بسم الله الرحمن الرحيم «وَ مَا رَمَيتَ إذ رَمَيتَ وَ لکِنَّ اللهَ رَمي» سپاس بي حدّ و حصر، خداوند متعال را سزاست که با فضل خود، و عنايات خاصّه حضرت ولي عصر عجّل الله تعالي فرجه الشريف، سپاه اسلام را بر سپاه کفر و سپاه ضدّ بشريت، پيروز نمود؛ دشمن...
جمعه: 3/آذر/1396 (الجمعة: 5/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
امام حسين عليہ السلام كے غم سياہ لباس پہننے كا استحباب

محضر مبارك حضرت آيۃ اللہ العظميٰ شيخ لطف اللہ صافي گلپائگاني دامت بركاتہ
سوال : حضرت عالي كي نظر ميں امام حسين عليہ السلام اور ديگر ائمہ كے غم سياہ لباس پہننا شرعي رجحان ركھتا ہے يا نہيں ؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحيم
سلام اللہ و سلام انبيائہ وملائكتہ علي سيدنا ومولانا ابي عبداللہ الحسين المظلوم سيد الشہداء وابي الاحرار وعليٰ اہل بيتہ واولادہ واصحابہ ۔

جواب : چونكہ كالے لباس اہل مصيبت كا شعار اور غم زدہ افراد كي نشاني ہيں لہذا حضرت سيد الشہدا(ع) اور ديگر ائمہ عليہم السلام كے غم ميں ان كا پہننا بے شك رجحان ركھتا ہے اور شعاير الٰہي كي تعظيم ،اہل بيت عليہم السلام سے محبت اور ان كے دشمنوں سے نفرت، ان كے ايثار و فداكاريوں اور راہ حق ميں شہادت كي قدرداني اور دين اسلام كي حفاظت اور بہت سے عناوين كا مصداق ہونے كي وجہ سے رجحان ركھتا ہے ۔
عراق كے شيعوں ميں رائج ہے كہ وہ دس دن محرم ميں اپنے گھر كے اوپر سياہ پرچم لہراتے ہيں ،يہاں تك كہ اگر كوئي سنسان جنگل ميں كسي چھوپڑي ميں بھي رہتا ہے تو وہ بھي اپنے گھر پر سياہ پرچم ضرور لگاتا تھا ۔

يقينا يہ طريقہ ،سياہ لباس پہننا ،گھر اور امامبارگاہوں كے در و ديوار كو سياہ پوش كرنا اور مجالس برپا كرنا ايك عظيم اور عبرت آميز درس ہے جس كے ذريعہ سے ہماري فكروں ميں بلندي پيدا ہوتي ہے اور مذہبي اور انساني شعور بيدار ہوتا ہے ،نيز اس كے ذريعہ سے مذہب زندہ ہوتا ہے اور ہمارے اور اہل بيت عصمت و طہارت عليہم السلام كے رابطے مستحكم ہوتے ہيں، ان اعمال كے ذريعہ ہم اہل بيت عليہم السلام سے كئے ہوئے پيمان كي تجديد كركے ظلم و جور كي مخالفت كا اعلان كرتے ہيں ۔
اور جن لوگوں نے اجماع يا بعض روايات كي بنياد پر سياہ لباس پہننے كو مكروہ قرار ديا ہے وہ حكم چند جہت سے قابل اشكال ہے :
اول : اصل كراہت كا يہ حكم قابل اشكال ہے چونكہ اس پر سب سے بڑي دليل اجماع ہےاور كسي حكم پر اجماع منعقد ہوناامكان سے باہر ہے اور بالفرض ممكن ہو بھي تب بھي چونكہ احتمال ہے كہ اجماع كرنے والوں نے اس خبر كي بنياد پر حكم ديا ہو جو ضعيف ہے لہذا يہ اجماع معتبر نہيں ہوگا۔
اسي طرح سے ان كا ان اخبار پر قاعدہ تسامح در ادلہ سنن كے تحت عمل كرنا كراہت كو ثابت نہيں كر سكتا ہے ۔
ايك دوسرا اشكال يہ بھي ہے كہ ايك موضوع كے حكم كا دوسرے ايسے موضوع كے لئے ثابت كرنا جس  ميں كوئي خصوصيت بھي پائي جاتي ہو ،قياس ہے اور جائز نہيں ہے
لہذا قاعدہ تسامح در ادلہ سنن كو مكروہات ميں جاري نہيں كيا جا سكتا ہے، خاص كر ايسي صورت ميں جب كہ يہ قاعدہ اپني جگہ پر خود مورد اشكال ہے۔
انہ يستفاد من ھٰذہ الاخبار انّ من بلغہ عن النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ثواباً علي امرٍ ثبت رجحانہ بالشرع سواء كان مستحباً او واجباً،او لم يثبت رجحانہ ،اِن اتيٰ بہ التماساً لھذا الثواب يعطيٰ بہ ذلك الثواب ويوجر بہ واين ھٰذا من الحكم بالاستحباب حتيٰ يقال بہ في غيرہ
چونكہ اس قاعدہ سے جو بات سمجھ ميں آتي ہے وہ يہ ہے كہ جن چيزوں كے بارے ميں پيغمبراكرم(ص) سے ثواب نقل كيا گيا ہے وہ رجحان ركھتے ہوں چاہے واجب كي صورت ميں ہوں يا مستحب كي صورت ميں،يا رجحان نہ ركھتے ہوں ،اگر كوئي ان اعمال كو ثواب كي اميد سے انجام دے تو اس كو اس كام كا اجر ملے گا ۔ اس قاعدہ سے ايسے امر كا استحباب سمجھ ميں نہيں آتا ہے ۔
بہر حال جو دليليں كراہت پر دلالت كرتي ہيں وہ سند كے اعتبار سے ضعيف ہيں ،اور اصحاب كا عمل سند حديث كے ضعف كو اس صورت ميں جبران كر سكتا ہے جبكہ وہ خود اس روايت سے استناد كرتے ہوں ليكن اگر ان كا استناد بھي قاعدہ تسامح كي بنياد پر ہوتو يہ عمل سند كے ضعف كو جبران نہيں كر سكتا ہے ۔
خاص كر ايسي صورت ميں جبكہ كراہت كا حكم ،حكم اولي كے عنوان سے نہيں تھا بلكہ اس وجہ سے تھا كہ بني عباس سياہ لباس پہن كر اپنے كو عزادار ظاہر كرتے تھے اور لوگوں كو فريب ديتے تھے تو اس لباس كو منع كيا گيا تاكہ اس كےذريعہ يہ شائع نہ ہو كہ بني عباس كي تعداد زيادہ ہے ۔اور اس صورت ميں سياہ پہننا خود كو ظالمين سے مشابہ كرنے كے مترادف تھا اس لئے ممنوع قرار ديا گيا ۔لہذا يہ حكم اس علت مذكورہ كے دائر مدار ہوگا اور جب علت ختم ہو جائے تو حكم بھي ختم ہو جائے گا ۔
لہذا جب بني عباس ہي ختم ہو گئے تو اس حكم كے بقاء كي كوئي علت باقي نہيں رہ جاتي ہے ۔
دوم : اگر كراہت ثابت بھي ہو اور اس كي دليل اجماع ہو تو ائمہ كے غم ميں سياہ لباس پہننا چونكہ ائمہ عليہم السلام كے زمانے ميں رائج تھا اس لئے اس مورد كا اجماع ميں داخل ہونا يقيني نہيں ہے بلكہ قدر متيقن يہ ہے كہ جہاں عزا اور غم كا عنوان نہ ہو وہاں يہ حكم ثابت ہے ۔
اس تفصيل كے بعد جس روايت كو صاحب حدائق نے علامہ مجلسي(رہ) كي جلاء العيون سے نقل كيا ہے وہ خود اپنے حصر كے لحاظ سے اس بات پر دلالت كرتي ہے كہ عزاداري كا مورد اس اطلاق سے باہر ہے اور اگر يہ روايت نہ بھي دلالت كرتي ہو تو ديگر روايات سے اس اطلاق كو مقيد كيا جا سكتا ہے ۔صاحب حدائق نے اس روايت سے شايد اس وجہ سے استناد نہيں كيا چونكہ علامہ مجلسي(رہ) نے اس حديث كي سند كو ذكر نہيں كيا ہے اورانھوں نے وقت كي تنگي يا كتاب كي فراہمي نہ ہونے كي بنياد پر دوسري جگہوں پر مراجعہ نہيں فرمايا ۔
اصل حديث اس طرح سے ہے :
مشہور محدث خالد برقي طبقہ ہفتم سے كتاب محاسن ص/۴۲۰ حديث نمبر۱۹۵ ميں اپنے والد محمد بن خالد ،وہ حسن بن ظريف بن ناصح (جن كا تعلق رواۃ كے چھٹے طبقہ سے ہے)سے ،وہ اپنے والد ظريف بن ناصح (جن كا تعلق رواۃ كے پانچويں طبقہ سے ہے)سے اور انھوں نے حسين بن زيد (ظاہراً ان سے مراد حسين بن زيد بن علي بن الحسين عليہم السلام ہيں جن كا لقب ذي الدمعہ ہے اور ان كا تعلق پانچويں طبقہ سے ہے )وہ اپنے چچا عمر بن علي بن الحسين عليہ السلام سے روايت كرتے ہيں جس كي سند اور حديث اس طرح سے ہے :
"عنہ عن الحسن بن ظريف بن ناصح عن ابيہ عن الحسين بن زيد عن عمر بن علي بن الحسين عليہ السلام قال:
لما قتل الحسين بن علي عليہما السلام لبسن نساء بن ہاشم السواد والمسوح وكن لا تشتكين من حر ولا برد ،وكان علي بن الحسين عليہما السلام يعمل لھن الطعام للماتم (۱)
اس حديث كو مشہور شخصيات اور اہل بيت كي نظر ميں ثقہ راويوں نے نقل كياہے اور اس سے چند مطالب پر استدلال كيا ہے از جملہ :
۱۔ غم اور ماتم ميں سياہ لباس پہننا شروع سے رائج تھا ،لہذا خاندان اہل بيت عليہم السلام كي عورتوں نے حضرت سيد الشہداء عليہ السلام كے غم ميں سياہ لباس پہنا،اور اس سے يہ بھي ظاہر ہوتا ہے كہ يہ سنت بہت پہلے سے رائج تھي حتي پيغمبر اكرم (ص) كے زمانے اور اس سے پہلے بھي تھي كہ سياہ لباس پہننا غم اور مصيبت كي علامت تھا۔
لہذا كراہت كے سلسلے ميں جو روايات وارد ہوئي ہيں وہ غم و مصيبت ائمہ عليہم السلام كے موارد كو شامل نہيں ہونگي ۔چونكہ يہ مورد اس عام سے خارج ہے اور ايك خصوصيت كا حامل ہے ۔
۲۔امام عليہ السلام كي تشويق اور ترغيب بھي اس عمل كے راجح ہونے پر دليل ہے اور اس سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ اس عمل كو جاري ركھنا اس نہضت كي بقاء اور ياد آوري كے لئے ضروري ہے اور سيد الشہداء عليہ السلام كے موقف كي تعظيم ہے لہذا راجح اور مستحب ہے ۔
يہ كہنا صحيح نہيں ہے كہ يہ روايت عورتوں كے بارے ميں ہے ،ان كے لئے سياہ لباس پہننا رجحان ركھتا ہے ليكن مردوں كے لئے رجحان نہيں ركھتا ۔ چونكہ اس رجحان كي دليل يہ ہے كہ امام (ع) اس عمل كو اس لئے راجح قرار ديا ہے كہ اس سے حزن و غم كا اظہار ہوتا ہے چاہے مرد پہنے يا عورت لہذا يہ بھي اسي طرح ہے جس طرح كہا جاتا ہے"رجل شك بين الثلاث والاربع" كہ يہاں پر رجل سے مراد صرف مرد نہيں بلكہ عورت بھي شامل ہے اور دونوں اس حكم ميں مساوي اور برابر ہيں ۔
يہ حديث اميرالمومنين علي عليہ السلام كے اس كلام كي مانند ہے"الخضاب زينۃ ونحن قوم في مصيبۃٍ" (خضاب كرنا زينت ہے اور ہم مصيبت زدہ لوگ ہيں )يعني ہم لوگ خضاب نہيں كرتے چونكہ زينت كرنا غمزدہ لوگوں كے لئے مناسب نہيں ہے چاہے يہ زينت خضاب كي صورت ميں ہو يا غير خضاب ہو،اس سے يہ سمجھ ميں آتاہے كہ سياہ لباس كے ذريعہ غم كا اظہار امام عليہ السلام كي رضا كا موجب ہے چاہے يہ اظہار مردوں كي جانب سے ہو يا عورتوں كي طرف سے ،خود يہ عمل دونوں صنفوں سے مطلوب ہے ۔
بلكہ ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ اس حديث كا يہ بھي مفہوم ہے كہ : ہر اس طريقہ سے عزاداري اور سوگ منانا جو جائز ہو مطلوب اور راجح عمل ہے چاہے سياہ لباس پہننے سے ہو يا گريہ و زاري كے ذريعے ،مرثيہ خواني اور ماتم سے ہو يا ننگے پاؤں چلنے سے يا كسي دوسرے وسيلے سے ،ان ميں سے ہر ايك صحيح اور مطلوب ہے اور خداوند متعال كے نزديك اس كا اجر و ثواب ہے ۔
جعلنا اللہ من القائمين بھا وحشرنا في زمرتھم بحق محمد وآلہ الطاھرين صلوات اللہ عليھم اجمعين

(۱)اس حديث كو علامہ مجلسي (رہ) نے بحار الانوار جلد۷۹ ص/۸۴ باب التعزيہ والماتم حديث نمبر ۲۴ ميں محاسن برقي سے نقل كيا ہے ۔

موضوع:

پنجشنبه / 25 دى / 1393