بسمه تعالی "قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْکُمْ شَهْرُ اللهِ بِالْبَرَکَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَة" به اطلاع مومنین می رساند به نظر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاته، شنبه (۶ خرداد) روز اول ماه مبارک رمضان می باشد...
Saturday: 27 / 05 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس
عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات

عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات

آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس

 

۱۔عاشورا؛امام حسین علیہ السلام  کا اپنے محبوب سے وصال کا دن تھا؛ پس پھر عزداری کیوں کریں؟

بعض لوگ کہتے ہیں: عاشورا کا دن اہلبیت علیہم السلام کے لئے خوشی و مسرت اور شادمانی کا دن ہے کیونکہ یہ دن امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی کامیابی و کامرانی اور پروردگار متعال سے آپ کے وصال کا دن ہے۔ اس دن عزاداری منانا اور افسوس کرنے کہ وجہ یہ ہے کہ ہم امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور مقام سے جاہل ہیں اور یہ دنیا سے ہماری محبت اور وابستگی کا نتیجہ ہے ۔ یہ نظریہ کس حد تک  درست ہے؟

 

أَلسَلامُ عَلَيْكَ يا أَبا عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنِ وَعَلَى الْأَرْواحِ الَّتي حَلَّتْ بفِنائِكَ.

قالَ الرِّضا(علیه السلام) : «إِنَّ يَوْمَ الْحُسَيْنِ أَقْرَحَ جُفُونَنا، وَأَسْبَلَ دُمُوعَنا... أَوَرثَتْنَا الكَرْبَ وَالْبَلاءَ إلی يَوْمِ الْإِنْقِضاءِ، فَعَلی مِثْلِ الْحُسَيْنِ فَلْيَبْكِ الْباكُونَ، فَإِنّ الْبُكاءَ عَلَيْهِ يَحُطُّ الذُّنُوبَ الْعِظامَ».(۱)

 

عاشورا کی عظمت

روز عاشورا؛ انسانی کرامت کی اوج کے ظہور کا دن ہے ۔اس دن معنوی درجات کی عظمت اپنی انتہا تک پہنچ گئی۔ اس دن سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے وجود سے جو جلیل القدر فضائل ( جیسے شرف، ایمان، اعلیٰ مکارم اخلاق ،صبر،استقامت، توکل ، شجاعت اور عزت  ۔۔۔)وجود میں آئے ہم زبان سے ان کی توصیف بیان کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔

 

لو لا صوارمھم و وقع نبالھم

لم یسمع الآذان صوت مبکر

قد غیر الطعن منھم کل جارحۃ

سوی المکارم فی امن من الغیر(۲)

أَشْهَدُ أَنَّهُ(علیه السلام)  بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِي اللهِ حَتَّی اسْتَنْقَذَ عِبادَهُ مِنَ الْجَهالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلالَةِ(۳)

جیسا کہ آپ نے کہا ہے:یہ دن ملائکہ مقربین پر افتخار و مباهات کرنے کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس کی عظمت و ہیبت کائنات کے پہاڑوں،كهكشاؤں اور منظومہ شمشی سے زیادہ وزین ہے ، جس نے عقلاء کی عقل کو مات دی اور حیران کر دیا۔پوری دنیا  اور زمین و آسمان سے زیادہ وسیع اس عظیم روح کے سامنے خاضع ہے لہذا ضروری ہے کہ ہر آگاہ انسان بلکہ سب لوگ اس دن پر افتخار کریں اور اور اس پر فخر محسوس کریں ۔یہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے مقام و عظمت کی وجہ سے ہے اور یہ بے نظیر قیام  مکمل طور پر افتخار  اور عظمت ہے کہ جس کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے جابروں کو شکست دی جا سکتی ہے اور انہیں تسلیم خم کیا جا سکتا ہے۔

سخت اور جانگداز مصائب کا دن

اهل‌بيت علیہم السلام کی جانب سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم کفار کے اس ظلم و بربریت، خدا کے دشمنوں کی ایسی شقاوت ( جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی)اور سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام پر کئے جانے والے ناقابل برداشت سخت مصائب کی مذمت کریں اور اس واقعہ کے مرتکب افراد سے بیزاری و نفرت کا اظہار کریں۔نیز عاشورا اور دیگر مناسبات کے دوران زیادہ سے زیادہ مجالس عزاء کا انعقاد کریں،نوحہ خوانی،سینہ زنی اور ماتم کریں۔

«اَللهُ أَكْبَرُ مَاذَا الْحَادِثُ الْجَلَلُ»(۴)کہیں اور جس طرح ، عقیلۃ القریش جناب زينب كبريٰ علیہا السلام نے فرمایا:

«لَيْتَ السَّمَاءَ أَطْبَقَتْ عَلَی الْأَرْضِ وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدَكْدَكَتْ، عَلَى السَّهْلِ»(۵)

جس قدر ہو سکے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے مصائب میں غمگین رہیں اور افسوس کا ظاہر کریں اور جب بھی پانی پیئیں تو امام حسین علیہ السلام پر درود و سلام بھیجیں۔ یہ سنت بھی ہے اور احترام و کریم بھی۔ روز حسین(علیہ السلام) مکتب ہے، مدرسہ ہے، مذہب ہے، انسان ساز  ہے، احیائے دین ہے، ظلم و ستم کو محکوم کرنے  اور حق و اسلام کی حمایت کا دن ہے۔

 

۲۔کیا تبرّی کو تولّی پر فوقیت حاصل ہے؟

یہ مسلم و قطعی ہے کہ تولی و تبری ایک دوسرے کا لازمہ ہیں یعنی ہر مسلمان جس قدر خدا اور اولیاء خدا سے تبرّی اور بیزاری رکھتا ہو اسی قدر تولی و محبت بھی ہونی چاہئے ۔ لعنت، تبری پر مشتمل ہے اور صلوات تولّی پر مشتمل ہے ۔لیکن ان میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہونے کے بارے میں کوئی قطعی ثبوت مشکل ہے۔ تحلیہ پر تخلیہ کے مقدم ہونے کے باب سے یہ کہہ سکتے ہیں تبرّی کامل کے بغیر تولّی کامل حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

(لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ )(۶)

 

۳۔کیا ائمہ اطہار علیہم السلام پر ظلم کرنے والوں پر تقیہ کے ضوابط کی رعائت کرتے ہوئے لعنت کرنا عبادت ہے؟

اگر یہ تقیہ کے برخلاف نہ ہو اور فساد پر مشتمل نہ ہو تو یہ راجح ترین عبادت ہے۔(۷)

 

 

حوالہ جات:

۱۔حضرت امام­­‌رضا علیه السلام  نے فرمایا: «بیشک روز حسين علیه السلام نے ہماری آنکھوں کو زخمی کیا ہے اور ہمارے آنسو جاری کئے ہیں... اور ہمیشہ کے لئے غم و اندوہ کو ہماری میراث قرار دیا ہے. پس امام حسین علیہ السلام پر رونے والوں کا اشک بہانا گناهان كبيره کو ختم کرتا ہے ». صدوق، الامالی، ص190 - 191؛ ابوالفرج اصفهانی، مقاتل­ الطالبیین، ص169؛‌ ابن­شهر‌آشوب، مناقب آل ابی­طالب، ج3، ص238؛ ابن‌طاووس، اقبال‌الاعمال، ج3،‌ ص28.

۲۔ اگران کی آگ برساتی تلواریں اور تیر اندازی نہ ہوتی،کان کبھی صدائے تکبیر نہ سن پاتے، نیزوں کے طعنوں نے ان کے اعضاء و جوارح کو بدل دیا ،صرف ان کے مکارم و اقدار متغیر ہونے سے امان میں رہے۔

۳۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں( حسين علیه السلام) نے راہ خدا میں  اپنا  خون پیش کیا تا  کہ بندگان الٰہی جهالت و سرگرداني  اور گمراهي سے نجات حاصل کریں.

۴۔اللہ اکبر؛یہ کیسا بڑا سانحہ و حادثہ ہے؟

۵۔ ابن ­طاووس،‌ اللهوف، ص73؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص54؛ بحرانی اصفهانی، عوالم‌العلوم، ص297. «اے كاش! آسمان زمين پر گر جاتا، اے کاش! پہاڑ صحرا میں تبدیل ہو جاتے(یعنی ریزہ ریزہ ہو جاتے».

۶۔ سورۂ مجادلہ،آیت ۲۲۔’’آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور اس  کے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرہ و قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں ،اللہ نے صاحبان ایمان ک ے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے‘‘

۷۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس

 

موضوع: 
Thursday / 6 October / 2016