در کتاب شريف و گرانسنگ عيون اخبار الرضا عليه آلاف التحیة و الثناء، محدّث جليل و شیخ اعظم صدوق رضوان‌الله تعالي عليه از عبدالسّلام بن صالح هروي روايت مي‌کند که امام رضا علیه السلام فرمود: «رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی...
شنبه: 1399/05/25

Printer-friendly versionSend by email
ماہ رمضان میں دعاؤں کا خزانہ
ماه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات /10)

بسم الله الرحمن الرحیم

ماہ رمضان میں روزہ داروں کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دعا و مناجات اور خدائے قاضی الحاجات سے حاجات طلب کرنا ہے۔

دعا، نا امیدی سے نجات

خدا سے ہر وقت دعا کرنا،اسے پکارنا اور اس سے خیر طلب کرنا مستحب ہے اور یہ نفسیاتی لحاظ سے توان بخش، دل کے لئے باعث فرحت و نشاط اور فکری و روحانی قوت کی تجدید کا باعث ہے۔

«دعا»، روح کی مقوی غذا ہے جو غم و اندوہ کو برطرف کرنے، پریشانیوں کو ختم کرنے، مستقبل کے سلسلہ میں امید بخش  اور ناامیدی سے نجات کا سبب ہے۔

دعا؛یعنی پروردگار کو پکارنا،اس سے مدد طلب کرنا اور خدا سے حاجتیں طلب کرنا ہے۔انسان فطری طور پر اس عظیم نعمت اور خدا کی وسیع رحمت سے بہرہ مند ہے۔

انسان کا لایزال قدرت کی پناہ میں آنا

انسان جس قدر بھی قوی اور طاقتور بن جائے لیکن اس کے باوجود مشکلات اور سختیوں میں خدا کے وجود کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی سے پناہ طلب کرتا ہے، اور مشکلات،پریشانیوں اور سختیوں سے نجات کے لئے اسی کو پکارتا ہے کیونکہ وہ سب سے برتر، سب سے بے نیاز اور سب کا کارساز ہے۔ انسانی فطرت ہی خدا کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور کار ساز اور چارہ گر نہیں ہے: «قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتاكُمْ عَذابُ اللهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السّاعَةُ اَغَيْرَاللهِ تَدْعُونَ اِن كُنْتُمْ صادِقِينَ بَلْ اِيَّاهُ تَدْعُونَ»(1)

اگر افتي به دام ابتلايي                 به جز او از كه ميجويي رهايي(2)

انسان زندگی کے اتار چڑھاؤ، حیات کے مختلف حادثات  اور دشوار و ناگوار حالات میں کبھی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں اسے اپنے لئے دعا کے علاوہ کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا اورجہاں صرف دعا ہی اس  کے ضعف اور روحانی ناتوانی کی تلافی کر سکتی ہے۔

عقدہ کشائی ؛ انسان کی ایک اہم ضرورت

ہر بیمار اور پریشان حال شخص کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،ان میں سے ایک «دعا» ہے۔ ہر بیمار اور پریشان شخص کو کسی دوست کی بھی ضرورت ہوتی کہ جس سے وہ اپنا درد دل بیان کر سکے اور اسے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرے ،اسے اپنی مشکلات بتائے  اور  اس وقت اس کے دل میں جو بات آئے وہ اس کے سامنے بیان کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہی ’’عقدہ کشائی‘