بسم الله الرحمن الرحيم‏ قالَ اللهُ تَعالى: «وَ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْارْضَ يرِثُها عِبادِي الصّالِحُونَ» مراسم شكوهمند تعظيم عيد بزرگ نيمه شعبان، ولادت يگانه منجى عالم، موعود انبيا و اوصياى صفى،...
دوشنبه: 1398/02/2 - (الاثنين:16/شعبان/1440)

Printer-friendly versionSend by email
۱۳ رجب ؛ ولادت امام المتقين اميرالمومنين علي عليہ السلام

اميرالمومنين ، امام المتقين حضرت علي عليہ السلام كي ولادت با سعادت تمام شيعيان حيدر كرار و دوستداران اہلبيت عليہم السلام كو مبارك ہو ۔ 
علي عليہ السلام نے فرمايا : جس وقت قدرت خدا سے جناب مريم حاملہ ہوئيں اور ولادت كا وقت قريب آيا تو وحي نازل ہوئي " اخرجي عن البيت فانّ ھذہ بيت العبادۃ لا بيت الولادۃ " 
مريم! بيت المقدس سے باہر جاؤ ، يہ عبادت كا مقام ہے ولادت كي جگہ نہيں ہے ۔ 
جناب مريم بيت المقدس سے باہر نكليں اور صحرا ميں ايك كھجور كے درخت كے پاس جناب عيسيٰ عليہ السلام كي ولادت ہوئي ، ليكن جب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليھا كو درد زہ اٹھا اور خانہ كعبہ كے پاس آكر كر دعا كي ۔ 
خدايا! اس گھر كا واسطہ اور اس كا واسطہ جس نے اس گھر كو تعمير كيا ، اس درد كو مجھ پر آسان كر دے ، اسي وقت خانہ كعبہ كي ديوار شگافتہ ہوئي اور ہاتف غيبي نے جناب فاطمہ كو كعبہ كے اندر جانے كي دعوت دي ۔ 
يا فاطمۃ ادخلي البيت 
اور علي عليہ السلام كي ولادت كعبہ كي آغوش ميں ہوئي ۔ ( اقتباس از شبھاي پشاور و منتھي الآمال )

سوال : ديكھنے ميں آتا ہے كہ بہت سے علمائے اہلسنت نے اميرالمومنين علي عليہ السلام كے فضائل و مناقب كو بہت ہي عمدہ طريقہ سے بيان كيا ہے اور ان كي تصديق بھي كي ہے اور آنحضرت كے ان فضائل كا اعتراف كيا ہے اور اس حقيقت كا بھي اعتراف كيا ہے كہ جو بھي اميرالمومنين عليہ السلام كے راستے كو اختيار كرے اور انھيں اپنا ديني رہبر و رہنما تسليم كرے وہ صحيح راستہ پر ہے ، تو كس طرح اور كيوں وہ اپنے راستے كو نہيں چھوڑتے ہيں اور خود كو اميرالمومنين علي عليہ السلام كا شيعہ نہيں كہتے ہيں ؟ 
جواب : 
اس كے مختلف عوامل و اسباب ہيں جن ميں سے سارے عوامل يا بعض بہت زيادہ موثر ہيں ۔ 
۱۔ بسا اوقات ايسا ہوتا ہے كہ ايك انسان كے فضائل و مناقب اتنے واضح اور روشن ہيں كہ ان كا انكار كرنا ممكن نہين ہے چونكہ ايسي صورت ميں لوگ خاص كر اس كے ہم مذہب لوگ بھي اس سے اس بيہودہ گوئي كي وجہ سے متنفر ہو جائيں گے ۔ لہذا دشمن فضائل كے اقرار كا لبادہ پہن كر اپني موقعيت كو مستحكم بناتا ہے جيسے معاويہ اور عمر ، معاويہ حضرت علي عليہ السلام كے فضائل كا منكر نہيں تھا ليكن علي (ع) كو عثمان كے خون كا ذمہ دار ٹھہرا ديا ۔ 
۲۔ كبھي ايسا ہوتا ہے كہ كسي كي محبت اور دوستي اور اس كي انسيت انسان كو توجيہ اور تاويل پر وادار كرتي ہے ۔ 
۳۔ كبھي خوف و ہراس حق بيان كرنے ميں مانع بن جاتا ہے ۔ 
۴۔ حضرت علي عليہ السلام كي دشمني كے متعلق ايك خاص بات اور پائي جاتي ہے اور وہ نسل كي طہارت اور نفاق ہے كہ انسان فضائل اور مناقب كا اقرار كرنے كے باوجود ان سے محبت نہيں كرتا ، يا ان كے اس مرتبہ كو نہيں مانتا جس پر وہ فائز ہيں ۔ 
اقتباس از : معارف دين ، جلد اول ،ص/۸۰ تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني دامت بركاتہ

سه شنبه / 28 اسفند / 1397