رسول الله صلى الله عليه و آله :شَعبانُ شَهري و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهري كُنتُ لَهُ شَفيعا يَومَ القِيامَةِ پيامبر صلى الله عليه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قيامت شفيع او خواهم... بیشتر
چهارشنبه: 1401/03/4
Printer-friendly versionSend by email
انہدام جنت البقيع كي برسي كے موقع پر مرجع عالیقدر حضرت آيت اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني قدس سرہ كے نوشتہ جات سے اقتباس

 

بسم  اللہ  الرحمن  الرحیم 
قال اللہ تعاليٰ : وَ ذَكِّرهُم بِأيّام اللهِ
 

بقيع مدينہ منورہ كي زمين كا ايك حصہ ہے جو اپنے دامن ميں صدر اسلام كے بہت اہم وقائع كو سميٹے ہوئے ہے ، ان چودہ صدیوں کے دوران  يہ سر زمين ہمیشہ سے ہميں صدر اسلام كے وقائع كي ياد دلاتي رہتي ہے ۔ اس سرزمين پر موجود اسلامي آثار كي حفاظت اسلامي تبليغ اور قرآن كريم كي حمايت كے مترادف ہے ۔ 
يہ آثار اور حرمين شريفين ميں موجود ديگر آثار مسلمانوں كے درميان ہميشہ مقدس اور محترم رہے ہيں ۔ لوگ اس سرزمین پر سيرت نبوي ، جہاد پيغمبر ، غزوات ، اہلبيت اور اصحاب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو مشاہدہ كيا كرتے تھے اس لئے اس سرزمين كي عظمت بلند و برتر ہے ۔ 
حرمين شريفين كا چپہ چپہ بصيرت افروز اور ايمان پرور ہے ۔ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا وجود پر نور اور آپ سے متعلق ديگر تمام شخصيات ، آپ كا خاندان ،آپ كے دادا جناب عبدالمطلب ، آپ كے چچا جناب ابوطالب، جناب ابوطالب كي زوجہ فاطمہ بنت اسد جو آپ كي ماں كي جگہ تھيں ، مكہ ميں مدفون ازواج مطہرات اور نبي كي زوجہ جناب خديجہ ، سبط اكبر امام حسن عليہ السلام اور ان كي اولاد ، آپ كے ايك اور چچا جناب حمزہ  تاريخ اسلام كا اہم حصہ ہيں ۔ اسي طرح غزوۂ بدر و اُحُد ، مساجد اور بالخصوص  وہ مسجد جہاں پيغمبر(ص) كي ولادت ہوئي، كوہ حرا، غار حرا جہاں سے بعثت اور اسلامي تبليغ كا آغاز ہوا ، جناب ام ہاني كا مكان جہاں سے معراج ہوئي اور ديگر دسيوں مقامات دين حنيف اسلام كي تاريخ كي نشاندہي كرتے ہيں ۔ حرمين شريفين كعبہ معظمہ اور مسجد النبي(ص) كے علاوہ ديگر تاريخي مقامات كے اعتبار سے اسلامي تاريخ كي عظيم پہچان ہے ۔

ليكن افسوس كہ ان ميں سے اكثر مقامات كو منہدم كر كے تاريخ اسلام كو بہت بڑا نقصان پہنچايا گيا ہے جس كی تلافی کرنا ناممكن ہے ۔
آج كي دنيا ميں جہاں حكومتيں اور لوگ اپني تاريخ اور تاريخي آثار پر فخر كيا كرتے ہيں ، ان لوگوں نے اپني اس عظيم ميراث كو برباد كر ڈالا يا ان كا نام بدل ڈالا ۔ كوئي بھي قوم اپني تاريخ اور اپني ميراث كو اس طرح ضائع اور برباد نہيں كيا كرتي ہے ۔ 
قرآن مجيد نے " بيت" كو آيات بينات اور مقام ابراھيم كے ذريعہ شرف و كرامت عطا كي ہے اور اسي نسبت سے مقام ابراھيم عليہ السلام كو مورد احترام قرار ديا ہے ۔ 
حرمين شريفين ميں بہت سے مقامات ايسے ہيں جو خاتم الانبياء حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے منسوب ہيں ۔ وہ تمام مقامات جو حضرت محمد مصطفيٰ (ص) سے منسوب ہيں انھيں باقي ركھنا چاہئے اور زمانے كے ساتھ ساتھ وہ باقي رہيں اور جس طرح مقام ابراھيم مشہور ہے وہ بھي معروف و مشہور ہوں ۔ 
جس طرح توحيد كے عظيم مبلغ جناب ابراھيم عليہ السلام كے نام سے وہ مقام زندہ و جاويد ہے اسي طرح نام محمد(ص) اور ان كي تبليغ توحيد اور ان سے منسوب ديگر مقامات كو بھي زندہ و جاويد ركھنا چاہئے اور رہے گا انشاء اللہ ۔ جس طرح مقام ابراھيم كو مسمار كرنا ، اس مقام پر نماز پڑھنے اور عبادت كرنے سے روكنا جائز نہيں ہے اسي طرح ان مقامات كي تعظيم و احترام سے روكنا بھي جائز نہيں ہے جو حضرت محمد مصطفيٰ (ص) سے منسوب ہيں ۔ 
مكہ و مدينہ كے ديگر مقامات جو دوسرے ناموں سے بھي منسوب ہيں وہ سب پيغمبر اسلام (ص) كے نام و ياد سے باقي ہيں اور يہ سارے مقامات مكمل دعوت توحيد ہيں ، دين توحيد كي تاريخ ان ميں مضمر ہے اور ان كي بقا كلمہ توحيد كي بلندي كا باعث ہے ۔ اگر جناب ابراھيم عليہ السلام كو اس ايك مقام كي بنياد پر ياد كيا جاتا ہے تو محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو متعدد مقامات كي مناسبت سے ياد كيا جانا چاہئے چونكہ وہ سب ان كي زندہ نشاني ہيں ۔ 
تمام مسلمانوں پر فرض ہے كہ اسلامي مقامات كا احترام كريں اور انھيں اس طرح نہ چھوڑ ديں كہ يہ تاريخي ميراث بھلا دي جائے يا انھيں ترك كر ديا جائے ۔ 
آٹھ شوال وہ دن ہے جس دن اس گروہ نے بقيع كو مسمار كرنا شروع كيا اور اہلبيت عليھم السلام كے نوراني مراقد كو برباد كيا اور اسلام كي اس نشاني كو اپنے ظلم و ستم كا نشانہ بنايا ، لہذا تمام مسلمان شيعہ اور سني تمام مذاہب اس دن عالمي پيمانے پر سعوديہ كي اس جنايت كي مذمت كريں اور سب ايك ساتھ مل كر يہ مطالبہ كريں كہ ان قبور كي دوبارہ تعمير ہو اور دين اسلام كي اس روشن نشاني كو پھر سے زندہ كريں ۔ 
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم 
 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال