بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین و الصّلوة و السّلام علی سیّد الأنبیاء و المرسلین أبی القاسم المصطفی محمّد و آله الطیبین الطاهرین سیّما بقیة الله فی الأرضین عجّل الله تعالی فرجه الشریف. عَنْ أَبِي عَبْدِ الله عليه‌السلام قَالَ: «...
پنجشنبه: 1397/09/22 - (الخميس:5/ربيع الثاني/1440)

Printer-friendly versionSend by email
اسلامي عدالتی قوانين كي بنياد پر مسئلہ فدك كا حل و فصل

سوال : اگر فدك كے مسئلے ميں مخالفين يہ اعتراض كريں كہ " عدالتي قوانين كے لحاظ سے حضرت صديقہ طاہرہ عليھا السلام كا دعويٰ ثابت نہيں ہو سكا ، جس طرح اميرالمومنين عليہ السلام قاضي كے سامنے اپني زرہ كے لئے كوئي دليل قائم نہ كر سكے اور مولائے كائنات كے گماشتہ قاضي نے ان كي عصمت كي پروا كئے بغير ان كے خلاف فيصلہ ديا ، تو اس كا كيا جواب ديا جا سكتا ہے ۔
جواب : فدك كے غصب كے سلسلے ميں ابوبكر اور اس كے ہمنوا لوگوں كا رويہ اسلامي عدالتي قوانين كے بالكل خلاف تھا ، اور يہ بات واضح تھي كہ ان كي روش معمول كے مطابق اور بے غرض نہ تھي ۔ 
يہ مسئلہ خالص سياسي مسئلہ تھا جس كو ابوبكر اور اس كي ہمنوا جماعت كے ذاتي اغراض كي بنياد پر حل كيا گيا ۔ يہ گروہ خدا و رسول كے صريح حكم كے خلاف خاص كر متواتر حديث ثقلين اور غدير خم كے علانيہ اعلان كے باوجود مسئلہ امامت و خلافت كو وحي الٰہي كے ذريعہ منصوص راستے سے ہٹا كر اپني ہويٰ و ہوس كے مطابق چلانا چاہتا تھا ۔ 
البتہ امامت و خلافت رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے راستے كو كوئي بدل نہيں سكتا چونكہ وہ حكم خدا سے معين ہو چكا ہے اور حضرت بقيۃ اللہ الاعظم (عج) كے ظہور تك اسي راستے پر گامزن رہے گا ۔ 
يہ گروہ چاہتا تھا كہ ظاہري صورت حال كو تبديل كر دے تاكہ اپنے مقصد كو حاصل كر سكے ، جبكہ جس طرح كسي كي شرعي ملكيت ميں غصبي تصرف كرنے سے مالك كي ملكيت پر كوئي فرق نہيں پڑتا اور مغصوب ملكيت اصلي مالك كي ملكيت ميں باقي رہتي ہے اور غاصب ضامن ہوتا ہے اسي طرح امامت و خلافت كا عہدہ بھي صاحبان ولايت و امامت كي ملكيت ميں باقي ہے اسے حقيقت ميں كوئي ان سے چھيں نہيں سكتا ہے ۔ 
جس چيز كو غصب كيا گيا وہ اس شرعي منصب كي ظاہري رياست و حكومت تھي جس كي تمنا ان جاہ طلب لوگوں كو ہميشہ سے تھي جبكہ اس منصب كے حقيقي عہديدار اس حقيقي منصب كو مد نظر ركھتے تھے جيسا كہ اميرالمومنين عليہ السلام نے ابن عباس كے جواب ميں اس كي وضاحت فرمائي ہے ۔ (نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳)
معتبر كتابوں كي بنياد پر يہ رياست طلب گروہ جو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے سے ہي تباہي كا منصوبہ بنا چكا تھا ، اس نے اسلامي سياست و حكومت كے راستے كو اس طرح تبديل كر ديا كہ اس كے بعد آنے والي حكومتيں بدترين نظام كي حامل ، ظالم ترين ، بے رحم اور بے دين ترين اور عياش حكومتيں تھيں جو مسلمانوں پر مسلط ہوئيں ۔ 
يہ گروہ جس نے پيغمبر (ص) كي عمر مبارك كے آخري ايام ميں اپنے موقف كا علانيہ اظہار كرنا شروع كر ديا تھا اور واقعہ يوم الخميس ميں جب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے كاغذ اور قلم دريافت كيا تاكہ وہ چيز لكھ ديں جس كے بعد مسلمان كبھي گمراہ نہ ہوں اوراسي طرح لشكر اسامہ ميں شامل ہونے پر مبني پيغمبر(ص) كے حكم كي مخالفت كيا اور رحمۃ للعالمين كے جنازے كو چھوڑ كر سقيفہ ميں اكٹھا ہوكر اس غلط عمارت كي بنياد ركھي ۔ 
سقيفہ كے سياسي منصوبے ميں لوگوں كو ڈرايا دھمكايا گيا ، عمر بن الخطاب نے بہت ہي شدت و سختي كے ساتھ ننگي تلوار لے كر مدينہ كي گليوں ميں لوگوں كو ابوبكر كي بيعت كرنے پر مجبور كيا ۔ 
اس سلسلے ميں شروع ہي ميں بلكہ سب سے پہلے جو كام كيا گيا وہ پيغمبر(ص) كي اكلوتي بيٹي سيدہ نساء العالمين اور جنت كي عورتوں كي سردار كي جائداد پر قبضہ تھا ، چونكہ انھيں يقين تھا كہ جناب فاطمہ ايسي صاحب ايثار ہيں كہ ان كے پاس جو كچھ بھي ہے اسے راہ خدا ميں ضرورتمند مسلمانوں كے درميان تقسيم كر ديں گي اور اس طرح سے خاندان رسالت كي محبت لوگوں كے دلوں ميں برقرار رہے گي ۔ اس لئے انھوں نے يہ فيصلہ كيا كہ ان كے تمام اموال كو ان سے چھين ليں تاكہ وہ لوگوں كي مدد اور اعانت نہ كر سكيں ۔ 
عمر ابوبكر اور ابوعبيدہ كي پارٹي كے سامنے فدك غصب كرنے ميں صرف يہي مصلحت دركار تھي كہ ان كو حكومت مل جائے ليكن حالات اتنے سخت اور غير معمولي تھے كہ خوف و ہراس كي وجہ سے كوئي يہ بات نہ كہہ سكا يا اگر كسي نے كہا بھي تو اس كي بات پر توجہ نہيں كي گئي ۔ 
بر فرض فدك حضرت زہرا(س) كي ذاتي ملكيت نہ رہا ہو اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس كي درآمد سے استفادہ كرنے كے لئے يا كسي بھي دوسري مصلحت كے لئے انھيں ديا تھا تو كس طرح آنحضرت كي وفات كے بعد اچانك ساري مصلحتيں تبديل ہو گئيں اور پيغمبر كا حكم جسے انھوں نے فرمان خدا كي بنياد پر ديا تھا اسے غلط قرار دے ديا گيا ؟ 
فدك اگر عائشہ اور حفصہ كے پاس ہوتا تو كيا ابوبكر و عمر ان سے بھي چھين ليتے ؟ يا پھر ان كي تائيد و تصديق كرتے ، اور اگر سارے مسلمان مل كر فدك ان سے واپس لينے كا مطالبہ كرتے تو يہ عذر پيش كرتے ہوئے كہ پيغمبر (ص) كے عمل كي ترديد نہيں كي جاسكتي ، مسلمانوں كے تقاضے كو ٹھكرا ديا جاتا ؟ 
نتيجہ يہ كہ فدك كا مسئلہ اتنا سادہ نہ تھا بلكہ حكومت اور رياست كا مسئلہ تھا اور اس مسئلے ميں جناب فاطمہ زہرا(س) كي تصديق كر دينے سے اہل سقيفہ كي ساري مكاري و عياري پر پاني پھر جاتا ۔ 
ہم اس وقت اہل سقيفہ كے ان منصوبوں كے پس پردہ چھپے ہوئے راز كي بحث نہيں كرنا چاہتے بلكہ صرف عدالتي قوانين كے لحاظ سے اس مسئلہ پر ايك نظر كريں گے ۔
يہ بات تو يقيني ہے كہ فدك كوئي چيز تھي اور اسے پيغمبر (ص) نے حكم خدا سے حضرت زہرا(س) كے حوالے كيا تھا ۔ 
اس بخشش اور عطا كا مطلب يہ ہے كہ نبي نے فدك ان كي ملكيت ميں ديا ہے جس كے بعد نہ حضرت زہرا (س) نہ كسي دوسرے كو ملكيت كے علاوہ كوئي دوسرا احتمال بھي نہيں تھا ۔ چونكہ يہ عطا حكم خدا سے تھي اس لئے اس كو لوٹانے كے لئے بھي وحي كي ضرورت پڑے گي ، ميرا مطلب ہے كہ خود رسولخدا(ص) كو بھي بغير وحي اور حكم الٰہي كے فدك واپس لينے كي اجازت نہيں تھي ، چونكہ يہ كام وحي الٰہي سے انجام پايا تھا اس لئے اسے بدلنے كا كسي كو بھي اختيار نہيں تھا ۔ 
اس لئے يہ بات واضح تھي كہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور رابطہ وحي ختم ہوجانے كے بعد كسي كو حضرت زہرا(س) سے فدك واپس لينے كا اختيار نہيں تھا ۔ 
اس كے باوجود ہم مقام رسالت سے پست لوگوں كي جانب سے فدك كي واپسي كے مطالبہ كے مسئلے كو تفصيل سے يہاں پر پيش كريں گے ۔ 
الف : عدالت ميں پيش ہونے والے ہر مقدمے كے تين اساسي ركن ہوتے ہيں ۔ 
اول : مدعي ( جس نے دعويٰ پيش كيا ہو )
دوم : مدعيٰ عليہ ( جس كے خلاف دعويٰ پيش كيا گيا ہو )
سوم : قاضي و حاكم ( فيصلہ كرنے والا)
جس طرح مدعي اور مدعيٰ عليہ كا الگ الگ ہونا ضروري ہے، اسي طرح ضروري ہے كہ مدعي اور قاضي بھي الگ الگ ہوں ، دونوں كا عنوان الگ ہونا كافي نہيں ہے مثال كے طور پر ايك آدمي كسي بچہ كا ولي ہونے كے عنوان سے اپنے اوپر كوئي دعويٰ پيش كرے ، يا بچہ كے ولي پر اپني طرف سے كوئي دعويٰ پيش كرے ۔ 
غصب فدك كے واقعہ ميں ابوبكر باوجود اس كے كہ خود مدعي تھے اور اس اعتبار سے كہ لوگوں كے حاكم ہونے كے دعويدار تھے وہ كس طرح خود كو قاضي سمجھنے لگے اور كس طرح انھوں نے حضرت زہرا(س) سے گواہ طلب كيا تاكہ وہ اپنے اور حضرت زہرا(س) كے درميان فيصلہ كر سكے ۔ 
ب : علي القاعدہ مقدمات كا فيصلہ ايسي عدالت ميں ہونا چاہئے جس كو مقدمہ كے طرفين قبول ركھتے ہوں اور مدعي كو ايسي عدالت ميں مقدمہ پيش كرنا چاہئے جبكہ اس وقت نہ ايسي كوئي عدالت موجود تھي نہ حضرت زہرا(س) علي عليہ السلام كے علاوہ كسي كو حكومت اور قضاوت كا اہل سمجھتي تھيں۔
ابوبكر بھي باوجود اس كے كہ پيغمبر(ص) نے فرمايا تھا كہ اقضاكم علي " علي سب سے بڑے قاضي ہيں " كبھي اس مقدمے كو علي (ع)كے پاس نہ لے جاتے اور اس وقت تك ابوبكر نے كسي كو قاضي بھي معين نہيں كيا تھا اور اگر اس نے معين بھي كيا ہوتا تو اسے حضرت زہرا(س) قبول نہ كرتيں چونكہ وہ نصب كرنے والے اور منصوب كسي كو مشروع اور جائز نہيں سمجھتي تھيں ۔ 
ج ۔ اگر يہ كہا جائے : ابوبكر خود كو مسلمانوں كا حاكم سمجھتا تھا اس لئے وہ خود كو اس بات كا حقدار جانتا تھا كہ مسلمانوں كي طرف سے مدعيٰ پيش كرے اور ولي امر مسلمين ہونے كے لحاظ سے خود اس كا فيصلہ بھي كرے ۔ 
اس كا جواب يہ ہے كہ ابوبكر اور اس كے ساتھي جس بنياد پر حكومت كو اجماعي اور اتفاقي بتانا چاہتے تھے وہ اجماع اور اتفاق شيعہ و سني دونوں كي نظر ميں فدك كے غصب تك محقق ہي نہيں ہوا تھا اس لئے كہ تمام مورخين كا اتفاق ہے كہ جب تك فاطمہ زندہ تھيں بني ہاشم اور غير بني ہاشم كي بعض معروف شخصيتوں نے ابوبكر كي بيعت نہيں كي تھي ، جبكہ وہ شخصيات اہل حل و عقد ميں سے تھيں اور جب تك حضرت زہرا(س) زندہ تھيں ابوبكر كي جماعت تمام ظلم و ستم كے باوجود ان سے بيعت نہيں لے سكي تھي اور دوسروں سے جو بيعت لي گئي تھي وہ بھي ڈرا دھمكا كر لي گئي تھي ۔ 
اس لئے خود انھيں كے نظريہ كي بنياد پر اس وقت تك ان كي حكومت قانوني ہي نہيں تھي كہ اس كے لئے اس طرح كے تصرفات اور ہر طرح كے امور ميں مداخلت جائز رہي ہو ۔ 
د ۔ ہميں اس بات سے انكار نہيں كہ اگر حكومت مشروع اور قانوني ہو تو حاكم لوگوں كے مقدمات كا فيصلہ بھي كر سكتا ہے اور لوگوں كي طرف سے مقدمہ پيش بھي كر سكتا ہے ليكن ايك ہي واقعہ ميں يہ بات عقل و منطق كے خلاف ہے كہ مدعي اور منصف ايك ہو۔ اس كي سيرت پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں بھي كوئي مثال نہيں ملتي ہے كہ ايك ہي مسئلہ ميں حاكم مدعي بھي ہو اور قاضي بھي ، دوسرے يہ كہ اس سے يہ بات لازم آتي ہے كہ مدعي اپنے دعوے پر بھي يقين ركھتا ہے اور چونكہ قاضي ہے اس لئے اپنے علم كي بنياد پر فيصلہ بھي كر سكتا ہے ۔ ( يعني اسے گواہ اور شاہد كي بھي ضرورت نہيں ہوگي ) 
ھ ۔ سب سے بڑا اعتراض يہ ہے كہ اگر ابو بكر خود مدعي اور قاضي تھا جيسا كہ اس واقعہ ميں اس نے كيا، تو اگر اسے اس بات كا يقين تھا كہ فدك مسلمانوں كا حق ہے اور حضرت صديقہ طاہرہ سلام اللہ عليھا نے ۔ العياذ باللہ ۔ ناحق اس پر قبضہ جما ركھا ہے تو كيوں جناب فاطمہ سے اس نے گواہ طلب كيا اور اپنے علم پر عمل كيوں نہيں كيا ؟ اور اگر اسے اس كا يقين نہيں تھا بلكہ اس بات كا احتمال بھي تھا كہ ہو سكتا ہے جناب فاطمہ (س) حق پر ہوں تو كيوں اس نے يہ دعويٰ پيش كيا اور فدك كو اپنے قبضے ميں ليا چونكہ مدعي كو اپنے دعوے كا يقين ہونا چاہئے ۔ 
اگر يہاں پر قاعدہ استصحاب بقاي ملكيت جاري ہو تو اس كا نتيجہ صرف يہ ہوگا كہ صاحب يد مدعي سمجھا جائے اور اس سے بينہ طلب كيا جائے ليكن صرف استصحاب كي بنا پر دعويٰ پيش كرنا اور پھر اسے صاحب يد كے خلاف قرار دينا صحيح نہيں ہے ۔ مثال كے طور پر اگر زيد كے باپ كا گھر عمرو كے ہاتھوں ميں ہو جو يہ دعويٰ كرے كہ اس نے اس گھر كو زيد كے باپ سے خريدا ہے اور زيد يہ چاہے كہ چونكہ يہ گھر پہلے اس كے باپ كي ملكيت ميں تھا اس بنا پر استصحاب جاري كرتے ہوئے عمرو كو غاصب اور ظالم كہہ كر عدالت ميں مقدمہ پيش كرنا چاہے تو اس كا يہ دعويٰ قابل قبول نہيں ہے ۔ 
ان تمام ملاحظات كے بعد پتہ چلتا ہے كہ حضرت زہرا سلام اللہ عليھا كے حق كو غصب كرنے ميں كسي طرح كي عدالتي قوانين كي رعايت نہيں كي گئي تھي بلكہ جاہ طلب منافقين كا حسد و كينہ جو زمانہ جاہليت سے كچھ لوگوں ، خاص كر ان دونوں كے دلوں ميں تھا ، اس كي بنياد پر سيد المرسلين صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي اكلوتي بيٹي پر يہ ظلم و ستم روا ركھا گيا تھا ۔ 
ان تمام نكات كے مد نظر جو چيز ان ظالموں كے نفاق كو ثابت كرتي ہے اور اس بات كي تصديق كرتي ہے كہ يہ سچے دل سے وحي و رسالت پر بھي ايمان نہيں ركھتے تھے وہ يہ ہے كہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بارہا تاكيد اور تصريح اور آيت تطہير كے نزول كے باوجود انھيں حضرت زہرا كي طہارت و صداقت ميں شك تھا ۔ اور اگر انھيں اس بات ميں شك تھا تو كس طرح ہم مان ليں كہ ان كا رسالت پر ايمان مكمل تھا ؟ اور اگر شك نہيں تھا تو اس طرح كے ظلم و ستم كے مرتكب كيوں ہوئے ؟ 
كيا يہي اجر رسالت كي ادائگي تھي ، اس پيغمبر كي رسالت كا اجر جس نے ہدايت كي راہ ميں كتني مصيبتيں اور اذيتيں برداشت كي تھيں ، اس كے اجر كي ادائگي يہي تھي كہ اس كي اكلوتي بيٹي كو اس طرح رنجيدہ كيا جائے ۔ 
كيا اگر فدك مسلمانوں كا حق تھا تو جس طرح پيغمبرصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسے حكم خدا سے حضرت زہرا (س) كے حوالے كيا تھا اسي طرح ابوبكر خدا و رسول كي پيروي كرتے ہوئے اسے حضرت زہرا(س) كو دے ديتے تو كيا كوئي مسلمان اعتراض كرتا ؟ 
يقيناً كوئي مسلمان ۔ سوائے ان لوگوں كے جو يہ نہيں چاہتے تھے كہ فدك حضرت زہرا(س) كے ہاتھوں ميں رہے ۔ آنحضرت سے فدك واپس لينے كا مطالبہ نہ كرتا ۔ و سيعلم الذين ظلموا اي منقلب ينقلبون 
اور واقعہ غصب فدك ميں حضرت زہرا(س) سے گواہ كے مطالبہ كو اميرالمومنين عليہ السلام كي زرہ كے واقعہ سے مقايسہ كرنا صحيح نہيں چونكہ دونوں ميں بہت ہي فرق ہے ۔ 
اول : زرہ كے واقعہ ميں صاحب يد سے بينہ كا مطالبہ نہيں كيا گيا جو كہ عدالت كے قانون كے خلاف ہے ، جبكہ فدك كے واقعہ ميں حضرت زہرا(س) جو صاحب يد تھيں ان سے بينہ طلب كيا گيا ۔ 
دوم : جيسا كہ ہم پہلے بتا چكے ہيں كہ يہ مقدمہ معمول كے مطابق نہ تھا بلكہ سياسي اغراض كے تحت تھا ۔ 
سوم : قاضي شريح اگر چہ اميرالمومنين كے زمانے ميں بھي قاضي تھا ليكن وہ بھي انھيں ظالموں ميں سے تھا جنہوں نے حضرت زہرا(س) سے فدك چھينا تھا اور اميرالمومنين (ع) نے كسي مصلحت كي بنياد پر اسے معزول نہيں كيا تھا ، اسي لئے امام عليہ السلام نے اس كے حكم كے نفاذ كے لئے ايسا راستہ اختيار كيا كہ جس سے لوگوں كا حق ضائع نہ ہونے پائے ۔ 
بنا بر اين اس جيسے آدمي سے اس كے علاوہ كوئي توقع نہيں كي جا سكتي اميرالمومنين عليہ السلام كے مسئلے ميں اس طرح كي برخورد كرے اور پھر حقيقت كا علم ہونے كے بعد حكم صادر كرے ۔ اگر اس كي جگہ مالك اشتر يا عمار ياسر يا آنحضرت كے مقام و منزلت كو پہچاننے والے اصحاب ہوتے تو اپنے علم كي بنياد پر فيصلہ كرتے ۔ليكن جب اس غلط سنت كي بنياد پڑ چكي اور فدك كے مسئلے ميں حضرت زہرا (س) سے گواہ مانگ كر ان كا حق غصب كر ليا ، ان كي طہارت و صداقت اور منصوص عصمت كا پاس نہ ركھا گيا تو اس كے بعد عدالت كا يہي طريقہ بن گيا كہ اميرالمومنين عليہ السلام جو صاحب يد نہ تھے ان سے بھي بينہ طلب كيا جائے ۔ 
البتہ ايك احتمال يہ بھي ہے كہ (اگر اس حديث كي سند صحيح ہو ) تو اميرالمومنين عليہ السلام نے شريح كے فيصلے پر كوئي اعتراض اس لئے نہيں كيا كہ خود آنحضرت نے اس طرح فيصلہ كرنے كا حكم ديا تھا تاكہ وہ آدمي اسلام سے مانوس ہو كر ايمان لا سكے ، جيسا كہ اس نے بعد ميں اسلام قبول كر ليا يا يہ وجہ رہي ہو كہ چونكہ اس شخص نے اسلام قبول كر ليا اس لئے امام عليہ السلام نے شريح كے فيصلے پر كوئي اعتراض نہيں كيا۔
مختصر يہ كہ ان دو وواقعات ميں سے پہلا واقعہ ايك منصوبہ بند اور سياسي مقاصد كے تحت انجام ديا گيا اور دوسرا واقعہ ايك معمولي واقعہ تھا كہ جس ميں اميرالمومنين عليہ السلام كي بزرگي اور سخاوت كا مظاہرہ كيا جا سكتا ہے ، اس لئے دونوں كو كسي صورت مقايسہ نہيں كيا جا سكتا ہے ۔ و الحمدلله اولاً و آخراً و صلي الله علي محمد و آله الطاهرين ۔

شنبه / 26 آبان / 1397