در پی واقعه تاسف بار سیل در سیستان و بلوچستان،  مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله الوارف، ضمن اظهار همدردی با حادثه دیدگان عزیز و ارسال هیئتی جهت حضور در مناطق سیل‌زده جهت بررسی وضعیت و کمک‌رسانی به مردم شریف این ‌منطقه،...
چهارشنبه: 1398/11/30 - (الأربعاء:24/جمادى الآخر/1441)
Printer-friendly versionSend by email
ولادت با سعادت امام حسن عسكري عليہ السلام

ہمارے گيارہويں امام جن كا تعلق خاندان پيغمبر(ص) اور خاندان حضرت زہرا(س) سے ہے ، آپ ۲۲ سال كي عمر ميں منصب امامت پر فائز ہوئے اور امت كے نجات و ہدايت كي باگ ڈور سنبھالي اور صاحب منصب ولايت قرار پائے ۔ ۶سال يہ منصب آپ كے ہاتھوں ميں رہا اور پھر ۲۹ سال كي عمر ميں اپنے اجداد طاہرين كي طرح جام شہادت نوش فرمايا ۔ 
امام حسن عسكري عليہ السلام كے بہت سے فضائل نقل كئے گئے ہيں ، آپ كا اخلاق ، طريقہ عبادت ،لوگوں كے ساتھ رابطہ بالخصوص اپنے چاہنے والوں پر آپ كي عنايات اور دشمنوں كے ساتھ خوش اخلاقي كا مظاہرہ وغيرہ ، جن ميں سے ہم چند خصوصيات كو يہاں پر ذكر كر رہيں ہيں ۔ 
عبادت امام 
محمد بن اسماعيل ناقل ہيں : جس وقت امام حسن عسكري عليہ السلام زندان ميں تھے ،آپ دن ميں روزہ ركھتے اور رات عبادت ميں بسر كرتے تھے ، گفتگو نہيں كرتے تھے اور عبادت كے علاوہ آپ كي اور كوئي مشغوليت نہيں تھي ۔
(اعيان الشيعہ،ج/۴،ص/۳۰۵)
امام عسكري عليہ السلام كي ايك نصيحت

امام حسن عسكري عليہ السلام كے بچپن ميں ايك بار بہلول نے آپ كو گلي ميں بچوں كے درميان روتے ہوئے ديكھا جبكہ ديگر بچے كھيل ميں مشغول تھے ۔ بہلول نے سوچا كہ امام كے رونے كا سبب يہ ہے كہ آپ كے پاس بچوں كي طرح كھلونا نہيں ہے ۔ پھر بہلول نے حضرت سے كہا : كيا آپ چاہتے ہيں كہ آپ كے لئے كھلونے خريد لاؤں تاكہ آپ بھي كھيليں ؟ 
حضرت نے جواب ديا : ہم كھيل كود كے لئے پيدا نہيں ہوئے ہيں ، بہلول نے پوچھا : پھر كس لئے خلق كئے گئے ہيں ؟ 
حضرت نے جواب ديا : افحسبتم انما خلقناكم عبثاً و انكم الينا لا ترجعون (سورہ مومنون ،آيت/ ۱۱۵) 
ترجمہ : كيا تمہارا خيال يہ تھا كہ ہم نے تمہيں بيكار پيدا كيا ہے اور تم ہماري طرف پلٹا كر نہيں لائے جاؤ گے ۔ 
پھر بہلول نے امام سے كہا كہ كچھ نصيحت كريں ، امام عسكري عليہ السلام نے چند اشعار كے ذريعہ نصيحت كي اور پھر غش كر گئے ، جب غش سے افاقہ ہوا تو بہلول نے پوچھا : آپ كو كيا ہوا ، آپ تو بچے ہيں اور گناہوں سے بھي پاك ہيں ؟ حضرت نے جواب ديا : بہلول مجھے تنہا چھوڑ دو ! جس وقت ميري ماں آگ جلا رہي تھي تو ميں نے ديكھا كہ بڑي لكڑياں چھوٹي لكڑيوں كے سہارے جلتي ہيں ۔۔۔ مجھے ڈر ہے كہ كہيں ميں جہنم كي چھوٹي لكڑياں نہ بن جاؤں ۔ 
(ائمتنا ، ج/۲، ص/۲۶۹ منقول از نور الابصار ، ص/۱۵۱)
كريم آقا 
محمد الشاكري كا بيان ہے : حضرت كم خوراك تھے ، ايك بار حضرت كے سامنے انجير ، انگور اور ہلو جيسے پھل ركھے ہوئے تھے ، حضرت نے ان ميں سے ايك دو پھل كھانے كے بعد فرمايا : يہ پھل اپنے بچوں كے لئے لے جاؤ ، ميں نے پوچھا : سارے پھل ، آپ(ع) نے فرمايا : سب 
محمد الشاكري كہتے ہيں : ميں نے اپني پوري عمر ميں آپ سے كريم كسي كو نہيں پايا ۔ 
(بحارالانوار ، ج/۱۲، ص/۱۵۸)

شنبه / 16 آذر / 1398