باسمه تعالی با عرض تسلیت مجدد به خانواده‌های داغدار بازماندگان حادثه اسفناک سقوط هواپیما و همچنین تسلیت به خانواده‌های محترم جان‌باختگان در کرمان و طلب رحمت و مغفرت الهی برای آنان و صبر و اجر برای بازماندگان به اطلاع می‌رساند؛ که روز چهارشنبه ۹۸/...
يكشنبه: 1398/11/27 - (الأحد:22/جمادى الآخر/1441)
Printer-friendly versionSend by email
روز مباہلہ کی عظمت و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کا پیغام – تهران، ذی الحجة‌ سنہ 1440
روز مباہلہ کی تجلیل و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله الذي جعلنا من المتمسکين بولاية اميرالمؤمنين و الائمة المعصومين عليهم السلام لاسيما مولانا بقية الله المهدي عجل الله تعالى فرجه الشريف و رزقنا الفوز بلقائه ۔

السلام عليکم و رحمة الله 

ہم ماہ شریف ذی الحجہ کے مبارک ایّام اور بالخصوص مباہلہ کے بزرگ ، عظیم اور جاودانی دن کے احترام اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو نو نفس نفیس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرار دیئے جانے کی عید کی مناسبت سے آپ عزیزوں کی خدمت میں چند کلمات بیان کرتا ہوں :امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت اور بلا فصل خلافت پر قرآن کریم میں صریح نصوص دو طرح کی ہیں : نصوص جليّه اور نصوص خفيّه ۔

قرآن کی نصوص جليّه ؛ مثلاً آيهٔ شريفه «إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللهُ» اور دیگر آیات کہ جن میں کچھ آٰات کو بزرگ دانشور نے کتاب شریف "خصائص الوحي المبين في مناقب اميرالمؤمنين عليه السلام" میں اہل سنت کے محدثین ، ارباب جوامع ، صاحبان صحاح و مسانید سے معتبر اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

قرآن کی نصوص خفیّه ؛ قرآن کی نصوص جلیہ کے ساتھ ساتھ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام اور تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام کی بلا فصل خلافت و ولایت کو ثابت کرنے والی ایسی محکم نصوص اور قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے ذریعہ سب کو مخاطب قرار دیا گیا ، مثلاً «أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ يَهِدِّي إِلا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَکُمْ کَيْفَ تَحْکُمُونَ» ان آیات سے واضح طور پر خلافت و امامت اور ہدایت کے امر میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے اظہر مصداق اور برحق ہونے کو استفادہ کیا جاتا ہے ۔

قرآن کی نصوص جلیّه میں سے ایک آیهٔ شریفه مباهله ہے ۔ قال الله تعالی: «فَمَنْ حاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْد مَا جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوا نَدْعُ ابْناءَنَا وَ ابْناءَكُم وَ نِسَاءَنا وَ نِسَاءَكُمْ وَ انْفُسَنا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَي الْكاذِبينَ‏»۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے بلند مقام و مرتبہ اور فضیلت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔

على و حسن و حسين و فاطمه زهرا سلام الله عليهم اجمعین کو خداوند متعال کے حکم اور دستور کی بناء پر مباہلہ میں شریک کیا گیا ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مباہلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حاضر ہونے والے یہ چار مقدس اور عظیم نور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شائستہ اور سب سے زیادہ محترم تھے اور یہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ محترم تھے ۔

ان چار انوار مطہر کے لئے یہ فضیلت بڑی با عظمت ہے کہ ایسے اہم اور تاریخی واقعہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہوں اور خداوند متعال پوری امت ، چھوٹے بڑوں ، عورتوں اور مردوں میں سے صرف انہی کا انتخاب کرے ۔

جی ہاں !تاریخ اسلام میں چوبیس ذی الحجہ مباہلہ کے عظیم اور بزرگ دن کے عنوان سے درج ہے اور یہ اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کی اہم سند ہے ۔ عید سعید غدیر کی طرح اس دن کی بھی تجلیل و تکریم کی جانی چاہئے ۔ اس عظیم دن کی مناسبت سے شیعوں اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے محبوں کو عالی شان مجالس و محال منعقد کرنی چاہئیں اور اس اہم موضوع پر مؤلفین و مصنفین ، خطباء اور مدحت کرنے والوں کو لکھنا اور بیان کرنا چاہئے ۔

آخر میں ؛ میں اظہار وجود کرنے کی وجہ سے انتہائی عاجزی و انکساری اور ناتوانی عذر خواہی کرتا ہوں ، کیونکہ اس بارے میں اظہار عرض وجود اولیاء ، عظیم ہستیوں اور بزرگوں کی شان  ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ ان تھوڑی سی گذارشات کو اہل بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ملکوتی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا ہو ۔

و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

لطف الله صافي

23  ذی الحجة الحرام سنہ 1440

 

موضوع:

يكشنبه / 3 شهريور / 1398