رسول الله صلى الله عليه و آله :شَعبانُ شَهري و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهري كُنتُ لَهُ شَفيعا يَومَ القِيامَةِ پيامبر صلى الله عليه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قيامت شفيع او خواهم... بیشتر
چهارشنبه: 1401/03/4
Printer-friendly versionSend by email
hj
اسرار صلح امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام

اسرار صلح امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام

امام حسن عليہ السلام كي صلح ايك الٰہي فريضہ اور شرعي وظيفہ تھي جس كو ان حالات ميں امام حسن عليہ السلام نے قبول كيا بہ الفاظ ديگر اس زمانے كے حالات نے امام كو صلح كرنے پر مجبور كيا ،اہلسنت كے يہاں پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي ايك صحيح حديث ميں اس بات كي طرف اشارہ موجود ہے۱ كہ پيغمبر(ص) نے اس واقعہ كي خبر دي تھي اور اس ميں امام حسن عليہ السلام كي سيادت اور اصلاح طلبي كي جانب بھي اشارہ كيا تھا ۔ 
ايسے حالات ميں جب كہ صلح عام لوگوں كے حق ميں ہو ،اگر طرفين ہٹ دھرمي سے كام ليں اور كينہ و حسد كا مظاہرہ كريں تو كبھي بھي صلح برقرار نہيں ہو سكتي ہے ، صرف اس صورت ميں صلح واقع ہو سكتي ہے جبكہ طرفين حسن نيت ركھتے ہوں يا كسي ايك طرف كي نيت اچھي ہو اور وہ معاشرے كي مصلحت كو مد نظر ركھتا ہو اور اسے ذاتي مصلحت اور فائدے پر ترجيح دے، مد مقابل چاہے جتنا ہٹ دھرمي دكھائے وہ ايثار و فداكاري كا مظاہرہ كرے۔
امام حسن عليہ السلام اور معاويہ كے درميان ہونے والي جنگ ميں يقينا معاويہ ايسا نہ تھا جو مسلمانوں كي مصلحت كے پيش نظر حكومت ، خلافت اور اپنے ناپاك عزائم سے دستبردار ہو جاتا اور خلافت كو اس كے اہل كے سپرد كر ديتا ۔ وہ اپنے ناپاك اہداف تك پہنچنے كے لئے نہ خدا و رسول كو نظر ميں لاتا نہ ہي مصلحت اسلام و مسلمين كو خاطر ميں لاتا تھا بلكہ ہر چيز كو اپني رياست طلبي پر قربان كر ديا كرتا تھا ، اگر اسے اہل بيت عليہم السلام ، ان كے چاہنے والوں يا تمام مسلمانوں كا قتل بھي كرنا پڑتا تو وہ حكومت اور رياست كي خاطر اس كام سے بھي دريغ نہ كرتا ۔ اگر چہ وہ كبھي كبھي چرب زباني سے كام ليتا تھا ليكن اگر حكومت كو خطرہ لاحق ہو جاتا تو وہ اس چرب زباني كو بھي پس پشت ڈال ديتا تھا ۔ 
ايسے حالات ميں يقينا جو مسلمانوں كي مصلحت كي رعايت كرسكتا تھا وہ امام حسن عليہ السلام تھے ۔
امام حسن عليہ السلام كي يہ حكمت عملي ،امام كے منصب امامت اور آپ كے سوابق كو نظر ميں ركھتے ہوئے ،قابل تعجب نہ تھي ،اگر امام مسلمانوں كي مصلحت كو مد نظر نہ ركھے تو اور كون اس كي رعايت كرے گا ؟ 
كسي بھي صورت معاويہ اور اس كے ماں باپ اور خاندان كے سوابق كو ذہن ميں ركھتے ہوئے اس سے يہ توقع نہيں كي جا سكتي تھي كہ وہ مسلمين كے مصالح كي رعايت كرے گا ۔ 
اس كے برخلاف امام حسن عليہ السلام سے اس كے سوا اور كوئي توقع نہيں كي جا سكتي تھي كہ وہ مصلحت مسلمين سے ہٹ كر كسي اور چيز كو نظر ميں ركھيں گے ۔ چونكہ آپ آغوش نبوت كے تربيت يافتہ اور بيت وحي كے پروردہ تھے جہاں ملائكہ كا نزول ہوتا ہے اور چار جانب سے آپ كے نانا پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا نور نبوت، آپ كے باپ علي عليہ السلام كا نور امامت اور آپ كي والدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا كا نور عصمت آپ كو اپنے حصار ميں لئے ہوئے تھا۔ آپ كا سينہ علوم پيغمبر(ص) كا مخزن تھا ،وحي كے نازل ہونے پر آپ سب سے پہلے ندائے وحي سننے والوں ميں سے تھے اور آپ نے الٰہي كلمات كي تعليم اپنے جد رسول خدا(ص) سے حاصل كي تھي ۔ 
پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے آپ كو سيادت ، سرداري اور امت كي رہبري سے نوازا تھا اور اسلام كي بقا كي خاطر آپ كو اس جانثاري اور فداكاري كے لئے آمادہ كيا تھا اور آپ كے صلح كي بركات ،اہميت اور عظمت كي قدرداني كي تھي ۔ 
پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے متعدد مقامات پر امام حسن عليہ السلام كي روش كي تائيد كي تھي جس طرح آپ كے باپ علي عليہ السلام كي مارقين و قاسطين و ناكثين كے ساتھ جہاد كرنے كي روش كو سراہا تھا اور امام حسين عليہ السلام كے تاريخي قيام اور كربلا ميں آپ كي جانثاري او فداكاري كي تائيد كي تھي ۔ اسي طرح آپ (ص) نے تمام ائمہ عليھم السلام كے زمانے ميں واقع ہونے والے حوادث كي پيشين گوئي كرتے ہوئے ائمہ عليہم السلام كي روش كي تائيد كي تھي ۔ 
لہذا يہ بات ثابت ہے كہ ان حالات ميں امام حسن عليہ السلام كي صلح آپ كي شرعي تكليف تھي اور يہ صلح آپ كے والد كے جہاد كي طرح اسلام و مسلمين كے حق ميں تھي ۔
۱۔ اس حديث كو بخاري نے چار جگہ ،ابوداؤد ،نسائي اور ترمذي نے سنن ميں اس حديث كو ذكر كيا ہے كہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا : إِنَّ ابْنِى هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ، ميرا يہ فرزند سيد و سردار ہے ،خداوند اس كے ذريعہ مسلمانوں كے دو عظيم گروہوں ميں صلح برقرار كرے گا۔ 
اقتباس از كتاب" رمضان در تاريخ" تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال