ریاست و مدیران مؤسسه پژوهشی عروة الوثقی صبح امروز شنبه، شنبه، ۲۲ دی ۱۳۹۷ با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دیدار و گفتگو و از رهنمودهای معظم له بهره مند شدند.
پنجشنبه: 1397/11/4 - (الخميس:17/جمادى الأول/1440)

Printer-friendly versionSend by email
ولادت با سعادت حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام

۸ ربيع الثاني سن ۲۳۲ ہجري امام علي نقي عليہ السلام كے گھر ميں گيارہويں امام حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام كي ولادت ہوئي ، آپ كي والدہ ايك با تقويٰ خاتون تھيں جن كا نام حديث يا سليل لكھا گيا ہے ۔ (بحارالانوار ، ج/ ۵۰، ص/ ۲۳۶)
ولادت كے بعد سن ۲۴۳ ہجري تك آپ مدينہ ميں رہے اس كے بعد اپنے والد بزرگوار كے ساتھ عباسي دارالحكومۃ شہر " سُرّ من راي" چلے گئے اور وہاں اپنے والد كے ہمراہ عسكر نامي علاقہ ميں ساكن ہوئے اسي وجہ سے آپ كو عسكري كہا جاتا ہے ۔ 
اس لقب كے علاوہ آپ كے بہت سے القاب ہيں جيسے صامت ، ہادي ، رفيق ، زكي ، نقي وغيرہ ، اور يہ سارے القاب آپ كے پسنديدہ صفات كي نشاندہي كرتے ہيں ۔ آپ كي كنيت ابو محمد تھي جبكہ عام طور پر آپ كو اور آپ كے باپ ، دادا كو ابن الرضا كے لقب سے لوگ ياد كرتے تھے ۔ (بحارالانوار ، ج/ ۵۰، ص/ ۲۳۶)
امام حسن عسكري عليہ السلام كے ايك بڑے بھائي تھے جن كا نام محمد تھا ۔ جناب محمد اتنے بلند و والا مقام تھے كہ شيعہ انھيں ان كے باپ كا جانشين تصور كرتے تھے چونكہ وہ اپنے والد كے سب سے بڑے فرزند بھي تھے ليكن امام علي نقي عليہ السلام نے اپنے قريبي اصحاب كو اس بات كا اشارہ ديا تھا كہ ان كے بعد امام ان كے بيٹے حسن عسكري ہوں گے ۔ پھر جناب محمد كا جواني ہي ميں انتقال ہو گيا اور ان كي قبر بغداد اور سامرا كے درميان واقع ہے ۔ آج بھي لوگ ان كے قبر كي زيارت كرنے كے لئے آتے ہيں اور اپني مراديں مانگتے ہيں اور خداوند عالم ان كے طفيل ميں سب كي مراديں پورا كرتا ہے  
ان كي وفات كے بعد لوگ سمجھ گئے كہ امام نقي عليہ السلام كے بعد امام ابو محمد حسن عسكري (ع) ہوں گے اور پھر امام نقي عليہ السلام نے ان كے جنازے پر امام حسن عسكري عليہ السلام كو مخاطب قرار دے كر فرمايا كہ بيٹا خدا كا شكر بجا لاؤ كہ تمہارے متعلق خدا نے نيا فرمان صادر كيا ہے ۔ ( بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۴)
شايد اس روايت ميں نئے فرمان سے مراد يہ ہے كہ امام حسن عسكري عليہ السلام كي امامت كو لوگوں نے بلا ترديد قبول كر ليا ورنہ امام كي امامت تو روز ازل سے معين تھي اس سلسلے ميں بہت سي روايتيں بھي وارد ہوئي ہيں جن ميں چند روايتيں يہاں پر نقل كي جا رہي ہيں ۔ 
علي بن عمر نوفلي ناقل ہيں : امام علي نقي عليہ السلام كے ہمراہ ان كے گھر پر تھا كہ اتنے ميں وہاں سے ابو جعفر كا گزر ہوا ميں نے پوچھا آپ كے بعد ہمارے امام يہي ہيں ؟ امام نے فرمايا : نہيں ، تمہارے امام حسن ہيں ۔ (بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۲)
علي بن عمرو عطار ايك روايت ميں كہتے ہيں : جناب محمد كي زندگي ميں حضرت امام علي نقي عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ہوا ، ميرا خيال تھا كہ محمد گيارہويں امام ہيں اس لئے عرض كي : مولا! آپ پر قربان جاؤں ميں آپ كے كس فرزند كو امام سمجھوں ؟ امام نے فرمايا : جب تك ميں كوئي فرمان نہ صادر كروں كسي كو نہيں ، اس كے بعد پھر ہم نے ايك خط لكھ كر دريافت كيا كہ امامت كا حقدار كون ہے تو امام علي نقي عليہ السلام نے لكھا : ميرے بڑے فرزند ابو محمد ، ابو جعفر امام حسن عسكري عليہ السلام سے چھوٹے تھے ۔ (بحارالانوار ، ج/۵۰، ص/ ۲۴۴)
اس كے علاوہ بھي بہت سي روايات ميں امام حسن عسكري عليہ السلام كے امامت كي تصديق كي گئي ہے ۔ 

پنجشنبه / 22 آذر / 1397