- مراسم عزاداری حضرت سید الشهدا علیه‌السلام همانند سال‌های گذشته و با شکوه‌تر برگزار خواهد شد. - وظیفه مبلّغان حوزه علمیه در ترویج مکارم اخلاق در بین مردم بسیار سنگین و مهم است. - احیای امر به معروف و نهی از منکر، زمینه‌ساز رفع نواقص جامعه است...
چهارشنبه: 1397/06/28 - (الأربعاء:9/محرم/1440)

عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے ميں زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسين عليہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كيا تو قيام كيا تاكہ پيغمبر(ص) كي سنت كو زندہ كريں اور اپنے نوراني بيان ميں قيام كے اس مقصد كي جانب اشارہ بھي فرمايا : اني لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) ميں فساد پھيلانے كے لئے نہيں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كي امت كي اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ ميرا ارادہ ہے كہ ميں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علي مرتضيٰ (ع) كي سنت كو زندہ كروں اور ان كي سيرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احياء 
امام حسين عليہ السلام كے بيانات ميں قيام كا ايك فلسفہ جس بنياد پر امام عليہ السلام نے كربلا كي عظيم عمارت تعمير كي ،يہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہي از منكر كے لئے قيام كيا اور اپني اس عظيم تحريك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض يعني امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو قرار ديا۔آپ نے فرمايا : اريد ان آمر بالمعروف وانھيٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسي طرح ايك اور مقام پر فرمايا : اللہم اني احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدايا ميں نيكيوں كو پسند كرتا ہوں اور برائيوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد ميں جدائي 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پيش نہ آئے حقيقي ديندار اور ايمان كا زباني دعويٰ كرنے والے نہيں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقيقت ميں وہ ميزان و معيار ہے جس كے ذريعہ حقيقي مومن اور زباني دعويٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زباني مسلمان اور حقيقي مسلمان كي پہچان نہ ہو اسلام كي حقيقي معرفت نہيں حاصل ہوسكتي جيسا كہ امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الديانون" لوگ دنيا كے غلام ہيں اور دين ان كي نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دينداروں كي تعداد كم ہو جاتي ہے۔ 
۴۔ عزت 
سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگي اور عزت كا كامل ترين نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگي اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگي كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختيار فرمايا ۔ آپ نے اپنے بليغ كلام ميں اس كي جانب اس طرح اشارہ فرمايا : ابن زياد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درميان ركھا ہے ليكن ذلت ہم سے دور ہے " ھيھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كي مخالفت 
عاشورا كے عظيم اہداف ميں سے ايك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كي ظالم و جابر حكومت معاويہ بن يزيد كے ہاتھوں ميں تھي ۔ اس لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمايا : " جو بھي كسي ظالم كو ديكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہي كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قيام نہ كرے تو خداوند كو يہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كي سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احياء
جو چيز دين كي بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقي كا باعث ہے ، راہ خدا ميں جہاد اور شہادت طلبي كا جذبہ ہے ۔ امام حسين عليہ السلام نے يہ بيان كرنے كے لئے كہ دين صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہيں ہے ، قيام كيا تاكہ دين خدا كي راہ ميں شہادت و فداكاري كے جذبے كو زندہ كريں اور لوگوں ميں شہادت طلبي كا جذبہ پيدا كركے ان كے دلوں سے دنيا كي محبت نكال ديں اور كربلا كے راستے ميں بارہا يہ جملہ ارشاد فرمايا : "فاني لا اريٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)ميري نظر ميں موت سعادت و خوشبختي ہے ۔ 
۷۔ معيشتي اور عسكري محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ايك اہم پيغام اپنے ايمان اور عقيدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معيشتي اور عسكري محاصرے ميں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسين عليہ السلام كو چاروں طرف سے گھير ليا گيا ، آپ پر پاني بند كر ديا گيا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے ديا گيا ليكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ايك قدم بھي پيچھے نہ ہٹايا ، اور كبھي شكست كا احساس نہ كيا ۔ اس لئے ايسے حالات ميں مسلم امت كا فريضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب ميں گرفتار ہو جائے تو امام حسين عليہ السلام كي اقتدا كرے اور اگر معيشتي پابندياں عائد كر دي جائيں تو مولائے كائنات كي پيروي كرے جيسا كہ آپ فرماتے ہيں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو ميں وہ نہيں ہوں كہ پيٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندي 
امام حسين عليہ السلام نے اپني نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندي كي تھي چاہے وہ بيعت سے انكار كرنے كي بات ہو يا مدينہ سے مكہ كي جانب كوچ كرنے كا فيصلہ اور پھر وہاں چند مہينے قيام كے بعد عراق كي جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كي بزرگ شخصيات كو خط لكھا اور انھيں اپني نہضت ميں شريك ہونے كي دعوت دي ، مكہ و منا يہاں تك كہ كربلا ميں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كيا اور انھيں اپني طرف بلايا ۔ يہ ساري تياري اپنے اس ہدف كے لئے تھي جو امام حسين عليہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئي عمل بغير تدبير و درايت اور منصوبہ بندي كے نہيں تھا يہاں تك كہ صبح عاشور امام حسين عليہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھيں الگ الگ ذمہ دارياں ديں اور لشكر كا سردار معين فرمايا ۔ (۸)
۹۔ وظيفہ كي ادائگي 
عاشور كے اس پيغام كي طرف توجہ بہت ضروري ہے تاكہ يہ پيغام ہمارے معاشرے ميں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كي ثقافت كا جز بن سكے ۔ يعني انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام ميں وہ كامياب ہو يا ناكام اسے اپنا وظيفہ انجام دينا چاہئے نتيجہ كي پرواہ نہيں كرني چاہئے ۔ كام كا نتيجہ كيا ہوگا يہ اہم نہيں ہے ۔ امام حسين عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں " ارجوا ان يكون خيراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) ميري خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے ميرے حق ميں ارادہ كيا ہے اسے ميرے لئے خير قرار دے چاہے ميں اس راہ ميں قتل كر ديا جاؤں يا ظاہري كاميابي حاصل ہو ۔ يعني امام حسين عليہ السلام نے جو كام انجام ديا وہ ان كے حق ميں خير تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كيا ۔ اگر فرض شناسي اور وظائف كي انجام دہي معاشرے ميں رائج ہو جائے تو كبھي بھي معاشرے ميں كوئي اقدار پامال نہيں ہوں گي ۔ 
۱۰۔ ولي اور قائد كي حمايت 
واقعہ عاشورا ميں ايك چيز جو سب سے زيادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كي حمايت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے بيعت اٹھا لي ليكن وہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھيں تنہا نہيں چھوڑا ۔ كربلا ميں جن لوگوں نے امام كي حمايت ميں زبان كھولي ہے ان كے بيان سے يہ پيغام بالكل واضح ہے ۔ حبيب بن مظاہر ، زھير بن قين اور ديگر لوگوں كا بيان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس عليہ السلام كے اشعار اس حمايت كي واضح دليل ہيں ۔ " اگر تم ہمارا داياں ہاتھ كاٹ بھي دو پھر بھي ميں امام كي حمايت سے دستبردار نہيں ہوں گا ۔ ميں اپنے دين اور امام برحق كي حمايت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھي زخمي ہونے كے بعد آخري سانسيں ليتے ہوئے حبيب بن مظاہر سے وصيت كي كہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت كريں اور ان كي راہ ميں اپني جان قربان كر ديں ۔ " اوصيك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) ميں تمھيں ان (امام حسين عليہ السلام ) كي وصيت كرتا ہوں كہ جب تك جان ميں جان رہے ان كي حمايت كرنا۔
۱۱۔ دنيا، دار امتحان ہے 
دنياوي تعلقات اور دنيا طلبي ہي تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان ميں مبتلا ہوتے ہيں تو اپنے فرض كو ادا نہيں كر پاتے اور دنيا انھيں اپني طرف كھينچ ليتي ہے ۔ يہ دنيا طلبي ہي تھي جس كي وجہ سے ابن زياد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جيسے لوگ امام حسين عليہ السلام كے مقابلے ميں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سياسي ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ري كے خواہاں اور امير كوفہ كے انعامات كے شيفتہ لوگوں نے امام حسين عليہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگين كر لئے ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے فرمايا : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتھم يحوطونہ ما درت معايشھم " (۱۲) لوگ دنيا كے غلام ہيں دين ان كي نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دين كي باتيں كرتے ہيں ليكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دين كا ساتھ چھوڑ ديتے ہيں ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنيا فانھا تقطع رجاء من ركن اليھا "(۱۳) دنيا تمھيں فريفتہ نہ كرے جو بھي دنيا پر بھروسہ كرے گا اس كي اميديں كبھي پوري نہيں ہوں گي ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے 
جيسا كہ قرآن كريم نے وعدہ كيا ہے اور روايت ميں بھي كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا ميں اس كا كاملترين مصداق ديكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن يزيد رياحي جو امام حسين عليہ السلام كو گھير كر كربلا ميں لے آيا اور خود لشكر يزيد ميں ايك ہزار سپاہيوں كا سردار تھا ليكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كي طرف پلٹ آيا اور امام حسين عليہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا ميں شامل كر ليا ۔ يہ واقعہ اس بات پر دليل ہے كہ انسان ہر حالت ميں حق و حقيقت كي طرف پلٹ سكتا ہے اور ہميشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كي رعايت 
معصومين عليھم السلام كي سيرت ميں يہ امر بہت ہي اہميت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا ميدان كارزار تھا ليكن وہاں بھي امام حسين عليہ السلام نے حقوق الناس كي رعايت كي ۔ آنحضرت نے كربلا كي زمين كو ان كے مالكوں سے خريدا اور اسے وقف كيا۔ زمين كربلا كا كل رقبہ چار ميل تھا (۱۴) اسي طرح عاشور كے دن يہ اعلان كيا كہ جو بھي كسي كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہي پر راضي رہنا 
رضائے الٰہي پر راضي رہنا عرفاء كے كمالات ميں سے ايك ہے ۔ اہلبيت(ع) كي ايك خاص صفت يہ تھي كہ ہميشہ خدا كي رضا پر راضي تھے اور خدا كي مرضي كو ہميشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسين عليہ السلام نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كي ۔ " صبراً عليٰ قضائك يا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدايا ميں تيري رضا پر راضي ہوں ، تيرے سوا كوئي معبود نہيں ہے ۔ اسي لئے اہلبيت(ع) كي مرضي كو خدا كي مرضي كہا گيا ہے جيسا كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرمايا : رضي اللہ رضانا اہل البيت " (۱۷) خدا كي مرضي ہم اہلبيت(ع) كي مرضي ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھيان نور ،جواد محدثي ،ص/۷۶
۹۔ اعيان الشيعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرين ، ذيل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعيان الشيعہ ،ج/۱،ص/۵۹

مصائب عاشورا

(مرحوم حضرت آيت ‌اللّه آخوند ملا محمد جواد صافی گلپايگانی ‌(قدس سره) کے بیانات سے اقتباس)

پہلی مصيبت

جب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے دونوں بازو قلم ہو گئے اور آپ کی آنکھ میں تیر پیوست ہو گیا ، اور آپ کا بدن مطہر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے اس طرح چھلنی ہو چکا تھا کہ جس طرح شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ۔ آپ بچوں کے لئے جو پانی لا رہے تھے وہ زمین پر بہہ گیا : آيِساً مِنَ الحَيَاةِ  وَ قَرِيباً  إِلَى الْمَمَاةِ ، آپ زندگی سے ناامید اور موت کے قریب تھے کہ ایک ملعون لوہے کا گرز لے کر سامنے آیا اور جب اس نے دیکھا کہ عباس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو اس نے نہ خدا و رسول سے شرم کی اور نہ ہی اس مظلوم پر رحم کیا اور وہ گرز اپنی پوری قوت سے آپ کے سر اقدس پر مارا کہ آپ کا مغز  آپ کے شانوں پر گر گیا ۔

چو دشت بلا از غمش تار شد
ور افتاد با سينه چاک‌چاک
 

 

کشيد آه و از زين نگون‌سار شد
به‌ سر باد خاکم، ز زين روي خاک
 

 

 حضرت عباس نے آواز دی : يَا أَخَاه ! أَدْرِكْ أَخَاكَ الْعَبَّاسَ ۔ اے بھائی ! اپنے بھائی عباس کی مدد کو پہنچئے ۔ جب امام ‌حسين علیہ السلام نے اپنے بھائی کی فریاد سنی تو ایک  آہ بلند کی اور جگر سوز فریاد کی : «اَلْآنَ انْکَسَرَ ظَهْرِي وَ انْقَطَعَ رَجَائِي وَ قَلَّتْ حِيلَتِي». وَأَتَی زَيْنَبُ، فَنَادَتْ: «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔ (۱)

’’ اب میری کمر ٹوٹ گئی ، میری امید دم توڑ گئی ، میرا حیلہ اور چارہ جوئی کم ہو گئی ‘‘ ۔ اور جب حضرت زینب کبریٰ نے حضرت عباس کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔

دوسری مصيبت

آپ سب نے سنا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ عاشورا کے دن (لشکر حسین علیہ السلام میں سے ) چند لوگوں پر پتھر برسائے گئے کہ جن میں سے ایک قاسم بن حسن ہیں کہ جن کے نازک اور پھول سے بدن پر پتھر برسائے گئے اور ان کے جسم کو تیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے ان کے بچپن ، بے کسی ، غریب الوطنی ، یتیمی اور ان کی پیاس پر رحم نہ کیا ۔

آه آه ۔ وا اسَفاه ! کتاب بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ حميد‌ بن مسلم کہتا ہے : میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جو چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا اور جس کی نعلین کا ایک بند کھلا ہوا تھا اور اس پر لشکر نے ہر طرف سے بھیڑیوں کی طرح حملہ کر دیا لیکن جب وہ نوجوان حملہ کرتا تو لشکر اس طرح سے بھاگ جاتا کہ جیسے بھیڑیں کسی شجاع شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں ۔ عمر بن سعد ازدی نے کہا : ان لوگوں کے گناہ مجھ پر ہوں  اگر مجھے موقع ملے اور میں اسے قتل نہ کروں ۔ پس اسے موقع ملا اور اس نے پیچھے سے قاسم پر حملہ کیا اور اس طرح قاسم کے سر پر تلوار سے وار کیا کہ قاسم کا سر شگافتہ ہو گیا ۔ لشکر نے قاسم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے پھول سے نازک بدن کو نیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور جب گھوڑے سے گرے تو فریاد کی : يَا عَمَّاهُ ! أَدْرِکْنِي ۔اے چچا ! میری مدد کو پہنچئے ۔

امام‌ حسين‌ علیه‌السلام ایک غضبناک شیر کی طرح ان کی طرف روانہ  ہوئے ۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو ملعون ؛ قاسم کا سر جدا کرنا چاہتا تھا ۔  آپ نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کا ہاتھ  کاٹ دیا ۔

 اس نے لشکر سے مدد مانگی اور اس کی قوم نے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لیا  اور اسی جنگ میں قاسم کا بدن گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال ہو گیا ۔ اور جب لشکر حیدر صفدر کے حملوں سے منتشر ہو گیا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے پاس آئے ، جب کہ قاسم کے جسم میں کچھ رمق باقی تھی ، اور اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے تھے ؛ فَبَکَی الْحَسَيْنُ‌ (علیه‌السلام) وَ قَالَ : «وَاللهِ يَعِزُّ عَلَی عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يُعِينُكَ أَوْ يُعِينُكَ فَلَا يُغْنِي عَنْكَ».

 پس حسیں علیہ نے گریہ کیا اور فرمایا : ’’ خدا کی قسم ! تمہارے چچا کے لئے بہت ناگوار ہے کہ تم اسے پکارو ، لیکن وہ تمہیں جواب نہ دے سکے ، یا جواب دے لیکن تمہاری مدد نہ کر سکے ، یا تمہاری ممد کے لئے آئے لیکن وہ تمہیں بے نیاز نہ سکے ‘‘ ۔

تیسری مصيبت

صديقۂ صغریٰ فرماتی ہیں :

لَيَتَ‌ السَّمَاءَ طُبِقَتْ عَلَی الْأَرْضِ

وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدْکَدَکَتْ عَلَی السَّهْلِ   (۲)

 «اے کاش ! آسمان ، زمین پر گر پڑتا  اور اے کاش ! پہاڑ ، دشت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتے» ۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرے اور آپ کا بدن مطہر خاک و خون میں غلطاں تھا ۔ عبد الله ‌بن ‌الحسن اپنے چچا کو اس حال میں میں دیکھ کر سخت بے قراری و بے تابی کے عالم میں امام علیہ السلام  کی طرف دوڑے ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «يَا اُخْتَاه ! أَحْبِسِيهِ» ؛ «اے میری بہن ! عبد الله کو روکو کہ وہ اس مصیبت انگیز بیابان میں نہ آئے اور خود کو تیروں اور تلواروں کا ہدف قرار نہ دے» ۔

جناب زينب نے عبد اللہ بن حسن کو پکڑا اور انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن عبد اللہ بن حسن نے بہت اصرار کیا  اور کہا : لَا وَ اللهِ ! لَا أُفَارِقُ عَمِّيِ ۔ خدا کی قسم ! میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ خود کو جناب زینب سے چھڑا کر امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔

اسی وقت ابن ‌کعب لعنۃ اللہ علیہ نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار سے حملہ کرنا چاہا ، فَقَالَ لَهُ: وَيْلَكَ يَا بْنَ الْخَبِيثَة! أَ تَقْتُلُ عَمِّي؛ عبد الله بن حسن نے کہا : اے زانيه کے بیٹے ! کیا تم میرے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ (وہ اپنے چچا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ) انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چچا کے لئے ڈھال بنایا لیکن اس ملعون نے تلوار سے وار کیا جس سے عبد اللہ بن حسن کے ہاتھ کٹ گئے ۔پس انہوں نے آواز دی : يا عمّاه ! امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے انہیں پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «يَا ابْنَ أَخِي! اِصْبِرْ عَلَی مَا نَزَلَ بِكَ وَاحْتَسِبْ فِي ذَلِكَ الْخَيْر فَإِنَّ‌ اللهَ يَلْحَقُكَ بِآبَائِكَ الصَّالِحِينَ» ۔ (۳)  ’’ اے میرے بھتیجے ! تم پر جو مصیبت بھی آئے اس پر صبر کرو ، اور اس میں خیر ہی سمجھو ، اور بیشک خدا تمہیں تمہارے صالح آباء و اجداد کے ساتھ ملحق فرمائے ‘‘۔

جب عبد اللہ بن حسن ، امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں تھے تو حرملہ ملعون نے ایک تیر چلا کہ جس سے عبد اللہ بن حسن کی شہادت واقع ہو گئی ۔

پس آن‌سان ظالمي تيري رها کرد                                 که اندر مقتل شه‌زاده جا کرد

ندانم شاه را چون گشت احوال                                                که اينجا، عقل مات و نطق شد لال

چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

چوتھی مصيبت

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے علی اکبر کو دیکھا کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ، جس کا سر شگافتہ ہے ، جس کے ہونٹ خشک ہیں اور جو خاک و خون میں غلطاں ہو کر جان دے رہا ہے تو آپ نے بے ساختہ ایسی فریاد کی کہ دوست اور دشمن سبھی ان کی حالت پر روئے ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے خود کو گھوڑے سے گرا دیا ’’وَ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی خَدِّه ‘‘ ، اور اپنا چہرا ان کے چہرے پر رکھ دیا ، اور جب آپ نے بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کے چہرے پر اپنا چہرا رکھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شمس و قمر کی آپس میں ملاقات ہو رہی ہو ۔

راوی کہتا ہے : کچھ دیر کے بعد ہی امام حسین علیہ السلام نے اپنا چہرا اٹھایا تو علی اکبر کے سر سے خون ان کے چہرے پر جاری ہوا ۔

يقين شد صافي آن‌سان حالت شاه                                                          که اشکش شد بماهي آه بر ماه

پانچویں مصيبت

امام‌ حسين‌ علیه‌ السلام آخری دم تک صابر اور قضاء الٰہی پر راضی تھے اور آنحضرت سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دیا جائے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف راغب نہیں ہو گا اور میں اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

اور شاید آپ نے یہ کلمات اس وقت بیان فرمائے کہ جب آپ صالح بن وہب کے نیزے کی ضرب سے گھوڑے کی زین سے زمین پر آئے ۔

جگر تفتيده با چشمان نمناک
گُهر ريزان ز ديده لعل مي‌سُفت
تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا
 

 

فتاد آن هيکل توحيد بر خاک
به‌ شکر وصل در آن حال مي‌گفت
وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا
 

 

چھٹی مصيبت

جب علی بن الحسین علیہما السلام (علی اکبر علیہ السلام) کا بدن مبارک زخموں کی کثرت اور خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تو ایک ملعون کو موقع ملا ، اس نے اپنی تلوار سے آپ کے سر اقدس پر وار کیا کہ جس سے بہت گہرا زخم لگا اور (یہ دیکھ کر )سارا لشکر جری ہو گیا ، لشکر نے چاروں طرف سے حملہ کیا ، اور انہیں تیروں اور تلواروں کا نشانہ بنایا ۔ جب جناب علی اکبر کی طاقت جواب دے گئی تو آپ نے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈالیں اور نیچے کی جانب جھک گئے اور گھوڑے کی لگام چھوڑ دی ، گھوڑ ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور وہ جس سوار کے پاس بھی پہنچتا تھا وہ آپ کے بدن مبارک پر حملہ کر کے زخمی کرتا تھا ۔ فَقَطَّعُوهُ بِسُيُوفِهِمْ إِرْباً إِرْباً ؛ ان کے بدن مطہر کو تلواروں سے پارہ پارہ کر دیا ۔ پس جناب علی اکبر  گھوڑے سے زمین پر آئے تو آواز دی : يَا أَبَتَاه! هَذَا جَدِّي رَسُولُ اللهِ قَد سَقَانِي بِکَأْسِهِ الْأَوْفَى.اے بابا جان ! یہاں مرے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موجود ہیں کہ جنہوں نے مجھے اپنے جام سے سیراب فرمایا ہے ‘‘

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے کی فریاد سنی تو آپ نے جگر سوز فریاد کی اور فرمایا : «قَتَلَ اللهُ قَوْماً قَتَلُوكَ» ؛ ( ۴)

گفت: اي جان پدر روحي فداک                               باد بر دنيا پس از مرگ تو خاک

ساتویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام ان تمام مصائب ، مشکلات ، تکالیف اور سختیوں (اگر یہ  پہاڑوں پر پڑتیں تو وہ اس کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے) پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا عالم ، بدن پر بے شمار زخم ، ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے کہ جو آپ کے بدن پر ایک کے بعد ایک زخم لگا رہے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود آپ بار بار خدا کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں : «صَبْراً عَلَی بَلَائِكَ وَ رِضاً بِقَضَائِكَ» ؛ ’’ خدایا ! میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر ہوں اور تیری رضا پر راضی ہوں ‘‘  اور آپ خشک زبان  اور سوختہ جگر سے کبھی پانی طلب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :

«وَاعَطَشَاه ! وَاقِلَّةَ نَاصِرَاه ! يَا قَوْمِ !ِ اِسْقُونِي شَرْبَةً مِنَ الْمَاءِ قَبْلَ طُلُوعِ رُوحِي مِنْ جَسَدِي»؛

«اے بے مروت لوگو! اے بے رحم لوگو ! مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو ، اس سے پہلے کہ مرے جسم سے میری روح پرواز کر جائے» ۔

به سبط پيمبر خدا را ثوابي                             گذاريد منّت به يک جرعه آبي

شد از تيغ و خنجر دلم پاره‌پاره                        شده زخم‌هايم فزون از ستاره

شما را گر از قتل من نيست چاره                   دهيد آب، رحمي به حال خرابي

بده مهلت اي شمر تا مادر آيد                      رها کن مگر باب من بر سر آيد

ز خيمه به بالين من خواهر آيد                     مکن بي‌مروّت به قتلم شتابي

آٹھویں مصیبت 

امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف نہیں جائے گا اور اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

نمودم ترک مردم را جميعاً در هواي‌ تو                          يتيم‌ و دربه‌در کردم عيال خود براي ‌تو
نمایي پاره‌پاره‌گر مرا اندر ره‌ عشقت                                           دلم هرگز نخواهد رفت سوي ما‌سواي ‌تو 

آه آه! مجھے نہیں معلوم کہ امام حسین علیہ السلام نے کس وقت یہ کلمات بیان فرمائے ؛ کیا اس وقت یہ کلمات بیان فرمائے کہ جب سہ شعبہ تیر آپ کے قلب مبارک پر پیوست ہو گیا اور جس سے ناودان (پرنالہ) کی طرح خون جاری ہو گیا اور آپ نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے چہرے اور داڑھی پر مل لیا اور فرمایا : «هَکَذَا أَکُونُ حَتَّی اَلْقَی جَدِّي رَسُولَ اللهِ وَ (أَنَا مَخْضُوبٌ بِدَمی ) و َ أَقُوُلَ قَتَلَنِي فُلَانٌ وَ فُلاَنٌ » ؛ (۵)

خدا کی قسم !میں اسی خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ملاقات کروں گا اور کہوں گا : اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مجھے فلاں فلاں نے قتل کیا ہے ۔

یا آپ نے اس وقت یہ کلمات بیان کئے کہ جب صالح بن وہب  لعنۃ اللہ علیہ نے آپ کے پہلو میں اس طرح سے نیزہ  مارا کہ آپ گھوڑے کی زین سے زمین پر آ گئے ۔

چو پهلو شد ز جنب‌الله پاره                                       ز عين‌الله بر مه شد ستاره

شد اندر ذات حقّ چون باب ممسوس                          فتاد از صدر زين با آه و افسوس

نویں مصیبت

اگر صحرائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مطہر زخمی نہ ہوتا ، اور آپ کے سر اقدس کو بدن اطہر سے جدا نہ کیا جاتاتب بھی  آپ کی شہادت کے لئے وہ تیر ہی کافی تھا کہ جو آپ کے دل میں پیوست ہو گیا ۔ جب ابو الحتوف ملعون نے کمان سے ایک تیر چلایا جو آپ کی پیشانی مبارک پر آ کر لگا  اور ایک روایت کے مطابق کہ اس  نے آپ کی پیشانی مبارک پر ایسا پتھر مارا کہ پیشانی شگافتہ ہو گئی ۔

ز کف ، سنگين‌دلي ، سنگي رها کرد                       به پيشاني وجه‌الله جا کرد

چو  پيشاني  وجه ‌الله  بشکست                               به عين‌الله، خون، راه نظر بست

         پر از خون گشت روي شاه اطهر                            چو  در  روز  اُحد  روي  پيمبر

آپ کے چہرے اور داڑھی پر خون جاری ہوا ، اور آپ نے اپنے  چہرۂ اقدس سے خون  صاف کرنے کے لئے دامن سے زرہ ہٹائی اور اپنے پیراہن کو کھینچا تو آپ کا قلب مبارک درخشاں آفتاب کی مانند نمایاں ہوا ؛ فَأَتَاهُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ لَهُ ثَلَاثَةُ شُعَبٍ ؛ (۶) ’’ایک سہ شعبہ زہر آلود تیر آیا ۔

چو دامان کرد بالا، شد نمايان                                    يکي تيري سه‌پَر از شصت بدخواه
چو آن تير از قفايش سر به ‌در کرد                                ندانم رفت چون بر شاه مظلوم
چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     دل پر نور، يعني عرش رحمن
رها گشت و نشست اندر دل شاه                                   دل پاک پيمبر را خبر کرد
دل نازک کجا و تير مسموم                                        بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

دسویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور سخت مصائب میں سے ایک آپ کا آخری وداع اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے رخصت ہونا ہے ۔ آپ تصور کریں کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی کیا حالت اور کیا کیفیت رہی ہو گی ، جب وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کے اب کبھی حسین کو نہیں دیکھ پائیں گے مگر جب حسین خاک و خون میں غلطاں ہوں گے  اور حسین کا سر نیزے پر بلند ہو گا ۔ اس وقت نہ کوئی یاور و انصار ، نہ کوئی ناصر و مددگار  ہو گا ،  اس وقت سب  بیکس و لاچار اور بے یار و مددگار   ہوں گے  ، اور ایک بیابان ہے ہو گا کہ جس میں سنگدل  اور بے رحم دشمن ہو گا۔ 

قَالَتْ سَکِينَةُ: يَا أَبَتَاه! اِسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ ؛

سکينه نے عرض کیا : اے بابا جان ! کیا آپ موت کی طرف جا رہے ہیں ؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«کَيْفَ لَا يَسْتَسْلِمُ (لِلْمَوْتِ) مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَ لَا مُعِينَ» ؛ (۷)

«وہ کیسے موت کی طرف نہ جائے کہ جس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو؟» ۔

سکینہ نے اپنے سر پر ماتم کرتے ہوئے  نوحہ و گریہ کی بنیاد رکھی ۔

امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے فرمایا :

لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكَ حَسْرَةً                         مَادَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي

(اے سکینہ جان ! ) اپنے حسرت بھرے آنسؤں سے میرے دل کو مٹ جلاؤ کہ جب میرے جسم میں روح موجود ہے ۔

فَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي                          تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ النِّسْوَانِ  (۸)

اور جب میں قتل ہو جاؤں تو تم سب سے زیادہ مجھ پر رونے کی مستحق ہو ، اے سب سے بہترین نسواں ۔

حوالہ جات

۱ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص42 ۔

 ۲ ۔ ابن ‌طاووس ، اللہوف ، ص73 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص54 ۔

۳ ۔ طبری ، تاريخ ، ج 4 ، ص344 ؛ مفيد ، الارشاد ، ج2 ، ص110 ؛ ابن ‌نما حلی ، مثیر ‌الاحزان ، ص55 ـ 56 ۔

 ۴ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص44 ؛ بحرانی اصفہانی ، عوالم ‌العلوم ، ص286 ـ 287۔

 ۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص53 ۔

 ۶ ۔ ابن‌ طاووس ، اللہوف ، ص71 ؛ امين عاملی ، اعيان ‌الشيعه ، ج 1، ص 610 ؛ ایضاً ، لواعج ‌الاشجان ، ص187 ۔

۷ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص47 ۔

۸ ۔ ابن ‌شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، ج4 ، ص109ـ 110۔

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

رسالت عاشورائی (۱)

مبلغین کی عاشورائی رسالت

ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت

مرحوم آیت اللہ العظمی حائزی یزدی (قدس سرہ) کی کاوشوں سے سنہ ۱۳۴۰ ہجری میں قم کے قدیمی حوزۂ علمیہ کی تجدید عمل میں لائی گئی ۔ اس حوزۂ علمیہ میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ  ساتھ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے کہ جس میں بزرگ اساتید ، علماء ، آیات عظام ، مؤلفین ، خطباء ، واعظین اور برجستہ مبلغین شہروں ، دیہاتوں اور ہر سماج کو تبلیغ ، معارف دین  اور  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ احکام اسلام سے روشناس کروانے کواپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے وہ مکتب حسینی اور ذکر مصائب اہلبیت علیہم السلام سے  لوگوں کی باطنی اور پاکیزہ رغبت اور بالخصوص کربلا کے جانسوز واقعہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اور ماہ مبارک رمضان کے علاوہ ماہ محرم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر مصائب سے کربلا کی بے نظیر نہضت و تحریک کے مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ اسّی سال سے زائد عرصے سے  تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے جوکہ انحرافات ، کج روی ، کج فہمی ، بدعات اور دوسری برائیوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ حوزۂ علمیہ باطل کے ابطال اور عقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ سے سماج میں مؤثر اور کارساز رہا ہے ۔

تبلیغ کے متعلق اہم نکات

تبلیغ کے متعلق ایسے اہم نکات کہ جنہیں جاننا چاہئے :

بندۂ حقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ تبلیغ کے متعلق کچھ ایسے نکات بھی بیان کئے جائیں کہ جو شاید بعض حضرات کی نظر میں مخفی اور پنہاں نہ ہوں:

1ـ مخاطبین کو ان اہم مطالب سے خبردار کریں:

اب کچھ ایسے حالات درپیش ہیں کہ اسلام اور کفر میں ایک طرح کی تازہ کشمکش دکھائی دیتی ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران ، اسلامی تفکر کا احیاء و تجدید ، مسلمانوں کا اسلامی استقلال کی طرف رجحان ، دیرینہ عظمت کی طرف بازگشت  اور المختصر یہ کہ عام بیداری ؛ اور بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقہ کا بیدار ہونا اور اس کے علاوہ کچھ دیگر موارد باعث بنیں ہیں کہ اسلام کے دشمن تقریباً پہلی جنگ عظیم کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی ممالک پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے ان ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے ان پر قبضہ کر لیا ۔ لہذا اب وہ اپنے قبضہ اور تسلط کے خاتمہ سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام خواہی کے نام پر مسلمانوں کی مخالفت اور انہیں نابود کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اس مقصد کے لئے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغات  کے علاوہ مختلف قسم کے آشکار و مخفی اور سیاسی و اقتصادی وسائل بروئے کار لائے حتی انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔

لہذا مسلمانوں کو استقامت، صبر، پائيداری اور خداوند متعال  کی نصرت سے دشمنوں پر غلبہ پانے کی امیددلانی چاہئے اور انہیں اس کی تشویق و ترغیب کرنی چاہئے ۔

غرب گرائی (Westernization) ، مغربی سماج کی عادات کی پیروی ، ان کی تقلید حتی لباس اور ظاہری طور پر معمولی اور چھوٹے نظر آنے والے امور سے لے کر اہم امور تک سب میں ان کی تقلید کرنا جیسے عورتوں اور مردوں کے درمیان مخلوط نظام  کی ترویج ، مختلف قسم کے نعرے ، منجملہ عورتوں سے تبعیض کا خاتمہ ، یا آزادی بیان کے نام پر مطلق آزادی ، شریعت کے بعض احکام کو پامال کرنا، موسیقی کی ترویج ، شریعت سے بے اعتناء ہنرمندوں اور اسلامی شعار سے بیزاری کا اظہار کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر تشویق ؛ یہ سب اسلامی ہویّت و شناخت کوبدلنے یا اسے کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔

مسلمانوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ غرب گرائی کی جانب ترجحان کے خطرات کی طرف توجہ کریں لیکن بد قسمتی سے ان میں کافی وسعت آ چکی ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسلامی ہویّت اور شناخت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں اور ہر حال میں ہر جگہ اس کے پابند رہیں اور اس پر ناز کریں ۔ اسلام ، قرآن ، تشیع اور ولایت ائمہ علیہم السلام پر افتخار کریں ۔ تمدن اور اسلامی اخلاق کو ہر تمدن اور اخلاق سے برتر سمجھیں»۔  (۱)

امام حسین علیہ السلام کی راہ ؛ قرآن کی راہ ہے ، احکام پر عمل کرنے کی راہ ہے ، اسلام اور توحید پر افتخار کرنے کی راہ ہے ، خدا پر ایمان رکھنے کی راہ ہے ۔ یہ راہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ کفر و بت پرستی ، شرک یزدان و اہرمن ، فرعون و نمرود اور جمشید کے استکبار کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ فساد ، فرسودہ نظام ، گناہوں اور ان امور پر فخر کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ تجمل پرستی ، اسراف  ، تکبر ، استکبار اور لوگوں کو حقیر شمار کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام ؛ قرآنی پیغام ہے کہ جس میں حقیقی اقدار کے لحاظ سے عورت و مرد میں مساوات ہے :

’’إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً‘‘(۲)

«بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ، اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں ، اور صابر مرد اور صابر عورتیں ، اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں ، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والی عورتیں ،  اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کر رکھا ہے » ۔

جو سماج اور معاشرہ امام حسین علیہ السلام کی راہ پر گامزن ہو ؛ وہاں ان امور اور اقدار پر افتخار کیا جاتا ہے اور ان اقدار میں مرد اور خواتین نہ صرف ہم پلہ ہوتے ہیں بلکہ ان اقدار میں وہ  ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اور ان کا مختلف مجالس و محافل ، کالج ، یونیورسٹیوں اور دفاتر وغیرہ میں ( جہاں اجنبی حضرات سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے ) میں مخلوط ہونا مسلمان عورت کی شأن ، پارسائی اور اسلامی تربیت سے سازگار نہیں ہے ۔ مغرب زدگی یعنی مغرب کی اندھی تقلید انسان کی ہویّت و شناخت اور اس کی شخصیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ماہ محرم و صفر میں علماء و فضلا ، اساتید اور خطباء کو چاہئے کہ وہ اپنے مواعظ ، بیانات اور تقاریر میں لوگوں کو ان بنیادی اور اہم مطالب کی طرف متوجہ کریں ۔

2ـ تبلیغ  کے بنیادی اصولوں کو پہچانیں

تقاریر ، خطابات اور بیانات میں یہ معانی خیز حدیث مبارک واضح ہے کہ :

«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَامْسِکُوا عَمَّا یُنْکِرونَ». (۳)

«لوگوں کے لئے وہی چیزیں بیان کریں کہ جنہیں وہ جانتے ہیں اور ایسی چیزیں بیان کرنے سے گریز کریں کہ جن کے وہ منکر ہو جائیں» ۔

یہ حدیث ایک دستور العمل ہے اور مقتضائے حال کی بناء پر کلام و تکلّم میں بلاغت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ تبلیغ کے دوران انبیاء علیہم السلام کا بھی یہی منشور رہا ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ ہر علاقہ کا جائزہ لیا جائے اور وہاں کی دینی اور مذہبی کمزوریوں کو ( اگر وہاں دینی و مذہبی کمزوریاں موجود ہوں تو) پہنچانا جائے اور تقاریر و بیانات اور خطابات کے دوران شائستہ انداز میں ان ضعف نکات کر برطرف کرنے کی طرف توجہ کی جائے ۔

3 ۔ جوانوں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں

جوانوں ، نوجوانوں اور طالب علموں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں اور والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پذیرائی کریں اور تسلی و اطمینان سے ان کی باتوں اور ان کے سوالات کو سنیں اور ان کے جوابات دیں ۔(۴)

عاشورائی دروس

درس معرفت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ؛ أَلَا وَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ». (۵)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ علم حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے» ۔

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (عليه ‌السلام) : «أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ كَمَالَ الدِّينِ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ بِهِ وَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ أَوْجَبُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ، إِنَّ الْمَالَ مَقْسُومٌ بَیْنَکُمْ مَضْمُونٌ لَكُمْ قَدْ قَسَمَهُ عَادِلٌ بَيْنَكُمْ وَضَمِنَهُ سَيَفِي لَكُمْ وَ الْعِلْمُ مَخْزُونٌ عَلَیْکُمْ عِنْدَ أَهْلِهِ قَدْ أُمِرْتُمْ بِطَلَبِهِ مِنْهُمْ فَاطْلُبُوهُ» ۔ (۶)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : «اے لوگو ! جان لو کہ دین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے ۔ اور بیشک تم پر مال کےحصول سے زیادہ علم کا حصول واجب ہے ، مال تم میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی ضمانت دی جا چکی ہے اور ایک عادل شخص نے اسے تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے اور جلد ہی اس پر وفا کریں گے ، لیکن علم و دانش کو اہل علم اور دانشوروں کے پاس رکھا گیا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے علم طلب کرو ، پس ان سے طلب کرو» ۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ مِنْكُمْ فِي الدِّينِ فَهُوَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾» ۔ (۷)

« دین میں تفقہ ، بصیرت اور آگاہی حاصل کرو ؛ تم میں سے جو دین میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو وہ اعرابی اور بادیہ نشین ہے ۔ خداوند عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ’’ اور دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو انہیں عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح سے ڈرنے لگیں».

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «عَلَيْكُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي دِينِ الله وَلَا تَكُونُوا أَعْرَاباً فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي دِينِ اللهِ، لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُزَكِّ لَهُ عَمَلاً» ۔ (۸)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «تم پر لازم ہے کہ خدا کے دین میں تفقہ کرو ( یعنی دین میں بصیرت اور آگاہی حاصل کرو) اور اعرابی نہ بنو ( یعنی تمدن و ثقافت سے دور بادیہ نشین نہ رہو) ؛ کیونکہ جو شخص دین میں بصیرت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ، خداوند قیامت کے دن اس پر نظررحمت نہیں کرے گا اور اس کے عمل کو پاکیزہ نہیں کرے گا»۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (عليه ‌السلام) : «لَوَدِدْتُ أَنَّ أَصْحَابِي ضُرِبَتْ رُءُوسُهُمْ بِالسِّيَاطِ حَتَّى يَتَفَقَّهُوا» ۔ (۹)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ اپنے اصحاب کہ سروں  پر تازیانے ماروں تا کہ وہ دین میں تفقہ اور بصیرت حاصل کریں» ۔

مکتب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شاگرد

اس بارے میں معتبر روایات دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کو مخصوص علم تعلیم دیا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور علی علیہ السلام کے خط سے لکھی گئی کتاب سے ہمیشہ اس خاندان تطہیرنے استناد کیا اور اس کی طرف رجوع کیا ۔ حقیقت میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات و تبلیغات اور ان کی سیرت و اسلوب معاشرے کی تربیت اور انسانیت کی ہدایت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مکمل و متمم ہدف تھا۔

مشہور اور متواتر حدیث ’’حدیثِ ثقلین‘‘(۱۰)کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام امت کو ان بزرگ ہستیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حدیث شریف کی رو سے اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی علمی صلاحیت ظاہر و آشکار ہو جاتی ہے ۔

ان کے علاوہ اہلسنت سے بھی اس بارے میں دوسری بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ مکتب نبوت کے تربیت شدہ افراد میں سے علی علیہ السلام نے دوسرے تمام اصحاب کی بنسبت سب سے زیادہ انوار نبوت سے استفادہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علمی مسائل اور مشکلات میں علی علیہ السلام ہی سب کے لئے مرجع ہیں اور تمام شرعی علوم آنحضرت پر منتہی ہوتے ہیں ۔

حضرت امام علی علیه ‌السلام کے بعد امامت اور علمی و دینی رہبری کا ‏منصب الٰہی آپ کے بیٹوں حضرت امام ‌حسن ‌مجتبی اور سید الشہداء حضرت امام ‌حسين علیہ السلام کو حاصل تھا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اسلامی مسائل ، علوم تفسیر اور شرعی احکام میں لوگوں کے لئے پناہگاہ تھے اور آپ کے سخن قاطع و مقبول اور آپ کی روش و اسلوب نمونہ و میزان تھی ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام ؛ چراغ اسلام

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

خوارج میں سے فرقۂ ازارقہ کے سربراہ نافع بن ازرق نے امام‌حسين‌‏‌علیه‌ السلام سے ‏عرض كیا :

آپ اپنے خدا کی توصیف بیان کریں کہ جس کی آپ پرستش کرتے ہیں !۔

امام‌ حسين‌‏ علیه ‌السلام نے فرمایا :

«يَا نَافِعُ إِنَّ مَنْ وَضَعَ دينَهُ عَلَی الْقِيَاسِ لَمْ يَزَلِ الدَّهرَ فِي الْإِلْتِبَاسِ مَائِلاً نَاكِباً عَنِ الْمِنْهَاجِ ظَاعِناً بِالْإِعْوِجَاجِ ضَالّاً عَنِ السَّبِيلِ قَائِلاً غَيْرَ الْجَمِيلِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ أَصِفُ إِلَهِي بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَعْرِفُهُ بِمَا عَرَفَ بِهِ نَفْسَهُ، لَا يُدْرَكُ بِالْحَواسِّ وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ، قَرِيبٌ غَيْرُ مُلْتَصِقٍ، وَبَعِيدٌ غَيْرُ مُسْتَقْصِي، يُوَحَّدُ، وَلَا يُبَعَّضُ، مَعْرُوفٌ بِالْآيَاتِ، مَوْصُوفٌ بِالْعَلَامَاتِ، لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالُ»؛

«اي نافع! جو شخص بھی اپنے دین کی بنیاد قیاس پر رکھے ؛ وہ پوری عمر غلطی پر ہی رہے گا اور راہ سے منحرف ہو جائے گا ، کج روی اختیار کرے گا اور گمراہ ہو جائے گا اور نازیبا کلمات کہے گا ۔ اے ابن ازرق! میں اس چیز سے خدا کی توصیف کرتا ہوں کہ جس سے اس نے خود اپنی توصیف بیان فرمائی ہے ۔ اسے نہ تو حواس سے درک کیا جائے اور نہ ہی لوگوں پر اس کا قیاس کیا جائے ۔ وہ نزدیک ہے لیکن کسی چیز سے متصل اور ملحق شدہ نہیں ہے ۔ اور وہ دور ہے لیکن اس نے دوری اختیار نہیں کی ( خداوند متعال کی دوری و نزدیکی ؛ دوسری مخلوقات و موجودات کی دوری و نزدیکی کی مانند نہیں ہے ۔ اس کی دوری و نزدیکی مادی حواس کے ذریعے قابل درک نہیں ہے ) ۔ وہ یگانہ ہے لیکن وہ تبعیض اور تجزیہ و ترکیب سے مبرّا ہے ، وہ کچھ نشانیوں سے پہچانا گیا ہے اور کچھ علامتوں سے اس کی توصیف کی جاتی ہے اور خدائے کبیر و متعال کے سوا کوئی خدا نہیں ہے».

ابن‌ ازرق نے روتے ہوئے کہا :

یَا حُسَیْنُ مَاأَحْسَنَ كَلَامَكَ؛

اے حسین ! آپ کا کلام کس قدر خوبصورت ہے!

امام حسين علیه ‌السلام نے فرمایا : «مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میرے پدر اور میرے بھائی کے سامنے میرے کفر کی گواہی دیتے ہو!».

ابن‌ازرق نے کہا : أَمَا وَاللهِ یَا حُسَیْنُ لَئِنْ کَانَ ذَلك لَقَدْ کُنْتُمْ مَنَارَ الْإِسْلَامِ وَنُجُومَ الْأَحْکَامِ ۔ (۱۱)

اے حسین ‌(علیه‌ السلام) ! اگر مجھ سے یہ نازیبا حرکت صادر ہوئی ! تو بیشک آپ اسلام کے چراغ اور احکامِ خدا کے ستارے ہیں ۔

یعنی لوگوں کو آپ کے علوم و معارف کے انوار سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہئے اور تاریکی میں آپ کے وجود کے ستاروں سے ہدایت پانی چاہئے ۔

امام حسين علیه‌ السلام ؛ شمع بزم عالمان

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱۲)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۳)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

اس کے بعد علايلی لکھتے ہیں : حسين ‌(علیه‌ السلام)  كثير الحديث و الروايه تھے ۔ اس زمانے میں اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہت سارے اصحاب حدیث نقل کرتے تھے لیکن لوگ سب کو چھوڑ کر حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں آتے ۔ اس کے بعد علایلی نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کچھ احادیث نقل کی ہیں ۔ (۱۴)

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا :

إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ۔ (۱۵)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

درس عبادت

احادیث

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ غِنًى وَلَا أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ وَعَلَيَّ أَنْ أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَمْلَأَ قَلْبَكَ خَوْفاً مِنِّي وَ إِنْ لَا تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ شُغُلاً بِالدُّنْيَا ثُمَّ لَا أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ» ۔ (۱۶)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : « توریت میں لکھا ہے : اے ابن آدم ! تمہاری توجہ میری عبادت و بندگی کی طرف رہے  تو میں تمہارے دل کو بے نیازی سے بھر دوں گا اور تمہیں تمہاری طلب اور جستجو میں نہیں چھوڑوں گا ، اور تمہاری ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لوں گا اور تمہارے دل کو اپنے خوف سے بھر دوں گا ، اور اگر تمہاری توجہ میری عبادت کی طرف نہ ہوئی تو میں تمہارے دل کو دنیا میں مشغول ہونے سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کی چارہ جوئی  نہیں کروں  گا اور تمہیں تمہاری طلب پر چھوڑ دوں گا » ۔

قَالَ الصَّادِقُ ‌‌(عليه ‌السلام) : «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا عِبَادِيَ الصِّدِّيقِينَ ! تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي الدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ تَتَنَعَّمُونَ بِهَا فِي الْآخِرَةِ» ۔ (۱۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «خداوند نے فرمایا : اے میرے سچے اور حقیقی بندو ! دنیا میں میری عبادت کے ذریعے نعمتیں حاصل کرو اور بیشک اسی کے ذریعے تمہیں جنت میں بھی نعمتیں ملیں گی» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبَادَةَ فَعَانَقَهَا وَأَحَبَّهَا بِقَلْبِهِ وَبَاشَرَهَا بِجَسَدِهِ، وَتَفَرَّغَ لَهَا فَهُوَ لَا يُبَالِي عَلَى مَا أَصْبَحَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى عُسْرٍ أَمْ عَلَى يُسْرٍ» ۔ (۱۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «لوگوں میں افضل وہ ہے جو عبادت کا عاشق ہو اور  اسے اخذ کر لے اور اسے دل سے دوست رکھتا ہو اور بدن سے انجام دیتا ہو اور وہ اس کے لئے فارغ ہو اور اس کی مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو اور دنیا کی سختی و آسانی کو اہمیت نہ دے»۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «إِنَّ الْعُبَّادَ ثَلَاثَةٌ : قَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَوْفاً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى طَلَبَ الثَّوَابِ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأُجَرَاءِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حُبّاً لَهُ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَارِ وَهِيَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ» ۔ (۱۹)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «عبادت کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں : ایک گروہ خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، یہ غلاموں کی عبادت ہے ؛ کچھ لوگ ثواب کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ اجیر شدہ افراد کی عبادت ہے ؛ اور ایک گروہ خدا کی محبت میں خداوند عزوجل کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کی سب سے افضل قسم ہے » ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَقْبَحَ الْخَطِيئَةَ بَعْدَ الْمَسْكَنَةِ، وَأَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ الْعَابِدُ لِلّٰهِ ثُمَّ يَدَعُ عِبَادَتَهُ» ۔ (۲۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «غنی و بے نیاز ہونے کے بعد فقر کس قدر قبیح ہے ، اور بدبختی و ناداری کے بعد گناہ کس قدر قبیح ہے ، اور اس سے بھی قبیح وہ عابد ہے کہ جو خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دے » ۔

قَالَ السَّجَّادُ‌ (عليه ‌السلام) : «مَنْ عَمِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ» ۔ (۲۱)

 حضرت امام سجاد  نے فرمایا : «جو شخص خدا کی جانب سے واجب کردہ  امور پر عمل کرے ؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد ہے » ۔

امام حسین علیه‌السلام ؛ سید العابدین

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

«حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۲۲)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے» ۔ (۲۳)

عقّاد کہتے ہیں : «حسین علیہ السلام پنجگانہ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں بھی بجا لاتے اور ماہ رمضان کے روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے ، اور آپ نے کسی بھی سال حج کو ترک نہیں کیا مگر یہ کہ آپ اسے ترک کرنے پر مجبور ہوں» ۔ (۲۳)

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۲۴) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي نَعَّمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاکِراً ، وَابْتَلَیْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً ، فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْکِ الشُّکْرِ ، وَلَا (أَنْتَ) أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ، إِلَهِي مَا يَکُونُ مِنَ الْکَرِيمِ إِلَّا الْکَرَمُ» ۔ (۲۵)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا» ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ (۲۶)

درس سخاوت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ‌ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ» ۔ (۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «سخاوت ؛ بہشت میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ، وہ اسے جنت میں لے جاتی ہے ، اور بخل ؛ جہنم میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ؛ وہ اسے جہنم میں لے جاتی ہے» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ طَيٍّ: «دُفِعَ عَنْ أَبِيكَ الْعَذَابُ الشَّدِيدُ لِسَخَاوَةِ نَفْسِهِ» ۔(۲۸)

پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عدی بن حاتم طائی سے فرمایا : «تمہارے باپ کی سخاوت کی وجہ سے اس سے سخت عذاب اٹھا لیا گیا» ۔

قَالَ الرِّضَا (عليه‌ السلام) : «إِيَّاكَ وَالسَّخِيَّ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْخُذُ بِیَدِهِ» ۔ (۲۹)

‌حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : «کہیں کسی سخی کی سرزنش نہ کرنا کہ خداوند اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے » ۔

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ.

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۳۰)

میں تمہارا قرض ادا کروں گا

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۳۱)

درس حسن معاشرت 

احاديث:

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «يَا شِيعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ عِنْدَ غَضَبِهِ، وَمَنْ لَمْ يُحْسِنْ صُحْبَةَ مَنْ صَحِبَهُ، وَمُخَالَقَةَ مَنْ خَالَقَهُ، وَمُرَافَقَةَ مَنْ رَافَقَهُ، وَمُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَهُ، وَمُمَالَحَةَ مَنْ مَالَحَهُ» ۔ (۳۲)

حضرت امام‌صادق علیه‌السلام نے فرمایا : « اے آل محمد کے شیعو اور پیروکارو ! جان لو کہ وہ شخص  ہم میں سے نہیں ہے کہ جو شخص غصہ کے عالم میں خود پر حاکم اور مسلط نہ ہو ، اور جو اپنے ہم نشینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے ، اور جو اپنے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر مہربانی نہ کرے ، اور جو اپنے رفقاء اور دوستوں کی دوستی کا جواب دوستی سے نہ دے اور جو اپنے پڑوسیوں کا احترام نہ کرے اور پڑوسیوں کے حقوق کی رعائت نہ کرے اور جو کسی کے نمک کے حق کی رعائت نہ کرے » ۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (علیه ‌السلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾، «کَانَ يُوَسِّعُ الْمَجْلِسَ، وَ يَسْتَقْرِضُ لِلْمُحْتَاجِ، وَ يُعِينُ الضَّعِيفَ»۔(۳۳)

حضرت امام ‌صادق علیه ‌السلام نے خداوند متعال کے اس قول «ہم تمہیں احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں» کے بارے میں فرمایا : «وہ مجلس میں جگہ دیتے اور ضرورت مندوں کو قرض دیتے اور مستضعف و ناتوان افراد کی مدد کرتے» ۔

قَالَ البَاقِرُ‌(عليه ‌السلام) : «عَظِّمُوا أَصْحَابَكُمْ وَ وَقِّرُوهُمْ، وَ لَا يَتَهَجَّمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَ لَا تُضَارُّوا ، وَ لَا تَحَاسَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَ الْبُخْلَ، كُونُوا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ» ۔ (۳۴)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : «اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا احترام کرو اور ان میں سے ایک دوسرے سے نزاع و اختلاف اور جارحیت کا مظاہرہ نہ کرے ، اور ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر نہ پہنچاؤ ، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اور بخل سے دوری کرو تا کہ خدا کے مخلص بندوں میں سے قرار پاؤ » ۔

امام ‌حسين علیه السلام کی جانب سے عذر قبول کرنا

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اجتماعی و سماجی آداب اور دور و نزدیک سے حسن معاشرت کے لحاظ سے بلند پایہ اور بے نظیر تھے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی خصلت یہ تھی کہ آپ عفو و درگذر کرنے سے سرشار تھے ۔

جمال‌الدّين محمد زرندی حنفی مدنی نے روايت كی ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے پدر گرامی امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 «اگر کوئی شخص میرے اس کان (آپ نے اپنے دائیں کان کی طرف اشارہ کیا) میں مجھے دشنام دے اور اور میرے دوسرے کان میں کوئی عذر پیش کرے تو میں اس کا عذر قبول کر لوں گا کیونکہ امير المؤمنين علی علیه ‌السلام نے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میرے لئے نقل فرمایا ہے :

«لَا يَرِدُ الْحَوْضَ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْعُذْرَ مِنْ مُحِقٍّ أَوْ مُبْطِلٍ» ۔ (۳۵)

«عذر قبول نہ کرنے والا حوض (كوثر) میں وارد نہیں ہو گا ؛ چاہے عذر لانے والا حق ہو یا باطل» ۔

بھائی کا احترام

امام‌ حسين علیه ‌السلام اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور اہلبیت سے نہایت ادب و احترام ، محبت و رحمت ، لطف و کرم اور انس و محبت سے پیش آتے ۔ ابن ‌قتيبه نے روايت کی ہے کہ ایک شخص سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت سے کسی چیز کی درخواست کی ۔

آنحضرت نے فرمایا : «سوال کرنا شائسته نہيں ہے مگر کسی سنگین قرض یا خوار کرنے والے فقر   یا  اس دیت و تاوان کی وجہ سے کہ جسے ادا نہ کرنا رسوائی کا باعث بنے» ۔

اس نے عرض کیا : میں آپ کی خدمت میں انہی میں سے ایک مورد کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔

امام حسن علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے سو دینار عطا کر دیئے جائیں ۔

پھر وہ شخص امام ‌حسين علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنضرت سے بھی سوال کیا ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس شخص سے اپنے بھائی کا سخن ہی بیان کیا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا : «میرے بھائی نے تمہیں کتنے پیسے دیئے ہیں؟» ۔

اس نے عرض کیا : سو دینار ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام نے اسے ننانوے دینار عطا کئے ؛ کیونکہ آپ اپنے بھائی کی برابری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ (۳۶)

احسان کا بدلہ احسان

ياقوت مستعصمی ؛  اَنَس سے روايت کرتے ہیں کہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«أَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى».

«تم خدا کے لئے آزاد ہو» ۔

میں نے عرض کیا : وہ کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ؟

آپ نے فرمایا : «خدا نے ہمیں ایسے ہی آداب سکھائے ہیں ؛ کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے :

﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ۔ (۳۷)

«اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ (سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب رکھنے والا ہے»۔  (۳۸)

 

حوالہ جات :

۱ ۔ محرّم‌ الحرام کی آمد پر پیغام؛ سنہ 1423ہجری ۔

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : ۳۵ ۔

۳ ۔ نعماني، الغيبه، ص41؛  مجلسی، بحارالانوار، ج2، ص77.

۴ ۔ ماہ محرم الحرام کی آمد پر پیغام ؛ سنہ 1420 ہجری ۔

۵ ۔ صفار، بصائر الدرجات، ص22؛ کليني، الکافي، ج1، ص30؛  حر عاملي، الفصول ‌المهمه، ج1، ص462؛ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص172 ۔

۶ ۔ ابن ‌شعبه حراني، تحف ‌العقول، ص199؛ مجلسي، بحار الانوار، ج1، ص175 ۔

۷ ۔ برقي، المحاسن، ج1، ص229؛ کلينی، الکافی، ج1، ص31 ۔

۸ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

۹ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

 ۱۰ ۔ کوفي، مناقب الامام ‌اميرالمؤمنين علیه‌السلام ، ج2، ص98، 105، 112، 114؛  طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج5، ص167؛  طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص216 ـ 217؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق المحرقه، ص149 – 150 ۔

 ۱۱ ۔ ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق ، ج14، ص184؛  ایضاً ، ترجمة ریحانة ‌الرسول الامام‌ الحسين (علیه ‌السلام) ، ص225؛ علایلي، سموالمعني، ص148 ۔

 ۱۲ ۔ ابن‌کثير ،  البداية و النهايه، ج8 ، ص162 ؛  ر.ک :  علایلي ، سموالمعني، ص99 ـ 100 ۔

۱۳ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ۔

۱۴ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ـ 102 ۔

۱۵ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص148 ۔

۱۶ ۔ کلینی، الکافی، ج 2 ، ص83 ۔

۱۷ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص83 ۔

۱۸ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۱۹ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۰ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۱ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۲ ۔ ابن‌ عبدالبر ، الاستیعاب ، ج1 ، ص397 ؛ ابن ‌اثیر جزری ، اسد الغابه ، ج2 ، ص20 ۔

۲۳ ۔ عقّاد ، ابو الشهداء ، ص145 ۔

۲۴ ۔ یعقوبی ، تاریخ ، ج2، ص226 ؛ سبط ابن جوزی ، تذکرة ‌الخواص ، ص211 ؛ ابی ‌الفداء ، تاریخ ، ج1 ، ص191 ۔

۲۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج  69، ص197 ـ 198 ؛ مرعشی نجفی ، شرح احقاق ‌الحق ، ج 11، ص 595؛ ج19 ، ص420ـ421 ؛ ج27 ، ص203 ۔

۲۶ ۔ ابن ‌طاووس ، اقبال ‌الاعمال ، ج  2، ص 74ـ87 ؛ کفعمی ، المصباح ، ص 671 ـ 681 ؛ ایضاً ، البلد الامین ، ص 251ـ258 ؛ مجلسی ، زاد المعاد ، ص 173ـ182 ۔

۲۷  ۔حميری قمی ، قرب ‌الاسناد ، ص117؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج70 ، ص303 ۔ 

۲۸ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص345 ۔ 

۲۹ ۔ ابن ‌بابویه ، فقه ‌الرضا علیه ‌السلام ، ص363 ؛ مفید ، الاختصاص ، ص253 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص355 ۔

۳۰ ۔ ابن عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج14 ، ص185 ، علايلی ، سمو المعنی ، ص151 ۔

۳۱ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي ‌طالب ، ج4 ، ص65 ؛ محدّث نوري ، مستدرک‌ الوسائل ، ج13 ، ص436 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص 151 ـ 152 ۔

۳۲ ۔کليني ، الکافي، ج2 ، ص637 ۔

۳۳ ۔ کلينی ، الکافی ، ج2 ، ص637 ؛ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج12 ، ص14 ۔

۳۴ ۔ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج14 ، ص15 ؛ ایضاً ، الفصول ‌المهمۃ ، ج3 ، ص355 ۔

۳۵ ۔ زرندی ، نظم درر السمطين ، ص209 ۔

۳۶ ۔ علایلی ، سمو المعنی ، ص152۔

۳۷ ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۸۶ ۔

۳۸ ۔ اربلی ، کشف ‌الغمه ، ج2 ، ص240 – 241 ؛ ابن ‌صباغ مالکی ، الفصول‌ المهمه ، ج2 ، ص786 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص159 ؛ عقّاد ، ابو الشہداء ، ص145 ۔

روزہ مباہلہ
(فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْانَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ)

عید مباہلہ کی مناسبت سے خصوصی تحریر

( فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْ انَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ )

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اپنی رسالت پر قوّت ایمان کے دلائل و مظاہر میں سے ایک ’’ واقعہ مباہلہ ‘‘ ہے ۔ کیونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود مباہلہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لہذا اگر آپ کو خود اپنی دعوت پر ایمان نہ ہوتا تو گویا آپ  خود اپنے دشمن کو اپنی دعوت کے باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم کر دیتے ۔ چونکہ مباہلہ دو صورتوں سے خالی نہیں تھا یا آنحضرت کے حق میں نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہو جاتی  ، اور دوسری صورت یہ تھی کہ نہ تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نفرین مستجاب ہوتی اور نہ ہی نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہوتی ،  ان دونوں صورتوں میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا  دعوی آشکار طور پر باطل ہو جاتا ۔نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی عقل مند  کبھی بھی ایسی تجویز پیش نہیں کرے گا اور لوگوں کو اپنے دعوے کی باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم نہیں کرے گا مگر یہ کہ اسے اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور اپنے دشمن کی ہلاکت کا سو فیصد اطمینان اور یقین ہو ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے رسالت و نبوت کی حقانیت ، اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور مباہلہ کی صورت  میں اپنے دشمن کی ہلاکت و نابودی کا یقین کامل تھا ؛ جس کی وجہ سے آپ نے کمال شجاعت و صراحت سے مباہلہ کی تجویز پیش کی ۔

مباہلہ میں حضرت علی ، حضرت حسن ، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ علیہم السلام کو خدا کے حکم اور تعیین کے ذریعے شریک کیا گیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مباہلہ میں شریک ہونے والے یہ انوار اربعہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محترم و مکرم ہیں اور یہ مخلوقات میں سب سے شائستہ مخلوق ہیں ، اور یہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔

آیۂ مباہلہ خدا کے نزدیک ان ہستیوں کے مقام و مرتبہ کی جلالت اور خاص تقرب کا اعلان ہے ۔ بزرگ مفسرین اور محدثین و مؤرخین نے تفسیر و حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں واقعۂ مباہلہ کو نقل کیا ہے ۔ اور یہاں اس واقعہ کے مصادر اور اسناد بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم یہاں چند کتابوں کے نام ذکر کرتے ہیں تا کہ اگر کوئی شخص  چاہئے تو ان کی طرف رجوع کر سکے :

تفسير طبری ، بيضاوی ، نيشابوری ، كشاف ، الدرالمنثور ، اسباب النزول واحدی ، اكليل سيوطی ، مصابيح السنة ، سُنن ترمذی اور ان کے علاوہ دیگر کتب ۔

 

منبع:  کتاب ’’پرتوی از عظمت امام حسین علیه السلام ‘‘ تألیف :  آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی

غدير سےظہور تک
دھہ مبارک ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمی صافی کے سلسلہ وار نوشتہ جات /4

مكتب غدیر ( در حقیقت ) مكتب جہاد ، مكتب ایمان ، مكتب قرآن اور تمام انبیاء کے استمرار کا مکتب ہے ۔

غدیر ایک ایسی راہ ہے کہ جس سے صرف حقیقت کی طرف گامزن افراد ہی گذرتے ہیں۔ خوف و خطر اور تاریکی و ضلالت کی وادی میں گمشدہ افراد کو چاہئے کہ وہ خود کو اس مقصد اور منزل تک پہنچائیں۔

 

  • ہرگز منقطع نہ ہونے والا نظام

غدیر میں جلوہ گر ہونے والا عام نظام ایک ایسا نظام ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری و ساری ہے اور جو ہرگز منقطع نہیں ہو گا اور زمین کبھی بھی اس نطام کے صاحب ، سربراہ اور رہبر سے خالی نہیں رہے گی ۔

صفحه‌ٔ غدیر کا ابھی تک اختتام نہیں ہوا ہے اور یہ صاحب غدیر کے آخری وارث کے ظہور موفور السرور تک جاری رہے گا اور عاشقان غدیر ؛ فرزند غدیر کے ہم رکاب جانفشانی کے لئے منتظر ہیں ۔

جی ہاں !  غدیر ؛ روز میثاق اور انسانیت کے آقا و مولا اور دنیائے بشریت کے مظلوموں کی دادرسی کرنے والے یگانہ امام سے کی گئی بیعت کی تجدید کا دن ہے ۔

 

  • بعثت سے  غدیر تک اور غدیر سے ظہور تک

غدیر ایک ایسا دن ہے کہ جوعظمت کے اعتبار سے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روزِ بعثت کے ہم پلہ ہے ۔ دونوں آغاز ہیں اور دونوں یوم الله الاكبر ہیں ۔

اور دونوں دنوں کی طرح تیسرا دن منجی عالم بشریت ، آخر الزمان میں یگانہ مصلح ، عدل کل ، موعود رسل قائم آل محمد حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور پر نور کا دن ہے ۔ مہدی موعود عجل اللہ فرجہ الشریف ایک ایسی بلند پایہ شخصیت کہ انبیاء اور آسمانی صحف نے جن کے ظہور کی بشارت دی ہے ، اور «یمْلَأُ الأرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً» (1) ان سے مختص اوصاف میں سے ایک ہے ، اور اسی طرح «هُوَ الّذی یفْتَحُ اللهُ عَلى یدَیهِ مَشَارِقَ الأرْضِ وَ مَغَارِبَها» (2) ان کے قیام اور اقدامات کا منشور ہے ۔

 

  • خطبۂ غدیر میں ظہور کی بشارت

جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے معنی و مفہوم سے لبریز خطبہ میں بارہا حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی عادلانہ  حکومت کی بشارت دی ہے ، اسی طرح صاحب غدیر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے مختلف مقامات اور مختلف مواقع پر بارہا اس غدیر کے امتداد و اسمترار کا اعلان کیا ہے ۔

 

  • صاحب الامر علیہ السلام کے وجود کی بشارت کے بارے میں اہم علوی خطبہ 

مولائے کائنات امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے غدیر جیسے نورانی اور معرفت بخش خطبہ میں راہ غدیر کے استمرار و تسلسل کو برقرار رکھنے والی ہستی یعنی ؛ حضرت بقیة الله الاعظم ارواح العالمین له الفدا کی بشارت دی ہے ۔ لہذا مناسب ہے کہ ہم یہاں اس مقام پر مختصر طور پر اس خطبہ کو بیان کریں :

 بزرگ مؤرخ اور دانشور مسعودی نے اپنی کتاب ’’مروج الذہب‘‘ (جو عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے کہ جس کی جانب علماء اسلام اور مسلم و غیر مسلم محققین رجوع کرتے ہیں اور جسے اہم مصادر میں شمار کیا جاتا ہے) کے مقدمہ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے ایک خطبہ نقل کیا ہے کہ جو اعلی مطالب اور شریف مضامین پر مشتمل ہے ، البتہ اس کے کچھ حصوں کے لئے تفسیر و شرح اور بیان کی ضرورت ہے اور اس کی تفسیر و شرح بیان کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ کچھ ہی ایسے بزرگ افراد یہ کام کر سکتے ہیں کہ جو ہمیشہ سے انگشت شمار رہے ہیں ۔ (3)

اس خطبہ کا آغاز کائنات اور انسان کی خلقت کے بیان سے شروع ہوتا ہے اور اس خطبہ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شأن و عظمت کو بہت عظیم جملوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور جب آنحضرت کے وجود مبارک کے نورانی امتیاز کی بات آتی ہے تو یہ جملہ بیان فرماتے ہیں کہ جو آنحضرت سے خدا کا خطاب ہے :

« أنْتَ الْمُخْتَارُ الْمُنْتَخَبُ، وَ عِنْدَكَ مُسْتَوْدَعُ نُورِی‌ وَ كُنُوزُ هِدَایتِی‌. مِنْ أجْلِكَ اُسَطِّحُ الْبَطْحَاءَ، وَ اُمَوِّجُ الْمَاءَ، وَ أرْفَعُ السَّمَاءَ ....»

اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے مقام و منزلت اور مرتبہ کے تعارف کے لئے اس سے زیادہ جامع اور کافی جملہ کوئی نہیں ہے ؛ یہ خدا کا خطاب اور خدا کا اعلان و ابلاغ ہے ۔

پھر آپ اہم مطالب بیان فرماتے ہیں اور آنحضرت اور اہبیت عصمت و رسالت علیہم السلام کے ظاہری ظہور کو بیان کرنے کے بعد حضرت صاحب الأمر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے وجود مبارک کی بشارت دیتے ہوئے فرماتے ہیں « فَنَحْنُ أنْوَارُ السَّمَاءِ وَ أنْوَارُ الارْضِ، فَبِنَا النَّجَاةُ، وَ مِنَّا مَكْنُونُ الْعِلْمِ، وَ إلَینَا مَصِیرُ الاُمُورِ، وَ بِمَهْدِینَا تَنْقَطِعُ الْحُجَجُ، خَاتِمَةُ الائِمَّةِ، وَ مُنْقِذُ الاُمَّةِ، وَ غَایةُ النُّورِ، وَ مَصْدَرُ الاُمُورِ »

آپ فرماتے ہیں : ہم آسمان و زمین کے انوار ہیں ، ہماری پیروی میں ہی راہ نجات ہے ، علم کا منشأ و منبع ہم ہیں ، امور کی عاقبت ہماری طرف پلٹتی ہے ، ہمارے مہدی پر حجتیں تمام ہوں گی ، جو کہ خاتم الأئمہ ہے اور جو امت کو نجات دینے والا ہے ، نور کی غایت ہے ، اور امور کے لئے مصدر ہے ۔

اس خطبہ اور ان زرّین و نورانی اور معرفت آفرین جملوں کو تعلیم دیا جانا چاہئے اور ان معرفت بخش اور زرّین جملوں کی تکریم کرنی چاہئے کہ جیسے مسعودی نے حضرت امام صادق علیہ السلام اور ان کے آباء و اجداد علیہم السلام اور امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کیا ہے اور اس پر اعتماد و استناد کیا ہے ۔ ان جملوں کو جاننا چاہئے اور ان کے ذریعہ اہلبیت علیہم السلام کو پہچانا چاہئے کہ جن میں بلند پایہ درس اور عظیم پیغام قیامت تک کے لئے سب لوگوں کو مخاطب قرار دے رہے ہیں ۔ سزاوار ہے کہ ان جملوں کو حفظ کیا جائے اور اپنے بچوں کو ان کی تعلیم دی جائے کہ جنہیں تاریخ و آثار سے مطلع مسعودی جیسی بزرگ شخصیت نے روایت کیا ہے ۔

 

  • حوالہ جات :
    1. مستدرك الوسائل، جلد 12، باب 31،‌ حدیث 14094 ۔
    2. بحار الأنوار، جلد 26، باب 5، حدیث 47 ۔
    3. مروج الذّهب مسعودی، ج1، ص 24-22 ۔
ولایت علوی کی نصوص جليّه و خفيّه
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۲)

غدیر؛حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل اور ولایت کی سب سے معتبر اور صریح نص ہے۔ غدیر کی نصوص کے علاوہ اس عظیم ولایت پر بہت  زیادہ صریح نصوص ہیں کہ جو کتاب و سنت میں موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ نصوص بے شمار ہیں لیکن ان سب نصوص کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:نصّ جلی اور نصّ خفی 
نصوص جلیّہ
قرآن کی نصوص جلیّہ ، جیسے مباہلہ کی آيه ٔكريمه (1)یہ آیت مبارکہ: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ الله (2) اور دوسری متعدد آیات کہ جنہیں ابن بطریق نے کتاب "خصائص الوحي المبين في مناقب اميرالمؤمنين عليه‌السّلام"  میں محدثین ، صاحب جوامع و صحاح اور مسانید عامہ میں معتبر سندوں سے روایت کرتے ہوئے شمار کیا ہے.
نصوص جلیّہ میں سے متواتر نبوی نصوص، جیسے مشہور حديث منزلت(3)  اور دوسری احادیث کہ جن میں سے عظیم و مشہور اور اتّم حدیث  شریف غدیر ہے  جو ابلاغ اور عام اعلان ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات رسالت میں اس سے عظیم اجتماع اور بزرگ دن   نہیں ہے۔اس عظیم اجتماع میں تمام نامور اصحاب اور حجاج شریک تھے  اوراس زمانے تک ایسے اجتماع کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

یہ دونوں آغاز ہیں اور دونوں یوم اللہ الاکبر ہے۔ ان دونوں دنوں کے لئے تیسرا دن مصلح یگانہ آخر الزمان، عالم بشریت کو نجات دینے والے، عدل کل، موعود رسل حضرت قائم آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ظہور کا دن ہے۔

نصوص جلیّہ میں حدیث غدیر سے بڑھ کر اور کوئی نصّ جلی نہیں ہے کہ جس کے اصحاب، تابعین اور تبع تابعین میں سے اس قدر زیادہ راوی ہوں اور جو ہر لحاظ سے اس قدر معتبر ہو۔ اس حدیث ، اس کی اسناد اور اس کے الفاظ کے بارے میں اتنی کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں کہ جن سے ایک  شاندار کتابخانہ تشکیل پا جائے۔
* نصوص خفيّه
نصّ جلیہ کے ساتھ  ساتھ خفیّہ نصوص بھی بڑا اہم اور محکم مقام رکھتی ہیں  اور وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بلا فصل ولایت اور بقیہ تمام ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت کو ثابت کرتی ہیں۔
خفیّہ نصوص کا ایک بڑا وسیع اور جامع باب ہے۔ علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ’’آلفین‘‘ کو ان خفیّہ ادلہ  میں سے دو ہزار دلائل کے طور پر شمار کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ان نصوص کو خفیّہ کا نام دیا جاتاہے لیکن کسی طرح سے بھی ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت پر ان کی دلالت میں کوئی مخفی پہلو نہیں ہے(بلکہ ان سب کی  دلالت آشکار ہے) ان خفیّہ نصوص میں بعض قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے طور پر سب کو مخاطب قرار دیا گیا ہے۔جیسے:

أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ يَهِدِّي إِلّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)۶)

یا ’’مَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَ الْبَصِير‘‘)۷)

یا پھر یہ آٰیت:’’هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ‘‘(۸)
ان آیات سے واضح طور پر اظہر مصادیق کے لحاظ سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام خلافت و امامت  کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ ان سب کا پیغام یہ ہے کہ بینا ہو نہ کہ نابینا، عالم ہو نہ کہ جاہل، فاضل ہو نہ کہ مفضول، علی علیہ السلام ہوں نہ کہ کوئی دوسرا۔

* ایک عقلی قانون؛فاضل کو مفضول پر فضیلت دینا

فاضل کو مفضول اور افضل کو فاضل پر برتری دینے کا موضوع اور اسی طرح افضل پر فاضل اور مفضول کو فاضل پر برتری دینے کی قباحت قرآن کریم کی متعدد آیات اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی بے شمار احادیث و روایات کا موضوع ہے ۔ نیز یہ واجب اور مستحب احکام کے  بعض موارد میں ہے اور قرآن و روایات کی اہم ہدایات میں سے ہے۔ ان تمام امور میں اور بالخصوص ولایت واور اختیارات میں ایک قانون ہے جسے ہر مسلمان اور ہر عاقل انسان کو اپنا آئین قرار دینا چاہئے کہ انتخاب میں اصلح کو صالح اور الیق کو لائق پر ترجیح دے ۔ اور اجمالی طور پر انسانی فطرت کے لحاظ سے (اگر کوئی دوسرا مقصد یا کوئی اور غرض مدنظر نہ ہو) بھی اس  قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اصل دینی و ولائی نظام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  کی خلافت کے  نظام میں ان تعلیمات و ارشادات کی رعائت کرنا اہم مطالب اور واجبات میں سے ہے۔
اسی اصل اور قانون کی طرف امام علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے اور سب کو مخاطب قرار دیا ہے:
’’أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْهِ وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللهِ فِيهِ‘‘(۹)

نیز فرمایا ہے: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالْأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِهِ‘‘(۱۰)

اس بنیاد پر اور ان آیات و روایات کے حساب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد (چاہے آنحضرت کی حیات میں یا حیات کے بعد) جو واحد  و یگانہ ذات واجب الطاعۃ، صاحب ولایت امر اور منصوص من اللہ ہے؛ وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ذات ہے۔

جاحط کے بقول(انہوں نے اپنے ایک رسالہ میں اس بارے میں کہا ہے): اسلام میں فضائل ، مکارم اور مقامات کی اوج چار چیزوں کو قرار دے سکتے ہیں: خدا پر ایمان، علم و دانائی، زہد اور پرہیز گاری، راہ دین اور راہ خدا میں جہاد۔

پھر وہ کہتے ہیں: اگر تمام علماء اسلام سے یہ پوچھا جائے کہ ایمان کے لحاظ سے اسبق(سب سے پہلے ایمان لانے والے) اور اکمل کون ہیں؟ تو سب سے پہلے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو شمار کریں گے اور اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصحاب میں سب سے اعلم کے بارے میں پوچھا جائے  تو سب سے پہلے علی علیہ السلام کا تعارف کروایا جائے گا اور اگر اس ذات کے بارے میں پوچھا جائے کہ جس نے دین کی راہ میں جہاد کیا اور جس کے جہاد کی برکت سے اسلام اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا تو پھر بھی سب سے پہلے علی علیہ السلام کا نام لیا جائے گا  کہ جن کے ایک جہاد کا ثواب روز قیامت تک پوری امت کی عبادت سے زیادہ ہے۔ اور اگر صحابیوں میں سب سے زیادہ متقی و زاہد کے بارے میں سوال کیا جائے کہ جس نے دنیا کو ترک کر دیا ہو،جو دنیا پر فریفتہ نہ ہوا ہو تو سب علی علیہ السلام کا نام لیں گے کہ جنہوں نے ایک لمحہ کے لئے بھی دنیا کی طرف نہیں دیکھا۔

الغرض یہ کہ اسلام، قرآن اور تمام انببیاء کی دعوت میں افضل کی طرف دعوت دی گئی ہے اور مفضول کو فاضل پر سبقت دینے کی مذمت کی گئی ہے ۔ شیعوں کے عقائد کی محکم بنیاد افضل کو فاضل پر برتری دینے کا مصداق ہے اور دوسرا مصداق غیروں کا عقیدہ ہے کہ جن کے باطل ہونے پر ںصوص خفیّہ دلالت کرتی ہیں اور مصداق و مصادیق کی شناخت کو خود عرف کے سپرد  کیا گیا ہے۔

حوالہ جات:
۱۔ سوره آل عمران، آيه 61.
۲۔ سوره مائده، ‌آيه 55.
۳۔ ارشاد مفيد، جلد 1، صفحه 156؛ بحار الأنوار، جلد 21، صفحه 208، تاريخ طبرى، جلد 2، صفحه 368؛  الكامل في التاريخ ابن اثير، جلد 1، صفحه 306؛ سيره ابن هشام، جلد 4، صفحه 163.
۴۔ مستدرك الوسائل، جلد 12، باب 31،‌ حديث 14094.
۵۔ بحار الأنوار، جلد 26، باب 5، حديث 47.
۶۔ سوره يونس، آيه 35.
۷۔ سوره فاطر، آيه 19.
۸۔ سوره زمر، آيه 9.
۹۔ نهج البلاغة صبحي صالح، خطبه 173.
۱۰۔ ایضاً، حكمت 96.

 

مولائے غدير کی دوستی؛صحيفه مؤمن کا عنوان
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۵)

اس عظیم شخصیت کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ؛ جو ذات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کلمات الٰہیہ میں اشرف، آیات ربّانیہ میں اکبر، دلائل جامعہ میں سب سے محکم دلیل، براہین ساطعہ میں اتمّ برہان، وسائل کافیہ، مظہر العجائب، معدن الغرائب اور تمام برتر انسانی عظمتوں کی مالک ہو۔ جو خدا کا برحق خلیفہ ہو اور جن کی محبت مؤمن کے صحیفہ کا عنوان  اور ولادت میں طہارت کی علامت ہو۔ اگر انسان کے دہن میں تمام ناطق زبانیں ہوں اور انسان ان میں سے ہر ایک زبان کے ساتھ جاودانہ طور ہر مدح و ثناء کرے تو پھر بھی یہ سب اس ذات کی مدح میں حرف اوّل سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کی عکاسی اس شعر سے کی جا سکتی ہے:

ايـن شرح بي‎نهايت كز وصف يار گفتند * حــرفي است از هزاران كاندر عبارت آمد

* زبان پيغمبر صلی اللہ علیہ و الہ  وسلّم سے علی علیہ السلام

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عقل کل،خاتم الرسل، ہادی سبل ہیں اور مسلمانوں  کے درمیان مشہور اور معتبر احادیث میں مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی معانی سے لبریز اور واضح تمجیدات و تعریفات بیان فرمائی ہیں اور آپ نے امیرالمؤمنین کو حق اور قرآن کے ساتھ اور حق و قرآن کو امیر المؤمنین کے ساتھ لازم الاتصال قرار دیا ہے کہ جن میں افتراق و جدائی ممکن نہیں ہے۔ اور آپ نے فرمایا:
»وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَا أَنْ‏ تَقُولَ‏ طَوَائِفُ‏ مِنْ‏ أُمَّتِي‏ فِيكَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي ابْنِ مَرْيَمَ لَقُلْتُ الْيَوْمَ فِيكَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذُوا التُّرَابَ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْكَ لِلْبَرَكَةِ. « (1)
اور کبھی آپ نے حقیقت کی ترجمان اپنی معجزْ بيان زبان سے فرمایا:

»لَوْ أَنَّ الْبَحْرَ مِدَادٌ وَ الْغِيَاضَ أَقْلَامٌ وَ الْإِنْسَ‏ كُتَّابٌ‏ وَ الْجِنَّ حُسَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ« (2)

میدان جہاد میں آنحضرت نے اس مجاہد فی سبیل اللہ کو حق کا دفاع کرنے والوں میں سب سے اعلٰی کلمۃ اللہ، جنّ و انس کی عبادت سے افضل اور تمام امت قرار دے۔ پھر دوسرے لوگ آنحضرت کی مدح و ثناء میں کیا کہہ سکتے ہیں؟!
* غیروں کے کلام میں اميرالمؤمنين علی عليهالسلام کی عظمت

حقیقت یہ ہے کہ ان جملوں اور کلمات کے ذریعہ (کہ جن کے حروف کی تعداد انتیس سے زیادہ نہیں ہے)اس عظیم شخصیت اور خدا کے خاص و مخلص انسان کی مدح و ثناء اور توصیف و تمجید نہیں کر سکتے  کہ خداوند متعال نے قرآن کی متعدد آیات میں جس کی توصیف و مدح اور ستائش بیان کی ہو۔

وَ إن قَمِيصاً خيطَ مِنْ نَسْجِ تِسْعَةٍ * وَ عِشْـرينَ حَرْفاً عَنْ مَعاليهِ قَاصِرٌ

اس عظیم امام ، رہبر موحّدین، پیشواء مجاہدین، سیدالمتقین اور امیر المؤمنین کی مدح و ثناء جس قدر بھی بلند اور شائستہ ہو لیکن اس کے باوجود پھر بھی وہ آنحضرت کی عظمت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے۔

معاویہ کی مجلس میں اس کے اصرار اور درخواست پر اس طرح سے امام کی توصیف و تمجید کی گئی۔
«كَانَ وَ اللهِ‏ بَعِيدَ الْمُدَى‏ شَدِيدَ الْقُوَى يَقُولُ فَصْلًا وَ يَحْكُمُ عَدْلًا يَتَفَجَّرُ الْعِلْمُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَ تَنْطِقُ الْحِكْمَةُ مِنْ نَوَاحِيهِ يَسْتَوْحِشُ مِنَ الدُّنْيَا وَ زَهْرَتِهَا وَ يَسْتَأْنِسُ بِاللَّيْلِ وَ وَحْشَتِهِ كَانَ وَ اللهِ غَزِيرَ الْعَبْرَةِ طَوِيلَ الْفِكْرَةِ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ‏ وَ يُخَاطِبُ نَفْسَهُ وَ يُنَاجِي رَبَّهُ يُعْجِبُهُ مِنَ اللِّبَاسِ مَا خَشِنَ وَ مِنَ الطَّعَامِ مَا جَشِبَ كَانَ وَ اللَّهِ فِينَا كَأَحَدِنَا»(3)
بعض نے اس مختصر جملہ سے امام کو خراج عقیدت پیش کیا:إحتياجُ الكُلِّ إلَيْهِ وَ إسْتِغْنائُه عَنِ الكُلِّ دَليلٌ عَلى أنَّه إمَامُ الكُلِّ۔(4)

بعض نے آپ کے کلام کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہا:كَلامُهُ دُونَ كَلامِ الخَالِقِ وَ فَوْقَ كَلامِ الْمَخْلُوقينَ۔(۵)
اور بعض نے کہا:لَوْ لَا سَيْفُهُ لَمَا قَامَ لِلْإسْلامِ عَمُودٌ۔(۶)

آپ کی توصیف میں کسی نے کہا: قُتِلَ في مِحْرابِ عِبادَتِهِ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ۔(۷)
اور اس عیسائی شخص نے ان جملوں سے اس عظیم شخصیت اور وجود محمدی کے  یگانہ کمال کی جھلک کی توصیف و ستائش یوں بیان کی ہے۔

’’في عَقيدَتي اَنَّ عَليَّ بْنَ أَبي طالِب اَوَّلُ عَرَبِيّ لازَمَ الرُّوحَ الْكُلِّيةَ فَجاوَرَها وَ سامَرَها‘‘(۸)

اور اس شرف و عزّت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے:
اَلنّبِي الْــمُصْطَفى قالَ لَنا * لَيلَــة الْـمِعْراجِ لَمّا صَعِدَهُ * وَضَــعَ اللهُ عَلى ظَهْري يداً * فَاَرانِي الْقَلْــبَ اِنْ قَدْ بَرَّدَهُ * وَ عَلِيٌ واضِـــعُ رِجْلَيهِ لي * بِمَكان وَضَـعَ اللهُ يــدَهُ(۹)

ان میں سے ہر ایک  مورد میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے مناقب میں سے ایک منقبت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
* رسول خدا صلي الله عليه و آله کا عظیم معجزہ
خلاصۃ یہ کہ علی علیہ السلام  کی ذات ایک ایسا معجزہ ہے کہ جو خداوند متعال نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو عطا فرمایا۔ ایک ایسا معجزہ جو تمام گذشتہ انبیاء کے معجزوں سے عظیم اور حیرت انگیز ہے۔ یہاں یہ بجا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمایان بیان کیا جائے:
’’الصُّورَةُ الإنْسَانِيَّةُ هِيَ أكْبَرُ حُجَجِ اللهِ عَلى خَلْقِهِ وَ هِيَ الكِتابُ الَّذي كَتَبَه بِيَدِهِ وَ هِيَ الهَيْكَلُ الّذي بَناهُ بِحِكْمَتِهِ وَ هِيَ مَجْمُوعُ صُوَرِ العَالَمينَ وَ هِيَ المُخْتَصَرُ مِنَ العُلُومِ في اللَّوحِ الْمَحْفُوظِ‘‘(۱۰)

علی علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کے ذریعہ حقیقت و واقعیت بیان ہوتی ہے:بزرگ معتزلی عالم دین ابن أبي الحديد بھی ہمنوا ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

’’هُوَ النَّبَأُ الْمَكْنُونُ وَ الجَوْهَرُ الّذي * تَجَسَّدَ مِنْ نُورٍ مِنَ القُدْسِ زاهِــر * وَ وَارِثُ عِلْـمِ المُصْطَفى وَ شَقيقِه * أخاً وَ نَظيراً فِي العـلى و الأواصِر * وَ ذُو المُعْجِزاتِ الوَاضِـحاتِ أقلّها * الظُّهور عَلى مُسْتَـوْدِعاتِ السَّرائر * ألا إنَّما التَّوْحيدُ لَوْلا عُلــــومُهُ * كَعَــرْضَةِ ضِلّيــلٍ وَ نَهْبَةِ كافر‘‘(۱۱)
پس یہ ضروری ہے کہ زمين ادب کو چومیں، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اور حضرت صاحب الزمان ولی عصر، مالک امر مولانا المہدی ارواح العالمین لہ الفداء تک آپ کے تمام بزرگ فرزندوں کی ولایت کے لئے خداوند متعال کی حمد و ثناء کی جائے اور خدا کا شکر بجالایا جائے۔

اَلْحَمْدُللهِ الَّذي جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّكينَ بِولايةِ اَميرَالْمُؤْمِنينَ وَ الائِمَّةِ الْمَعْصُومينَ سِيّما خاتَمِهِمْ وَ قائِمِهِمْ صَلَواتُ اللهِ عَلَيهِمْ اَجْمَعينَ.

حوالہ جات:
1،۲۔ بحار الأنوار، جلد ‏40، باب 91، حديث 114.

۳۔ بحار الأنوار، جلد ‏41، باب 107، حديث 28.
۴۔ بغية الوعاة سيوطي، صفحه 243؛ تنقيح المقال مامقاني، جلد 1، صفحه 402، شماره 3769.
۵۔ شرح نهج البلاغة ابن أبي‌الحديد، جلد ‏1، صفحه 24.
۶۔ایضاً، جلد 12، صفحه 83.
۷۔ عیسائی مؤلف جارج جرداق کی کتاب’’الامام علي صوت العدالة الإنسانية‘‘ سے منقول
۸۔ جارج جرداق کی كتاب ’’الامام علي صوت العدالة الانسانية‘‘(جلد 1، صفحه 364.)میں عیسائی دانشور جبران خليل جبران سے منقول
۹۔ یہ اشعار شافعی سے منسوب ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئے ہیں منجملہ: تاريخ الخميس ديار بكري، جلد 2، صفحه 87؛ الغدير علّامه اميني، جلد 7، صفحه 12.

غدير؛ عظمتوں کے سالار کی بیعت
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۳)

اميرالمؤمنين علي عليه السلام، بے شمار عظمتوں کے سالار ہیں۔علي عليه السلام وہی ذات ہے كه جس کے فضائل اور عظمتوں کے بارے میں پيغمبر اسلام نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى جَعَلَ لِأَخِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي‌طَالِبٍ فَضَائِلَ لَا يُحْصِي عَدَدَهَا غَيْرُه‏(۱)
یعنی خداوند متعال نے میرے بھائی علي بن ابي‌طالب کے لئے ایسے فضائل قرار دیئے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا۔
* بے شمار علوی فضائل
حضرت علی علیہ السلام کی عظمتوں کے متعدد پہلو   ہیں جیسے تجسیم بندگی، خدا کی خالص عبودیت۔ نیز امیر المؤمنین کے مختلف بلکہ متضاد مناقب و فضائل  ہیں کہ جو کتابوں میں محفوظ اور درج ہیں:

 عَلِيّ وَ مَا أنْزِلَ فيهِ مِنَ القُرْآنِ، عَلِيّ و مَا ثَبَتَ لَهُ مِنَ الشُّئُونِ وَ المَقَامَاتِ بِالسُّنَّةِ، عَلِيّ وَ مَا صَدَرَ مِنْهُ مِنَ المُعْجِزاتِ، عَلِيّ وَ مَواقِفُهُ وَ بُطُولاتِهِ فِي الغَزَواتِ، عَلِيّ وَ تَضْحِياتُهُ فِي سَبيلِ إعْلاءِ كَلِمَةِ الإسْلامِ،

حضرت علي علیہ السلام اور غیب کی خبریں،گذشتہ اور آئندہ زمانے کے بارے میں بتانا، علی علیہ السلام اور عالم غیب، علی علیہ السلام اور اسلامی احکام کے شرائع، علی علیہ السلام اور زہد و پارسائی اور پرہیزگاری، علی علیہ السلام الٰہیات کے عالی علوم، علی علیہ السلام امیر فصاحت و بلاغت اور کلام، علی اور عبادت، علی علیہ السلام اور خوف خدا اور شب زندہ داری، علی علیہ السلام اور عدالت و قضاوت، علی علیہ السلام اور حکومت، علی علیہ السلام اور بردباری، علی علیہ السلام اور دین خدا و رسول خدا نصرت، علی علیہ السلام امام المتقین اور زوج سیدۃ نساء العالمین،، علي ابوالأرامل و الايتام و المساكين، علي اور علي اور علي۔۔۔۔یہ سب فضائل،اور بے شمار دوسرے فضائل علی علیہ السلام کی عظمت کے مختلف پہلو ہیں۔

* بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ

علی علیہ السلام خدا کی آیات میں سب سے عظیم آیت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے معجزات میں سب سے اظہر معجزہ ہیں کہ جو کتابوں میں بیان ہوا ہے اور جن کے بارے میں توانا علماء، بزرگ مؤلفین ، برجستہ خطباء اور ان کے علوم کے پیروکاروں اور علماء نے  بیان فرمایا ہے۔ اب تک امیر المؤمنین کے بارے میں اس قدر لکھا گیا اور بیان کیا گیا، آپ کی بلاغت کے متعلق بے شمار تألیفات و تصنیفات ہیں، آپ کے فضائل و مناقب کے متعلق خطبات دیئے گئے اور تقاریر کی  گئیں لیکن اس کے باوجود اب بھی علماء اور دانشوروں کے لئے در کھلے ہوئے ہیں اور جو کوئی بھی اس وسیع و عریض باغ میں داخل ہوتا ہے وہ تر و تازہ پھلوں سے مستفید ہوتا ہے’’ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُها ثابِتٌ‏ وَ فَرْعُها فِي‏ السَّماءِ تُؤْتِي أُكُلَها كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّها(۲) ‘‘
* فضايل علوي اور بیگانوں کے اعترافات

امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عظمتوں کے متعلق تألیفات و تصنیفات کا سلسلہ عالم اسلام پر ہی محیط نہیں ہے کہ جس کے دامن میں  مشرق و مغرب میں  موجودشیعہ و سنّی  دانشور  ہو ں بلکہ اس عظیم اور ممتاز شخصیت نے بیگانوں کے دلوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور انہیں مسخر کیا ہے۔مؤلفین نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی مدح و ثناء بیان کی ہے اور آپ  کے بارے میں کتابیں تألیف کی ہیں۔

جی ہاں!انہیں بھی امام علی علیہ السلام کی کچھ معرفت و شناخت ہے مثلاً وہ عیسائی دانشور کتاب’’ الامام علي صوت العدالة الانسانية ‘‘(۳)لکھ کر اس پر فخر و مباہات کرتا ہے۔
* فضائل علوي اور اہلسنت کے بزرگوں کے اعترافات

اہلسنت علماء و محدثین بھی امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے متعدد فضائل کو اپنی کتابوں میں شمار کرتے ہیں اور جس کا سلسلہ دور حاضر تک جاری ہے۔ مثلاً شرقاوی نے دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’علی امام المتقین‘‘ تألیف کی۔

جی ہاں!اس کے علاوہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعض فضائل جیسے حديث طير مشوي، حديث ردّ شمس، حديث ’’أنَا مَدينةُ العِلْمِ‘‘، حديث منزلت ، حديث ولايت  اور حديث غدير کے بارے میں الگ سے مخصوص کتابیں لکھی گئی ہیں اور قابل تعریف یہ بات ہے کہ ان میں سے بعض کتابیں کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔

مثال کے طور پر جب خلیل بن احمد سے پوچھا گیا: مَا تَقُولُ فِي شَأنِ الإمامِ عَلِيّ بنِ ابي‌طالب؟

تو  وہ تاریخی حقائق ، حق و باطل کے درمیان معرکہ اور علی علیہ السلام کے ذریعہ باطل پر حق کے غالب آنے بارے میں کہتے ہیں: مَا أقُولُ فى حَقِّ إمْرِءٍ كَتَمَت فَضَائلَهُ‏ اوليائُهُ خَوْفاً وَ كَتَمَتْ مَنَاقِبَهُ أعْداؤُهُ حَسَداً ثُمَّ ظَهَرَ مِنْ بَيْنِ الْكَتمَيْنِ مَا مَلَأَ الخَافقَيْنِ(4)

یعنی ایک خاص قسم کے حالات پیدا ہو چکے تھے کہ جن میں دشمنوں نے دشمنی کی وجہ سے علی علیہ السلام کے فضائل کو چھپایا  ،جب کہ دوستوں  اور محبّوں  نے خوف کی وجہ سے آپ کے فضائل کو مخفی رکھا ۔اور پھر پہلی اور دوسری صدی ہجری میں حدیث نقل کرنے کے ممنوع ہو جانے اور اس کے بعد دوسری وجوہات کی بناء پر ان فضائل کو بیان نہیں کیا گیا۔

دونوں طرف سے فضائل چھپائے جانے کے باوجود امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل اس قدر ظاہر ہوئے کہ جو کائنات کے مشرق و مغرب پر محیط ہیں اور پھر ایسا بھی ہوا کہ شافعی جیسے شخص نے کہا:

أنَــا عَبْــدٌ لِلْـــفَتي * أنْزِلَ فِيهِ’’هَلْ أتي‘‘

اہلسنت کے مشہور و معروف محدثین نے اب سخت حالات اور شرائط میں بھی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے متعلق’’فضائل و مناقب‘‘ کے عنوان سے کتابیں لکھیں  اور پھر حالات ایسے ہی گامزن رہے اور آج اسلامی علوم کے تمام شعبوں میں ’’غدیر‘‘ کا مسئلہ بیان ہوتا ہے۔ علم تفسیر، علم اسباب نزول، علم لغت، علم حدیث، تاریں، کتب تراجم و معرفۃ الصحابۃ اور دوسرے تمام علوم میں حدیث غدیر کے متعلق علماء و محققین بحث و گفتگو کرتے ہیں اور اس کے بارے میں شہادت دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور ترین خصائص نسائی ہے جو  صاحب سنن نسائی (جو اہلسنت کی صحاح ستہ میں سے ہے)کی کتاب ہے۔

یہ کتاب کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور جو سب کی دسترس میں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وہابیت کے مرموز ہاتھوں نے تحقیق رجال کے نام پر اس کی بعض احادیث کو شیعیت اور حبّ اہلبیت علیہم السلام کی طرف مائل  ہونے کے گمان کی بناء پر قلم سے مجروح کیا ہے لیکن اہل فنّ  اور ماہرین یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی دشمنی کی وجہ سے ہے چونکہ نسائی جیسی اصل کتاب کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تھے لہذا انہوں نے اس کے بعض رجال اور اسناد کو مورد اعتراض قرار دیا۔

 حتی بخاری اور مسلم یا ان میں سے کسی ایک کے بعض رجال پر بھی اعتراضات کئے ہیں اوراس طرح  انہوں نے اپنی اس نادانی کی وجہ سےصحیحین کے اعتبار کو بھی ختم کر دیا ہے۔ خیر ؛ لَيْسَ هذَا اوّلَ قَارُورةٍ كُسِرَتْ فِي الإسْلامِ۔ یہ بنی امیہ کے پیروکار اور طاغوت و نواصب اور دشمنوں کے تابع اور ان کے مطیع ہیں۔ علم حدیث کے علماء کی نظر میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل  پر مبنی احادیث کے بارے میں ان کے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. أمالي شيخ صدوق ره، مجلس 28.
2. سوره ابراهيم، آيات 25-24
3. تأليف جارج جرداق (عیسائی دانشور).
4. تنقيح المقال مامقاني، جلد 1، بيان خليل بن احمد فراهيدي(معروف نحوي).

 

 

عرفه ، محبوب سے عافیت طلب کرنے کا دن
روز عرفہ کی مناسبت سے آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مد ظله الوارف کے نوشتہ جات سے اقتباس

عرفہ کا دن عبادت اور خدا پرستی کا دن ہے۔ ایک ایسا دن کہ جس میں انسان خود کو دوسرے تمام ایّام کی بنسبت خدا کی رحمت سے زیادہ قریب پاتاہے۔

  دعائے عرفه، نور ہے :

 اس دن انسان جو بھی دعائیں پڑھتا ہے وہ سب اسے عروج تک پہنچاتی ہیں، نیز فکر اور روح کو کمال عطا کرتی ہیں ۔  بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ کہ جس کے معارف اور اعلٰی مطالب کو بیان نہیں کر سکتے ۔

اس دعا کا ہر جملہ نور ہے جس کی کرنیں انسان کے باطن کو منور کرتی ہیں اور اس سے کدورت اور برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ اس دعا کا ہر جملہ حیات و زندگی اور سعادت کی تفسیر کرتا ہے اور انسان کو عطا ہونے والی خدا کی نعمتوں کو شمار کرتا ہے اور ان نعمتوں کے مقابلہ میں خدا کے شکر میں تقصیر کی وضاحت کرتا ہے۔ انسان معرفت کے جس درجہ پر بھی ہو وہ اس دعا کو پڑھ کر لذت  محسوس کرتا ہے اور روحانی عوالم میں اپنا مشاہدہ کرتا ہے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں خود کو زیادہ حاضر پاتا ہے ۔

جس سماج اور معاشرے کے پاس ایسے ایسے عرفانی اور تربیتی ذخائر موجود ہوں اس کے حالات اور زندگی کے تمام امور سے نور و معنویت نظر آنی چاہئے اور مال و منال اور دنیا کے اعتبارات سے بے اعتنائی ظاہر ہونی چاہئے ۔

 

دنيا و آخرت کی سعادت عافیت کے مرہون منت :

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ میں خداوند کریم سے جو حاجتیں طلب کرتے ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حاجت بدن اور دین میں عافیت ہے۔«اللّهم .... عَافِني في بَدني و ديني»۔ جس کے پاس خداوند کریم کی یہ دو نعمتیں موجود  ہوں اس کے پاس دنیا و آخرتے کی سعادت ہے۔

 

بدن میں عافیت  :

بدن میں عافیت سے تندرستی،  بیماریوں سے محفوظ ہونا،  اعضاء و جوارح کا سالم ہونا اور خلقت میں کمال مراد ہے کہ جو خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے  ۔ مختلف انواع و اقسام کی بیماریوں سے سالم ہونا ایک الگ الگ نعمت شمار ہوتی ہے اور اکثر لوگ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے غافل ہیں چونکہ وہ خود نعمت سے غافل ہیں یا بالکل نعمت کو نہیں پہچانتے کیونکہ ان نعمتوں سے جاننے کے لئے متعدد علوم سے بطور کامل واقف ہونے کی ضرورت ہے کہ جو انسان کے اعضاء و جوارح سے مربوط ہیں جیسے انسان کے گوشت، جلد، ہڈیوں،  رگوں،  خون،  جوڑوں،  مختلف قسم کے خلیہ،  اور ظاہری و باطنی اعضاء و جوارح سے متعلق علوم ۔  اگر فرض کریں کہ کسی انسان کو ان تمام علوم کی اطلاع ہے لیکن چونکہ یہ علوم بھی ابھی تک کامل نہیں ہوئے لہذا اس بارے میں انسان خدا کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان کا شکر اداکرنے سے قاصر ہے ۔

 

دين اور اس کی انواع میں عافیت :

دین میں عافیت کی اہمیت زیادہ ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بدن میں عافیت عبد پر احتجاج اور جزا و سزا کے مستحق ہونے کا زیادہ ذریعہ ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں ۔

 

*  فكري و اعتقادي عافیت :

فكري و اعتقادي عافيت سے یہ مراد ہے کہ انسان خدا کی شناخت، خدا کی صفات اور اسماء الحسنیٰ کی معرفت،  ملائکہ کی شناخت ،  نبوت ، پیغمبروں،  وحی ،  امامت اور بالخصوص خاتمالأنبياءحضرت محمد صلي الله عليه وآله وسلّم اور آپ کے خلفاء کی معرفت ،  معاد و قیامت  کی شناخت رکھتا ہو ،  المختصر یہ کہ تمام اعتقادی امور میں اس کا ایمان انحرافات سے سالم اور بدع و شبہ سے پاک ہونا چاہئے ۔  نیز انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت ختمي مرتبت صلي الله عليه وآله وسلّم نے جو خط کھینچا ہے اس سے خارج نہیں ہونا چاہئے نیز ان سب امور کو صحیح عقلی و نقلی(روائی)معیار سے حاصل کیا گیا ہو اور حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جو کچھ بھی نازل ہوا ہے ، اس پر ایمان رکھتا ہو چاہے وہ اصول ہوں یا فروع ۔ حتی کہ انسان اعتقادی امور میں کسی جزئی امر اور فروعات میں کسی چھوٹی سے چھوٹی فرع اور شرعی و عملی احکام پر مطمئن طور پر ایمان رکھتا ہو اور تمام امور میں اپنے نفس کو شریعت کے تابع قرار دے ۔  یہ واضح ہے کہ کبھی کبھار ایک انحراف اور دین اسلام کے کسی ایک مسلّم موضوع کا انکار اس کے کفر کا باعث بن جاتا ہے ۔

 

* اخلاقي عافيت :

اخلاقی عافیت سے مراد انسان کا اسلامی اخلاق سے آراستہ ہونا ہے کہ جو قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم سے مروی احادیث میں بیان ہوئے ہیں مثلا : صبر ،  زہد ،  توضع ،  صداقت ،  سخاوت ،  شجاعت ،  عدالت ،  رحم ،  حلم و بردباری ،  عفّت ،  مروّت ،  حرّيت ،  عفو و درگزر ،  ايثار، صله رحم، ہمسایوں اور ماں باپ کے حقوق کی رعايت کرنا ،  مواسات ، احسان ، انصاف ، نرم لحجہ ، وعدہ کو وفا کرنا ،  تفويض ،  توكّل ، رضا و تسليم اور وہ تمام صفات حميده اور مكارم اخلاق كه جن کی قرآن مجيد ، احاديث مبارکہ اور دعاؤں میں ترغیب دلائی گئی ہے اور جن کی تاکید کی گئی ہے ۔

اور اس معروف حدیث کی رو سے: «اِنّما بُعِثْتُ لاُتَمِّمَ مَكارِمَ الأخلاق» پيغمبر اكرم صلي الله عليه وآله وسلّم مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں.

اخلاق کے موضوع پر اسلام کی تعلیمات سب سے کامل تعلیمات ہیں۔ علم اخلاق کو حکمت عملی کا نام دینے والے بہت سے حکماء بھی حکمت عملی میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ اس موضوع پر اسلام کی تعلیمات کے بعد دوسروں کے لئے کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

اخلاق کی کتابیں، شعراء کے اشعار اور مکتب اسلام میں تربیت شدہ مسلمانوں سے نقل ہونے والی حکایات نے مسلمانوں کو اخلاق  کے موضوع پر اس قدر غنی اور صاحب افتخار بنا دیا ہے کہ جس سے بڑھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پيغمبر اكرم صليالله عليه وآله وسلّم جیسی شخصیت كه جن سے خدا نےخطاب فرمایا ہے: «اِنَّكَ لَعَلي خُلُق عَظيم» آنحضرت سب سے اعلٰی انسانی اخلاق کے حامل تھے اور اعراب جاہلیت(جن کی عادات کو بدلنا ایک ناممکن امر لگتا تھا) میں آپ کی دعوت کے اس قدر عام ہونے کی ایک وجہ آپ کا اخلاقہ کریمہ و حسنہ ہے ۔

اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہل بیت امر المؤمنین اور ائمہ طاہرین علیہم السلام  بھی اخلاق انسانی کے اعلٰی و اکمل نمونہ ہیں ۔  دوست اور دشمن سبہی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کی غیر معمولی محبوبیت کا سرّ و راز یہی اخلاق ہے ۔

 

* عملی عافيت :

علمی عافیت یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال و افعال میں(چاہے وہ فردی ہوں یا اجتماعی ،  سیاسی ہوں یا مالی) اور اسی طرح عبادات  اور واجبات و فرائض میں اسلامی شریعت کے احکام کی مکمل رعائت کرے اور ان احکامات کی پابندی کرے کہ جو فقہ کی کتابوں میں درج ہیں ۔معصیت اور مخالفت سے پرہیز کرے اور تقویٰ اختیار کرے حتی گناہان صغیرہ سے بھی پرہیز کرے اگرچہ گناہان کبیرہ سے اجتناب کرنے کی صورت میں گناہان صغیرہ سے درگذر کا وعدہ دیا گیا ہے ۔اور اس طرح سے عمل کرے جس طرح سے اس شعر میں بیان ہوا ہے:

خلّ الذنوب صغيرها و كبيرها فهو التقي *كُن مثل ماش في طريق الشوك تحذرماتري*لاتحقرن صغيرة ان الجبال من الحصي؛

گناہان صغیرہ و کبیرہ سے پرہیز کرو کہ یہ عمل تقویٰ ہے اور راستہ میں چلنے والے اس شخص کی طرح بنو کہ جو خاردار راستہ پر احتیاط سے قدم بڑھاتا ہے۔ اور کسی بھی چھوٹے (گناہ) کو حقیر شمار نہ سمجھو کیونکہ سنگریزوں سے مل کر ہی پہاڑ بنتا ہے۔

 

 

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها