جلسات سخنرانی ماه رمضان در مسجد امام حسن عسکری علیه‌السلام قم به اطلاع عموم روزه‌داران گرامی می‌رساند: به مناسبت فرارسیدن ماه مبارک رمضان، جلسه سخنرانی حجة الإسلام و المسلمین آقای حسینی قمی، در نیمه اول ماه مبارک رمضان بعد از نماز جماعت ظهر و عصر...
Sunday: 28 / 05 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار
اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار( بمناسبت محرام الحرام ۔۵)

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

 

موضوع: 
Thursday / 6 October / 2016