در کتاب شريف و گرانسنگ عيون اخبار الرضا عليه آلاف التحیة و الثناء، محدّث جليل و شیخ اعظم صدوق رضوان‌الله تعالي عليه از عبدالسّلام بن صالح هروي روايت مي‌کند که امام رضا علیه السلام فرمود: «رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی...
سه شنبه: 1399/04/17
Printer-friendly versionSend by email
مباہلہ ؛ اسلام كے حقانيت كي بہترين دليل

جب پيغمبر اكرم (ص) نے نصاريٰ كو يہ تجويز پيش كي تو انھوں نے غور وفكر كرنے كي مہلت طلب كي اور پيغمبر (ص) نے انھيں غور كرنے كي مہلت دے دي ۔ وہ لوگ يكجا اكٹھا ہوئے تاكہ مباہلہ كے بارے ميں مشورہ كريں انھوں نے اپنے ايك بزرگ سے پوچھا : اے عبدالمسيح تمھاراكيا خيال ہے ؟ اس نے جواب ديا : خدا كي قسم اے گروہ نصاريٰ تمہيں اچھي طرح سے معلوم ہے كہ محمد نبي برحق ہيں اور جو تجويز انھوں نے تمہارے سامنے ركھي ہے اس سے حق و باطل واضح ہو جائے گا ۔ خدا كي قسم جب بھي كسي نبي نے كسي قوم سے مباہلہ كيا وہ قوم زيادہ دن زندہ نہ رہ سكي اور جلد ہي ہلاك ہو گئي۔ اگر تم بھي ايسا كروگے تو تمہارا انجام بھي يہي ہوگا ، اگر تم اپني بقاء چاہتے ہو تو اپنے اپنے گھروں كو واپس لوٹ جاؤ (۳)
تفسير قمي ميں اس طرح سے منقول ہے : جب پيغمبر اكرم (ص) نے عيسائيوں كو مباہلہ كي دعوت دي تو انھوں نے يكجا ہو كر مشورہ كيا اور يہ فيصلہ كيا كہ اگر محمد(ص) اپني امت كو ميدان ميں لے كر آئيں تو ہم مباہلہ كريں گے اور اگر اپنے اہلبيت كو لے كر آئيں گے تو مباہلہ نہيں كريں كے چونكہ جب تك اپني حقانيت كا يقين نہ ہو كوئي اپنے اہل و عيال كے لئے بد دعا نہيں كرتا ۔ صبح كو جب سب اكٹھا ہوگئے اور پيغمبر اكرم (ص) علي (ع) فاطمہ(س) اور حسنين (ع) كے ہمراہ ميدان مباہلہ ميں تشريف لائے تو نصاريٰ نے موقع كي نزاكت ديكھتے ہوئے پيغمبر سے عرض كيا ؛ اے محمد ہم جزيہ دينے كے لئے تيار ہيں آپ ہميں مباہلہ سے معاف كر ديں اور پھر سب اپنے گھروں كو لوٹ گئے ۔ (۴)
پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے كہ حضرت نے فرمايا : اس خدا كي قسم جس كے قبضے ميں ميري جان ہے ہلاكت اہل نجران كے سروں پر لٹك رہي تھي اگر وہ مباہلہ كر ليتے تو مسخ ہو جاتے ، صحرا ميں آگ لگ جاتي اور سارے اہل نجران نابود ہو جاتے يہاں تك كہ درختوں پر رہنے والے پرندے بھي اس آگ كي زد ميں آجاتے اور دوسري جگہوں پر رہنے والے عيسائي بھي ايك سال كے اندر ہلاك ہو جاتے اور روي زمين پر كوئي عيسائي باقي نہ رہ جاتا ۔ (۵)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ سورہ نحل ،آيت/۱۲۵
۲۔ سورہ آل عمران آيت/۶۱
۳۔ الميزان ،ج/۳،ص/ ۳۶۴
۴۔ الميزان ،ج/۳،ص/ ۳۶۰
۵۔ الميزان ،ج/۳،ص/ ۳۶۵

پنجشنبه / 25 دى / 1393