صبح امروز همزمان با سالروز شهادت حضرت حمزه سیدالشهداء و حضرت عبدالعظیم حسنی علیهما السلام، مراسم سوگواری در دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی (مد ظله العالی) و با حضور معظم له  برگزار شد. در این مراسم که با حضور معظم له، علما،...
Tuesday: 25 / 07 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
احكام غير مسلمين

مصافحہ کرنا اور معاشرت
۱۔اہل کتاب کے ساتھ معاشرت اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟
ج. اهل كتاب کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار اور نجس است  اور اسے کھانا جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بناء پر وہ خود بھی نجس ہیں۔ اس بناء پر رطوبت کی حالت میں جو چیز بھی ان سے مس ہو وہ احتیاط کی بناء پر نجس ہو جائے گی. والله العالم.
۲۔ اگر عیسائیوں، یہودیوں اور ہندؤں کی اشیاء اور ان کے در و دیوار کو تر ہاتھ لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر اس جگہ کی نجاست کے بارے میں علم ہو تو ہاتھ کو پانی سے دھونا چاہئے اور اگر اس کا علم نہ ہو تو یہ ضروری نہیں ہے. والله العالم.
۳۔ اگر مسلمان کے علاوہ کسی اہل کتاب سے تر ہاتھ ملائیں تو کیا ہاتھ کو دھونا چاہئے یا نہیں؟
ج. باحتياط واجب کی بناء پر اپنے ہاتھ کو پانی سے دھوئیں. والله العالم.
۴۔ کیا زرتشتی مرد کا کسی مسلمان عورت سے نکاح موقت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. مسلمان عورت کا زرتشتی مرد سے نکاح کرنا باطل ہے چاہے وہ نکاح موقت ہی کیوں نہ ہو. والله العالم.
۵۔ کیا آپ کے فتوی کے مطابق زرتشتی تمام مسائل میں اہل کتاب سے ملحق ہیں مثلاً کیا وہ پاک ہیں اور کیا ان کی عورتوں اور لڑکیوں سے نکاح دائم اور نکاح موقت کرنا جائز ہے؟

ج. احتیاط کی بناء پر اہل کتاب کی طرح زرتشتی بھی نجس ہیں اور اس سے نکاح کے سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ اسے ترک کیا جائے چاہے یہ دائمی ہو موقت. والله العالم.

۶۔ اہل ذمہ کو دیکھنے، ان سے ازدواج اور ان کی طہارت و نجاست کا کیا حکم ہے؟
ج.کافرہ کے جسم کے ان حصوں کو لذت اور ریبہ کے بغیر دیکھنا جائز ہے جنہیں وہ اپنی عادت کے مطابق نہ چھپاتی ہوں۔ کتابیہ کے ساتھ نکاح موقت جائز ہے اور نکاح دائمی میں احتیاط کے خلاف ہے۔ اور میرے نظریہ کے مطابق اہل کتاب بھی احتیاط کی بناء پر نجس ہیں۔ والله العالم.
۷۔ کیا اهل كتاب اور كافر (جو آسمانی ادیان کا معتقد نہ ہو) سے متعہ جائز ہے؟
ج. اہل کتاب سے متعہ کرنا جائز ہے لیکن تمام کفار سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۸۔ ائمہ معصوم علیہم السلام اور امام زادوں کے حرام مقدس میں غیر مسلم اور اہلسنت حضرات کے جانے کا کیا حکم ہے؟

ج. اهلسنت کے جانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن کفار کے جانے میں اشکال ہے. والله العالم.
۹۔ خوزستان (ایران کا ایک شہر) میں صائبین کا ایک فرقہ ہے ، کیا وہ اہل کتاب ہیں؟ اور کیا وہ پاک ہیں یا نہیں؟

ج. ہمارے نزدیک صائبین کا اهل كتاب ہونا ثابت نہیں ہے. والله العالم.
صوفيه فرقہ
۱۰۔ صوفیہ اور ان کے عقائد کے بارے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
ج. صوفيوں کے مختلف فرقہ اور شاخیں ہیں اور انحراف کے لحاظ سے سب یکساں نہیں ہیں، ممکن ہے کہ ان میں سے بعض دائرہ اسلام سے خارج شمار نہ ہوں۔ مجموعی طور پر وہ منحرف ہیں اور ان کے مخصوص عقائد غیر اسلامی ہیں. والله العالم.
۱۱۔غلاة ،مجسمه، مجبره اور صوفيه (جنہیں مرحوم سید نے عروه میں بيان فرمایا ہے) کے مسئلہ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. مجھ حقير کا بھی وہی نطریہ ہے جو ہمارے استاد اعظم زعیم اکبر آیت اللہ العظمی بروجردی تھا اور جو مرحوم سيد صاحب عروه اعلي‌الله مقامه کے مطابق مطابق ہے۔اس کے علاوہ میں مؤمنين کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کفر اور کافر کے احکام کے آثار پر اسی طرح سے عمل کریں جیسا کہ عروۃ میں بیان ہوا ہے ، نیز ان کے ساتھ معاشرے ، میل جول اور اٹھنے بیٹھنے اور بالخصوص ازدواج اور رفاقت و دوستی سے پرہیز کریں کہ اس کے سنگین خطرات اور بزرگ نقصانات و مفاسد ہیں. والله العالم.
۱۲۔ بهائيت اور تصوّف سے برتاؤ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. کلی طور پر مساعدتی اور موافقت آمیز برتاؤ اور فرقہ ٔ ضالہ (گمراہ فرقہ) کی ترویج اور اس کی تقویت کا باعث بننے والا ہر ارتباط و تعلق جائز نہیں ہے اور ان سے میل جول اور اٹھنے بیٹھنے کو ترک کرنا لازم ہے. والله العالم.
۱۳۔ کیا ردویشوں اور صوفیہ کی خانقاہوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری اور مرثیہ سننے کے لئے جانا اور وہاں فاتحہ خوانی وغیرہ میں شرکت کرنا جائز ہے؟

ج. یہ باطل کی ترويج ہے اور جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۴۔ کیا درویشوں کی کانقاہوں کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان سے ہر قسم کی جنسی مدد کا کیا حکم ہے؟

ج. خانقاہ کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان کے مسلک اور عقیدہ سے منسلک ہر قسم کی جنسی مدد کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۵۔ کیا صوفیہ کی مجالس میں شریک ہونا اور ان سے کوئی جنس خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. ان کی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے اور اگر ان سے کوئی جنس خریدنا ان کی تقویت کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۶۔ میں اس مسئلہ کے شرعی حکم کو نہیں جانتا تھا اور میں نے علی اللہی فرقہ کی ایک خاتون سے شادی کر لی اور اس مدت کے دوران وہ اپنے خاص مذہب کی وجہ سے ہمار شرعی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے پابند نہیں ہیں، لہذا وہ نماز نہیں پڑھتی، روزہ نہیں رکھتی، اور تمام شرعی احکام کو انجام نہیں دیتی اور اپنے فرقہ کی پیروی کرتی ہے۔ کیا ہماری شادی صحیح ہے یا نہیں؟

اگر شادی باطل ہے تو پھر مہر اور اس کے تمام حقوق کا کیا حکم ہے؟ اور ہمارے بچوں کے لئے کیا حکم ہے؟

ج. کلی طور پر مذکورہ سوال جیسے مسائل میں اگر بیوی واقعاً امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو اللہ سمجھتی ہو تو یہ شادی باطل ہے اور شوہر کا اس سے علیحدہ ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں ہے اور چونکہ شوہر نہیں جانتا تھا اور اس نے شادی کیا لہذا اس سوال کی رو سے بچے باپ سے ملحق ہوں گے اور شرعی طور پر وہ بچہ حلال زادہ ہیں۔ اور چونکہ اس بیوی پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے لہذا اسے مہر ادا کرنے لے لزوم کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی. والله العالم.
۱۷۔ کیا خود کو اہل حق کا نام دینے والا فرقہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اگر کوئی مسلمان اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا اس مسلمان سے قصاص لینا جائز ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھتے ہیں یا ضروریات اسلام میں سے کسی ایک کے منکر ہوں ،ان پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ کسی مسلمان کو کافر کے قتل کی وجہ سے قصاص نہیں کر سکتے لیکن حاکم شرع موازین کے مطابق قاتل پر تعزیر کا حکم لگا سکتا ہے. والله العالم.
۱۸۔ «علي اللهي» فرقہ؛ جو اهل حق کے نام سے مشہور ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ملک کے مختلف شہروں جیسے ہمدان، کرمانشاہ، سنندج، کنگاور اور ان شہروں سے ملحقہ دیہاتوں میں آباد ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ نہ تو اصول دین کے معتقد ہیں اور نہ ہی فروع دین کے اور یہ لوگ نہ ہی اسلامی احکام جیسے غسل وغیرہ پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ شادی کرنے، کھانا کھانے،معاشرت اور میل جول کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر مذکورہ فرقه اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھے یا ضروریات دین جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے منکر ہوں تو وہ کافر ہیں اور واضح ہے کہ اس صورت میں ان سے شادی کرنا جائز نہیں ہے اور باطل ہے اور اگر وہ لوگ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو خدا نہ سمجھیں اور ضروریات دین کا انکار بھی نہ کریں تو پھر بھی ان میں عقیدتی و اخلاقی اور عملی لحاظ سے متعدد انحرافات پائے جاتے ہیں لہذا ان سے شادی کرنے میں اشکال ہے بلکہ اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ جی ہاں!ان میں سے جو لوگ شہادتین کے قائل ہوں نیز وہ ضروریات دین کا انکار اور باطل عقائد کا اقرار بھی نہ  کرتے ہیوں  تو وہ محقون الدم ہیں یعنی ان کی جان ،مال اور عرض محترم ہے. والله العالم.
فرقه ضالّه بهائيت

۱۹۔فرقۂ بہائی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ خرید و فروخت، لوازمات زندگی کو کرایہ پر یا عاریہ کے طور پر دینے اور ان کے تحائف قبول کرنے کے بارے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہےَ
ج. اگر مذکورہ امور ان کی تقویت کا باعث ہوں تو یہ جائز نہیں ہیں ‎‎والله العالم.
۲۰۔ بہائیت جیسے گمراہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرنے، ان سے ہاتھ ملانے اور دوستی کا اظہار کرنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟
ج. بہائی سے دوستی کا اظہار کرنا اور اس سے ہاتھ ملانا اور دیگر صورتیں جائز نہیں ہیں. والله العالم.
كتب ضالہ (گمراہ کرنے والی کتابیں)
۲۱۔ایسی کتابیں پڑھنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے جو اگر انسان ذہن کی وسعت کے لئے جاسوسی کی کتابیں پڑھے کہ جو اپنی طاقت کو دوسروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایسی کتابیں جو کسی جاسوس نے لکھی ہوں۔ نیز یہ بھی جانتے ہوں کہ اس کچھ غیر اخلاقی نکات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں آپ جناب اپنا نظریہ بیان فرمائیں۔

ج. اس بارے میں مختلف موارد ییں لہذا ہر کتاب کے بارے میں الگ سے سوال کیا جائے تا کہ اسی کے بارے میں جواب دیا جائے لیکن کلی طور پر جو کتابیں مطالعہ کرنے والے کے عقیدہ یا اخلاق میں انحراف کا باعث ہوں ان کتابوں کا مطالعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله ‎العالم.
 

۲۲۔کیا غیر اسلامی کتابیں پڑھنا جیسے بہائیت، کیمونیسم  اور دوسرے مذاہب کی کتابیں پڑھنا حرام ہے یا نہیں ہے؟
ج. کتاب ضلال کی حفاظت کرنا اور انہیں پڑھنا حرام ہے مگر یہ ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو حق کو باطل سے تشخیص دینے کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کی غرض ( مثلاً باطل نظریات کو رد کرنا) صحیح ہو. والله العالم.
۲۳۔ کتابوں کے ضلال ومضل ہونے کا معیار کیا ہے؟
ج.کتابوں کے مضل و ضلال ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ ایسے مطالب پر مشتمل ہوں کہ جو قاری کو مذہبی لحاظ سے گمراہ کرنے کا باعث ہوں۔. والله العالم.
۲۴۔ صوفيه کتب کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. صوفیہ کتب کو چھاپنا، ان کی نشر و اشاعت،  انہیں خريدنا،ان کی حفاظت اور ان کا  مطالعه كرنا حرام ہے  اور ان کی کتابیں کتب ضلال کا حکم رکھتی ہیں کہ جن کا مطالعہ صرف اہل نظر کے لئے ان کے باطل کو ابطال کرنے کی رو سے جائز ہے. والله العالم.

موضوع: 
استفتائاتموضوعی
Tuesday / 15 November / 2016