بحول و قوه الهي، و به اميد توفيق براي انجام عمره مبروره و حج مقبول و تشرف به تقبيل آستان فرشته پاسبان خواجه كائنات و خلاصه موجودات حضرت خاتم الانبيا و شفيع روز جزا ابوالقاسم محمّد مصطفي صلي‎الله عليه وآله وسلم، و تشرف به زيارت قبور منتسبه به شفيعه...
Sunday: 20 / 08 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
نسیم الٰہی
عید قربان کی مناسبت سے بطور خاص

نسیم الٰہی

 

عید قربان؛امید کا دن

(عید قربان کے متعلق امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے خطبہ کے اہم پہلو)

 جان لو کہ آج کے دن کا بڑا احترام ہے۔ اس دن برکت، بخشش اور مغفرت کی بہت زیادہ امید ہے۔پس خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو۔اجر و ثواب کے حصول کے کے لئے توبہ کرو اور خدا کی بارگاہ میں پلٹنے کے لئے تضرع، گریہ و زاری اور آہ و نالہ اختیار کرو کیونکہ دوست رکھنے والا اور مہربان خدا بندوں کی توبہ کو قبول کرکے ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ نیک و صالح انداز میں عبادت کرو اور حق کے گواہ رہو۔خدا نے جن امور کو تم پر واجب قرار دیا ہے ان امور کی طرف راغب رہو اور امر بالمعروف اور نہی از منکر کرو۔ کمزور اور ناتوان لوگوں کی مدد اور پشت پناہی کرو۔ مظلوموں کی مدد اور حمایت کرو۔ ظالم و ستمکار اور شکاک کو دوست رکھنے والوں کا قدرت و طاقت سے شکنجہ کرو۔اپنی عورتوں،غلاموں اور کنیزوں سے نیکی کرو یعنی ان کے ساتھ نیک سلوک روا رکھو۔ گفتار میں صادق بنو اور امانت اس کے مالک تک پہنچاؤ، عہد و پیمان کو نبھاؤ اور عدل و انصاف پر قائم رہو اور ناپ تول میں دیانتداری سے کام لو۔

بیشک خدا کی راہ میں جہاد کرو اور دنیا کی مختصر زندگی تمہیں دھوکا و فریب نہ پائے  اور شیطان کے دھوکے میں نہ آؤ۔

(عید قربان کے دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے خطبہ کے اہم پہلو)

عاشقانہ ملاقات

اے بار الٰہا!آج کا دن ایک مبارک دن ہے۔ فقیر و گداگر، جستجو کرنے والا، مشتاق اور خوفزدہ سب کے سب تیرے حضور حاضر ہیں اور تو ان کی ضرورتوں کو دیکھ رہا ہے۔

پروردگارا!میں تیرا نیاز مند ہوں اور تو مجھ سے بے نیاز ہے اور تیرے علاوہ مجھے ہرگز کوئی خیر حاصل نہیں ہوئی۔

میں اپنی دنیا و آخرت میں تیرے علاوہ کسی اور کی جانب امید بھری نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا۔

(صحیفۂ سجادیہ کے کچھ پہلو)

عید قربان کی رات اور دن کے اعمال

عید قربان کی رات ہے کہ جس میں خدا کے بندوں کے لئے صبح تک آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اس عزیز رات میں فرشتے اور ملک پاسبان اور متقیوں کے امام سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم کی طرف رخ کرتے ہیں اور زیارت پڑھتے ہیں۔ خشوع و خضوع اور تضرع و زاری کی حالت میں خدائے بے نیاز کے حضور دعائے شریف’’ یا دائم الفضل علی البریۃ‘‘ کی تلاوت کرتے ہیں۔

 اس بزرگ عید کی صبح پاک پانی سے اپنے ظاہری و باطنی آلودگی کو دھو کر نماز عشق کی ادائیگی کے لئے عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

متصل صفوں میں مؤمنین خدا کی طرف شوق سے لبریز قلوب کے ساتھ عید قربان کی ملکوتی نماز ادا کرتے ہیں  اور معشوق و محبوب کی جدائی اور ہجر میں گریہ و زاری کرتے ہوئے دعائے ندبہ کی تلاوت کرتے ہیں۔

نیز آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر صحیفۂ مبارکہ سجادیہ میں سے اس عید کے دن حضرت زین العابدین علیہ السلام کی دعا پڑھتے ہیں۔

اس عزیز دن میں اپنے نفس کی نشانی و علامت کے طور پر کسی حیوان کو قربان گاہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اسے ذبح کرکے خدا کی بارگاہ میں اپنے نفس کو قربان کرتے ہیں  اور اس دن اپنی پہلی خوراک قربانی کے گوشت کو قرار دیتے ہیں۔

اور آخر میں انوار الٰہی سے درخشاں نامہ اعمال کے ساتھ جہاد اکبر (یعنی ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد اور برائیوں کا حکم دینے والے نفس کی قربانی) میں کامیابی کی دعا کرتے ہوئے اس عزیز دن کا اختتام کرتے ہیں۔اس امید کے ساتھ کہ اس دن خدا کی رضائیت حاصل ہو گئی ہو۔

موضوع: 
Saturday / 10 September / 2016