رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
جمعه: 1401/07/15
Printer-friendly versionSend by email
عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے میں زمانہ جاہلیت كی غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسین علیہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كیا تو قیام كیا تاكہ پیغمبر(ص) كی سنت كو زندہ كریں اور اپنے نورانی بیان میں قیام كے اس مقصد كی جانب اشارہ بھی فرمایا : انی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) میں فساد پھیلانے كے لئے نہیں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كی امت كی اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ میرا ارادہ ہے كہ میں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علی مرتضیٰ (ع) كی سنت كو زندہ كروں اور ان كی سیرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احیاء 
امام حسین علیہ السلام كے بیانات میں قیام كا ایك فلسفہ جس بنیاد پر امام علیہ السلام نے كربلا كی عظیم عمارت تعمیر كی ،یہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہی از منكر كے لئے قیام كیا اور اپنی اس عظیم تحریك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنكر كو قرار دیا۔آپ نے فرمایا : ارید ان آمر بالمعروف وانھیٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) میں امر بالمعروف اور نہی عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسی طرح ایك اور مقام پر فرمایا : اللہم انی احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدایا میں نیكیوں كو پسند كرتا ہوں اور برائیوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد میں جدائی 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پیش نہ آئے حقیقی دیندار اور ایمان كا زبانی دعویٰ كرنے والے نہیں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقیقت میں وہ میزان و معیار ہے جس كے ذریعہ حقیقی مومن اور زبانی دعویٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زبانی مسلمان اور حقیقی مسلمان كی پہچان نہ ہو اسلام كی حقیقی معرفت نہیں حاصل ہوسكتی جیسا كہ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں : " الناس عبید الدنیا والدین لعق علیٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الدیانون" لوگ دنیا كے غلام ہیں اور دین ان كی نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دینداروں كی تعداد كم ہو جاتی ہے۔ 
۴۔ عزت 
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگی اور عزت كا كامل ترین نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگی اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگی كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختیار فرمایا ۔ آپ نے اپنے بلیغ كلام میں اس كی جانب اس طرح اشارہ فرمایا : ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درمیان ركھا ہے لیكن ذلت ہم سے دور ہے " ھیھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كی مخالفت 
عاشورا كے عظیم اہداف میں سے ایك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كی ظالم و جابر حكومت معاویہ بن یزید كے ہاتھوں میں تھی ۔ اس لئے امام حسین علیہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمایا : " جو بھی كسی ظالم كو دیكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہی كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قیام نہ كرے تو خداوند كو یہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كی سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احیاء
جو چیز دین كی بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقی كا باعث ہے ، راہ خدا میں جہاد اور شہادت طلبی كا جذبہ ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ بیان كرنے كے لئے كہ دین صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہیں ہے ، قیام كیا تاكہ دین خدا كی راہ میں شہادت و فداكاری كے جذبے كو زندہ كریں اور لوگوں میں شہادت طلبی كا جذبہ پیدا كركے ان كے دلوں سے دنیا كی محبت نكال دیں اور كربلا كے راستے میں بارہا یہ جملہ ارشاد فرمایا : "فانی لا اریٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)میری نظر میں موت سعادت و خوشبختی ہے ۔ 
۷۔ معیشتی اور عسكری محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ایك اہم پیغام اپنے ایمان اور عقیدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معیشتی اور عسكری محاصرے میں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسین علیہ السلام كو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ، آپ پر پانی بند كر دیا گیا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے دیا گیا لیكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ایك قدم بھی پیچھے نہ ہٹایا ، اور كبھی شكست كا احساس نہ كیا ۔ اس لئے ایسے حالات میں مسلم امت كا فریضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب میں گرفتار ہو جائے تو امام حسین علیہ السلام كی اقتدا كرے اور اگر معیشتی پابندیاں عائد كر دی جائیں تو مولائے كائنات كی پیروی كرے جیسا كہ آپ فرماتے ہیں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو میں وہ نہیں ہوں كہ پیٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندی 
امام حسین علیہ السلام نے اپنی نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندی كی تھی چاہے وہ بیعت سے انكار كرنے كی بات ہو یا مدینہ سے مكہ كی جانب كوچ كرنے كا فیصلہ اور پھر وہاں چند مہینے قیام كے بعد عراق كی جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كی بزرگ شخصیات كو خط لكھا اور انھیں اپنی نہضت میں شریك ہونے كی دعوت دی ، مكہ و منا یہاں تك كہ كربلا میں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كیا اور انھیں اپنی طرف بلایا ۔ یہ ساری تیاری اپنے اس ہدف كے لئے تھی جو امام حسین علیہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئی عمل بغیر تدبیر و درایت اور منصوبہ بندی كے نہیں تھا یہاں تك كہ صبح عاشور امام حسین علیہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھیں الگ الگ ذمہ داریاں دیں اور لشكر كا سردار معین فرمایا ۔ (۸)
۹۔ وظیفہ كی ادائگی 
عاشور كے اس پیغام كی طرف توجہ بہت ضروری ہے تاكہ یہ پیغام ہمارے معاشرے میں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كی ثقافت كا جز بن سكے ۔ یعنی انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام میں وہ كامیاب ہو یا ناكام اسے اپنا وظیفہ انجام دینا چاہئے نتیجہ كی پرواہ نہیں كرنی چاہئے ۔ كام كا نتیجہ كیا ہوگا یہ اہم نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں " ارجوا ان یكون خیراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) میری خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے میرے حق میں ارادہ كیا ہے اسے میرے لئے خیر قرار دے چاہے میں اس راہ میں قتل كر دیا جاؤں یا ظاہری كامیابی حاصل ہو ۔ یعنی امام حسین علیہ السلام نے جو كام انجام دیا وہ ان كے حق میں خیر تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كیا ۔ اگر فرض شناسی اور وظائف كی انجام دہی معاشرے میں رائج ہو جائے تو كبھی بھی معاشرے میں كوئی اقدار پامال نہیں ہوں گی ۔ 
۱۰۔ ولی اور قائد كی حمایت 
واقعہ عاشورا میں ایك چیز جو سب سے زیادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كی حمایت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے بیعت اٹھا لی لیكن وہ امام حسین علیہ السلام كی حمایت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھیں تنہا نہیں چھوڑا ۔ كربلا میں جن لوگوں نے امام كی حمایت میں زبان كھولی ہے ان كے بیان سے یہ پیغام بالكل واضح ہے ۔ حبیب بن مظاہر ، زھیر بن قین اور دیگر لوگوں كا بیان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام كے اشعار اس حمایت كی واضح دلیل ہیں ۔ " اگر تم ہمارا دایاں ہاتھ كاٹ بھی دو پھر بھی میں امام كی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گا ۔ میں اپنے دین اور امام برحق كی حمایت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھی زخمی ہونے كے بعد آخری سانسیں لیتے ہوئے حبیب بن مظاہر سے وصیت كی كہ امام حسین علیہ السلام كی حمایت كریں اور ان كی راہ میں اپنی جان قربان كر دیں ۔ " اوصیك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) میں تمھیں ان (امام حسین علیہ السلام ) كی وصیت كرتا ہوں كہ جب تك جان میں جان رہے ان كی حمایت كرنا۔
۱۱۔ دنیا، دار امتحان ہے 
دنیاوی تعلقات اور دنیا طلبی ہی تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے فرض كو ادا نہیں كر پاتے اور دنیا انھیں اپنی طرف كھینچ لیتی ہے ۔ یہ دنیا طلبی ہی تھی جس كی وجہ سے ابن زیاد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جیسے لوگ امام حسین علیہ السلام كے مقابلے میں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سیاسی ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ری كے خواہاں اور امیر كوفہ كے انعامات كے شیفتہ لوگوں نے امام حسین علیہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگین كر لئے ۔ اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : " الناس عبید الدنیا والدین لعق علیٰ السنتھم یحوطونہ ما درت معایشھم " (۱۲) لوگ دنیا كے غلام ہیں دین ان كی نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دین كی باتیں كرتے ہیں لیكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دین كا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمایا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنیا فانھا تقطع رجاء من ركن الیھا "(۱۳) دنیا تمھیں فریفتہ نہ كرے جو بھی دنیا پر بھروسہ كرے گا اس كی امیدیں كبھی پوری نہیں ہوں گی ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہمیشہ كھلا ہے 
جیسا كہ قرآن كریم نے وعدہ كیا ہے اور روایت میں بھی كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہمیشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا میں اس كا كاملترین مصداق دیكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن یزید ریاحی جو امام حسین علیہ السلام كو گھیر كر كربلا میں لے آیا اور خود لشكر یزید میں ایك ہزار سپاہیوں كا سردار تھا لیكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كی طرف پلٹ آیا اور امام حسین علیہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا میں شامل كر لیا ۔ یہ واقعہ اس بات پر دلیل ہے كہ انسان ہر حالت میں حق و حقیقت كی طرف پلٹ سكتا ہے اور ہمیشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كی رعایت 
معصومین علیھم السلام كی سیرت میں یہ امر بہت ہی اہمیت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا میدان كارزار تھا لیكن وہاں بھی امام حسین علیہ السلام نے حقوق الناس كی رعایت كی ۔ آنحضرت نے كربلا كی زمین كو ان كے مالكوں سے خریدا اور اسے وقف كیا۔ زمین كربلا كا كل رقبہ چار میل تھا (۱۴) اسی طرح عاشور كے دن یہ اعلان كیا كہ جو بھی كسی كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہی پر راضی رہنا 
رضائے الٰہی پر راضی رہنا عرفاء كے كمالات میں سے ایك ہے ۔ اہلبیت(ع) كی ایك خاص صفت یہ تھی كہ ہمیشہ خدا كی رضا پر راضی تھے اور خدا كی مرضی كو ہمیشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی زندگی كے آخری لمحات میں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كی ۔ " صبراً علیٰ قضائك یا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدایا میں تیری رضا پر راضی ہوں ، تیرے سوا كوئی معبود نہیں ہے ۔ اسی لئے اہلبیت(ع) كی مرضی كو خدا كی مرضی كہا گیا ہے جیسا كہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایك خطبہ میں ارشاد فرمایا : رضی اللہ رضانا اہل البیت " (۱۷) خدا كی مرضی ہم اہلبیت(ع) كی مرضی ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حیاۃ الامام الحسین بن علی (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حیاۃ الامام الحسین بن علی (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسین(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھیان نور ،جواد محدثی ،ص/۷۶
۹۔ اعیان الشیعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسین (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسین (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسین(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسین (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرین ، ذیل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسین(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسین (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعیان الشیعہ ،ج/۱،ص/۵۹

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال