بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
پنجشنبه: 23/آذر/1396 (الخميس: 25/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
غدير؛ عظمتوں کے سالار کی بیعت
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۳)

اميرالمؤمنين علي عليه السلام، بے شمار عظمتوں کے سالار ہیں۔علي عليه السلام وہی ذات ہے كه جس کے فضائل اور عظمتوں کے بارے میں پيغمبر اسلام نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى جَعَلَ لِأَخِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي‌طَالِبٍ فَضَائِلَ لَا يُحْصِي عَدَدَهَا غَيْرُه‏(۱)
یعنی خداوند متعال نے میرے بھائی علي بن ابي‌طالب کے لئے ایسے فضائل قرار دیئے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا۔
* بے شمار علوی فضائل
حضرت علی علیہ السلام کی عظمتوں کے متعدد پہلو   ہیں جیسے تجسیم بندگی، خدا کی خالص عبودیت۔ نیز امیر المؤمنین کے مختلف بلکہ متضاد مناقب و فضائل  ہیں کہ جو کتابوں میں محفوظ اور درج ہیں:

 عَلِيّ وَ مَا أنْزِلَ فيهِ مِنَ القُرْآنِ، عَلِيّ و مَا ثَبَتَ لَهُ مِنَ الشُّئُونِ وَ المَقَامَاتِ بِالسُّنَّةِ، عَلِيّ وَ مَا صَدَرَ مِنْهُ مِنَ المُعْجِزاتِ، عَلِيّ وَ مَواقِفُهُ وَ بُطُولاتِهِ فِي الغَزَواتِ، عَلِيّ وَ تَضْحِياتُهُ فِي سَبيلِ إعْلاءِ كَلِمَةِ الإسْلامِ،

حضرت علي علیہ السلام اور غیب کی خبریں،گذشتہ اور آئندہ زمانے کے بارے میں بتانا، علی علیہ السلام اور عالم غیب، علی علیہ السلام اور اسلامی احکام کے شرائع، علی علیہ السلام اور زہد و پارسائی اور پرہیزگاری، علی علیہ السلام الٰہیات کے عالی علوم، علی علیہ السلام امیر فصاحت و بلاغت اور کلام، علی اور عبادت، علی علیہ السلام اور خوف خدا اور شب زندہ داری، علی علیہ السلام اور عدالت و قضاوت، علی علیہ السلام اور حکومت، علی علیہ السلام اور بردباری، علی علیہ السلام اور دین خدا و رسول خدا نصرت، علی علیہ السلام امام المتقین اور زوج سیدۃ نساء العالمین،، علي ابوالأرامل و الايتام و المساكين، علي اور علي اور علي۔۔۔۔یہ سب فضائل،اور بے شمار دوسرے فضائل علی علیہ السلام کی عظمت کے مختلف پہلو ہیں۔

* بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ

علی علیہ السلام خدا کی آیات میں سب سے عظیم آیت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے معجزات میں سب سے اظہر معجزہ ہیں کہ جو کتابوں میں بیان ہوا ہے اور جن کے بارے میں توانا علماء، بزرگ مؤلفین ، برجستہ خطباء اور ان کے علوم کے پیروکاروں اور علماء نے  بیان فرمایا ہے۔ اب تک امیر المؤمنین کے بارے میں اس قدر لکھا گیا اور بیان کیا گیا، آپ کی بلاغت کے متعلق بے شمار تألیفات و تصنیفات ہیں، آپ کے فضائل و مناقب کے متعلق خطبات دیئے گئے اور تقاریر کی  گئیں لیکن اس کے باوجود اب بھی علماء اور دانشوروں کے لئے در کھلے ہوئے ہیں اور جو کوئی بھی اس وسیع و عریض باغ میں داخل ہوتا ہے وہ تر و تازہ پھلوں سے مستفید ہوتا ہے’’ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُها ثابِتٌ‏ وَ فَرْعُها فِي‏ السَّماءِ تُؤْتِي أُكُلَها كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّها(۲) ‘‘
* فضايل علوي اور بیگانوں کے اعترافات

امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عظمتوں کے متعلق تألیفات و تصنیفات کا سلسلہ عالم اسلام پر ہی محیط نہیں ہے کہ جس کے دامن میں  مشرق و مغرب میں  موجودشیعہ و سنّی  دانشور  ہو ں بلکہ اس عظیم اور ممتاز شخصیت نے بیگانوں کے دلوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور انہیں مسخر کیا ہے۔مؤلفین نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی مدح و ثناء بیان کی ہے اور آپ  کے بارے میں کتابیں تألیف کی ہیں۔

جی ہاں!انہیں بھی امام علی علیہ السلام کی کچھ معرفت و شناخت ہے مثلاً وہ عیسائی دانشور کتاب’’ الامام علي صوت العدالة الانسانية ‘‘(۳)لکھ کر اس پر فخر و مباہات کرتا ہے۔
* فضائل علوي اور اہلسنت کے بزرگوں کے اعترافات

اہلسنت علماء و محدثین بھی امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے متعدد فضائل کو اپنی کتابوں میں شمار کرتے ہیں اور جس کا سلسلہ دور حاضر تک جاری ہے۔ مثلاً شرقاوی نے دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’علی امام المتقین‘‘ تألیف کی۔

جی ہاں!اس کے علاوہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعض فضائل جیسے حديث طير مشوي، حديث ردّ شمس، حديث ’’أنَا مَدينةُ العِلْمِ‘‘، حديث منزلت ، حديث ولايت  اور حديث غدير کے بارے میں الگ سے مخصوص کتابیں لکھی گئی ہیں اور قابل تعریف یہ بات ہے کہ ان میں سے بعض کتابیں کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔

مثال کے طور پر جب خلیل بن احمد سے پوچھا گیا: مَا تَقُولُ فِي شَأنِ الإمامِ عَلِيّ بنِ ابي‌طالب؟

تو  وہ تاریخی حقائق ، حق و باطل کے درمیان معرکہ اور علی علیہ السلام کے ذریعہ باطل پر حق کے غالب آنے بارے میں کہتے ہیں: مَا أقُولُ فى حَقِّ إمْرِءٍ كَتَمَت فَضَائلَهُ‏ اوليائُهُ خَوْفاً وَ كَتَمَتْ مَنَاقِبَهُ أعْداؤُهُ حَسَداً ثُمَّ ظَهَرَ مِنْ بَيْنِ الْكَتمَيْنِ مَا مَلَأَ الخَافقَيْنِ(4)

یعنی ایک خاص قسم کے حالات پیدا ہو چکے تھے کہ جن میں دشمنوں نے دشمنی کی وجہ سے علی علیہ السلام کے فضائل کو چھپایا  ،جب کہ دوستوں  اور محبّوں  نے خوف کی وجہ سے آپ کے فضائل کو مخفی رکھا ۔اور پھر پہلی اور دوسری صدی ہجری میں حدیث نقل کرنے کے ممنوع ہو جانے اور اس کے بعد دوسری وجوہات کی بناء پر ان فضائل کو بیان نہیں کیا گیا۔

دونوں طرف سے فضائل چھپائے جانے کے باوجود امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل اس قدر ظاہر ہوئے کہ جو کائنات کے مشرق و مغرب پر محیط ہیں اور پھر ایسا بھی ہوا کہ شافعی جیسے شخص نے کہا:

أنَــا عَبْــدٌ لِلْـــفَتي * أنْزِلَ فِيهِ’’هَلْ أتي‘‘

اہلسنت کے مشہور و معروف محدثین نے اب سخت حالات اور شرائط میں بھی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے متعلق’’فضائل و مناقب‘‘ کے عنوان سے کتابیں لکھیں  اور پھر حالات ایسے ہی گامزن رہے اور آج اسلامی علوم کے تمام شعبوں میں ’’غدیر‘‘ کا مسئلہ بیان ہوتا ہے۔ علم تفسیر، علم اسباب نزول، علم لغت، علم حدیث، تاریں، کتب تراجم و معرفۃ الصحابۃ اور دوسرے تمام علوم میں حدیث غدیر کے متعلق علماء و محققین بحث و گفتگو کرتے ہیں اور اس کے بارے میں شہادت دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور ترین خصائص نسائی ہے جو  صاحب سنن نسائی (جو اہلسنت کی صحاح ستہ میں سے ہے)کی کتاب ہے۔

یہ کتاب کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور جو سب کی دسترس میں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وہابیت کے مرموز ہاتھوں نے تحقیق رجال کے نام پر اس کی بعض احادیث کو شیعیت اور حبّ اہلبیت علیہم السلام کی طرف مائل  ہونے کے گمان کی بناء پر قلم سے مجروح کیا ہے لیکن اہل فنّ  اور ماہرین یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی دشمنی کی وجہ سے ہے چونکہ نسائی جیسی اصل کتاب کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تھے لہذا انہوں نے اس کے بعض رجال اور اسناد کو مورد اعتراض قرار دیا۔

 حتی بخاری اور مسلم یا ان میں سے کسی ایک کے بعض رجال پر بھی اعتراضات کئے ہیں اوراس طرح  انہوں نے اپنی اس نادانی کی وجہ سےصحیحین کے اعتبار کو بھی ختم کر دیا ہے۔ خیر ؛ لَيْسَ هذَا اوّلَ قَارُورةٍ كُسِرَتْ فِي الإسْلامِ۔ یہ بنی امیہ کے پیروکار اور طاغوت و نواصب اور دشمنوں کے تابع اور ان کے مطیع ہیں۔ علم حدیث کے علماء کی نظر میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل  پر مبنی احادیث کے بارے میں ان کے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. أمالي شيخ صدوق ره، مجلس 28.
2. سوره ابراهيم، آيات 25-24
3. تأليف جارج جرداق (عیسائی دانشور).
4. تنقيح المقال مامقاني، جلد 1، بيان خليل بن احمد فراهيدي(معروف نحوي).

 

 

يكشنبه / 19 شهريور / 1396