باسمه تعالی انا لله و انا الیه راجعون جناب مستطاب حجت الاسلام و المسلمین آقای حاج سیدمحمدرضا حسینی جلالی دامت تاییداتکم السلام علیکم و رحمه الله خبر رحلت برادر بزرگوارتان دانشمند عالی‌مقام فخر الشیعه مرحوم حجت الاسلام و المسلمین آقای...
چهارشنبه: 1399/09/12 - (الأربعاء:16/ربيع الثاني/1442)

Printer-friendly versionSend by email
انسانیت کے عظیم رہبر و پیشوا کے سوگ میں
گفتاری از مرجع عالیقدر به مناسبت شهادت پیامبر گرامی اسلام(ص)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاتہ کے بیانات سے اقتباس

رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بابرکت و مقدس وجود تمام انسانی عظمتوں اور ایک بے مثال انسان کی تمام کرامتوں کا مجموعہ ہے ، لہذا کسی ایک جلسہ ، مقالہ یا کتاب میں آپ  کی ان عظمتوں کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے ۔اگر انبیاء علیہم السلام کو ان کے بلند مقام ومرتبہ کے لئے «قهرمان» کا لقب دینا درست ہو تو آنحضرت کو تمام انبیاء میں یگانہ قہرمان کہنا چاہئے ، جیسا کہ مشہور دانشور «توماس کارلایل» نے کہا ہے : تمام پیغمبروں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یگانہ قہرمان ہیں ۔ نیز آپ کو تمام عظمتوں میں بے مثل و بے مثال اور بے نظیر دلاور و قہرمان کہنا چاہئے ، اور ان تمام عظمتوں میں سب سے اہم رسالت و دعوت کی عظمت  ہے ۔

انسانی تاریخ میں سماجی و معاشرتی اصلاحات کے لئے دعوت دینے والوں ، یا بنیادی انقلابات کے لئے قیام کرنے والوں میں سے کسی کی دعوت بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت سے اعلیٰ ، اور کسی کی رسالت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت سے زیادہ جامع اور انقلابی نہیں ہے ۔

* توحید؛ مسلمانوں کے لئے تاج افتخار

پیغمبر اعظم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کی عظمت کی بنیاد ؛ توحید و وحدنیت کی دعوت ہے کہ جس کا کلمۂ طیبہ «لا اله الّا الله» میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے ؛ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس سے اہم ، آزادی بخش ، واضح و روشن اور نجات دینے والا کوئی اور کلمہ نہیں ہے ، ایسا کلمہ ہے جس میں تمام برابری و برادری  مخفی ہے، اور جس میں تمام بیہودہ و فرسودہ امتیازات کا خاتمہ پوشیدہ ہے ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جس کے بارے مشہور فرانسوی دانشور گوستاولوبون نے اپنی کتاب «تمدّن اسلام و عرب» میں کہا ہے : «تمام ادیان و مذاہب میں ایک تاج افتخار ہے جو صرف اور صرف اسلام کے سر پر رکھا جا سکتا ہے » ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو استثمار و استضعاف کومحکوم کرتا ہے ، ایک ایسا کلمہ جو انسانوں کی آزادی اور انسانوں کے حقوق کا اعلان کرتا ہے ، اور یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے سامنے تمام منصف مزاج دانشوروں نے سر تعظیم خم کیا ، اور جس نے تمام قومی و قبیلائی امتیازات کا قلع قمع کیا ہے ۔

جی ہاں ! حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت ؛ عدل و احسان اور نیکی کی دعوت ہے ، جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : «إِنَّ اللهَ یأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» اور اس کی حقیقت مکارم اخلاق ، محاسن آداب اور نیک و پسندیدہ اسلوب کو زندہ کرنا ہے کہ جس کے بارے میں فرمایا گیا : «بُعِثْتُ‏ لِأُتَمِّمَ‏ مَکَارِمَ‏ الْأَخْلَاق» ۔

رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اچھائیوں ، نیکیوں اور خوبیوں کے پیغمبر ہیں ، آپ شرافت و انسانیت کا عظیم نمونہ اور اسوہ ہیں ، اور آپ نے ہی لوگوں کو محبت و الفت ، بھائی چارے ، مساوات اور نیک عمل کی دعوت دی ، آپ نے ہی لوگوں کو حق کی تاکید ہے کی اور انہیں حق اور سچ کہنے ، زاہدانہ رفتار میں صداقت ، دوسروں کے ساتھ تواضع و انکساری  اور فروتنی کے ساتھ پیش آنے کی دعوت دی  ، جب کہ غرور و تکبیر اور فخر و مباہات کی مخالفت کی ۔   اور آخر کار یہی کہنا چاہئے کہ وہ نبی رحمت اور رحمۃ للعالمین ہیں ۔ افسوس صد اسوس کہ آج اس نورانی چہرے کو کچھ جاہل اور خود غرض افراد (جو پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوسوں دور ہیں )خشن ، تند اور بد اخلاق چہرے کے طور پر پیش کرکے اسلام و قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ظلم و ستم اور جفا کر رہے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں ہم پر بہت اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دنیا والوں کو اسلام کے نجات بخش آئین کی طرف توجہ دلائیں کہ جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : «الصُّلْحُ خَیرٌ» ۔ اسلام صلح کا دین ہے ؛ جو تمام دنیا کے لئے خیر خواہ اور مطمئن راہ کی جستجو میں تمام انسانوں کے لئے صحیح رہبر ہے  ۔ دین مبین اسلام کی حقیقت پیغمبر عالی مقام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرمودات میں بیان ہوئی ہے ۔

* اخلاق کے عظیم معلم

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نیک سیرت نے اپنوں اور بیگانوں میں سے ہر کسی کو اپنا عاشق بنا دیا ۔ آپ مخلوق خدا کی سعادت کے طلبگار اور خیر خواہ تھے ، لہذا آپ خیر و سعادت کی طرف ان کی ہدایت کرنے کے لئے ایک مہربان باپ سے بھی زیادہ کوشش کرتے تھے ۔

جو لوگ آپ کی روش و اسلوب ، گھر اور گھر سے باہر آپ کے طرز زندگی سے آگاہ تھے ؛ ان کے دل آپ پر ایمان اور آپ کی محبت و الفت سے سرشار تھے ،اور وہ لوگ آپ سے تبرک پاتے تھے ۔ آپ قرابتداروں ، اہل خانہ ، جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور مردوں کے ساتھ حسن سلوک  کے ساتھ انتہائی صداقت ، تواضع اور اخلاق سے پیش آتے تھے ۔

آپ  کے لبوں پر ہمیشہ تبسم رہنا تھا ، آپ کی نرم مزاجی اور غیر معمولی تحمل و بردباری کا یہ عالم تھا کہ کچھ لوگ آپ سے گستاخی کر دیتے تو آپ درگزر فرماتے ، آپ خود ہی اپنے سے دور ہونے والوں اور قطع تعلق کرنے والوں سے رابطہ استورا کرتے ، اور آپ پر ظلم و ستم کرنے والوں کو بخش دیتے ، اور تکلیف پہنچانے والوں کو نوازتے ، اپنے اصحاب حتی منافقین کی بھی دلجوئی کرتے تھے اور ان کے تقاضوں کو قبول  کر لیتے تھے ، ان سے ان کے حال و احوال اور مشکلات کے بارے میں پوچھتے تھے  اور ان کی غم خواری کرتے تھے ۔ آپ جب کبھی کوئی تلخ بات سنتے یا کسی کے گستاخانہ رویہ کو دیکھتے تو اسے ان دیکھا اور ان سنا کر دیتے ۔ برائی کا جواب نیکی سے دیتے ۔آپ کے قریبی ، آپ سے دور ، منافقین اور آپ کے دشمن سب ہی آپ کے اخلاق کے گرویدہ تھے ۔

آپ کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ اس بارے میں آپ خود فرماتے ہیں : «أدَّبني ربّي فأحسن تأديبي» ، لہذا آپ خداوند متعال کی جانب سے قرآن مجید میں آپ کی مدح و ستائش کے مستحق تھے  اور اس بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے : «إنَّك لَعلي خلق عظيم» ۔اکثر لوگ آپ کو اپنے ماں باپ ، بھائی اور ہمسر سے زیادہ چاہتے تھے ۔

جب جنگ احد میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کی خبر مدینہ میں لائی گئی تو جن والدین کے عزیز بیٹے ، جن عورتوں کے شوہر ، اور جن بچوں کے والد اور دوسرے عزیز و رشتہ دار شہید ہو گئے تھے ؛ ان کی صرف ایک ہی آرزو تھی کہ وہ ایک مرتبہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندہ زیارت کر لیں  ، لہذا  وہ کہہ رہے تھے : «كل مصيبة بعدك جلل» ۔

* سماج کا سب سے عظیم فکری انقلاب

تاریخ کے عظیم انقلابات کے رہبروں میں سے کوئی  بھی ایسا رہبر نہیں ہے جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح بہت ہی کم مدت میں اس طرح کا فکری و عملی اور سماجی انقلاب برپا کر دیا ہو ۔ اس بارے میں منفلوطی کہتے ہیں : « ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم کہ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں ، آپ کا ہم پر بہت بڑا احسان اور بہت سے حقوق ہیں ، آپ نے ہمیں بری عادتوں کی زنجیروں سے نجات دی کہ جس میں ہم نے خود کو جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں اپنی سات سالہ بیٹی کا واقعہ بیان کیا جسے اس نے زندہ درگور کر دیا تھا ، اور پھر اس نے عرض کیا : مجھے وہ لمحہ نہیں بھولتا جب میں اپنی خوبصورت اور شیریں زبان بیٹی کو زندہ درگور کر رہا تھا اور اس پر مٹی ڈال رہا تھا تو وہ میرا دامن پکڑ کر مجھ سے التماس کر رہی تھے اور کہہ رہی تھی : بابا ! آپ مجھ سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں ؟ لیکن وہ اپنی تمام تر آہ و زاری اور التماس کے باجود بھی مجھے میرے اس ظلم اور جرم سے نہ روک سکی اور میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی سات سالہ شیریں زبان بیٹی کو زندہ در گور کر دیا ۔ یا رسول اللہ! آپ  نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں اس پلید اور غیر انسانی عادت سے نجات دی »۔

تولستوی کا بیان ہے کہ : «اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (تاریخ کی ) عظیم شخصیات میں سے ہیں ؛ جنہوں نے سماج  کی لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ ان کے فخر و افتخار کے لئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے ایک امت کی نور حق کی طرف ہدایت کی ، اور انہیں خونریزی ، قتل و غارت ، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے اور انسانوں کی قربانی کرنے سے منع کیا اور انہیں ان کی طرح احترام و اکرام کا مستحق بنا دیا » ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دنیا سے جانے سے پہلے ہی جزیرۃ العرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا اور بتوں کا نام و نشان بھی مٹ گیا تھا ، خداپرستی ، نماز ، روزہ ، زکات اور اسلام کے دوسرے فرائض عملی طور پر انجام دیئے جا رہے تھے ، سود خوری کا خاتمہ ہو گیا تھا ، وہاں شراب نوشی بہت زیادہ رائج تھی لیکن شراب خوری کی حرمت کی آیت نازل ہوتے ہی شراب کو ترک کر دیا گیا اور پھر کوئی ایک شخص بی شراب کو منہ نہیں لگاتا تھا اور کہیں سے شراب کا ایک قطرہ بھی نہیں ملتا تھا ۔ جس دن شراب کی حرمت کا اعلان ہوا تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے شراب کو بہا دیا تھا ۔ جوّا اور قمار بازی ختم ہو گئی تھی ۔ عورتوں اور بیٹیوں کو عزت میسر آئی تھی اور انہیں بھی ایک انسانوں کے حقیقی حقوق مل رہے تھے ۔ غلاموں کو بھی انسانی احترام ملا تھا اور انہیں ظلم و ستم اور تحمیلات سے نجات مل گئی تھی ، اور ان کی آزاری کے منشور پر تیزی سے عمل ہونا شروع ہو گیا تھا ، تجارتی معاملات صحیح بنیادوں پر قائم ہو رہے تھے ۔ بے عفتی ، ناپاکی ، زنا ، عورتوں کی دوستی اور دوسرے برے کاموں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔ تکبر و استبداد؛ ننگ و عار بن گیا اور تواضع و انکساری کو افتخار مانا جانے لگا ۔ ارث کے قوانین و مقررات ، ازدواج ، طلاق ، جہاد ، صلح ، وصیت ، ہبہ ، رہن ، مزارعہ ، مساقات ، احیاء موات ، قضاء اور شہادات وغیرہ کے قوانین نافذ ہوئے ، اور اب یتیموں کے مالی حقوق پامال نہیں ہوتے تھے ، پھر عورتوں کی مرد کے متروکات میں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،اب مکرر اور نامحدودطلاقوں اور پے در پے رجوع کرنے سے وہ بلاتکلیف اور سرگرداں نہیں تھیں ،  اسلام  کے انسانی سماج میں  فقراء بھی اغنیاء کی صف میں قرار پائے ، بلکہ انہیں ان کی صلاحیت اور لیاقت کی بناء پر اغنیاء پر بھی سربراہی و قیادت ملی ۔

سماج اور معاشرے کی بنیادی اصلاحات ، بے توقف انقلاب ، اور اسلام کے ہر زمان و مکان میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت کی شرح بہت مفصل ہے  اور حق یہ ہے کہ تاریخ میں اصلاح کرنے اور انقلاب برپا کرنے والی شخصیات میں سے کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جسے اس مختصر مدت کے ودران ان تمام مادی و معنوی ، روحانی وجسمانی اور انفرادی و اجتماعی شعبوں  میں اس قدر کامیابی ملی ہو ۔

* تمام زهّاد کے لئے اسوہ و نمونہ

پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام زاہدوں کے لئے یگانہ اسوہ و نمونہ  ہیں ۔ آپ کے زہد کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب آپ ظاہری قدرت اور مادی قدرت کی اوج پر فائز تھے تو اس وقت بھی آپ اپنی نعلین کو اپنے ہاتھوں سے گانٹھتے تھے ، اپنے لباس کو خود سلائی کرتے تھے ، دنیا کے تجملات سے پرہیز کرتے تھے ، اور اگر آپ کو دنیا کے زیوارات میں سے  کوئی زیور دکھائی دیتا تو آپ فرماتے تھے : ’’ اسے میرے نظروں سے دور کر دو ، کہیں میں اسے دیکھ کر دنیا کی یاد میں مشغول نہ ہو جاؤں ‘‘ ۔

اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ کئی کئی دن ، بلکہ مہینہ گزر جاتا تھا لیکن آپ کے گھر میں کوئی کھانا نہیں پکتا تھا ، آپ فقراء اور ضرورت مندوں کو خود پر اور اپنی عزیز بیٹی فاطمہ علیہا السلام اور حسن و حسین علیہما السلام پر مقدم فرماتے تھے ۔

اس زمانے میں سب سے زیادہ محروم  طبقہ غلاموں کا تھا جن کی حالت انتہائی افسوسناک تھی اور جو سب کمزور اور مستضعف تھے اور انہیں سماج کا انتہائی پست طبقہ سمجھا جاتا تھا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی رسالت و دعوت کو ان کی مدد ، آزادی اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے قرار دیا ، اور قرآن مجید میں ان کے بارے میں مؤٔکد تاکیدات و سفارشات ذکر ہوئی ہیں ، اور ان کی آزادی کے  لئے آئین و منشور مقرر کیا گیا ہے ۔ آپ کی خوراک و لباس اور نشت و برخاست غلاموں کی طرح تھی ، آپ کی غذا غلاموں سے زیادہ اور لذیذ تر نہیں ہوتی تھی ، آپ کا لباس ان کے لباس سے بہتر نہیں ہوتا تھا ، آپ انہیں کی طرح بیٹھتے تھے ، پیسے اوردرہم جمع نہیں کرتے تھے ، آپ اس قدر  حصیر پر بیٹھے تھے کہ آپ  کے جسم مطہر پر اس کے اثرات نمایاں ہو گئے تھے ۔ 

دوسرے پیغمبر جیسے حضرت عیسی بن مریم علی نبیّنا و آله و علیه السلام بھی زاہد تھے لیکن حضرت عیسی مسیح علیہ السلام اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان یہ فرق ہے کہ عیسی علیہ السلام کے پاس مال اور مقام نہیں تھا ، لیکن پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس رسالت پر مبعوث ہونے سے پہلے اور بعثت کے آغاز میں ہی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دولت تھی ، اور زندگی کے آخری سالوں میں پورا شبہ جزیرۃ العرب آپ کے اختیار میں تھا لیکن اس کے باوجود آپ دنیا سے زاہد و بے اعتناء تھے ، آپ کو بھوک کی عادت تھی اور آپ اکثر اوقات روزہ رکھتے تھے۔

* یگانه معلّم مساوات و برابری

پیغمبر عظیم الشأن اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مساوات اور برابری کے یگانہ معلم تھے ؛ آپ لوگوں کو وحی الٰہی اور قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بھی انسانوں میں مساوات اور برابری کی تعلیم دیتے تھے ۔ آپ  کی  مجلس میں اوپر یا نیچے بیٹھے کا کوئی تصور نہیں تھا ، یعنی رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آپ اور آپ کے اصحاب کے بیٹھنے کے درمیان لحاظ سے نہیں پہچانا جا سکتا تھا ، اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ جو سب سے آگے بیٹھا ہے ، یا صدر محفل ہے ؛ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں ، یا یہ کہ غنی ، صاحب مقام و منصب اور طاقتور ہی آپ کے پاس بیٹھیں ۔ آج کی اس (نام نہاد) متمدن دنیا میں ان باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس اور تربیتی مکتب میں ان کا  کوئی وجود نہیں تھا ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں فقیر و غنی ، شاہ و گدا سب یکساں تھے ۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس سواریاں ، گھوڑے اور اونٹ بہت کم تھے ، اور افراد کی تعداد کے برابر بھی سواریاں موجود نہیں تھیں ، سواریوں کو افراد کے درمیان متعادل طور پر تقسیم کیا گیا ، اور ہر دو یا تین افراد کو ایک سواری ملی تا کہ وہ باری باری سواری پر سوار ہوں اور دوسرے پیدل چلیں ، اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دوسرے دو افراد کو ایک سواری میسر آئی کہ جن میں ایک علی علیہ السلام تھے ، اور جب بھی لشکر کے سربراہ اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چلنے کی باری آتی تو امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور وہ دوسرا شخص آپ کی خدمت میں عرض کرتے : یا رسول اللہ ! آپ سواری پر سوار رہیں ، اور پیدل نہ چلیں ، ہم پیدل چلتے ہوئے آئیں گے ۔ لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ قبول نہیں کرتے تھے اور سواری سے اتر کر پدل چلنے لگتے تھے ۔ اسی سے ملتے جلتے مضمون میں نقل ہوا ہے کہ آپ فرماتے تھے : ’’ نہ تو تم پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ توانا ہو ، اور نہ ہی مجھے تمہاری بنسبت اجر و ثواب اور خدا کی رحمت کی کم ضرورت ہے ‘‘ ۔

 کسی ایک غزوہ و جنگ میں مسلمانوں نے گوسفند کو ذبح کرکے پکانا چاہا ، اصحاب میں سے ہر ایک نے کوئی ایک کام اپنے ذمہ لے لیا تو  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ’’میں لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوں ‘‘۔ْ

 اصحاب نے کہا :  ہم آپ کو کام نہیں کرنے دیں گے ۔

 آپ  نے فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تم لوگوں پر کوئی امتیاز رکھوں ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ فرماتے تھے : «لیس لعربی‏ على‏ عجمی‏ فضل إلا بالتقوى» اور «الناس سواء کأسنان المشط»

ہم یہاں اس مقالہ کو مزید طول نہ دینے کی غرض سے اسے مختصر کرتے ہیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری عظمتوں جیسے استقامت ، شجاعت ، تقویٰ ، عبادت ، صداقت ، امانت ، عفو و درگزر ، خلق عظیم ، آپ کے معجزات ، اور قرآن مجید کی عظمت (جو آپ کا جاودانی معجزہ اور تمام انبیاء کی نبوت کے صحیح ہونے کی سند ہے ) کو بیان کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں  ۔ جہاں دوسرے اور اجنبی آپ کی مدح و ثناء اور تعظیم بیان کریں تو وہاں اپنے کیا تعریف  کریں ، ایک عیسائی دانشور نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں کہے گئے ایک قصیدہ میں کہا ہے :  

انى مسیـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا

میں عیسائی ہوں اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا احترام کرتا ہوں ، اور انہیں کتابِ علو و مقام میں سب سے بلند دیکھتا ہوں ۔

اور داکٹر شبلی شمیل طبیعی نے رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اور عظمت بیان کرتے ہوئے ایک قصیدہ  میں یوں کہا ہے :

من دونه الأبطال فى کل الورى * من حاضــــر او غائــب أو آتٍ

دنیا میں ماضی ، حال اور مستقبل کے تمام بزرگ اور طاقتور انسانوں کی عظمت اور شأن و شوکت حجرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بلند مقام و مربتہ سے کم ہے ۔

یہ واضح ہے کہ مسلمانوں کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زحمات اور ہدایات و رہنمائی میں کس قدر حق شناس ہونا چاہئے تا کہ وہ اس زمانے میں دنیا والوں کی سماعتوں تک اسلام کے صلح ، عدالت ، خیر خواہی اور سعادت طلبی کا پیغام پہنچائیں اور دنیا بھر کے تمام نقاط کو آپ کے انوار ہدایت سے متصل کر دیں ۔

 

جمعه / 25 مهر / 1399