▪️ برگزاری مراسم سوگواری و عزاداری به مناسبت وفات کریمه اهل بیت حضرت فاطمه معصومه سلام الله علیها.  - به مناسبت وفات کریمه اهل بیت حضرت فاطمه معصومه سلام الله علیها، مجلس عزاداری و سوگواری در دفتر مرجع عالیقدر شیعه آیت الله العظمی صافی...
Tuesday: 24 / 01 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
مولائے غدير کی دوستی؛صحيفه مؤمن کا عنوان
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۵)

اس عظیم شخصیت کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ؛ جو ذات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کلمات الٰہیہ میں اشرف، آیات ربّانیہ میں اکبر، دلائل جامعہ میں سب سے محکم دلیل، براہین ساطعہ میں اتمّ برہان، وسائل کافیہ، مظہر العجائب، معدن الغرائب اور تمام برتر انسانی عظمتوں کی مالک ہو۔ جو خدا کا برحق خلیفہ ہو اور جن کی محبت مؤمن کے صحیفہ کا عنوان  اور ولادت میں طہارت کی علامت ہو۔ اگر انسان کے دہن میں تمام ناطق زبانیں ہوں اور انسان ان میں سے ہر ایک زبان کے ساتھ جاودانہ طور ہر مدح و ثناء کرے تو پھر بھی یہ سب اس ذات کی مدح میں حرف اوّل سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کی عکاسی اس شعر سے کی جا سکتی ہے:

ايـن شرح بي‎نهايت كز وصف يار گفتند * حــرفي است از هزاران كاندر عبارت آمد

* زبان پيغمبر صلی اللہ علیہ و الہ  وسلّم سے علی علیہ السلام

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عقل کل،خاتم الرسل، ہادی سبل ہیں اور مسلمانوں  کے درمیان مشہور اور معتبر احادیث میں مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی معانی سے لبریز اور واضح تمجیدات و تعریفات بیان فرمائی ہیں اور آپ نے امیرالمؤمنین کو حق اور قرآن کے ساتھ اور حق و قرآن کو امیر المؤمنین کے ساتھ لازم الاتصال قرار دیا ہے کہ جن میں افتراق و جدائی ممکن نہیں ہے۔ اور آپ نے فرمایا:
»وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَا أَنْ‏ تَقُولَ‏ طَوَائِفُ‏ مِنْ‏ أُمَّتِي‏ فِيكَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي ابْنِ مَرْيَمَ لَقُلْتُ الْيَوْمَ فِيكَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذُوا التُّرَابَ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْكَ لِلْبَرَكَةِ. « (1)
اور کبھی آپ نے حقیقت کی ترجمان اپنی معجزْ بيان زبان سے فرمایا:

»لَوْ أَنَّ الْبَحْرَ مِدَادٌ وَ الْغِيَاضَ أَقْلَامٌ وَ الْإِنْسَ‏ كُتَّابٌ‏ وَ الْجِنَّ حُسَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ« (2)

میدان جہاد میں آنحضرت نے اس مجاہد فی سبیل اللہ کو حق کا دفاع کرنے والوں میں سب سے اعلٰی کلمۃ اللہ، جنّ و انس کی عبادت سے افضل اور تمام امت قرار دے۔ پھر دوسرے لوگ آنحضرت کی مدح و ثناء میں کیا کہہ سکتے ہیں؟!
* غیروں کے کلام میں اميرالمؤمنين علی عليهالسلام کی عظمت

حقیقت یہ ہے کہ ان جملوں اور کلمات کے ذریعہ (کہ جن کے حروف کی تعداد انتیس سے زیادہ نہیں ہے)اس عظیم شخصیت اور خدا کے خاص و مخلص انسان کی مدح و ثناء اور توصیف و تمجید نہیں کر سکتے  کہ خداوند متعال نے قرآن کی متعدد آیات میں جس کی توصیف و مدح اور ستائش بیان کی ہو۔

وَ إن قَمِيصاً خيطَ مِنْ نَسْجِ تِسْعَةٍ * وَ عِشْـرينَ حَرْفاً عَنْ مَعاليهِ قَاصِرٌ

اس عظیم امام ، رہبر موحّدین، پیشواء مجاہدین، سیدالمتقین اور امیر المؤمنین کی مدح و ثناء جس قدر بھی بلند اور شائستہ ہو لیکن اس کے باوجود پھر بھی وہ آنحضرت کی عظمت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے۔

معاویہ کی مجلس میں اس کے اصرار اور درخواست پر اس طرح سے امام کی توصیف و تمجید کی گئی۔
«كَانَ وَ اللهِ‏ بَعِيدَ الْمُدَى‏ شَدِيدَ الْقُوَى يَقُولُ فَصْلًا وَ يَحْكُمُ عَدْلًا يَتَفَجَّرُ الْعِلْمُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَ تَنْطِقُ الْحِكْمَةُ مِنْ نَوَاحِيهِ يَسْتَوْحِشُ مِنَ الدُّنْيَا وَ زَهْرَتِهَا وَ يَسْتَأْنِسُ بِاللَّيْلِ وَ وَحْشَتِهِ كَانَ وَ اللهِ غَزِيرَ الْعَبْرَةِ طَوِيلَ الْفِكْرَةِ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ‏ وَ يُخَاطِبُ نَفْسَهُ وَ يُنَاجِي رَبَّهُ يُعْجِبُهُ مِنَ اللِّبَاسِ مَا خَشِنَ وَ مِنَ الطَّعَامِ مَا جَشِبَ كَانَ وَ اللَّهِ فِينَا كَأَحَدِنَا»(3)
بعض نے اس مختصر جملہ سے امام کو خراج عقیدت پیش کیا:إحتياجُ الكُلِّ إلَيْهِ وَ إسْتِغْنائُه عَنِ الكُلِّ دَليلٌ عَلى أنَّه إمَامُ الكُلِّ۔(4)

بعض نے آپ کے کلام کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہا:كَلامُهُ دُونَ كَلامِ الخَالِقِ وَ فَوْقَ كَلامِ الْمَخْلُوقينَ۔(۵)
اور بعض نے کہا:لَوْ لَا سَيْفُهُ لَمَا قَامَ لِلْإسْلامِ عَمُودٌ۔(۶)

آپ کی توصیف میں کسی نے کہا: قُتِلَ في مِحْرابِ عِبادَتِهِ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ۔(۷)
اور اس عیسائی شخص نے ان جملوں سے اس عظیم شخصیت اور وجود محمدی کے  یگانہ کمال کی جھلک کی توصیف و ستائش یوں بیان کی ہے۔

’’في عَقيدَتي اَنَّ عَليَّ بْنَ أَبي طالِب اَوَّلُ عَرَبِيّ لازَمَ الرُّوحَ الْكُلِّيةَ فَجاوَرَها وَ سامَرَها‘‘(۸)

اور اس شرف و عزّت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے:
اَلنّبِي الْــمُصْطَفى قالَ لَنا * لَيلَــة الْـمِعْراجِ لَمّا صَعِدَهُ * وَضَــعَ اللهُ عَلى ظَهْري يداً * فَاَرانِي الْقَلْــبَ اِنْ قَدْ بَرَّدَهُ * وَ عَلِيٌ واضِـــعُ رِجْلَيهِ لي * بِمَكان وَضَـعَ اللهُ يــدَهُ(۹)

ان میں سے ہر ایک  مورد میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے مناقب میں سے ایک منقبت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
* رسول خدا صلي الله عليه و آله کا عظیم معجزہ
خلاصۃ یہ کہ علی علیہ السلام  کی ذات ایک ایسا معجزہ ہے کہ جو خداوند متعال نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو عطا فرمایا۔ ایک ایسا معجزہ جو تمام گذشتہ انبیاء کے معجزوں سے عظیم اور حیرت انگیز ہے۔ یہاں یہ بجا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمایان بیان کیا جائے:
’’الصُّورَةُ الإنْسَانِيَّةُ هِيَ أكْبَرُ حُجَجِ اللهِ عَلى خَلْقِهِ وَ هِيَ الكِتابُ الَّذي كَتَبَه بِيَدِهِ وَ هِيَ الهَيْكَلُ الّذي بَناهُ بِحِكْمَتِهِ وَ هِيَ مَجْمُوعُ صُوَرِ العَالَمينَ وَ هِيَ المُخْتَصَرُ مِنَ العُلُومِ في اللَّوحِ الْمَحْفُوظِ‘‘(۱۰)

علی علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کے ذریعہ حقیقت و واقعیت بیان ہوتی ہے:بزرگ معتزلی عالم دین ابن أبي الحديد بھی ہمنوا ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

’’هُوَ النَّبَأُ الْمَكْنُونُ وَ الجَوْهَرُ الّذي * تَجَسَّدَ مِنْ نُورٍ مِنَ القُدْسِ زاهِــر * وَ وَارِثُ عِلْـمِ المُصْطَفى وَ شَقيقِه * أخاً وَ نَظيراً فِي العـلى و الأواصِر * وَ ذُو المُعْجِزاتِ الوَاضِـحاتِ أقلّها * الظُّهور عَلى مُسْتَـوْدِعاتِ السَّرائر * ألا إنَّما التَّوْحيدُ لَوْلا عُلــــومُهُ * كَعَــرْضَةِ ضِلّيــلٍ وَ نَهْبَةِ كافر‘‘(۱۱)
پس یہ ضروری ہے کہ زمين ادب کو چومیں، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اور حضرت صاحب الزمان ولی عصر، مالک امر مولانا المہدی ارواح العالمین لہ الفداء تک آپ کے تمام بزرگ فرزندوں کی ولایت کے لئے خداوند متعال کی حمد و ثناء کی جائے اور خدا کا شکر بجالایا جائے۔

اَلْحَمْدُللهِ الَّذي جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّكينَ بِولايةِ اَميرَالْمُؤْمِنينَ وَ الائِمَّةِ الْمَعْصُومينَ سِيّما خاتَمِهِمْ وَ قائِمِهِمْ صَلَواتُ اللهِ عَلَيهِمْ اَجْمَعينَ.

حوالہ جات:
1،۲۔ بحار الأنوار، جلد ‏40، باب 91، حديث 114.

۳۔ بحار الأنوار، جلد ‏41، باب 107، حديث 28.
۴۔ بغية الوعاة سيوطي، صفحه 243؛ تنقيح المقال مامقاني، جلد 1، صفحه 402، شماره 3769.
۵۔ شرح نهج البلاغة ابن أبي‌الحديد، جلد ‏1، صفحه 24.
۶۔ایضاً، جلد 12، صفحه 83.
۷۔ عیسائی مؤلف جارج جرداق کی کتاب’’الامام علي صوت العدالة الإنسانية‘‘ سے منقول
۸۔ جارج جرداق کی كتاب ’’الامام علي صوت العدالة الانسانية‘‘(جلد 1، صفحه 364.)میں عیسائی دانشور جبران خليل جبران سے منقول
۹۔ یہ اشعار شافعی سے منسوب ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئے ہیں منجملہ: تاريخ الخميس ديار بكري، جلد 2، صفحه 87؛ الغدير علّامه اميني، جلد 7، صفحه 12.

موضوع: 
Sunday / 18 September / 2016