امروز چهارشنبه ۲۳ ذی القعده ۱۴۳۸ (٢٥ مرداد ٩٦) روز مخصوص زيارتي حضرت اباالحسن علي بن موسی الرضا عليه آلاف التحية و الثناء، ساعت يازده در محل بعثه حضرت آيت الله العظمی صافي گلپايگاني دامت یرکاته، مجلس ذكر توسل و بيان معارف برگزار شد. در این محفل...
Friday: 18 / 08 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
حضرت امام موسي بن جعفر عليہما السلام
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر

آپ کا اسم گرامی موسی، اور آپ کے القاب عبد صالح، عالم اور باب الحوائج ہیں، جب کہ آپ کا مشہور لقب کاظم ہے۔ آپ کی مشہور کنیت ابو الحسن الأوّل ہے۔ آپ کی عمر مبارک تقریباً چوّن (۵۴) سال تھی۔ آپ کی ولادت سات صفر المظفر سنہ ۱۲۸ ہجری کو ہوئی اور پچیس رجب المرجب سنہ ۱۸۳ ہجری کو ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ کے حکم پر سندی بن شاہک کے ذریعہ آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا اور آپ شہادت کے رفیع و بلند درجہ پر فائز ہوئے۔

 

حضرت امام موسي بن جعفر عليه السلام کی زیارت مخصوصہ کے چند پہلو

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَوْلاَيَ يَا مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُه

أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْهَادِي وَ الْوَلِيُّ الْمُرْشِدُ وَ أَنَّكَ مَعْدِنُ التَّنْزِيلِ وَ صَاحِبُ التَّأْوِيلِ‏

وَ حَامِلُ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الْعَالِمُ الْعَادِلُ وَ الصَّادِقُ الْعَامِلُ‏

يَا مَوْلاَيَ أَنَا أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَعْدَائِكَ وَ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ بِمُوَالاَتِكَ‏

فَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى آبَائِكَ وَ أَجْدَادِكَ وَ أَبْنَائِكَ وَ شِيعَتِكَ وَ مُحِبِّيكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُه‏

آپ پر سلام ہو اے میرے مولا! اے موسى بن جعفر اور آپ پر خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک آپ امت کی ہدایت کرنے والے امام و پيشواء اور ولى برحق اور  مخلوق کے رہبر ہیں اور بیشک آپ ہی وحی الٰہی کی تنزیل کے اصل منبع و معدن ہیں اور آپ آسمانی کتابوں کی تأویل کے صاحب و عالم ہیں، اور آپ توریت و انجیل کے علم کے حامل ہیں، اور آپ علم و عدالت اور صدق کے حامل اور اطاعت خدا پر خالصانہ عمل کرنے والے ہیں۔

اے میرے مولا! میں خدا کی بارگاہ  میں آپ کے دشمنوں سے بیزاری طلب کرتا ہوں اور آپ کی محبت و دوستی سے خدا کا تقرب حاصل کرتا ہوں۔

پس آپ پر اور آپ  کے آباء و اجداد اور آپ کی اولاد اور آپ کے شیعوں اور محبوں پر خدا کا درود اور خدا کی رإت اور اس کی برکات ہوں۔

 

حضرت امام موسیٰ كاظم عليه السلام کی دعا
إِلَهِي خَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لَكَ وَ ضَلَّتِ الْأَحْلاَمُ فِيكَ‏
وَ وَجِلَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ مِنْكَ وَ هَرَبَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ إِلَيْكَ‏
وَ ضَاقَتِ الْأَشْيَاءُ دُونَكَ وَ مَلَأَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ نُورُكَ‏
فَأَنْتَ الرَّفِيعُ فِي جَلاَلِكَ وَ أَنْتَ الْبَهِيُّ فِي جَمَالِكَ‏
وَ أَنْتَ الْعَظِيمُ فِي قُدْرَتِكَ وَ أَنْتَ الَّذِي لاَ يَئُودُكَ شَيْ‏ءٌ
يَا مُنْزِلَ نِعْمَتِي يَا مُفَرِّجَ كُرْبَتِي وَ يَا قَاضِيَ حَاجَتِي‏
أَعْطِنِي مَسْأَلَتِي بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصاً لَكَ دِينِي‏
أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ
وَ أَسْتَغْفِرُكَ مِنَ الذُّنُوبِ الَّتِي لاَ يَغْفِرُهَا غَيْرُكَ‏
يَا مَنْ هُوَ فِي عُلُوِّهِ دَانٍ وَ فِي دُنُوِّهِ عَالٍ‏
وَ فِي إِشْرَاقِهِ مُنِيرٌ وَ فِي سُلْطَانِهِ قَوِيٌّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِه‏

خدايا! تیرے سامنے ساری آوازیں دب گئی ہیں ، ساری عقلیں گم ہو گئی ہیں، ہر دل خوفزدہ ہے، سب بھاگ کر تیری ہی طرف آ رہے ہیں،  ساری دنیا تیرے علاوہ تنگ ہے، تیرے نور نے پر شیء کو بھر دیا ہے ۔ تو اپنے جلال میں بلند ، اپنے جمال میں حسین، اپنی قدرت میں عظیم ہے۔  تو وہ ہے کہ جسے کوئی شیء تھکا نہیں سکتی ہے۔ اے نعمت کے نازل کرنے والے، اے رنج کے دور کرنے والے۔اے حاجتوں کو پورا کرنے والے! میری حاجتوں کو پورا فرما دے، اپنی توحید کے واسطہ سے،  میں تجھ پر اخلاص کے ساتھ ایمان لایا ہوں، تیرے عہد پر صبح کی اور جہاں تک ممکن ہوا اس پر قائم ہوں اور اپنے گناہوں سے استغفار کر رہا ہوں کہ جنہیں تیرے سوا کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ اے وہ خدا جو بلندیوں کے باوجود قریب ہے اور قربت کے باوجود بلند ہے اور اپنی نورانیت میں ضیاء بخش ہے اور اپنی سلطنت میں قوی ہے ۔ محمد و آل محمد پر درود بھیج (مفاتيح الجنان، ص ۷۸)

 

حضرت امام موسیٰ كاظم عليه السلام کی سیرت

-ابراهيم بن عبد الحميد کہتے ہیں: میں حضرت موسى بن جعفر عليہما السّلام  کے گھر داخل ہوا اور آپ جس حجرہ میں نماز ادا کرتے تھے، وہاں مجھے ایک حصیر (چٹائی)، لٹکی ہوئی ایک تلوار اور ایک قرآن کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیا۔

-روايت ہوئی ہے کہ آپ ہمیشہ نوافل شب ادا فرماتے اور انہیں نماز صبح سے متصل کرتے اور اس کے بعد طلوع آفتاب تک تعقیبات پڑھتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا اور پھر خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاتے اور زوال ظہر تک سجدہ سے سر نہ اٹھاتے۔

-  آپ ہمیشہ یہ دعا کرتے: ‘‘اللهم انى اسألك الراحة عند الموت و العفو عند الحساب‘‘

-  آپ خوف خدا سے اس طرح گریہ کرتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی۔

- آپ کے کظم و غیظ اور حلم کی وجہ سے آپ کا لقب کاظم تھا۔

-  آپ رات کی تاریکی میں مدینہ کے فقراء کے لئے پیسے ( سونے اور چاندی کے سکہ)، آٹے اور کھجور کی تھیلیاں لے کر جاتے اور فقراء میں تقسیم کرتے جب کہ وہ لوگ یہ نہ سمجھ پاتے کہ ان کی مدد کرنے والا کون ہے۔

- اور سب سے بہتر یہ کہ آپ کو قرآن كريم حفظ تھا اور قرآن کی تلاوت کرنے میں آپ کی آواز سب سے بہتر تھی۔ جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے تو محزون ہو جاتے اور سامعین بھی آنحضرت کی آواز میں قرآن کی تلاوت سن کر گریہ کرنے لگتے۔

(ترجمه بحار الانوار، ج 48 ، ص85-89)

 

امام موسیٰ كاظم عليه السلام کے کلمات قصار
-  ہر چیز کی ایک دلیل ہے اور عاقل کی دلیل تفکر ہے اور تفکر کی دلیل خاموشی ہے۔
-  ہر چیز کی سواری و مرکب ہے اور عاقل کی سواری تواضع ہے۔

-  خدا نے انبیاء و مرسلین کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ لوگوں میں خدا کے سلسلہ میں عقل و بینش پیدا ہو۔
-  خدا اسے زیادہ جواب دیتا ہے  جسے خدا کی معرفت زیادہ ہو۔
-  عاقل؛ دنیا میں زاہد ہیں اور آخرت کی طرف راغب اور مائل ہیں۔

-  جو شخص کسی کی آبروریزی کرنے سے پرہیز کرے، خداوند قیامت کے دن اس سے درگذر فرمائے گا۔
-  جو شخص لوگوں پر اپنے غصہ کو پی جائے، خداوند قیامت کے دن اس پر اپنا غضب نہیں کرے گا۔

-  دنیا کی مثال سمندر  کے پانی کی طرح ہے کہ پیاسا اس سے جس قدر پانی پیئے اتنا ہی زیادہ پیاسا ہو گا یہاں تک کہ اسے قتل کر دے گا۔
-  جو شخص ہر دن اپنا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، اگر نیک کام کیا ہو تو اضافہ کرے اور اگر برا عمل انجام دیا ہو تو استغفار اور توبہ کرے۔

-  دیندار لوگوں کی صحبت اور ہم نشینی میں دنیا و آخرت کی شرافت ہے۔

(ترجمه بحار الأنوار، جلد ۱۷، ص 260-279)

 

حضرت امام موسیٰ بن جعفر عليهما  السلام کی نماز
نماز حضرت كاظم عليه السلام دو ركعت ہے اور دونوں رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد اور بارہ مرتبہ سورۂ توحید پڑھی جاتی ہے۔

 

حكايت: فرزند پيغمبر
۱۔ جب ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ مدینہ میں داخل ہوا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے گیا۔ اس کے ساتھ اس گروہ تھا، ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ ان کے آگے کھڑا ہو گیا اور اس نے افتخار کرتے ہوئے کہا:(السلام عليك يا رسول اللَّه السلام عليك يا ابن عم) آپ پر سلام ہو اے رسول اللَّه، اے چچا زاد۔

حضرت موسى بن جعفر عليہما السلام نے آگے بڑھ کر فرمایا: (السلام عليك يا رسول اللَّه السلام عليك يا ابتاه)
آپ پر سلام ہو اے رسول اللَّه، اے بابا جان.

 یہ سن کر ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ کا رنگ متغیر ہو گیا اور اس کے چہرہ پر خشم و غضب کے آثار واضح طور پر دکھائی دینے لگے۔

(ترجمه بحار الانوار، ج 48 ، ص 88)

 

حكايت: هيبت و كرامت

جب ہارون الرشيد لعنة اللَّه علیہ نے حضرت امام موسى بن جعفر عليہما السّلام کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیا تو اس نے تمام ممالک کے سربراہوں اور سپہ سالاروں کو اس کام کی پیش کش کی لیکن کسی نے بھی اسے قبول نہ کیا۔ اس نے یورپی ممالک میں اپنے نمائندوں کو خط لکھا کہ میرے پاس کچھ ایسے افراد کو بھیجو کہ جو خدا اور پیغمبر کو نہ جانتے ہیں۔ میں ان کے ذریعہ کوئی کام انجام دینا چاہتا ہوں۔

انہوں نے پچاس ایسے افراد بھیجے کہ جنہیں اسلام اور عربی زبان سے کوئی آشنائی اور واقفیت نہیں تھی۔ جب وہ لوگ آئے تو ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ نے ان کا بڑا احترام کیا اور ان کی تکریم و تجلیل کی۔ پھر ان سے پوچھا کہ تمہارا خدا کون ہے اور تمہارا پیغمبر کون ہے؟ انہوں نے کہا: ہم کسی خدا اور پیغمبر کو نہیں جانتے۔ اس نے ان لوگوں کو اس کمرہ میں بھیجا کہ جہاں امام موسی کاظم علیہ السلام کو قید کیا گیا تھا تا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کر دیں۔ جب کہ ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ یہ سارا ماجرا کمرہ کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔

 ان لوگوں نے جیسے ہی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو دیکھا تو اپنا اسلحہ پھینک دیا اور ان پر لرزہ طاری ہو گیا، وہ سجدہ میں گر کر رونے لگے اور امام علیہ السلام سے رحم کی درخواست کرنے لگے۔

حضرت موسى بن جعفر عليہما السّلام نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہی کی زبان میں ان سے گفتگو کی جب کہ وہ سب گریہ کر رہے تھے۔

جب ہارون الرشید لعنۃ اللہ علیہ نے یہ دیکھا تو وہ ببہت خوفزدہ ہوا کہ کہیں کوئی فتنہ برپا نہ ہو جائے اور کہیں بغاوت نہ ہو جائے ، لہذا اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو وہاں سے نکال دے۔ وہ لوگ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے احترام میں وہاں سے الٹے پاؤں نکلے اور اپنی ہارون کی اجازت کے بغیر اہنی سواریوں پر سوار ہو کر اپنے ملک واپس چلے گئے۔

(ترجمه بحار الانوار، ج 48 ، ص 88)

موضوع: 
Saturday / 27 May / 2017