بسم الله الرحمن الرحیم با عرض سلام و ادب و احترام خدمت بزرگواران علماي اعلام، اساتيد و فضلاء و طلاب عزيزي که در نشست علمی«مسائل مستحدثه و حوزه علمیه؛ چالش ها و رویکردها» که در جوار آستان ملک پاسبان عالم آل محمّد حضرت علی بن موسی الرضا علیهماالسلام...
جمعه: 1397/08/25 - (الجمعة:8/ربيع الأول/1440)

Printer-friendly versionSend by email
حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد : گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری زیادہ شاندار انداز میں منعقد ہو گی ۔/ لوگوں میں مکارم اخلاق کی ترویج کے لئے حوزۂ علمیہ کے مبلغین پر بہت اہم اور سنگین ذمہ داری عائد ہوت
حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد سے مبلغین کی ملاقات

 

-  گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری زیادہ شاندار انداز میں منعقد ہو گی ۔

-  لوگوں میں مکارم اخلاق کی ترویج کے لئے حوزۂ علمیہ کے مبلغین پر بہت اہم اور سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔

-  امر بالمعروف اور نہی از منکر کو احیاء کرنا معاشرے کے نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

 ماہ محرم الحرام اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے ایّام عزاء کی آمد کی مناسبت سے ملک کے پسماندہ علاقوں میں تبلیغ کی غرض سے جانے والے مبلغین نے حجۃ الاسلام و المسلمین صافی گلپایگانی سے ملاقات کی ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین صافی نے جلسہ کے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس  کے ضمن میں عزداریِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تعظیم کی اہمیت کے بارے میں ایک روایت کی طرف اشارہ کیا اور تبلیغ کو بہت اہم امر قرار دیتے ہوئے  کہا کہ اسلامی اہداف و مقاصد کے حصول اور معاشرے کو فضائل ، اچھائیوں اور نیکیوں سے آراستہ کرنے کے لئے تبلیغ بنیادی اور بے بدیل کردار کی حامل ہے ۔

حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے امر بالمعروف اور نہی از منکر کے فریضے کو مبلغین کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے قرار دیا اور کہا کہ اس فریضہ کو احیاء کرنا سماج میں موجود نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کے بیانات کا مکمل متن کچھ یوں ہے :

بسم الله الرحمن الرحيم. الحمدلله رب العالمين و الصّلاة و السلام علي سيّدنا و نبيّنا حبيب إله العالمين أبي القاسم محمد و علي اهل بيته المعصومين سيّما مولانا بقية الله في الأرضين و اللّعن علي اعدائهم اجمعين الي يوم الدين. قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: «إن للحسين عليه السلام حرارة في قلوب المؤمنين لن تبرد ابداً» السلام عليک يا مولاي يا ابا عبدالله و علي الأرواح الّتي حلّت بفنائک.

* ماہ محرم میں اہل البیت علیہم‌السلام کی سیرت :

محرم الحرام اور آل محمد علیہم الصلاۃ و السلام کے غم و حزن کے ایّام نزدیک ہیں ۔ یہ وہ ایّام ہیں کہ جن میں ہم سب کے آقا و مولا اور سید و سالار حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف محزون ہوتے ہیں ۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : ماہ محرم کی آمد کے پہلے دن سے ہی کوئی میرے بابا کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھتا تھا ۔

یہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت ہے کہ وہ خود محرم الحرام میں مجالس عزاء کا انعقاد کرتے تھے اور ہمیں بھی ان معصوم ہستیوں کی پیروی کرتے ہوئے انشاء اللہ اس عظیم ذمہ داری کو بہترین ممکن صورت میں انجام دینا چاہئے ۔  اور خداوند متعال کے فضل و کرم اور عنایات سے یہ گذشتہ سالوں سے بھی زیادہ بہتر اور شاندار انداز میں انجام پائے گی ۔

روایات میں ہے کہ کچھ لوگ حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : جب ہمارے رشتہ داروں اور اقوام میں سے کوئی شخص اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو ہم کچھ عرصے تک اس کے  لئے عزاداری کرتے ہیں اور پھر یہ عزاء ختم ہو جاتی ہے ۔ لیکن سالہا سال سے جب بھی محرم آتا ہے تو آپ کس طرح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے مجلس عزاء برپا کرتے ہیں ؟

امام صادق عليه ‌السلام نے فرمایا : جب محرم کا مہینہ آتا ہے تو عالم بالا میں ایک شور اور خاص ہیجان برپا ہو جاتا ہے ۔ خدا کے مقرب ملائکہ انبیائے الٰہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ارواح کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔ خدا کے ملائکہ امام حسین علیہ السلام کا پارہ پارہ پیراہن عالم بالا میں لے جاتے ہیں اور گریہ و عزاداری کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ لہذا ہم اس مصیبت عظمیٰ کی وجہ سے گریہ و عزاداری کرتے ہیں ۔ اور شیعوں پر بھی لازم ہے کہ وہ بہترین انداز میں اس ذمہ داری کو انجام دیں ۔

محرم الحرام کی آمد پر ایک باطنی قوت سب لوگوں کو دوسری طرف کھینچتی ہے ۔ ماہ محرم کے پہلے دن کائنات میں ایک ہیجان برپا ہوتا ہے ، یہ صرف ہماری مملکت میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر اور عالم غیب میں ہیجان برپا ہوتا ہے ۔

یہ اسی طرح ہے کہ  پيغمبر اکرم صلی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا : «إن للحسين حرارة في قلوب المؤمنين لن تبرد ابداً» ۔ اور بعض روایات میں ہے کہ «إلي يوم القيامة» یعنی روز قيامت تک سب کے دل غمگین و محزون ہیں ۔ لہذا جتنا وقت بھی گذر جائے لیکن پھر بھی واقعۂ عاشورا کبھی پرانا نہیں ہو سکتا ۔

*  تبلیغ کا اجر و ثواب

اس راہ میں تبلیغ کرنے والوں کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : «من بکي أو تباکي أو أبکي فله الجنة» ۔ آپ کتاب کامل الزیارات کو ملاحظہ فرمائیں کہ عزائے امام حسین علیہ السلام کے ثواب کے بارے میں کس قدر روایات ہیں ۔

لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رلانے والوں کے لئے کس قدر ثواب بیان ہوا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کے لئے نذر و نیاز اور اطعام دینے والوں کے لئے کس قدر ثواب ذکر ہوا ہے ۔ آپ اربعین کو ہی دیکھیں  کہ جہاں  دوکروڑ لوگ حسینی سبیلوں سے کھانا کھاتے ہیں ۔ ایسے بھی لوگ تھے کہ جو امام حسین علیہ السلام کے نام کو مٹانا چاہتے تھے لیکن وہ خود نیست و نابود ہو گئے ، مگر امام حسین علیہ السلام کا نام درخشاں اور بلند و بالا تھا اور روز قیامت تک درخشاں اور بلند و بالا رہے گا ۔

مراجع بزرگوار کے دفاتر ، حوزہ علمیہ قم اور ہمیں یہ توفیق نصیب ہوئی ہے کہ محترم علماء و طلاب اپنی اصل ذمہ داری یعنی تبلیغ کو الحمد للہ بطور احسن اور بہترین ممکن صورت میں انجام دے رہے ہیں ۔ حوزۂ علمیہ کے متولیین کو ان مبلغین کی زیادہ سے زیادہ قدر دانی کرنی چاہئے ۔

*  تبلیغ کے ضروری نکات

ہماری اور آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان ایّام اور اس ماہ عزاء میں دین خدا کی تبلیغ اور لوگوں کو احکام الٰہی سے روشناس کرانے کے لئے اس بہترین موقع سے استفادہ کریں ۔

-  منبر سے احکام بیان کرنا ضروری ہے

ہماری ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم احکام بیان کریں ۔ شرعی مسائل بیان کریں ۔ ہم مجالس پڑھتے وقت مجلس کے آغاز میں ایک یا دو ایسے مسائل ضرور بیان کریں کہ جن کا جاننا لوگوں کے لئے ضروری ہے ۔

-  مجالس میں اہلبیت علیہم السلام کی روایات سے استفادہ کرنا لازم ہے

لوگوں کے لئے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرامین بیان کریں ۔ مدینۂ منورہ سے مکہ کی طرف آتے ہوئے اور پھر مکہ سے کربلا کی جانب آتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے کس قدر زیادہ فرمودات ہیں کہ جو سب کے سب ہمارے لئے درس ہیں ۔ اگر دنیا انسانیت کی حقیقت اور دنیا و آخرت کی سعادت کو سمجھنا چاہئے تو اسے ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام حسین علیہ السلام کے فرمودات کو پڑھنا چاہئے ۔ حضرت امام رضا علیہ علیه ‌آلاف التّحیة و الثناء فرماتے ہیں : «ان الناس لو علموا محاسن کلامنا لاتّبعونا؛ اگر لوگ ائمہ اطہار علیہم السلام کے کلام کے محاسن  اور خوبیوں کو جان لیں تو حتمی طور پر ہماری پیروی کریں» ۔ آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں تک ائمہ اطہار علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات پہنچائیں ۔

-  فریضه امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ترویج

خطابت کے اہم نکات میں سے ایک امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ترویج ہے ۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «أريد أن آمر بالمعروف و أنهي عن المنکر» ہمارا اہم ترین ذمہ داری امر بالمعروف اور نہي از منکر ہے ۔ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : تمام نیک اعمال اور راہ خدا میں جہاد ایک طرف ، اور امر بالمعروف و نہی از منکر ایک طرف ۔ یہ تمام نیک اعمال اور راہ خدا میں جہاد ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے مقابلے میں بحر بیکراں کے مقابلے میں ایک ناچیز قطرے سے بھی کم ہے ۔ اس فریضے کو احیاء کرنا معاشرے کے نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

-  سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے فضائل و اخلاق کو بیان کرنا

حضرت زينب سلام‌ الله علیہا فرماتی ہیں : «ما رأيت إلّا جميلاً» اس قیام اور تحریک میں جو کچھ بھی دیکھا سب جمیل اور خوبصورت تھا ۔ عاشورا مکمل طور پر زیبائی اور حسن ہے ۔ لوگوں کے لئے یہ حسن بیان کریں ۔ لوگوں کے ساتھ امام حسین علیہ کی کیا روش اور اسلوب تھا ۔ عاشورا کے دن دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ آپ کا کیسا برتاؤ تھا ۔ نقل ہوا ہے کہ : امام حسین علیہ السلام جب عاشورا کے دن میدان میں گئے تو آپ نے اپنی ایک انگوٹھی دشمن کے ایک سپاہی کی طرف پھینک دی اور فرمایا کہ یہ لے لو ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جب وہ شخص سپاہ عمر سعد کے ساتھ کوفہ سے باہر آ رہا تھا تو اس کی بیٹی نے اس سے کہا تھا کہ میرے لئے انگوٹھی لانا ۔ یا جناب حر کا وہ مشہور واقعہ کہ جب امام حسین علیہ السلام نے دشمن کے لشکر کو سیراب کیا ۔ امام حسین علیہ السلام کس قدر مہربان ہیں ۔ آج لوگوں کو دوسری چیزوں کی بنسبت ان کی زیادہ ضرورت ہے ۔ اگر لوگوں کے لئے اخلاقیات بیان کریں یا امام حسین علیہ السلام کے قیام کا حقیقی فلسفہ بیان کریں تو لوگ دین اور روحانیت حتی کہ اسلامی نطام کو اچھی نظر سے دیکھیں گے ۔

-  اخلاق الٰہی سے آراستہ کرنے کی ضرورت

ہم اچھے اخلاق سے لوگوں کو دین خدا کی طرف راغب کر سکتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : «کونوا دعاة الناس بغير ألسنتکم» ۔ خداوند متعال کی طرف سے حضرت پيغمبر اکرم صلي الله عليه و آله و سلم کے لئے سب سے بالا ترین مرحمت اخلاق حسنہ تھا کہ آنحضرت نے اپنے اخلاق حسنہ سے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں ۔

- مجالس میں حضرت ولیّ عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو لازمی یاد کریں

اپنی تمام مجالس میں امام زمانہ عجل الله تعالي فرجه الشريف کو ضرور یاد کریں ۔ میرے والد معظم حضرت آية الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله الوارف فرماتے ہیں : آية الله العظمي بروجردي رحمہ اللہ ہمیشہ مبلغین کو یہ تذکر دیتے تھے کہ  امام زمانہ ارواح العالمین له الفداء کی یاد اور ذکر کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں کہ کبھی بھی یہ نام فراموش نہ ہو سکے ۔

*  پسماندہ علاقوں میں تبلیغ کی ضرورت

ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم تبلیغ  کے لئے پسماندہ علاقوں میں جائیں ۔ ان بعض علاقوں میں واقعاً انسان کو رونا آتا ہے ۔ یہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں کہ جو مادی لحاظ سے بہت محروم اور پسماندہ ہیں لیکن پھر بھی کس طرح ذوق و شوق سے عزاداری میں شریک ہوتے ہیں ۔ انہی پسماندہ علاقوں اور پورے ملک میں امام حسین علیہ السلام کی عزاداری نے ہی ہماری مملکت کو بیمہ کیا ہوا ہے ۔

میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ آپ سب کامیاب ہوں ، آپ کے ہر عمل پر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی نظر کاص ہو ۔ اور میں آپ سب سے ملتمس دعا ہوں ۔ یا لیتنی کنت معکم فأفوز فوزاً عظیماً.

موضوع:

چهارشنبه / 21 شهريور / 1397