بسم الله الرحمن الرحیم قال الله تعالی: «وَ ذَكِّرْهُمْ بِأَیّامِ الله» السَّلام علی مولانا صاحب العصر و الزّمان بقية الله ارواح العالمين له الفداء و علی آبائه الطّاهرين و علی شيعته، المتمسِّکين بأمره، الفائزين بولايته و المنتظرين لظهوره...
دوشنبه: 1397/08/28 - (الاثنين:11/ربيع الأول/1440)

Printer-friendly versionSend by email
عيد الفطر

عيد الفطر اسلامي كي دو عظيم عيدوں ميں سے ايك ہے جس كے بارے ميں بے شمار احاديث وارد ہوئي ہيں ۔ ماہ رمضان ميں مسلمان روزہ ركھتے ہيں اور كھانے ، پينے جيسے بہت سے مباح كاموں سے پرہيز كرتے ہيں ۔ماہ رمضان گزر جانے كے بعد شوال كے پہلے دن اپنے خدا سے اس اجر ثواب كا مطالبہ كرتے ہيں جس كا خداوند عالم نے ان سے وعدہ كيا ہے ۔ 
لغت ميں عيد كے معني پلٹنے كے ہيں اس لئے جس دن كسي قوم و قبيلہ سے مشكلات برطرف ہوتي ہيں يا انھيں كوئي خوشي ملتي ہے اس دن كو وہ لوگ عيد سے تعبير كرتے ہيں۔ قرآن مجيد ميں يہ لفظ ايك مرتبہ استعمال ہوا ہے جہاں حضرت عيسي عليہ السلام كي قوم نے جناب عيسيٰ علي نبينا و آلہ و عليہ السلام سے يہ فرمايش كي كہ خداوند سے دعا كريں كہ وہ ہمارے لئے آسمان سے دسترخوان نازل كرے ۔اللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئدَهًٔ مِّنَ السَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لاَِّوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَآيَهًٔ مِّنكَ ۱
چونكہ دنياوي زندگي ميں انسان كے لئے سب سے عظيم كاميابي يہ ہے كہ وہ معصيت اور گناہ نہ كرے اس لئے مولائے متقيان اميرالمومنين عليہ السلام كا فرمان ہے : كل يوم لا يعصيٰ اللہ فيہ فھو يوم عيد ۔ 
جس دن كوئي گناہ نہ ہو وہ دن عيد كا دن ہے ۔

سويد بن غفلہ نقل كرتے ہيں كہ عيد كے دن ميں مولائے كائنات كے گھر پہنچا تو آپ كے پاس گيہوں كي روٹي ،حلوا اور فرني ركھي ہوئي ہے ،ميں نے عرض كي مولا ! عيد كا دن اور يہ غذا؟ تو آپ نے فرمايا : عيد اس كي ہے جس كے گناہ بخش دئے گئے ہوں ۔۲
مولائے كائنات عليہ السلام نے عيد كے دن ايك خطبہ ارشاد فرمايا جس ميں مومنين كو بشارت دي اور بيہودہ كام كرنے والوں كو عذاب الٰہي سے ڈرايا اور فرمايا : اے لوگو! آج كا دن تمہارے لئے وہ دن ہے جس دن نيك عمل انجام دينے والے اپنے اعمال كي جزا پائيں گے اور گناہگار و مفسد افراد مايوس و نا اميد ہوں گے ،اس لئے آج كا دن قيامت سے بہت زيادہ مشابہ ہے ، اس لئے اپنے گھروں سے نماز كے لئے نكلو تو اس دن كو ياد كرو جب تمہيں قبروں سے نكال كر ميدان محشر ميں حاضر كيا جائے گا ، نماز ميں كھڑے ہو كر اس وقت كا تصور كرو جب تم پروردگار كے سامنے كھڑے ہوگے اور نماز سے گھر واپس آتے وقت وہ منزل ياد كرو جب تم كو قيامت سے بہشت كي طرف لے جايا جائے گا ، اے خدا كے بندو ! روزے داروں كي كم سے كم جزا يہ ہے كہ ماہ رمضان كے آخري ايام ميں ايك فرشتہ انھيں آواز ديتا ہے اور كہتا ہے : اے خدا كے بندو ! تمہارے گزشتہ گناہ معاف كر دئيے گئے ہيں اب تم اپنے مستقبل كي فكر كرو كہ اپني عمر كے باقي دن كس طرح گزارو گے ۔۳ 
صحيفہ سجاديہ ميں ماہ رمضان كے وداع اور عيد كے استقبال كے لئے امام زين العابدين عليہ السلام سے جو دعا منقول ہے اس ميں امام عليہ السلام فرماتے ہيں : پروردگارا! محمد اور ان كي آل پر رحمت نازل فرما اور اس مہينے ميں ہم نے جو مصيبتيں برداشت كي ہيں ان كا جبران كر دے اور عيد فطر كو ہمارے لئے مبارك قرار دے اور اس دن كو ہمارے گزرے ہوئے ايام ميں سے بہترين دن قرار دے ، اس دن ہمارے گناہوں كو معاف فرما اور ہميں بخش دے ، ہمارے علني اور مخفي دونوں گناہوں كو معاف كر دے ۔ 
خدايا! تو نے اس دن كو مومنين كے لئے اجتماع اور خوشحالي كا دن قرار ديا ہے ، ہمارے تمام گناہوں كو بخش دے ،ہماري ہر برائي كو درگزر فرما اور ميں اپنے دل ميں كئے ہوئے غلط ارادوں سے توبہ كرتا ہوں اور تيري بارگاہ ميں پناہ ليتا ہوں ۔
خدايا! اس عيد كو تمام مومنين كے لئے مبارك قرار دے اور اس دن ہميں اپنے بارگاہ ميں واپس آنے اور گناہوں سے توبہ كي توفيق عنايت فرما ۔۴ 
حوالہ جات 
۱۔ سورہ مائدہ ،آيت/۱۱۴
۲۔ بحار الانوار ،ج/۴۰،ص/۷۳
۳۔ پاسدار اسلام ميگزين ، نمبر ۱۰۱ ،ص/۱۰ 
۴۔ پاسدار اسلام ميگزين ، نمبر ۱۰۱ ،ص/۱۰

چهارشنبه / 30 خرداد / 1397