روز دوشنبه  ۱۸ بهمن ماه ۱۳۹۵، آقای دکتر علی اکبر صالحی ریاست سازمان انرژی اتمی با مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاته دیدار و گفتگو کرد.  
Monday: 20 / 02 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
زکات فطره کے بعض احکام

 

* اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے وقت بالغ،عاقل اور ہوش میں ہو اور کسی کا غلام اور فقیر بھی نہ ہو تو وہ اپنا اور اپنے ہاں کھانے والوں لوگوں کا فطرہ دے۔ اور فی کس  فطرہ کی مقدار ایک صاع تقریباً تین کلو گندم یا جو یا کھجور یا کشمش یا چاول یا مکئی وغیرہ کسی مستحق کو دے۔ اور اگر ان میں سے کسی ایک کی مقدار کے بربار پیسے بھی دے تو کافی ہے ۔احتیاط کی بناء ہر اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے وقت بے ہوش ہو تو احتیاط کی بناء پر اس پر بھی فطرہ واجب ہے۔

* جس شخص کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ایک سال کے اخراجات نہ ہوں اور اس کا کوئی روزگار بھی نہ ہو کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کے اخراجات پورے کرے،تو وہ فقیر ہے اور اس پر زکات فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

* جو لوگ عیدالفطر کی رات مغرب کے وقت کسی کے ہاں کھانے والے شمار ہوں تو ضروری ہے کہ وہ شخص ان کا فطرہ دے،چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے،مسلمان ہوں یا کافر، ان کا خرچہ اس پر واجب ہو یا نہ ہو، اور وہ اس کے شہر میں ہوں یا کسی دوسرے شہر میں ہوں۔

* اگر کوئی کسی ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہاں کھانا کھانے والا شمار کیا جائے ،اسے دوسرے شہر میں نمائندہ و وکیل مقرر کرے کہ اس کے مال(یعنی صاحب خانہ کے مال)سے اپنا فطرہ دے دے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ شخص فطرہ دے دے گا تو خود صاحب خانہ کے اس کا فطرہ دینا ضروری نہیں ہے۔

* عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی سے آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ آج رات اسے کھانا کھلایا گیا،اور اگرچہ وہ شخص اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار نہ ہو۔

* اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی کے بغیر مہمان آئے اور کچھ مدت میزبان کے ہاں رہے تو احتیاط کی بناء پر اس کا فطرہ بھی میزبان و صاحب خانہ پر واجب ہے اور اسی طرح اگر انسان کو کسی کا خرچہ دینے پر مجبور کیاگیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

* عید الفطر کی رات مغرب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ اسے مغرب سے پہلے دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان و صاحب خانہ کے گھر ہی افطار کرے۔

* اگر کوئی عید الفطر کی رات مغرب کے وقت پاگل و دیوانہ ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔

* اگر مغرب سے پہلے یا مغرب کے قریب بچہ بالغ ہو جائے ،یا پاگل و دیوانہ عاقل ہو جائے ،یا فقیر غنی ہو جائے تو اگر ان میں فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود ہوں تو انہیں زکات فطرہ ادا  کرنی چاہئے۔

* اگر کسی شخص میں عید الفطر کی رات مغرب تک زکات فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود نہ ہوں(یعنی اس پر زکات فطرہ واجب نہ ہو)،لیکن عید الفطر کے دن ظہر سے پہلے تک اس میں زکات فطرہ کے واجب ہونے کی شرائط موجود ہو جائیں تو مستحب ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے

* عید الفطر کی رات مغرب کے بعد مسلمان ہونے والے کافر پر فطرہ واجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہو اور وہ عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔

* اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک صاع (تقریباً تین کلو)گندم  یا اس جیسی کوئی جنس ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ فطرہ ادا کرے اور اگر اس کے اہل و عیال بھی ہوں اور وہ ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ فطرہ کی نیت سے ایک صاع گندم وغیرہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی ایک فرد کو دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے فرد کو دے دے، یہاں تک کہ وہ خاندان کے آخری فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ جو چیز آخری فرد کو ملے ،وہ کسی ایسے شخص کو دے کہ جو خود ان لوگوں میں سے نہ ہو۔ اور اگر ان میں کوئی بچہ(نابالغ) ہو  تو اس کا ولی و سرپرست اس کی بجائے فطرہ لے سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے جو چیز  بچہ(نابالغ)کے لئے لی جائے وہ کسی دوسرے کو نہ دی جائے۔

* اگر عید الفطر کی رات مغرب کے بعد کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا  یا کوئی اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار ہو تو ان کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے ؛اگرچہ ان لوگوں کا فطرہ دینا مستحب ہے کہ جو عید الفطر کی رات مغرب کے بعد سے عید کے دن ظہر سے پہلے تک صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والے شمار ہوں۔

* اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کھانا کھاتا ہو اور مغرب سے پہلے کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھانے والا بن جائے تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب کہ جس کے ہاں وہ  کھانا کھانے والا بن جائے۔مثلاً اگر عورت مغرب دے پہلے اپنے شوہر کے گھر چلی جائے تو ضروری ہے کہ اس کا شوہر اس کا فطرہ دے

* جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو،اس پر اپنا فطرہ خود دینا واجب نہیں ہے۔

* جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو  اور اگر وہ فطرہ نہ دے تو خود اس انسان پر فطرہ واجب نہیں ہو گا۔مگر یہ کہ کوئی غنی کسی فقیر کے ہاں کھانا کھائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ غنی اپنا فطرہ خود دے۔

* اگر کسی شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہو لیکن وہ اپنا فطرہ خود دے تو جس شخص پر اس کا فطرہ واجب ہو اس پر اس فطرہ کی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہو گا۔

* جس عورت کا شوہر اس کو اخراجات نہ دیتا ہو اور اگر وہ کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھاتی ہو تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب ہے کہ جس کے ہاں وہ کھانا کھاتی ہے اور اگر وہ کسی کے ہاں کھانا نہ کھاتی ہو اور فقیر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنا فطرہ خود دے۔

* غیر سید کسی سید کو فطرہ نہیں دے سکتا حتی اگر کوئی سید اس کے ہاں کھانا کھاتا ہو تو بھی اس کا فطرہ کسی سید کو نہیں دے سکتا۔

* جو بچہ ماں یا دایہ کا دودھ پیتا ہو ،اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتا ہو لیکن اگر ماں یا دایہ کے اخراجات خود بچہ کے مال سے پورے ہوتے ہوں تو بچہ کا فطرہ کسی پر واجب نہیں ہے۔

* اگرچہ انسان اپنے اہل و عیال کے اخراجات حرام مال سے ادا کرتا ہو لیکن ان کا فطرہ حلال مال سے دینا ضروری ہے۔

* اگر انسان کسی شخص کو أجرت پر رکھے اور اس سے اس کے اخراجات ادا کرنے کی شرط کرے تو اس کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ شرط کرے کے اس کے کچھ اخراجات ادا کرے مثلاً اس کے کچھ اخراجات کے لئے پیسے دے تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

* اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے بعد فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دیا جائے ؛لیکن اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
Wednesday / 8 June / 2016