اعضای کمیته علمی «همایش بین‌المللی امیرالمؤمنین علی علیه‌السلام، الگوی عدالت و معنویت برای جهان امروز» صبح امروز چهارشنبه، ۲۴ بهمن ۱۳۹۷ با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی با معظم له دیدار و از رهنمودهای...
يكشنبه: 1397/11/28 - (الأحد:11/جمادى الآخر/1440)

Printer-friendly versionSend by email
فاطميه ؛ باطل پر حق کی فتح
ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا تعلق اس اہلبیت عصمت و طہارت سے ہے کہ جن کے وجود کی وجہ سے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(1)

یعنی اگر ہم نہ ہوتے تو خداوند متعال نہ تو آدم کو خلق  کرتا اور نہ حوا کو، نہ تو جنت کو خلق کرتا اور نہ جہنم کو، نہ تو آسمان کو خلق  کرتا اور نہ زمین کو۔
حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے:

«فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(2)

یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(3) (میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیاہے)

اور دوسری حدیث میں فرمایا:«لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(4). (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا)

انسان بالکل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خداوند متعال کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں کہ میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور پوری کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا ؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(5)

یعنی ہم نے تمہیں اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تمہاری معرفت کا حق تھا۔

یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہ جاؤن کیونکہ اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے. نیز آپ نے فرمایا:«لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں کوئی چیز تعلیم نہ دو ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ یہ تم سب لوگوں سے اعلم ہیں.

اب اہلبيت عصمت و طہارت عليہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله عليہا کے درمیان ایک خاص محوریت ہے؛ ملاحظہ فرمائیں کہ جب اہلبیت علیہم السلام کا تعارف کروایا تو سیدۂ دو عالم جناب زہراء سلام اللہ علیہا مرکزیت کی حامل ہیں «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(6)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے لحاظ سے مقام امامت پر فائز  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا :«إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا»  اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں:

 «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(7) گرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضَبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(8) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:

«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(9)

اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ اس کا مؤلف سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته.»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے کلمات اور بالخصوص آپ کا وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ لوگوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہیں اور آنحضرت نے دنیا تک عورت کی کرامت اور حقیقی مقام پہنچایا اور فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد،جہالت و گمراہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہےاور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔

 اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

حوالہ جات:
۱۔ عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج1، ب26، ح22.
۲۔ نهج البلاغة، نامه28.
۳۔ الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص710.
۴۔ بحار الانوار؛ ج15،ب1، ح48.

۵۔ بحار الانوار؛ج68،ب61، ح1.
۶۔ عوالم العلوم، ص933.
۷۔ نهج البلاغة، خ233.
۸۔ صحيفه امام رضا عليه السلام، ص45،ح22.
۹۔ البرهان متقي هندی، ص94.

پنجشنبه / 4 بهمن / 1397