«السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَكِ‏ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ بِهِ صَابِرَةً» اي بانويي كه خداوند عالميان تو را بر امتحان‌ دشوار خويش صابر يافت! اي دخت گرامي پيمبر! سلام و درود خدا بر صبر...
يكشنبه: 1397/11/28 - (الأحد:11/جمادى الآخر/1440)

Printer-friendly versionSend by email
ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی دام ظلہ العالی کے نوشتہ جات سے اقتباس 

ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی دام ظلہ العالی کے نوشتہ جات سے اقتباس 

اہل بیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے مقام و مرتبہ کی عظمت اور آپ کے وجود کی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور اس بارے میں کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے ؛ وہ اہل بیت علیہم السلام کے طفیل و تصدق سے ہے ۔ اور جب انسان ان ہستیوں کے علاوہ کسی اور کی کہی ہوئی کسی بھی بات پر غورکرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی منبع سے متصل نہیں ہیں اور ان کی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔

مکتب اہل بیت علیہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہو ۔ کیونکہ اگر ان سے آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر ان سے پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے ۔

حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کی خاص عظمت اور آپ کی محوریت

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهل بيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے ۔

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله اور قرآن کے حکم کی رو سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں ۔ نیز آپ اہل بيت عليهم السلام میں سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔

حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام ؛ اصل کے عین مطابق نسخہ

حضرت زہرا سلام الله عليها مقام نبوت کے علاوہ اخلاق ، علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آپ کی سيرت اور کردار و گفتار بھی دين و شریعت میں احكام الٰهی کی دلیل ہے۔

آپ علم و ہدایت کے معنی میں مقام امامت پر فائز  تھیں اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

خطبۂ فدکیہ ؛ حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کا ایک عظیم معجزہ

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے ؛ اگرچہ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن اس وقت کا ماحول اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ آپ اس طرح کا جامع  ، ناطق ، منہ توڑ اور جاودانہ خطبہ دیں ۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ خطبہ اہل بيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے ۔ لہذا  دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی کتاب بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا ہے ۔

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے بے شمار فضائل ہیں ۔ اور اس حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اطمینان و تسکین دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا  : ’’أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ مَنْك ‘‘ ؛ اے فاطمہ ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں ۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

 ایّام فاطميه،مواضعِ فاطمه،سيرتِ فاطمه، زهدِ فاطمه، عبادتِ فاطمه، علم و حكمتِ فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ جو سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے ۔ رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں ۔

لوگوں  کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے ۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا السلام کے فرمودات و ارشادات اور بالخصوص آپ کے معجزات میں سے وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے ۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون اور پيغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یگانہ دختر حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہونے چاہئیں  ۔ آپ نے عورت کی کرامت اور حقیقی مقام کو دنیا تک پہنچاتے ہوئے فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام ۔

فاطمیہ ؛ یعنی ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنا

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں ، اجنبیت ،گناہ و فساد اور جہالت و گمراہی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت ، علم و بيداري ،  آگاهي و عدالت ، مساوات ، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہے  اور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور ہمیں  خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کو  اپنی اہم ترین ذمہ داری قرار دینا چاہئے ۔

دوشنبه / 8 بهمن / 1397