اعضای کمیته علمی «همایش بین‌المللی امیرالمؤمنین علی علیه‌السلام، الگوی عدالت و معنویت برای جهان امروز» صبح امروز چهارشنبه، ۲۴ بهمن ۱۳۹۷ با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی با معظم له دیدار و از رهنمودهای...
يكشنبه: 1397/11/28 - (الأحد:11/جمادى الآخر/1440)

Printer-friendly versionSend by email
ایّام فاطمیہ میں مجالس عزاء کا انعقاد

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليك يا بنت رسول الله ،  السلام عليك يا سيدة نساء العالمين. اللّهمّ صلّ علی السّيدة الزکية فاطمة الوليّة، اللّهمّ صلّ عليها و أبيها و بعلها و بنيها وا ُمّها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين.

﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾.[۱]

سب سے پہلے ہم حضرت صديقهٔ کبري فاطمۀ زهراء سلام الله علیها و علي أبيها و بعلها و بنيها و أولادها الطيبين الطاهرين المعصومين کی شہادت کی مناسبت سے آپ تمام محترم بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

اور امید کرتے ہیں کہ ہم سب حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا سے توسل کی برکات سے بہرہ مند ہو کر  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی رضائیت حاصل کر سکیں ۔ نیز ہم گفتار و رفتار اور قول و عمل سے مذہب و معارف اہلبیت علیہم السلام کی ترویج اور عزت کا باعث بنیں ۔

حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجالس عزاء بہت اہمیت کی حامل ہیں ۔ یہ مجالس امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل کو شاد کرنے اور آپ کی رضائیت کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ ان کے ذریعے آپ اسلام اور تشیع کی عزت کے اسباب فراہم کرتے ہیں ۔ مذہب تشیع اور دین اسلام کی بقاء حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے وجود کے وسیلہ سے ہے ۔

’’حضرت زہراء سلام اللہ علیہا السلام کی شخصیت‘‘ ؛ اس موضوع کے بہت وسیع پہلو ہیں اور اس بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے ، پھر بھی بحث کبھی اختتام پذیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ وہ ذات ہے کہ جس کی معرفت و شناخت کے لئے اس کے مشہور و معروف خطبے پر غور و فکر کرنا ہی  کافی ہے ( البتہ یہ بھی ہماری عقل و فہم کے مطابق ہے ، ورنہ ہم اس عظیم خطبے کے اہم مطالب و مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ۔ مجھ جیسا شخص اور مجھ سے بلند پایہ اور بالا تر حضرات اُس طرح سے اس خطبے کے عمق تک نہیں پہنچ سکتے کہ جس طرح اس کے عمق تک پہنچنے کا حق ہے )۔

بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا خطبہ عظیم معجزات میں سے ہے ۔ اس معجزہ کا مادی اور حسّی و ظاہری معجزات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ؛ جیسے مردوں کو زندہ کرنا ۔ ان بہت سخت اور دشوار حالات میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں جا کر اعلیٰ مطالب و مضامین پر مشتمل بالبدیہہ ایسا عظیم خطبہ دینا اہلبیت علیہم السلام کے معجزات میں سے ہے ۔

اس خطبہ کے ضمن میں حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا ایک جملے میں گلہ و شکوہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

«مَا هَذِهِ الْغَمِيزَةُ فِي حَقِّي» ؛  [۲]

«میرے حق میں تمہارا یہ ضعف کیسا ہے؟» ۔

حضرت فاطمۂ سلام اللہ علیہا کا اب  بھی یہی شکوہ ہے ۔ اب بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی تمام مسلمانوں سے یہی کہہ رہی ہے کہ مسلمان ؛ قرآن مجید ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام ، حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، نافذ نہ ہونے والے اسلامی احکام ، حجاب ، عفت ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے بارے میں کیوں کمزوری دکھاتے ہیں ؟ اب بھی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی بیٹی حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی یہی فریاد ہے کہ تم دین کی مدد و نصرت کرنے میں کیوں سستی کا مظاہرہ کرتے  ہو ؟ (یعنی تم دین کو کیوں اہمیت نہیں دیتے ؟) ۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے اور اپنی ذات کے لئے فکر مند نہیں تھیں ؛ خدا جانتا ہے کہ حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء علیہا السلام ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور آج کے دور  میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو صرف دین اور احکام دین کی فکر ہے کہ آخر دین کے احکام کیوں نافذ نہیں ہوتے ۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی یہی فرماتی تھیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف بھی یہی فرماتے ہیں ۔ جب احکام دین میں سے کسی کو پامال کیا جاتا ہے تو خدا جانتا  ہے کہ یہ کس قدر پریشان ، محزون اور غمگین ہوتے ہیں ۔ آئیں ! اور فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ  تعالی فرجہ الشریف کے دل کی پریشانی کو کم کریں ۔

میں آپ سب کی توفیقات کے لئے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ سب کی خدمات اور زحمات بارگاہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف میں مقبول ہوں   اور وقت کے امام خود آپ کے لئے دعا کریں اور آپ کے لئے توفیقات طلب کریں ۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کروں ، کیونکہ ان مجالس وعزادری  اور فرش عزاء کے صاحب خود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں  ۔ ان مجالس سے امام راضی و خوشنود ہوتے ہیں اور ان کے دل سے حزن کم ہوتا ہے ۔ جو کوئی بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل سے یہ پریشانی اور غم و اندوہ کم کرے وہ خدا کا ولی اور دوست ہے ۔

یہ مجالس شعائر دين ہیں اور تقوائے قلب کی نشانی ہیں :

﴿ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‏﴾.[۳]

اپنی قدر و اہمیت کو پہچانیں ۔ انسان کے دل میں وارد ہونے والے یہ الہامات اور توجہات بے مقصد نہیں ہیں ؛ بلکہ ان کا تعلق عالم غیب سے ہے ، ان کا تعلق دلوں میں حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے تصرفات  سے ہے ۔ اور ان کے ذریعے سے آپ کی اہلببیت اطہار علیہم السلام سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔

ان مجالس کا انعقاد کرنے والے اور ان میں شرکت کرنے والے لائق تحسین ہیں اور ہم ان کے شکرگذار ہیں ۔

آج فرزند زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی رضائیت کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ آج اس طرح سے عمل کریں کہ وقت کے امام ہم سے راضی و خوشنود ہو جائیں اور یہ فرمائیں کہ میرے شیعہ کتنے اچھے ہیں ، میرے دوست کس قدر اچھے ہیں ۔ خداوند متعال ہم سب کو یہ توفیق عنائت فرمائے اور ہم سب کے گذشتگان پر رحمت فرمائے اور آپ کو آپ کی ان خدمات کا احسن اجر عطا فرمائے ۔

والسلام عليکم ورحمة الله وبرکاته

حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے پیغامات سے اقتباس

 

 


[1]. سورۂ حج  ، آیت : ١٥٨ ۔ «یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے  گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہو گی » ۔

[۲]. طبری امامی، دلائل الامامه، ص120؛ ابن‌شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج2، ص50؛ طبرسی، الاحتجاج، ج1، ص139؛ مجلسی، بحار الانوار، ج29، ص227 ۔

[۳]. سورۂ حج ، آیت : ٣٢ ۔

پنجشنبه / 4 بهمن / 1397