھ ایسے حالات درپیش ہیں کہ اسلام اور کفر میں ایک طرح کی تازہ کشمکش دکھائی دیتی ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران ، اسلامی تفکر کا احیاء و تجدید ، مسلمانوں کا اسلامی استقلال کی طرف رجحان ، دیرینہ عظمت کی طرف بازگشت  اور المختصر یہ کہ عام بیداری ؛ اور بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقہ کا بیدار ہونا اور اس کے علاوہ کچھ دیگر موارد باعث بنیں ہیں کہ اسلام کے دشمن تقریباً پہلی جنگ عظیم کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی ممالک پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے ان ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے ان پر قبضہ کر لیا ۔ لہذا اب وہ اپنے قبضہ اور تسلط کے خاتمہ سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام خواہی کے نام پر مسلمانوں کی مخالفت اور انہیں نابود کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اس مقصد کے لئے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغات  کے علاوہ مختلف قسم کے آشکار و مخفی اور سیاسی و اقتصادی وسائل بروئے کار لائے حتی انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔

لہذا مسلمانوں کو استقامت، صبر، پائيداری اور خداوند متعال  کی نصرت سے دشمنوں پر غلبہ پانے کی امیددلانی چاہئے اور انہیں اس کی تشویق و ترغیب کرنی چاہئے ۔

غرب گرائی (Westernization) ، مغربی سماج کی عادات کی پیروی ، ان کی تقلید حتی لباس اور ظاہری طور پر معمولی اور چھوٹے نظر آنے والے امور سے لے کر اہم امور تک سب میں ان کی تقلید کرنا جیسے عورتوں اور مردوں کے درمیان مخلوط نظام  کی ترویج ، مختلف قسم کے نعرے ، منجملہ عورتوں سے تبعیض کا خاتمہ ، یا آزادی بیان کے نام پر مطلق آزادی ، شریعت کے بعض احکام کو پامال کرنا، موسیقی کی ترویج ، شریعت سے بے اعتناء ہنرمندوں اور اسلامی شعار سے بیزاری کا اظہار کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر تشویق ؛ یہ سب اسلامی ہویّت و شناخت کوبدلنے یا اسے کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔

مسلمانوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ غرب گرائی کی جانب ترجحان کے خطرات کی طرف توجہ کریں لیکن بد قسمتی سے ان میں کافی وسعت آ چکی ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسلامی ہویّت اور شناخت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں اور ہر حال میں ہر جگہ اس کے پابند رہیں اور اس پر ناز کریں ۔ اسلام ، قرآن ، تشیع اور ولایت ائمہ علیہم السلام پر افتخار کریں ۔ تمدن اور اسلامی اخلاق کو ہر تمدن اور اخلاق سے برتر سمجھیں»۔  (۱)

امام حسین علیہ السلام کی راہ ؛ قرآن کی راہ ہے ، احکام پر عمل کرنے کی راہ ہے ، اسلام اور توحید پر افتخار کرنے کی راہ ہے ، خدا پر ایمان رکھنے کی راہ ہے ۔ یہ راہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ کفر و بت پرستی ، شرک یزدان و اہرمن ، فرعون و نمرود اور جمشید کے استکبار کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ فساد ، فرسودہ نظام ، گناہوں اور ان امور پر فخر کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ تجمل پرستی ، اسراف  ، تکبر ، استکبار اور لوگوں کو حقیر شمار کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام ؛ قرآنی پیغام ہے کہ جس میں حقیقی اقدار کے لحاظ سے عورت و مرد میں مساوات ہے :

’’إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً‘‘(۲)

«بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ، اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں ، اور صابر مرد اور صابر عورتیں ، اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں ، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والی عورتیں ،  اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کر رکھا ہے » ۔

جو سماج اور معاشرہ امام حسین علیہ السلام کی راہ پر گامزن ہو ؛ وہاں ان امور اور اقدار پر افتخار کیا جاتا ہے اور ان اقدار میں مرد اور خواتین نہ صرف ہم پلہ ہوتے ہیں بلکہ ان اقدار میں وہ  ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اور ان کا مختلف مجالس و محافل ، کالج ، یونیورسٹیوں اور دفاتر وغیرہ میں ( جہاں اجنبی حضرات سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے ) میں مخلوط ہونا مسلمان عورت کی شأن ، پارسائی اور اسلامی تربیت سے سازگار نہیں ہے ۔ مغرب زدگی یعنی مغرب کی اندھی تقلید انسان کی ہویّت و شناخت اور اس کی شخصیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ماہ محرم و صفر میں علماء و فضلا ، اساتید اور خطباء کو چاہئے کہ وہ اپنے مواعظ ، بیانات اور تقاریر میں لوگوں کو ان بنیادی اور اہم مطالب کی طرف متوجہ کریں ۔

2ـ تبلیغ  کے بنیادی اصولوں کو پہچانیں

تقاریر ، خطابات اور بیانات میں یہ معانی خیز حدیث مبارک واضح ہے کہ :

«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَامْسِکُوا عَمَّا یُنْکِرونَ». (۳)

«لوگوں کے لئے وہی چیزیں بیان کریں کہ جنہیں وہ جانتے ہیں اور ایسی چیزیں بیان کرنے سے گریز کریں کہ جن کے وہ منکر ہو جائیں» ۔

یہ حدیث ایک دستور العمل ہے اور مقتضائے حال کی بناء پر کلام و تکلّم میں بلاغت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ تبلیغ کے دوران انبیاء علیہم السلام کا بھی یہی منشور رہا ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ ہر علاقہ کا جائزہ لیا جائے اور وہاں کی دینی اور مذہبی کمزوریوں کو ( اگر وہاں دینی و مذہبی کمزوریاں موجود ہوں تو) پہنچانا جائے اور تقاریر و بیانات اور خطابات کے دوران شائستہ انداز میں ان ضعف نکات کر برطرف کرنے کی طرف توجہ کی جائے ۔

3 ۔ جوانوں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں

جوانوں ، نوجوانوں اور طالب علموں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں اور والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پذیرائی کریں اور تسلی و اطمینان سے ان کی باتوں اور ان کے سوالات کو سنیں اور ان کے جوابات دیں ۔(۴)

عاشورائی دروس

درس معرفت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ؛ أَلَا وَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ». (۵)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ علم حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے» ۔

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (عليه ‌السلام) : «أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ كَمَالَ الدِّينِ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ بِهِ وَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ أَوْجَبُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ، إِنَّ الْمَالَ مَقْسُومٌ بَیْنَکُمْ مَضْمُونٌ لَكُمْ قَدْ قَسَمَهُ عَادِلٌ بَيْنَكُمْ وَضَمِنَهُ سَيَفِي لَكُمْ وَ الْعِلْمُ مَخْزُونٌ عَلَیْکُمْ عِنْدَ أَهْلِهِ قَدْ أُمِرْتُمْ بِطَلَبِهِ مِنْهُمْ فَاطْلُبُوهُ» ۔ (۶)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : «اے لوگو ! جان لو کہ دین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے ۔ اور بیشک تم پر مال کےحصول سے زیادہ علم کا حصول واجب ہے ، مال تم میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی ضمانت دی جا چکی ہے اور ایک عادل شخص نے اسے تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے اور جلد ہی اس پر وفا کریں گے ، لیکن علم و دانش کو اہل علم اور دانشوروں کے پاس رکھا گیا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے علم طلب کرو ، پس ان سے طلب کرو» ۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ مِنْكُمْ فِي الدِّينِ فَهُوَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾» ۔ (۷)

« دین میں تفقہ ، بصیرت اور آگاہی حاصل کرو ؛ تم میں سے جو دین میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو وہ اعرابی اور بادیہ نشین ہے ۔ خداوند عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ’’ اور دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو انہیں عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح سے ڈرنے لگیں».

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «عَلَيْكُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي دِينِ الله وَلَا تَكُونُوا أَعْرَاباً فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي دِينِ اللهِ، لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُزَكِّ لَهُ عَمَلاً» ۔ (۸)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «تم پر لازم ہے کہ خدا کے دین میں تفقہ کرو ( یعنی دین میں بصیرت اور آگاہی حاصل کرو) اور اعرابی نہ بنو ( یعنی تمدن و ثقافت سے دور بادیہ نشین نہ رہو) ؛ کیونکہ جو شخص دین میں بصیرت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ، خداوند قیامت کے دن اس پر نظررحمت نہیں کرے گا اور اس کے عمل کو پاکیزہ نہیں کرے گا»۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (عليه ‌السلام) : «لَوَدِدْتُ أَنَّ أَصْحَابِي ضُرِبَتْ رُءُوسُهُمْ بِالسِّيَاطِ حَتَّى يَتَفَقَّهُوا» ۔ (۹)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ اپنے اصحاب کہ سروں  پر تازیانے ماروں تا کہ وہ دین میں تفقہ اور بصیرت حاصل کریں» ۔

مکتب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شاگرد

اس بارے میں معتبر روایات دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کو مخصوص علم تعلیم دیا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور علی علیہ السلام کے خط سے لکھی گئی کتاب سے ہمیشہ اس خاندان تطہیرنے استناد کیا اور اس کی طرف رجوع کیا ۔ حقیقت میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات و تبلیغات اور ان کی سیرت و اسلوب معاشرے کی تربیت اور انسانیت کی ہدایت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مکمل و متمم ہدف تھا۔

مشہور اور متواتر حدیث ’’حدیثِ ثقلین‘‘(۱۰)کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام امت کو ان بزرگ ہستیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حدیث شریف کی رو سے اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی علمی صلاحیت ظاہر و آشکار ہو جاتی ہے ۔

ان کے علاوہ اہلسنت سے بھی اس بارے میں دوسری بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ مکتب نبوت کے تربیت شدہ افراد میں سے علی علیہ السلام نے دوسرے تمام اصحاب کی بنسبت سب سے زیادہ انوار نبوت سے استفادہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علمی مسائل اور مشکلات میں علی علیہ السلام ہی سب کے لئے مرجع ہیں اور تمام شرعی علوم آنحضرت پر منتہی ہوتے ہیں ۔

حضرت امام علی علیه ‌السلام کے بعد امامت اور علمی و دینی رہبری کا ‏منصب الٰہی آپ کے بیٹوں حضرت امام ‌حسن ‌مجتبی اور سید الشہداء حضرت امام ‌حسين علیہ السلام کو حاصل تھا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اسلامی مسائل ، علوم تفسیر اور شرعی احکام میں لوگوں کے لئے پناہگاہ تھے اور آپ کے سخن قاطع و مقبول اور آپ کی روش و اسلوب نمونہ و میزان تھی ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام ؛ چراغ اسلام

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

خوارج میں سے فرقۂ ازارقہ کے سربراہ نافع بن ازرق نے امام‌حسين‌‏‌علیه‌ السلام سے ‏عرض كیا :

آپ اپنے خدا کی توصیف بیان کریں کہ جس کی آپ پرستش کرتے ہیں !۔

امام‌ حسين‌‏ علیه ‌السلام نے فرمایا :

«يَا نَافِعُ إِنَّ مَنْ وَضَعَ دينَهُ عَلَی الْقِيَاسِ لَمْ يَزَلِ الدَّهرَ فِي الْإِلْتِبَاسِ مَائِلاً نَاكِباً عَنِ الْمِنْهَاجِ ظَاعِناً بِالْإِعْوِجَاجِ ضَالّاً عَنِ السَّبِيلِ قَائِلاً غَيْرَ الْجَمِيلِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ أَصِفُ إِلَهِي بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَعْرِفُهُ بِمَا عَرَفَ بِهِ نَفْسَهُ، لَا يُدْرَكُ بِالْحَواسِّ وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ، قَرِيبٌ غَيْرُ مُلْتَصِقٍ، وَبَعِيدٌ غَيْرُ مُسْتَقْصِي، يُوَحَّدُ، وَلَا يُبَعَّضُ، مَعْرُوفٌ بِالْآيَاتِ، مَوْصُوفٌ بِالْعَلَامَاتِ، لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالُ»؛

«اي نافع! جو شخص بھی اپنے دین کی بنیاد قیاس پر رکھے ؛ وہ پوری عمر غلطی پر ہی رہے گا اور راہ سے منحرف ہو جائے گا ، کج روی اختیار کرے گا اور گمراہ ہو جائے گا اور نازیبا کلمات کہے گا ۔ اے ابن ازرق! میں اس چیز سے خدا کی توصیف کرتا ہوں کہ جس سے اس نے خود اپنی توصیف بیان فرمائی ہے ۔ اسے نہ تو حواس سے درک کیا جائے اور نہ ہی لوگوں پر اس کا قیاس کیا جائے ۔ وہ نزدیک ہے لیکن کسی چیز سے متصل اور ملحق شدہ نہیں ہے ۔ اور وہ دور ہے لیکن اس نے دوری اختیار نہیں کی ( خداوند متعال کی دوری و نزدیکی ؛ دوسری مخلوقات و موجودات کی دوری و نزدیکی کی مانند نہیں ہے ۔ اس کی دوری و نزدیکی مادی حواس کے ذریعے قابل درک نہیں ہے ) ۔ وہ یگانہ ہے لیکن وہ تبعیض اور تجزیہ و ترکیب سے مبرّا ہے ، وہ کچھ نشانیوں سے پہچانا گیا ہے اور کچھ علامتوں سے اس کی توصیف کی جاتی ہے اور خدائے کبیر و متعال کے سوا کوئی خدا نہیں ہے».

ابن‌ ازرق نے روتے ہوئے کہا :

یَا حُسَیْنُ مَاأَحْسَنَ كَلَامَكَ؛

اے حسین ! آپ کا کلام کس قدر خوبصورت ہے!

امام حسين علیه ‌السلام نے فرمایا : «مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میرے پدر اور میرے بھائی کے سامنے میرے کفر کی گواہی دیتے ہو!».

ابن‌ازرق نے کہا : أَمَا وَاللهِ یَا حُسَیْنُ لَئِنْ کَانَ ذَلك لَقَدْ کُنْتُمْ مَنَارَ الْإِسْلَامِ وَنُجُومَ الْأَحْکَامِ ۔ (۱۱)

اے حسین ‌(علیه‌ السلام) ! اگر مجھ سے یہ نازیبا حرکت صادر ہوئی ! تو بیشک آپ اسلام کے چراغ اور احکامِ خدا کے ستارے ہیں ۔

یعنی لوگوں کو آپ کے علوم و معارف کے انوار سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہئے اور تاریکی میں آپ کے وجود کے ستاروں سے ہدایت پانی چاہئے ۔

امام حسين علیه‌ السلام ؛ شمع بزم عالمان

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱۲)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۳)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

اس کے بعد علايلی لکھتے ہیں : حسين ‌(علیه‌ السلام)  كثير الحديث و الروايه تھے ۔ اس زمانے میں اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہت سارے اصحاب حدیث نقل کرتے تھے لیکن لوگ سب کو چھوڑ کر حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں آتے ۔ اس کے بعد علایلی نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کچھ احادیث نقل کی ہیں ۔ (۱۴)

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا :

إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ۔ (۱۵)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

درس عبادت

احادیث

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ غِنًى وَلَا أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ وَعَلَيَّ أَنْ أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَمْلَأَ قَلْبَكَ خَوْفاً مِنِّي وَ إِنْ لَا تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ شُغُلاً بِالدُّنْيَا ثُمَّ لَا أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ» ۔ (۱۶)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : « توریت میں لکھا ہے : اے ابن آدم ! تمہاری توجہ میری عبادت و بندگی کی طرف رہے  تو میں تمہارے دل کو بے نیازی سے بھر دوں گا اور تمہیں تمہاری طلب اور جستجو میں نہیں چھوڑوں گا ، اور تمہاری ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لوں گا اور تمہارے دل کو اپنے خوف سے بھر دوں گا ، اور اگر تمہاری توجہ میری عبادت کی طرف نہ ہوئی تو میں تمہارے دل کو دنیا میں مشغول ہونے سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کی چارہ جوئی  نہیں کروں  گا اور تمہیں تمہاری طلب پر چھوڑ دوں گا » ۔

قَالَ الصَّادِقُ ‌‌(عليه ‌السلام) : «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا عِبَادِيَ الصِّدِّيقِينَ ! تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي الدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ تَتَنَعَّمُونَ بِهَا فِي الْآخِرَةِ» ۔ (۱۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «خداوند نے فرمایا : اے میرے سچے اور حقیقی بندو ! دنیا میں میری عبادت کے ذریعے نعمتیں حاصل کرو اور بیشک اسی کے ذریعے تمہیں جنت میں بھی نعمتیں ملیں گی» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبَادَةَ فَعَانَقَهَا وَأَحَبَّهَا بِقَلْبِهِ وَبَاشَرَهَا بِجَسَدِهِ، وَتَفَرَّغَ لَهَا فَهُوَ لَا يُبَالِي عَلَى مَا أَصْبَحَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى عُسْرٍ أَمْ عَلَى يُسْرٍ» ۔ (۱۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «لوگوں میں افضل وہ ہے جو عبادت کا عاشق ہو اور  اسے اخذ کر لے اور اسے دل سے دوست رکھتا ہو اور بدن سے انجام دیتا ہو اور وہ اس کے لئے فارغ ہو اور اس کی مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو اور دنیا کی سختی و آسانی کو اہمیت نہ دے»۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «إِنَّ الْعُبَّادَ ثَلَاثَةٌ : قَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَوْفاً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى طَلَبَ الثَّوَابِ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأُجَرَاءِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حُبّاً لَهُ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَارِ وَهِيَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ» ۔ (۱۹)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «عبادت کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں : ایک گروہ خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، یہ غلاموں کی عبادت ہے ؛ کچھ لوگ ثواب کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ اجیر شدہ افراد کی عبادت ہے ؛ اور ایک گروہ خدا کی محبت میں خداوند عزوجل کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کی سب سے افضل قسم ہے » ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَقْبَحَ الْخَطِيئَةَ بَعْدَ الْمَسْكَنَةِ، وَأَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ الْعَابِدُ لِلّٰهِ ثُمَّ يَدَعُ عِبَادَتَهُ» ۔ (۲۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «غنی و بے نیاز ہونے کے بعد فقر کس قدر قبیح ہے ، اور بدبختی و ناداری کے بعد گناہ کس قدر قبیح ہے ، اور اس سے بھی قبیح وہ عابد ہے کہ جو خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دے » ۔

قَالَ السَّجَّادُ‌ (عليه ‌السلام) : «مَنْ عَمِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ» ۔ (۲۱)

 حضرت امام سجاد  نے فرمایا : «جو شخص خدا کی جانب سے واجب کردہ  امور پر عمل کرے ؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد ہے » ۔

امام حسین علیه‌السلام ؛ سید العابدین

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

«حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۲۲)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے» ۔ (۲۳)

عقّاد کہتے ہیں : «حسین علیہ السلام پنجگانہ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں بھی بجا لاتے اور ماہ رمضان کے روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے ، اور آپ نے کسی بھی سال حج کو ترک نہیں کیا مگر یہ کہ آپ اسے ترک کرنے پر مجبور ہوں» ۔ (۲۳)

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۲۴) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي نَعَّمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاکِراً ، وَابْتَلَیْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً ، فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْکِ الشُّکْرِ ، وَلَا (أَنْتَ) أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ، إِلَهِي مَا يَکُونُ مِنَ الْکَرِيمِ إِلَّا الْکَرَمُ» ۔ (۲۵)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا» ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ (۲۶)

درس سخاوت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ‌ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ» ۔ (۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «سخاوت ؛ بہشت میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ، وہ اسے جنت میں لے جاتی ہے ، اور بخل ؛ جہنم میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ؛ وہ اسے جہنم میں لے جاتی ہے» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ طَيٍّ: «دُفِعَ عَنْ أَبِيكَ الْعَذَابُ الشَّدِيدُ لِسَخَاوَةِ نَفْسِهِ» ۔(۲۸)

پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عدی بن حاتم طائی سے فرمایا : «تمہارے باپ کی سخاوت کی وجہ سے اس سے سخت عذاب اٹھا لیا گیا» ۔

قَالَ الرِّضَا (عليه‌ السلام) : «إِيَّاكَ وَالسَّخِيَّ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْخُذُ بِیَدِهِ» ۔ (۲۹)

‌حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : «کہیں کسی سخی کی سرزنش نہ کرنا کہ خداوند اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے » ۔

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ.

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۳۰)

میں تمہارا قرض ادا کروں گا

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۳۱)

درس حسن معاشرت 

احاديث:

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «يَا شِيعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ عِنْدَ غَضَبِهِ، وَمَنْ لَمْ يُحْسِنْ صُحْبَةَ مَنْ صَحِبَهُ، وَمُخَالَقَةَ مَنْ خَالَقَهُ، وَمُرَافَقَةَ مَنْ رَافَقَهُ، وَمُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَهُ، وَمُمَالَحَةَ مَنْ مَالَحَهُ» ۔ (۳۲)

حضرت امام‌صادق علیه‌السلام نے فرمایا : « اے آل محمد کے شیعو اور پیروکارو ! جان لو کہ وہ شخص  ہم میں سے نہیں ہے کہ جو شخص غصہ کے عالم میں خود پر حاکم اور مسلط نہ ہو ، اور جو اپنے ہم نشینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے ، اور جو اپنے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر مہربانی نہ کرے ، اور جو اپنے رفقاء اور دوستوں کی دوستی کا جواب دوستی سے نہ دے اور جو اپنے پڑوسیوں کا احترام نہ کرے اور پڑوسیوں کے حقوق کی رعائت نہ کرے اور جو کسی کے نمک کے حق کی رعائت نہ کرے » ۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (علیه ‌السلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾، «کَانَ يُوَسِّعُ الْمَجْلِسَ، وَ يَسْتَقْرِضُ لِلْمُحْتَاجِ، وَ يُعِينُ الضَّعِيفَ»۔(۳۳)

حضرت امام ‌صادق علیه ‌السلام نے خداوند متعال کے اس قول «ہم تمہیں احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں» کے بارے میں فرمایا : «وہ مجلس میں جگہ دیتے اور ضرورت مندوں کو قرض دیتے اور مستضعف و ناتوان افراد کی مدد کرتے» ۔

قَالَ البَاقِرُ‌(عليه ‌السلام) : «عَظِّمُوا أَصْحَابَكُمْ وَ وَقِّرُوهُمْ، وَ لَا يَتَهَجَّمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَ لَا تُضَارُّوا ، وَ لَا تَحَاسَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَ الْبُخْلَ، كُونُوا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ» ۔ (۳۴)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : «اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا احترام کرو اور ان میں سے ایک دوسرے سے نزاع و اختلاف اور جارحیت کا مظاہرہ نہ کرے ، اور ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر نہ پہنچاؤ ، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اور بخل سے دوری کرو تا کہ خدا کے مخلص بندوں میں سے قرار پاؤ » ۔

امام ‌حسين علیه السلام کی جانب سے عذر قبول کرنا

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اجتماعی و سماجی آداب اور دور و نزدیک سے حسن معاشرت کے لحاظ سے بلند پایہ اور بے نظیر تھے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی خصلت یہ تھی کہ آپ عفو و درگذر کرنے سے سرشار تھے ۔

جمال‌الدّين محمد زرندی حنفی مدنی نے روايت كی ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے پدر گرامی امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 «اگر کوئی شخص میرے اس کان (آپ نے اپنے دائیں کان کی طرف اشارہ کیا) میں مجھے دشنام دے اور اور میرے دوسرے کان میں کوئی عذر پیش کرے تو میں اس کا عذر قبول کر لوں گا کیونکہ امير المؤمنين علی علیه ‌السلام نے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میرے لئے نقل فرمایا ہے :

«لَا يَرِدُ الْحَوْضَ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْعُذْرَ مِنْ مُحِقٍّ أَوْ مُبْطِلٍ» ۔ (۳۵)

«عذر قبول نہ کرنے والا حوض (كوثر) میں وارد نہیں ہو گا ؛ چاہے عذر لانے والا حق ہو یا باطل» ۔

بھائی کا احترام

امام‌ حسين علیه ‌السلام اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور اہلبیت سے نہایت ادب و احترام ، محبت و رحمت ، لطف و کرم اور انس و محبت سے پیش آتے ۔ ابن ‌قتيبه نے روايت کی ہے کہ ایک شخص سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت سے کسی چیز کی درخواست کی ۔

آنحضرت نے فرمایا : «سوال کرنا شائسته نہيں ہے مگر کسی سنگین قرض یا خوار کرنے والے فقر   یا  اس دیت و تاوان کی وجہ سے کہ جسے ادا نہ کرنا رسوائی کا باعث بنے» ۔

اس نے عرض کیا : میں آپ کی خدمت میں انہی میں سے ایک مورد کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔

امام حسن علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے سو دینار عطا کر دیئے جائیں ۔

پھر وہ شخص امام ‌حسين علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنضرت سے بھی سوال کیا ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس شخص سے اپنے بھائی کا سخن ہی بیان کیا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا : «میرے بھائی نے تمہیں کتنے پیسے دیئے ہیں؟» ۔

اس نے عرض کیا : سو دینار ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام نے اسے ننانوے دینار عطا کئے ؛ کیونکہ آپ اپنے بھائی کی برابری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ (۳۶)

احسان کا بدلہ احسان

ياقوت مستعصمی ؛  اَنَس سے روايت کرتے ہیں کہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«أَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى».

«تم خدا کے لئے آزاد ہو» ۔

میں نے عرض کیا : وہ کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ؟

آپ نے فرمایا : «خدا نے ہمیں ایسے ہی آداب سکھائے ہیں ؛ کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے :

﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ۔ (۳۷)

«اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ (سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب رکھنے والا ہے»۔  (۳۸)

 

حوالہ جات :

۱ ۔ محرّم‌ الحرام کی آمد پر پیغام؛ سنہ 1423ہجری ۔

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : ۳۵ ۔

۳ ۔ نعماني، الغيبه، ص41؛  مجلسی، بحارالانوار، ج2، ص77.

۴ ۔ ماہ محرم الحرام کی آمد پر پیغام ؛ سنہ 1420 ہجری ۔

۵ ۔ صفار، بصائر الدرجات، ص22؛ کليني، الکافي، ج1، ص30؛  حر عاملي، الفصول ‌المهمه، ج1، ص462؛ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص172 ۔

۶ ۔ ابن ‌شعبه حراني، تحف ‌العقول، ص199؛ مجلسي، بحار الانوار، ج1، ص175 ۔

۷ ۔ برقي، المحاسن، ج1، ص229؛ کلينی، الکافی، ج1، ص31 ۔

۸ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

۹ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

 ۱۰ ۔ کوفي، مناقب الامام ‌اميرالمؤمنين علیه‌السلام ، ج2، ص98، 105، 112، 114؛  طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج5، ص167؛  طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص216 ـ 217؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق المحرقه، ص149 – 150 ۔

 ۱۱ ۔ ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق ، ج14، ص184؛  ایضاً ، ترجمة ریحانة ‌الرسول الامام‌ الحسين (علیه ‌السلام) ، ص225؛ علایلي، سموالمعني، ص148 ۔

 ۱۲ ۔ ابن‌کثير ،  البداية و النهايه، ج8 ، ص162 ؛  ر.ک :  علایلي ، سموالمعني، ص99 ـ 100 ۔

۱۳ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ۔

۱۴ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ـ 102 ۔

۱۵ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص148 ۔

۱۶ ۔ کلینی، الکافی، ج 2 ، ص83 ۔

۱۷ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص83 ۔

۱۸ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۱۹ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۰ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۱ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۲ ۔ ابن‌ عبدالبر ، الاستیعاب ، ج1 ، ص397 ؛ ابن ‌اثیر جزری ، اسد الغابه ، ج2 ، ص20 ۔

۲۳ ۔ عقّاد ، ابو الشهداء ، ص145 ۔

۲۴ ۔ یعقوبی ، تاریخ ، ج2، ص226 ؛ سبط ابن جوزی ، تذکرة ‌الخواص ، ص211 ؛ ابی ‌الفداء ، تاریخ ، ج1 ، ص191 ۔

۲۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج  69، ص197 ـ 198 ؛ مرعشی نجفی ، شرح احقاق ‌الحق ، ج 11، ص 595؛ ج19 ، ص420ـ421 ؛ ج27 ، ص203 ۔

۲۶ ۔ ابن ‌طاووس ، اقبال ‌الاعمال ، ج  2، ص 74ـ87 ؛ کفعمی ، المصباح ، ص 671 ـ 681 ؛ ایضاً ، البلد الامین ، ص 251ـ258 ؛ مجلسی ، زاد المعاد ، ص 173ـ182 ۔

۲۷  ۔حميری قمی ، قرب ‌الاسناد ، ص117؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج70 ، ص303 ۔ 

۲۸ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص345 ۔ 

۲۹ ۔ ابن ‌بابویه ، فقه ‌الرضا علیه ‌السلام ، ص363 ؛ مفید ، الاختصاص ، ص253 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص355 ۔

۳۰ ۔ ابن عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج14 ، ص185 ، علايلی ، سمو المعنی ، ص151 ۔

۳۱ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي ‌طالب ، ج4 ، ص65 ؛ محدّث نوري ، مستدرک‌ الوسائل ، ج13 ، ص436 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص 151 ـ 152 ۔

۳۲ ۔کليني ، الکافي، ج2 ، ص637 ۔

۳۳ ۔ کلينی ، الکافی ، ج2 ، ص637 ؛ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج12 ، ص14 ۔

۳۴ ۔ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج14 ، ص15 ؛ ایضاً ، الفصول ‌المهمۃ ، ج3 ، ص355 ۔

۳۵ ۔ زرندی ، نظم درر السمطين ، ص209 ۔

۳۶ ۔ علایلی ، سمو المعنی ، ص152۔

۳۷ ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۸۶ ۔

۳۸ ۔ اربلی ، کشف ‌الغمه ، ج2 ، ص240 – 241 ؛ ابن ‌صباغ مالکی ، الفصول‌ المهمه ، ج2 ، ص786 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص159 ؛ عقّاد ، ابو الشہداء ، ص145 ۔

شنبه / 1 شهريور / 1399
عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے ميں زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسين عليہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كيا تو قيام كيا تاكہ پيغمبر(ص) كي سنت كو زندہ كريں اور اپنے نوراني بيان ميں قيام كے اس مقصد كي جانب اشارہ بھي فرمايا : اني لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) ميں فساد پھيلانے كے لئے نہيں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كي امت كي اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ ميرا ارادہ ہے كہ ميں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علي مرتضيٰ (ع) كي سنت كو زندہ كروں اور ان كي سيرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احياء 
امام حسين عليہ السلام كے بيانات ميں قيام كا ايك فلسفہ جس بنياد پر امام عليہ السلام نے كربلا كي عظيم عمارت تعمير كي ،يہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہي از منكر كے لئے قيام كيا اور اپني اس عظيم تحريك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض يعني امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو قرار ديا۔آپ نے فرمايا : اريد ان آمر بالمعروف وانھيٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسي طرح ايك اور مقام پر فرمايا : اللہم اني احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدايا ميں نيكيوں كو پسند كرتا ہوں اور برائيوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد ميں جدائي 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پيش نہ آئے حقيقي ديندار اور ايمان كا زباني دعويٰ كرنے والے نہيں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقيقت ميں وہ ميزان و معيار ہے جس كے ذريعہ حقيقي مومن اور زباني دعويٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زباني مسلمان اور حقيقي مسلمان كي پہچان نہ ہو اسلام كي حقيقي معرفت نہيں حاصل ہوسكتي جيسا كہ امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الديانون" لوگ دنيا كے غلام ہيں اور دين ان كي نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دينداروں كي تعداد كم ہو جاتي ہے۔ 
۴۔ عزت 
سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگي اور عزت كا كامل ترين نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگي اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگي كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختيار فرمايا ۔ آپ نے اپنے بليغ كلام ميں اس كي جانب اس طرح اشارہ فرمايا : ابن زياد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درميان ركھا ہے ليكن ذلت ہم سے دور ہے " ھيھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كي مخالفت 
عاشورا كے عظيم اہداف ميں سے ايك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كي ظالم و جابر حكومت معاويہ بن يزيد كے ہاتھوں ميں تھي ۔ اس لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمايا : " جو بھي كسي ظالم كو ديكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہي كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قيام نہ كرے تو خداوند كو يہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كي سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احياء
جو چيز دين كي بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقي كا باعث ہے ، راہ خدا ميں جہاد اور شہادت طلبي كا جذبہ ہے ۔ امام حسين عليہ السلام نے يہ بيان كرنے كے لئے كہ دين صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہيں ہے ، قيام كيا تاكہ دين خدا كي راہ ميں شہادت و فداكاري كے جذبے كو زندہ كريں اور لوگوں ميں شہادت طلبي كا جذبہ پيدا كركے ان كے دلوں سے دنيا كي محبت نكال ديں اور كربلا كے راستے ميں بارہا يہ جملہ ارشاد فرمايا : "فاني لا اريٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)ميري نظر ميں موت سعادت و خوشبختي ہے ۔ 
۷۔ معيشتي اور عسكري محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ايك اہم پيغام اپنے ايمان اور عقيدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معيشتي اور عسكري محاصرے ميں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسين عليہ السلام كو چاروں طرف سے گھير ليا گيا ، آپ پر پاني بند كر ديا گيا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے ديا گيا ليكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ايك قدم بھي پيچھے نہ ہٹايا ، اور كبھي شكست كا احساس نہ كيا ۔ اس لئے ايسے حالات ميں مسلم امت كا فريضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب ميں گرفتار ہو جائے تو امام حسين عليہ السلام كي اقتدا كرے اور اگر معيشتي پابندياں عائد كر دي جائيں تو مولائے كائنات كي پيروي كرے جيسا كہ آپ فرماتے ہيں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو ميں وہ نہيں ہوں كہ پيٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندي 
امام حسين عليہ السلام نے اپني نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندي كي تھي چاہے وہ بيعت سے انكار كرنے كي بات ہو يا مدينہ سے مكہ كي جانب كوچ كرنے كا فيصلہ اور پھر وہاں چند مہينے قيام كے بعد عراق كي جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كي بزرگ شخصيات كو خط لكھا اور انھيں اپني نہضت ميں شريك ہونے كي دعوت دي ، مكہ و منا يہاں تك كہ كربلا ميں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كيا اور انھيں اپني طرف بلايا ۔ يہ ساري تياري اپنے اس ہدف كے لئے تھي جو امام حسين عليہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئي عمل بغير تدبير و درايت اور منصوبہ بندي كے نہيں تھا يہاں تك كہ صبح عاشور امام حسين عليہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھيں الگ الگ ذمہ دارياں ديں اور لشكر كا سردار معين فرمايا ۔ (۸)
۹۔ وظيفہ كي ادائگي 
عاشور كے اس پيغام كي طرف توجہ بہت ضروري ہے تاكہ يہ پيغام ہمارے معاشرے ميں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كي ثقافت كا جز بن سكے ۔ يعني انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام ميں وہ كامياب ہو يا ناكام اسے اپنا وظيفہ انجام دينا چاہئے نتيجہ كي پرواہ نہيں كرني چاہئے ۔ كام كا نتيجہ كيا ہوگا يہ اہم نہيں ہے ۔ امام حسين عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں " ارجوا ان يكون خيراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) ميري خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے ميرے حق ميں ارادہ كيا ہے اسے ميرے لئے خير قرار دے چاہے ميں اس راہ ميں قتل كر ديا جاؤں يا ظاہري كاميابي حاصل ہو ۔ يعني امام حسين عليہ السلام نے جو كام انجام ديا وہ ان كے حق ميں خير تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كيا ۔ اگر فرض شناسي اور وظائف كي انجام دہي معاشرے ميں رائج ہو جائے تو كبھي بھي معاشرے ميں كوئي اقدار پامال نہيں ہوں گي ۔ 
۱۰۔ ولي اور قائد كي حمايت 
واقعہ عاشورا ميں ايك چيز جو سب سے زيادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كي حمايت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے بيعت اٹھا لي ليكن وہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھيں تنہا نہيں چھوڑا ۔ كربلا ميں جن لوگوں نے امام كي حمايت ميں زبان كھولي ہے ان كے بيان سے يہ پيغام بالكل واضح ہے ۔ حبيب بن مظاہر ، زھير بن قين اور ديگر لوگوں كا بيان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس عليہ السلام كے اشعار اس حمايت كي واضح دليل ہيں ۔ " اگر تم ہمارا داياں ہاتھ كاٹ بھي دو پھر بھي ميں امام كي حمايت سے دستبردار نہيں ہوں گا ۔ ميں اپنے دين اور امام برحق كي حمايت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھي زخمي ہونے كے بعد آخري سانسيں ليتے ہوئے حبيب بن مظاہر سے وصيت كي كہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت كريں اور ان كي راہ ميں اپني جان قربان كر ديں ۔ " اوصيك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) ميں تمھيں ان (امام حسين عليہ السلام ) كي وصيت كرتا ہوں كہ جب تك جان ميں جان رہے ان كي حمايت كرنا۔
۱۱۔ دنيا، دار امتحان ہے 
دنياوي تعلقات اور دنيا طلبي ہي تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان ميں مبتلا ہوتے ہيں تو اپنے فرض كو ادا نہيں كر پاتے اور دنيا انھيں اپني طرف كھينچ ليتي ہے ۔ يہ دنيا طلبي ہي تھي جس كي وجہ سے ابن زياد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جيسے لوگ امام حسين عليہ السلام كے مقابلے ميں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سياسي ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ري كے خواہاں اور امير كوفہ كے انعامات كے شيفتہ لوگوں نے امام حسين عليہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگين كر لئے ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے فرمايا : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتھم يحوطونہ ما درت معايشھم " (۱۲) لوگ دنيا كے غلام ہيں دين ان كي نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دين كي باتيں كرتے ہيں ليكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دين كا ساتھ چھوڑ ديتے ہيں ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنيا فانھا تقطع رجاء من ركن اليھا "(۱۳) دنيا تمھيں فريفتہ نہ كرے جو بھي دنيا پر بھروسہ كرے گا اس كي اميديں كبھي پوري نہيں ہوں گي ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے 
جيسا كہ قرآن كريم نے وعدہ كيا ہے اور روايت ميں بھي كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا ميں اس كا كاملترين مصداق ديكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن يزيد رياحي جو امام حسين عليہ السلام كو گھير كر كربلا ميں لے آيا اور خود لشكر يزيد ميں ايك ہزار سپاہيوں كا سردار تھا ليكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كي طرف پلٹ آيا اور امام حسين عليہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا ميں شامل كر ليا ۔ يہ واقعہ اس بات پر دليل ہے كہ انسان ہر حالت ميں حق و حقيقت كي طرف پلٹ سكتا ہے اور ہميشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كي رعايت 
معصومين عليھم السلام كي سيرت ميں يہ امر بہت ہي اہميت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا ميدان كارزار تھا ليكن وہاں بھي امام حسين عليہ السلام نے حقوق الناس كي رعايت كي ۔ آنحضرت نے كربلا كي زمين كو ان كے مالكوں سے خريدا اور اسے وقف كيا۔ زمين كربلا كا كل رقبہ چار ميل تھا (۱۴) اسي طرح عاشور كے دن يہ اعلان كيا كہ جو بھي كسي كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہي پر راضي رہنا 
رضائے الٰہي پر راضي رہنا عرفاء كے كمالات ميں سے ايك ہے ۔ اہلبيت(ع) كي ايك خاص صفت يہ تھي كہ ہميشہ خدا كي رضا پر راضي تھے اور خدا كي مرضي كو ہميشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسين عليہ السلام نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كي ۔ " صبراً عليٰ قضائك يا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدايا ميں تيري رضا پر راضي ہوں ، تيرے سوا كوئي معبود نہيں ہے ۔ اسي لئے اہلبيت(ع) كي مرضي كو خدا كي مرضي كہا گيا ہے جيسا كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرمايا : رضي اللہ رضانا اہل البيت " (۱۷) خدا كي مرضي ہم اہلبيت(ع) كي مرضي ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھيان نور ،جواد محدثي ،ص/۷۶
۹۔ اعيان الشيعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرين ، ذيل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعيان الشيعہ ،ج/۱،ص/۵۹

شنبه / 1 شهريور / 1399

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها