شب قدر، شب نور، رحمت و شب نزول قرآن و مَطلع خیرات و سعادات، و هنگام نزول بركات و سرآغاز زندگی نوین بشر و مبدأ تحوّل و تاریخ كمال واقعی انسان‎هاست. * شب قدر، شب آزادی بشر شبی كه اگر نبود و نیامده بود، شب تیره بدبختی انسان به پایان نمی‎رسید و...
دوشنبه: 1397/04/4 - (الاثنين:11/شوال/1439)

Printer-friendly versionSend by email
شب قدر؛ کمالِ انسانیت کی تاریخ کا آغاز
اه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8

شب قد؛ شب نور ، شب رحمت ، شب نزول قرآن اور شب مَطلع خیرات و سعادات ہے ۔ شب قدر  برکتوں کے نزول کا وقت اور انسان کی نئی زندگی کا آغاز ہے  یہ انسانوں کے لئے تبدیلی کی شروعات اور حقیقی و واقع کمال کی تاریخ ہے ۔

* شب قدر؛ انسانی آزادی کی رات

یہ ایسی رات ہے  کہ اگر اس رات کا وجود نہ ہوتا تو انسانوں کی بدبختی کی  تاریک رات کبھی اختتام پذیر نہ ہوتی، نیک بختی کی صبح کا سورج طلوع نہ ہوتا اور انسان کبھی بھی طاقتوروں اور استعمار گروں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔

شب قدر ایک مبارک رات  ہے ۔ یہ رات انسان کی آزادی ، انسانی حقوق اور عادلانہ حکومت کے اعلان کی رات ہے ۔ یہ رات غفلت  زدہ ، نادان ، فساد و تباہی اور گمراہی سے آلودہ اقوام وملل کے لئے صبح ہدایت و بیداری اور  آگاہی و فلاح ہے ۔ اس رات میں سب سے عظیم اور محترم آسمانی کتاب نازل ہوئی کہ جو تا ابد جاویداں ہے اور جو انسان کی رہنمائی اور سعادت کی ضامن ہے ۔ اس نے اپنی ملکوتی کرنوں سے دنیا سے شرک ، مجوس کی ثنویت ، عیسائیوں کی تثلیث ، یہودیوں کی خرافات اور بت پرستی کی ظلمت و تاریکی کا خاتمہ کر کے توحید اور خدائے یگانہ کی پرستش کو اجاگر کیا ۔ 

اگر یہ (مبارک) رات نہ ہوتی تو اپنی تمام تر اقدار ، علوم و معارف ، اخلاقیات ، عرفان اور فقہ کے باوجود بھی عظیم اسلامی تمدن کا وجود نہ ہوتا ۔ نیز اس کے دامن میں پرورش پانے والی اعلیٰ شخصیات بھی موجود نہ ہوتیں ۔

* انسانی سماج کی ترقی میں شب قدر کے اثرات

انسان نے نزول قرآن کے بعد جومنزلیں  طے کیں اور اس کے بعد بھی انسان جن منزلوں تک پہنچے گا ؛ وہ سب اس رات اور قرآن کی ہدایت کی برکات ہیں ۔

انسانی اہداف کی پیشرفت اور انسانی سماج کی ترقی میں اس مبارک رات کے اثرات کو آشکار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان عظیم تحریکوں اور انقلابات کو ملاحظہ کریں کہ جو قرآن کی آزادی بخش تعلیمات کے زیر سایہ انسان کو چودہ صدیوں میں علم و صنعت اور تمدن کے میدان میں حاصل ہوئی ہیں ۔ اور اس زندگی کا قرآن سے پہلے کی کم رنگ ، خاموش اور ساکن زندگی  سے موازنہ کریں تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کس طرح اسلامی  جنبش و تحریک ، قیام مسلمین اور خدا کے عظیم پیغمبر حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت اصلاحات ، جنبش اور آزادی خواہانہ انقلابات کی ابتداء ہے کہ جس نے کاروانِ انسانیت کو سرعت اور تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ یہی انسان صدیوں سے سستی اور ناتوانی سے قدم اٹھا رہا تھا لیکن (اسلام نے ) اسے چودہ صدیوں میں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اس کی فکر زمین ، چاند ،  ستاروں اور کہکشانوں کی حدوں سے بھی آگے بڑھ گئی ۔

* قرآن؛محور شب قدر

جی ہاں ! قرآن نے افکار کو بدل کر رکھ دیا ۔ اس نے انسان کی شخصیت کو محترم شمار کیا اور واضح طور پر انسانی حقوق کا اعلان کیا ، اس نے افراد کی پرستش اور انفرادی و شخصی طاقت کی مذمت کی ۔ اس نے بیت المال اور دوسرے امور میں امتیازات کی نفی کی اور سب کے لئے برابر شہری و مدنی حقوق قرار دیئے ۔ 

* شب قدر کے مخفی ہونے کا راز

قرآن نے شب قدر کو «لیلة المباركة» قرار دیا ہے اور اس کی شان میں ایک سورہ نازل فرمایا ہے اور اس رات کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ تعیینِ شب قدر میں اختلاف ہے لیکن معتبر روایات سے اخذ شدہ قابل اعتماد اور متحقق قول یہ ہے کہ شب قدر ؛ ماہ رمضان کی انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں رات سے خارج نہیں ہے ۔ اور قوی احتمال یہ ہے کہ شب قدر ؛ تئیسویں کی رات ہے ۔ بعض روایات جیسے «روایت جهنی» بھی اس قول کی تائید کرتی ہیں ۔ اور کچھ دوسری روایات سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ ان تین راتوں میں سے ہر ایک رات ؛ شب قدر ہے ۔

بہرحال اگر قطعی و یقینی طور پر شب قدر معلوم نہ ہو تو بھی اس کے محفی و نہاں ہونے میں حکمت اور مصلحت ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک مصلحت یہ ہو کہ مسلمان اس مہینے کی ہر رات اور کم سے کم ان تین راتوں میں خداوند متعال کی عبادت ، قرآن کریم کی تلاوت ، علوم و معارف کے حصول  اور حقائق کو جاننے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں ۔ اور اس پورے مہینے کو «ماه قرآن» قرار دیں ، جب کہ انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں کی راتوں کو صبح تک بیدار رہتے ہوئے توبہ و استغفار ، اصلاح و احوال ، تلاوت قرآن اور دعا و مناجات میں بسر کریں ۔

شب قدر کے مخفی ہونے میں ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر شب قدر اپنی تمام قدر و منزلت اور فضیلت کے ساتھ پہچانی جائے تو بہت سے لوگ صرف اسی رات میں عبادت کرنے پر اکتفاء کرتے اور یوں (ماہ مبارک رمضان کی ) دوسری راتوں میں دعا و مناجات کے فیوضات کی جانب توجہ نہ کرتے ۔ نیز ممکن ہے کہ یہ کبھی کسی کے لئے غرور اور تکبر کا باعث بنتی ؛ لہذا یہ رات اس لئے پنہاں اور مخفی ہے  کہ مؤمنین ہر وہ رات ذکر الٰہی ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات میں بسر کریں کہ جس کے شب قدر ہونے کا احتمال ہو تا کہ وہ زیادہ برکات اور ثواب سے مستفیض ہو سکے ۔ اور زیادہ مشق کے ذریعے اس میں ملکات فاضلہ راسخ ہو سکیں ۔

 

* شب قدر سے معنویت کا حصول لازم ہے

پس شب قدر ایک سنہری اور قیمتی موقع ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس رات کو اسلامی حالات کے بارے میں تفکر اور قرآن مجید کی تعلیمات کے بارے میں توجہ کرتے ہوئے اسے غینمت شمار کریں اور اس رات میں قرآن اور اس کے احکام کے ساتھ اپنے رابطے کے بارے میں سوچیں ۔

ان مبارک اور با فضیلت راتوں میں شب بیداری کریں ؛ کیونکہ دعا اور حدیث کی کتابوں میں ان راتوں میں شب بیداری کی فضلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں ۔ شب قدر ایسی رات ہے کہ جس میں خانۂ خدا کی طرف جانے والے ہر شخص کو معنوی سعادت اور تقرب کی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ 

* شب قدر ؛ امام زمانہ ارواحنا فداہ کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے کی رات

اس رات کے اہم ترین وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ولیّ امر حضرت بقیة اللهعجّل الله تعالی فرجهالشریف کے ساتھ تجدید عہد کرے اور یہ معروف دعا «اَللهم كُن لِوَلِیكَ...» پڑھے ؛ کیونکہ شب قدر کا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے خاص تعلق ہے ۔ اس رات ملائکہ (اور روح الأمین) حضرت ولی الأمر صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر نازل ہوتے ہیں ۔قرآن و عترت اور کتاب مبین و امام مبین سے تمسک کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مؤمنین شب قدر میں قرآن مجید اور روئے زمین پر خدا کی آخری حجت بقیۃ اللہ ، بقیۂ عترت ہادیہ اور اس آیۂ کریمہ «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَینا مِنْ عِبَادِنَا» کے حقیقی مصداق یعنی حضرت حجّة بن الحسن العسكریروحی و ارواح العالمین له الفدا سے متمسّك ہوں ۔ اور وہ یہ جان لیں کہ حدیث ثقلین جیسی متواتر روایات کی رو سے ضلالت و گمراہی سے امان اور نجات صرف قرآن و عترت سے متمسک ہونے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ ان تمام انحرافات ، (خرافات)اور مختلف قسم کی سرگردانی سے نجات «قرآن و عترت» سے توسل و تمسک کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

ہم سب اس رات کو غنیمت جانیں ؛ معارف دین کے حصول ، توبہ ، تجدید عہد ، دعا ، اخلاقی خود سازی ، تذکیہ ٔنفس ، خدا پر ایمان کی تجدید ، حساب وکتاب اور معاد پر یقین ، دھوکہ دہی سے نیتوں کو پاک کرنے ، مسلمان بھائیوں کے بارے میں بغض و کینہ کو ختم کرنے ، (نیک مقدرات ) خیر و سعادت ، ہدایت اور تمام نوع انسانی کے لئے امن و امان کی دعا کریں اور سب سے بڑھ کر اس مبارک رات میں صاحب العصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ؛ کیونکہ یہی ذات «بيمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الأرض و السماء» ہے ۔

امید ہے کہ ان مبارک راتوں میں خالصانہ دعاؤں کی برکت سے تمام اداروں اور شعبوں میں اسلامی جلوہ زیادہ سے زیادہ اجاگر ہو اور اس رات میں تمام اقتصادی ، سماجی و معاشرتی اور اخلاقی کمزوریاں برطرف ہو جائیں ۔

میں شب قدر کی مبارک راتوں میں شب بیداری کرنے والوں سے خاضعانہ طور پر استدعا کرتا ہوں کہ وہ رؤوف ، کریم ، عزیز ، مہربان ، محبوب قلب عرفاء ، ذخیرۂ انبیاء ، یوسف زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف متوجہ ہوں اور یہ راتیں صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی یاد ، دعائے فرج اور آپ کی عالمی ، عادلانہ (اور  آفاقی ) حکومت کے قیام کی دعا میں بسر کریں ۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور اور فرج کے لئے دعا کریں تا کہ آپ سب کے لئے گشائش مہیا ہو ۔ ان مبارک راتوں میں سب مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حضرت حجّة بن الحسن العسكری روحی و ارواح العالمین له الفدا کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔

آئیں اور بقیۃ اللہ الأعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے محکم و استوار عہد کریں کہ ہم سب اپنی زندگی امام کی رضا و خوشنودی  کی راہ میں بسر کریں گے اور مسلمانوں کی مشکلات کی وجہ سے امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے غم و حزن کو برطرف کریں گے ۔

پنجشنبه / 17 خرداد / 1397