آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف: فرصت خدمتگزاری به آستان مقدّس و نورانی حضرت امام علی بن موسی الرضا علیهماالسلام را قدر بدانید./نسبت به احیا و حفظ موقوفات آستان قدس بر طبق نیّات واقفین، اهتمام نمایید.  عصر روز  ٨...
دوشنبه: 1398/02/2 - (الاثنين:16/شعبان/1440)

Printer-friendly versionSend by email
ولادت با سعادت امام زين العابدين عليہ السلام (۵ شعبان المعظم )

خدايا ! ميں تجھ سے نا اميد نہيں ہوں كہ تو نے توبہ كا دروازہ ہم پر كھلا ركھا ہے ۔
ميں اس ذليل بندہ كي طرح بات كر رہا ہوں جس نے اپني ذات پر ظلم كيا ہے اور اپنے پروردگار كي حرمت كا پاس نہ ركھا ہو ۔ 
جس كے گناہ بہت زيادہ ہيں اور اس كي زندگي رو بہ زوال ہے ۔
جس وقت اس كي آنكھ كھلي تو عمل كا وقت گزر چكا ہے اور عمر كے آخري ايام آپہنچے ہيں ۔
 وہ گناہگار گريہ و زاري كرتے ہوئے تيري بارگاہ ميں آيا ہے اور تيرے سامنے بصد خلوص توبہ كر رہا ہے ، پاك دل كے ساتھ تيرے سامنے كھڑا ہے اور آہ و فرياد اور حزين آواز كے ساتھ تجھے پكار رہا ہے ۔ 
تيرے خوف كي شدت سے اس كے پاؤں لرز رہے ہيں اور آنسووں سے اس كے رخسار تر ہيں ۔ 
اور يا ارحم الراحمين كہہ كر تجھے پكار رہا ہے ۔ 
(امام سجاد عليہ السلام كي مناجات كے كلمات ، صحيفہ سجاديہ، دعا/۶۶)
دلچسپ حكايت 
ايك شخص امام سجاد عليہ السلام كي خدمت ميں شرفياب ہوا ، امام نے اس سے خيريت پوچھي اس نے كہا ، ميري صبح اس حالت ميں ہوئي كہ ميں چار سو دينار كا مقروض ہوں اور اس كي ادائگي كي قدرت نہيں ركھتا ہوں ، كثير العيال ہوں اور ان كا نفقہ ميري توان سے باہر ہے ۔ 
امام سجاد عليہ السلام اس آدمي كي مشكل سن كر بہت غمگين ہوئے اور بہت روئے ، آپ سے پوچھا گيا :كيا آپ كا گريہ اس كي مشكلات و مصائب كي وجہ سے نہيں تھا ؟ 
فرمايا : بيشك! ايسا ہي ہے ، اس سے بڑي مصيبت كيا ہوگي كہ ايك صاحب ايمان اپنے برادر مومن كو فقير و ہاتھ خالي ديكھے ليكن اس كي مشكلات كو برطرف نہ كر سكتا ہو۔ 
پھر اسے آدمي كو دو روٹي دي اور فرمايا : اس دو روٹي كے سوا ميرے پاس اور كچھ نہيں ہے ، خداوند اسي دو روٹي كے ذريعہ تمہاري زندگي ميں وسعت عطا كرے گا ۔ 
وہ آدمي روٹي لے كر گريہ كناں بازار كي طرف گيا ، راستے ميں ايك مچھلي بيچنے والا اس كے پاس آيا اور كہنے لگا : يہ تازہ مچھلي ايك سوكھي روٹي كے بدلے لے لو ۔ 
اس آدمي نے مچھلي لے لي اور اسے ايك روٹي دے دي ، تھوڑي دور چلا تھا كہ ايك نمك بيچنے والا ملا اس نے كہا : يہ ناچيز نمك ہم سے لے لو اور ہميں ايك روٹي دے دو ۔ 
اس آدمي نے ايك روٹي دے كر اس سے نمك لے ليا اور نمك اور مچھلي لے كر گھر آگيا ۔ 
گھر ميں جب اس نے مچھلي كا پيٹ چيرا تو اس ميں سے دو موتي نكلے ، يہ ديكھتے ہي وہ آدمي سجدہ شكر بجا لايا ۔ پھر اس آدمي نے دونوں موتي مہنگے داموں ميں بيچ كر اس سے حاصل ہونے والي ثروت سے اپني زندگي كو سر و سامان بخشا ۔ 
(مناقب ابن شہر آشوب ، ج/۴،ص/ ۱۴۶)
ابو حمزہ ثمالي امام سجاد عليہ السلام سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا : 
ما مِن قَطرَةٍ اَحَبُّ إِلَي الله عزوجل مِن قَطرَتَينِ قَطرَه دَم في سبيل الله و قَطره دَمعِهِ في سَوادِ اللَّيلِ لا يُريدُ بِها العَبدُ الاّ اللهَ عَزّوجلّ
ترجمہ : كوئي بھي قطرہ خدا كے نزديك دو قطروں سے زيادہ محبوب نہيں ہے ، ايك وہ خون كا قطرہ جو راہ خدا ميں گرے اور دوسرا اشك كا وہ قطرہ جو رات كي تاريكي ميں بندے كي آنكھوں سے خدا كے لئے نكلتا ہے ۔ 
(بحار الانوار ، ج/۱۰۰، ص/۱۰)

پنجشنبه / 22 فروردين / 1398