بسم الله الرحمن الرحيم اللّهم صلّ علي الصديقة الطاهرة سيدة نساء العالمين و علي أبيها و بعلها و بنيها و الائمة المعصومين من ذرّيّتها سيّما بقيّة الله في الأرضين. ميلاد مسعود يگانه بانوي جهان، سيّده زنان عالم را به پيشگاه مقدّس کهف امان و صاحب دوران...
Sunday: 26 / 03 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
ٹیٹو (Tattoo) بنوانے اور مصنوعی ناخن لگوانے کا شرعی حکم

 

س۔ عورتوں کے لئے مصنوعی ناخن لگوانے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ ایسے مصنوعی ناخن لگوانا شرعی طور پر جائز نہیں ہیں جنہیں وضو یا غسل کرتے وقت نکالا نہ جا سکتا ہو لیکن اگر  کوئی یہ عمل انجام دے چکا ہو( یعنی کسی نے ناخن لگوا لئے ہوں) تو  اس صورت میں اگر ممکن ہو تو انہیں نکال دے تا کہ معمول کے مطابق وضو اور غسل انجام پا سکے اور اگر انہیں نکالنا ممکن نہ ہو  تواسي حالت میں جبیرہ  کے عنوان سے وضو اور غسل انجام دے اور احتیاط کے طور پر تیمم بھی کرے۔

 

س) ہونٹوں یا بھنووں پر ٹیٹو(Tattoo) بنوانے کا کیا حکم ہے؟

ج ۔  اگر  مذکورہ عمل وضو یا غسل کے دوران پانی  كھال تك پہنچنے ميں مانع نہ ہو تو اس میں كوئي حرج نہيں ہے البتہ چونكہ يہ عمل زینت شمار ہوتا ہے لہذا اسے نامحرم سے چھپانا ضروری ہے ۔

 
 
موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
Sunday / 26 February / 2017