بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
دوشنبه: 20/آذر/1396 (الاثنين: 22/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
ملکۂ صبر و شجاعت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کی ایک تحریر

 

زینب؛ جی ہاں زینب، چار حروف پر مشتمل ایک اسم،لیکن یہ انسانیت کے ان تمام فضائل اور اقدار کا مجموعہ ہے جو خداوند کریم نے سورۂ احزاب کی پینتیسویں آیت میں عورتوں اور مردوں کے لئے شمار کئے ہیں۔

یہ ذات ایمان، علم و معرفت،صبر و صداقت اور استقامت و شجاعت کا اسوہ و نمونہ ہے، اور یہ وہ خاتون ہے جو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زبان اور مکارم اخلاق کے لحاظ سے اپنی ماں جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی اوصاف کی حامل ہے۔ اس ہستی پر صرف مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ پوری امت اسلام(چاہے خواتین ہوں یا مرد) نازاں ہے۔

اس ہستی کی سیرت،حجاب، عصمت و عفّت، عبادت اور عظمت و بزرگی سب افتخارانگیز ہیں۔ آپ بلند مرتبہ اور اعلیٰ منزلت پر فائز ہیں اور آپ نے ہمیشہ اسلام کی حمایت اور دینی اقدار کا دفاع کیا۔ نیز آپ نے تاریخ کے مستکبرین کی حکومت پاش پاش کر دیا اور اس طرح سے زمانے کے مستکبرین کا سر کچل دیا کہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا کوڑا دان بنی امیہ کا مقدر بن گیا ، اور انہیں دنیا کی نظروں میں نفرت انگیز اور تمام حریت پسندوں کی نظر میں لعنت و نفرت کا مستحق قرار دے دیا۔

حق یہ ہے کہ اس ذات اقدس نے اسلام کی عظمت، بنی ہاشم کی شان و شوکت اور افتخارات، اپنے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید کی پاسداری کی، اسلام و قرآن اور دین و توحید سب اس ہستی کے شکرگذار ہیں۔ اگر یہ ذات نہ ہوتی تو تاریخ کس طرح اوراق میں ثبت ہوتی، اس چیز کا تصوریقیناً بہت وحشت انگیز اور خوفناک ہے۔

دور حاضر میں مرد اور خواتین سب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مکتب سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ اس عظیم الشأن خاتون نے اپنے جاہ و جلال سے شجاعانہ طور پر اسلام اور قرآن کا دفاع کیا اور باطل، ظلم، الحاد، استبداد اور جبر و ستم کو سرنگوں کیا اور حق کے پرچم کو سربلند کیا۔ آج دنیا آپ کی حیات اور سیرت سے درس لینے کی محتاج ہے۔

امید ہے کہ آج کی مسلمان خواتین حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں اور اپنے تمام دینی ع شرعی امور میں اسلام کی اس عظیم خاتون سے درس لیں اور  دنیا کے سامنے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اور اسوہ پر افتخار کرتے ہوئے اس ہستی  کے ولائی اور معنوی پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ اور ہم آخر میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شان میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

يكشنبه / 17 بهمن / 1395