بسم الله الرحمن الرحیم قال الله تعالی: «وَ ذَكِّرْهُمْ بِأَیّامِ الله» السَّلام علی مولانا صاحب العصر و الزّمان بقية الله ارواح العالمين له الفداء و علی آبائه الطّاهرين و علی شيعته، المتمسِّکين بأمره، الفائزين بولايته و المنتظرين لظهوره...
دوشنبه: 1397/08/28 - (الاثنين:11/ربيع الأول/1440)

Printer-friendly versionSend by email
عرفه ، محبوب سے عافیت طلب کرنے کا دن
روز عرفہ کی مناسبت سے آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مد ظله الوارف کے نوشتہ جات سے اقتباس

عرفہ کا دن عبادت اور خدا پرستی کا دن ہے۔ ایک ایسا دن کہ جس میں انسان خود کو دوسرے تمام ایّام کی بنسبت خدا کی رحمت سے زیادہ قریب پاتاہے۔

  دعائے عرفه، نور ہے :

 اس دن انسان جو بھی دعائیں پڑھتا ہے وہ سب اسے عروج تک پہنچاتی ہیں، نیز فکر اور روح کو کمال عطا کرتی ہیں ۔  بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ کہ جس کے معارف اور اعلٰی مطالب کو بیان نہیں کر سکتے ۔

اس دعا کا ہر جملہ نور ہے جس کی کرنیں انسان کے باطن کو منور کرتی ہیں اور اس سے کدورت اور برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ اس دعا کا ہر جملہ حیات و زندگی اور سعادت کی تفسیر کرتا ہے اور انسان کو عطا ہونے والی خدا کی نعمتوں کو شمار کرتا ہے اور ان نعمتوں کے مقابلہ میں خدا کے شکر میں تقصیر کی وضاحت کرتا ہے۔ انسان معرفت کے جس درجہ پر بھی ہو وہ اس دعا کو پڑھ کر لذت  محسوس کرتا ہے اور روحانی عوالم میں اپنا مشاہدہ کرتا ہے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں خود کو زیادہ حاضر پاتا ہے ۔

جس سماج اور معاشرے کے پاس ایسے ایسے عرفانی اور تربیتی ذخائر موجود ہوں اس کے حالات اور زندگی کے تمام امور سے نور و معنویت نظر آنی چاہئے اور مال و منال اور دنیا کے اعتبارات سے بے اعتنائی ظاہر ہونی چاہئے ۔

 

دنيا و آخرت کی سعادت عافیت کے مرہون منت :

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ میں خداوند کریم سے جو حاجتیں طلب کرتے ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حاجت بدن اور دین میں عافیت ہے۔«اللّهم .... عَافِني في بَدني و ديني»۔ جس کے پاس خداوند کریم کی یہ دو نعمتیں موجود  ہوں اس کے پاس دنیا و آخرتے کی سعادت ہے۔

 

بدن میں عافیت  :

بدن میں عافیت سے تندرستی،  بیماریوں سے محفوظ ہونا،  اعضاء و جوارح کا سالم ہونا اور خلقت میں کمال مراد ہے کہ جو خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے  ۔ مختلف انواع و اقسام کی بیماریوں سے سالم ہونا ایک الگ الگ نعمت شمار ہوتی ہے اور اکثر لوگ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے غافل ہیں چونکہ وہ خود نعمت سے غافل ہیں یا بالکل نعمت کو نہیں پہچانتے کیونکہ ان نعمتوں سے جاننے کے لئے متعدد علوم سے بطور کامل واقف ہونے کی ضرورت ہے کہ جو انسان کے اعضاء و جوارح سے مربوط ہیں جیسے انسان کے گوشت، جلد، ہڈیوں،  رگوں،  خون،  جوڑوں،  مختلف قسم کے خلیہ،  اور ظاہری و باطنی اعضاء و جوارح سے متعلق علوم ۔  اگر فرض کریں کہ کسی انسان کو ان تمام علوم کی اطلاع ہے لیکن چونکہ یہ علوم بھی ابھی تک کامل نہیں ہوئے لہذا اس بارے میں انسان خدا کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان کا شکر اداکرنے سے قاصر ہے ۔

 

دين اور اس کی انواع میں عافیت :

دین میں عافیت کی اہمیت زیادہ ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بدن میں عافیت عبد پر احتجاج اور جزا و سزا کے مستحق ہونے کا زیادہ ذریعہ ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں ۔

 

*  فكري و اعتقادي عافیت :

فكري و اعتقادي عافيت سے یہ مراد ہے کہ انسان خدا کی شناخت، خدا کی صفات اور اسماء الحسنیٰ کی معرفت،  ملائکہ کی شناخت ،  نبوت ، پیغمبروں،  وحی ،  امامت اور بالخصوص خاتمالأنبياءحضرت محمد صلي الله عليه وآله وسلّم اور آپ کے خلفاء کی معرفت ،  معاد و قیامت  کی شناخت رکھتا ہو ،  المختصر یہ کہ تمام اعتقادی امور میں اس کا ایمان انحرافات سے سالم اور بدع و شبہ سے پاک ہونا چاہئے ۔  نیز انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت ختمي مرتبت صلي الله عليه وآله وسلّم نے جو خط کھینچا ہے اس سے خارج نہیں ہونا چاہئے نیز ان سب امور کو صحیح عقلی و نقلی(روائی)معیار سے حاصل کیا گیا ہو اور حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جو کچھ بھی نازل ہوا ہے ، اس پر ایمان رکھتا ہو چاہے وہ اصول ہوں یا فروع ۔ حتی کہ انسان اعتقادی امور میں کسی جزئی امر اور فروعات میں کسی چھوٹی سے چھوٹی فرع اور شرعی و عملی احکام پر مطمئن طور پر ایمان رکھتا ہو اور تمام امور میں اپنے نفس کو شریعت کے تابع قرار دے ۔  یہ واضح ہے کہ کبھی کبھار ایک انحراف اور دین اسلام کے کسی ایک مسلّم موضوع کا انکار اس کے کفر کا باعث بن جاتا ہے ۔

 

* اخلاقي عافيت :

اخلاقی عافیت سے مراد انسان کا اسلامی اخلاق سے آراستہ ہونا ہے کہ جو قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم سے مروی احادیث میں بیان ہوئے ہیں مثلا : صبر ،  زہد ،  توضع ،  صداقت ،  سخاوت ،  شجاعت ،  عدالت ،  رحم ،  حلم و بردباری ،  عفّت ،  مروّت ،  حرّيت ،  عفو و درگزر ،  ايثار، صله رحم، ہمسایوں اور ماں باپ کے حقوق کی رعايت کرنا ،  مواسات ، احسان ، انصاف ، نرم لحجہ ، وعدہ کو وفا کرنا ،  تفويض ،  توكّل ، رضا و تسليم اور وہ تمام صفات حميده اور مكارم اخلاق كه جن کی قرآن مجيد ، احاديث مبارکہ اور دعاؤں میں ترغیب دلائی گئی ہے اور جن کی تاکید کی گئی ہے ۔

اور اس معروف حدیث کی رو سے: «اِنّما بُعِثْتُ لاُتَمِّمَ مَكارِمَ الأخلاق» پيغمبر اكرم صلي الله عليه وآله وسلّم مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں.

اخلاق کے موضوع پر اسلام کی تعلیمات سب سے کامل تعلیمات ہیں۔ علم اخلاق کو حکمت عملی کا نام دینے والے بہت سے حکماء بھی حکمت عملی میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ اس موضوع پر اسلام کی تعلیمات کے بعد دوسروں کے لئے کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

اخلاق کی کتابیں، شعراء کے اشعار اور مکتب اسلام میں تربیت شدہ مسلمانوں سے نقل ہونے والی حکایات نے مسلمانوں کو اخلاق  کے موضوع پر اس قدر غنی اور صاحب افتخار بنا دیا ہے کہ جس سے بڑھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پيغمبر اكرم صليالله عليه وآله وسلّم جیسی شخصیت كه جن سے خدا نےخطاب فرمایا ہے: «اِنَّكَ لَعَلي خُلُق عَظيم» آنحضرت سب سے اعلٰی انسانی اخلاق کے حامل تھے اور اعراب جاہلیت(جن کی عادات کو بدلنا ایک ناممکن امر لگتا تھا) میں آپ کی دعوت کے اس قدر عام ہونے کی ایک وجہ آپ کا اخلاقہ کریمہ و حسنہ ہے ۔

اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہل بیت امر المؤمنین اور ائمہ طاہرین علیہم السلام  بھی اخلاق انسانی کے اعلٰی و اکمل نمونہ ہیں ۔  دوست اور دشمن سبہی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کی غیر معمولی محبوبیت کا سرّ و راز یہی اخلاق ہے ۔

 

* عملی عافيت :

علمی عافیت یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال و افعال میں(چاہے وہ فردی ہوں یا اجتماعی ،  سیاسی ہوں یا مالی) اور اسی طرح عبادات  اور واجبات و فرائض میں اسلامی شریعت کے احکام کی مکمل رعائت کرے اور ان احکامات کی پابندی کرے کہ جو فقہ کی کتابوں میں درج ہیں ۔معصیت اور مخالفت سے پرہیز کرے اور تقویٰ اختیار کرے حتی گناہان صغیرہ سے بھی پرہیز کرے اگرچہ گناہان کبیرہ سے اجتناب کرنے کی صورت میں گناہان صغیرہ سے درگذر کا وعدہ دیا گیا ہے ۔اور اس طرح سے عمل کرے جس طرح سے اس شعر میں بیان ہوا ہے:

خلّ الذنوب صغيرها و كبيرها فهو التقي *كُن مثل ماش في طريق الشوك تحذرماتري*لاتحقرن صغيرة ان الجبال من الحصي؛

گناہان صغیرہ و کبیرہ سے پرہیز کرو کہ یہ عمل تقویٰ ہے اور راستہ میں چلنے والے اس شخص کی طرح بنو کہ جو خاردار راستہ پر احتیاط سے قدم بڑھاتا ہے۔ اور کسی بھی چھوٹے (گناہ) کو حقیر شمار نہ سمجھو کیونکہ سنگریزوں سے مل کر ہی پہاڑ بنتا ہے۔

 

 

شنبه / 27 مرداد / 1397