شب قدر، شب نور، رحمت و شب نزول قرآن و مَطلع خیرات و سعادات، و هنگام نزول بركات و سرآغاز زندگی نوین بشر و مبدأ تحوّل و تاریخ كمال واقعی انسان‎هاست. * شب قدر، شب آزادی بشر شبی كه اگر نبود و نیامده بود، شب تیره بدبختی انسان به پایان نمی...
Friday: 23 / 06 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
مہمان الٰہی

حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کے تمام پیروکاروں کوماہ رجب المرجب کی آمد اور امام محمد باقر علیہ السلام کا میلاد مسعود مبارک ہو۔

نورانی کلمات

* قالَ الاْمامُ الباقر عليه السلام: إذا أرَدْتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فيكَ خَيْراً، فَانْظُرْ إلي قَلْبِكَ فَإنْ كانَ يُحِبُّ أهْلَ طاعَةِ اللّهِ وَ يُبْغِضُ أهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَفيكَ خَيْرٌ وَ اللهُ يُحِبُّك، وَ إذا كانَ يُبْغِضُ أهْلَ طاعَةِ اللهِ وَ يُحِبّ أهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَلَيْسَ فيكَ خَيْرٌ وَ اللهُ يُبْغِضُكَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أحَبَّ۔

امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا: اگر تم یہ جاننا چاہو کہ کیا تمہارے وجود میں خیر ہے یا نہیں تو اپنے باطن پر نظر ڈالو ۔ پس اگر تم خدا کی عبادت اور اطاعت کرنے والوں سے محبت کرتے ہو اور خدا کی معصیت کرنے والوں کو پسند نہ کرتے ہو تو تم میں خیر و سعادت موجود ہے اور خدا تم سے محبت کرتا ہے، اور اگر تم خدا کی اطاعت کرنے والوں کو پسند نہ کرتے ہو اور خدا کی معصیت کرنے والوں سے محبت کرتے ہو تو پس تم میں خیر و خوبی نہیں ہے اور خداوند تمہیں دشمن رکھتا ہے۔ اور انسان اسی کے ساتھ محشور ہوتا ہے جس سے وہ عشق اور محبت کرتا ہے۔

(وسائل الشّيعة، ج16، ص183، ح1)

* قالَ الامامُ الباقر عليه السلام: مَنْ ثَبَتَ عَلي وِلايَتِنا فِي غيْبَةِ قائِمِنا، أعْطاهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ اَجْرَ ألْفِ شَهيد مِنْ شُهَداءِ بَدْر وَ حُنَيْن؛

امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا: جو شخص ہمارے قائم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانۂ غیبت میں ایمان اور ہم اہلبیت عصمت و طہارت کی ولایت پر قائم اور ثابت قدم رہے؛ خداوند عزوجل اسے جنگ بدر و حنین کے ہزار شہداء کے برابر اجر عطا فرمائے گا۔

 (إثبات الهداة، ج3، ص467)

* قالَ الاْمامُ الباقر عليه السلام: مَنْ دَعَا اللهَ بِنا أفْلَحَ، وَ مَنْ دَعاهُ بِغَيْرِنا هَلَكَ وَ اسْتَهْلَكَ۔

 امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا:جو شخص خدا سے ہمارے وسیلہ سے دعا کرے اور ہمیں واسطہ قرار دے وہ کامیاب اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی ہم اہلبیت کے علاوہ کسی اور کو وسیلہ قرار دے وہ ناامید اور ہلاک ہو گا۔

(أمالي شيخ طوسي، ج1، ص175)

 

ماہ رجب کی پہلی رات اور پہلے دن کے ذریعہ زاد راہ کا حصول

ماہ رجب کی پہلی شب
ماہ رجب کی پہلی رات مبارک اور محترم رات ہے اور اس کے کچھ اعمال ہیں:

۱۔ جب ماہ رجب کا چاند دیکھو تو کہو:
اَللّهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنا بِالاْمْنِ وَالاْيمانِ وَالسَّلامَةِ وَ الاْسْلامِ رَبّى وَر َبُّكَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ؛

 پروردگارا! اس چاند کو ہمارے لئے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کا چاند قرار دے دینا.اے چاند میرا اور تیرا دونوں کا پروردگار وہی خدائے عزوجل ہے۔

نيز حضرت رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم سے منقول ہے کہ جب آپ ماہ رجب کا چاند دیکھتے تو فرماتے:

اَللّهُمَّ بارِكْ لَنا فى رَجَبٍ وَشَعْبانَ وَبَلِّغْنا شَهْرَ رَمَضانَ وَاَعِنّا عَلَى الصِّيامِ وَالْقِيامِ وَحِفْظِ اللِّسانِ وَغَضِّ الْبَصَرِ وَلا تَجْعَلْ حَظَّنا مِنْهُ الْجُوعَ وَالْعَطَشَ؛

خدايا! ہمیں ماہ رجب و شعبان کی برکت عنایت فرما اور ہمیں ماہ رمضان تک پہنچا دے اور اس کے صیام و قیام اور اس زمانے میں اپنی زبان کو محفوظ رکھنے اور نگاہوں کو نیچے رکھنے میں ہماری مدد فرما، اور ماہ رمضان میں ہمارا حصہ صرف بھوک اور پیاس ہی نہ ہونے پائے۔

۲۔ غسل

۳۔ زيارت حضرت امام حسين عليه السلام

۴۔ مغرب کے بعد بیس رکعت نماز بجا لانا کہ جس کی ہر رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ توحید پڑھی جائے اور ہر دو رکعت کے بعد سلام بجا لائیں تا کہ آپ اور آپ کے اہل و عیال، مال اور اولاد محفوظ رہے اور عذاب قبر سے امان میں رہیں اور صراط سے حساب و کتاب کے بغیر گذر جائیں۔

۵۔ نماز عشاء کے بعد دو ركعت نماز بجا لائیں کہ جس کی پہلی رکعت میں سورۂ ایک مرتبہ حمد اور سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ اور تین مرتبہ سورۂ توحيد پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورۂ حَمد، سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ ،سورۂ توحيد اور مُعَوَّذَتَيْن (یعنی سورۂ فلق اور سورۂ الناس) پڑھیں اور نماز کے سلام کے بعد تیس مرتبہ لا اِلهَ اِلا اللهُ پڑھیں اور تیس مرتبہ صلوات بھیجیں تو خداوند متعال اس کے گناہوں کو اس طرح سے بخش دے گا جیسے وہ ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔

حضرت امام جعفرصادق عليه السلام نے فرمایا: حضرت اميرالمؤ منين عليه السلام پورے سال کی چار راتوں میں شب بیداری کرنا پسند کرتے تھے تا کہ ان راتوں میں عبادت کریں اور وہ چار راتیں یہ ہیں: ماہ رجب کی پہلی رات، نيمۂ شعبان کی رات، شب عيد فطر اور شب عيد قربان۔
حضرت امام محمَّد تقی عليه السلام نے فرمایا:مستحب ہے کہ ہر شخص ماہ رجب کی پہلی رات میں عشاء کے بعد یہ دعا پڑھے:

اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِاَنَّكَ مَلِكٌ وَاَنَّكَ عَلى كُلِّشَىْءٍ مُقْتَدِرٌ وَاَنَّكَ ما تَشاَّءُ مِنْ اءَمْرٍ يَكُونُ اَللّهُمَّ اِنّى اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِىِّ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ يا مُحَمَّدُ يا رَسُولَ اللّهِ اِنّى اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلَى اللّهِ رَبِّكَ وَرَبِّى لِيُنْجِحَ بِكَ طَلِبَتى اَللّهُمَّ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ وَالاْئِمَّةِ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ اَنْجِحْ طَلِبَتى؛

خدايا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو بادشاہ و فرمانروا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے اور تو جو کام چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ خدایا! میں تیرے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں۔ اے محمد! اے رسول خدا! میں آپ کے ذریعہ اس خدا کی طرف متوجہ ہوں جو میرا اور آپ کا دونوں کا پروردگار ہے تا کہ آپ کے وسیلہ سے میری حاجتوں کو پورا کر دے۔ خدایا! میں تمہارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی اہلبیت کے ائمہ کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ان کے واسطہ سے میری حاجتوں کو پورا فرما۔

پھر اپنی حاجات طلب کریں۔

ماہ رجب کا پہلا دن

یہ ایک مبارک دن ہے کہ جس میں ان اعمال کو بجا لانے کی تاکید ہوئی ہے:

۱۔ روزه رکھنا

روايت ہوئی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اسی دن کشتی پر سوار ہوئے اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور جو شخص بھی اس دن روزہ رکھے گا خداوند عالم آتش جہنم کو اس سے ایک سال  کے فاصلہ تک دور کر دے گا۔

۲۔ غسل

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: جو شخص ماہ رجب کو درک کرے اور اس کے پہلے ،درمیانی اور آخری دن غسل کرے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے جیسے وہ شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔

۳۔ زيارت امام حسين عليه السلام

امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا:

بیشک خدا اس شخص کو بخش دے گا جو شخص یکم رجب کو امام حسين بن على عليہماالسَّلام کی زیارت کرے۔

۴۔ نماز حضرت سلمان رضي الله عنه: دس رکعت نماز پڑھیں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھیں اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد اور تین مرتبہ سورۂ توحید اور تین مرتبہ سورۂ قُلْ يا اَيُّهَا الْكافِرُونَ پڑھیں اور ہر سلام کے بعد ہاتھ اٹھائیں اور کہیں:لا اِلهَ اِلا اللّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيى وَيُميتُ وَهُوَ حَىُّ لا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَىْءٍ قَديرٌ اَللّهُمَّ لا مانِعَ لِما اَعْطَيْتَ وَلا مُعْطِىَ لِما مَنَعْتَ وَلا يَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ؛

خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ فرمانروائی اسی کے لئے ہے اور حمد و ستائش اسی سے مخصوص ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ایسا زندہ ہے کہ جسے کبھی موت نہیں آ سکتی۔  ہر خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ خدایا! جسے تو عطا کرے اس کے لئے کوئی مانع نہیں ہے اور جسے تو منع کرے اس کے لئے کوئی عطا نہیں ہے۔ اور کوشش کرنے والے شخص کی سعی و کوشش اسے تجھ سے بے نیاز نہیں کر سکتی۔

پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیریں اور اپنی حاجات طلب کریں۔ اس نماز کے کثیر فوائد ہیں لہذا اس سے غفلت نہیں ہونی چاہئے۔

ماہ رجب کی آمد کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحيم

سلام ہو ماه رجب پر، سلام ہو رجبيون پر، سلام و تحيّات روزہ داروں پر، اور اعتکاف کرنے والوں پر خدا کی رحمت و مغفرت ہو، سلام ہو«أين الرجبيون» کی آواز پر لبّيك کہنے والے عزیزوں  پر ؛ جو خداوند متعال کے دسترخوانِ رحمت پر بیٹھ کر اس کی بیکراں نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ اور  وہ خود پر فخر اور اس عظیم سعادت پر افتخار کرتے ہوئے خدائے منّان کا شکر بجا لائیں.

دنیا کی کس لذت کا ان عظیم معنوی حالات کی لذتوں سے موازنہ کر سکتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو مادی عیش و عشرت، گناہ سے آلودہ تفریح اور دنیا کی جلد ہی گذر جانے والی لذتوں کی فکر میں گم ہیں؟ اين الملوك واين ابناء الملوك؟ کیا خداوند کریم کے قرب اور انسانیت کے اعلی مقام پر پہنچنے کے لئے کسی مادی ارزش و اہمیت کو معین کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں؛ پس اس مقام پر ہمیں قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی توجہ اور تدبر کے ساتھ تلاوت کرنی چاہئے:

يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله و للرسول اذا دعاكم لما يحييكم؛

 اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری حقیقی زندگی ہے۔

جی ہاں! یہ ہے حقیقی حیات، اور یہ معنویت، پاکیزہ روح، تزکیۂ نفس اور تقرب الٰہی سے سرشار زندگی۔

خود کو خدا کی طرف سے معین کردہ ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے آمادہ کریں اور ہم پیغمبر رحمت حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:

دور حاضر میں آپ کے بارہویں فرزند ارجمند امام عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف پردۂ غيب میں ہیں اور ہم سب ـ بالخصوص جوان اور روزه‌دارـ اپنے پورے وجود سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک فداکار اور ہمیشہ تیار رہنے والے سپاہی کی اسلام کے نورانی احکام اور اہلبیت علیہم السلام کے غنی معارف کی حمایت کرتے ہوئے اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں گے اور اپنے معاشرے میں امر بہ معروف اور نہی از منكر انجام دیں، بدعتوں اور دین سے منحرف کرنے والے امور کا مقابلہ کریں اور قطلب عالم امکان حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور مسرور تک اس افتخار کو محفوظ رکھیں۔

عزیزو! ان قیمتی لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے  اور دوسرے افراد کے لئے، اسلامی ممالک کی اسلام دشمن عناصر سے نجات اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی کامیابی اور سربلندی کے لئے دعا کریں اور خداوند متعال سے حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔

اللهم عجّل فرجه و قرّب زمانه واجعلنا من اعوانه و انصاره آمين رب العالمين

لطف الله صافي

سنہ1429  ہجری
 

ليلة الرغائب؛ آرزؤوں کی شب

ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ  کو ليلة الرَّغائب کہا جاتا ہے: یعنی آرزؤوں کی رات۔

اس عظیم اور بافضیلت رات میں اس کی مخصوص نماز ادا کرکے معبو کی بارگاہ میں توبہ و انابہ، عجز اور استغاثہ کریں اور اپنے محبوب کے در پر جانے میں جلدی کریں اور خدائے رحمان و رحیم سے دعا کریں اور حاجات طلب کریں۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ ہمارے مولا امام زمانہ ارواحنا فداه کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ غیبت و انتظار کے سخت زمانے میں ایک لمحہ کے لئے بھی ہمارے ایمان و یقین کو متزلزل نہ  ہونے دے۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ ہمیں اپنے دین اور اپنے ولیِ مطلق امام عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف کی اطاعت پر ثابت قدم رکھے
خدائے بزرگ و برتر سے ولی خدا اور ان کے شیعوں کے امور کی اصلاح طلب کریں۔

خدائے بزرگ و برتر سے اپنی حاجات طلب کریں۔

لیکن کیا خدا نے خود دعا مستجاب کرنے  کا وعدہ نہیں کیا:

’’(اے پیغمبر)اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو  میں ان سے قریب ہوں۔ پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے‘‘

پس خدا کو اس کی رحمت، لطف و کرم، رحمانیت، علم اور اس کی قدرتِ واسعہ کے ذریعہ پکاریں اور جان لیں کہ وہ ہم سے نزدیک ہے؛ بہت نزدیک، سب سے نزدیک ہے۔

نمازِ ليلة الرغائب (ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ) کی فضیلت

حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم نے اس رات کی بہت اہم نماز کی تاکید فرمائی ہے کہ جس کی بڑی فضیلت ہے: اس نماز کی وجہ سے بہت سے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور حاجتیں روا ہوتی ہیں۔

پيغمبر اسلام صلي الله عليه و آلہ و سلم نے فرمایا:

مجھے قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! خدا کے بندوں اور کنیزوں میں سے کوئی ایسا بندہ یا کوئی ایسی کنیز نہیں ہے جو یہ نماز بجا لائے لیکن خدا اس کے گناہوں کو نہ بخشے۔ اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی وسعت، ریت کے ذرات، پہاڑوں کی سنگینی اور درخت کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز وہ روز قیامت اپنے رشتہ داروں میں سے ستر ایسے افراد کی شفاعت کرے گا کہ جو آتش جہنم کے مستحق ہوں۔

اور جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا تو جب قبر کی پہلی رات ہو گی تو پروردگار اس کے ثواب کو حسین ترین شکل اور نورانی چہرہ کے ساتھ فصیح زبان دے کر بھیج دے گا اور وہ اس سے کہے گا کہ میرے محبوب تجھے بشارت ہو کہ تو نے ہر سختی اور غم سے نجات حاصل کر لی ہے اور وہ گبھرا کر پوچھے گا کہ میں نے تجھ جیسا کوئی حسین نہیں دیکھا اور نہ ہی ایسا شیرین کلام کبھی سنا ہے اور نہ ہی ایسی خوشبو کبھی محسوس کی ہے اور تو کون ہے؟ وہ کہے گا کہ میں اس نماز کا ثواب ہوں جو تو نے فلاں سال ماہ رجب کی فلاں رات میں انجام دی تھی۔ اب میں آیا ہوں کہ  تیرے حق کو ادا کر دو اور تیری تنہائی کا مونس بنوں اور تیری وحشت کو زائل کروں اور جب روز قیامت صور پھونکا جائے تو تیرے سر پر سایہ فگن رہوں۔ خوشحال ہو جاؤ کہ اب کوئی خیر تم سے زائل نہیں ہو گا۔

اس رات کی نماز کی کیفیت:

اس نماز کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ماہ رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھیں اور جب شب جمعہ ہو جائے تو نماز مغرب و عشاء کے درمیان بارہ رکعت نماز بجا لائیں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھیں ۔
ان بارہ رکعتوں میں ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد  اور تین مرتبہ سورہ اِنّا اَنْزَلْناهُ اور بارہ مرتبہ سورهٔ قُلْ هُوَ اللّهُ اَحَدٌ پڑھیں۔

نماز سے فارغ ہونے  کے بعد70 مرتبہ کہیں: اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ النَّبِىِّ الاُمِّىِّ وَعَلى آلِهِ
پھر سجدہ میں جائیں اور 70 مرتبہ کہیں: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ
پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور 70 مرتبہ کہیں: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمّا تَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِىُّ الاَعْظَمُ
پھر دوبارہ سجدہ میں جائیں اور 70 مرتبہ کہیں: سُبُّوحٌ قُدّوُسٌ رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ
پھر خدا سے اپنی حاجت طلب کریں انشاءالله حاجت روا ہو گی۔

 

موضوع: 
Wednesday / 29 March / 2017