روزہ؛ ایک آسان عبادت | سايٹ دفتر حضرت آيت ا... العظمي صافي گلپايگاني
همزمان با ایام جانسوز شهادت حضرت امام محمد باقر «علیهماالسلام» و نیز حضرت مسلم بن عقیل «علیه‌السلام» مجلس سوگواری و عزاداری طبق معمول سنوات گذشته به مدت سه روز از یکشنبه 28 مردادماه - از ساعت 10:30 صبح الی 12 با سخنرانی وعاظ در دفتر...
يكشنبه: 1397/05/28 - (الأحد:7/ذو الحجة/1439)

Printer-friendly versionSend by email
روزہ؛ ایک آسان عبادت
(ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8)

روزہ؛ ایک آسان عبادت

(ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8)

 

روزه؛ ایک آسان عبادت 

اسلامی شریعت انسانی فطرت کے ساتھ ہماہنگ ہے اور اس کے احکام فطرت،طبیعت سلیم اور ذوق مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام نے عقل، انسانی فکر اور سوچ کو بے پناہ اہمیت دی ہے اور اسے تعقّل، جستجو اور تحقیق کی تشویق دلائی ہے اور جو لوگ عقل کی حکومت اور اس کی طرف رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں، اسلام ان کی توبیخ و سرزنش کرتا ہے۔

اسلام کی تعلیمات انسانیت کی پاک روح پر بوجھ نہیں ہیں اور اگر انسان کی راہ و روش اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہو جائیں تو انسان کا وجدان بوجھ اور سنگینی کا احساس نہیں کرے گا۔

یگانہ و تنہا صراط مستقیم

تنہا صراط مستقیم اور عالی مقاصد کی جانب سب سے مختصر راہ اسلام کا آئین ہے کہ جس نے دین و دنیا، جسم و روح اور انفرادی و اجتماعی مصلحتوں کو یکجا کر دیا ہے۔

اس دین حنیف میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے اور جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے، وہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو فطرت پر بوجھ ہیں اور جو فطرت کے تقاضوں سے ہماہنگ نہیں ہیں اور دین میں جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور جنہیں واجب اور مستحب قرار دیا گیا ہے وہ فطرت بشر کے عین مطابق ہیں۔

«خير و مصلحت» اور «ضرور و مفسدہ کو دور کرنا» اسلام کے احکام کی بنیاد ہے اور جہاں بھی دو مصلحتوں کے درمیان تزاحم ہو تو زہادہ اہم مصلحت کا انتخاب کیا جاتا ہے اور جہاں دو مضر چیزوں میں سے کسی ایک کے مرتکب ہونے کے لئے ناچار اور مجبور ہوں تو ایسے عمل سے اجتناب کیا جاتا ہے کہ جس میں زیادہ نقصان ہو۔

اسلامی احکام میں سہولت اور آسانی

اسلامی شریعت کے مشخصات اور نشانیوں میں سے ایک اس کے ’’ احکام میں سہولت اور آسانی‘‘ ہے ؛چنانچہ ’’مکلفین کے لئے امکان‘‘ اور ’’احاکم و تکالیف کے عملی ہونے‘‘ جیسے امور  کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ جن کی بنیاد پر اسلامی شریعت استوار ہے۔

سخت تعلیمات، زحمت سے بھرپور اور دشوار اعمال، اور فطرت کی مخالفت سبب بنتے ہیں کہ انسان اکثر اطاعت سے گریز کرے گا اور جن کی وجہ سے دین صرف مکتب ریاضت اور خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور دین میں دنیا و آخرت، سماج،تہذیب اخلاق، تربیت و ہدایت اور ترقی کے لئے ضروری فوائد نہیں ہوں گے۔

یہ واضح ہے کہ اگر قانون فطرت کے برخلاف ہو اور جو مصلحت کی رعائت اور ضرر کو دور کرنے کی بنیاد پر نہ ہو تو وہ دوام کے قابل نہیں ہوتا اور اگر اسے زور زبردستی انسان پر تھونپ دیا جائے تو اس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور فطرت کے مقابلہ میں محکوم ہو جائے گا۔

قرآنی اور حدیثی اصول

اس وجہ سے اسلام نے مشقت، مجبوری اور ضرر و تقیّہ کے موارد میں اپنے احکام  کو فقہ میں بیان ہونے والی شرائط کے مطابق اٹھا لیا ہے۔ قرآن مجید اور نصوص و روایات میں ان اصولوں کو ثابت و مقرر فرمایا گیا ہے کہ جن کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف ـ آيات كريمه

«فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا»(۱) ؛ «وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينَ مِنْ حَرَج» ؛ «يُرِيدُ اللهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ»؛ «يُرِيد اللهُ بِكمُ اليُسرَوَ لايُريد بِكُم العُسرَ» ؛ «مَايُريدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَج وَلكِن يُرِيدُ لِيُطهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُم لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ»

ب ـ احاديث شريفه

«لا ضَررَ وَلاضِرار في الإسلام»؛ «رُفِعَ عَن اَمَّتِي تِسعَة ...»؛ «يَسِّرُوا وَلا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا، ولاتنفِرُوا...»

اس بیان کی رو سے شریعت کی بنیاد سہولت اور آسانی پے۔ پس اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریعت میں کیوں بہت سے دشوار احکام بھی ہیں کہ جن میں مال خرچ کرنے اور جان دینے کی بھی ضرورت ہے؟

اس کے جواب میں کہنا چاہئے: اگرچہ جان قربان کرنا اور فداکاری آسان نہیں تھی اور اسی طرح سخاوت کی خصلت سے محروم لوگوں کے لئے اپنا مال خرچ کرنا بھی بہت مشکل اور دشوار ہے کہ جو ایک دوسرے سے ہمدردی سے لذت محسوس نہیں کرتے اور جو اسے معاوضہ کی ادائیگی اور نقصان سمجھتے ہیں لیکن اہم مقاصد کے حصول یا بڑے نقصانات سے بچنے کے لئے ان زحمتوں کو برداشت کرنا فطرت کے مطابق ہے اور جب نوع بشر کو ان تکالیف کا سامنا ہو تو سب اپنی ذات سے قطع نظر کرتے ہوئے ان امور کو انجام دینا لازم قرار دیتے ہیں اور اسے کمال تک پہنچنے کا اصول اور اجتماعی نظام کی بقاء سمجھتے ہیں۔

ماہ رمضان کے روزوں کے بارے میں آیات کے ضمن میں دین میں سہولت کی جہت کو بیان کیا گیاہے اور یہ اس چیز کو بیان کر رہا ہے کہ روزہ کی تشریع میں بھی اس موضوع کی رعائت کی گئی ہے۔

روزه کی زحمت  کو برداشت کرنے کے  متعلق حکم عقل

غذا کھانے کے عادی لوگوں کے لئے روزہ مشکل اور دشوار ہے اور یہ ایک قسم کی ریاضت ہے کیونکہ یہ بھی ہر دوسری تربیتی حکومت کی طرح انسان کی نفسانی خواہشات کے ساتھ سازگار نہیں  لیکن یہ ناسازگاری ایسے ہی ہے کہ جیسے بیمار کو دوا ناسازگار لگتی ہے اور بیمار دوائی کے ذائقہ کو پسند نہیں کرتا اور اس کا مزاج دوا سے نفرت کرتا ہے،یہ نفرت صرف دوا کے ذائقہ کی وجہ سے ہے لیکن بیمار کی عقل،فطرت اور ضمیر کی نظر میں دوا کھانا ضروری ہے اور اس زحمت کو برداشت کرنا لازم ہے اور دوائی کھانے سے گریز کرنا ناپسند اور بیوقوفی شمار کیا جاتا ہے اور اگر بیمار دوائی نہ کھائے تو اسے زبردستی دوائی کھلائی جاتی ہے۔کیونکہ یہ عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔

لیکن اگر دوائی مضر ہو تو وہ بیمار کو نہیں کھلانی چاہئے یا اگر دوائی کھانے سے تکلیف ہوتی ہو لیکن اس دوائی کو تبدیل کرنا ممکن ہو تو ماہر ڈاکٹر اور طبیب اس دوائی کو تبدیل کر دیتا ہے ،یا اگر وقت کے اعتبار سے دوائی تبدیل کرنے میں اہم مصلحت ہو تو اسے وقت کے مطابق تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

خداوند متعال نے روزه کے احکام کو بیان کرنے کے ضمن میں یہ حکم بیان فرمایا ہے کہ مسافر اور بیمار کسی اور وقت(کہ جب یہ دونوں عذر نہ ہوں) روزہ رکھیں۔ خدا پھر فرماتا ہے: «يريد الله بكم اليسر»؛ (یعنی خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے) خداوند متعال روزہ میں بھی سختی اور دشواری نہیں چاہتا بلکہ احکام و تکالیف کا کلی ہدف و مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اذیت دی جائے،انہیں تنگ کیا جائے اور انہیں مشکل میں ڈالا جائے بلکہ خداوند کریم اپنے بندوں کے لئے رؤوف و مہربان ہے۔خدا  اپنے بندوں کے امور میں آسانی چاہتا ہے اور خدا نے ان کے لئے سختی کا ارادہ نہیں فرمایا۔

اگرچہ مذکورہ اصل روزہ کے احکام کے ضمن میں بیان ہوا ہے لیکن یہ ایک کلی اصل اور قانون  ہے کہ جس کا دوسرے تمام موارد میں بھی خیال رکھا گیا گیا ہے لیکن روزہ کے احکام کے ضمن میں اسے بیان کرنے کی دلیل یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ نادان اور ناپختہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں مکلفین پر روزہ کی تشریع میں سختی سے کام لیا گیا ہے لہذا خدا نے اس توہم کو دفع کرنے کے لئے فرمایا: «يريد الله بكم اليسر»؛ بیشک اگر روزہ کو واجب قرار دے کر خدا بندوں کو تکلیف دینا چاہتا تو پھر بیماروں، مسافروں اور بوڑھوں سے روزہ کا وجوب ساقط نہ ہوتا۔

پس اے مسلمان بھائیو! خدا کا شکر کرو اور اسلام جیسی نعمت کی قدر کرو اور ماہ مبارک رمضان میں خدا کے فرمان اور حکم کو دل و جان سے قبول کرو۔

کہیں اس مہینہ میں خدا کی مغفرت و بخشش سے محروم نہ رہ جائیں: «فالشقي من حرم غفران الله في هذا الشهر العظيم»۔ کہیں کسی عذر کے بغیر روزہ چھوڑ کر اس عزیز مہینہ میں خدا کے امر کی مخالفت نہ کر دیں اور خدا کی معصیت کرکے اس حدیث شریف کے مصداق میں شامل نہ ہو جائیں: «مَن اَفطَرَ يَوماً مِن شَهر رَمَضان خَرجَ رُوحَ الايِمانِ مِنه؛ جس نے (کسی عذر کے بغیر) ماہ رمضان کے روزہ کو افطار کیا(چھوڑ دیا)،اس سے روح ایمان خارج ہو گئی.» ۔

چهارشنبه / 26 ارديبهشت / 1397