وجود  با برکت و مقدّس حضرت رسول اعظم محمد مصطفی صلی الله علیه و آله، جامع همه عظمت‌های انسانی و بزرگواری‌های یک انسان بی‌مانند بود که شرح همه آن عظمت‌ها در یک جلسه و مقاله و کتاب امکان ندارد. اگر لقب «قهرمان»، مناسب مقام رفیع و بلند انبیاء...
چهارشنبه: 1399/07/30 - (الأربعاء:4/ربيع الأول/1442)

حضرت صاحب الزّمان عجل الله تعالی فرجه الشریف کے میلاد مسعود کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی (مدظله العالی) کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ
و أَكْثِرُوا  الدُّعَاءَ بِتَعْجِيلِ الْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِكَ فَرَجُكُم‏

۱۵ شعبان کی مبارک رات ؛ وہ رات ہے کہ جس میں عالم ہستی کے سرمایہ ، تمام پیغمبروں اور اماموں کی امید ، انسانیت کو ظالموں کے شر سے نجات دلانے والے، عادلانہ عالمی حکومت قائم کرنے والے حضرت بقیۃ اللہ الأعظم مہدی موعود ارواح العالمین لہ الفداء نے دنیا کو اپنے نور سے منور کر دیا اور پوری دنیا میں عدل کا انتظار کرنے والوں کے دلوں کو خوشیوں سے بھر دیا ۔

اس مبارک میلاد کے شکرانے ، پریشانیوں اور مشکلوں کے خاتمے اور بلاؤں کے برطرف ہونے کے لئے اس مقدس رات (جو احیاء اور بیداری کی رات ہے) امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے تمام منتظرین اور عالمی مصلح کے محبین سے میری استدعا ہے کہ اس پرمسرت رات کی برکات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے خداوند سبحان کی بارگاہ میں دعا و مناجات کریں اور اس مبارک رات میں وارد ہونے والی دعاؤں میں سے  دعائے کمیل پڑھ کر تضرع و استغفار کریں ، اور سید الشہداء حضرت امام حسین کی زیارت سے اس کشتی نجات امت کو شفیع قرار دیں اور حضرت معصومین علیہم السلام سے توسل کرتے ہوئے عالمی سطح پر خداوند متعال سے امام عصر حضرت مہدی صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی دعا کریں ، اور زیارت آل یاسین پڑھ  کر ولی دوراں ، قطب عالم امکاں کی بارگاہ میں پوری توجہ کے ساتھ عرض ادب کریں اور سب ہم آواز ہو کر آپ کو پکاریں :

« المستغاث بک یا صاحب الزمان »

«اللهم عجل فرجه و قرب زمانه و کثر انصاره و اکشف بحضوره‌ هذه الغمة عن هذه الامة»

دههٔ‌ مبارکه مهدویت
١٤٤١هجری
لطف الله صافی

موضوع:

شہید اسلام لیفٹینٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی کا پیغام

باسمہ تعالیٰ

نہایت  ہی دکھ اور افسوس کے ساتھ اسلام کے عظیم سالار ، سرفراز مجاہد لیفٹینٹ جنرل جناب حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر موصول ہوئی ۔ اس شہید نے اپنی پوری زندگی اسلام ، عوام کی خدمت اور اسلامی اقدار کی حفاظت کے لئے وقف کر دی ۔ یہ عظیم شہید حضرات معصومین علیہم السلام اور بالخصوص سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا محب اور عاشق تھے ؛ جو اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی پیروی کرتے ہوئے اسلام کے دشمنوں ، کج فہم اور خیانت کار دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ مردانِ خدا کا یہ ہنر ہے کہ وہ اس فانی اور جلد تمام ہو جانے والی زندگی کو ابدی و جاودانی راہ کے لئے استفادہ کرتے ہیں اور ذاتِ ربوبی کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔

طُوبي لَهُمْ وَ حُسْنُ مَآبٍ 

ہم اس عظیم مجاہد کی اور دیگر مجاہدی بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت کی مناسبت سے دنیا کے حریت پسندوں ، ایران کی غیور اور شریف ملت اور ان شہداء کے محترم خاندان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

اور خداوند متعال کی بارگاہ میں حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے زیر سایہ اسلام کی نصرت ، ملت عزیز کی عزت اور کامیابی و سرفرازی کے لئے دعاگو ہیں ۔

 

۷ جمادی الاولی، سنہ ۱۴۴۱
لطف الله صافی

 

موضوع:

مرحوم علامہ سید جعفر مرتضی عاملی (رحمۃ اللہ علیہ) کی رحلت کی مناسبت سے شیعہ مرجع عالی قدر جناب آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی مدظلہ العالی کا تعزیتی پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

نہایت ہی افسوس سے بزرگوار عالم اور اسلام و ولایت کے حقیقی مدافع جناب علامہ محقق حاج سید جعفر مرتضی عاملی رضوان اللہ علیہ کی رحلت کی غمناک خبر دریافت کی ؛ انا لله و انا الیه راجعون ۔

ایک ایسی شخصیت کہ جس نے اپنی بابرکت عمر صحیح تاریخ اسلام ، مذہب حقۂ جعفری ، شبہات کے جوابات اور اہل بیت علیہم السلام کے نورانی معارف کے دفاع میں بسر کی اور عالم اسلام ، حوزات علمیہ اور محققین کے لئے دسیوں نفیس ، گرانقدر اور معتبر کتابیں پیش کیں ۔ اس عالم دین کا فقدان علمی و دینی مراکز کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔  ہم اس عظیم نقصان کی مناسبت سے علمائے اعلام ، حوزات علمیہ ، یونیورسٹی کے محترم طالب علم اور بالخصوص لبنان کی شریف عوام اور ان فقید سعید کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال سے مرحوم کی روح مطہر کی بلندی درجات اور پسماندگانِ محترم کے لئے صبر جمیل و اجر جزیل کی دعا کرتے ہیں ۔

۲۸ صفر المظفّر ۱۴۴۱
لطف الله صافی

 

 

موضوع:

نویں بین الاقوامی حضرت امام سجاد علیہ السلام کانفرنس میں عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کا پیغام ۔ (ہرمزگان ، محرم الحرام سنہ ۱۴۴۱ ہجری)

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله ربّ العالمين و الصّلوة و السلام علي أشرف الأنبياء و المرسلين حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمد و آله الطاهرين سيّما بقية الله في الأرضين عجّل الله تعالی فرجه الشریف

ہم آستان ملائک پاسبان حضرت امام زین العابدین علیہ الصلاۃ و السلام سے توسل اور تعظیم و تکریم کے عنوان سے منقعد ہونے والی اس ملکوتی و ولائی کانفرنس میں شرکت کرنے والے اہل بیت نبوت علیہم السلام کے شیعوں  اور محبوں کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ۔ اور خداوند متعال کی  بارگاہ میں سب کے لئے برکات اور فیوضاتِ الٰہیہ کے نزول  کی دعا کرتے ہیں ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام مکام اخلاق ، فضائل حمیدہ ، ملکوتی صفات اور مقامات کی عظمت کے لحاظ سے تمام امت کے لئے موردِ ستائش ہیں ۔ سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام  علم ، معرفت ، ایمان ، عبادت اور تمام کمالات میں مشہور و معروف تھے ۔

عرب کا مشہور ادیب اور سخنور ’’جاحظ ‘‘ نے  کچھ اس طرح سے امام زین العابدین علیہ السلام کی توصیف کی ہے کہ : ’’ امَّا علىُّ بن الحسين بن علىّ فلم أرَ الخارجىَّ فى أمره إلّا كالشيعىِّ و لم أرَ الشّيعىَّ إلّا كالمعتزلىِّ و لم أرَ المعتزلىَّ إلّا كالعامىِّ و لم أر العامىَّ إلّا كالخاصىِّ و لم أجد أحداً يَتمارى فى تَفضيلِه و يَشُكّ فى تقديمه ‘‘

جی ہاں ! سب لوگ حضرت امام علی بن الحسین علیہما السلام کے مقامِ والا و ارفع کے معترف ہیں  اور ایسا کوئی شخص نہیں ہے کہ جسے آپ کی فضیلت یا آپ کے مقدم  ہونے میں کوئی شک و شبہ یا تردید ہو ۔ حضرت امام سجاد علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کے معجزات میں سے ایک گرانقدر اور بے نظیر و بے مثال کتاب ’’ صحیفۂ سجادیہ ‘‘ ہے ؛ ایک ایسی کتاب کہ جو توحیدی مطالب ، معرفتی حقائق ، اخلاقی موضوعات اور اعلٰی انسانی مکارم سے لبریز ہے  کہ جس میں انسانوں کو خالق کائنات سے گفتگو کرنے ، بندگی کے اظہار  اور بارگاہ ربوبیت میں خضوع و خشوع کا طریقہ و سلیقہ سکھایا گیا ہے ۔ خالق کائنات اور اس لامتنائی دنیا کے خالق کے سامنے انسان کو انتہائی حقیر دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر کے افق کو رشد و کمال کے اعلیٰ ترین مراتب  تک پہنچایا گیا ہے  ۔

حضرت زين العابدين و سيّد الساجدين علي ابن الحسين عليه أفضل صلوات المصلين اس میدان میں یگانہ ہیں اور عالم اسلام ایسی کتاب کی وجہ سے سب دنیا والوں پر افتخار کرتا ہے ۔

آج انسانیت نے مادی علوم کے لحاظ سے بہت ترقی کی ہے اور انسان روز بروز علم و دانش کے بلند قلعوں کو فتح کر رہا ہے ، لیکن اس دوران ایک حقیقت گم ہو چکی ہے اور اس سے غفلت برتی جا رہی ہے اور وہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے بغیر زندگی فضول (اور بے مقصد)  ہو جاتی ہے اور جس کے بغیر  انسان  حیرت و سرگرادنی کی دلدل میں پھنس جاتا  ہے ۔

اور وہ حقیقت دنیا کی حقیقی شناخت ، مافوق طبیعت دنیا اور غیب کی معرفت ہے ،  انسانوں کو پاکیزہ فطرت اسی کی جستجو کر رہی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ اپنی جان و مال اور جاہ و قدرت کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

کون یہ گمشدہ حقیت دکھا سکتا ہے ؟ کیا ان کے علاوہ کوئی اور زندگی کا جاودانی کمال دکھا سکتا ہے کہ جو عالمِ غیب سے ارتباط رکھتے ہوں اور جو دنیا کی حقیقت کو پہچانتے ہوں ؟!

اور جب انسان اس عظیم شناخت و معرفت سے لبریز کتاب کے روبرو ہوتا ہے تو اسے اپنے پورے وجود سے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جس نے اس عزیز امام کے وسیلے سے ایسے اعلیٰ معارف دنیا والوں کی دسترس میں قرار دیئے ہیں ۔

اور آخر میں ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عظیم شخصیت اور کتاب شریف صحیفۂ سجادیہ کے بارے میں بیان کرنا چاہئیں تو ہم بہت حقیقر ہیں اور ہم خداوند متعال کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں امام سجاد علیہ السلام کے نورانی معارف اور اس عظیم آسمانی گنج و خزانے سے آشنا فرمائے ، تا کہ ہم ان کی کچھ تعلیمات کو اپنی زندگی اور اپنے آج کے سماج میں اسوہ و نمونہ قرار دے سکیں ۔

میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام حاضرین کرام اور اس کا انعقاد کرنے والے محترم حضرات کا شکر گذار ہوں اور خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایات و توجہات ان کے شامل حال ہوں ۔ و السلام عليکم و رحمة الله و برکاتہ ۔

لطف الله صافی

23 محرّم الحرام ، سنہ 1441

 

موضوع:

روز مباہلہ کی عظمت و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کا پیغام – تهران، ذی الحجة‌ سنہ 1440
روز مباہلہ کی تجلیل و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله الذي جعلنا من المتمسکين بولاية اميرالمؤمنين و الائمة المعصومين عليهم السلام لاسيما مولانا بقية الله المهدي عجل الله تعالى فرجه الشريف و رزقنا الفوز بلقائه ۔

السلام عليکم و رحمة الله 

ہم ماہ شریف ذی الحجہ کے مبارک ایّام اور بالخصوص مباہلہ کے بزرگ ، عظیم اور جاودانی دن کے احترام اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو نو نفس نفیس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرار دیئے جانے کی عید کی مناسبت سے آپ عزیزوں کی خدمت میں چند کلمات بیان کرتا ہوں :امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت اور بلا فصل خلافت پر قرآن کریم میں صریح نصوص دو طرح کی ہیں : نصوص جليّه اور نصوص خفيّه ۔

قرآن کی نصوص جليّه ؛ مثلاً آيهٔ شريفه «إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللهُ» اور دیگر آیات کہ جن میں کچھ آٰات کو بزرگ دانشور نے کتاب شریف "خصائص الوحي المبين في مناقب اميرالمؤمنين عليه السلام" میں اہل سنت کے محدثین ، ارباب جوامع ، صاحبان صحاح و مسانید سے معتبر اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

قرآن کی نصوص خفیّه ؛ قرآن کی نصوص جلیہ کے ساتھ ساتھ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام اور تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام کی بلا فصل خلافت و ولایت کو ثابت کرنے والی ایسی محکم نصوص اور قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے ذریعہ سب کو مخاطب قرار دیا گیا ، مثلاً «أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ يَهِدِّي إِلا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَکُمْ کَيْفَ تَحْکُمُونَ» ان آیات سے واضح طور پر خلافت و امامت اور ہدایت کے امر میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے اظہر مصداق اور برحق ہونے کو استفادہ کیا جاتا ہے ۔

قرآن کی نصوص جلیّه میں سے ایک آیهٔ شریفه مباهله ہے ۔ قال الله تعالی: «فَمَنْ حاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْد مَا جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوا نَدْعُ ابْناءَنَا وَ ابْناءَكُم وَ نِسَاءَنا وَ نِسَاءَكُمْ وَ انْفُسَنا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ‏»۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے بلند مقام و مرتبہ اور فضیلت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔

على و حسن و حسين و فاطمه زهرا سلام الله عليهم اجمعین کو خداوند متعال کے حکم اور دستور کی بناء پر مباہلہ میں شریک کیا گیا ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مباہلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حاضر ہونے والے یہ چار مقدس اور عظیم نور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شائستہ اور سب سے زیادہ محترم تھے اور یہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ محترم تھے ۔

ان چار انوار مطہر کے لئے یہ فضیلت بڑی با عظمت ہے کہ ایسے اہم اور تاریخی واقعہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہوں اور خداوند متعال پوری امت ، چھوٹے بڑوں ، عورتوں اور مردوں میں سے صرف انہی کا انتخاب کرے ۔

جی ہاں !تاریخ اسلام میں چوبیس ذی الحجہ مباہلہ کے عظیم اور بزرگ دن کے عنوان سے درج ہے اور یہ اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کی اہم سند ہے ۔ عید سعید غدیر کی طرح اس دن کی بھی تجلیل و تکریم کی جانی چاہئے ۔ اس عظیم دن کی مناسبت سے شیعوں اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے محبوں کو عالی شان مجالس و محال منعقد کرنی چاہئیں اور اس اہم موضوع پر مؤلفین و مصنفین ، خطباء اور مدحت کرنے والوں کو لکھنا اور بیان کرنا چاہئے ۔

آخر میں ؛ میں اظہار وجود کرنے کی وجہ سے انتہائی عاجزی و انکساری اور ناتوانی عذر خواہی کرتا ہوں ، کیونکہ اس بارے میں اظہار عرض وجود اولیاء ، عظیم ہستیوں اور بزرگوں کی شان  ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ ان تھوڑی سی گذارشات کو اہل بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ملکوتی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا ہو ۔

و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

لطف الله صافي

23  ذی الحجة الحرام سنہ 1440

 

موضوع:

پیام ‌مرجع عالیقدر شیعه حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف به دوازدهمین اجلاس سالانه غدیر-مشهد مقدس، ۱۴۴۰ ه.ق
پیام ‌مرجع عالیقدر به دوازدهمین اجلاس سالانه غدیر-مشهد مقدس، ۱۴۴۰ ه.ق

پیام ‌مرجع عالیقدر شیعه حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف به دوازدهمین اجلاس سالانه غدیر-مشهد مقدس، ۱۴۴۰ ه.ق

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله الذی هدانا لهذا و ما کنّا لنهتدی لولا أن هدانا الله 
الحمد لله الذی جعلنا من المتمسکین بولایة امیرالمؤمنین و الائمة المعصومین صلوات الله علیهم أجمعین 
بزرگترین عید آسمانی، عید سعید غدیر را به آستان مقدس حضرت بقیة الله الأعظم عجل الله تعالی فرجه الشریف و به شما غدیریان عزیز و شیعیان با اخلاص تبریک و تهنیت عرض می کنم‌.
اجتماع پرشکوه و با عظمت اساتید ارجمند ، دانشمندان و دانشجویان و فضلای محترم را در پایگاه ولایت - مضجع نورانی هشتمین امام معصوم حضرت علی بن موسی الرضا علیه آلاف التحیة و الثناء - گرامی می داریم.
برای حقیر افتخار است که بار دیگر عرض ادب و چاکری خود را به خادمان سرافراز غدیر اعلام نموده و نام خود را به عنوان کوچکترین جاروکش محافل غدیری در دفتر ماندنی و جاودانی خدمتگزاران و چاکران دربار آستان مقدس علوی ثبت نمایم.
حقیر واقعاً کوچکتر از آن هستم که بخواهم عرضی داشته باشم:
اندر آن ساحت که بر پشت صبا بندند زین – با سلیمان چون برانم من که مورم مرکب است

موضوع:

کشمیر کے ناگوار حوادث کی مناسبت سے  حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مد ظله العالی کا پیغام

 

بسم الله الرحمن الرحیم

وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

ان دنوں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ناگوار حوادث  ہر آزاد انسان کے دل کو رنجیدہ و متأثر کر رہیں ہیں ۔ کشمیر کے بے گناہ اور مظلوم عوام  ایسا کون سا  جرم اور گناہ کیا ہے  کہ جس کی وجہ سے آج ہندوستان کی فوج انہیں بدترین ظلم و ستم  کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ کئی افراد کے گھر تباہ ہو گئے ، بہت بڑی تعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے ہیں ، اور کئی افراد  کو قیدخانوں  میں قرون وسطی کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

انسانی سماج ، انسانی حقوق کے دعویدار ، اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس کے اداروں نے اس پر کیوں خاموش اختیار کی ہوئی ہے ؟ وہ (کشمیر کے ) نہتے اور مظلوم انسانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کی مذمت کیوں نہیں کر رہے ؟

افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت اور اسلامی حکومتیں اس بارے میں ایک تذکر بھی نہیں دے رہیں ۔ اگر تمام اسلامی حکومتیں ایک ساتھ متحد ہوتیں اور  ہندوستان کے اس ظلمِ عظیم کے مقابل میں ایک اقدام کرتیں تو یقینی طور پر ہندوستان اپنی ان وحشیانہ کاروائیوں سے باز آ جاتا ۔

ہم ہندوستان کے زیر نگرانی کشمیر اور دوسرے مقامات پر ان غیر انسانی حوادث اور کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور  ہندوستان کی مرکزی حکومت سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد کشمیر کے بے گناہ لوگوں کے حقوق کی رعائت کرتے ہوئے اپنے ظلم و ستم اور ان جرائم کو ختم کرے ۔ ان غیر انسانی کاروائیوں کو جاری رکھا گیا تو یہ ہندوستان کے لئے ذلت و خواری کا باعث بنے گا کہ  جو خود کو مختلف ادیان و مذاہب اور مختلف اقوام کے حقوق کا علمبردار سمجھتا ہے ۔

خداوند منقتم قهار فرماتا ہے :

وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۔

14 ذی الحجه الحرام 1440

لطف الله صافی

موضوع:

مرجع عالیقدر آیت الله حاج شیخ قربان‌علی محقق کابلی ره کی رحلت کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله العالی کا پیغام

باسمه تعالی

انا لله و انا الیه راجعون

فقیہ بزرگوار آیت اللہ جناب حاج شیخ قربان علی محقق کابلی قدس سرہ  کی رحلت غم اور تأسف کا باعث بنی ۔

اس پارسا عالم نے اپنی بابرکت زندگی کلمۂ الٰہی کی سربلندی ، قرآن اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے نورانی معارف کی نشر و اشاعت اور فاضل و مہذب شاگردوں کی تربیت کرنے میں بشر کی ۔ آپ  کی دینی اور عام المنفعۃ خدمات بہت زیادہ ہیں  کہ جن سے افغانستان کے کچھ مظلوم مسلمان استفادہ  کرتے تھے ۔

میں اس مجاہد عالم کی رحلت کے موقع پر علماء اعلام ، حوزۂ علمیہ اور بالخصوص افغانستان کے شریف و نجیب اور محترم فضلا و طلاب اور مرحوم کے بیت مکرم کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتا ہوں ۔ اور خداوند م تعال کی بارگاہ میں مرحوم کی بلندیِ درجات کے لئے دعا گو ہوں ۔

۹ شوال المکرّم ، سنہ ۱۴۴۰ ہجری

لطف الله صافی

موضوع:

امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی شہادت کے چودہ سو سال کی مناسبت سے عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الوارف کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

سنہ ۱۴۴۰ ہجری کا ماہ مبارک رمضان عالمِ انسانیت کی تاریخ اور حیاتِ بشری میں بہت ہی ناگوار اور تلخ سانحہ کی یاد دلاتا ہے ۔

اس سال مکتب اسلام کے پہلے حقیقی و واقعہ موحّد ، مدرسۂ الٰہیات قرآن کے  بے مثال اور نمونہ معلم ، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے برحق وصی و جانشین ، عدالتِ مجسم ، مظلوموں کے یاور اور ظالموں کے دشمن ، یتیموں کے انیس و مونس اور پدر ، صاحب ولايت مطلقهٔ الهيه ، باب مدينۃ العلم نبوي اور صاحب کرامات و فضائل مرتضوي حضرت امير المؤمنين علي ابن ابيطالب عليهما ‌السلام کی شہادت کو چودہ سو سال گذر جائیں گے ۔

چودہ سو سال سے اسلامی معاشرہ بلکہ دنیائے انسانیت اور عالم علم و ادب اس امام عزیز کے فقدان و جدائی اور غمگناک و اندوہناک مصیبت پر عزادارو سوگوار ہے ۔

ان چودہ صدیوں میں امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کے دوستوں ، محبّوں اور شیعوں پر کیا گذری ؟ ان پر کیسے کیسے ظلم و ستم اور بے انصافیاں روا رکھی  گئیں ؟ ہزاروں مظلوم اور نہتھے  انسانوں کو صرف علی علیہ السلام کا شیعہ ہونے کے جرم میں شہید کیا گیا ، بہت سے لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، بے شمار افراد کو ملک بدر کر دیا گیا ، اور بڑی تعداد میں والدین کو راہِ ولایت میں ان کے بیٹوں کی شہادت پر سوگوار بنایا گیا ؛ فَقُتِلَ مَن قُتِلَ وَ سُبِي مَن سُبِي وَ أقصِي مَن أقصِي۔

اس سال کا ماہ رمضان المبارک ان تمام مصائب ، مشکلات اور نا انصافیوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے ۔

بندۂ حقیر ولایت و امامت کی بارگاہ میں چھوٹی سی ذمہ داری کو ادا کرنے کی غرص سے تمام حریت پسندوں ، مسلمانوں اور بالخصوص شیعوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ماہ مبارک رمضان کے پُر فیض ایّام ، شبِ قدر کی راتوں اور حضرت مولی الموحدین امام المتقین امیر المؤمنین علی علیہ صلوات المصلین کی شہادت کے دن آپ  کی بارگاہ میں پہلے سے زیادہ ادب و اخلاص کا اظہار کریں ۔ اور اس مظلوم امام کے نورانی فضائل و مناقب کو بیان کریں ۔ مجالس عزاء ، سیمینار اور کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے سے دنیا کے سامنے آپ کے وجود کی برکات کو آشکار کریں ۔ اسی طرح عزاداری علوی کے ماتمی جلوسوں اور دستوں کی عظمت میں بھی اضافہ کریں اور ان میں شرکت کر کے اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی محبت و عقیدت اور عشق کا اظہار کریں اور يگانه دوران قطب عالم امکان امام زمان حضرت بقية الله الاعظم ارواح العالمين له الفداء و عجل الله تعالي فرجه الشريف کی خدمت اقدس میں تعزیت و تسلیت پیش کریں اور خداوند متعال سے امام عصر جل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے  فرج و ظهور موفور السرور ، ظالموں کے ظلم کے خاتمے اور واحد عالمی مہدوی حکومت کی تشکیل کے لئے دعا کریں ، کیونکہ ؛ إنَّهُم يَرَونَه بَعيداً وَ نَراهُ قَريباً.

لطف الله صافی
رمضان المبارک سنہ ۱۴۴۰ ہجری

 

موضوع:

سعودی عرب کے مظلوم مسلمانوں کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الشریف کا تعزیتی پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

نہایت ہی افسوس سے یہ خبر ملی کہ حجاز کی ظالم و سفاک حکومت نے بہت ہی وحشتناک جرم انجام دیا ہے کہ اس ظالم  حکومت کی سیاہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی ۔ سعودی عرب کے ظالموں کے ہاتھوں بے گناہ اور مظلوم جوانوں کو شہید کیا گیا ۔ اگرچہ ان شہداء کے لئے یہ سعادت ، افتخار اور عظیم مرتبہ ہے ؛ لیکن  بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیموں کے لئے یہ یہ ذلت اور شرم کا مقام ہے۔

کیوں  اسلامی حکومتوں نے اس وحشیانہ سانحہ پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ ان مظلومانہ آواز پر کیوں مثبت جواب نہیں دے رہے ؟

ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں بے گناہ انسانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت پر افسوس کا اظہار کریں اور ظالموں کی مذمت کریں ؛ لیکن اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمان ، اسلامی حکومتیں اور تمام اقوام عالم ان مظالم کی مذمت نہیں کر رہے اور اپنی انسانی ذمہ داریوں کو بھول گئے ہیں ، بلکہ وہ اپنی خاموشی سے ان خونخوار درندوں کو حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں کہ وہ اسی طرح اپنے ظلم اور بربریت کو جاری رکھیں ۔

میں شہداء کے معظم خاندانوں کی خدمت میں تسلیت اور (شہادت کے عظیم مرتبہ پر ) تبریک پیش کرتا ہوں ۔اور خداوند متعال کی بارگاہ میں ان کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کی دعا کرتا ہوں ۔ ان شاء الله ان کے شہداء ؛ شہدائے بدر و احد کے ساتھ محشور ہوں ۔ اور میں ذات لایزال الهی کی بارگاہ میں ان ظالموں کے ظلم کے خاتمہ کے لئے بھی دعا گو ہوں ۔

وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ

۱۹ شعبان المعظم ، سنہ ۱۴۴۰ ہجری

لطف الله صافی

موضوع:

صفحات

Subscribe to RSS - پیام‌‌ها