بسم الله الرحمن الرحیم قال الله تعالی: «وَ ذَكِّرْهُمْ بِأَیّامِ الله» السَّلام علی مولانا صاحب العصر و الزّمان بقية الله ارواح العالمين له الفداء و علی آبائه الطّاهرين و علی شيعته، المتمسِّکين بأمره، الفائزين بولايته و المنتظرين لظهوره...
چهارشنبه: 1397/08/30 - (الأربعاء:13/ربيع الأول/1440)

Printer-friendly versionSend by email
زکات فطرہ کے احکام

زکات فطرہ کے احکام

- عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی سے آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے ۔کہ جب یہ کہا جائے کہ آج رات اسے کھانا کھلایا گیا،اور اگرچہ وہ شخص اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار نہ ہو۔
- اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی کے بغیر مہمان آئے اور کچھ مدت میزبان کے ہاں رہے تو احتیاط کی بناء پر اس کا فطرہ بھی میزبان و صاحب خانہ پر واجب ہے اور اسی طرح اگر انسان کو کسی کا خرچہ دینے پر مجبور کیاگیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
- عید الفطر کی رات مغرب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ اسے مغرب سے پہلے دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان و صاحب خانہ کے گھر ہی افطار کرے۔
- اگر کوئی کسی ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہاں کھانا کھانے والا شمار کیا جائے ،اسے دوسرے شہر میں نمائندہ و وکیل مقرر کرے کہ اس کے مال(یعنی صاحب خانہ کے مال)سے اپنا فطرہ دے دے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ شخص فطرہ دے دے گا تو خود صاحب خانہ پر اس کا فطرہ دینا ضروری نہیں ہے۔

- اگر کوئی عید الفطر کی رات مغرب کے وقت پاگل و دیوانہ  ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
- اگر مغرب سے پہلے یا مغرب کے قریب بچہ بالغ ہو جائے ،یا پاگل و دیوانہ عاقل ہو جائے ،یا فقیر غنی ہو جائے تو اگر ان میں فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود ہوں تو انہیں زکات فطرہ ادا  کرنی چاہئے۔
- اگر کسی شخص میں عید الفطر کی رات مغرب تک زکات فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود نہ ہوں(یعنی اس پر زکات فطرہ واجب نہ ہو)،لیکن عید الفطر کے دن ظہر سے پہلے تک اس میں زکات فطرہ کے واجب ہونے کی شرائط موجود ہو جائیں تو مستحب ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔
- عید الفطر کی رات مغرب کے بعد مسلمان ہونے والے کافر پر فطرہ واجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہو اور وہ عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔
- اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک صاع (تقریباً تین کلو)گندم  یا اس جیسی کوئی جنس ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ فطرہ ادا کرے اور اگر اس کے اہل و عیال بھی ہوں اور وہ ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ فطرہ کی نیت سے ایک صاع گندم وغیرہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی ایک فرد کو دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے فرد کو دے دے، یہاں تک کہ وہ خاندان کے آخری فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ جو چیز آخری فرد کو ملے ،وہ کسی ایسے شخص کو دے کہ جو خود ان لوگوں میں سے نہ ہو۔ اور اگر ان میں کوئی بچہ(نابالغ) ہو  تو اس کا ولی و سرپرست اس کی بجائے فطرہ لے سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے جو چیز  بچہ(نابالغ)کے لئے لی جائے وہ کسی دوسرے کو نہ دی جائے۔
- اگر عید الفطر کی رات مغرب کے بعد کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا  یا کوئی اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار ہو تو ان کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے ؛اگرچہ ان لوگوں کا فطرہ دینا مستحب ہے کہ جو عید الفطر کی رات مغرب کے بعد سے عید کے دن ظہر سے پہلے تک صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والے شمار ہوں۔
- اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کھانا کھاتا ہو اور مغرب سے پہلے کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھانے والا بن جائے تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب کہ جس کے ہاں وہ  کھانا کھانے والا بن جائے۔مثلاً اگر عورت مغرب دے پہلے اپنے شوہر کے گھر چلی جائے تو ضروری ہے کہ اس کا شوہر اس کا فطرہ دے۔
- جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو،اس پر اپنا فطرہ خود دینا واجب نہیں ہے۔
- جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو  اور اگر وہ فطرہ نہ دے تو خود اس انسان پر فطرہ واجب نہیں ہو گا۔مگر یہ کہ کوئی غنی کسی فقیر کے ہاں کھانا کھائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ غنی اپنا فطرہ خود دے۔
- اگر کسی شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہو لیکن وہ اپنا فطرہ خود دے تو جس شخص پر اس کا فطرہ واجب ہو اس پر اس فطرہ کی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہو گا۔
- جس عورت کا شوہر اس کو اخراجات نہ دیتا ہو اور اگر وہ کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھاتی ہو تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب ہے کہ جس کے ہاں وہ کھانا کھاتی ہے اور اگر وہ کسی کے ہاں کھانا نہ کھاتی ہو اور فقیر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنا فطرہ خود دے۔
- غیر سید کسی سید کو فطرہ نہیں دے سکتا حتی اگر کوئی سید اس کے ہاں کھانا کھاتا ہو تو بھی اس کا فطرہ کسی سید کو نہیں دے سکتا۔
- جو بچہ ماں یا دایہ کا دودھ پیتا ہو ،اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتا ہو لیکن اگر ماں یا دایہ کے اخراجات خود بچہ کے مال سے پورے ہوتے ہوں تو بچہ کا فطرہ کسی پر واجب نہیں ہے۔
- اگرچہ انسان اپنے اہل و عیال کے اخراجات حرام مال سے ادا کرتا ہو لیکن ان کا فطرہ حلال مال سے دینا ضروری ہے۔
- اگر انسان کسی شخص کو أجرت پر رکھے اور اس سے اس کے اخراجات ادا کرنے کی شرط کرے تو اس کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ شرط کرے کے اس کے کچھ اخراجات ادا کرے مثلاً اس کے کچھ اخراجات کے لئے پیسے دے تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔
- اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے بعد فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دیا جائے ؛لیکن اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔
- احتیاط واجب کی بناء پر زکات فطرہ فقط شیعہ اثنا عشری فقراء کو دینی چاہئے۔اگرچہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہی کیوں نہ ہوں اور چونکہ دوسرے شہر زکات منتقل کرنا خلاف احتیاط ہے ،اگر اپنے شہر میں شیعہ فقیر نہ ملے تو اپنا مال دوسرے شہر میں منتقل کرے اور وہاں زکات کی نیت سے کسی شیعہ کو دے۔  
- اگر کوئی شیعہ بچہ فقیر ہو تو انسان ولی شرعی کی اجازت سے اس پر فطرہ خرچ کر سکتا ہے ،یا وہ بچہ کو ولی کو دے کر بچہ کی ملکیت میں قرار دے سکتا ہے۔
-جس فقیر کو فطرہ دیا جائے،ضروری نہیں کہ وہ عادل ہو لیکن احتیاط واجب یہ ہے شرابی اور اور سر عام  گناہ و معصیت کرنے والے کو فطرہ نہ دیا جائے۔
- جو شخص فطرہ گناہ و معصیت اور ناجائز کاموں پر صرف کرتا ہو ،اسے فطرہ نہیں دینا چاہئے۔
- احتياط واجب یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک صاع تقريباً تین كلو سے کم فطره نہ دیا جائے. البتہ اگر اس سے زیادہ دیا جائے تو اس میں اشکال نہیں ہے۔
- اگر ایک جنس کی قیمت اسی جنس کی معمولی قسم سے دگنی ہو مثلاً کسی گندم کی قیمت معمولی قسم کی گندم سے دو گنی ہو  تو اگر کوئی شخص اچھی جنس کی گندم میں سے آدھا صاع(جس کی مقدار و معنی گذشتہ مسئلہ میں بیان کی گئی ہے) گندم فطرہ کے عنوان سے دے تو یہ کافی نہیں ہے اور اگر وہ آدھا صاع فطرہ کی قیمت کی نیت سے بھی دے تو کافی نہیں ہے۔
- انسان آدھا صاع ایک جنس(مثلاً گندم) سے  اور آدھا صاع دوسری جنس(مثلاً جو) سے بطور فطرہ نہیں دے سکتا بلکہ اگر یہ آدھا آدھا صاع فطرہ کی قیمت کی نیت سے بھی دے تو کافی نہیں ہے۔
- مستحب ہے کہ انسان زکات فطرہ دینے میں اپنے فقیر رشتہ داروں کو دوسروں پر ترجیح دے اور پھر فقیر ہمسایوں اور پھر اہل علم فقراء کو دوسروں پر ترجیح دے۔لیکن اگر دوسروں کو کسی اور وجہ سے برتری حاصل ہو تو انہیں ترجیح دینا مستحب ہے۔
- اگر انسان یہ خیال کرتے ہوئے کہ ایک شخص فقیر ہے،اسے فطرہ دے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ فقیر نہیں تھا اور اگر اس نے جو مال فقیر  کو دیا تھا،وہ ختم نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اسے واپس لے کر کسی مستحق کو دے اور اگر وہ مال ختم ہو گیا ہو اور فطرہ لینے والا یہ جانتا ہو کہ اس نے جو مال لیا ہے وہ فطرہ ہے ،تو ضروری ہے کہ وہ اس مال کا عوض دے اور اگر وہ نہ جانتا ہو کہ اس نے جو مال لیا ہے وہ فطرہ ہے تو اس کا عوض دینا اس پر واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ انسان فطرے کا عوض دے۔
- اگر کوئی شخص کہے کہ میں فقیر ہوں تو اسے فطرہ نہیں دیا جا سکتا مگر یہ کہ انسان کو اس کے کہنے سے اطمینان حاصل ہو جائے یا انسان کو علم ہو کہ وہ پہلے فقیر تھا۔
- ضروری ہے کہ انسان قصد قربت (یعنی خداوند عالم کے حکم کی بجاآوری) کے لئے فطرہ دے اور اسے دیتے وقت فطرہ کی نیت کرے۔
- اگر کوئی انسان ماہ مبارک رمضان سے پہلے فطرہ دے تو یہ صحیح نہیں ہے لیکن ماہ رمضان کے فطرہ دینے کا جواز بعید نہیں ہے اور اگر ماہ رمضان سے پہلے یا ماہ رمضان کے دوران فقیر کو قرض دے اور جب اس پر فطرہ واجب ہو جائے تو فطرہ کو قرض میں شمار کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
- گندم یا فطرہ کے طور پر دی جانے والی کسی بھی دوسری جنس میں مٹی نہ ملی ہو اور اگر اس میں مٹی ملی ہو اور اس کی خالص مقدار ایک صاع یعنی تین کلو تک پہنچ جائے یا ملی ہوئی چیز اس قدر کم ہو کہ جو قابل توجہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- اگر کوئی شخص معیوب چیز فطرہ کے طورپر دے تو کافی نہیں ہے۔
- جس شخص کو کئی لوگوں کا فطرہ دینا ہو اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ سارا فطرہ ایک ہی جنس سے دے مثلاً اگر بعض چیزوں کا فطرہ گندم اور بعض کا فطرہ جو سے دے تو کافی ہے۔
- عید کی نماز پڑھنے والے شخص کے لئےضروری ہے کہ وہ احتیاط واجب کی بناء پر عید کی نماز سے پہلے فطرہ دے یا  فطرہ کی مقدار جد اکر لے ۔لیکن اگر کسی نے عید نہ نماز نہ پڑھنی ہو  تو وہ عید کے دن ظہر تک فطرہ دینے میں تأخیر کر سکتا ہے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ کی نیت سے اپنے مال کی کچھ مقدار علیحدہ کر دے اور عید کے دن ظہر تک مستحق کو نہ دے تو جب بھی وہ مال مستحق کو دے تو فطرہ کی نیت کرے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ واجب ہونے کے وقت فطرہ نہ دے اور فطرہ الگ بھی نہ کرے تو اس کے بعد ادا اور قضا کی نیت کے بغیر فطرہ دے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ الگ کر دے تو وہ اسے اپنے مصرف میں لا کر دوسرا مال اس فطرہ کے طور پر نہیں دے سکتا۔
- اگر انسان کے پاس کوئی ایسا مال ہو کہ جس کی قیمت فطرہ سے زیادہ ہو اور اگر وہ شخص فطرہ نہ دے اور نیت کرے کہ اس  مال کی کچھ مقدار فطرہ کے لئے ہو گی تو ایسا کرنے میں اشکال ہے۔
- اگر کسی شخص نے فطرہ کے لئے مال الگ کیا ہو لیکن وہ تلف ہو جائے اور اگر وہ شخص فقیر تک پہنچ سکتا تھا اور اس نے فطرہ دینے میں تأخیر کی ہو  تو اس کا عوض دینا ضروری ہے ،اور اگر فقیر تک نہیں پہنچ سکتا تھا تو پھر ضامن اور ذمہ دار نہیں ہے۔
 

- اگر اپنے علاقہ میں ہی مستحق مل جائے تو احتیاط واجب یہ کہ دوسری جگہ فطرہ نہ لے جائے اور اگر دوسری جگہ لے جائے اور تلف ہو جائے تو اس کا عوض دے۔

زکات فطرہ کے متعلق بعض سوالات کے جوابات

س۔زکات فطرہ کس وقت ادا کرنی چاہئے؟کیا کسی خاص فقیر کو فطرہ دینے کی غرض سے زکات فطرہ کی ادائیگی میں تأخیر کر سکتے ہیں؟

ج۔ زکات فطرہ ادا کرنے کا وقت عید فطر کا دن ہے اور کسی خاص فقیر کو فطرہ دینے کی غرض سے زکات فطرہ کی ادائیگی میں تأخیر کر سکتے ہیں۔لیکن فطرہ ادا کرنے میں کوتاہی و غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ نیز منی آڈر یا بینک کے ذریعہ بھی فطرہ فقیر تک پہنچا سکتے ہیں۔

س۔ کیا کسی مسجد یا مدرسہ کی مدد کے لئے انہیں زکات فطرہ دے سکتے ہیں؟

ج۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ زکات فطرہ شیعہ اثنا عشری فقراء کی دی جائے اگرچہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہی کیوں نہ ہوں۔

س۔کیا زکات فطرہ کے پیسوں سے فقیر کے لئے کوئی چیز خرید سکتے ہیں؟

ج۔ جی نہیں! زکات فطرہ کو الگ کر لینے کے بعد اسی صورت میں فقیر کو دی جائے اور اسے کسی دوسری جنس میں تبدیل کرنا صحیح نہیں ہے۔

س۔ پولیس یا فوج کے ان سپاہیوں کا کیا حکم ہے کہ جو عید فطر کی رات اپنے ادارہ میں ہی ہوں،تو اس صورت میں کیا فطرہ خود ان پر یا ان کے باپ پر یا پولیس اور فوج کے ادارے پر واجب ہے؟
ج۔ اس سوال کی بناء پر اگر مالی طور پر ممکن ہو تو خود فطرہ دے۔والله العالم

س۔اگر میزبان کی اجازت سے مہمان اپنا فطرہ خود دے تو کیا  میزبان سے ان کا فطرہ ساقط ہو جائے گا؟
ج. ساقط نہیں ہو گا. والله العالم

س۔کیا زکات فطرہ ماں،باپ،بیٹے یا بیوی وغیرہ(اگر یہ لوگ مستحق ہوں) کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
ج. واجب النفقه افراد کو زکات فطرہ نہیں دے سکتے. والله العالم

س۔امداد کمیٹیوں اور بعض خیراتی اداروں کو زکات فطرہ کس صورت میں دے سکتے ہیں؟
ج.میری نظر میں احتیاط واجب کی بناء پر زکات فطرہ شیعہ اثنی عشری فقراء تک پہنچنی چاہئے اور اگر مکلف امدادی کمیٹیوں یا خیراتی اداروں کو زکات فطرہ دے تو یہ یقین ہونا چاہئے کہ وہ وہ کسی کمی و زیادتی کے بغیر شیعہ اثنی عشری فقراء پر خرچ ہوئی ہے ورنہ وہ بری الذمہ نہیں ہو گا۔پس اگر کسی کو یہ یقین حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ مثلاً اگر غیر سید زکات فطرہ دے تو اسے یقین ہو کہ یہ غیر سید فقیر پر ہی خرچ ہوئی ہے نہ کہ کسی سید  یا مسجد و مدرسہ یا امام بارگاہ پر۔والله العالم

موضوع:

سه شنبه / 1 خرداد / 1397