بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
يكشنبه: 26/آذر/1396 (الأحد: 28/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
مولائے كائنات كي سخاوت اور ايثار

روايت ميں ہے كہ ايك دن ايك سائل نے آپ سے سوال كيا علي عليہ السلام نے اپنے عامل سے فرمايا : اس كو ہزار سكے دے دو ، عامل نے پوچھا : سونا يا چاندي ؟ فرمايا : كچھ بھي دے دو جس كي حاجتمند كو حاجت ہو وہ دے دو ۔ 
سورہ دہر بھي آپ ہي كي شان ميں نازل ہوا جس وقت آپ نے تين دن تك اپنے افطار كي روٹي سائل كو ديدي اور خود پاني سے افطار كر كے رہ گئے تو قرآن نے آپ كے جذبہ ايثار و سخاوت كو اس طرح بيان فرمايا : 
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (۱)
ترجمہ : يہ اس كي محبت ميں مسكين ،يتيم اور اسير كو كھانا كھلاتے ہيں
۲۴ ذي الحجہ وہ مبارك دن تھا جس دن آپ كي شان سخاوت كو بيان كرنے كے لئے پورا سورہ دہر نازل ہوا اور اسي دن آپ كي شان ميں آيہ ولايت نازل ہوئے جو آپ كي سخاوت كو بيان كرتي ہے اور آپ كي ولايت اور امامت پر واضح دليل ہے ۔ 
آپ مسجد ميں نماز ادا كر رہے تھے اور سائل نے اپني حاجت بيان كي كسي نے سائل كو جواب نہ ديا جبكہ مولائے كائنات نے اپني انگليوں سے سائل كو اشارہ كيا كہ وہ ہاتھ سے انگوٹھي اتار لے ۔ خداوند عالم كو مولائے كائنات كي يہ ادا اتني پسند آئي كہ آپ كي شان ميں يہ آيت نازل كر دي ۔
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آَمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ( ۲)
ترجمہ: ايمان والو! بس تمہارا ولي اللہ ہے اور اس كا رسول اور وہ صاحبانِ ايمان جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوٰۃ ديتے ہيں ۔ 
۱۔ سورہ دہر ،آيت/۸
۲۔ سورہ مائدہ آيت/۵۵

جمعه / 26 دى / 1393