بسمه تعالى در پى واقعه تاسف بار سيل در نقاط مختلف كشور ، حضرت ايت الله العظمى صافى مد ظله العالى ضمن اظهار همدردى باحادثه ديدگان عزيز ، اجازه فرمودند كه مومنين محترم مجاز به پرداخت از ثلث سهم مبارك امام عليه السلام به سيلزدگان تمامى مناطق،  ...
دوشنبه: 1398/02/2 - (الاثنين:16/شعبان/1440)

Printer-friendly versionSend by email
شہادت امام موسيٰ كاظم عليہ السلام

آپ كو حلم و بردباري ، مجرمين كے جرم كي معافي اور ظالمين كے ظلم پر صبر و عفو كي بنياد پر كاظم كہا جاتا ہے ۔ كاظم كا مطلب ہے غصہ كو پي جانے والا ۔ 
دعا كرتے وقت آپ اس طرح گريہ كرتے تھے كہ محاسن تر ہو جاتي تھيں ، اسي لئے بہت سے لوگ آپ سے متوسل ہوتے اور اپني مراديں پاتے تھے ، امام عليہ السلام سب سے زيادہ اپنے رشتہ داروں كا خيال ركھتے تھے ۔ 
مدينہ كے فقراء كي مدد كرتے تھے اور جب رات آتي تو اپنے دوش پر ايك ٹوكري لے كر نكلتے جس ميں سونا ، چاندي ، آٹا اور خرما ركھا ہوتا تھا اور پورے شہر كے فقيروں كے درميان تقسيم كرتے تھے ۔ ( منتھي الآمال ، ص/ ۸۸۹ )
امام موسيٰ كاظم عليہ السلام جس وقت ہارون كے زندان ميں تھے تو ہارون الرشيد ملعون نے ايك خوبصورت كنيز كو امام كے پاس بھيجا تاكہ امام اس كي طرف رغبت كريں اور ہاروں كو بہانہ مل جائے تاكہ وہ امام كو (معاذ اللہ ) بدنام كر سكے ۔ پھر ہارون نے ايك خادم بھيجا تاكہ وہ ان كو ديكھے اور ہارون كو حالات كي خبر دے ۔ خادم جب آيا تو ديكھا كہ كنيز سجدہ ميں پڑي ہوئي خداوند عالم كي بارگاہ ميں توبہ و استغفار كر رہي ہے ۔ امام كي مناجات و عبادت نے اسے بھي منقلب كر ديا ہے ۔ ( منتھي الآمال ، ص/ ۸۹۲ )

كہا جاتا ہے كہ ايك شخص ہميشہ امام كو اذيت كيا كرتا تھا ، امام كے اصحاب كو غصہ آيا اور امام سے درخواست كي كہ اگر امام اجازت ديں تو اس فاسق و فاجر كو قتل كر ديں ۔ امام بہت ہي ناراض ہوئے اور فرمايا : مجھے بتاؤ وہ آدمي اس وقت كہاں ہے ؟ جواب ملا كہ وہ مدينہ كے اطراف ميں اپنے كھيت ميں كام كر رہا ہے ۔ 
امام اس كے پاس گئے اور ديكھا كہ وہ كھيتي ميں مشغول ہے ، اس كے پاس بيٹھے اور خندہ پيشاني كے ساتھ اس سے دريافت كيا كہ اس كھيتي ميں تم نے كتنا سرمايہ لگايا ہے ؟ اس نے جواب ديا : سو اشرفي ، امام نے پوچھا : اس سے تم كو كتنا فائدہ ہونے كي اميد ہے ؟ جواب ديا : دو سو اشرفي ۔ 
حضرت نے اشرفيوں سے بھري ايك تھيلي نكالي جس ميں تين سو اشرفياں تھيں اور اسے دے كر فرمايا : يہ تين سو اشرفياں ركھو ، يہ كھيت بھي تمہارا ہي ہے اور دعا ہے كہ خداوند تمہيں اس كھيت ميں بركت بھي عطا كرے ۔ وہ آدمي كھڑا ہو گيا اور امام كي پيشاني چوم كر كہنے لگا : مولا ہماري خطاؤں كو درگزر كريں اور ہميں معاف كر ديں ۔ ( منتھي الآمال ، ص/ ۸۹۲) 
صاحب عمدۃ الطالب نے لكھا ہے كہ ہارون نے سندي بن شاہك كو امام كے قتل كا حكم ديا اور خود شام كي طرف روانہ ہو گيا ۔ كہا جاتا ہے كہ امام كو زہر ديا گيا اور ايك قول يہ بھي ہے كہ امام كو ايك بستر ميں لپيٹ كر اس طرح نچوڑا گيا كہ آنحضرت شہيد ہوگئے ۔ اس كے بعد آپ كے جسم اطہر كو باہر ركھا گيا تاكہ جو بھي وہاں سے گزرے وہ ديكھے اور يہ گواہي دے كہ حضرت كے جسم پر كوئي زخم نہيں ہے اور وہ اپني موت اس دنيا سے رخصت ہوئے ہيں ۔ اس كے بعد حضرت كو قريش سے مخصوص قبرستان ميں دفن كيا گيا ۔ ( منتھي الآمال ) 
آپ كي شہادت ۲۵ رجب سن ۱۸۳ كو كاظمين ( بغداد )ميں واقع ہوئي ۔

شنبه / 10 فروردين / 1398