صبح یکشنبه ۱۶ مهرماه ۱۳۹۶، سردار اشتري فرمانده محترم نيروي انتظامي با هیئت همراه، با حضور در بیت مرجع عاليقدر حضرت آية الله العظمی صافي گلپايگاني مدّ ظله الوارف ديدار کردند. در ابتداي اين ديدار، سردار اشتري گزارشي از فعاليت‌ها و برنامه های نيروي...
پنجشنبه: 27/مهر/1396 (الخميس: 28/محرم/1439)

Printer-friendly versionSend by email
حج کے بعض احکام

حج کے بعض احکام

س۔اگر حاجی نے احرام کا لباس ایسے پیسوں سے خریدا ہو کہ جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو تو کیا اس کا احرام صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔اگر خمس نہ دیئے گئے انہی پیسوں سے معاملہ نہ کیا گیا ہو کہ جن کا خمس دینا واجب تھا تو اس مال میں تصرف کرنا جائز ہے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں پِن(pin) کے ذریعہ رداء کی دونوں طرف کو ایک دوسرے دے متصل کر سکتے ہیں یا اسے گرہ باندھ سکتے ہیں؟

ج۔ اس میں اشکال ہے اور رداء کے دونوں طرٖف کو ایک دوسرے سے متصل نہیں کرنا چاہئے۔

 

س۔ اگر عورتیں اس طرح سے بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘ (یعنی لبیک کہنا)کہیں کہ جسے اجنبی سنیں تو کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟

ج۔ اگر بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘کہی جائے کہ جسے اجنبی نے سنا ہو تو احوط و اولیٰ یہ ہے کہ اسے دوبارہ بجالایا جائے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں صابن اور  مختلف قسم کے شیمپو سے استفادہ کرنے میں اشکال ہے؟

 ج۔ اگر ان پر خوشبو صدق کرے تو ان سے اجتناب کیا جائے ،ورنہ ان میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س۔ احرام کی حالت میں کچھ لوگ ڈیجیٹل کیمروں سے ایک دوسرے کی تصاویر بناتے ہیں اور تصاویر کو دیکھتے وقت اس کے مونیٹر میں دیکھتے ہیں کہ جو شفاف اور آئینہ کی مانند ہے ۔کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟
ج. اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عورتوں کے لئے ہاتھ اور چہرے کی آرائشی کریموں کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. جائز نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عقد(نکاح)کرنے کا کیا حکم ہے؟

 ج۔ عقد(نکاح) باطل ہے اور ہمیشہ کے لئے حرمت کا موجب ہے۔

 

س۔ اگر احرام کی حالت میں بسیں راستہ میں موجود پل وغیرہ کے نیچے سے گزریں اور مجبوراً محرمین کو بھی پل کے نیچے سے گزرنا پڑے یا بسیں پٹرول پمپ پر چھتوں کے نیچے رکیں تو کیا اس میں اشکال ہے؟

ج۔ احرام کی حالت میں سر پر سایہ کرنا حرام ہے۔ اس بناء پر مذکورہ سوال کی رو سے محرم کے لئے کوئی اشکال نہیں ہے اور اس کا کفّارہ بھی نہیں ہے۔

 

 س۔اگر کسی کے مصنوعی بال ہوں اور وہ محرم ہو جائے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
ج.حج و عمرہ کے لئے کوئی ضرر نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ مرد ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کفارہ دے لیکن اس کے مصنوعی بال اس کے وضو یا غسل کے صحیح  ہونے کے لئے مضر نہ ہوں(یعنی مصنوعی بال وضو یا غسل کے لئے مانع نہ ہوں)

 

س۔اگر کوئی شخص طواف کے دوران پیشاب کو نہ روک سکتا ہو تو کیا اسے نائب لینا چاہئے؟

ج۔ مسلوس (جو شخص پیشاب وغیرہ کو نہ روک سکتا ہو) کے لئے طواف کا وہی حکم ہے جو نماز کے لئے مسلوس کا حکم ہے اور مبطون نائب لے ،اور احتیاط یہ ہے کہ خود بھی بجا لائے اور نائب بھی لے۔

 

س. کيا شاذروان كعبه کا جزء شمار ہوتا ہے؟اگر طواف کرنے والے کے بدن کا کوئی عضو یا اعضاء اس کے اوپر آجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج.جی ہاں! یہ کعبۂ معظمہ کا جزء ہے۔ اس بناء پر اگر طواف کے دوران اس پر چلیں یا بدن کا کوئی عضو اس پر آجائے تو اس مقدار میں طواف دوبارہ سے صحیح طور پر انجام دیا جائے اور طواف تمام کیا جائے اور پھر طواف  اور اس کی نماز تمام کرنے کے بعد احتیاطاً طواف اور نماز  طواف دوبارہ سے بجا لایا جائے۔

 

س۔ہجوم کے موقع پر اگر عورتیں 5/26 ذراع حدود کے اندر طواف بجا لانا چاہیں یا مقام ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیں,کیونکہ نا محرم مردوں کے دھکے نہ لگیں توانہیں کیا کرنا چاہئے
ج. صرف یہی امر حدود سے باہر طواف کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

 

س.آج کے زمانے میں صفا و مروہ کے درمیان فاصلہ کو دو منزلہ ہال کی صورت میں بنا دیا گیا ہے ، اس کی دوسری منزل پر سعی انجام دینے کا کیا حکم ہے؟
ج.اگر دوسری منزل کوہ صفا و مرورہ کے درمیان ہو اور اس سے بلند نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س. اگر کوئی تقصير کی بجائے حلق کر لے تو کیا یہ کافی ہے؟
ج۔یہ عمرهٔ تمتّع میں کافی نہیں ہے لہذا اسے چاہئے کہ وہ کفارہ کے طور پر ایک بھیڑ دے۔

 

س۔ کیا آپ کی نظر میں بالائی منزلوں سے رمی جمرات کرنا کافی ہے یا نہیں؟

ج۔  جمرات کے ستون میں اضافہ شدہ حصہ پر رمی کرنا احتیاط کے برخلاف ہے لیکن اگر بالائی منزلوں سے جمرات کے سابقہ حصہ پر رمی کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔ کچھ عرصہ قبل قربانی کے مقام کو منیٰ سے تبدیل کرکے وادی محسّر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیا منیٰ کے علاوہ دوسرے مقام پر قربانی کر سکتے ہیں یا منیٰ میں ہی قربانی کرنی چاہئے؟

ج۔ جب تک منٰی میں قربانی کرنا ممکن ہو تو منٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر قربانی کرنا کافی نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر منیٰ میں قربانی کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دے دی جائے تو اقویٰ یہ ہے کہ وادی مجسّر میں بھی قربانی کرنا کافی ہے۔

 

س.کیا اہلسنت کی نماز جماعت میں شریک ہو کر ان کے ساتھ یومیہ نمازیں پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔ضرورت کی حالت میں عامہ (اہلسنت) کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ضرورت کے علاوہ دوسرے موارد میں بھی اگر ان کے ساتھ نماز ادا کرنا ان کے دلوں کو جذب کرنے ، تألیف قلوب اور شیعوں پر تہمتوں کو دور کرنے کا باعث ہو تو یہ ایک اچھا عمل ہے اور نماز اعادہ کرنا(یعنی دوبارنماز پڑھنا) ضروری نہیں ہے ، اگرچہ یہ احتیاط کے موافق ہے۔

 

س۔ کیا دو افراد کی نیابت میں ایک حج انجام دے سکتے ہیں؟
ج.کوئی بھی شخص ماہ ذی الحجہ میں اپنے لئے یا کسی اور کی نیابت میں صرف ایک ہی حج انجام دے سکتا ہے، لیکن مستحبی حج دو یا چند افراد کی نیابت میں انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔کیامسجد الحرام میں فرش پر لگے پتھروں ( جیسے سنگ مرمر) پر سجدہ کرنا جائز ہے؟
ج. جی ہاں!جائز ہے،ان معدنیات پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے کہ جنہیں عرف میں زمین نہ کہا جائے مثلاً سونا، چاندی، عقیق، تانبا اور تمام دوسری دھاتیں۔

 

س۔ کیا عورتیں احرام کی حالت میں جورابیں پہن سکتی ہیں یا ان کے پاؤں کا بالائی حصہ بھی مردوں کی طرح کھلا ہونا چاہئے؟
ج. اقویٰ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے جورابیں پہننا جائز ہے۔جی ہاں! نامحرم کے سامنے چھپانا واجب ہے۔

 

س.آج کل حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنے کے کچھ ایسی مشینیں ہیں کہ جو بعض حجاج بیت اللہ الحرام کے لئے مشکلات ایجاد کرتی ہیں۔ براہ کرم اس بارے میں مندرجہ ذیل چند سوالوں کے جواب عنائت فرمائیں:
الف) کیا حج تمتع میں حتمی طور پر حلق کرنا ضروری ہے تقصير کا امکان بھی موجود ہے؟

ب) جن موارد میں حلق کرنا معین ہوا ہے تو کیا حلق کرنے کے لئے بلیڈ کا استعمال ضروری ہے یا آج کل کے زمانے میں موجود دوسرے ذرائع سے بھی حلق کر سکتے ہیں؟
ج)اگر کسی آلہ میں بلیڈ ہو لیکن اس میں متعارف آلہ کی طرح بلیڈ نہ ہو اور عرف میں وہ کوئی دوسرا آلہ ہو لیکن اس میں بلیڈ ہو تو کیا یہ کافی ہے؟
د) اگر کوئی ایسا آلہ ہو کہ جس میں بلیڈ  نہ ہو لیکن وہ آلہ بالوں کو جڑوں سے کاٹ دے کہ جس سےبالوں کی جڑیں بھی باقی نہ رہیں تو کیا یہ کافی ہے یا نہیں؟
ج. الف. صرورة (پہلی مرتبہ حجّ تمتع انجام دینے والے) کے لئے احتیاط کی بناء پر حلق کرنا واجب ہے۔

ب. بیلڈ سے تراشنا ضروری ہے۔
ج..اگر یہ بلیڈ کے ساتھ ہو اور حقیقت میں سر کو بلیڈ کے ساتھ تراشا گیا ہو تو اشکال نہیں ہے۔
د. یہ کافی نہیں ہے.

 

س.اگر کوئی واجب حج کے طواف میں شک کرے کہ کیا طواف کے ۶ چکر لگائیں ہیں یا ۷،لیکن اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی طواف کر رہی ہو جو یہ کہے کہ طواف کے ۷ چکر لگائے ہیں تو کیا وہ شخص اپنی بیوی کے قول پر اعتماد کرسکتا ہے تا کہ پھر اپنے شک پر اعتناء نہ کرے؟
ج. اگر بیوی کے قول سے اطمینان حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س.کیااختیاری یا اضطراری حالت میں (چاہے مالی لحاظ سے اضطرار ہو یا جدید منیٰ [ جو منیٰ سے باہر ہے] میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اضطرار ہو اور بعض خیمہ وادی محسر اور مزدلفہ میں نصب ہوتے ہیں) ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کی رات منیٰ میں بیتوتہ جائز ہے یا نہیں؟
ج. بيتوته؛ منیٰ میں ہونا چاہئے۔

 

س۔مکۂ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں دیگر مساجد، ہوٹلوں اور دوسرے مقامات پر نماز پوری پڑھی جائے یا قصر؟
ج. مکہ اور مدینہ کے پوری شہر میں زائرین مخیر ہیں یعنی انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نماز قصر پڑھیں یا پوری نماز پڑھیں۔

 

س۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ حج تمتع کے لئے جائے تو کیا وہ حلق کی بجائے تقصیر کر سکتا ہے؟

ج. احتياط واجب کی بناء پر حلق کرنا ضروری ہے۔

 

س۔گذشتہ سال میں نے اپنی سات سالہ بیٹی کو عمرۂ مفردہ میں محرم کیا۔ اپنے وطن ایران واپس آنے کے بعد میں متوجہ ہوا کہ اس کا وضو غلط تھا، اب اس کا حکم کیا ہے؟کیا جتنی مدت وہ ایران میں تھی، اسے احرام کے محرمات سے پرہیز کرنا چاہئے تھا؟ اور کیا اس کا مرتب کفارہ ہے؟
ج۔اگر واپس جانا ممکن ہو تو طواف اور اس کی نماز انجام دے اور بہتر یہ ہے کہ اعمال مترتبہ کو بھی انجام دے یا کوئی نائب لے کہ جو اس کی طرف سے یہ اعمال انجام دے اور بعد میں آپ کو اس کے بارے میں خبر دے یہاں تک کہ وہ تقصیر کرے اور اس کے بعد نائب طواف النساء اور نماز طواف  بجا لائے اور ان اعمال کو انجام دینے سے پہلے تک  احرام کے محرمات سے اجتناب کرے اور اگر محرمات احرام کو جانتے ہوئے عمداً انجام دے تو کفارہ واجب ہے اور یہ کفارہ بچہ کے ولی کے ذمہ ہے۔

 

س۔اگر کسی نے سر پر مصنوعی بال لگوائے ہوں(hair transplant) اور  پہلی بار حج تمتع سے مشرف ہونے کی صورت میں کیا وہ حتمی طور پر ان مصنوعی بالوں کو تراشے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور راہ ہے ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

ج۔ چونکہ مصنوعی بال جلد میں کاشت کئے جاتے ہیں اور وہ نشوونما پاتے ہیں، لہذا وہ قدرتی بالوں کا حکم رکھتے ہیں۔ احتیاط واجب کی بناء پر مرد کو پہلی مرتبہ حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنا چاہئے  اور اس حکم میں وہ کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کر سکتا ہے کہ جس نے تقصیر پر ہی اکتفاء کرنے کے جواز کا فتویٰ دیا ہو اور دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنے میں الاعلم فالاعلم کی رعائت کرے۔ لیکن اگر منصوعی بالوں کو سر پر چپکا دیا گیا تو انہیں سر سے ہٹانا واجب ہے اور اسی طرح اگر مصنوعی بال نشوونما  نہ کریں تو بھی یہی حکم ہے۔

 

س.کیا محرم شخص احرام کی طرح کوئی ایسی چادر یا کمبل وغیرہ لپیٹ سکتا ہے کہ جس کے اردگرد سلائی ہوئی ہو،یا وہ سوتے وقت اسے اوڑھ سکتا ہے؟
ج۔اگر سوتے وقت کمبل کو اپنے اردگرد اس طرح سے نہ لپیٹے کہ جو لباس کی مانند ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر بیٹھے یا کھڑے ہوں تو اپنے اوپر سلائی شدہ کمبل وغیرہ نہ ڈالے یعنی اسے  اوڑھنے سے اجتناب کرے۔

 

س.گذشتہ سالوں کے دوران عرفات، مشعر اور منیٰ سے گذرتے ہوئے عاجز و ناتوان(مثلاً بوڑھے افراد) اور عورتوں کو منی ٰٰکی طرف لے گئے اور مشعر الحرام میں وقوف کے بغیر ان حجاج کو وہاں سے گزار دیا گیا اور پھر انہیں منیٰ کی طرف اور رمی جمرات کے لئے لے گئے۔ کیا وقوف کے بغیر مشعر الحرام سے گزر جانا ہی کافی ہے  اور کیا وقوف کے لئے چند لمحات کافی ہیں یا یہ کہ کچھ دیر لئے وقوف ضروری ہے۔
ج. وقوف کے معنی توقف اور رکنا نہیں ہیں بلكه اس سے مراد مشعر الحرام  میں ہونا ہے۔ اس بناء پر اگر مشعر سے گزرتے وقت وقوف کا قصد کریں تو کافی ہے۔

 

س۔معذورین کو نقل و حمل کے ذرائع سے عرفات سے منیٰ کی طرف لے جانے کے لئے جدید پروگراموں کے مطابق کبھی مزدلفہ میں نہیں ٹھہراتے،اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ دوسرے لفظوں میں کیا صرف مزدلفہ میں حاضر ہونا(یعنی رات کے وقت معذور یا طلوعین کے درمیان غیر معذور زائرین کا وہاں سے گزرنا ہی کافی ہے) اور وہاں سے گزرتے ہوئے وقوف کی نیت کر لینا کافی ہے یا نہیں؟
ج۔مذکورہ سوال کی رو سے وقوف کافی ہے اگرچہ یہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہو۔

 

 س۔کیا موجودہ شرائط میں حج عمرۂ مفردہ انجام دینے کے عنوان سے ایک سال پیسے ودیعہ کے طعر پر رکھے جاتے ہیں اور چند سالوں کے بعد حج کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ ودیعہ کے ان پیسوں پر خمس لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟
ج.اگر سال کے اخراجات سے نام درج کروایا گیا ہو اور بعد کے سالوں میں حج سے مشرف ہوں تو اصل پیسوں اور حج کے لئے جانے سے پہلے والے سالو ں میں ان پیسوں کے منافع پر خمس ہے، نیز اگر حج کے لئے نام درج کروانے سے پہلے پیسوں پر خمس لاگو ہو چکا ہو تو ان پیسوں کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔

 

موضوع:

Friday / 15 July / 2016