▪️العلماء باقون ما بقی الدهر ▪️   از ماتم ارتحال شخصیتی بزرگ، فقیهی عالیقدر و مرجعی ولایی، که در خدمت به اسلام و تلاش در اعلای کلمه دین و امر به معروف و نهی از منکر و در یک کلمه‌ی جامع، نوکری خالص به آقایش حضرت بقیة مولانا المهدی ارواح...
جمعه: 28/مهر/1396 (الجمعة: 29/محرم/1439)

Printer-friendly versionSend by email
عید الفطر کی نماز کے احکام

عید الفطر کی نماز کے احکام

۱۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانۂ حضور میں عید کی نماز واجب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے لیکن ہمارے زمانے میں کہ جب امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف غائب ہیں،یہ نماز مستحب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ اور فرادیٰ پڑھا جا سکتا ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ اسے جماعت کے ساتھ رجاءاً پڑھا جائے۔
۲۔عید فطر کی نماز کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب سے ظہر تک ہے۔.

۳۔عید فطر میں مستحب ہے کہ سورج چڑھ آنے کے بعد افطار کیا جائے اور فطرہ دیا جائے اور پھر عید فطر کی نماز ادا کی جائے۔
۴۔عید فطر کی نماز دو رکعت ہے جس کی پہلی رکعت میں الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھے اور پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیرکہے اور رکوع میں چلا جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد قنوت پڑھے اور پھر پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور تشہد پڑھے اور پھر سلام کہہ کر نماز تمام کر دے۔
۵۔عید الفطر کی نماز کے قنوت میں جو دعا اور ذکر پڑھے کافی ہے، لیکن بہتر ہے کہ یہ دعا پڑھی جائے:

’’اللهم اهل الكبريا والعظمة واهل الجود والجبروت واهل العفو والرحمة واهل الـتـقـوى والـمغفرة اسالك بحق هذا اليوم الذى جعلته للمسلمين عيداً ولمحمد ذخراً وشرفاً وكـرامة ومزيداً ان تصلى على محمد وآل محمد وان تدخلنى فى كل خير ادخلت فيه محمداً وآل مـحـمد وان تخرجنى من كل سوء اخرجت منه محمداً وآل محمد صلواتك عليه وعليهم. اللهم انى اسالك خير ما سألك به عبادك الصالحون واعوذ بك ممااستعاذ منه عبادك المخلصون.‘‘

۶۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے زمانے میں مستحب ہے کہ عید الفطر کی نماز کے بعد دو خطبے پڑھے جائیں اور بہتر ہے کہ عید الفطر کے خطبہ میں زکات فطرہ کے احکام بیان کئے جائیں  ۔
۷۔عید کی نماز کے لئے کوئی سورہ مخصوص نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورهٔ شمس (۹۱ واں سوره) اور دوسری رکعت میں سورهٔ غاشيه (88 واں سوره) پڑھا جائے، يا پہلی رکعت میں سورهٔ سبح اسم (87 واں سوره) اور دوسری ركعت  میں سورهٔ شمس (91 واں سوره) پڑھا جائے.
۸۔ عید کی نماز کھلے میدان میں پڑھنا مستحب ہے لیکن مکۂ مکرمہ میں مستحب ہے کہ عید کی نماز مسجد الحرام میں پڑھی جائے.

۹۔ مستحب ہے کہ نماز عید کے لئے پیدل اور پا برہنہ اور باوقار طریقہ سے جائیں اور نماز سے پہلے غسل کریں اور سفید عمامہ سر پر رکھیں۔

۱۰۔مستحب ہے کہ نماز عید میں زمین پر سجدہ کیا جائے اور تکبیریں کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کیا جائے اور جو شخص نماز پڑھ رہا ہو تو چاہے وہ امام جماعت ہو یا فرادیٰ نماز پڑھ رہا ہو ،وہ نماز بلند آواز سے پڑھے۔

۱۱۔مستحب ہے کہ عید الفطر کی رات مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد اور عید الفطر کے دن نماز صبح کے بعد اور عید فطر کی نماز کے بعد بلکہ عید الفطر کے دن ظہر و عصر کے نماز کے بعد بھی یہ تکبیریں کہے: الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد، الله اكبر على ما هدانا.
۱۲۔احتیاط مستحب یہ ہے كه عورتیں عید کی نماز پڑھنے کے لئےجانے سے گریز کریں لیکن یہ احتیاط عمر رسیدہ عورتوں کے لئے نہیں ہے۔

۱۳۔دوسری نمازوں کی طرح عید کی نماز میں بھی مقتدی کو چاہئے کہ وہ الحمد اور سورہ کے علاوہ نماز کے دوسرے اذکار خود پڑھے۔

۱۴۔اگر مقتدی اس وقت پہنچے کہ امام کچھ تکبیریں کہہ چکا ہو تو امام کے رکوع میں جانے کے بعد ضروری ہے کہ اس نے جتنی تکبیریں اور قنوت امام جماعت کے ساتھ نہیں پڑھے،انہیں خود پڑھے اور اگر ہر قنوت میں ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ اور ایک مرتبہ ’’ الحمد للہ‘‘ کہے تو کافی ہے۔

۱۵۔اگر کوئی عید کی نماز میں اس وقت پہنچے کہ امام جماعت رکوع میں ہو تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور وہ تکبیریں اور قنوت مختصر طور سے بجا لائے اگرچہ ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ ہی کہے اور رکوع کو درک کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ورنہ احتیاط یہ ہے کہ رکوع کی حالت میں اقتدا نہ کرے۔

۱۶۔اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایک سجدہ یا تشہد بھول جائے تو احتیاط یہ ہے کہ نماز کے بعد اسے بجا لائے۔ نیز اگر نمازعید کے دوران کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے کہ جس کے لئے سجدۂ سہو لازم ہو جاتا ہو تو احتیاط کی بناء پر نماز کے بعد دو سجدۂ سہو بجا لائے۔

موضوع:

Friday / 15 July / 2016