در کتاب شريف و گرانسنگ عيون اخبار الرضا عليه آلاف التحیة و الثناء، محدّث جليل و شیخ اعظم صدوق رضوان‌الله تعالي عليه از عبدالسّلام بن صالح هروي روايت مي‌کند که امام رضا علیه السلام فرمود: «رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی...
سه شنبه: 1399/04/17
Printer-friendly versionSend by email
بندگی کا ممتاز نمونہ
استاد اعظم آیت الله العظمی بروجردی قدس سره کی پرسی کی مناسبت سے

بسم الله الرّحمن الرّحیم

تیرہ شوال ؛ بزرگ شیعہ زعیم مرحوم استاد اعظم حضرت آيت‌الله العظمي بروجردي اعلی ‌الله‌ مقامه  کی برسی کا دن ہے ؛ جو اپنے زمانے کی اہل ایمان ، خدا پرست اور خدا خواہ ہستیوں  میں ممتاز اور آسمانی نمونہ تھے کہ جن کا وجود عقیدہ و توحید سے سرشار تھا ۔

یہ فقیہ عالی مقام ، اپنے کریمانہ اخلاق ، عظمت ، حق کی بزرگی اور  بزرگواری میں اپنے جد بزرگوار سبط اکبر (امام حسن ) علیہ السلام کی یاد گار تھے ۔

* خوف خدا

شخصیت  کی عظمت کی جہات ان کے وجود میں جمع ہو چکی تھیں ؛ جن میں سب سے نمایاں خوف خدا اور روز جزا کا حساب تھا ۔ آپ پورے وجود سے خدا پر یقین اور قیامت پر اعتقاد رکھتے تھے ۔

* دنیا طلبی سے دوری

ان مں دنیا طلبی اور ریاست خواہی نظر نہیں آتی تھی ۔ آپ خود فرماتے تھے (اور ان کی صداقت اور سچائی میں کوئی شک نہیں تھا ) : «میں نے اس مقام ؛ یعنی مرجعیت اور ریاست کے لئے ایک قدم بھی نہیں بڑھایا«

*  متقین کے صفات کی تجلّی

آپ  کے وجود میں وہی صفات محسوس کئے جا سکتے تھے کہ جو امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے ہمّام کے لئے متقين کے صفات بیان فرمائے تھے :

»فَهُمْ وَالْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ وَ‌‌هُمْ وَ‌النَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ«

* بیت‌ المال خرچ کرنے میں احتیاط

آپ بیت المال کو خرچ کرنے میں بہت زیادہ دقّت اور احتیاط سے کام لیتے تھے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حتی وہ کسی کو غیر خدا کے لئے ایک دینار بھی نہیں دیتے تھے ۔

اپنی اپنی ضروریات زندگی مثلاً لباس ، بلکہ غذا وغیرہ کے لئے بھی سہم مبارک اور بیت المال سے استفادہ نہیں کرتے تھے ۔

* ساده ‌زیستی

آپ کا گھر اور گھر میں رہن سہن نہایت سادہ تھا ؛ گھر میں پرانے قالین (جو شاید انہیں ارث میں ملے تھے ) بچھے ہوئے تھے ۔

*  بزرگوں کا احترام

آپ گزشتہ اور ہم عصر بزرگوں کا احترام کرتے تھے ۔

*  مستحبّات کا خیال

آپ حق کے اظہار اور باطل کے ابطال میں کسی طرح کی لاپرواہی ، غفلت اور خوشامد  سے کام نہیں لیتے تھے ۔ آپ مستحبات ، مکارم اخلاق اور آداب سے تعلق رکھنے والے امور کا خاص خیال رکھتے تھے ۔

*  دین کے خدّام کا احترام

راہ خدا میں ایک قدم بڑھانے والا بھی دین و مذہب کی خدمت کا مصدر بن جاتا تھا اور وہ آپ ک ے نزدیک خاص احترام رکھتا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ آپ نے میرے والد بزرگوار سے فرمایا : «میں ایک رات بھی آپ کو فراموش نہیں کرتا «

*   مکتب کا دفاع

آپ دین کی ترویج اور اسلام و مذہب کی حدود کے دفاع میں اپنی قدرت و توانائی کے مطابق ہر کام انجام دیتے تھے ۔ آپ کا تمام ہم و غم اسلامی مسائل کے بارے میں سوچ و بچار کرنا تھا ۔

*  اعلیٰ علمی مرتبہ

آپ کے علمی مقام و مرتبے کا یہ عالم تھا کہ آپ کی خدمت میں آنے والا ہر عالم ، دانشور اور استاد (آپ کے علمی مراتب کو دیکھ کر )حیرت زدہ ہو جاتا تھا ۔

* فِرَق و مذاہب  کے آراء و نظریات پر مہارت

آپ علمی مسائل اور دوسرے مذاہب اور اسلامی فرقوں کے علماء کے آراء و نظریات سے اس قدر واقف تھے کہ آپ ان میں اُن سے زیادہ مہارت رکھتے تھے ؛ مثلاً آپ شیخ کی کتاب  «خلاف» کے بارے میں گفتگو کرتے تھے کہ جیسے اس کا ہر ایک صفحہ آپ  کے سامنے موجود ہو ۔

*  علم رجال  میں مہارت

آپ علم رجال اور حدیث کے اسناد میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے ۔

*  دوسری فرقوں کے علماء کی جانب سے آپ کے احترام کا ایک نمونہ

مصر کے وزیر اوقاف اور مشہور و معروف دانشور شيخ باقوري آپ سے کی گئی ایک ملاقات کے نتیجے میں آپ کی جانب اس قدر مجذوب ہو گئے کہ انہوں نے آپ کے تمام تر تذکرات کو پوری توجہ سے سنا اور وہاں سے آپ کی خدمت میں لکھے گئے خط میں ان تمام امور کو انجام دینے کا وعدہ  کیا ۔ ان وعدوں کے بارے میں ان کی عبارت یہ تھی : «لا يَزَالُ يَخْلِدُ فِي كِيَانِي»۔

مرحوم علامه شيخ محمدتقي قمي کہتے تھے : جب حضرت آقا کا خط شيخ مجید سليم کو پیش کیا جاتا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھتے اور کھڑے  ہو کر آپ کا خط وصول  کرتے اور اسے چومتے تھے ۔

نيز وہ تاریخی فتویٰ دینے والے شيخ محمد شلتوت بھی احترام سے کھڑے ہو کر آپ کا خط وصول کرتے تھے ۔

بیشک ان کے زمانے میں فرقوں کے تمام علماء کے درمیان فقه فِرَق میں کوئی بھی ان سے اَعلم نہیں تھا ۔

*  خوشامد کے بغیر حق کا دفاع کرنا

آپ ان اشخاص کے سامنے بھی پورے احترام کے ساتھ مکتب اہل بیت علیہم السلام کی حدود کی حفاظت کرنے اور حق بیانی میں ذرّہ برابر بھی کوتاہی نہیں کرتے تھے ۔ شيخ شلتوت ایک تفسیر لکھ رہے تھے اورجب انہوں نے آيت (وَأَنْ تَسْتَقْسِمُواْ بِالْأَزْلَامِ) کی تفسیر میں نامناسب بات کی تو آپ نے ان کا ردّ لکھنے کے لئے مجھے حکم دیا اور حقیر نے رسالہ «حول الاستقسام بالازلام» میں کافی و وافی جواب لکھ  کر انہیں ارسال کیا ۔

 *  عیسائی دانشوروں کی نظر میں آپ کا احترام

دوسری جانب «الامام علي صوت العدالة الانسانيه» جیسی  کتاب لکھنے والے عیسائی دانشور جورج جرداق نے ایک نہایت ہی بلیغ اور اعلیٰ مضامین پر مبنی خط کے ساتھ اپنی کتاب آپ کی خدمت میں ہدیہ کی ۔

تیرہ شوال ایسی (عظیم) شخصیت کی رحلت اور برسی کا دن ہے کہ جن کے وجود کی عظمتیں افتخار آفرین ہیں اور وہ علماء اور شیعوں کے لئے قابل قدر اسوہ و نمونہ ہیں ۔

*  تعبد کامل کا نمونہ 

آپ تعبد تام ، شریعت کی مکمل پیروی ، احکام کی پابندی ، عبادت ، دعا ، محاسبۂ نفس ، خدا کی طرف توجہ ، استغفار ، توبہ ، شعائر اور سنتوں کی تعظیم ؛ منجملہ امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا اور عاشورا میں مَثَل اور نمونہ تھے ۔

اس دن ، اس شخصیت اور ان کی حیات کو ہمیشہ زندہ رکھنا جانا چاہئے اور یہ سب کے لئے نمونۂ عمل ہونے چاہئیں ۔

* آپ کی وفات کے موقع پر مصر کے بزرگ ترین عالم کا بیان

ہم آپ کی وفات کے موقع پر مصر کے ایک بزرگ ترین عالم کے بیان پر اس مضمون کو اختتام تک پہنچاتے ہیں :

أغدقَ اللهُ عَلی جَدثِه الطاهر من سَحائِب رِضوانه وَبَعَثَهُ في زُمرة جدّه الأعظم الّذي بَعَثَه اللهُ رَحمةً للعالَمين وآله الطيبين الطاهرين صلواتُ الله وسلامُه عَلَيهم أَجْمعينَ. وَالسَّلامُ عَلَيْهِ يَومَ وُلِدَ وَيَوْمَ مَاتَ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيّاً.

لطف الله صافی

شنبه / 17 خرداد / 1399