همزمان با دهه مبارکه مهدویت، پایگاه اطّلاع‌رسانی دفتر مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دامت‌برکاته، طرح مطالعاتی بعض آثار مهدوی معظّم له را در قالب مسابقه سراسری «نوید امن و امان» برگزار کرد که با توجّه به استقبال چشمگیر از این...
Wednesday: 28 / 06 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
امام حسين عليہ السلام آيۃ تطہير كي روشني ميں

" اِنَّما يُريدُ اللّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ‎الرِّجْسَ أَهْلَ اْلبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً "(سورہ احزاب ، آيت/۳۳)
ترجمہ : بس اللہ كا ارادہ يہ ہے اے اہلبيت! كہ تم سے ہر برائي كو دور ركھے اور اس طرح پاك و پاكيزہ ركھے جو پاك و پاكيزہ ركھنے كا حق ہے۔ 
شيعہ و سني دونوں مذہب ميں مشہور و متواتر روايات كي بنياد پر آيت تطہير عالم خلقت كي پانچ ممتاز شخصيتوں كے اجتماع پر نازل ہوئي ، جو اجتماع كبھي چادر كے نيچے برپا ہوا ، كبھي پيغمبر اكرم (ص) كے خانہ اقدس ميں تو كبھي فاطمہ زہرا(س) كے گھر ميں برپا ہوا ۔ يہ آيت اور اس كي تفسير ميں وارد ہونے والي احاديث حضرت سيد الشہداء (ع) كي عصمت اور جلالت شان پر دلالت كرتي ہيں ۔ 
اس آيت اور حديث كساء كے متعلق مفصل كتابيں لكھي گئي ہيں ، بعض راويوں ، جيسے صبيح(اسد الغابہ ، ج/۱۳، ص/۱۱) نے اس حديث كا كچھ حصہ نقل كيا ہے ، منجملہ مسلم ، بغوي ، واحدي ، اوزاعي ، طبري ، ترمذي ، ابن اثير ، ابن عبدالبر ، احمد، حمويني ، زيني دحلان ، بيہقي وغيرہ نے عائشہ ، ام سلمہ ، انس ، واثلہ ، صبيح ، عمربن ابي سلمہ ، معقل بن يسار ، ابي الحمراء، عطيہ اور ابي سعيد و ام سليم(صحيح مسلم ، ج/۷، ص/ ۱۳۰ وغيرہ) سے اس واقعہ كے سلسلے ميں متعدد روايات نقل كي ہيں ۔ 
عائشہ ناقل ہيں : پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ ايك صبح آئے در حاليكہ وہ برد يمني (وہ چادر جو كالے بالوں سے بني ہوئي تھي ) اوڑھے ہوئے تھے ، پھر حسن (عليہ السلام ) آئے پيغمبر(ص) نے انھيں چادر كے اندر بلا ليا ، اس كے بعد حسين (عليہ السلام ) آئے وہ بھي چادر كے اندر چلے گئے ، پھر فاطمہ (عليھا السلام) آئيں پيغمبر(ص) انھيں بھي چادر ميں لے گئے اور آخر ميں علي عليہ السلام اور وہ بھي چادر كے اندر تشريف لے گئے پھر پيغمبر (ص) نے فرمايا : " اِنَّما يُريدُ اللّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ‎الرِّجْسَ أَهْلَ اْلبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً " (صحيح مسلم ،ج/۷، ص/۱۳۰وغيرہ)

" اوزاعي" نے شداد بن عبداللہ سے روايت نقل كي ہے كہ جس وقت امام حسين عليہ السلام كا سر لايا گيا ، ايك شامي نے آنحضرت اور ان كے والد كي شان ميں گستاخي كي تو واثلہ بن اسقع كھڑے ہوئے اور كہا : خدا كي قسم ! ميں علي ، حسن و حسين اور فاطمہ عليہم السلام كا اس وقت سے محب ہوں جب سے ان كے حق ميں پيغمبر اكرم (ص) كا يہ  قول سنا ہے ، واقعہ يہ ہے كہ ايك روز ميں ام سلمہ كے گھر ميں پيغمبر(ص) كي خدمت ميں شرفياب ہوا اتنے ميں حسن عليہ السلام آئے ، پيغمبر(ص) نے انھيں اپنے داہنے زانو پر بٹھايا اور ان كا بوسہ ليا ، پھر حسين(عليہ السلام ) آئے انھيں بائيں زانو پر بٹھايا اور بوسہ ليا ، پھر فاطمہ(س) آئيں انھيں اپنے سامنے بٹھايا اور علي (ع) كو بلوايا اور فرمايا : " اِنَّما يُريدُ اللّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ‎الرِّجْسَ أَهْلَ اْلبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً "(اسد الغابہ، ج/۲، ص/۲۰)
" دولابي" اپني كتاب " الذريۃ الطاھرۃ " ميں ام سلمہ سے روايت كرتے ہيں كہ پيغمبر ۔ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ۔ نے جناب فاطمہ(س) سے فرمايا : اپنے شوہر اور بيٹوں كو ميرے پاس لے كر آؤ ، فاطمہ انھيں لے كر رسولخدا(ص) كي خدمت ميں حاضر ہوئيں ، پيغمبر(ص) نے فدكي چادر ان كے اوپر ڈال كر فرمايا : " اَللّهُمَّ اِنَّ هؤُلاءِ آلُ مُحَمَّد فاجْعَلْ صَلَواتِكَ وَ بَركاتِكَ عَلي آلِ مُحَمَّد اِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ " 
خدايا! يہ آل محمد ہيں ، اپني رحمت و بركت ان پر نازل فرما ، بيشك تو حميد و مجيد ہے ! 
اور ام سلمہ كہتي ہيں : ميں نے چادر اٹھائي تاكہ ميں بھي داخل ہو جاؤں ليكن پيغمبر نے روك كر فرمايا : " اِنَّكِ عَلي خَيْر " تم خير پر ہو ۔ (ذخائر العقبيٰ ، ص/۲۴)
اسي طرح كي ايك روايت حمويني نے واثلہ سے كي ہے ( فرائد السمطين ، ج/۱، ص/۲۴)
واحدي اسباب النزول ميں ، احمد نے مناقب ميں ، طبراني نے ابي سعيد خدري سے نقل كيا ہے كہ آيت "انما يريد اللہ " پنجتن پاك كي شان ميں نازل ہوئي ۔ يعني رسول خدا(ص) علي، فاطمہ ، حسن و حسين عليہم السلام كي شان ميں نازل ہوئي ۔ (ذخائر العقبيٰ ، ص/۲۴ )
احمد نے ام سلمہ سے روايت كي ہے كہ پيغمبر ۔ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ۔ ان كے گھر ميں تھے ۔ جناب فاطمہ (س) ان كے گھر ميں ايك برتن ميں خزيرہ ( ايك قسم كا كھانا ) لے كر حاضر ہوئيں ، پيغمبر(ص) ايك چادر پر تشريف فرما تھے اور فرمايا : اپنے شوہر اور بچوں كو بھي بلا لاؤ ، پھر علي ، حسن و حسين (عليہم السلام) آئے ، بيٹھے اور پھر كھانا كھايا ، ام سلمہ كہتي ہيں ، ميں حجرہ ميں نماز پڑھ رہي تھي ، اسي وقت خدا نے يہ آيت نازل فرمائي : اِنَّما يُريدُ اللّه لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً ، 
اس كے بعد پيغمبر نے چادر كا كنارہ پكڑا اور انھيں سب كو اڑھا كر ہاتھ باہر نكال كر آسمان كي طرف اشارہ كر كے فرمايا : اَللّهُمَّ هؤلاءِ أَهْلِ بَيْتي، وَ حامَّتي (اَي خاصَّتي) فَاذْهَبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطهيراً
خدايا! يہ ميرے اہلبيت، ميرے خاص لوگ ہيں ، ہر طرح كي برائي كو ان سے دور ركھ اور انھيں اس طرح پاك ركھ جيسے پاك ركھنے كا حق ہے ۔ 
ام سلمہ ناقل ہيں : ميں نے اپنے كمرے سے سر نكال كر كہا : كيا ميں بھي آپ كے ساتھ ہوں يا رسول اللہ ! ؟ 
پيغمبر(ص) نے فرمايا : " اِنَّكِ اِلي خَيْرِ اِنَّكِ اِلي خَيْر " تم خير پر ہو ، تم خير پر ہو ۔ (السيرۃ النبويہ، ج/۳، ص/۳۶۶ )
اسي طرح كي ايك حديث (اسباب النزول، ص/ ۲۶۷) واحدي نے ام سليم سے بھي روايت كي ہے ۔ 
يہ احاديث بہت زيادہ ہيں اور حضرت سيد الشہداء۔ عليہ السلام۔ كي عصمت پر دلالت كرتي ہيں اور وہ جو بھي عمل كريں يا كسي بھي نہضت كي شروعات كريں وہ صحيح اور حقيقت ہے ۔ سيوطي نے " كتاب اكليل" ميں اس آيت سے استدلال كيا ہے اور كہا ہے كہ سب اہلبيت(ع) كے اجماع كو حجت سمجھتے ہيں ، چونكہ خطا رجس ہے اور رجس و برائي ان سے دور ركھي گئي ہے ۔ (اكليل ، ص/ ۱۷۸)
اقتباس : پرتوي از عظمت امام حسين(ع) تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني 

موضوع: 
Sunday / 11 January / 2015