بسمه تعالی وَ مِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْواجاً لِتَسْکُنُوا إِلَيْها وَ جَعَلَ بَيْنَکُمْ مَوَدَّةً وَ رَحْمَةً إِنَّ في‏ ذلِکَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَکَّرُونَ یک از سنت‌‌های بسیار مهم ادیان...
دوشنبه: 1398/06/4 - (الاثنين:24/ذو الحجة/1440)
Printer-friendly versionSend by email
حسین علیه‌السّلام ؛ تمام فضائل کے مالک (سید الشهداء حضرت امام حسین علیه السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کی خصوصی تحریر )

اگرچہ کربلا کے جانسوز واقعہ میں امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی ، فدا کاری ، استقامت ، حق پرستی ، توکل ، ارادہ کی قدرت ، دنیا کی کشش اور جلووں سے چشم پوشی اور خواہشات سے قطع تعلقی ؛ یہ تماإ صفات و فضائل  آپ کے وجود میں اس قدر جلوہ گر ہیں اور انہوں نے دلوں کو اس قدر مجذوب کر لیا ہے کہ آپ کی دیگر عظمتوں کی طرفٖ کم توجہ کیا جاتی ہے ۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ انسانی عقل اور معاشرہ راہِ خدا میں قربانی دینے اور اپنی جان نثار کرنے والے کو تمام فضائل اور عظمتوں کا مالک سمجھتا ہے اور فداکاری کا یہ درجہ جس قدر عالی اور خالص ہو ، دلوں پر اس کی شخصیت کی عظمت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔

امام حسین علیہ السلام کی بے نظیر قربانی کی عظمت اس قدر بلند و بالا ہے کہ کسی بھی میدان اور موازنہ میں اپنی اسی ایک صفت سے ہر صاحب خلق کریم کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ استقامت و شجاعت اور ثابت قدمی کسی سے بھی متحقق نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ وہ اخلاق کے دوسرے پہلؤوں میں بھی عظیم اور برجستہ ہو ۔ انسان میں ایمان و معرفت ، یقین ، بصیرت ، توکل اور خدا پر اعتماد ، زہد اور صبر اپنے عروج کی منزل پر ہو تا کہ وہ ان عظیم آیات اور صبر و استقامت کا مظہر بن سکے ۔

اگرچہ ایسی عظیم شخصیت کے فضائل اور عظمتوں کی طرف اشارہ کرنا میسر نہیں ہو گا لیکن تبرکا اور «لایدرک کلہ لا تترک کلہ» کے باب سے آپ کے کچھ مکارم اخلاق کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

 

شمع بزم عالِمان

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۲)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا : إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ؛(۳)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

 

تواضع سے عزّت تک

انسان کی معرفت ، خداشناسی ، توحيد ، اور علم و حكمت میں جس قدر اضافہ ہوتا چلا جائے ؛ اس کی تواضع اور انکساری میں بھی اتنا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔

انسان کا تكبر جہل ، نادانی ، غفلت اور خودپسندی کا نتیجہ ہے ۔ آيات كريمه اور احاديث شریفہ میں تكبر کی ‌شدید مذمّت کی گئی ہے ، جب کہ تواضع اور انکساری کی مدح و ستائش کی گئی ہے ۔

لوگوں کے نزدیک امام ‌حسين‌علیه ‌السلام بہت محترم تھے ۔ جب آپ اور آپ  کے بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام حج کی دائیگی کے لئے پیدل جا رہے تھے تو آپ کے احترام میں آپ کے ساتھ جانے والی معروف شخصیات اور برجستہ اصحاب بھی اپنی سواریوں سے اتر آئے اور پیدل چلنے لگے۔

لوگوں کی نظروں میں امام‌ حسين‌‌علیه ‌السلام کا احترام اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ کا کوئی عالی شان محل تھا یا آپ کے پاس بہت قیمتی سواری تھی ، یا آپ کی سواری کے آگے اور پیچھے غلام اور سپاہی چلا کرتے تھے یا آپ کے لئے مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خالی کر دیتے تھے ، یا آپ کی رفت و آمد کے وقت راستہ بند کر دیتے تھے ، نہیں ! لوگ ان وجوہات کی بناء پر آپ کا احترام نہیں کرتے تھے ۔ امام حسین علیہ السلام لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور ان سے جدائی کو قبول نہیں کرتے تھے ۔ آنحضرت کی زندگی سادگی سے مالا مال تھی ۔ ہر سال حج کی ادائیگی کی لئے پیدل سفر کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست اور رفت و آمد ہوتی ، فقراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ، نماز جماعت میں حاضر ہوتے ، بیماروں کو عیادت کے لئے جاتے ، تشییع جنازہ مں شریک ہوتے ، اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مسجد میں دوستوں اور صحابیوں کے ساتھ بیٹھتے ۔ آپ فقراء کی دعوت کو قبول کرتے اور انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتے ، آپ خود محتاجوں ، بے کسوں ، بیواؤں اور یتیموں کو خوراک فراہم کرتے ۔

 

 روح عبادت

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

« حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۴)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے » ۔ 

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۵) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي أَنْعَمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاكِراً وَابْتَلَيْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْكِ ‏الشُّكْرِ، وَلَا أَنْتَ أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْكِ الصَّبْرِ إِلَهِي مَا يَكُونُ مِنَ الْكَرِيمِ إِلَّا الْكَرَم»؛(۶)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا » ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ 

 

عدالت خواہی کی اوج

کائنات میں عدالت اور مظلوم کی حمایت کرنے میں کوئی بھی خاندان علی ( علیہ السلام ) کی مانند نہیں ہے ۔ تاریخ میں کتب میں علی علیہ السلام کے عدل کے بارے میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ حق اور عدالت میں محو و فناء ہو چکے تھے ۔ آپ نے اپنے فرزند کو وصیت فرمائی :

«كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَلِلْمَظْلُومِ عَوْناً ؛ «ظالم  و ستمگر کے دشمن اور مظلوم کے معاون بنو» ۔ (۷)

 حسین علیہ السلام ؛ اس پدر کی فرزند اور انہیں صفات کے وارث ہیں ۔ بنی امیہ اور ان کے کارندے لوگوں پر جو ظلم و ستم ڈھاتے تھے ، ان پر سب سے زیادہ امام حسین علیہ السلام رنجیدہ اور شدید پریشان ہوتے تھے ۔ آپ کا قیام ؛ ظلم و ستم کے خلاف قیام تھا اور آپ کی تحریک ؛ مظلوموں اور ستم دیدہ لوگوں کے لئے نجات بخش تحریک تھی ۔

جو واقعات بے سر و سامان ، بیچارے افراد اور مظلومین کے دفاع کے بارے میں امام حسین علیہ السلام کی شدت کے گواہ ہیں ؛ ان میں سے ایک اُرينب بنت اسحاق اور زوجہ عبد الله بن سلام کا واقعہ ہے ۔ یزید ؛ جو کہ معاویہ کا شہزادہ اور ولی عہد ہے کہ جس کے پاس عیش و عشرت اور شہوت رانی کے تمام ذرائع موجود تھے منجملہ  مال و دولت ، مقام ، طاقت و قدرت ، خوبصورت کنیزیں ، رقاصائیں ، گلوکارائیں ، اور جسم فروش خواتین اس کے اختیار میں تھیں ۔ لیکن اس کے باوجود اس نے شادی شدہ عورت پر گندی نظر رکھی تھی ، جب کہ اسے اور اس کے باپ کو اس عورت کی عفّت و عصمت کا پاسدار ہونا چاہئے تھا ۔ یزید ہمیشہ سے ہی شہوت پرست تھا اور اس کی تربیت عیش و نوش کی حکومت کے سائے تلے ہوئی تھی۔  یزید اس خاتون کو حاصل کرنے کے لئے بے چین تھا لیکن وہ نجیب و پاک دامن اور عفیفہ خاتون تھی لہذا فریب کے ذریعہ اسے پارسائی کی راہ سے منحرف کرکے اس تک رسائی محال تھی ۔

پلید معاویہ کہ جو خود کو امیر المؤمنین کہتا تھا ؛ اس نے یزید کی نفسانی خواہش اور شہوت کو پورا کرنے کے لئے بڑی عجیب چال چلی کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ اس نے بدبخت مرد کو اس عفیفہ اور خوبصورت عورت سے الگ کر دیا اور اس تک رسائی کے لئے یزید کو مقدمات فراہم کر دیئے ۔

لیکن امام ‌حسين علیہ السلام غیرت و جوانمردی کے ساتھ معاویہ کے اس شیطانی اور گندے ارادوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اس کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ۔ امام حسین علیہ السلام غیرت و حمیّت ہاشمی اور مسلمانوں کے ناموس کی حفاظت کا مظاہرہ کیا اور یزیز کے ناپاک عزائم کو پورا نہیں ہونے دیا ۔

معاویہ نے دھوکے بازی اور مکاری سے جو جدائی ڈالی تھی ، اب وہ اتصال میں تبدیل ہو چکی تھی اور امام حسین علیہ السلام نے عبد اللہ بن السلام اور اس کی زوجہ سے اس ظلم و ستم کا خاتمہ کیا ۔ تاریخ میں ہمیشہ  کے لئے یہ واقعہ آل علی علیہ السلام کے مفاخر و افتخارات اور بنی امیہ کے مظالم کے طور پر باقی ہے ۔ (۸)

 

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ .

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۹)

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۱۰)

 

 

***

حوالہ جات :

۱ ۔ ابن‌کثير ، البداية و النهايه ، ج ۸ ، ص ۱۶۲ ، علايلي ، سمو ‌المعني ، ص ۹۹ – ۱۰۰ .

۲ ۔ علايلی ، سمو المعنی ، ص ۱۰۰ .

۳ ۔ علايلي ، سمو ‌المعنی ، ص ۱۴۸ . یزید نے اسی سے مشابہ کلام حضرت امام زين ‌العابدين ‏‌(علیه‌السلام) کی شان میں کہا ہے ؛ جب اسے یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ امام زین العابدین علیہ السلام کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے آپ کو منبر پر جانے کی اجازت دے دے ، مگر یزید نے اجازت نہ دی اور کہا : اگر یہ منبر پر گئے تو ہمیں رسوا  اور  ذلیل و خوار کر دیں گے ۔ یزید سے کہا گیا : اس حالت میں یہ نوجوان کیا کر سکتا ہے ؟ اس نے کہا : تم اس خاندان کو نہیں جانتے : هَذَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ قَدْ زُقُّوا الْعِلْمَ زقّاً. مجلسي ، بحار الانوار ، ج ۴۵ ، ص ۱۳۷ – ۱۳۸ ؛ بحراني اصفهاني ، عوالم ‌العلوم ، ص ۴۳۸ ؛ محدث قمي ، نفس ‌المهموم ، ص ۴۶۵ ؛ مرعشي نجفي ، شرح احقاق‌الحق ، ج ۱۲ ، ص ۱۲۸ .

۴ ۔ ابن‌ عبد البرّ ، الإستيعاب ، ج 1 ، ص 397 ؛ ابن ‌اثير جزری ، اسد الغابة ، ج ۲ ، ص ۲۰ .

۵ ۔ يعقوبي ، تاريخ ، ج ۲ ، ص ۲۲۶ ؛ ابن ‌اثير جزري ، اسد الغابة ، ج ۲ ، ص ۲۰ ؛ سبط ابن‌ جوزی ، تذكرة الخواص ، ص ۲۱۱ ؛ ابي ‌الفداء ، تاريخ ، ج ۱ ، ص ۱۹۱ .

۶ ۔ مجلسي ، بحارالانوار ، ج ۶۹ ، ص ۱۹۷ ـ ۱۹۸ .

۷ ۔ نهج ‌البلاغه ، مکتوب ۴۷ (ج ۳ ، ص ۷۶ ) ؛ فتال نيشابوري ، روضة ‌الواعظين ، ص ۱۳۶ ؛ مجلسي ، بحار الانوار ، ج 42 ، ص 256 .  

۸ ۔ اس واقعہ کی خصوصیات کے حوالے سے اس کے ماصدر کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ہم نے جسے اجمالی طور پر نقل کیا ہے ، یہ الاتحاف (ص ۲۰۱ – ۲۱۰ ) میں شبراوي اور در الامامة و السياسۃ (ج ۱ ، ص ۱۶۶ – ۱۷۳ ) میں ابن‌قتيبه دینوری کے مطابق ہے ۔ ر.ک : علايلی ، سمو المعنی ، ص ۱۵۶ – ۱۵۹ .  

۹ ۔ ابن ‌عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج ۱۴ ، ص ۱۸۵ ؛ علايلي ، سمو ‌المعني ، ص ۱۵۱ .

۱۰ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي‌ طالب ، ج ۴ ، ص ۶۵ ؛ محدث نوري ، مستدرک ‌الوسائل ، ج ۱۳ ، ص۴۳۶ ؛ علايلی ، سمو المعنی ، ص ۱۵۱ – ۱۵۲ .

شنبه / 24 فروردين / 1398