بي‎ترديد كساني كه مي‎خواهند اسلام را در آينه اعمال و رفتار اجتماع مسلمانان اين عصر ببينند و آن جمال نوراني و خورشيد جهان تاب را در چنين منظر و آيينه تيره و تار زيارت كنند، سخت در اشتباه‌اند. اگر تصوير چهره اسلام ممكن بود و يك نفر آگاه به تمام...
Friday: 23 / 06 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
سحر و جادو کے متعلق ایک سوال کا جواب

 

بسمه تعالي

محضر مبارک مرجع عاليقدر شيعيان عالم حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني مدظلہ العالي؛

السلام علیکم

 چند ماہ قبل میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو اس بات کا دعويدار تھا کہ اس کا جنات سے رابطہ ہے ، اس نے مجھ سے کہا کہ ميري زندگي کي تمام مشکلات اس وجہ سے ہيں کہ مجھ پر جادو کر ديا گيا ہے اور اس نے مجھے ايک دعا بھي تعلیم دی  اور مجھ سے یہ عہد کیا کہ اس سے مجھ پر ہونے والا طلسم اور جادو ختم ہو جائے گا ۔ اس نے چند اذکار و اوراد پڑھنے اور شيطان سے متوسل ہو کر اس کي مدح و ستائش کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ اب مجھ پر ہونے والا طلسم اور جادو ختم ہو گیا ہے۔ اب میرا یہ سوال ہے کہ طلسم اور جادو کی کوئي حقيقت ہے ؟ اور اگر اس کی کوئی حقيقت نہيں ہے بلکہ صرف دعویٰ  ہے تو پھر ايسے افراد کے ساتھ رابطہ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ شکريہ 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة‌الله

 اگر سحر و جادو کی کوئی حقیقت ہو بھی تو موجودہ دور میں جو لوگ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ،وہ صرف اس کے دعویدار ہی ہیں اور کسی پر طلسم اور جادو نہیں ہوتا اور مؤمن کو ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔

اس بات کی جانب توجہ رہے کہ انسان کی شخصیت کو بنانے میں معاشرت اور ہمنشینی کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے لہذا مکمل دقت اور توجہ کرتے ہوئے ایسے افراد کی صحبت اور ہمنشینی اختیار کریں  کہ جن کی صحبت سے آپ کو روحانی و معنوی فائدہ ہو۔علمائے اعلام ، اہل تقويٰ ،زاہد ، پرہيزگار، ضعیف العمر اور تجربہ کار لوگوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے سے عقل، دين اور ايمان ميں اضافہ ہوتا ہے  اور اس کے بر خلاف فکري اعتبار سے منحرف لوگوں کي صحبت بہت ہي مضر اورنقصان دہ  ہوتی ہے ، اور انسان کی روح اور معنوي امور کے لئے برے لوگوں کي صحبت کا خطرہ زہر سے بھی زيادہ ہے ۔ 

اس لئے ايسے افراد کےمحافل اور جلسات ميں شرکت  کرنے سے   سخت پرہيز کريں اور  اس کے برخلاف مذہبي مواعظ  پر مبنی محافل و مجالس ،علماء کی صحبت، دعا  وتلاوت قرآن کی محافل اور ایسی مجالس کو غنیمت شمار کریں کہ جن میں فضائل و مناقب اہلبيت علیہم السلام  بيان ہوتے ہوں ۔ مومن کو چاہئے کہ وہ  اپني دعاؤں کي قبوليت کے لئے اہلبيت عصمت و طہارت علیہم السلام کے دامن سے متوسل ہو اور خداوند سبحان سے اپني حاجت طلب کرے ۔  انشاء اللہ کامیاب و کامران رہیں۔ 

۱۵ رجب المرجب ۱۴۳۲ ہجری

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
Sunday / 26 February / 2017