قيام مقدّس حضرت سيدالشهداء عليه السلام يكي از حوادث بي‎نظيري است كه هنوز پس از سيزده قرن و اندي، اسرار و عظمت و اهميت آن كاملاً آشكار نگشته، و فروغ تجلّي آن خاموش نشده، و انوارش همواره در تابش و لمعان، و راهنماي بشريت بسوي آزادي، و عزّت نفس، و...
پنجشنبه: 27/مهر/1396 (الخميس: 28/محرم/1439)

Printer-friendly versionSend by email
روزہ مباہلہ
(فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْانَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ)

عید مباہلہ کی مناسبت سے خصوصی تحریر

( فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْ انَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ )

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اپنی رسالت پر قوّت ایمان کے دلائل و مظاہر میں سے ایک ’’ واقعہ مباہلہ ‘‘ ہے ۔ کیونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود مباہلہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لہذا اگر آپ کو خود اپنی دعوت پر ایمان نہ ہوتا تو گویا آپ  خود اپنے دشمن کو اپنی دعوت کے باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم کر دیتے ۔ چونکہ مباہلہ دو صورتوں سے خالی نہیں تھا یا آنحضرت کے حق میں نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہو جاتی  ، اور دوسری صورت یہ تھی کہ نہ تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نفرین مستجاب ہوتی اور نہ ہی نجران کے عیسائیوں کی نفرین مستجاب ہوتی ،  ان دونوں صورتوں میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا  دعوی آشکار طور پر باطل ہو جاتا ۔نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی عقل مند  کبھی بھی ایسی تجویز پیش نہیں کرے گا اور لوگوں کو اپنے دعوے کی باطل ہونے کی دلیل اور سند فراہم نہیں کرے گا مگر یہ کہ اسے اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور اپنے دشمن کی ہلاکت کا سو فیصد اطمینان اور یقین ہو ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے رسالت و نبوت کی حقانیت ، اپنی دعا کے مستجاب ہونے اور مباہلہ کی صورت  میں اپنے دشمن کی ہلاکت و نابودی کا یقین کامل تھا ؛ جس کی وجہ سے آپ نے کمال شجاعت و صراحت سے مباہلہ کی تجویز پیش کی ۔

مباہلہ میں حضرت علی ، حضرت حسن ، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ علیہم السلام کو خدا کے حکم اور تعیین کے ذریعے شریک کیا گیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مباہلہ میں شریک ہونے والے یہ انوار اربعہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محترم و مکرم ہیں اور یہ مخلوقات میں سب سے شائستہ مخلوق ہیں ، اور یہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔

آیۂ مباہلہ خدا کے نزدیک ان ہستیوں کے مقام و مرتبہ کی جلالت اور خاص تقرب کا اعلان ہے ۔ بزرگ مفسرین اور محدثین و مؤرخین نے تفسیر و حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں واقعۂ مباہلہ کو نقل کیا ہے ۔ اور یہاں اس واقعہ کے مصادر اور اسناد بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم یہاں چند کتابوں کے نام ذکر کرتے ہیں تا کہ اگر کوئی شخص  چاہئے تو ان کی طرف رجوع کر سکے :

تفسير طبری ، بيضاوی ، نيشابوری ، كشاف ، الدرالمنثور ، اسباب النزول واحدی ، اكليل سيوطی ، مصابيح السنة ، سُنن ترمذی اور ان کے علاوہ دیگر کتب ۔

 

منبع:  کتاب ’’پرتوی از عظمت امام حسین علیه السلام ‘‘ تألیف :  آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی

Wednesday / 20 September / 2017