قيام مقدّس حضرت سيدالشهداء عليه السلام يكي از حوادث بي‎نظيري است كه هنوز پس از سيزده قرن و اندي، اسرار و عظمت و اهميت آن كاملاً آشكار نگشته، و فروغ تجلّي آن خاموش نشده، و انوارش همواره در تابش و لمعان، و راهنماي بشريت بسوي آزادي، و عزّت نفس، و...
پنجشنبه: 27/مهر/1396 (الخميس: 28/محرم/1439)

Printer-friendly versionSend by email
رسالت عاشورائی (۱)

مبلغین کی عاشورائی رسالت

ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت

مرحوم آیت اللہ العظمی حائزی یزدی (قدس سرہ) کی کاوشوں سے سنہ ۱۳۴۰ ہجری میں قم کے قدیمی حوزۂ علمیہ کی تجدید عمل میں لائی گئی ۔ اس حوزۂ علمیہ میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ  ساتھ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے کہ جس میں بزرگ اساتید ، علماء ، آیات عظام ، مؤلفین ، خطباء ، واعظین اور برجستہ مبلغین شہروں ، دیہاتوں اور ہر سماج کو تبلیغ ، معارف دین  اور  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ احکام اسلام سے روشناس کروانے کواپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے وہ مکتب حسینی اور ذکر مصائب اہلبیت علیہم السلام سے  لوگوں کی باطنی اور پاکیزہ رغبت اور بالخصوص کربلا کے جانسوز واقعہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اور ماہ مبارک رمضان کے علاوہ ماہ محرم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر مصائب سے کربلا کی بے نظیر نہضت و تحریک کے مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ اسّی سال سے زائد عرصے سے  تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے جوکہ انحرافات ، کج روی ، کج فہمی ، بدعات اور دوسری برائیوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ حوزۂ علمیہ باطل کے ابطال اور عقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ سے سماج میں مؤثر اور کارساز رہا ہے ۔

تبلیغ کے متعلق اہم نکات

تبلیغ کے متعلق ایسے اہم نکات کہ جنہیں جاننا چاہئے :

بندۂ حقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ تبلیغ کے متعلق کچھ ایسے نکات بھی بیان کئے جائیں کہ جو شاید بعض حضرات کی نظر میں مخفی اور پنہاں نہ ہوں:

1ـ مخاطبین کو ان اہم مطالب سے خبردار کریں:

اب کچھ ایسے حالات درپیش ہیں کہ اسلام اور کفر میں ایک طرح کی تازہ کشمکش دکھائی دیتی ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران ، اسلامی تفکر کا احیاء و تجدید ، مسلمانوں کا اسلامی استقلال کی طرف رجحان ، دیرینہ عظمت کی طرف بازگشت  اور المختصر یہ کہ عام بیداری ؛ اور بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقہ کا بیدار ہونا اور اس کے علاوہ کچھ دیگر موارد باعث بنیں ہیں کہ اسلام کے دشمن تقریباً پہلی جنگ عظیم کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی ممالک پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے ان ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے ان پر قبضہ کر لیا ۔ لہذا اب وہ اپنے قبضہ اور تسلط کے خاتمہ سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام خواہی کے نام پر مسلمانوں کی مخالفت اور انہیں نابود کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اس مقصد کے لئے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغات  کے علاوہ مختلف قسم کے آشکار و مخفی اور سیاسی و اقتصادی وسائل بروئے کار لائے حتی انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔

لہذا مسلمانوں کو استقامت، صبر، پائيداری اور خداوند متعال  کی نصرت سے دشمنوں پر غلبہ پانے کی امیددلانی چاہئے اور انہیں اس کی تشویق و ترغیب کرنی چاہئے ۔

غرب گرائی (Westernization) ، مغربی سماج کی عادات کی پیروی ، ان کی تقلید حتی لباس اور ظاہری طور پر معمولی اور چھوٹے نظر آنے والے امور سے لے کر اہم امور تک سب میں ان کی تقلید کرنا جیسے عورتوں اور مردوں کے درمیان مخلوط نظام  کی ترویج ، مختلف قسم کے نعرے ، منجملہ عورتوں سے تبعیض کا خاتمہ ، یا آزادی بیان کے نام پر مطلق آزادی ، شریعت کے بعض احکام کو پامال کرنا، موسیقی کی ترویج ، شریعت سے بے اعتناء ہنرمندوں اور اسلامی شعار سے بیزاری کا اظہار کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر تشویق ؛ یہ سب اسلامی ہویّت و شناخت کوبدلنے یا اسے کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔

مسلمانوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ غرب گرائی کی جانب ترجحان کے خطرات کی طرف توجہ کریں لیکن بد قسمتی سے ان میں کافی وسعت آ چکی ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسلامی ہویّت اور شناخت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں اور ہر حال میں ہر جگہ اس کے پابند رہیں اور اس پر ناز کریں ۔ اسلام ، قرآن ، تشیع اور ولایت ائمہ علیہم السلام پر افتخار کریں ۔ تمدن اور اسلامی اخلاق کو ہر تمدن اور اخلاق سے برتر سمجھیں»۔  (۱)

امام حسین علیہ السلام کی راہ ؛ قرآن کی راہ ہے ، احکام پر عمل کرنے کی راہ ہے ، اسلام اور توحید پر افتخار کرنے کی راہ ہے ، خدا پر ایمان رکھنے کی راہ ہے ۔ یہ راہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ کفر و بت پرستی ، شرک یزدان و اہرمن ، فرعون و نمرود اور جمشید کے استکبار کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ فساد ، فرسودہ نظام ، گناہوں اور ان امور پر فخر کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ تجمل پرستی ، اسراف  ، تکبر ، استکبار اور لوگوں کو حقیر شمار کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام ؛ قرآنی پیغام ہے کہ جس میں حقیقی اقدار کے لحاظ سے عورت و مرد میں مساوات ہے :

’’إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً‘‘(۲)

«بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ، اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں ، اور صابر مرد اور صابر عورتیں ، اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں ، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والی عورتیں ،  اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کر رکھا ہے » ۔

جو سماج اور معاشرہ امام حسین علیہ السلام کی راہ پر گامزن ہو ؛ وہاں ان امور اور اقدار پر افتخار کیا جاتا ہے اور ان اقدار میں مرد اور خواتین نہ صرف ہم پلہ ہوتے ہیں بلکہ ان اقدار میں وہ  ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اور ان کا مختلف مجالس و محافل ، کالج ، یونیورسٹیوں اور دفاتر وغیرہ میں ( جہاں اجنبی حضرات سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے ) میں مخلوط ہونا مسلمان عورت کی شأن ، پارسائی اور اسلامی تربیت سے سازگار نہیں ہے ۔ مغرب زدگی یعنی مغرب کی اندھی تقلید انسان کی ہویّت و شناخت اور اس کی شخصیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ماہ محرم و صفر میں علماء و فضلا ، اساتید اور خطباء کو چاہئے کہ وہ اپنے مواعظ ، بیانات اور تقاریر میں لوگوں کو ان بنیادی اور اہم مطالب کی طرف متوجہ کریں ۔

2ـ تبلیغ  کے بنیادی اصولوں کو پہچانیں

تقاریر ، خطابات اور بیانات میں یہ معانی خیز حدیث مبارک واضح ہے کہ :

«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَامْسِکُوا عَمَّا یُنْکِرونَ». (۳)

«لوگوں کے لئے وہی چیزیں بیان کریں کہ جنہیں وہ جانتے ہیں اور ایسی چیزیں بیان کرنے سے گریز کریں کہ جن کے وہ منکر ہو جائیں» ۔

یہ حدیث ایک دستور العمل ہے اور مقتضائے حال کی بناء پر کلام و تکلّم میں بلاغت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ تبلیغ کے دوران انبیاء علیہم السلام کا بھی یہی منشور رہا ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ ہر علاقہ کا جائزہ لیا جائے اور وہاں کی دینی اور مذہبی کمزوریوں کو ( اگر وہاں دینی و مذہبی کمزوریاں موجود ہوں تو) پہنچانا جائے اور تقاریر و بیانات اور خطابات کے دوران شائستہ انداز میں ان ضعف نکات کر برطرف کرنے کی طرف توجہ کی جائے ۔

3 ۔ جوانوں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں

جوانوں ، نوجوانوں اور طالب علموں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں اور والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پذیرائی کریں اور تسلی و اطمینان سے ان کی باتوں اور ان کے سوالات کو سنیں اور ان کے جوابات دیں ۔(۴)

عاشورائی دروس

درس معرفت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ؛ أَلَا وَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ». (۵)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ علم حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے» ۔

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (عليه ‌السلام) : «أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ كَمَالَ الدِّينِ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ بِهِ وَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ أَوْجَبُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ، إِنَّ الْمَالَ مَقْسُومٌ بَیْنَکُمْ مَضْمُونٌ لَكُمْ قَدْ قَسَمَهُ عَادِلٌ بَيْنَكُمْ وَضَمِنَهُ سَيَفِي لَكُمْ وَ الْعِلْمُ مَخْزُونٌ عَلَیْکُمْ عِنْدَ أَهْلِهِ قَدْ أُمِرْتُمْ بِطَلَبِهِ مِنْهُمْ فَاطْلُبُوهُ» ۔ (۶)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : «اے لوگو ! جان لو کہ دین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے ۔ اور بیشک تم پر مال کےحصول سے زیادہ علم کا حصول واجب ہے ، مال تم میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی ضمانت دی جا چکی ہے اور ایک عادل شخص نے اسے تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے اور جلد ہی اس پر وفا کریں گے ، لیکن علم و دانش کو اہل علم اور دانشوروں کے پاس رکھا گیا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے علم طلب کرو ، پس ان سے طلب کرو» ۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ مِنْكُمْ فِي الدِّينِ فَهُوَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾» ۔ (۷)

« دین میں تفقہ ، بصیرت اور آگاہی حاصل کرو ؛ تم میں سے جو دین میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو وہ اعرابی اور بادیہ نشین ہے ۔ خداوند عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ’’ اور دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو انہیں عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح سے ڈرنے لگیں».

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «عَلَيْكُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي دِينِ الله وَلَا تَكُونُوا أَعْرَاباً فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي دِينِ اللهِ، لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُزَكِّ لَهُ عَمَلاً» ۔ (۸)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «تم پر لازم ہے کہ خدا کے دین میں تفقہ کرو ( یعنی دین میں بصیرت اور آگاہی حاصل کرو) اور اعرابی نہ بنو ( یعنی تمدن و ثقافت سے دور بادیہ نشین نہ رہو) ؛ کیونکہ جو شخص دین میں بصیرت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ، خداوند قیامت کے دن اس پر نظررحمت نہیں کرے گا اور اس کے عمل کو پاکیزہ نہیں کرے گا»۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (عليه ‌السلام) : «لَوَدِدْتُ أَنَّ أَصْحَابِي ضُرِبَتْ رُءُوسُهُمْ بِالسِّيَاطِ حَتَّى يَتَفَقَّهُوا» ۔ (۹)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ اپنے اصحاب کہ سروں  پر تازیانے ماروں تا کہ وہ دین میں تفقہ اور بصیرت حاصل کریں» ۔

مکتب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شاگرد

اس بارے میں معتبر روایات دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کو مخصوص علم تعلیم دیا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور علی علیہ السلام کے خط سے لکھی گئی کتاب سے ہمیشہ اس خاندان تطہیرنے استناد کیا اور اس کی طرف رجوع کیا ۔ حقیقت میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات و تبلیغات اور ان کی سیرت و اسلوب معاشرے کی تربیت اور انسانیت کی ہدایت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مکمل و متمم ہدف تھا۔

مشہور اور متواتر حدیث ’’حدیثِ ثقلین‘‘(۱۰)کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام امت کو ان بزرگ ہستیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حدیث شریف کی رو سے اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی علمی صلاحیت ظاہر و آشکار ہو جاتی ہے ۔

ان کے علاوہ اہلسنت سے بھی اس بارے میں دوسری بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ مکتب نبوت کے تربیت شدہ افراد میں سے علی علیہ السلام نے دوسرے تمام اصحاب کی بنسبت سب سے زیادہ انوار نبوت سے استفادہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علمی مسائل اور مشکلات میں علی علیہ السلام ہی سب کے لئے مرجع ہیں اور تمام شرعی علوم آنحضرت پر منتہی ہوتے ہیں ۔

حضرت امام علی علیه ‌السلام کے بعد امامت اور علمی و دینی رہبری کا ‏منصب الٰہی آپ کے بیٹوں حضرت امام ‌حسن ‌مجتبی اور سید الشہداء حضرت امام ‌حسين علیہ السلام کو حاصل تھا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اسلامی مسائل ، علوم تفسیر اور شرعی احکام میں لوگوں کے لئے پناہگاہ تھے اور آپ کے سخن قاطع و مقبول اور آپ کی روش و اسلوب نمونہ و میزان تھی ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام ؛ چراغ اسلام

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

خوارج میں سے فرقۂ ازارقہ کے سربراہ نافع بن ازرق نے امام‌حسين‌‏‌علیه‌ السلام سے ‏عرض كیا :

آپ اپنے خدا کی توصیف بیان کریں کہ جس کی آپ پرستش کرتے ہیں !۔

امام‌ حسين‌‏ علیه ‌السلام نے فرمایا :

«يَا نَافِعُ إِنَّ مَنْ وَضَعَ دينَهُ عَلَی الْقِيَاسِ لَمْ يَزَلِ الدَّهرَ فِي الْإِلْتِبَاسِ مَائِلاً نَاكِباً عَنِ الْمِنْهَاجِ ظَاعِناً بِالْإِعْوِجَاجِ ضَالّاً عَنِ السَّبِيلِ قَائِلاً غَيْرَ الْجَمِيلِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ أَصِفُ إِلَهِي بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَعْرِفُهُ بِمَا عَرَفَ بِهِ نَفْسَهُ، لَا يُدْرَكُ بِالْحَواسِّ وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ، قَرِيبٌ غَيْرُ مُلْتَصِقٍ، وَبَعِيدٌ غَيْرُ مُسْتَقْصِي، يُوَحَّدُ، وَلَا يُبَعَّضُ، مَعْرُوفٌ بِالْآيَاتِ، مَوْصُوفٌ بِالْعَلَامَاتِ، لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالُ»؛

«اي نافع! جو شخص بھی اپنے دین کی بنیاد قیاس پر رکھے ؛ وہ پوری عمر غلطی پر ہی رہے گا اور راہ سے منحرف ہو جائے گا ، کج روی اختیار کرے گا اور گمراہ ہو جائے گا اور نازیبا کلمات کہے گا ۔ اے ابن ازرق! میں اس چیز سے خدا کی توصیف کرتا ہوں کہ جس سے اس نے خود اپنی توصیف بیان فرمائی ہے ۔ اسے نہ تو حواس سے درک کیا جائے اور نہ ہی لوگوں پر اس کا قیاس کیا جائے ۔ وہ نزدیک ہے لیکن کسی چیز سے متصل اور ملحق شدہ نہیں ہے ۔ اور وہ دور ہے لیکن اس نے دوری اختیار نہیں کی ( خداوند متعال کی دوری و نزدیکی ؛ دوسری مخلوقات و موجودات کی دوری و نزدیکی کی مانند نہیں ہے ۔ اس کی دوری و نزدیکی مادی حواس کے ذریعے قابل درک نہیں ہے ) ۔ وہ یگانہ ہے لیکن وہ تبعیض اور تجزیہ و ترکیب سے مبرّا ہے ، وہ کچھ نشانیوں سے پہچانا گیا ہے اور کچھ علامتوں سے اس کی توصیف کی جاتی ہے اور خدائے کبیر و متعال کے سوا کوئی خدا نہیں ہے».

ابن‌ ازرق نے روتے ہوئے کہا :

یَا حُسَیْنُ مَاأَحْسَنَ كَلَامَكَ؛

اے حسین ! آپ کا کلام کس قدر خوبصورت ہے!

امام حسين علیه ‌السلام نے فرمایا : «مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میرے پدر اور میرے بھائی کے سامنے میرے کفر کی گواہی دیتے ہو!».

ابن‌ازرق نے کہا : أَمَا وَاللهِ یَا حُسَیْنُ لَئِنْ کَانَ ذَلك لَقَدْ کُنْتُمْ مَنَارَ الْإِسْلَامِ وَنُجُومَ الْأَحْکَامِ ۔ (۱۱)

اے حسین ‌(علیه‌ السلام) ! اگر مجھ سے یہ نازیبا حرکت صادر ہوئی ! تو بیشک آپ اسلام کے چراغ اور احکامِ خدا کے ستارے ہیں ۔

یعنی لوگوں کو آپ کے علوم و معارف کے انوار سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہئے اور تاریکی میں آپ کے وجود کے ستاروں سے ہدایت پانی چاہئے ۔

امام حسين علیه‌ السلام ؛ شمع بزم عالمان

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱۲)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۳)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

اس کے بعد علايلی لکھتے ہیں : حسين ‌(علیه‌ السلام)  كثير الحديث و الروايه تھے ۔ اس زمانے میں اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہت سارے اصحاب حدیث نقل کرتے تھے لیکن لوگ سب کو چھوڑ کر حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں آتے ۔ اس کے بعد علایلی نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کچھ احادیث نقل کی ہیں ۔ (۱۴)

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا :

إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ۔ (۱۵)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

درس عبادت

احادیث

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ غِنًى وَلَا أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ وَعَلَيَّ أَنْ أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَمْلَأَ قَلْبَكَ خَوْفاً مِنِّي وَ إِنْ لَا تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ شُغُلاً بِالدُّنْيَا ثُمَّ لَا أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ» ۔ (۱۶)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : « توریت میں لکھا ہے : اے ابن آدم ! تمہاری توجہ میری عبادت و بندگی کی طرف رہے  تو میں تمہارے دل کو بے نیازی سے بھر دوں گا اور تمہیں تمہاری طلب اور جستجو میں نہیں چھوڑوں گا ، اور تمہاری ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لوں گا اور تمہارے دل کو اپنے خوف سے بھر دوں گا ، اور اگر تمہاری توجہ میری عبادت کی طرف نہ ہوئی تو میں تمہارے دل کو دنیا میں مشغول ہونے سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کی چارہ جوئی  نہیں کروں  گا اور تمہیں تمہاری طلب پر چھوڑ دوں گا » ۔

قَالَ الصَّادِقُ ‌‌(عليه ‌السلام) : «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا عِبَادِيَ الصِّدِّيقِينَ ! تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي الدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ تَتَنَعَّمُونَ بِهَا فِي الْآخِرَةِ» ۔ (۱۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «خداوند نے فرمایا : اے میرے سچے اور حقیقی بندو ! دنیا میں میری عبادت کے ذریعے نعمتیں حاصل کرو اور بیشک اسی کے ذریعے تمہیں جنت میں بھی نعمتیں ملیں گی» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبَادَةَ فَعَانَقَهَا وَأَحَبَّهَا بِقَلْبِهِ وَبَاشَرَهَا بِجَسَدِهِ، وَتَفَرَّغَ لَهَا فَهُوَ لَا يُبَالِي عَلَى مَا أَصْبَحَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى عُسْرٍ أَمْ عَلَى يُسْرٍ» ۔ (۱۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «لوگوں میں افضل وہ ہے جو عبادت کا عاشق ہو اور  اسے اخذ کر لے اور اسے دل سے دوست رکھتا ہو اور بدن سے انجام دیتا ہو اور وہ اس کے لئے فارغ ہو اور اس کی مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو اور دنیا کی سختی و آسانی کو اہمیت نہ دے»۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «إِنَّ الْعُبَّادَ ثَلَاثَةٌ : قَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَوْفاً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى طَلَبَ الثَّوَابِ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأُجَرَاءِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حُبّاً لَهُ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَارِ وَهِيَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ» ۔ (۱۹)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «عبادت کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں : ایک گروہ خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، یہ غلاموں کی عبادت ہے ؛ کچھ لوگ ثواب کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ اجیر شدہ افراد کی عبادت ہے ؛ اور ایک گروہ خدا کی محبت میں خداوند عزوجل کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کی سب سے افضل قسم ہے » ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَقْبَحَ الْخَطِيئَةَ بَعْدَ الْمَسْكَنَةِ، وَأَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ الْعَابِدُ لِلّٰهِ ثُمَّ يَدَعُ عِبَادَتَهُ» ۔ (۲۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «غنی و بے نیاز ہونے کے بعد فقر کس قدر قبیح ہے ، اور بدبختی و ناداری کے بعد گناہ کس قدر قبیح ہے ، اور اس سے بھی قبیح وہ عابد ہے کہ جو خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دے » ۔

قَالَ السَّجَّادُ‌ (عليه ‌السلام) : «مَنْ عَمِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ» ۔ (۲۱)

 حضرت امام سجاد  نے فرمایا : «جو شخص خدا کی جانب سے واجب کردہ  امور پر عمل کرے ؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد ہے » ۔

امام حسین علیه‌السلام ؛ سید العابدین

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

«حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۲۲)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے» ۔ (۲۳)

عقّاد کہتے ہیں : «حسین علیہ السلام پنجگانہ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں بھی بجا لاتے اور ماہ رمضان کے روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے ، اور آپ نے کسی بھی سال حج کو ترک نہیں کیا مگر یہ کہ آپ اسے ترک کرنے پر مجبور ہوں» ۔ (۲۳)

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۲۴) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي نَعَّمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاکِراً ، وَابْتَلَیْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً ، فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْکِ الشُّکْرِ ، وَلَا (أَنْتَ) أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ، إِلَهِي مَا يَکُونُ مِنَ الْکَرِيمِ إِلَّا الْکَرَمُ» ۔ (۲۵)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا» ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ (۲۶)

درس سخاوت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ‌ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ» ۔ (۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «سخاوت ؛ بہشت میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ، وہ اسے جنت میں لے جاتی ہے ، اور بخل ؛ جہنم میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ؛ وہ اسے جہنم میں لے جاتی ہے» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ طَيٍّ: «دُفِعَ عَنْ أَبِيكَ الْعَذَابُ الشَّدِيدُ لِسَخَاوَةِ نَفْسِهِ» ۔(۲۸)

پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عدی بن حاتم طائی سے فرمایا : «تمہارے باپ کی سخاوت کی وجہ سے اس سے سخت عذاب اٹھا لیا گیا» ۔

قَالَ الرِّضَا (عليه‌ السلام) : «إِيَّاكَ وَالسَّخِيَّ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْخُذُ بِیَدِهِ» ۔ (۲۹)

‌حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : «کہیں کسی سخی کی سرزنش نہ کرنا کہ خداوند اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے » ۔

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ.

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۳۰)

میں تمہارا قرض ادا کروں گا

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۳۱)

درس حسن معاشرت 

احاديث:

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «يَا شِيعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ عِنْدَ غَضَبِهِ، وَمَنْ لَمْ يُحْسِنْ صُحْبَةَ مَنْ صَحِبَهُ، وَمُخَالَقَةَ مَنْ خَالَقَهُ، وَمُرَافَقَةَ مَنْ رَافَقَهُ، وَمُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَهُ، وَمُمَالَحَةَ مَنْ مَالَحَهُ» ۔ (۳۲)

حضرت امام‌صادق علیه‌السلام نے فرمایا : « اے آل محمد کے شیعو اور پیروکارو ! جان لو کہ وہ شخص  ہم میں سے نہیں ہے کہ جو شخص غصہ کے عالم میں خود پر حاکم اور مسلط نہ ہو ، اور جو اپنے ہم نشینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے ، اور جو اپنے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر مہربانی نہ کرے ، اور جو اپنے رفقاء اور دوستوں کی دوستی کا جواب دوستی سے نہ دے اور جو اپنے پڑوسیوں کا احترام نہ کرے اور پڑوسیوں کے حقوق کی رعائت نہ کرے اور جو کسی کے نمک کے حق کی رعائت نہ کرے » ۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (علیه ‌السلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾، «کَانَ يُوَسِّعُ الْمَجْلِسَ، وَ يَسْتَقْرِضُ لِلْمُحْتَاجِ، وَ يُعِينُ الضَّعِيفَ»۔(۳۳)

حضرت امام ‌صادق علیه ‌السلام نے خداوند متعال کے اس قول «ہم تمہیں احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں» کے بارے میں فرمایا : «وہ مجلس میں جگہ دیتے اور ضرورت مندوں کو قرض دیتے اور مستضعف و ناتوان افراد کی مدد کرتے» ۔

قَالَ البَاقِرُ‌(عليه ‌السلام) : «عَظِّمُوا أَصْحَابَكُمْ وَ وَقِّرُوهُمْ، وَ لَا يَتَهَجَّمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَ لَا تُضَارُّوا ، وَ لَا تَحَاسَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَ الْبُخْلَ، كُونُوا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ» ۔ (۳۴)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : «اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا احترام کرو اور ان میں سے ایک دوسرے سے نزاع و اختلاف اور جارحیت کا مظاہرہ نہ کرے ، اور ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر نہ پہنچاؤ ، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اور بخل سے دوری کرو تا کہ خدا کے مخلص بندوں میں سے قرار پاؤ » ۔

امام ‌حسين علیه السلام کی جانب سے عذر قبول کرنا

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اجتماعی و سماجی آداب اور دور و نزدیک سے حسن معاشرت کے لحاظ سے بلند پایہ اور بے نظیر تھے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی خصلت یہ تھی کہ آپ عفو و درگذر کرنے سے سرشار تھے ۔

جمال‌الدّين محمد زرندی حنفی مدنی نے روايت كی ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے پدر گرامی امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 «اگر کوئی شخص میرے اس کان (آپ نے اپنے دائیں کان کی طرف اشارہ کیا) میں مجھے دشنام دے اور اور میرے دوسرے کان میں کوئی عذر پیش کرے تو میں اس کا عذر قبول کر لوں گا کیونکہ امير المؤمنين علی علیه ‌السلام نے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میرے لئے نقل فرمایا ہے :

«لَا يَرِدُ الْحَوْضَ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْعُذْرَ مِنْ مُحِقٍّ أَوْ مُبْطِلٍ» ۔ (۳۵)

«عذر قبول نہ کرنے والا حوض (كوثر) میں وارد نہیں ہو گا ؛ چاہے عذر لانے والا حق ہو یا باطل» ۔

بھائی کا احترام

امام‌ حسين علیه ‌السلام اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور اہلبیت سے نہایت ادب و احترام ، محبت و رحمت ، لطف و کرم اور انس و محبت سے پیش آتے ۔ ابن ‌قتيبه نے روايت کی ہے کہ ایک شخص سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت سے کسی چیز کی درخواست کی ۔

آنحضرت نے فرمایا : «سوال کرنا شائسته نہيں ہے مگر کسی سنگین قرض یا خوار کرنے والے فقر   یا  اس دیت و تاوان کی وجہ سے کہ جسے ادا نہ کرنا رسوائی کا باعث بنے» ۔

اس نے عرض کیا : میں آپ کی خدمت میں انہی میں سے ایک مورد کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔

امام حسن علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے سو دینار عطا کر دیئے جائیں ۔

پھر وہ شخص امام ‌حسين علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنضرت سے بھی سوال کیا ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس شخص سے اپنے بھائی کا سخن ہی بیان کیا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا : «میرے بھائی نے تمہیں کتنے پیسے دیئے ہیں؟» ۔

اس نے عرض کیا : سو دینار ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام نے اسے ننانوے دینار عطا کئے ؛ کیونکہ آپ اپنے بھائی کی برابری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ (۳۶)

احسان کا بدلہ احسان

ياقوت مستعصمی ؛  اَنَس سے روايت کرتے ہیں کہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«أَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى».

«تم خدا کے لئے آزاد ہو» ۔

میں نے عرض کیا : وہ کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ؟

آپ نے فرمایا : «خدا نے ہمیں ایسے ہی آداب سکھائے ہیں ؛ کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے :

﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ۔ (۳۷)

«اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ (سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب رکھنے والا ہے»۔  (۳۸)

 

حوالہ جات :

۱ ۔ محرّم‌ الحرام کی آمد پر پیغام؛ سنہ 1423ہجری ۔

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : ۳۵ ۔

۳ ۔ نعماني، الغيبه، ص41؛  مجلسی، بحارالانوار، ج2، ص77.

۴ ۔ ماہ محرم الحرام کی آمد پر پیغام ؛ سنہ 1420 ہجری ۔

۵ ۔ صفار، بصائر الدرجات، ص22؛ کليني، الکافي، ج1، ص30؛  حر عاملي، الفصول ‌المهمه، ج1، ص462؛ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص172 ۔

۶ ۔ ابن ‌شعبه حراني، تحف ‌العقول، ص199؛ مجلسي، بحار الانوار، ج1، ص175 ۔

۷ ۔ برقي، المحاسن، ج1، ص229؛ کلينی، الکافی، ج1، ص31 ۔

۸ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

۹ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

 ۱۰ ۔ کوفي، مناقب الامام ‌اميرالمؤمنين علیه‌السلام ، ج2، ص98، 105، 112، 114؛  طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج5، ص167؛  طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص216 ـ 217؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق المحرقه، ص149 – 150 ۔

 ۱۱ ۔ ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق ، ج14، ص184؛  ایضاً ، ترجمة ریحانة ‌الرسول الامام‌ الحسين (علیه ‌السلام) ، ص225؛ علایلي، سموالمعني، ص148 ۔

 ۱۲ ۔ ابن‌کثير ،  البداية و النهايه، ج8 ، ص162 ؛  ر.ک :  علایلي ، سموالمعني، ص99 ـ 100 ۔

۱۳ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ۔

۱۴ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ـ 102 ۔

۱۵ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص148 ۔

۱۶ ۔ کلینی، الکافی، ج 2 ، ص83 ۔

۱۷ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص83 ۔

۱۸ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۱۹ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۰ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۱ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۲ ۔ ابن‌ عبدالبر ، الاستیعاب ، ج1 ، ص397 ؛ ابن ‌اثیر جزری ، اسد الغابه ، ج2 ، ص20 ۔

۲۳ ۔ عقّاد ، ابو الشهداء ، ص145 ۔

۲۴ ۔ یعقوبی ، تاریخ ، ج2، ص226 ؛ سبط ابن جوزی ، تذکرة ‌الخواص ، ص211 ؛ ابی ‌الفداء ، تاریخ ، ج1 ، ص191 ۔

۲۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج  69، ص197 ـ 198 ؛ مرعشی نجفی ، شرح احقاق ‌الحق ، ج 11، ص 595؛ ج19 ، ص420ـ421 ؛ ج27 ، ص203 ۔

۲۶ ۔ ابن ‌طاووس ، اقبال ‌الاعمال ، ج  2، ص 74ـ87 ؛ کفعمی ، المصباح ، ص 671 ـ 681 ؛ ایضاً ، البلد الامین ، ص 251ـ258 ؛ مجلسی ، زاد المعاد ، ص 173ـ182 ۔

۲۷  ۔حميری قمی ، قرب ‌الاسناد ، ص117؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج70 ، ص303 ۔ 

۲۸ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص345 ۔ 

۲۹ ۔ ابن ‌بابویه ، فقه ‌الرضا علیه ‌السلام ، ص363 ؛ مفید ، الاختصاص ، ص253 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص355 ۔

۳۰ ۔ ابن عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج14 ، ص185 ، علايلی ، سمو المعنی ، ص151 ۔

۳۱ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي ‌طالب ، ج4 ، ص65 ؛ محدّث نوري ، مستدرک‌ الوسائل ، ج13 ، ص436 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص 151 ـ 152 ۔

۳۲ ۔کليني ، الکافي، ج2 ، ص637 ۔

۳۳ ۔ کلينی ، الکافی ، ج2 ، ص637 ؛ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج12 ، ص14 ۔

۳۴ ۔ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج14 ، ص15 ؛ ایضاً ، الفصول ‌المهمۃ ، ج3 ، ص355 ۔

۳۵ ۔ زرندی ، نظم درر السمطين ، ص209 ۔

۳۶ ۔ علایلی ، سمو المعنی ، ص152۔

۳۷ ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۸۶ ۔

۳۸ ۔ اربلی ، کشف ‌الغمه ، ج2 ، ص240 – 241 ؛ ابن ‌صباغ مالکی ، الفصول‌ المهمه ، ج2 ، ص786 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص159 ؛ عقّاد ، ابو الشہداء ، ص145 ۔

Sunday / 8 October / 2017