در مورد شخصیت حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیهماالسلام هزاران هزار كتاب نوشته شده است، و مرور زمان روز به روز وسعت و عظمت آن وجود بی‌نظیر را آشكارتر می‌سازد؛ و هر كس در مطالعه تاريخ زندگی و فضيلت آن حضرت وارد می‌شود، خود را در برابر عظمت‌هايی...
سه شنبه: 1399/03/6
Printer-friendly versionSend by email
ابو طالب؛ مدافع رسالت
ماہ رمضان کی مناسبت سے آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات

ماہ رمضان کے تاریخی اتفاقات و واقعات میں سے ایک حضرت ابو طالب علیہ السلام کی وفات ہے ۔ شیخ مفید قدّس سرّه کے قول کی بناء پر بعثت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال پہلے سات ماہ رمضان کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واحد حامی و کفیل جناب ابوطالب علیہ السلام نے وفات پائی ۔

انسانوں میں سے اکثر افراد کی زندگی کے زیادہ تر ایّام ان کی اپنی ذات یا انفرادی امور سے وابستہ ہوتے ہیں ، لیکن عالم انسانیت کی خدمت کرنے والے ، مردان خدا ، انبیاء ، اولیاء اور اصلاح کرنے والے بزرگوں کی زندگی کے ایّام پورے سماج ، تاریخ اور خدا سے مرتبط ہوتے ہیں اور یہ سب کی نظر میں فخر و مباہات ، عزّت و خير، صلاح و ترقي اور عظیم تاریخی تحریک کا موجب  ہوتے ہیں ۔  یہ ایّام جس قدر الٰہی رنگ رکھتے ہوں اور  سماج  کے لئے خیر خواہی، لوگوں کو جہالت سے نجات دینے ، فلاح کی دعوت دینے ،حق و عدالت اور ہدایت کا باعث ہوں  ، یہ اسی قدر پائیدار اور جاودانہ ہوتے ہیں ۔ 

ان اّیّام کا احترام  ، حق اور نصرتِ ایمان کا احترام ہے ۔ تاریخ اسلام میں یہ درخشاں اور تاریخی ایّام خاص جلوہ رکھتے ہیں اور تاریخ اسلام ایسے دنوں سے مزین ہے ۔ 

اسلام میں اپنے خاص کردار ، مقام اور بہت ہی حساس عہدے کی حفاظت اور ذمہ داری کی وجہ سے جن شخصیات کی زندگی کے ایّام کو یاد رکھنا چاہئے بلکہ ان کی پوری حیات زندہ و جاوید ہونی چاہئے ، ان میں سے ایک سيّد بطحا، رئيس مكّه اور قبلهٔ قبيله ہیں ؛ جو تمام اخلاقی فضائل کے حامل تھے اور سب لوگ آپ کا احترام کرتے تھے اور آپ کی شخصیت اور مکارم اخلاق کو سراہتے تھے : «عَلَيْهِ بَهَاءُ الْمُلُوكِ وَ وَقَارُ الْحُكَمَاءِ؛ ان کے رخسار پر بادشاہوں کی ظرافت اور حکماء کا وقار نظر آتا تھا » ۔ جی ہاں ! اميرالمؤمنين علی عليه السلام کے پدر گرامی جناب ابو طالب علیہ السلام ان عظیم شخصیات میں سے ہیں ؛ جو انسانیت اور مسلمان معاشرے پر بہت بڑا حق رکھتے ہیں ۔جب عرب کے مشہور حکیم «اكتم بن صيفي» سے پوچھا گیا کہ آپ  نے حكمت و رياست اور حُكم و سيادت کس سے سیکھی ؟ انہوں نے کہا : «میں نے یہ (علوم) حليفِ علم و ادب، سيّد عجم و عرب ابوطالب بن عبد المطلب سے سیکھے ہیں » ۔ انہوں نے ہی تاریخ اسلام کے حساس ترین موقعوں پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کی  ؛ یعنی ابلاغ وحی کے آغاز سے اور اس کے آشکار ہونے کی ابتداء سے ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت میں اہم ، بنیادی اور نجات بخش کردار ادا کیا کہ جو دین مبین اسلام کے مستقر ہونے کا باعث بنا ۔

آپ تمام امت مسلمہ پر حق رکھتے ہیں ، سب ان کے احسان مند ہیں ، جنہوں نے بیالیس سال تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت ، نصرت ، مدد اور خدمت کی ، جو چودہ ہزار دنوں سے زیادہ بنتے ہیں کہ جن میں ہر ایک دن تاریخ ساز اور الٰہی تھا ۔ اس مرد الٰہی کی زندگی کا ہر دن اسلام ، دین توحید اور اس عظیم تحریک  کا پشت پناہ شمار ہوتا ہے کہ جس نے انسانی سماج کو ترقی ، تکامل ، خود شناسی  اور خدا شناسی کی طرف ہدایت دی اور ان کی زندگی کا  ہر دن خدا اور اسلام کی راہ میں گزرا ۔کسی کی بھی زندگی کے اتنے ایّام پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت ، دعوت اور حق کی مدد میں نہیں گزرے ۔

جناب ابو طالب علیہ السلام نے اپنی غیر معمولی فداکاری سے دین خدا کے دشمنوں کا محکم مقابلہ کیا اور انہیں نورِ الٰہی کو بجھانے سے روکے رکھا ۔

ان کی زندگی کا ہر دن اور ہر عمل لائق احترام و تحسین اور قابل اسوہ ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت میں گزارے گئے آپ کے چودہ ہزار دن ؛ سب کے سب ایّام اللہ ہیں ۔ استقامت کے چودہ ہزار دنوں، مشکلات ،محرویت ،پابندیوں  ، سختیوں اور مشرکوں کی سازشوں کو برداشت کرنے کے  چودہ ہزار دنوں نے اسلام کو بیمہ کر دیا ۔

یہ ابو طالب (علیہ السلام ) تھے ، ابو طالب (علیہ السلام ) تھے اور پھر ابو طالب (علیہ السلام ) ہی تھے کہ جنہوں نے  اسلام کے ابتدائی دنوں اور دعوت کے ابتدائی سالوں میں معاشرے میں  اپنے خاص مقام و مرتبہ اور احترام سے استفادہ کرتے ہوئے خدا کے دین کی پاسداری کی اور دعوت (اسلام) کے ابلاغ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کی ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح میں جناب ابو طالب علیہ السلام کا قصیدۂ لامیہ ، جناب ابوطالب علیہ السلام کے ایمان کی اوج ، خلوص نیت  ، وفاداری  اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کامل نصرت کا ایک نمونہ ہے ۔

اہل سنت کے بعض سخن شناس علماء اور ادب و بلاغت کے بزرگوں نے  یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ قصیدہ  فصاحت و بلاغت کا کا اعلیٰ مرتبہ کا حامل ہے اور یہ  قصائد سبعهٔ معلّقه سے زیادہ قوی اور برتر ہے اور ابو طالب (علیہ السلام )  کے سوا یہ کسی اور کا قصیدہ نہیں ہو سکتا ۔ اس قصیدہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ابو طالب (علیہ السلام ) پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت الٰہی کی پشت پناہی کے لحاظ سے کہاں اور کس حد تک مصمم ، جازم ،قاطع اور محکم عزم و ارادے کے مالک تھے اور دشمنوں کے مقابلے میں قوی ، خطرناک اور خونخوار تھے کہ جنہوں نے یک و تنہا دفاع  کیا اور اسلام کو ایسے راستے پر گامزن کر دیا کہ جہاں سے وہ واپس نہیں پلٹ سکتا تھا ۔

جس طرح تاریخ میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ساتھ دینے کے ایّام درخشاں ہیں ، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثناء میں لکھے گئے عرب و عجم کے ہزاروں قصیدوں میں سے یہ قصیدہ بھی بے مثال ، ممتاز اور یگانہ ہے ۔

سب حضرات اور بالخصوص فضلا اور عزیز طلاب کو سو بیت پر مشتمل اس قصیدے کا حافظ ہونا چاہئے ۔

نوجوان نسل اور موجودہ اسلامی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی تاریخ حیات و زندگی کو اسوہ و نمونہ قرار دیں اور اس تاریخ سے عظیم اور سبق آموز درس حاصل کریں ۔

سب لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس دن کی تجلیل و تکریم کریں اور اس مناسبت سے مجالس کا انعقاد کریں ، جب کہ  خطابات و تقاریر  اور مقالات میں تاریخ اسلام اور مسلمانوں پر اس  عظیم اور بزرگوار شخصیت کے حقوق کی ستائش کریں ۔  

شنبه / 20 ارديبهشت / 1399