بسم الله الرحمن الرحیم سلام بر ماه رجب، سلام بر رجبیون، سلام و تحیات بر روزه‌داران، سلام بر شما عزیزانی كه ندای « این الرجبیون» را لبیك گفته، و بر سر سفره‌ی رحمت خداوند متعال نشسته و از نعمت‌های بیكران آن، بهره‌مند می‌شوید. برخود ببالید، و به این...
شنبه: 1398/12/10 - (السبت:5/رجب/1441)
Printer-friendly versionSend by email
سنہ ۱۴۳۲ ہجری میں حج کے عظیم الشأن مراسم کے انعقاد کی مناسبت سے عالیقدر مرجع حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله العالی کی یادگار تحریر

باسمه تعالی

حج کے مراسم اور منزل وحی سے امت کی تقدیس کا جلوہ

سنہ ۱۴۳۲ ہجری کا حج دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے افتخار اور سرفرازی کا باعث ہے ۔ اس عظیم ، بے نظیر  اور تاریخی اجتماع میں مسلمانوں کی جانب سے حج کے مراسم و مناسک اور حرمین شریفین کا احترام و ادب اور وقار و متانت جلوہ گر تھی ۔ حالانکہ اس وقت کچھ مناطق و ممالک کی کشیدہ صورت حال اور حکومتوں کی سیاست اور سیاسی مقاصد کا حصول شدت سے فعال تھا اور ہے ، اور ان حالات میں یہی خوف تھا کہ شاید ان الٰہی مراسم میں بھی سیاسی اختلافات ظاہر ہوں ۔

حج اور شہر امن الٰہی کی قداست و عظمت کی پاسداری اور موجودہ حالات میں مختلف اقوام و ملل اور مختلف ممالک سے بیس لاکھ سے زائد افراد کی حاضری صرف اور صرف ایک ارب اور پانچ سو میلین مسلمانوں کی اسلامی مقدسات پر ایمان اور ان کے احترام کی وجہ سے میسر آئی تھی اور خدا کے فضل و کرم سے یہ مراسم معجزانہ طور پر امن و امان ، آرام و سکون اور افتخار آفرین طریقہ سے انجام پائے اور (کسی بھی جگہ )کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور کہیں بھی سیاسی اختلافی مسائل پیدا نہیں ہوئے ۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ حج اور اس عظیم فریضہ کے مراسم و مناسک اور حرمین شریفین حکومتوں کی سیاست سے بالاتر ہے ۔ سب لوگ حرم کو امن کی جگہ اور مقدس مقام سمجھتے ہیں ۔ سیاسی و جغرافیائی یا قومی و نژادی اور فرقہ وارانہ اختلافات و جدائی اسے مخدوش نہیں کر سکتی ۔

حرمین کا سب سے تعلق ہے اور مخصوصاً حج کے ایّام میں یہ سب کا شہر ، سب کا ملک اور سب کا وطن  ہے اور کسی کو کسی پر کوئی  برتری اور اولویت حاصل نہیں ہے ۔ البتہ اس دوران اس احترام کی حفاظت کے لئے اقوام و ملل کو حکومتوں کا بھی تعاون حاصل تھا  اور انہوں نے مدبرانہ طور پر عمل کیا اور (ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ) جیسے ان کے درمیان کوئی اختلاف ہی نہ ہو ۔ سب نے یہ واضح کر دیا کہ وہ سب حرمین شریفین ، مسجد الحرام ، مسجد النبی ، قبۃ الخضراء ، سر زمین وحی اور اسلامی و تاریخی میراث کی حرمت و قداست کے پاسدار ہیں ۔

امید ہے کہ ہر سال یہ سلسلہ مزید جلوہ گری  کے ساتھ جاری و ساری رہے اور اس سال کی طرح ہر سال مسلمان سیاستوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر حاضر ہوں  اور مسئولین کی کسی خاص مذہب کی طرف گرائش و تمایل دیگر اسلامی مذاہب کو ان کے مذہب و اجتہاد کے مطابق عمل کرنے سے نہ روکیں اور فرقہ وارانہ امر و نہی اس (اتحاد و یگانگت ) کے خوبصورت چہرے کو داغدار اور کم رنگ نہ کریں ۔ اس اسلامی ہویت و شناخت کا ظہور دنیا اور دنیا کے سیاست دانوں کے لئے حیرت کا باعث ہے ۔ آئندہ سالوں میں اس میں مزید اضافہ ہونا چاہئے ۔

چهارشنبه / 2 مرداد / 1398