در کتاب شريف و گرانسنگ عيون اخبار الرضا عليه آلاف التحیة و الثناء، محدّث جليل و شیخ اعظم صدوق رضوان‌الله تعالي عليه از عبدالسّلام بن صالح هروي روايت مي‌کند که امام رضا علیه السلام فرمود: «رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی...
دوشنبه: 1399/05/20

Printer-friendly versionSend by email
روزہ داروں کا امام زمانہ علیہ السلام سے تجدید عہد
ماہ رمضان کی مناسبت سے آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات

اہم عبادی امور اور بالخصوص ماہ رمضان المبارک کے عبادی امور میں سے ایک صاحب الامر حضرت بقیة الله الاعظم ارواح العالمین له الفدا سے تجدید عہد کرنا ہے ۔ روزہ دار مؤمنین کو چاہئے کہ وہ دعاؤں ، مجالس ، محافل ، وعظ و نصیحت اور شب قدر کی مبارک راتوں میں حجت خدا حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو فراموش نہ کریں اور اپنے امام سے عہد کریں کہ وہ بذات خود ، اس کے اردگرد کے افراد اور معاشرہ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضائیت حاصل کرنے کے لئے گامزن رہے گا۔ اور یہ جانتے ہیں کہ وہ شخص اور سماج سعادت مند ہے جو امام زمانہ ارواحنا فداہ کی رضائیت کے حصول میں کامیاب ہو جائے ۔

  • امتحان اور آزمائش کا زمانہ

یہ جان لیں کہ زمانۂ غیبت امتحان و آزمائش  اورخالص ہونے کا زمانہ ہے۔سعادتمند اور ایمان پر ثابت قدم رہنے والے غیبت کے  زمانے میں بھی اس انسان ساز مکتب سے وابستہ رہ کر خودسازی کرتے ہیں ۔ مختلف حوادث،مشکلات اور سختیاں  انہیں کمزور نہیں کر سکتیں اور ان  کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور وہ تند و تیز ہواؤں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں  کہ جس کی وجہ سے وہ کمزور ایمان اور ارادے کے حامل افراد سے ممتازہوتے ہیں۔

جس قدر بھی دین و دینداری سے وابستہ رہنا دشوار ہوتا جائے اورمختلف قسم کی  ظاہری محرومیت وجود میں آتی جائیں اسی قدر ان کا ایمان اور عہد و پیمان مزید قوی ہوتاجائے گا اور ان پر ایسی حدیثوں کی صداقت و سچائی واضح ہوتی جائے گی کہ جن میں زمانہ ٔ غیبت کے واقعات،کچھ گناہوں کے عام ہونے ،غنا و موسیقی،لڑکے اور لڑکیوں کی صورت حال ،مرد و زن کے اختلاط اور دوسرے امور کی خبر دی گئی ہے۔

بعض روایات کے مطابق ان شرائط میں دین کی حفاظت و نگہداری اس طرح سخت و دشوار ہو جائے گی کہ  جس طرح  ہاتھ کی ہتھیلی پر  آگ کی حفاظت کرنا۔نیز دیگر حدیث میں بیان ہوان ہے: «إن لصاحب هذا الامر غيبة المتمسّک فيها بدينه کالخارط للقتاد«

غيبت کے اس زمانے میں ایمان پر ثابت رہنے والوں کو رسول اعظم اسلام صلّي الله عليه و آله و سلّم کے ہمراہ تلوار سےجهاد کرنے والوں کا ثواب ملے گا اور وہ اس قدر بلند مرتبہ ہیں کہ پيغمبر اکرم صلّي الله عليه و آله و سلّم نے انہیں اپنا بھائی کہا ہے اور احادیث کی رو سے آنحضرت کو ان سے ملنے کا اشتیاق ہے۔

زمانۂ غیبت کے مؤمنین حزب اللہ ہیں اور وہ ظہور اور اسلام کی عالمی حکومت کے حقیقی منتظر ہیں کہ احادیث میں فرمایا گیا ہے:

«اولئک هم المخلصون حقّا و شیعتنا صدقاً و الدّعاة الی دین الله و جهرا اُولئک الذین یومنون بالغیب ثم اولئک حزب الله ألا إنّ حزب الله هم المفلحون»  اور اس حدیث مبارکہ «المنتظر لأمرنا کالمتشحِّط بدمه فی سبیل الله» کی رو سے وہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو راہ خدا میں خون میں ڈوبا ہو۔

یہ سب آپ شیعوں،منتظرخواتین و حضرات،احکام کی پابندی کرنے والوں اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وفاداروں کے فضائل ہیں۔

  • منتظرین کی ذمہ داریاں

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کو عاقل و ہوشیار ہونا چاہئے اور ان فضائل کی پاسداری کرنی چاہئے کہ کہیں وہ سوء تلقین (غلط پروپیگنڈوں)  اور فریب دینے والے الفاظ سے دھوکا کھا کر احکام الٰہی کے سامنے تسلیم ہونے سے دستبردار نہ ہو جائیں اور حکومت الٰہی و قرآن اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف  کے تحت سے خارج نہ ہو جائیں۔

انسانی حقوق ؛ یعنی مرودوں اور عورتوں کے وہی حقوق ہیں ؛ جو خدائے بشر اور خدائے مرد و زن نے معین فرمائے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب گمراہی و ضلالت اور فساد و تباہی کا خزانہ ہیں کہ جو حیوانی زندگی کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔

 احکام الٰہی میں سے کسی حکم کو قبول نہ کرنے والے مرد و زن ، بوڑھے اور جوان یا تو مغرب کےغیر سماجی اور بیہودہ امور سے متاثر ہیں کہ جو زمانے کے لئے مناسب نہیں ہیں اور جن سے ان کا ایمان مخدوش و کھوکھلا ہو جائے گا۔اسی لئے احاديث شريفه میں وارد ہوا ہے که «زمانۂ غيبت، میں مؤمن صبح کے وقت با ایمان ہوگا اور رات کے وقت دین سے خارج ہو چکا ہو گا» ۔

میں خاص طور سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ احکام اسلام کو مغربی ثقافت اور لادینی کے مطابق بنانے اور ان کی تأویل کرنےوالوں سے ہوشیار رہیں اور اشتباہ کے شکار نہ ہوں؛وہ ایک اور دور جاهليت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔روایت کی رو سے غیبت کا زمانہ طولانی ہو گا یہاں تک کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : «ما اطول هذا العناء و ابعد هذا الرجاء»۔

انسان اپنی حیات میں مختلف مکاتب و مذاہب میں تحولات اور تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی بشر کی سعادت کی شرائط موجود نہیں ہیں اور وہ عدل و انصاف کو نافذ کرنے سے عاجز و ناتواں ہیں اگرچہ دنیا ظلم و جور ،فساد،بدامنی اور تباہی سے بھری ہوئی ہے لیکن اَلشَّيءُ اِذا جاوَزَ حَدُّهُ اِنْعَکَسَ ضِدّه کی رو سے  انسانی سماج نظام الٰہی و اسلامی اور دنیا کی واحد عادل عالمی حکومت کے لئے تیار ہورہا ہے اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے دنیا کمال اور ارتقاء کی اوج پر ہو گی۔

  • امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے تجدید عہد کا مہینہ

محترم روزہ دارو !

غیبت کا زمانہ دین کے امور پر عمل کرنے،جد و جہد  کرنے ،ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور انہیں ادا کرنے کا زمانہ ہے ، یہ مقاوت ،ثابت قدمی ، استقامت اور صبر کا زمانہ ہے۔

 شعائر کی تعظیم ، کلمة الله کی سربلندی،اسلام کی تبلیغ ،سیاسی،اقتصادی،ثقافتی امور میں استقال،کفّار کی وابستگی سے نجات،علمی و صنعتی میدان میں ترقی ،تعلم و تربیت کی نشر و اشاعت ،امر به معروف و نهي از منکر، نیکی و تقویٰ میں تعاون ، غریبوں کی مدد ، ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا، محتاجوں کو دستگيري کرنا،اسلامی ممالک کی جغرافیائی،فکری اور عقیدتی حدود کا دفاع کرنا، اہل شکوک اور اہل شبہ کے شکوک و شبہات کا جواب دینا،برائیوں اوراحکام الٰہی کی ہتک حرمت کا مقابلہ کرنا ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور ہم اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں۔

اس  مبارک مہینے میں ہم سب کو  چاہئے کہ ہم ولی خدا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف   سے تجدید عہد کریں ۔ نیز حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کو چاہئے کہ وہ اسلامی سماج کو لاحق خطرات کو پہچانیں کہ جنہوں نے بڑی حد تک معاشرے کے بہت بڑے حصہ کو کمزور ،زبوں حال اور کفار کی اطاعت میں مبتلا کر دیا ہے اور منتظرین کو چاہئے کہ وہ ہمارے سماج اور ہماری عزیز نوجوان نسل کو اس میں مبتلا  ہونے سے بچائیں۔زمانۂ غیبت ذمہ داریوں کا زمانہ ہے،اعمال و اقدام کا زمانہ ہے،امیدکا زمانہ ہےاورباطل پر حق کی کامیابی کا زمانہ ہے،منتظر بنیں اور عمل کریں کیونکہ خداوند کریم فرماتا ہے: «وَ قُلِ اعْمَلُوا فَسَيَري اللهُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُولُهُ وَ الْمُؤْمِنونَ»

 

شنبه / 3 خرداد / 1399